Posted in child-sexual abuse, human-rights

بچوں کو جنسی تشدد سے بچائیں

تحریر جویریہ صدیق 

 

پاکستانی بچے جنسی تشدد کا شکار ہورہے اور معاشرتی خاموشی و سکوت اس برائی پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔عام طور پر خاندان بچے کو قصوروار ٹھہرا کر اسے خاموش رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔جبکے یہ بات یاد رکھنی چاہیے ایک معصوم بچہ جوکہ باہر کی دنیا کی گندگی اور خطرات سے واقف نہیں آپ اسکو مورد الزام نہیں ٹہرا سکتے۔حال ہی میں ایک پھر قصور شہر میں تین بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا ۔جو حکومت اور پولیس کی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہیں کہ بچے اغوا ہورہے ہیں قتل ہورہے ہیں لیکن عوام کی کوئی شنوائی نہیں ۔
یہاں پر یہ سوال بھی جنم دیتا ہے کہ ہمارے بچوں کو کس کس سے خطرہ ہے اور ہم انہیں جنسی تشدد سے بچا کیسے سکتے ہیں۔
اس کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنسی تشدد سے مراد کیا ہے اٹھارہ سال سے کم عمر انسان بچہ ہے کوئی بھی بالغ شخص بچے کے پوشیدہ اعضاء کو ہاتھ لگایے،چومے،بچے کےاعضاء دیکھے،بچے کی برہنہ ویڈیو بنایے،جنسی زیادتی کرے یا بد فعلی یا بچوں کو مجبور کرے کہ بالغوں کے اعضا کو ہاتھ لگایے یہ سب جنسی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ عام طور پر ۵ سے ۱۲ سال کی عمر کے درمیان بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔
بچے صرف باہر ہی جنسی تشدد کا نشانہ نہیں بنتے بلکے گھر میں بھی یہ خطرہ ان پر منڈلاتا ہے بہت سے بچے اپنے انکلز،رشتہ داروں، گھروں میں ملازموں ،کزنز اور کچھ کیسز میں خواتین کی ہوس کا نشانہ بنتے ہیں۔کچھ بچےسکولز،ٹیوشنز،دوکاندار،محلے داروں ،اپنےمذہبی اساتذہ،وین بس اور کار ڈرایور کی حیوانیات کا شکار بن جاتے ہیں۔یہ بات لازم نہیں کہ بچے پر حملہ کویی عادی مجرم کرے گا بظاہر بہت شریف نظر آنے والے افراد اس مکروہ فعل کو انجام دیتے ہیں۔یہ مسلہ تمام سماجی طبقات کا مسلہ ہے۔
اس تمام صورتحال سے بچانے کے لیے ہمیں اپنے بچوں کو اس حوالے سے آگاہی دینا ہوگی۔ہمیں بچوں کو انکے جسم کے حوالے سے اور اپنی حفاظت کیسے کی جایے اس بارے میں انہیں مکمل اگاہی دینا ہوگی۔
بچوں کو یہ بتایا جایے کہ انکے جسم کے پوشیدہ حصے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔صرف ان کی ماما انہیں نہلا اور کپڑے تبدیل کرواسکتی ہیں اس کے علاوہ نانی دادی بڑی بہن یا ملازمہ وہ بھی والدین کی اجازت کے بعد یہ کام کرسکتی ہیں۔ ورکنگ خواتین کے بچوں کی زمہ داری اکثر انکے گھرکام کرنے والوں پر ہوتی ہے۔تاہم آپ اپنے ملازمین پر بھی مکمل اعتماد نہیں کرسکتے اپنے گھر کے بڑوں کو کہیں کہ انکی نگرانی میں بچے کے کام کیے جایں،اگر ورکنگ لیڈیز کا بجٹ اجازت دیتا ہے تو وہ بچوں کے کمرے اور لاونچ میں کیمرہ لگا لیں تاکہ دفتر سے بھی وہ اپنےبچے پر نظر رکھ سکیں۔اگر یہ سب ممکن نا ہو تو اپنے آفس والوں کو قائل کریں کہ آفس میں بچوں کی نرسرئ ہونی چاہیے تاکہ کام کے ساتھ ساتھ خاتون اپنے بچے کا بھی مکمل خیال کرسکے۔یہاں پر ایک بات کرنا بہت ضروری ہے کہ بچہ صرف ماں کی زمہ داری نہیں باپ بھی اسکی پرورش اور حفاظت کا مکمل ذمہ دار ہے۔
بچوں کو یہ بتایا جایے اگر انکوکوئی ہاتھ لگایے جس سے انکو برا محسوس ہو یا کویی انکے پوشیدہ حصے ( گھر میں ان اعضا کا آپ جو بھی نام لیتے ہیں اس ہی نام سے انہیں بتایں) کو ہاتھ لگایں تو وہ فوری طور پر آپ کوبتایں، شور مچا دیں اور اس جگہ سے بھاگ جایں اور سیدھا آپ کو شکایت کریں۔اگر آپ گھر پر نہیں ہیں تو آپ کو فون پر اطلا ع کریں یا گھر میں موجود کسی اور بڑے کو اعتماد میں لیں۔
بعض اوقات اگر کویی بچہ جنسی تشدد کا شکار ہو تو وہ خود کو مجرم محسوس کرنے لگتا ہے اور سہم کر رہ جاتا ہے۔جب بچے کا خوف زیادہ بڑھ جایے تو اس میں یہ علاماتیں نظر آنے لگتی ہیں۔بچے کی نیند خراب ہوتی ہے، وہ ڈرتا ہے، بستر گیلا کرتا ہے، گھر سے باہر جانے سے انکار کرتا ہے۔ سکول نا جانے کی ضد کرتا ہے بولنا کھیلنا کم کردیتا ہے۔ جلدی تھک جاتا ہے۔ ڈیپریشن کا شکار ہوجاتا ہے ،بعض اوقات بہت غصہ کرتا ہے اس کا جسم درد کرتا ہےاور جنسی زیادتی کی صورت میں اسکے نازک اعضاء سے خون رستا ہے اور زخم بھی ہوتے ہیں۔بعض اوقات بچہ خودکشی تک پر آجاتا ہے۔یہ علامات مختلف ایج گروپ میں مزید مخلتف ہوسکتی ہیں۔
اس صورتحال میں ماں یا باپ میں سے کویی بھی ایک بچے کو اعتماد میں لے کر ساری صورتحال کا پتہ کرے ۔اس کے لیے ماہر نفیسات کی بھی مدد لی جاسکتی ہے۔والدین خود بھی انٹرنیٹ سے مواد حاصل کرکے بچے کی مدد کرسکتے ہیں۔کرییر دولت سب انسان حاصل کرسکتا ہے لیکن صحت مند اولاد ہر بار نصیب نہیں ہوتی۔ جنسی تشدد کسی بھی بچے کو نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا کردیتا ہے۔اس لیے اپنے بچوں کو مکمل وقت دیں انہیں اپنا دوست بنایں تاکہ وہ اپنے دل کی ہر بات آپ سے کر سکیں۔
اگر بچہ خدانخواستہ جنسی تشدد کا شکار ہوگیا ہے تو اس کے علاج کے ساتھ اس کو روزمرہ زندگی کی طرف واپس لاییں اسکو سکول خود چھوڑ کر آئیں اور واپسی پر بھی خود لیں۔اگر اسکے ساتھ بیٹھنا بھی پڑے تو ساتھ بیٹھیں ،اسکو خود پارک لے کر جاییں اسکے ساتھ کھیلیں۔اسکو مکمل توجہ دیں اور اسکی بات سنیں۔اس ضمن اساتذہ بھی بہت بڑا رول ادا کرسکتے ہیں اور بڑے بہن بھایی بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ بات رکھیں بچہ اور بچی دونوں خطرے کی زد میں ہوتے ہیں تو دونوں کو مکمل تعلیم دی جایے کہ کس طرح سے وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنایں۔بچوں کو اس بات کی تلقین کریں کہ وہ  ملازم رشتہ داروں اور اجنبیوں سے مناسب فاصلہ رکھیں کسی بھی شخص کی گود میں نا بیٹھیں اور آپ کی اجازت کے بنا کسی سے تحفہ نالیں۔اگر والدین گھر پر نہیں باہر گئے ہوئے ہیں تو بچوں کو نانا نانی دادا دادی یا بڑے بہن بھایی کے پاس چھوڑ کر جائیں انہیں ملازموں کے ساتھ اکیلا نا چھوڑیں۔آٹھ سال سے بڑے بچوں کو اپنی حفاظت کے حوالے سے کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔کبھی بھی اپنے بچے کو بازار ٹیوشن اور پارک اکیلا نا بھیجیں۔
رابعہ خان ماہر نفسیات ہیں 12 سال سے وہ اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ فیس بک پر اپنے پیج Healing-Souls-Rabia-Khan
سے شہریوں کو آگاہی فراہم کرتی ہیں ان کے مطابق اکثر بچے اس وجہ سے بھی جنسی تشدد کا شکار ہوجاتے ہیں جب انہیں گھر سے مکمل توجہ نہیں مل رہی ہوتی ۔ان پر جنسی تشدد کرنے والا شخص اس بات سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے کہ بہت عرصہ انکے گھر میں یہ بات کسی کو بھی معلوم نہیں ہوگی نا ہی یہ بچہ خود بول سکے گا ۔بچے کو وہ شروع میں اپنے قریب کرنے کے لئے چاکلیٹ ٹافیوں آئیس کریم اور دیگر تحائف کا استعمال کرتا ہے جب بچے کا اعتماد جیت لیتا ہے اسکے بعد اپنے جال میں پھنس لیتا ہے۔وہ کہتی ہیں ۔
ماں باپ کو چاہیے وہ بلاوجہ بچوں کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ نا کریں انہیں اعتماد دیں ۔اگر بچہ کسی چیز سے انکار کررہا ہے تو اسکے انکار کو زبردستی اقرار میں تبدیل نا کریں اور وجہ جانیں بچہ منع کیوں کررہا ہے۔بچے جھوٹ نہیں بول رہے ہوتے وہ اتنی کم عمر میں کہانیاں نہیں بنا سکتے ۔والدین اپنی سوشل لائف ورکنگ لائف میں سے اپنی اولاد کے لئے بھی وقت نکالیں ۔
رابعہ خان کہتی ہیں بعض اوقات سب تعلیم اور آگاہی کے باوجود بچے جنسی تشدد کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ بچے معصوم ہیں اور انکی تاک میں بیٹھے لوگ شاطر ہیں ۔والدین تب بھی بچے کو الزام نہیں دے سکتے ۔سانحے کی صورت میں بچے کی بحالی پر مکمل توجہ دیں وہ علاج کے بعد دوبارہ نارمل زندگی کی طرف لوٹ جائے گا۔
ہم میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد اور سول سوساسٹی کے ممبرا ن بھی اس ضمن بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کسی بچے کو بھی تکلیف میں دیکھ کر ہم اس کے والدین کو رازداری سے آگاہ کرسکتے ہیں۔کسی بھی بچے کو اکیلا دیکھ کر اسکے گھر تک پہنچا سکتے ہیں اور اسکے والدین سے یہ گزارش کریں کہ بچے کو اکیلا باہر نا بھیجیں۔اسکے ساتھ اپنے اردگرد بہت سے والدین کو اس حوالے سے آگاہی دیں کہ انکا بچہ گھر اور باہر کن خطرات سے دوچار ہوسکتا ہے۔یہ سانحہ کسی بھی عمر کے بچے کے ساتھ پیش آسکتا ہے بچہ کبھی بھی یہ سانحہ بھول نہیں پاتا اس لیے اسکو چپ یا خاموش کرنا مسلے کا حل نہیں ہے۔اسکو قصوروار نہیں ٹہرنا چاہیے اس کے ساتھ نرمی برتے ہویے اسکے علاج اور مکمل بحالی طرف توجہ دینا چاہیے ۔بچوں کو خطرہ صرف باہر نہیں گھر میں بھی موجود کچھ افراد سے ہوتا ہے یہ بہت چالاکی سے بچوں کا پھنس لیتے ہیں اس لیے اپنے بچوں کا مکمل خیال کریں۔ہمارے بچے اور بچیاں دونوں خطرے کی زد میں ہیں ہم سب مل کر ہی ان کی حفاظت کرسکتے ہیں۔جنسی تبدیلیوں اور تولیدی صحت پر بات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔بلوغت کے دور سے گزرنے والوں بچوں کو ماں باپ کی خصوصی ضرورت ہے انہیں جسمانی تبدیلوں کے بارے مکمل اگاہی دیں انکے سرکل پر نظر رکھیں انکی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کو بھی اپنے علم میں لایں کہیں انکو کویی بلیک میل تو نہیں کررہا۔اپنے بچوں کی مالی ضروریات اور جذباتی خواہشات کا خیال کریں تاکہ وہ استحسال کا شکار نا ہوسکیں۔آخر میں ایک بہت ضروری گزارش اگر کوئی بچہ یا بچی جنسی تشدد کا شکار ہوجائے تو اس کے لئے انصاف کی آواز اٹھانے سے پہلے اس بچے اور بچی اسکے خاندان کی پرایویسی کا خیال کریں اس کی
تصاویر اور شناخت نا ظاہر کریں ۔

