Posted in Uncategorized

جہاز کی سیاست

جویریہ صدیق

Twitter @javerias 

جہاز کی سیاست 

بچپن میں کبھی گھر گھر اور کھلونوں سے کھیلنے کا دل نہیں کرتا تو میری دوست جو عمر میں ہم سب بڑی تھی اپنی بلیک جیکٹ اور کالا چشمہ پہن کر Screenshot_20180624-134154_Photo Editorچھوٹی سے بیٹری والی گاڑی پر جھنڈا لگا کر سیاست دان بن جاتئ اور دوسری سفید ڈوپٹہ پہن کر خاتون سیاست دان بن جاتی بھائی کو پانی والی پستول دے کر گن مین بنالیا جاتا پھر فخر سے گلی کے چھوٹے بچوں کو احکامات جاری کرتے اور ہم سب بچے غریب ووٹرز کی طرح جی جی کرتے رہتے ۔نوے کی دہائی میں ایک پجارو دو گن مین کالا چشمہ سفید شلوار قمیض اور سفید ڈوپٹہ آپ کو سیاست دان بنا دیتا تھا 

تاہم دو ہزار اٹھارہ میں سیاست دان بنانے کے لئے بڑے محلات کروڑ روپے اوپر کی بلٹ پروف کاریں ، 15 سے 20 سیکورٹی کی گاڑیاں، گوچی کے مہنگے چشمے اور مفلر ، چینل کے بروچ ، میڈیا کے کیمرے، سوشل میڈیا ٹیم کے ٹویٹس ، پھول پھینکنے اور حق میں نعرے لگانے کے لئے ہائر کے گئے لوگ ، میک آرٹسٹ، ڈی جے اور 3 سے 4 نجی جہاز چاہیے ہوتے ہیں ۔اگر سیاست دان کے پاس اپنا ذاتی جہاز نا بھی ہو تو بھی کوئی فکر نہیں انویسٹر ہے نا۔

جہاز کی سیاست زندہ باد 

Advertisements
Posted in Uncategorized

پاکستان کے لئے موزوں درخت

 

.. جویریہ صدیق 

page 4

حالیہ گرمی ، لوڈ شیڈنگ اور ہیٹ اسٹروک کے باعث اموات نے پاکستان کی عوام کو اس بات پر سوچنے پر مجبور کردیا کہ گرمی سے کس طرح بچا جائے ۔اس کے لئے سب سے آسان حل یہ ہی کہ درخت لگائیں جائیں ۔درخت آکسیجن مہیا کرتے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں ۔درخت ماحول کو صاف رکھتے ہیں سیلاب طوفانوں کو روکتے ہیں ۔سایہ مہیا کرتے ہیں پھل دیتے ہیں، پرندوں کو رہائش،جانوروں کو خوراک مہیا کرتے ہیں ۔درخت آنکھوں کو سکون دیتے ہیں اور ہمیں آلودگی سے بچاتے ہیں ۔


فیس بک اور ٹویٹر پر بہت سے ماحول دوست افراد نے مہم بھی شروع کردی کہ آئیے درخت لگائیں لیکن کیا آپ اس بات سے واقف ہیں کہ پاکستان کی آب و ہوا اور محل وقوع کے حساب سے کون سے درخت لگانا موزوں رہے گا۔اس ہی لئے پاکستان ڈائری میں ہم نے یونیورسٹی آف ایگرکلچر فیصل آباد کے شبعہ فارسٹری کے چئیرمین پروفیسر محمد طاہر صدیقی کے ساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا تاکہ وہ ہمیں درختوں کے حوالے سے مکمل آگاہی دے سکیں ۔۔

 

پروفیسر محمد طاہر صدیقی نے بتایا کہ درخت قدرت کا انمول تحفہ ہیں ان کی موجودگی انسانوں جانوروں اور پرندوں سب کے لئے یکساں اہم ہے ۔درخت اپنی بڑھوتری اور ساخت کے اعتبار سے مختلف زمینوں، موسمی حالات میں مخصوص اقسام پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ مخلتف درخت مخصوص آب و ہوا زمین درجہ حرارت بارش میں پروان چڑھ سکتے ہیں ۔مثال کے طور پر ٹھنڈے علاقوں کا درخت پائن گرم مرطوب علاقوں میں نہیں بڑھ سکتا ہے۔لہذا موسمی حالات و تغیرات درختوں کے چناو میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں جن کا ادراک ہونا بہت ضروری ہے۔

پنجاب کی آب و ہوا اور موزوں درخت 

جنگلات کے نقطہ نظر سے جنوبی پنجاب میں زیادہ تر خشک آب و ہوا برداشت کرنے والے درخت پائے جاتے ہیں ۔ آب و ہوا خشک ہے تو یہاں پر خشکی پسند درخت زیادہ کاشت کئے جائیں جو خشک سالی برداشت کرسکیں ۔بیری،شریں،سوہانجنا،کیکر، پھلائی،کھجور ،ون،جنڈ،فراش لگایا جائے ۔اسکےساتھ آم کادرخت اس آب وہوا کےلئےبہت موزوں ہے۔وسطی پنجاب میں نہری علاقےہیں اس میں املتاس،شیشم،جامن،توت،سمبل،پیپل،بکاین،ارجن،لسوڑا لگایاجائے۔شمالی پنجاب میں کچنار، پھلائی،کیل، اخروٹ،بادام،دیودار،اوک کے درخت لگائے جائیں ۔کھیت میں کم سایہ دار درخت لگائیں انکی جڑیں بڑی نا ہوں اور وہ زیادہ پانی استعمال ناکرتاہو ۔سفیدہ صرف وہاں لگائیں جہاں زمین خراب ہو یہ سیم و تھور ختم کرسکتاہے روز سفیدہ 25 لیٹرپانی پیتا ہے۔جہاں زیرزمین پانی کم ہو اور فصلیں ہوں وہاں سفیدہ نالگائیں ۔

اسلام آباد اور سطح مرتفع پوٹھوہار کے لئے موزوں درخت

پروفیسر محمد طاہر صدیقی کے مطابق خطہ پوٹھوہار کے لئے موزوں درخت دلو؛پاپولر،کچنار،بیری،چنار ہیں ۔اسلام آباد میں لگا پیپر ملبری الرجی کاز کررہا ہے اس کو ختم کرنا چاہیے۔خطے میں اس جگہ کے مقامی درخت لگائے جائیں تو ذیادہ بہتر ہے ۔زیتون کا درخت بھی یہاں لگائے جانا موزوں ہے۔

سندھ میں موزوں درخت

ساحلی علاقوں میں پام ٹری اور کھجور لگانا چاہیے۔کراچی میں املتاس، برنا، نیم، گلمہور،جامن،پیپل،بینیان،ناریل اشوکا لگایا جائے۔اندرون سندھ میں کیکر،بیری پھلائی،ون،فراش،سہانجنا، آسٹریلین کیکر لگناچاہیے۔

 

بلوچستان کے لئے موزوں درخت 

جونپر درخت زیارت میں لگایا جائے ۔زیارت میں جونپیر کا قدیم جنگل بھی موجود ہے۔باقی بلوچستان خشک پہاڑی علاقہ ہے اس میں ون کرک ،پھلائی، کیر، بڑ،چلغوزہ پائن، اولیو ایکیکا،لگایا جائے۔

کے پی کے اور شمالی علاقہ جات میں درخت

پروفیسر محمد طاہر صدیقی کہتے ہیں کے پی کے میں شیشم،دیودار  پاپولر،کیکر،ملبری،چنار،پائن ٹری لگایا جائے۔