— جو بچے غربت کے باعث گھروں سے دور ہیں وہ جنسی زیادتی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں یہاں پر لڑکے اور لڑکی دونوں اس کی زد میں آتے ہیں ۔جس کا واحد حل یہ ہے کہ ان بچوں کو حکومت اور مخیر حضرات ملازمتوں سے ہٹائیں اور ان کی تعلیم کھانے پینے اور رہائش کا بندوبست کریں ۔بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے غلیظ لوگوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ دیگر لوگ یہ مکروہ فعل کرنےکی ہمت نہ کریں ۔

IMG-20171001-WA0229IMG-20171001-WA0228IMG-20171001-WA0230

 

 

 Javeria Siddique
 Journalist and Photographer  
 Turkish Radio and Television Corporation 
 Author of Book on Army Public School Attack Peshawar 
Advertisements
Posted in health, Javeria Siddique, Pakistan, rain

ڈینگی بخار احتیاط واحد حل تحریر جویریہ صدیق

Screenshot_20190903-233809_Chrome
تحریر  …..جویریہ صدیق…..
ڈینگی بخار نے آج کل پھر عوام کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ہے ،کراچی، راولپنڈی، ملتان اور پشاور کے عوام اس بخار سے سب سے زیادہ متاثر ہوئےہیں ۔
ڈینگی بخار کا علاج اگر بروقت نا کروایا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، ڈینگی بخار مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، یہ مچھر صاف پانی پر افزائش پاتا ہے اور اس کے کاٹنے سے انسان ڈینگی بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
یہ مچھر زیادہ تر گھروں میں افزائش پاتا ہے، اس مچھر کی ایک مخصوص پہچان ہے اس کے جسم پر سیاہ سفید نشان ہوتے ہیں، ڈینگی پھیلانے والا مچھر زیادہ تر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے، اس مچھر کے کاٹنے سے ہر سال کروڑوں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔
ڈینگی چھوت کی بیماری نہیں ہے کسی متاثرہ مریض سے یہ صحت مند شخص کو نہیں ہوتا، یہ ایک مخصوص مچھر aedes aegypiti کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، ہر سال بائیس ہزار سے زائد افراد اس بخار کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
اس بخار کی علامتیں چار سے چھ دن میں ظاہر ہوتی ہیں، اچانک 104 فارن ہائٹ تکتیز بخار ، سر میں درد،جوڑوں میں درد،آنکھوں کے پیچھے درد، قے، جسم پر سرخ دھبے اس بخار کی علامات میں شامل ہیں، اگر اس کے علاج پر توجہ نا دی جائے تو یہ ڈینگی بخار ڈینگی ہیمرجک فیور میں تبدیل ہو جاتا ہے،جس کے باعث خون میں سفید خلیے بہت کم ہوجاتے ہیں، بلڈ پریشر لو ہوجاتا ہے، مسوڑوں، ناک، منہ سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے اور جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، انسان کومہ میں چلا جاتا ہے اور اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
ڈینگی بخار کو ایک بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے تشخیص کیا جاتا ہے، ٹیسٹ اگر مثبت آجائے تو فوری طور پر علاج شروع کیا جاتا ہے، اس مرض کے لئے کوئی مخصوص دوا تو دستیاب نہیں ہے، ڈاکٹر مریض کے جسم میں نمکیات پانی کی مقدار کو زیادہ کرتے ہیں اور ساتھ میں انہیں درد کو کم کرنے کی ادویات دی جاتی ہیں، ڈینگی ہمیرجک فیور میں پلیٹ لیٹس لگائی جاتی ہیں،اس مرض سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے.انسان خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائے۔
ڈینگی بخار سے بچنے کے لئے یہ احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں، سب پہلے تو کسی بھی جگہ پر پانی کھڑا نہ ہونے دیں، اگر پانی ذخیرہ کرنا ہو تو اس کو لازمی طور پر ڈھانپ دیں، گھر میں لگے پودوں اور گملوں میں پانی جمع نا ہونے دیں، کوڑاکرکٹ جمع نہ ہونے دیں، پرانے ٹائر خاص طور پر ان مچھروں کی آماجگاہ ہوتے ہیں انہیں گھر پر نا رکھیں، گھر میں پانی کی ٹینکی کو ڈھانپ کر رکھیں، باتھ روم میں بھی پانی کھڑا نا ہونے دیں اور اس کا دروازہ بند رکھیں، روم کولرز میں سے پانی نکال دیں، اسٹور کی بھی صفائی کریں اور وہاں بھی اسپرے کریں، اگر تب بھی مچھروں سے نجات نا ہو تو مقامی انتظامیہ سے اسپرے کی درخواست کریں۔
اپنی حفاظت کے لئےمچھر مار اسپرے استعمال کریں یا مچھربھگائو لوشن استعمال کریں، پورے بازو کی قمیض پہنیں اور جو حصہ کپڑے سے نا ڈھکا ہو جیسا ہاتھ ، پائوں، گردن وغیرہ وہاں پر لوشن لگائیں، گھر میں جالی لگوائیں اور بلاضرورت کھڑکیاں نا کھو لیں، ڈینگی کا مچھر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ کاٹتا ہے، اس لئے اس وقت خاص طور پر احتیاط کریں، سوتے وقت نیٹ کے اندر سوئیںاورکوائیل کا استعمال کریں۔
ڈینگی کا علاج اگر بروقت شروع کروالیا جائے تو مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے، اس بات کا خاص خیال رکھاجائےکہ مریض کوپانی ،جوس ،دودھ ،فروٹس اور یخنی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کروایا جائے، سیب کے جوس میں لیموں کا عرق بھی مریض میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے، اس کو ہرگز بھی اسپرین نا دی جائے۔
تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ستمبر، اکتوبر اور نومبر جو ڈینگی مچھر کے افزائش کے ماہ ہیں، ان میں متواتر اسپرے کروائیں، جہاں پانی کھڑا ہو وہاں پر خاص طور پر اسپرے بہت ضروری ہے۔
عوام میں اس مرض سے بچنے کے لئے آگاہی پھیلائیں، اسپتالوں میں ڈینگی بخار سے متعلق معلوماتی کائونٹر قائم کئے جائیں، اس مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے اگر ان مچھروں کی افزائش نا ہونے دی جائے، 2011 جیسی صورتحال سے بچنے کے لئے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی حکومتوں کو کام شروع کردینا چاہئے۔
Javeria Siddique 
Twitter @javerias

یہ تحریر 2015 میں شائع ہوئی ۔

Posted in india, Javeria Siddique, Pakistan

شہزادہ، شہزادی اور سپہ سالار تحریر جویریہ صدیق

شہزادہ، شہزادی اور سپہ سالار

تحریر جویریہ صدیق

ایک دفعہ کا ذکر ہے دور دراز ایک ریاست تھی اس ریاست پر دو افراد کی حکمرانی تھی۔ایک شہزادہ اور ایک شہزادی ہر وقت لڑتے اور ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے کے بھی متحمل نہیں تھے ۔دونوں ایک دوسرے سے خائف رہتے تھے لڑتے جھگڑے اور اپنے دکھ  سپہ سالار کو سنانے پہنچ جاتے۔سپہ سالار بہت طاقت ور تھا۔شہزادہ اور شہزادی 

کبھی سپہ سالار سے مدد مانگتے، کبھی روتے تو کبھی شکایتیں کرتے۔جب بات نہ بن پاتی تو پڑوس کی ریاستوں کو خط لکھتے انہیں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کرتے ۔

دونوں ریاست کے مخلتف حصوں پر حکمرانی کرتے رہےلڑتے رہتے اور عوام بدحالی کا شکار ہونے لگے۔ شہزادے  اور شہزادی کو اچھے پکوان اچھے لباس اور اچھی سواری کا بہت شوق تھا۔یہ شوق عوام کی خون پسینے کی کمائی پر لگان لگا کر وصول کیا جانے لگا۔ریاست کے خزانے کو بے دریغ لوٹا جانے لگے۔عوام غریب سے غریب ہوتے گئے اور شاہی خاندان امیر سے امیر ہوتے ہوگے ۔شہزادے اور شہزادی نے جب یہ دیکھا کہ سپہ سالار کے تیور کچھ ٹھیک نہیں تو اپنی ناجائز دولت کا بہت سا حصہ کشتیوں میں چھپا کر دور سمندر پار پردیس منتقل کردیا۔شہزادے نے بھی جب تھوڑی طاقت حاصل کی تو اس نے شہزادی کو بہت تنگ کرنا شروع کردیا تو وہ حکمرانی چھوڑ کر چلی گئ اور دور کی ریاست میں آرام دہ زندگی بسر کرنے لگی۔

پھر وہ ہی ہوا جس کا ڈر تھا سپہ سالار ایک دن خود اقتدار پر قابض ہوگیا ۔ شہزادےکو ملک بدر کردیا ۔جان بچ گئ شہزادہ آرام سے اپنی دولت پر عیش کرنے لگے لیکن حکمرانی کی یاد انہیں ستاتی تھی۔سپہ سالار کے دور میں بدامنی میں اضافہ ہوگیا جب اس سے کچھ بن نہ پایا وہ حکومت کرنے کے لئے نہیں تیار کیا گیا تھا اسکا فرض ریاست کی حفاظت تھا۔جب معاملات ہاتھ سے نکل گئےتو اس نے شہزادہ اور شہزادی کو معاف کردیا اور واپس ریاست کی حکمرانی دے دی۔

اب شہزادہ اور شہزادی عمر رسیدہ ہوگےتھے اور اپنی اولاد کو حکمرانی کے لئے تیار کرچکے تھے۔شہزادی کے بچے نئے  سپہ سالار کو اپنا دوست گردانتے تھے لیکن شہزادے کے بچے اپنی سینا اور سپہ سالار سے خائف رہے ۔شہزادہ اور شہزادی کے خاندانوں میں دوستی بھی ہوگئ تھی تو دونوں نے طے کیا مل کر بانٹ کر کھائیں گے لیکن شکایتیں لے کر سپہ سالار کے پاس نہیں جائیں گے۔اس کے پاس اگر جنگ لڑنے کی طاقت ہے تو ہمارے پاس بھی دولت کی طاقت ہے جس سے کچھ بھی ممکن ہے۔

20190711_171945

دونوں شاہی خاندان امیر سے امیر ترین ہوتے گئے خوب دولت لوٹی دنیا کی کوئی ایسی ریاست نہیں بچی کہ انکی دولت موجود نہ ہو۔شہزادہ شہزادی کے خاندان کے پاس بہت سے محلات آگئے، انکے بچے دنیا کے مہنگے ترین لباس پہننے لگے ،سب سے مہنگی سواری میں سفر کرنا انکے لئے عام بات تھی۔کچھ لوگ سپہ سالار کو شکایتیں کرنے لگے لیکن سپہ سالار بیرونی ریاستوں کے خطروں کو بھانپ چکا تھا اور نیا سپہ سالار بدامنی اور سرحدوں پر شورش کو ختم کرنے میں لگا رہا ۔

پر کچھ سچ بولنے والے قلم کاروں نے شہزادہ شہزادی کی دولت کا پول کھول دیا ۔بس پھرکیا تھا شاہی خاندانوں میں آہ و پکار مچ گئ۔سپہ سالار کے آگے رونے لگے ہمیں معافی دلوائی جائے ۔تاہم معاملہ کوتوال میں تھا اور شاہی خاندانوں کے بہت سے شہزادے شہزادیاں قید ہوگے۔درباریوں سے مدد مانگی گئ تجوریوں کے منہ کھول دیے گئے وہ درباری سر جھاڑ منہ پھاڑ بین کرنے لگے کہ ہمارے شہزادے شہزادی معصوم ہیں انکو چھوڑ دو۔اگر انکو نہیں چھوڑا گیا ریاست تباہ ہوجائے گی۔

پھر ریاست کے وسط سے ایک اور شہزادہ نمودار ہوا اس نے سب کو امید دلائی کہ سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن ریاست کی قسمت ہی اچھی نہیں تھی۔اس شہزادے کی جیب میں بھی کھوٹے سکے تھے اور درباری اسکے دربار کا حصہ بن گئے اور ریاست میں روٹی 20 روپے کی ہوگئ ۔ ۔