درخت لگانےکاوقت، تیاری اور اسکی حفاظت 

اگر آپ سکول کالج یا پارک میں درخت لگا رہے ہیں تو درخت ایک قطار میں لگے گئیں اور ان کا فاصلہ دس سے پندرہ فٹ ہونا چاہیے۔گھر میں لگاتے وقت دیوار سے دور لگائیں ۔آپ بنا مالی کے بھی درخت لگا سکتے ہیں نرسری سے پودا لائیں ۔ زمین میں ڈیڑھ فٹ گہرا گڑھا کھودیں۔نرسری سے بھل ( اورگینک ریت مٹی سے بنی) لائیں اس میں ڈالیں ۔پودا اگر کمزور ہے اس کے ساتھ ایک چھڑی باندھ دیں ۔پودا ہمیشہ صبح کے وقت لگائیں یا شام میں لگائیں ۔دوپہرمیں نا لگائیں اس سے پودا سوکھ جاتا ہے۔پودا لگانے کے بعد اس کو پانی دیں ۔گڑھا نیچا رکھیں تاکہ اس میں پانی رہیں ۔ہر ایک دن چھوڑ کر پانی دیں ۔سردی میں ہفتے میں دو بار  پودے کے گرد کوئی جڑی بوٹی نظر آئے تو اسکو کھرپے سے نکال دیں۔اگر پودا مرجھانے لگے تو گھر کی بنی ہوئی کھاد یا یوریا فاسفورس والی کھاد اس میں ڈالیں لیکن بہت زیادہ نہیں ڈالنی کھاد اس سے بھی پودا سڑ سکتا ہے ۔بہت سے درخت جلد بڑے ہوجاتے ہیں کچھ کو بہت وقت لگتا ہے۔سفیدہ پاپولر سنبل شیشم جلدی بڑے ہوجاتے ہیں دیودار اور دیگر پہاڑی درخت دیر سے بڑے ہوتے ہیں۔ گھروں میں کوشش کریں شہتوت،جامن، سہانجنا،املتاس، بگائن نیم لگائیں ۔

پروفیسر محمد طاہر صدیقی کہتے ہیں کہ ہمیں بہت درخت لگانا ہوں گے ۔چائنہ چالیس ہزار درختوں کا شہر آباد کرنے جارہا ہے تو ہم کیوں نہیں یہ کرسکتے ۔جاپان میں بچہ پیدا ہوتا ہے اسکے کے نام سے درخت لگ جاتا ہے ۔اگر ہم نے گرمی اور سانس کی بیماریوں سے بچنا ہے تو درخت لگائیں ۔

http://www.trt.net.tr/urdu/slslh-wr-prwgrm/2017/07/12/pkhstn-ddy-ry-27-769406

ٓارٹیکل ٹی ار ٹی اردو پر شایع ہوا

Posted in Uncategorized

شاہ اللہ دتہ غار

اسلام آباد کے نواح میـں24ہزار سال پرانے غار

February 22, 2016
پاکستان

اسلام آباد …جویریہ صدیق ….شاہ اللہ دتہ اسلام آباد کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں ہےجو تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔مقامی لوگ کہتے ہیں کہ سات سو سال پہلے شاہ اللہ دتہ نام کے بزرگ نے اس گاؤں کو بسایا۔ ان کا مزار بھی اسی گاؤں میں واقع ہے۔

مارگلہ کے دامن میں بسے اس گاؤں میں بہت سی تاریخِ جگہیں ہیں ۔اس گاؤں سے سکندر اعظم اور مغل حکمران بھی گزر کر گئے۔ یہاں شیر شاہ سوری کا قائم کردہ کنواں اور دیوار بھی واقع ہیں۔اسلام آباد میں رہنے والے لوگوں میں سے بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ شاہ اللہ دتہ گاؤں میں واقع غاربدھ مت دور کے ہیں۔

تاریخ دانوں کے مطابق یہ غار چوبیس ہزار سال پرانے ہیں اور ان پر بدھوں کے مذہبی پیشوا ’مہاتما بدھ‘ کے نقوش تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ نقوش تو مٹ گئے ہیں لیکن غار کے خدوخال ویسے ہی ہیں۔

ان غاروں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غاروں میںکسی زمانے میں سرائے قائم تھے اور مسافر یہاں ٹھہرتے تھے۔غاروں میں دروازے کھڑکیاں موجود ہیں۔غار کے نزدیک قدرتی پانی کا چشمہ ہے جو صدیوں سے رواں ہے۔غار کے قریب بہت سے پرانے برگد کے درخت بھی لگے ہیں ۔محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق یہ درخت بھی تقریباًسات سو سال پرانے ہیں۔

یہ جگہ سی ڈی اے کی عدم توجہی کا شکار ہے۔ یہاں آنے کا راستہ بہت دشوار ہے اور سڑک خستہ حالی کا شکار ہے۔ان غاروں کے اردگرد پہاڑوں پر کرشنگ جاری ہے اور درخت کاٹے جارہے ہیںجس کی وجہ سے علاقے میں ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے اور اس جگہ کا حسن ماند پڑ رہا ہے۔

یہاں پر ایک سو سال پرانا باغ بھی تھا جس کی نشانی اب صرف ایک درخت کے روپ میں ہی رہ گئی ہے ۔باقی تمام درخت’ ٹمبر مافیا‘ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

دوہزار گیارہ میں اس وقت کے سی ڈی اے چیئرمین نے سادھو کا باغ دوبارہ آباد کرنے کے لئے سنگ بنیاد بھی رکھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔اس کے ساتھ ساتھ ان غاروں میں چند افراد نے اپنی رہائش گاہیں بھی بنا رکھی ہیں۔سی ڈی اے نے ان تمام معاملات پر چشم پوشی کررکھی ہے۔

یہ یونیسکو کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔سی ڈی اے فوری طور پر یہاں پہاڑوں پر کرشینگ کو روکوائے، پہاڑوں پر غیر قانونی تعمیرات پر پابندی عائد کرے اور شاہ اللہ دتہ میں واقع تاریخی مقامات کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات کرے۔

اس جگہ پر نا ہی کوئی قیام وطعام کی جگہ ہے نا ہی سی ڈی اے کی طرف سے کوئی معلوماتی بورڈ نصب ہیں جس سے سیاحوں کو اس جگہ کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے۔یہاں سب سے پہلے سڑک تعمیر ہونی چاہئے جبکہ جگہ جگہ سائن بورڈز بھی نصب کئے جانے چاہئیں۔سی ڈی اے کی طرف سے گائیڈ بھی ہونے چاہیں جو سیاحوں کو اس جگہ کی تاریخ بیان کرسکیں۔

تاریخی غاروں کی حفاظت کے لئے محکمہ آثار قدیمہ کی مدد لینی چاہیے۔یہاں مزید پودے لگانے بھی ضرورت ہے ۔پہاڑ کی کٹائی کا کام فوری طور پر روکاجائے۔
سی ڈی اے کی زرا سی توجہ سے یہ جگہ ناصرف سیاحوں کے لئے نہایت دلچسپی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی اسے شامل ہونے کا موقع مل سکے گا۔

یہ مضمون 2016 میں جنگ اور جیو کی ویب پر شائع ہوا۔

مصنفہ جویریہ صدیق

Twitter@javerias

Posted in health, Javeria Siddique, Pakistan, rain, Uncategorized

موسم برسات میں احتیاط لازم

RAin-control۔۔

اسلام آباد….جویریہ صدیق….ملک اس وقت شدید بارشوں کی لپیٹ میں ہے اور محکمہ موسمیات نے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کی پیشگوئی کی ہے۔ملک کے بالائی علاقوں کشمیر فاٹا خیبر پختون خواہ بالائی پنجاب اور جڑواں شہروں میں بھی گھن گرج کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری ہے جس نے سردی میں اضافہ کردیا ہے۔