Screenshot_20190711-171820_Chrome

Posted in Javeria Siddique, Pakistan

پاکستان توڑو مہم پی ٹی ایم

IMG-20190502-WA0080

تحریر جویریہ صدیق

پی ٹی ایم پاکستان توڑو مہم 
ڈیرہ اسماعیل خان کے کچھ نوجوانوں نے 2014 میں  پی ٹی ایم (  جس کا مطلب میرے مطابق پاکستان توڑو موومنٹ ہے) کی بنیاد رکھی اور وی او دیوا کے رپورٹر کے 2016 کے ٹویٹ میں آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان نوجوانوں کے ہاتھ میں جو جھنڈا ہے وہ آزاد پشتونستان کا ہے۔بعد ازاں رپورٹر نے تو اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا لیکن تصاویر ہر جگہ وائرل ہوگی۔
IMG-20190502-WA0084
ان تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ان تصاویر میں مرکزی قیادت منظور پشتین کررہا ہے جو پشتون تحفظ موومنٹ کا چیرمین ہے۔
یہ ایک چھوٹی سی غیر فعال تنظیم تھی اور اس کے رکن عہدیداروں کی تعداد صرف اتنی تھی کہ انگلیوں پر گن لی جائے ۔پھر کراچی میں ایک خوبرو جوان نقیب اللہ محسود کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا۔یہ خبر منظر عام پر آتی ہی پاکستان کے تمام طبقہ فکر کے لوگ غم و غصے میں ڈوب گئے ۔ہر طرف سے مطالبہ آنے لگا کہ راو انوار کو سزا دو۔یہ وہ ہی راو انوار ہے جس کو پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری اپنا بچہ کہہ چکے ہیں ۔جہاں ایک طرف پاکستانی نقیب کے لئے انصاف کی جہدوجہد کررہے تھے دوسری طرف پاکستان توڑو موومنٹ نے سوچا اس معصوم لاش کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال دیا جائے اور اس قتل کو لسانیت ، قومیت اور فرقہ واریت کی رنگ دے دیا جائے ۔اس سب کی آڑ میں آزاد پشتونستان کا کام کیا جائے اور افغانستان بھارت سے اس ضمن مدد لی جائے ۔
کوئی بھی تحریک بنا پیسے کے تو نہیں چل سکتی اور وہ نوجوان جو پہلے میلے کچلے کپڑوں میں سڑکوں پر پھرتے تھے وہ یکدم قیمتی گاڑیوں میں آگئے ۔اب یہ پیسے کہاں سے آرہے تھے اور کیسے آرہے تھے اس پر سوال اٹھنے لگے۔ریاست کا دل اتنا بڑا ہے کہتے رہے ہمارے بچے ہیں یہاں تک کہ پی ٹی ایم کے دو ممبر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ کر اسبملی پہنچ گئے ۔پی ٹی آئی نے بھئ اتنا بڑا دل دکھادیا اپنے امیدوار کو دستبردار کرالیا کہ یہ ہمارے بچے اسمبلی آسکیں ۔ان سے میں سے ایک فوج کو گالیاں کھلے عام دیتا رہا اور پنجابیوں کو کالا کالا کہتا رہا۔
دوسری طرف سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا جن کی بائیو میں پی ٹی ایم لکھا ہوتا لیکن اکاونٹ جلال آباد افغانستان اور کلکتہ انڈیا سے آپریٹ ہورہے ہوتے تھے۔ان اکاونٹس کا ایک ہی مقصد نقلی پشتون بن کر پاکستان اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنا اور جعلی تصاویر شئیر کرکے یہ شور مچانا کہ فوج پشتون عوام پر ظلم کررہی ہے جبکے یہ تصاویر اکثر افغانستان کی نکلتی۔پاکستان کے محب وطن سوشل میڈیا صارفین ان جھوٹے اکاونٹس کا  پردہ چاک کرنا شروع ہوگئے ۔
IMG-20190502-WA0085
دوسری طرف پاکستان کا نام نہاد لبرل میڈیا این جی اوز والی خواتین اور اینٹی پاکستان نظریہ رکھنے والے صحافی تجزیہ نگار بھی اس تنظیم کا حصہ بن گئے اور ان کے جلسوں میں انکی مخصوص ٹوپی پہن کر پارٹی کارکنان کی طرح شرکت کرنے لگے ۔کچھ اپنی شناخت سے تنگ لبرل بنے کی کوشش میں سوشل میڈیا صارفین بھی ان ریلیوں میں جانے لگے کہ ملک کے خلاف بات کرکے ہمیں بھی کوئی فارن ٹرپ یا فارن فنڈنگ مل جائے ۔
اسکے ساتھ عالمی میڈیا وہ حصہ جو پاکستان مخالف ہے اور بھارت کے قریب ہے وہ بھی پی ٹی ایم کی حمایت میں کود پڑا ۔جس میں وی او دیوا ، وی او اردو ، بی بی سی اردو اور نیویارک ٹائم شامل رہا۔وائس آف امریکہ باقاعدہ فیس بک اور ٹویٹر پر سپانسر کرکے پی ٹی ایم کے رہنماوں کے انٹرویو نشر کرنے لگے۔سب کا مشترکہ یہ ہی پروپیگنڈا کہ پاکستان میں پشتونوں پر ظلم ہورہا ہے۔
IMG-20190502-WA0083
ویسے یہ سب لوگ کہاں تھے جب طالبان لوگوں کے گلے کاٹ رہے تھے۔اب جب ضرب عضب اور رد الفساد کے بعد امن ہوگیا ہے تو اپنی گندی سیاست چمکانے کے لئے بلوں سے باہر گئے۔پی ٹی ایم ، غیر ملکی میڈیا اور آزاد پشتونستان کی سازش زیادہ دیر چھپی رہی اور سب کچھ کھل کر سامنے آنے لگا۔
دہشتگردی کی جنگ میں سب نے قربانیاں دی چاہئے فوج ہو عوام ۔پشتونوں سے اس لئے علاقے خالی کروائے گئے کیونکہ انکے ہوتے ہوئے شر پسندوں کے خلاف آپریشن نہیں ہوسکتا تھا۔چیک پوسٹ اس لئے بنائی گئ کہ ہم وطنوں اور غیر ملکیوں میں فرق معلوم ہوسکے کوئی دہشتگرد عوام میں نا گھس جائے ۔وطن کارڈ اس لئے بنایا کہ آپ کی شناخت میں آسانی ہو۔یہ سب آپ کی حفاظت کے لئے کیا گیا۔
اب آزاد پشتونستان کا نعرہ لگانے والے کس طرح پاکستانی پشتون کے حامی ہوسکتے ان کا ایجنڈا نفرت اور تشدد پر مبنی ہے۔یہ اس وقت شروع ہوا جب ملک میں امن ہوچکا ہے اور آپریشن والے علاقوں میں بحالی کا کام شروع ہوچکا ہے۔اس موقعے پر ایسی تحریک بدنیتی کو ظاہر کرتی ہے۔اسکو سپورٹ کرنے والے 99 فیصد لوگ پاکستان مخالف ہیں ۔ان کا فیس بک ٹویٹر اور تجزیے دیکھ لیں انکا کام صرف پاکستان کو توڑنا ہے۔
ہم 71 میں نہیں تھے لیکن اب سازش سمجھ آگئ ہے کہ پاکستان توڑو مہم اور شیخ مجیب الرحمن کا طریقہ واردات ایک ہے۔پہلے رنگ نسل قومیت کا نعرہ لگا کر نوجوانوں کو ریاست کے خلاف کرو بعد میں الگ ملک کا مطالبہ کردو۔71 میں بھی بہت سے سیاست دان صحافی تجزیہ نگار انکو ناراض بچے کہتے ہوگے عالمی میڈیا انکو سپورٹ کرتا ہوگا اور پاکستان کے خلاف اس کی فوج کے خلاف جھوٹی کہانیاں اس طرح پھیلائی گئی جیسے آج پی ٹی ایم کے سوشل میڈیا اکاونٹس افغانستان عراق یمن کی تصاویر کے پی کے اور وزیرستان کی بنا کر شئیر کرتے ہیں ۔اس ہی پروپیگنڈے نے ہمارے ہم وطنوں کے حوصلے پست کئے ہوگے وہ تذبذب کا شکار ہو کر جنگ ہار گئے ملک ٹوٹ گیا ۔
پر اب 71 کی نہیں 27 فروری 19 کی تاریخ دہرائی جائے گی ۔دشمن کی ہر جنگ کو ناکام بنایا جائے گا چاہیے وہ فضا میں ہو،زمین پر ہو، پانی میں ہو ،میڈیا پر ہو یا سوشل میڈیا پر پاکستانی قوم اپنی فوج کے ساتھ دشمن کے دانت کھٹے کردے گی۔دشمن نے جنگ کی حکمت عملی تبدیل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ انفارمیشن کی جنگ آئی ایس پی آر جیت گیا۔آگے بھی ایسا ہی ہوگا۔
پی ٹی ایم کو غیر ملکی فنڈنگ مل رہی جس میں این ڈی ایس اور راء سرفہرست ہے۔اس میں افغانستان جلال آباد میں بھارتی قونصل خانہ سرفہرست ہے۔یہ تنظیم ریاست کے خلاف عناصر کے ساتھ رابطے میں ہے۔کل وائس آف امریکہ کا انٹرویو میں منظور پشین لکھا ہوا اسکرپٹ پڑھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا ہم اینٹی ٹیررسٹ تنظیم ہیں اور ہم دہشت گردوں اور ان سہولت کاروں کو آشکار کررہے کوئی پوچھے تم کیا سیکورٹی فورسز ہو تم کیا خفیہ ایجنسی ہو جو تمہیں یہ معلومات ہیں اور کیا  تم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی نہیں ۔
تم لوگ وہ ہو نقیب اللہ محسود کی لاش کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے گدھ کی نوچتے رہے ۔اس معصوم کے قتل کو اپنے آزاد پشتونستان کے ناپاک ارادے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہو۔جو چندے کے باکس ان کے جلسوں میں آتے ہیں اس میں اتنے پیسے بھی جمع نہیں ہوجاتے کہ ایپل کے ائیر پوڈ خریدے جاسکیں اس لئے پی ٹی ایم اپنی فنڈنگ کا حساب دیں ۔ افواج پاکستان کے ترجمان کے مطابق 22 مارچ 18 کو این ڈی ایس نے پی ٹی ایم کو پیسے دئے ،اسلام آباد میں پی ٹی ایم کے دھرنے کے لئے راء نے فنڈنگ دی،8 مئی 18 کو انڈین قونصل خانے نے طورخم ریلی کے لئے پیسے دئے۔
IMG-20190502-WA0086
جب پی ٹی ایم کے دو بڑے مطالبے مان لئے گئے جن میں مائنز کا ختم کرنا اور چیک پوسٹ ختم کرنا مان لئے گئے تو اب بھی وطن مخالف مہم کیوں ۔جہاں تک بات ہے راو انوار کی تو پی ٹی ایم بلاول اور آصف علی زرداری سے اس حوالے سے سوال کیوں نہیں کرتی۔جنوری 2018 کے دھرنے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ روڈ سے لینڈ کروز پر آگئ متعدد دورے جلسے کئے ایک سال میں یہ نوٹوں کی بارش کیسے ہوئی اس پر یہ تنظیم جواب دہ ہے۔کوئی شخص اس ملک کے آئین سے اوپر نہیں ہے اگر کوئی شخص اس ملک کو توڑنے کی طرف گامزن ہے تو وہ غدار ہے لیکن آج کل کے مصلحت آمیز منافق دانشور انکو سماجی کارکن اور امن کا داعی کہتے ہیں ۔کیونکہ ان کا دین ایمان صرف پیسہ ہے ۔عدم تشدد کی تحریک کا لبادہ اوڑھ کر اصل میں آزاد پشتونستان کی سازش کی جارہی ہے ۔یہاں پر میں آپ سے سوال کرتی ہو آپ ملک کو توڑنے کی سازش کرنے والو کے ساتھ ہیں یا ملک کو جوڑ کر رکھنے والی فوج کے ساتھ ہیں ۔ میں ریاست کو گالی دینے والو کے ساتھ نہیں، میں ریاست کے خلاف کام کرنے والو کے ساتھ نہیں، جو افغانستان اور بھارت کے ساتھ مل کر ہمارے اداروں اور شہیدوں کو گالی میں اسکو امن کا داعی لیڈر نہیں قرار دے سکتی ۔
ہمارے پشتون نمائندے اس وقت اسمبلی میں موجود ہیں اس ملک کا وزیر اعظم وزیر دفاع سب پشتون ہیں وہ ہئ ہمارے نمائندے ہیں پی ٹی ایم ہماری نمائندہ جماعت نہیں ویسے بھی یہ الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹر نہیں یہ جماعت بھی نہیں ایک چھوٹی سی لسانی تنظیم ہے جو صرف نسل پرستی کو فروغ دے کر آزاد پشتونستان کا حصول چاہتی ہے ۔
Posted in Kitchen gardening, Pakistan, Uncategorized