مسلسل بارش کی وجہ سے متعدد مکانات بھی منہدم ہوئے۔بلوچستان کے علاقوں خضدار، قلات، چمن، چاغی اور زیارت بارش سے زیادہ متاثر ہوئے۔بارشوں کے باعث خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں بھیمتعدد افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے۔

تاہم مسلسل بارش کے دوران کچھ احتیاطی تدابیر اپنا کر بہت سے حادثات کو ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔سب سے پہلے تو ٹی وی خبروں اخبارات ریڈیو یا محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ سے موسم کے حوالے سے آگاہ رہیں۔اگر آپ نشیبی علاقے میں رہائش پذیر ہیں توقیمتی سامان کو بالائی منزل پر شفٹ کرلیں۔

اگر ہوسکے تو ممکنہ سیلاب یا طغیانی سے بچنے کے لئے کسی رشتہ دار کے گھر چلے جائیں۔موسم ٹھیک ہونے پر واپس لوٹ آئیں۔چھت ڈالتے وقت یہ خیال رکھیں کہ وہ مضبوط اور پائیدار ہو۔ پاکستان میں بہت سے لوگ اپنی جان سے محض اس لئے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کہ کمزرو ہونے کی وجہ سے چھت گرتی ہے۔

بارشوں سے پہلے گھر میں چھت یا دیواروں کی لیکج کو چیک کروالیں۔گھر میں موجود ڈرینج سسٹم اور گٹر بھی چیک کروائیں۔ اگر کوئی بلاک ہے تو پلمبر اس کو کھول دے گا اوربارش میں نکاسی آب میں آسانی رہے گی۔ابتدائی طبی امداد کا سامان ادویات بھی خرید کر رکھ لیں تاکہ بارش میں نا جانا پڑے۔

اگر بارش اور سیلاب کی پیشنگوئی کی گئ ہو تو مناسب خوراک،اشیائے خوردونوش اور پینے کے صاف پانی کا بھی ذخیرہ کرلیں۔گھر میں ٹارچ سیل اور موم بتیاں بھی لازمی ہونی چاہیں۔تاہم اہم نمبر موبائل کے ساتھ ایک ڈائری میں لکھ کر بیگ یا پرس میں ساتھ رکھ لیں۔

بارش میں بہت سے حادثات بجلی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کسی بھی گیلی تار یا ٹوٹی ہوئی تار کو ہاتھ لگانے سے پرہیز کریں۔ دوران بارش کسی بھی بجلی کی چیز کو ننگے پاوں یا گیلے ہاتھ نا لگالیں۔غیر ضروری بجلی کے آلات کو بند کردیں۔اگر بارش کے باعث کوئی بجلی کی تار یا چیز خراب ہوجائے تو خود ٹھیک کرنے سے پرہیز کریں اور الیکٹریشن ہو کو بلائیں ۔

اگر گھر میں پانی داخل ہوجائے تو گیس اور بجلی کے مین سوئچ بند کردیں۔خود ٹارچ یا پورٹیبل لیمپ کا استعمال کریں۔اگر پانی زیادہ داخل ہوجائے تو پہلے اپنی جان کی حفاظت کریں اور خود کو محفوظ مقام پر منتقل کریں۔

باہر کسی بھی بجلی کے پول اور سائن بورڈ سے دوررہیں۔ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو اداروں کو مدد کے لئے فون کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ بارش میں حفظان صحت کے اصولوں کا بھی خیال رکھیں۔گندے ہاتھ منہ پر نا لگائیں۔کوئی بھی پھل ،سبزی بنا ہاتھ دھوئے نا کاٹیں نا کھائیں۔بازار کی اشیاء خاص طور پر پکوڑے، سموسے وغیرہ کھانے سے پرہیز کریں ۔پانی ابال کر پئیں۔

برسات میں خاص طور پر ہیضہ نزلہ زکام اسہال عام ہوجاتا ہے جس سے بچنے کا واحد حل حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند رہنا ہے۔

برسات میں مچھروں کی بھی بہتات ہوجاتی ہے اس کے ساتھ کیڑے مکوڑے بھی ان سے بچنے کے لئے ریپلنٹ کا ستعمال کیا جائے اور اسپرے کیا جائے۔بچوں پر خاص نظر رکھیں اور انہیں برسات میں ندی نالوں میں نہانے سے منع کریں۔

دوران بارش ڈرائیونگ سے گزیز کریں اگر ڈارئیونگ کرنا ناگزیر ہو تو نشیبی علاقوں میں گاڑی لے جانے سے پرہیز کریں۔اپنے گھر والوں کو اپنے روٹ سے آگاہ کریں۔

نکلنے سے پہلے گاڑی کی لائٹس، وائپر، ہیٹر اور فیول چیک کرلیں۔موبائل ساتھ لازمی رکھیں۔گاڑی کی رفتار کم رکھیں اور آگے والی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔ہلکی آواز میں ریڈیو سنتے رہیں تاکہ حالات سے باخبر رہیں۔ہیڈ لائٹس آن رکھیں۔

کسی بھی راہ چلتے شخص یا موٹر سائیکل سوار کے پاس گاڑی کی رفتار بہت کم کردیں تاکہ وہ کیچڑ سے محفوظ رہیں۔اگر بارش زیادہ ہوجائے تو کسی محفوظ جگہ پر یا سروس اسٹیشن پر گاڑی پارک کرکے پارش کے تھمنے کا انتظار کریں۔کسی بھی ندی نالے کو کراس کرنے سے گریز کریں کیونکہ پانی کی رفتار گاڑی کو بہا لے کر جاسکتی ہے۔اس لئے متبادل راستہ اختیار کریں۔تیز رفتاری صرف آپ کے لئے نہیں بلکے اردگرد لوگوں کے لئے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

بارشوں میں جلد پر بھی بہت سے جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں۔اس لئے جلد کی حفاطت کریں ۔منہ پر گندے ہاتھ نا لگائیں۔ہاتھوں کو صابن یا ہیںڈ واش سے دھویں اور منہ کو دن میں تین سے چار بار دھویں۔کوئی گندہ تولیہ یا کپڑا منہ پر نا استعمال کریں۔

سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ قدرتی طور پر ہوا سے آپ کا منہ خشک ہوجائے۔بارش بھی چند حفاظتی تدابیر اپنا کر ہم بہت سی بیماریوں اور حادثات سے بچ سکتے ہیں اور موسم کو بہترین طریقے سے انجوائے کرسکتے ہیں۔

 

575d63910d6a9

Posted in Uncategorized

بجلی اور پاکستانی

20170419_134338

یہ آرٹیکل 2013 میں لکھا گیا تھا آج 2017 میں بھی

صورتحال وہ ہی ہے :/ 

جویریہ صدیق 

میرخیال ہے پاکستان میں سب سے زیادہ بولے جانے والا

 لفظ آج کل بجلی ہے ۔۔۔۔

یہ بجلی کیا ہوتی ہے ۔۔۔

یہ بجلی کب آئے گی ۔۔۔

صبح سات بجے پاکستان

 ہو ہائے امی  امی  بجلی چلی گی ۔۔۔  میں سکول کیسے جا سکوں گا ۔۔ ارے پپو دیکھ تو سہی بجلی  ہماری ہی گی ہے یا پورے محلے کی ؟؟؟؟ ۔۔ اماں نہیں سب کی گئی ہے۔۔ پپو  اماں اماں  بجلی کب آیے گی ؟؟؟ اے موئے میرا سر نا کہا تیرا نانا کیا وزارت پانی بجلی میں ہے مجھے کیا پتہ ۔۔ جا اپنے باپ سے پوچھ ۔۔۔ پپو ابا ابا بجلی کب آیے گی ؟؟؟ پپو اپنی ماں سے پوچھ میرے کپڑے استر ی ہیں یا نہیں ؟؟ پپو ؛ ابا بجلی نہیں ہے  ۔۔۔چلو کویی بات نہیں میں کچھ کرتا ہوں کویی ایسے کپڑے پہن لیتا ہوں جن کو استری کا ضرورت نا ہو۔۔۔۔ یا آگ کی تپش سے استری گرم کرلیتا ۔ ہائےگیس بھی نہیں آرہی   ۔۔۔۔۔۔ورنہ ارے او بیگم غسل خانے میں پانی نہیں ۔۔ جی مجازی خدا صاحب بجلی نہیں ہے ارے تو جاو بالٹیاں ہی بھر لاو  ۔۔  کیا کیا ان بجلی والوں کی تو ۔۔۔۔۔۔ ٹوں ٹوں سنسر

 ﴿ اپنے اپنے شہر کے مطابق ادارے کا نام وغیرہ وغیرہ استمعال کرسکتے ہیں﴾

یہ تھا قیامت خیز پاکستانی صبح کا منظر

دوپہر کا منظرنامہ

ہاے صبح سات بجے سے لایٹ گی  ۔ اما ں کھانے میں کیا بنا ہے ارے بچوں صبح سے گیس ہے نا بجلی کیا بناتی میں ارے راجو بیٹا جا پاس والے تندور سے کچھ لے کر آجا ۔۔۔۔ اماں اتنی گرمی ہے پیدل باہر گیا نا تو سن اسٹروک ہوجائے گا۔کیا اول فول بک رہا ہے۔گیلا تولیہ سر پر رکھ سائیکل پر جا کچھ کھانے کا سامان تو ہو اور سن پپو کو بھی لے جا پاس والے ٹیوب ویل سے پانی کی بالٹیاں بھی بھر لانا گھر میں پانی کی ایک بوند بھی نہیں ۔۔۔

ہاے ہاے کب آیے گی لایٹ؟؟؟؟

شام کا منظر

پپو اماں سے ۔۔۔۔ اماں اماں لایٹ اگی ۔ چلو میرا یورینفام اور ابا کے کپڑے استری کردو پیاری اماں ، نا تجھے کپڑوں کی پڑی ہویی ہے جا جاکہ پانی کی موٹر چلا کویی منہ دھونے کا پانی تو ہو

بیگم لو میں گھر آگیا ارے یہ گھر کی کیا حالت بنا رکھی ہے۔آپ کو صبح سات سے شام تک بنا بجلی رہنا پڑتا تو میں پوچھتی کہ کون سے گھر کے کام اور کون سا گھر جلدی کریں نہا لیں میں چاے لاتی ہوں بھر بجلی نا چلی جاے۔پانی تو پلا دو گھر میں ٹھنڈا پانی نہیں ہے۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے یہ بجلی والے ہمیں دوزخ کی تیاری دنیا میں ہی کروارہے ہیں۔جلدی کرو موبائیل بھی چارجنگ پر لگاو۔استری والے کپڑے نکالو ۔میں ایسا کرتی ہوں واشنگ مشین لگا لیتی ہوں ۔

رات کا وقت پاکستان میں ہر جگہ

بات سنیں مجھے تو بس ٹی وی پر فواد خان ماہرہ کو دیکھنا ہے ۔۔۔۔۔ بیگم دیکھو مجھے خبرنامہ دیکھنا ضد مت کرو ۔۔۔۔۔ ابا کیا ہے آپ لوگوں کو مجھے ریموٹ دیں مجھے میچ دیکھنا ہے

او او

بجلی چلی گی

بجلی کب آیے گی ؟؟؟؟

ابا ایک سستا سا یو پی ایس ہی لیے لیں اگر ہمارے بھی پانامہ میں اکاونٹس ہوتے تو آج ہی جنریٹر خرید لاتا۔

آپ کو تو ہمارا خیال ہی نہیں

ارے پپودیکھ تو سہی

صرف ہماری بجلی  گی ہے یا سب کی

اماں نا ہماری نا ان کی پورے پاکستان کی

ٹوں ٹوں ۔۔۔ ٹوں ٹوں 

Posted in Uncategorized

Street Children in Pakistan.

FB_IMG_1492001312096

اسٹریٹ چلڈرن یا گلی کوچوں میں بچوں کی دو اقسام ہیں ۔
1)گلی کوچوں کے بچے
یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کا گھر ہوتا ہے لیکن یہ گلیوں میں پھر کر پیسے کماتے ہیں ۔
2)‏گلی کوچوں میں بچے
یہ وہ بچے ہیں جن کا گھر بار نہیں ہوتا یا وہ خاندان سے نکالے جاتے ہیں وہ گلیوں کو ہی اپنا گھر سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں 2۔1 سے 5۔1 ملین بچے گلی کوچوں میں رہتے ہیں ۔یہ بچے زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔یہ بچے اکثر جنسی زیادتی کا بھی شکار ہوجاتے ہیں ۔حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لئے دعوے تو بہت کرتی ہے لیکن عملی طور پر اس کا فقدان نظر آتا ہے۔

حکومت،این جی اوز،مخیر حضرات سب مل کر ہی بچوں کوانکا بچپن لوٹا سکتے ہیں کسی بھی انسان کے لیے سب سے خوبصورت دور اس کا بچپن ہوتا ہے اس لیے ہمیں اپنے اردگرد بہت سے انسانوں کے اس خوبصورت دور کو بد صورت ہونے سے روکنا ہے۔بچوں پر ظلم و زیادتی،بچوں کو غلام بنانا،بچوں سے بد فعلی،جسمانی سزایں،جسم فروشی اور دہشت گردی میں بچوں کا استعمال ان کی آنے والی زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے اور بہت سے بچے اس باعث اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اس لیے ہم سب کو مل کر ان کے لیے کام کرنا ہوگا ۔صرف حکومت کا اقدامات سے ہم ان مسایل کو قابو نہیں  کرسکتے ابھی اٹھیں اپنے گھر دفتر یا دوکان میں کام کرتے ہویے بچے کا ہاتھ نرمی سےروک کر اس میں کتاب پکڑا دیں

The number of street children in Pakistan is estimated to be between 1.2 million and 1.5 million.FB_IMG_1492001279973

FB_IMG_1492001342927

Posted in Uncategorized

ننھی پاکستانی کا سفاک قتل

20170409_203149

جویریہ صدیق 

مجھے نہیں معلوم اس ننھی بے نام بچی کا قصور کیا تھا لیکن وہ ہرگز گناہگار نہیں تھی ۔ وہ تو معصوم تھی جینے کا حق رکھتی تھی لیکن یہ حق اس سے چھین لیا گیا ۔وہ جس وقت اپنی ماں کے وجود کا حصہ بنی تو وہ عورت اس خوشخبری سے خوش نہیں تھی کیونکہ وہ اس بچی کے باپ کی بیوی نہیں تھی ۔ دونوں لڑتے رہے ہوں گے اسکو مارنے کے منصوبے بناتے رہے ہوں گے ۔ وہ بچی اندر ہی اندر کتنی خوفزدہ ہوتی ہوگی کہ کس بھی وقت اس کے سفاک ماں باپ اس سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے۔ڈاکٹر کے پاس بھی گئے ہوں گے تو کسی فرشتہ صفت ڈاکٹر نے قتل کرنے سے انکار کردیا ہوگا اور اس بچی کے ماں باپ کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا ہوگیا ۔وقتی طور پر تو وہ دونوں خاموش ہوگئے ہوں گے لیکن پھر ایک بار بچی کو مارنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے گئے ہوں کبھی ادویات ، کبھی دیسی ٹوٹکے کبھی دائیوں کے پاس تو کبھی حکیموں یا چھوٹے کلینکس پرپاس گئے ہوں ۔یہ سب حربے جب آزمائے گئے ہوں گے تو ننھی منی پر کتنا تکلیف دہ اثر پڑتا ہوگا  ۔ماں کے رحم میں وہ اکثر یہ سوچتی ہوگی کہ میں نے ایسا کون سے گناہ کردیا ہے جس کی وجہ سے میری ماں مجھے سے اتنی نفرت کرتی ہے اور مجھے مارنا چاہتی ہے ۔وقت گزرتا گیا تمام تر مارنے کی کوششوں کے باوجود وہ زندہ بچ گئ اور اسکی پیدائش ہوئی ۔وہ بہت صحت مند اور خوبصورت تھی ۔ گہرے کالے بال،  سانولی رنگت اور بڑی بڑی آنکھوں میں بہت سے خواب تھے۔وہ زور زور سے ہاتھ پاوں ہلارہی ہوگی ۔اپنی ماں کو پکار رہی ہوگی مجھے سینے سے لگا لو۔