موسم سرما کی سبزیاں اور گھریلو باغبانی

تحریر جویریہ صدیق

فیس بک پر آپ سب نے وہ ویڈیو تو دیکھی ہو گی جس میں ایک شخص کمال مہارت سے نقلی بند گوبھی بنا رہا ہے۔اسکے ساتھ ساتھ بہت بار دوکان دار سبزیوں پر رنگوں والے سپرے بھی کررہے ہوتے ہیں جس سے وہ تروتازہ نظر آئیں ۔اکثرہری سبزیوں میں ہرا رنگ کا کیمیکل ڈائی لگایا جاتا ہے دیگر سبزیوں پر چمک کے لئے گاڑی کی پالش والا اسپرے بھی کردیا جاتا ہے۔بہت سے کاشتکار بھی ایک مخصوص کیمکل کا انجیکشن سبزیوں کو لگا دیتے ہیں جس سے سبزیوں کا وزن بڑھ جاتا ہے۔دیکھنے میں یہ سبزیاں بہت تروتازہ لگتی ہیں لیکن اصل میں کیمکل کی وجہ سے زہر آلود ہو جاتی ہیں۔

یہ سب انٹرنیٹ پر دیکھ کر بہت سے لوگ خواہش کرتے ہیں کیوں نا ہم گھر پر کسی جگہ پر سبزیوں اگالیں۔کیمیکل اور سپرے سے پاک سبزیاں خود اگائیں اور مزے سے کھائیں ۔گھر میں سبزیاں لگا کر ہم آرگینک طریقوں سے صحت مند اور کیمیکلز سے پاک غذا کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں۔تاہم بہت سے لوگ طریقہ کار سے واقف نہیں اس ہی لئے ہم گھر میں سبزیوں کی کاشت کے حوالے سے طریقہ کار شئیر کریں گے تاکہ سب گھر پر آسانی سے سبزیاں اگالیں ۔سب سے پہلے جگہ بیجوں کا انتخاب اور وہ سبزی جو گھر میں شوق سے کھائی جاتی ہو  زمین تیار کی جائے ۔اگر گھر پر لان یا اضافی زمین نہیں تو سبزیاں بڑے گملوں، بوتلوں کے کریٹ، پلاسٹک کے پاٹس میں بھی سبزیاں لگائی جاسکتی ہیں ۔موسم سرما میں ہم مٹر ،پالک ، ٹماٹر،بروکلی، شلجم ، سرسوں، سلاد پتہ ، شملہ مرچ، سپرنگ انین، چقندر، میتھی،لہسن،مولی، کدو، گاجر،آلو،سیلری، پیاز،پودینہ،میتھی،مرچ اور بند گوبھی لگا سکتے ہیں۔اسکے ساتھ ہربز جیسے منٹ،اورگینو،پارسلے،روزمیری اور تھائم گھر میں لگایا جاسکتا ہے۔تمام بیج اور پنیریاں بازار میں اسانی سے دسیتاب ہیں۔

مٹی کی تیاری اگر زمین میں سبزیاں لگانی ہوں تو مٹی کو دس سے بارہ انچ تک نرم کرے اُس میں گوبر کی پرانی کھاد، گلے سڑے پتوں کی کھاد یا گھر میں بنائی ہوئی کچن ویسٹ کھاد کا استعمال کریں،مٹی کی تیاری گملوں اور کریٹس کے لیے بھی ایسے ہی کرنی ہے۔اس کے بعد اگلہ مرحلہ بیج لگانے کا ہے مطلوبہ بیجوں کو تیار کردہ جگہ میں لگا کر پانی دیا جاتاہے ۔

جس جگہ بھی سبزیاں لگائی جائیں وہاں اس بات کا خیال کریں کہ وہاں ہوا کا گزر ہو اور سورج کی روشنی کا گزر 4 سے 5  گھنٹے ضرور ہو۔اگر سبزی زمین کے بجائے کریٹ یا گملے کی کیاری میں لگائی جارہی ہے تواس میں بوری یا کاٹن کا کپڑا بچھائیں ۔اس کے بعد میں تیار شدہ مٹی ڈالیں ۔جس میں کھیت یا نہر کی مٹی ، پرانے پتے اور گوبر کی کھاد وغیرہ شامل ہوتے ہیں ۔اگر اپ ایسی کھاد نہیں بنا سکتے تو نرسری سے تیار کھاداور مٹی خرید لیں ۔ ویسے گھر میں بھی اورگینک کھاد بنانا بہت آسان ہے۔ گھر میں روزمرہ میں بچ جانے والے پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے، بچا ہوا کھانا، پرانے  پتے، چائے کی استعمال شدہ پتی اور جانوروں کا فضلہ گوبر مٹی یا بند باسکٹ میں دباتے جائیں دو سے تین ماہ میں بہترین کھاد تیار ہوجائے گی۔ مٹی میں صرف ایک حصہ کھاد ملائیں۔ اب اس کھاد ملی مٹی میں آپ سبزیاں لگائیں۔

 سبزیاں لگانے کے بعد باقاعدگی سے گوڈی کریں ۔پودوں میں 18 انچ کا فاصلہ موزوں ہے.ان سبزیون کو کیڑوں سے بچانے کے لئے کوئی زہریلا اسپرے استعمال نہیں کیا جایے ، پانی میں ایک چمچ برتن دھونے کا لیکویڈ ، سرکہ اور مرچیں ملا کر پودوں پر سپرے کرتے ہیں کوئی کیڑا بھی پودوں کے نزدیک نہیں آئے گا۔

شروع میں چھوٹے اور کم پودوں کے ساتھ کام کا آغاز کریں۔ایک بعد یاد رکھیں کہ موسم کی سبزیاں موسم میں کھائیں اور بہت چمک دار سبزیاں نا خریدیں ۔کیمیکل والی سبزیاں معدے کی بیماریوں اور کینسر کا باعث ہیں۔

Posted in Army, media, Pakistan

میڈیا ، سیلف سنسر شپ اور جبری برطرفیاں

میڈیا ، سیلف سنسر شپ اور جبری برطرفیاں

جویریہ صدیق

20181018_205310

اسلام آباد:

 سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد جب میں نے شہدا پر کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا تو اندر ایک خوف تھا کہ کسی دن کوئی دیو قامت اہلکار گھر کا داخلی دروازہ توڑتے ہوئے آئیں گے اور میری گردن پر بوٹ رکھ کر مسودہ لے جائیں گے ۔انٹرویو کے دوران میں اکثر کہتی رہی کہ یہ مضامین دسمبر 2015 میں شائع ہوں گے لیکن کتاب کا تذکرہ کھل کر کسی سے نہیں کررہی تھی ۔کتاب کا ایک حرف حرف خود ٹائپ کیا۔ انگلیاں آنکھیں درد کرنے لگتیں لیکن بس یہ خوف طاری تھا بات باہر نکلی تو کتاب نہیں چھپ پائے گئ ۔کتاب بہت مشکل سے مکمل ہوئی کیونکہ جتنے لوگ اسلام آباد اور پشاور سے سانحہ کور کررہے تھے انہوں نے ایک نمبر تک شئیر کرنا گوارا نہیں کیا۔میں اپنی مدد آپ کے تحت پہلے خاندان تک پہنچی اور اسکے کے بعد ایک ایک کرکے بیشتر خاندان رابطے میں آگئے۔کتاب میں صرف یاداشتیں ہیں شائع ہوئی میں نے لواحقین کو تحفے میں دی اور کہا اتنی محنت میں نے کسی مقبولیت یا پیسے کمانے کے لئے نہیں کی ۔یہ میری طرف سے شہدا کے خاندانوں کے لئے ایک تحفہ ہے جس میں تمام شہدا کی تفصیل درج ہے اور انکی تصاویر شامل ہیں تاکہ تاریخ انہیں ہمیشہ یاد رکھے ۔

کتاب شائع ہوئے 3 سال ہوگئے لیکن مجھے کسی قسم کی دھمکی یا سنسر شپ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔کیونکہ وقت کے ساتھ حالات بدل بہت حد تک بدل گئے۔ضیاء دور ہماری نسل نے نہیں دیکھا سنا ہے اس دور میں بہت مظالم ہوئے بولنے کی آزادی نہیں تھی۔نواز شریف اور بے نظیر کے دو ادوار ہماری نسل کے بچپن کا دور تھا اس وقت سرکاری میڈیا، این ٹی ایم ، ریڈیو پاکستان، ایف ایم ون او ون ،ون ہنڈرڈ ، کارٹون نیٹ ورک  اور کچھ اخبارات اور رسالے شائع ہوتے تھے۔جس وقت پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو سب لوگ بہت ڈرے ہوئے تھے کہ پرویز مشرف بولنے لکھنے کی آزادی چھین لیں گے۔ان کے دور میں 3 نومبر کی ایمرجنسی اور میڈیا پر بندش رہی لیکن پرائیوٹ میڈیا کو آواز دینے کا سہرا بھی اس ہی آمر پرویز مشرف کو جاتا ہے۔۔