پر ظالم ماں نے دیکھنا بھی پسند نہیں کیا کیونکہ اس کے سفاک باپ نے جو اسکو اپنایا نہیں ۔پھر اسکو ایک رازدار شخص کے حوالے کردیا گیا یا وہ ماں باپ میں سے خود کوئی ایک تھا جوکہ اس کو گلستان جوہر کراچی میں پھینک گیا۔پھینکنے سے پہلے اس پر تشدد کیا گیا اس کی ہڈیاں تک توڑ دی گئ۔ننھی بہت بلک بلک کر روئی ہوگی دودھ مانگتی رہی ہوگی، ماں کی گرم آغوش مانگ رہی ہوگی، باپ کی شفقت کے لئے تڑپتی ہوگی لیکن اسکو ویرانے میں مرنے کے لیے پھینک دیا گیا ۔
ننھی کا دل ضرور ضرور سے دھڑک رہا ہوگا کہ یہ کیا ہوا ماں کی کوکھ اور یہ زمیں و آسمان دونوں میرے لئے تنگ کیوں کردئے گئے ۔بہت روئی ہوگی مدد کے لئے پکارتی رہی ہوگی لیکن کوئی انسان نہیں آیا ۔وہ تین گھنٹے کی ننھی پاکستانی بے لباس کچرے میں پڑی رہی فرش سے عرش کانپ گیا انسانیت شرما گی لیکن انسانوں کو شرم نہیں آئی ۔
 بہت سارے کتے اس کے گرد جمع ہوگئے ۔اسکو سمجھ نہیں آرہا ہوگا انسان زیادہ خطرناک ہیں یا یہ کتے ۔اسکو کتے  نوچتے گئے۔وہ صرف تین گھنٹے کی تھی کتنی مزاحمت کرتی سانس اکھڑنے لگی کہ اچانک ایک فرشتہ صفت انسان منہاس احمد نے اسکو ان کتوں کی چنگل سے آزاد کروایا ۔یہ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری محبت بھرا لمس تھا جوکہ اس نے محسوس کیا ہوگا۔منہاس احمد ننھی کے لئے فکر مند تھا اس نے ننھی پاکستانی کو وقت ضائع کئے بنا چھیپا ویلفیئر ٹرسٹ کے حوالے کیا اور وہ اسے لےکر ہسپتال پہنچے۔ڈاکٹر ابراہیم بخاری نے اس معصوم کے زخم صاف کئے نرم بستر پر لٹایا اس کی جان بچانے کی پوری کوشش کی ۔ننھی پاکستانی بہت بہادر تھی موت سے بہت دیر لڑتی رہی لیکن ہوس زدہ معاشرے کے انسانوں نے اس کی روح اور کتوں نے اس کے گوشت اور ہڈیوں کو بھنبھوڑ کررکھ دیا تھا ۔اس کی سانس اکھڑنے لگی اور زندگی کے بارہویں گھنٹے میں وہ دم توڑ گئ۔
 یہ ہمارے معاشرے کی حقیقت ہے یہ پاکستان کی حقیقت ہے۔۔ ایک ماں یا باپ بچی کو ویرانے میں کیوں پھینک گئے تھے اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ بچی بغیر نکاح کے پیدا ہوئی ہوگی ۔یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے کیا واقعی ہی اس ریاست میں لوگوں کو مذہب اور قوانین سے کوئی سروکار نہیں ۔کیا لوگ واقعی ہی یہاں یہ نہیں جانتے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔بنا نکاح کے ازدواجی تعلقات رکھنے میں لوگوں کو اخلاقیات اور مذہبی قوانین نہیں یاد آتے ۔لیکن ان ہی ناجائز تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والا معصوم بچہ سب کو ناجائز گناہ گار لگنے لگتا ہے۔
کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کیا معلوم کہ ماں باپ نے غربت کی وجہ سے ایسا کیا ہو یا انہیں بیٹیوں سے نفرت ہو ۔نہیں اگر اس معصوم کے سفاک ماں باپ کے دل میں چور نا ہوتا تو وہ بچہ ایدھی ہوم کے جھولے میں ڈال آتے ۔پاکستان کے تمام ایدھی ہومز میں جھولے موجود ہیں جن پر یہ لکھا ہے بچے قتل نا کریں ہمارے جھولے میں ڈال دیں ۔لیکن ایسا نہیں ہوا اور ننھی پاکستانی کو ویرانے میں موت کے حوالے کردیا گیا ۔
 ننھی پاکستانی کا سفاک قتل پورے معاشرے کے منہ پر طمانچہ جوکہ کبھی تعلیم تو کبھی کرئیر تو کبھی فرسودہ رسومات کی وجہ سے نکاح میں تاخیر ڈالتا ہے۔لوگ شادی کرنے کو مشکل اور افیر چلانے کو آسان سمجھنے لگے ہیں ۔اس کے ذمہ دار والدین معاشرہ اور حکومت سب ہی ہیں ۔
متوسط طبقے کی کہ بیٹیاں جہیز نا ہونے کی وجہ سے بیٹھی رہی جاتی ہیں ۔تو کسی ماں باپ کو نوجوان اولاد کے صرف کیرئیر کی فکر ہے ان کی فطری تقاضوں سے جان بوجھ کی نظر چرائی جاتی ہے ۔یوں ناجائز تعلقات جنم لیتے ہیں اور ماں باپ کو پتہ چلنے تک بات ہاتھ سے نکل گئی ہوتی ہے۔یوں بہت سے معصوم پھول بنا کھلے مرجھا جاتے ہیں تو معاشرے سے سوال کرتے ہیں کہ نکاح کو کیوں نہیں آسان بنا دیتے ۔ہیش ٹیگ ویڈنگز کے دور میں یہ ممکن نظر نہیں آرہا اگر اس ہی طرح شادی کے نام پر پندرہ بیس دن کی تقریبات ہوتی رہیں ۔جہیز پر پابندی نہیں لگی۔اٹھارہ سے بیس سال کی عمر میں نکاح کو عام نہیں کیا گیا تو اور ننھے  بے قصور پاکستانی اس ہی طرح قتل ہوتے رہیں گے۔اس ننھی پاکستانی کا قتل پورے معاشرے پر ہے اور قیامت کے دن ہم سب کو جواب دینا ہوگا ۔جہاں معاشرے میں ننھی پاکستانی کے والدین جیسے  لوگ بھی موجود ہیں وہاں دوسری طرف رمضان چھیپا، منہاس احمد اور ڈاکٹر ابراہیم بخاری جیسے نیک دل اور اعلی اوصاف کے لوگ بھی جن کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں انسانیت زندہ ہے ۔ان تینوں کو سلام ۔
جویریہ صدیق صحافی مصنفہ اور فوٹوگرافر ہیں اور ان کا ٹویٹر اکاونٹ @javerias ہے 
Posted in health, Pakistan, Uncategorized

ہیٹ اسٹروک تشخص علاج اور احتیاطی تدابیر

download (7)

 

 

 

 

جویریہ صدیق : اسلام آباد

Twitter  @javerias
پاکستان میں  گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سن اور ہیٹ اسٹروک  کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔2015کراچی میں  گرمی کی لہر کے باعث دو سو سے زائد افراد سن اسٹروک کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔اس لئے گرمی کے موسم میں کچھ احتیاطی تدابیر کرنا بہت ضروری ہے۔ سن اسٹروک سورج کی شعائوں اور گرمی کے باعث ہوتا ہے۔اس کی ابتدائی علامتوں میں سر میں اچانک سخت درد،بخار ہوجانا،آنکھوں کے آگے اندھیرا آنا،قے آنا ،سانس لینے میں دشواری اور پسینہ نا آنا شامل ہے۔اگر کسی بھی شخص میں یہ علامتیں دیکھیں تو اسکو فوری طور پر ٹھنڈی جگہ یا سایہ دار جگہ پر منتقل کریں۔متاثرہ شخص کے کپڑے کم کردیں۔جوتے اتار دیں۔ٹھنڈا پانی دیں مریض کے ماتھے سر گردن ہاتھوں پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں۔اگر طبیعت میں بہتری آئے تو متاثرہ شخص کو نہانے کا کہیں۔لیکن اگر طبیعت میں بہتری نا آئے تو فوری طور پر اسپتال کا رخ کریں۔

اللہ تعالی نے قدرتی طور پر انسان کے جسم میں درجہ حرارت کو کنڑول کرنے کا نظام بنا رکھ ہے۔انسان جلد کے مساموں سے پانی خارج کرتا ہے اور گرمی میں یہ اخراج زیادہ ہوجاتا ہے اگر ہم پانی نا پئیں اور زیادہ وقت گرمی میں رہیں تو اس نظام میں بگاڑ آجاتا ہے اور انسان ہیٹ یا سن اسٹروک کا شکار ہوجاتا ہے۔ہیٹ اور سن اسٹروک میں معمولی سا فرق ہے سورج کی شعاعوں سے براہ راست متاثر ہونے والا شخص سن اسٹروک کا شکار ہوتا ہے اور گرم جگہ پر کام کرنے والا یا بنا بجلی کے گرمی میں کام کرنے والا شخص ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوتا ہے۔اس کا زیادہ شکار وہ ہی لوگ ہوتے ہیں جو گرمی میں سر ڈھانپ کر نا نکلیں جنہوں نے مناسب پانی کی مقدار نا پی رکھی ہو یا وہ گرم جگہ پر کام کرتے ہوں ۔اس کے ساتھ ساتھ شراب نوشی کرنے والے افراد اور وہ لوگ جنہوں نے موسم کے حساب سے کپڑے نا پہنے ہوں وہ بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

سن اسٹروک کسی بھی عمر کے افراد کو ہوسکتا ہے بہت زیادہ گرمی میں کام کرنا سخت ورزش کرنا دھوپ میں کسی کھیل کا حصہ بننا،بجلی کا نا ہونا،پانی کا دستیاب نا ہونا اور ہوا میں نمی کے تناسب میں کمی کے باعث یہ کسی بھی عمر کے بچے عورت یا مرد کو ہوسکتا ہے۔اگر اس کے علاج پر فوری طور پر توجہ نا دی جائے تو بعض اوقات انسان کومہ میں چلا جاتا ہے جو کہ اسکی موت کا باعث بن جاتا ہے۔

پمزاسپتال کے میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر سلمان شفیع کے مطابق زیادہ گرمی میں کام یا سفر ہیٹ اسٹروک کا باعث بنتا ہے اگر کوئی شخص بہت دیر دھوپ میں کام کرنے کے بعد بے ربط گفتگو کرنے لگے یا بہت پانی پینے کے باوجود اس کو پیشاب کی حاجت نا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کے جسم کا درجہ حرارت بگڑ چکا ہے۔اس کے ساتھ اگر کوئی شخص دھوپ میں بے ہوش ہوجائے اس کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔جب ہمارے پاس گرمی سے متاثر کوئی مریض آتا ہے تو ہم اس بہت سے فلوئیڈ لگاتے ہیں خاص طور پر ڈرپ بھی ٹھنڈی ہوتی ہے۔تاہم اگر کوئی مریض بے ہوشی کی حالت میں آئے تو سب سے پہلے ہم اسکے سانس کی بحالی پر توجہ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیمان کے مطابق رمضان المبارک گرمیوں میں آئیں گے تو روزہ دار کوشش کریں کہ وہ پانی کا تناسب سحری میں اور افطاری میں نارمل رکھیں ۔ہلکی پھلکی غذائیں لیں، مرغن کھانوں سے پرہیز کریں۔ہلکے رنگ کے کپڑے استعمال کریں سفید رنگ موزوں ترین ہے۔اپنے کام صبح یا عصر کے بعد انجام دیں۔تاہم دفتری فرائض کی ادائیگی کے لیے اگر دھوپ میں جانا ناگزیر ہو تو ٹوپی کپڑا یا چھتری کا استعمال کریں۔اپنے ساتھ پانی کی بوتل رکھیں گرمی لگے توکپڑے کو گیلا کرکے بھی سر گردن پر رکھ سکتے ہیں۔ان کے مطابق اگر کوئی شخص اچانک ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوجائے تو اسکو گیلا کرکے پنکھے یا اے اسی میں لے جائیں ۔اگر بجلی نا ہو تو ٹب میں پانی تھوڑی برف ڈال کر مریض کو گردن تک لٹا دیا جائے۔اگر لوڈشیڈنگ یا پانی کی کمی کے باعث یہ بھی ممکن نا ہو تو مریض کو ٹھنڈی پٹیاں کی جائیں اور اسکو ٹھنڈا پانی پلایا جائے۔ہیٹ یا سن اسٹروک سے اس ہی طرح بچا جاسکتا ہے کہ عین دوپہر میں دھوپ میں نکلنے سے پرہیز کیا جائے اور اگر نکلنا ناگزیر ہے تو پھر سر گردن چہرے کو ڈھانپ لیا جائے۔

جیسے ہی گرمیوں میں یہ محسوس ہو کہ جسم کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جسم گرم ہو جائے لیکن پسینہ نا آرہا ہو طبیعت بوجھل محسوس ہو سر میں سخت درد شروع ہوجائے یا دل کی دھڑکن تبدیل ہوجائے تو سمجھ جائیں کہ آپ سن اسٹروک کا شکار ہوگئے ہیں۔فوری طور پر ٹھنڈا پانی پئیں لیٹ جائیں ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کریں اگر طبیعت میں سدھار نا آئے تو فوری تو پر ڈاکٹر کو دکھائیں کیونکہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔گرمی میں پانی زیادہ سے زیادہ پئیں، ڈبے کے جوس اور فریزی ڈرنکس سے مکمل پرہیز کریں۔ گرمی میں شاپنگ سے پرہیز کریں اگر جانا ہو تو گاڑی کسی سائے دار جگہ پر پارک کریں اور گاڑی میں ہرگز بچوں کو نا چھوڑیں۔کیونکہ گرمی میں گاڑی کا درجہ حررات فوری طور پر بڑھ جاتا ہے۔احتیاط کریں کیونکہ سن اسٹروک کے باعث دماغ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Posted in Uncategorized