جس وقت میں نے اے ٹی وی پارلیمنٹ ڈائری کی میزبان کے طور پر جوائن کیا تو پی پی پی اقتدار میں آچکی تھی۔اس زمانے میں روز میڈیا کی عدالت لگتی تھی روز پی پی پی کا میڈیا ٹرائل ہوتا تھا اور وہ خندہ پیشانی سے اس سب کا سامنا کرتے رہے ۔کبھی کسی چینل اینکر یا رپورٹر کا بائیکاٹ نہیں کیا۔5 سال میڈیا ٹرائل اور عدالتی میڈیا کے ساتھ وہ مدت پوری گئے اور اگلی باری آئی مسلم لیگ ن کی ۔آمریت کی گود سے جنم لینے والی جماعت میڈیا کو کنٹرول کرنا بخوبی جانتی تھی۔اقتدار میں آتے ہی تنقیدی چینلز کے اشتہارات بند کردیے اور چینلز کا بائیکاٹ کردیا۔اپنے ناپسندیدہ اینکرز کو بین کرنے کے لئے ہزار جتن کئے۔دوسری طرف پی ٹی آئی نے دھرنے کےدوران مخالف میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا ۔پرائیوٹ میڈیا بھی بالغ اور منہ زور ہوگیا اور کسی کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔دو ہزار چودہ کے بعد ہم نے میڈیا کے رنگ ڈھنگ بھی بدلتے دیکھے لیڈران کی نجی زندگی پر حملے ، ان کی شادیوں کی تاریخوں کا اعلان ازخود کیا جانے لگا ، کچھ کالم نگار بلاگرز ٹی وی چینلز  صحافی اینکرز پانامہ سکینڈل کے بعد باقاعدہ طور پر مسلم لیگ کے حصے کی مانند ان کے لئے مہم کرنے لگے کہ شریف خاندان بے قصور ہے ۔یہ دفاع اتنے روز و شور سے کیا جانے لگا کہ اصلی کارکنوں اور صحافیوں میں تفریق مشکل ہو گئ ۔نواز شریف دور میں من پسند چینلز پر اشتہارات کی بارش کردی گئ۔اپنے من پسند صحافیوں میں بھاری تنخواہوں کے ساتھ عہدے بانٹ دئے گئے اور یوں جمہوریت کے نام پر کرپشن کا دفاع شروع ہوگیا۔

ن لیگ کے متوالوں نے پانامہ کا ملبہ بھی آرمی آئی ایس آئی پر ڈالنے کی کوشش کی۔ جب اس میں کامیابی نہیں ہوئی تو توپوں کا رخ عدلیہ کی طرف کردیا اور معزز ججوں کو متنازعہ کرنے کی کوشش کی گئ تاہم پاکستان کی عدلیہ نے تمام تر منفی مہم کے باوجود تاریخ ساز فیصلہ دیا ۔

میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف  کے جیل جانے  کے بعد درباری میڈیا اور سوشل میڈیا ٹیم وقتی طور پر خاموش ہوگے ۔تاہم سوشل میڈیا پر درباری قلم نگار ،قومی سلامتی، فوج ، عدلیہ اور آئی ایس آئی کے خلاف ٹویٹس کرتے رہے ۔انکا صبح سے شام تک صرف ایک کام ہے وہ ہے کہ پاکستان کو عالمی دنیا کے سامنے متنازعہ کرنا ہے۔صبح سے شام تک یہ صرف منفی پہلو اجاگر کرتے ہیں جب کچھ نا ملے تو فوٹو شاپ تصاویر کے ساتھ کہانی گھڑ لیتے ہیں۔جب کہ پاکستان کا کوئی کھلاڑی تمغہ لے آئے کوئی پاکستانی عالمی ریکارڈ بنا لے تو ان دانشوروں کو لقوا مار جاتا ہے۔ 

آج کل مارکیٹ میں ایک اور سستا انقلابی نعرہ سامنے آیا وہ ہے سیلف سنسر شپ ۔یہ سب شروع کہاں سے ہوا جب کچھ آزاد پختونستان کا نعرہ لگانے والو نے نقیب محسود کے قتل کو اپنے عزائم اور مردہ سیاست میں روح پھونکے کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ۔پاکستان مخالف اور آرمی مخالف تقاریر شروع کردی گئ ۔اس پر کچھ صحافیوں نے فوری طور پر اس فتنے کا ساتھ دینا شروع کیا یہاں سے یہ نیا لفظ ایجاد ہوا سیلف سنسر شپ ۔اگر آپ کے ایڈیٹر کا ضمیر زندہ ہے اور وہ آپ پاکستان مخالف آرٹیکل شائع کرنے سے روک دیتا ہے یا آپ کا کرپشن کی حمایت میں لکھا مضمون اسکو صحافت کے اصولوں کے منافی لگتا ہے تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ کا آرٹیکل ردی کی ٹوکری میں چلا جاتا ہے۔

سنسر شپ پر میڈیا کے کچھ بڑے اتنا بول رہے ہیں کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دے رہی ۔ سنسر شپ بھی ایک کونے میں کانوں میں انگلیاں ٹھوس کر کہتی ہے دھیمابولو ، پہلے تولو پھر بولو اور کم ازکم سچ تو بولو ۔

اس وقت میڈیا ورکرز کے اوپر جو سب سے بڑی تلوار لٹک رہی ہے وہ میڈیا کے اندر سے ہی ہے باہر سے نہیں۔آپ کو کیا لگا سیلف سنسر شپ ان کے لئے سب سے بڑا خطرہ  ہے نا نا یہ تو باتیں آزادی صحافت کے تمغے لینے وغیرہ کے لئے پھیلائی جاتی ہیں ۔اصل سنسر شپ تو اس بات پر ہے کہ میڈیا میں اپنے ادارے میں جاری میڈیا ورکرز کے استحصال پر کچھ نا بولو۔آپ ٹویٹر کے کسی بھی صحافی دانشور کی ٹائم لائن پر اس سے مختلف میڈیا کے اداروں میں تنخواہ میں تاخیر اور جبری برطرفیوں کے حوالے سے سوال کریں وہ آپ کو جواب نہیں دیے گا لیکن ویسے وہ دانشور سارا دن مگرمچھ کے آنسو بہائے گا۔ 

اکثر یہ ہی میڈیا کے بڑے منٹوں میں مڈ کرئیر جونیئرز کو ادارے سے یہ کہہ کر نکلوا دیتے ہیں کہ یہ نکما ہے جبکہ وہ محنتی کارکن ہوتا ہے بس ان کچھ بڑوں کو انکی شکل پسند نہیں ہوتی ۔پھرمقافات عمل ہوتا ہے جب ان بڑوں

کومالکان کم ریٹنگ اور سفید ہاتھی ہونے پر نکال دیتے ہیں تو یہ مگرمچھ کے آنسو بہائے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم جمہوریت پسند ہیں نا اس لئے ہمیں نوکری سے نکال دیا ۔جبکے ان کچھ بڑوں کو آپ نے اداروں میں دیکھیں تو ان سے بڑا مطلعق العنان کوئی نہیں ۔

عام میڈیا ورکرز کی بات کی جائے تو میڈیا میں کوئی جاب سیکورٹی نہیں جب کسی بڑے کا دل کرے وہ چھوٹے کو لات مار کر باہر کردے گا۔بیورو میں جھاڑو پھیر کر محنتی رپورٹرز کو فالتو سامان کی طرح باہر کردیا جاتا ہےتب جمہوریت یا آزادی صحافت خطرے میں نہیں آتی۔خاتون اینکر شادی کرلے یا حاملہ ہوجائے اس نوکری خطرے کی زد میں آجاتی ایچ آر کے مطابق موٹی لڑکی کا بھلا ٹی وی پر کیا کام ؟۔جو بیچاری نوکری بچا بھی لے اسکا بچہ گھر میں اسکے بنا تڑپتا ہے کیونکہ بہت سے دفاتر میں نرسری نام کی چیز نہیں ۔اکثر سفارشیوں کی چاندی ہوجاتی اور محنتی لوگ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔جاب کے تو کوئی ٹائمنگ نہیں کہا جاتا ہے کہ آپ میڈیا میں ہوکر نو سے پانچ والی جاب چاہتے ہو ایسا تو ممکن نہیں۔پر جب سیلری کی بات آئے وہ فکسڈ رہتی ہے رپورٹر کیمرہ مین میڈیا ورکر اس امید پر بوڑھا ہوجاتا کہ شاید اب اسکی سیلری میں ایک صفر بڑھ جائے ایسا بمشکل ہوتا ہے بلکے ناممکن ہے۔

میڈیا کو حکومت سے بڑی بڑی رقوم اشتہارات کی مد میں ملتی رہیں لیکن تنخواہ کی بات کریں تو حالات بہت خراب ہیں آپ اپنی تنخواہ کیوں مانگ رہے ہیں زیادہ مسئلہ ہے تو دوسری جگہ چلے جائیں ورکرز خاموش ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے یہ نوکری گئ تو دوسری نہیں ملے گئ ۔نئ جاب اوپنگز تو آتی ہی نہیں ہر سال نئے گریجویٹس انٹرن شپ کے نام پر بیگار کی طرح کام کرتے ہیں اور آخر میں ادارے کی طرف سے ملنے والے سرٹیفکیٹ کو لے کر گھر بیٹھ جاتے ہیں ۔میڈیا میں کوئی معاشی بحران نہیں ہے۔

بس میڈیا مارکیٹ میں بہت سے چینلز آگئے اکثر نئے ٹی وی لانچ ہوکر فلاپ ہوجاتے ہیں بڑے ناموں کی وجہ سے چھوٹے بھی ادھر کا رخ کرتے ہیں ۔پر ہوتا کیا ہے بڑے صحافی فوری طور “اصولی” موقف اپناتے ہوئے ڈیل اور یوٹرن مار جاتے اور چھوٹے دربدر ہوجاتے ہیں نا نئے دفتر جوگے رہتے ہیں نا پرانے میں جانے کی جگہ ملتی ہے ۔بہت سے میڈیا ورکرز کو چھٹی نہیں ملتی، میڈیکل نہیں ملتا، فیول نہیں ملتا، تنخواہ نہیں ملتی لیکن پھر بھی میڈیا ورکر اس انڈسٹری کو اپنے پتھر باندھے پیٹ اور کمزور کندھوں پر لے کر چل رہا ہے ۔اس سب پر وہ لوگ کیوں نہیں کچھ بولتے جو اس ملک میں آزادی صحافت کے چمپیئن بنے پھر رہے انہوں نے خود پر کیا سیلف سنسر شپ عائد کرلی ہے کہ صحافی بھائی کے لئے تو نہیں بولنا۔ ویسے تو بہت بولتے ہیں اتنا بولتے ہیں کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی سیاسی لیڈر کی چپل چادر بیگ آنسو چشمے مسکراہٹ لباس ہر چیز پر بولتے ہیں لیکن بس صحافی کے لئے نہیں بولتے۔میڈیا میں، سنسر شپ، تنخواہوں میں تاخیر اور جبری برطرفیوں کی زمہ دار حکومت، آرمی اور آئی ایس آئی نہیں خود میڈیا مالکان ، انتظامیہ ،اور میڈیا کے بڑے ہیں ۔ میڈیا کے درد کا مداوا کون کرے گا جب پی ایف یو جے خود تین حصوں میں تقسیم ہوچکی ہو۔جب صحافی خود جھوٹ بولیں کہ انہیں جمہوریت کا ساتھ دینے پر نکال دیا گیا جبکہ اصل وجہ یہ ہوکہ سیٹھ یا مالکن کو اپنا کاروباری مفاد عزیز ہو۔ وہ ادارے میں ڈوان سایزنگ کرے اور الزام آپ ایجنسی پر لگا دیں یہ تو صحافتی بددیانتی ہے۔میڈیا کے حالات خراب نہیں حالات صحافیوں کے خراب ہیں انہیں چاہیے کہ سچ بولیں اور میڈیا کی سیاست کو عیاں کر دیں ۔
ہر چیز کی زمہ داری فوج پر ڈال معاملات حل نہیں ہوگے مسئلے کا حل اپنی صفوں میں تلاش کریں۔

Posted in Pakistan, social media

دیسی لبرل کے خدوخال

تحریر جویریہ صدیق 

https://twitter.com/javerias

 

دیسی لبرل کے خدوخال

آج ہم جعلی سستے دیسی لبرلز کے خدوخال پر روشنی ڈالیں گے۔یہ لوگ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں اور کیا چاہتے ہیں اس پر تفصیل سے بات ہوگی ۔

دیسی لبرل گورا کمپلکس کا مارا ہوا ہے اسکو اندر ہی اندر اپنے ماں باپ اور گندمی رنگت پر شدید غصہ ہے ۔رنگ تو خیر فیر اینڈ لوولی سے گورا کرلیتے ہیں لیکن شناحت تبدیل کرنا قدرے مشکل کام ہے اس کے لئے لباس بول چال اور نک نیم رکھ کر کام چلایا جاتا ہے رب نواز ، کریم بخش، درخشاں ،عابدہ سے پومی موتی سونی سویٹی بن جاتے ہیں ۔

اس کے بعد پاکستان میں غریبوں کے ساتھ تصاویر بنانے کا سلسلہ شروع ہوتا بار بار سوشل میڈیا پر بولتے ہیں او گاڈ پاکستان کیوں بنایا اس کےلئے کہ لوگ یہاں غریب ہو۔پاکستان بھارت اگر ایک ملک ہوتا تو ان کے ساتھ یہ سب نا ہوتا ۔غریب عوام کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر لگا کر خود کو سماجی کارکن کہا جاتا ہے ۔

اگلے ٹرپ میں دیسی لبرل ان غریب عوام کے لئے کچھ پرانے کپڑے اور سستے برانڈ کے جوس بانٹ کر تصاویر ڈونرز کو بھیج دیتے ہیں انکے نام پر امداد بھی سمیٹ لیتے ہیں ایوارڈ بھی اور فارن ٹرپ بھی۔

کچھ لوگ جنہیں کہیں سے بھی توجہ نہیں مل رہی ہوتی وہ یکدم بہت ساری فوٹو شاپ تصاویر اٹھا کر سوشل میڈیا پر بین ڈال دیتے ہیں دیکھو بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں زیادتی ہورہی ہے۔نیچے لوگ آکر اصلی تصاویر بھی لگا دیں لیکن یہ جھوٹا پروپیگنڈا پورے زور سے کرتے ہیں پھر آپ کچھ عرصے بعد دیکھتے ہیں کہ لوکیشن میں یورپ یا امریکا لکھا نظر آتا ہے۔

دیسی لبرل صبح شام فوج اور آئی ایس آئی کا ورد کرتے ہیں ان کا دودھ والا دودھ میں پانی ملائے یا انکے گھر کی چھت ٹپکنے لگے اس کا الزام فوری طور پر فوج پر لگ جاتا ہے۔ان میں سے کوئی دیسی لبرل دو دن ٹویٹ نا کرے تو شور ڈالتے ہیں کہ فلاں سماجی کارکن اغواء ہوگیا چاہیے وہ کسی مشروب کے زیر اثر مست پڑا ہو۔

یاد رکھیں سارے دیسی لبرل اپنی زات میں دانشور، کالم نگار،سماجی کارکن اور آزادی رائے کے چمپین ہیں خودساختہ D : لیکن اگر آپ ان کے ساتھ بحث کریں تو یہ علاقائی زبانوں کی گالیوں کا کھلا استعمال کریں گے اور اگر آپ جواب دیں تو یہ انگریزی میں رپلائی لکھ کر دس اداروں اور سفارت خانوں کو ٹیگ کرکے کہیں گے یہ دہشت گرد مجھے دھمکا رہا ہے۔

دیسی لبرل جب تک ملک میں ہوتا تو صرف فوج عدلیہ کے خلاف ہوتا ہے لیکن جیسے ہی باہر نوکری ویزا یا اسائلیم مل جائے جائے تو اس کے منہ سے جھاگ نکالنا شروع ہو جاتی ہیں اور یہ مذہب کو متنازع کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

20181017_041421

دوران بحث دیسی لبرل کی یادگار تصویر

دیسی لبرل ہر حکومت کا ہم نوالہ ہم پیالہ بن جاتا اور کرپشن کو کھل کر سپورٹ کرتا ہے۔ان کے نزدیک آمریت کی کرپشن حرام ہے اور جہموریت کی کرپشن حلال ہے۔

ہر دیسی لبرل کی کوئی نا کوئی تنظیم یا این جی او ضرور ہوتی ہے جس سے وہ صرف پاکستان کے منفی پہلو سامنے لے کر آتا ہے۔لنڈے کا لبرل پاکستان کی اکثریت کو دہشتگرد گردانتا ہے اور اقلیت کے مسایل کو اپنے فواید کے لیے استعمال کرتا ہے۔حادثات اور سانحات کی صورت میں انہیں لسانی اور فرقہ وارنہ رنگ دینے کہ کوشش کرتا ہے

دیسی لبرل پاکستان دشمنوں کو کھل کر سپورٹ کرتا ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ 

ملک کے لئے کسی اچھے کام آغاز ہو یہ اسکے مخالف بن جاتے ہیں حال میں ہم نے دیکھا کہ یہ کالا باغ ڈیم کے بعد دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے بھی مخالف بن گئے ۔آرٹیکل لکھ رہے ہیں ٹویٹس کررہے ہیں بال نوچ رہے ہیں ڈیم مت بناو ۔یہاں تک درخت لگانے تک کے مخالف ہوگئے ۔

اگر کسی پرو پاکستانی صحافی کو مشکل پیش آئے تو دیسی لبرل منہ پر ٹیپ لگا لیتے ہیں لیکن کسی آوارہ اور پاکستان مخالف ٹرول کو کانٹا بھی چبھ جائے تو کرہ ارض کے ہر بڑے اخبار کی  سرخی لگ جاتی ہے اس فسادی کو  کالم نگار اور آزادی کا متوالا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔

ایک طرف جعلی لبرلز اور دیسی فیمنسٹ کہتی ہیں ہمارا جسم ہماری مرضی دوسری طرف خاتون اول کے پردے کا مذاق اڑاتی ہیں۔‏طنز و مزاح کے نام پر دیسی لبرلز کے پاس ہر کسی کا مذاق اڑانے کا لائسنس ہے اور اگر کوئی انہیں کوئی جواب دے تو می ٹو ہوجاتاہے اور آزادی صحافت خطرے میں آجاتی ہے ۔

‏دوسرے ملکوں کی شہریت لے کر بیٹھے ہوئے جعلی لبرل پاکستان کے خلاف دن رات ٹویٹ کرسکتے ہیں لیکن اسلام آباد کراچی میں بیٹھے لوگ ملکی معاملات پر بات نا کریں ۔ 

رینٹ اے لبرل اور لنڈے کے دانشور یہ وقت کے ساتھ وفاداری بدل لیتے ہیں اور اپنی منافقانہ صلاحیتوں  اور خوشامدی رویے  سے آہستہ ٓاہستہ اپنے لئے  جگہ بنا لیتے ہیں ان کا نعرہ ہے

۔مجھے ڈالر دکھا اور پاکستان کے خلاف لکھوا ۔

رینٹ اے لبرل مافیا ‏ کو پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ سے اختلاف ہے انہیں آئین کی اسلامی شقوں سے اختلاف ہے۔اتنے خونی لبرل آپ نے دنیا میں نہیں دیکھے ہوگے جتنے پاکستان میں ہیں اور  اصلی بھی نہیں دو نمبر ۔

پاکستانی جعلی دیسی لبرل جب اپنے ماں باپ کے گھر پیدا ہوا تو نرس نے افسوس سے کہا آپ کے گھر دھوکے بازی اور غداری  پیدا ہوئی ہے 