…ساشا مگسی بلوچستان کی ہونہار بیٹی

اسلام آباد….جویریہ صدیق….ساشا مگسی بلوچستان کی ہونہار بیٹی، جس نے کبھی بھی مشکلات سے گھبرا کر ترقی کا سفرنہیں روکا ۔ساشا پیدائشی طور پر چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔والدین اور ڈاکٹرز کی تمام تر کوششیں ساشا کو تندرست نہیں کرپائیں۔ساشا نے اس کمی کو اللہ کی رضا جانتے ہوئے کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا۔

انتیس سالہ ساشا مگسی کوئٹہ میں پیدا ہوئیں اور اپنی ابتدائی تعلیم بیکن ہاوس میں حاصل کی۔بہترین طالب علم اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا شوق ساشا کو دیگر طالب علموں میں ممتاز کرگیا۔ہر وقت دوستوں کے جھرمٹ اور استاتذہ کی شفقت میں ساشا نے بہترین وقت اسکول میں گزرا۔

ساشا کہتی ہیں کہ میرے والدین میرے لئے بہت بڑی سپورٹ ہیں، انہوں نے کبھی بھی میرے اعتماد میں کمی نہیں ہونے دی۔بچپن سے ہی وہ مجھے ہر جگہ لے کرجاتے اس لئے مجھے کبھی بھی سوشلائیز کرتے ہوئے پریشانی نہیں ہوئی۔‘‘

’’میں جب اسکول میں داخل ہوئی تو استاتذہ اور طالب علموں کا رویہ مجھ سے بہترین رہا۔میں نے ہمیشہ بہت سہیلیاں بنائیں جس کے باعث میرا تعلیمی دور شاندار طریقے سے گزرا۔ہائی اسکول کے بعد جب کالج کی باری آئی تو میں نے جناح ٹاؤن کالج کا انتخاب کیا اور بی ایس سی کمپیوٹر سائنس میں کیا۔ڈگری مکمل کرنے کے بعد ہی مجھے بینک میں جاب مل گئ اور میں گزشتہ سات برس سےایک بینک میں بطور کسٹمر سروس آفیسر آپریشن جاب کررہی ہوں۔‘

ساشا کہتی ہیں کہ بینک میں مجھے ہمیشہ میرے سینئرز اور کولیگز کا تعاون ملتا رہا ہے۔ بینک آنے والے کسٹمرز بھی ہمیشہ بہت خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔کچھ تو مجھے ویل چیئر پر ہونے کے باوجود کام کرتا دیکھ کر داد و تحسین سے نوازتے ہیں۔

ساشا مزید کہتی ہیں اگر والدین اور فیملی کا بھرپور تعاون ساتھ ہو تو کچھ کرکے دکھانا ناممکن نہیں ۔میں آج جو بھی ہوں اپنے والدین کی محنت اور دعاوں کے نتیجے میں ہوں۔

ساشا کہتی ہیں کہفارغ اوقات میں مجھے کتابیں پڑھنا پسند ہے کبھی ٹائم ہو تو کوکنگ بھی کرتی ہوں،خریداری کا بھی شوق ہے۔چھٹی کے روز اکثر والدین اور بھائی کے ساتھ سیر و تفریح کے لئے جاتی ہوں۔

ساشا کہتی ہیں ہماری معاشرے میں خصوصی افراد کو زیادہ توجہ اور تعاون کی ضرورت ہے۔کسی بھی شخص کا اچھا رویہ اور تعاون خصوصی افراد کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ان کی تعلیم پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔

ساشا مگسی کی والدہ کہتی ہیں کہ ساشا پیدائشی طور پر چلنے سے قاصر ہیں میں نے اور ان کے والد نے بہت علاج کروایا لیکن ڈاکٹرز نے ہمیں بتایا کہ اس کا علاج ممکن نہیں۔اس موقع پر میرے والدین اور شوہر نے میرا بہت ساتھ دیا۔ان کی مدد سے میں نے اپنی بیٹی کی دیکھ بھال شروع کی۔

میں نے کبھی ساشا کو اسپیشل بچوں کے تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھایا۔ میں نے ان کی تعلیم عام اداروں سےمکمل کروائی۔میں نے اور ساشا کے والد نےساشا کو ہر تقریب میں اپنے ساتھ رکھا جس کے باعث اس میں مزید اعتماد آیا۔

کسی بھی خصوصی بچے کو کمرے میں بند کردینا مسئلے کا حل نہیں ایسے بچوں کو مزید توجہ اور پیار سے ہم کارآمد شہری بناسکتےہیں۔میں نے خود ساشا کو پڑھایا بہترین تعلیم دلوائی اور آج ماشاء اللہ سے وہ بینک میں ایک اچھی پوسٹ پر کام کررہی ہے۔Screenshot_20170318-205301

Posted in Javeria Siddique, Pakistan, Uncategorized

راج دلارا

راج دلارا

جویریہ صدیق

o-father-son24-facebook

بس میری شروع سے خواہش تھی کہ پہلا تو بیٹا ہی ہونا چاہیے ۔بات یہ نہیں تھی کہ مجھے بیٹوں سے نفرت تھی ۔لیکن نسل چلانے کے لئے بھی کوئی ہونا چاہیے ۔رقیہ جب امید سے تھی تو میں نے صاف کہہ دیا مجھے تو پہلا بیٹا چاہیے وہ چپ کرکے میری بات سنتی رہی ۔ویسے بھی ہمارے معاشرے میں مرد صرف بولنے اور عورت صرف سننے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔میں تو خوشی سے نہال تھا جیسے جیسے دن قریب آرہے تھے۔اتوار بازار سے کتنے ہی کھلونے لئے آیا نیلے کالے سفید رنگ کے کپڑے بھی ۔گھر جاتے وقت کبھی دودھ ربڑی لئے جاتا تو کبھی چکن کڑاہی نان۔رقیہ بھی اپنے نصیب پر نازاں تھی کہ مجھ جیسا اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا ۔آخر وہ گھڑی آن پہنچی میں دائی نسرین کو لئے آیا اور خود بے صبری سے باہر انتظار کرنے لگا۔رقیہ کا چیخیں مجھے بے چین کررہی تھیں ۔میں بھاگ کر گلی کی نکڑ والی مسجد میں چلا گیا اور رونے لگا مولوی صاحب مجھے آکر تسلی دینے لگے ۔دل کا بوجھ ہلکا کرکے میں گھر لوٹا تو رقیہ درد سے اب بھی چلا رہی تھی۔میں نے دائی سے پوچھا خطرے کی کوئی بات نہیں انہوں نے کہا کچھ نہیں ہوتا تم فکر نا کروشوکت ۔

کچھ دیر میں رقیہ کی آواز خاموش ہوئی اور بچے کی رونے کی آواز آنے لگی۔میں تو خوشی سے نہال ہوگیا ۔میرا راج دلارا جو آگیا تھا ۔دائی میرے سامنے کپڑے میں لپیٹ کر لائی اور مجھے مبارک دی مبارک ہو راج دلاری آئی ہے مبارک ہو شوکت تیرے گھر اللہ کی رحمت آئی ہے۔

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے مجھے بیٹا چاہئے تھا یہ منحوس بیٹی کہاں سے پیدا ہوگئ۔مجھے بیٹا چاہیے تھا ۔دائی کو دل پر پتھر رکھ کر پیسے اور تحائف کے ساتھ رخصت کیا۔اندر گیا تو رقیہ میری منتظر تھی میں نے کپڑے دھونے والا ڈنڈا اٹھایا اسکو کو مارنا شروع کردیا ۔وہ تو شاید میری طرف شفقت محبت کی طالب گار تھی۔وہ حیران ہی رہ گئ ۔میرا دل کررہا تھا اس منحوس اور اسکی پیدا کی ہوئی لڑکی کا گلا دبا دوں ۔میرے ماں بیچ میں آگیی اس نے میری بیوی کو مار سے بچایا۔

میرا غصہ پھر بھی کم نہیں ہوا میں نے صحن میں لگے تندور میں کپڑے اور کھلونے جلا دیے ۔میری اماں بہت منع کرتی رہی بس نفرت غصے کی آگ میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا

مسجد میں مولوی صاحب نے مجھے بہت سمجھایا بیٹی اللہ کی رحمت ہے ۔بیٹوں کی احسن طریقے سے پرورش کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے ۔اس کے بعد میں خاموش ہوگیا اور سمجھوتہ کرلیا۔گھر کا ماحول بلکل بدل گیا ۔رقیہ جہاں ہنسا بولا کرتی تھی اب کسی مشین کی ماند کام کرتی رہتی تھی۔بیٹی کو مجھ سے دور رکھتی اور رات کو اس کو اماں کی کمرے سلاتی ۔

رقیہ اور میری اماں نے اس کا نام مریم رکھا ۔مریم دو سال کی ہوئی ۔تو ہمارے گھر میں پھر ننھے مہمان کی آمد

کی نوید ہوئی ۔میں نے ہر وقت دعا شروع کردی ۔اس بار بیٹا ہو۔میں رقیہ کے بہت ناز اٹھاتا وہ بہت سہمی ہوئی رہتی تھی۔شاید ایسے یقین نہیں تھا کہ اس بار بیٹا ہو۔

اس بار بھی وہ ہوا ایک اور بیٹی پیدا ہوئی۔میں نے رقیہ مریم دونوں کو بہت مارا ۔ڈھائی سال کی مریم روتی رہی ۔ہمیں نا مارو۔ہمیں نا مارو ۔پر میرے اندر کا شیطان کا روکنے کو نہیں آرہا تھا۔میری ماں نے مجھے بہت مشکل سے روکا ۔میں پورے ایک ہفتے گھر سے غائب رہا ۔مجھے رقیہ اور اسکی پیدا کی ہوئی بیٹوں سے نفرت ہورہی تھی۔

میرے رشتہ دار مجھے سمجھا کر واپس گھر لئے آئے۔اماں نے بیٹی کا نام زینب رکھا ۔گھر میں شیرینی بنا کر محلے میں بانٹ دی۔

مجھے سب چیزوں سے نفرت ہوتی جارہی تھی۔جب دایی نسرین نے بتایا رقیہ ایک پھر پیٹ سے ہے ۔میں نے سوچا میں گاوں سے لاہور چلا جاو۔وہاں سے کما کر بھیجتا رہوں کم از مجھے ان عورتوں کا منہ نہیں دیکھنا پڑے گا۔

ٹھیک سات ماہ بعد ماں نے مجھے خط بھیجا کہ میرے گھر بیٹا ہوا۔مجھے لگا کسی نے مذاق کیا۔رفیق کی دوکان فون کیا اور پوچھا کیا واقعی ہی ایسا ہے گھر سے پتہ کرے۔تھوڑی میں رفیق کا ٹیلی فون آیا دوسری طرف ماں کی ہانپتی ہوئی آواز آئی مبارک  ہوتیرا بیٹا ہوا ہےچل واپس آ اسکا نام رکھ عقیقہ کر۔میں نے لاہور میں کام ختم کیا۔بچے کے لئے بہت سارے کھلونے کپڑے سونے کی ایک انگوٹھی خریدی ۔

گھر آیا تو اماں رقیہ اور بیٹیاں مجھے دیکھ کر بہت خوشی ہوئیں ۔بیٹیاں میری طرف دیوانہ وار لپکی میں نے جھٹکے سے پیچھا کیا دفع ہو جاو اپنی منحوس شکلیں مجھے نا دیکھاو۔وہ ڈر کر چھپ گئ۔

میں نے اپنے بیٹا کو گود میں لیا اور وہ ناچا کہ وہ پیسے وارے ۔اس کے عقیقے میں 4 بکرے کٹوائے وہ دعوت چلی کہ پورے گاوں نے نہیں دیکھی تھی ۔

بیٹے کا نام شان شوکت رکھا وقت گزرتا گیا میں نے ہر موقع پر بیٹوں کو ہر موقعے پر دھتکارا اور بیٹے کو آگے آگے رکھا۔گھر میں گوشت صرف میرے اور شان کے لئے پکتا رقیہ زینب مریم دال کھاتی۔شان خود سر ہوتا رہا میں اس کی جوانی کو دیکھ کر اتراتا ۔بیٹوں کو تو مڈل کے بعد میں نے سکول نہیں جانے دیا ۔گھر میں سلائی کڑھائی میں لگا دیا۔شان کو پڑھنے لاہور بھیج دیا ۔

اس کی کمپیوٹر میں ڈگری مکمل ہوئی جاب بھی لگ گی مجھے لگا دن پھیرنے کو ہیں اب میں بھی گھر پر آرام کروں گا ۔پر شان ڈگری کے ساتھ بہو بھی لئے آیا مجھے بہت غصہ آیا اس نے میرے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ۔میں نے سوچا کوئی بات نہیں جوان خون ہے بہک گیا ۔شادی ہی کی ہے کوئی گناہ تو نہیں ۔میں نے دھوم دھام سے ولیمہ کیا لوگوں نے بہت باتیں کی لیکن میں پرواہ نہیں کہ بیٹیاں ابھی بیٹھی ہیں اور میں نے بیٹے کی شادی پہلے کردی۔

شان نے جب کہا کہ وہ اب گاؤں نہیں رہے گا اور لاہور میں رہے گا ۔تو میرا دل ٹوٹ سے سا گیا ۔چند دن میں وہ واپس چلا گیا ۔

میں رقیہ کو لے کر لاہور بھی گیا پر وہ اتنی گرمجوشی سے نہیں ملا ۔اس کی بیوی نے بھی ہماری خاص عزت نہیں کی مجھے بہت افسوس ہوا ایسا لگا دل میں کچھ چبھ سا گیا ہے ۔

گاؤں آتے ہی فالج نے مجھے آن لیا۔رقیہ نے لاہور بہت فون کیے لیکن نوکروں نے بتایا شان صاحب اپنی بیگ

کے ساتھ دبی گئے ہوئے ہیں ۔میں تڑپ رہا تھا اور میرا راج دلارا میرے پاس نہیں تھا ۔مریم اور زینب ڈرتے ڈرتے میری تیمار داری کرتیں ۔مجھے دوائی دینا میری مالش کرنا میرے منہ میں نرم غذا ڈالنا۔یہ دونوں وہ ہی تھیں جن کو میں نے منحوس چڑیلیں کہا تھا ۔جن کے پیدا ہونے پر میں انہیں مارنا چاہا تھا ۔میری وہ بیوی جس کو میں ڈنڈے سے مارا کرتا تھا خود میرا لباس تبدیل کرواتی مجھے صاف کرتی۔میں ندامت سے گڑ جاتا ۔

ایک مہینے بعد جب شان لوٹا تو مجھے فون کرکے خیریت دریافت کی اور تب بھی ملنے نہیں آیا ۔میرے راج دلارے کے پاس میرے لئے وقت نہیں تھا۔میں جس کو ہمیشہ پیار دیا لاڈ دیا وہ تو نہیں آیا۔پر اللہ کی رحمت میری بیٹوں نےمیرے تمام زخموں کو بھر دیا۔میں نے ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگی وہ رونے لگیں اور میرے گلے لگ گئ

Javeria Siddique is a Journalist , Author and Photographer

Twitter @javerias

https://www.facebook.com/OfficialJaverias/

575d63910d6a9