Posted in kashmir, Pakistan

زلزلہ اور نقشہ بی بی

جویریہ صدیق 

14 oct 2015 

https://twitter.com/javerias

IMG_20181008_121120

10اکتوبر2005  صبح کے آٹھ بج کر پچاس منٹ کو کوئی پاکستانی نہیں بھول سکتا.یہ تاریخ پلک جھپکتے میں سینکڑوں پاکستانیوں کی زندگی بدل گئ.زلزلے کے جھٹکے ہزاروں انسانوں کے خوابوں کو چکنا چور کرگیے. زندگی بھر کی کمائی جمع کرکےمحبت سے بنائے گھر منٹوں میں زمین بوس ہوگئے.علم حاصل کرنے والے بچے اپنی درس گاہوں میں کنکریٹ کے ملبے تلے دب گئے.اس قیامت خیز زلزلے میں چھیاسی ہزار سے زاید افراد جان بحق ہوئے اور پچھتر ہزار کے قریب زخمی ہوئے.اسلام آباد سے لے کر مظفرآباد ہر طرف پاکستانی نڈھال  اور زخموں سے چور تھے.سب سے زیادہ نقصان آزاد کشمیر میں ہوا. ہر طرف تباہی اور ملبہ جب تک امدادی کارکن کراچی لاہور اسلام آباد سے پہنچے بہت سے لوگ اپنی زندگی ہار چکے تھے.پاک آرمی نے زخمیوں کو ریسکیو کرکے ملک کے دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کیا.ریسکو کے بعد ریلیف کا شروع ہوا.عالمی ادارے اور دوست ممالک کی امدادی اور طبی ٹیمز بھی پاکستان پہنچ گئی.

unnamed (1) (1)
ریسکیو اور ریلیف کے دوران اللہ نے اپنا معجزہ دیکھایا اور زلزلے کے 63 روز گزر جانے کے بعد ایک خاتون کو ملبے میں سے زندہ نکالا گیا . چالیس سالہ نقشہ بی بی زلزلے کے دوران اپنے کچن کے ملبے تلے دب گئ.اس کے رشتہ دار یہ سمجھتے رہے کہ وہ یا تو جاں بحق ہوگی ہے یا پھر کسی ریلیف کیمپ میں ہے.لیکن رشتہ داروں کو نقشہ ملبہ اٹھاتے وقت کچن سے ملی.وہ پہلے یہ سمجھے کہ وہ مر چکی ہے لیکن نقشہ نے جب آنکھیں کھولی تو سب حیران رہ گئے.نقشہ کو پہلے مظفرآباد منقل کیا گیا.اس کے بعد انہیں اسلام آباد پمز منتقل کردیا گیا.
نقشہ اتنے دن اکیلی بھوکی پیاسی ملبے تلے دبی رہی ڈاکٹرز کے مطابق اس ساری صورتحال نے اس کے اعصاب اور ذہنی صحت پر برا اثر ڈالا.کتنا عرصہ نقشہ کو ڈراپ پر اور مائع خوراک پر رکھا گیا کیونکہ وہ کھانے پینے سے قاصر تھی.اس کا وزن صرف پینتس کلو رہ گیا تھا.وہ چلنے پھرنے کے بھی قابل نا تھی. اتنا عرصہ ملبے میں رہنے کی وجہ سے اس کی بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کیا.ڈاکٹرز کی انتھک محنت کے بعد نقشہ نے اپنی بات اشاروں میں سمجھانا شروع کردی اور چلنا بھی شروع کردیا.

DSC_0628 (1)
پر افسوس نقشہ کے زیادہ تر رشتہ دار اس سانحے میں چل بسے تھے. بوڑھے باپ جس کی ٹانگ زلزلے کے بعد ڈاکٹرز نے اس کی جان بچانے کی خاطر کاٹ دی تھی اور غریب بھائی نے اس کی دماغی صحت کی خرابی کی بنا پر اس کو اپنانے سے انکار کردیا. چلا بانڈے میں وہ خود کیمپ میں مقیم تھے اور نقشہ کی کفالت کے قابل نہیں تھے.میری نقشہ سے پہلی ملاقات ہسپتال میں ہوئی اور دوسری ملاقات اس وقت ہوئی جب ان کو اسلام آباد ایدھی ہوم منتقل کردیا گیا.میرا جب بھی ایدھی ہوم جانا ہوتا تو نقشہ سے ملاقات ہوتی صاف ستھرے کپڑوں میں نقشہ خود چل پھر سکتی تھی اپنے ہاتھ سے کھانا بھی کہا لیتی لیکن وہ نا ہی وہ کسی بات کو سمجھ پاتی اور نا ہی جواب دیے پاتی.
دوہزار پندرہ مارچ تک نقشہ ایدھی ہوم میں رہی .دو ہزار پندرہ آٹھ اکتوبر کو جب زلزلے کو دس سال مکمل ہوگئے تو مجھے نقشہ کی یاد ستائی .لیکن ایدھی ہوم جاکر مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کہ جب میں نے نقشہ سے ملنا چاہا تو پتہ چلا.نقشہ تو یہاں سے چلی گئ.میں نے انچارج ایدھی ہوم شکیل احمد سے رابطہ کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ نقشہ کو ملتان ایدھی ہوم بھیج دیا گیا.کیونکہ اس صحت گرتی جارہی ہے وہ سردی برداشت نہیں کرسکتی.
اب نقشہ کو ملتان میں ڈھونڈنا ایک مسلہ تھا میں نے ٹویٹر پر ملتان کے ٹویٹر صارف سے درخواست کی مجھے نقشہ بی بی کا پتہ معلوم کرکے دیں.بہت دن کی کوشش کی بعد بالآخر 13 اکتوبر کو نقشہ مل گئ.نقشہ کا خیال تو رکھا جارہا ہے لیکن وہ اندر سے بلکل ٹوٹ چکی ہے.پہلے جو کبھی وہ مسکرا دیتی تھی اب وہ نا ہی مسکراتی ہے نا ہی کوئی رسپانس دیتی ہے. 6 سال سے وہ اپنے کسی رشتہ دار سے نہیں ملی. اب ایدھی ہوم ہی اس کا گھر ہے اور یہاں کہ رہنے والے اس کے رشتہ دار ہیں.
اگر اس وقت کی حکومت زلزلہ زدگان کی مکمل بحالی کردیتی تو آج نقشہ اپنے پیاروں کے ساتھ ہوتی.  آٹھ اکتوبر کو بہت سے پیکج چلے نیوز آئیں پروگرام نشر ہوئے پر سب نقشہ کو فراموش کرگیے. شاید یہ تحریر پڑھ کر بہت سی مارننگ اور ایونگ شو کے اینکرز  نقشہ کے پاس پہنچ جائیں گے اس کا کرب دیکھا کر ریٹنگ بڑھانے کی کوشش کریں گے.پر یہ مسلہ کا حل نہیں ہے اگر نقشہ کے گھر والوں کی مکمل بحالی کردی جاتی اور مظفرآباد میں ہی ہسپتال سے اسے مفت طبی علاج معالجے کی سہولت تاحیات فراہم کردی جاتی .تو آج نقشہ اپنے پیاروں کے ساتھ مختلف زندگی گزار رہی ہوتی.
ایدھی ہوم ایک ایسا فلاحی ادارہ ہے جہاں لاکھوں لوگ پناہ لئے ہوئے ہیں.عبد الستار ایدھی اور بلقیس ایدھی نے کبھی اپنے فلاحی ادارے کو اپنی ذاتی تشہیر کے لئے استعمال نہیں کیا.چپ کرکے یہ دونوں عظیم شخصیت  اور ایدھی ہوم سے منسلک افراد خدمت خلق میں مصروف ہیں.ہر ہفتے نقشہ کا طبیمعائنہ ہوتا ہے ایک مددگار اس کو چلنے پھیرنے میں مدد دیتی ہے.اس کو کھانا کھلاتی ہے.میں سوچتی ہوں اگر حکومت زلزلہ متاثرین کی آبادکاری مکمل طور پر کردیتی تو آج نقشہ شاید ایک خوش گوار زندگی گزار رہی ہوتی.نقشہ آج بھی خلاؤں میں کچھ ڈھونڈتی رہتی ہے شاید زلزلے سے پہلے کے دن یاد کرتی ہوگی.
نقشہ کو دیکھ کر آٹھ اکتوبر کے وہ تمام درد یاد آجاتے ہیں  .اس  کے چہرے پر  آٹھ اکتوبر کا کرب دائمی طور پر نقش ہوگیا ہے. آٹھ کتوبر 2005 کو کس طرح لوگ ملبے تلے دبے مدد کے لئے پکار رہے تھے اور ہمارے ادارے ناکافی مشینری کے باعث انہیں نا بچا سکے.آج بھی صورتحال یہ ہی ہے کہیں آگ لگ جاتی کہیں چھت گر جاتئ ہے تو بھی ہمارے ریسکیو کی مشنری نا کافی ہے اور لوگ سسک سسک کر مرجاتے ہیں. ہماری حکومت اور اپوزیشن کی ترجیحات پر لوگوں کے لئے صحت عامہ کی سہولیات باعزت روزگار  مفت تعلیم اور سر چھپانے کے لئے ایک چھت مہیا کرنا کب آئے گا  کچھ معلوم نہیں. نقشہ کو زلزلہ تو نا مار سکا لیکن ہمارے معاشرے کی بے حسی ضرور اسے مار گئ ہے.25 اکتوبر ۲۰۱۵ کو نقشہ بی بی کا ایدھی ہوم ملتان میں انتقال ہوگیا۔

یہ تحریر ۲۰۱۵ میں جنگ میں شایع ہویی۔

Posted in Army, Pakistan, ZarbeAzb

کیپٹن مجاہد بشیر شہید

کیپٹن محمّد مجاہد بشیر شہید ، .

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت … نہ کشور کشائی

نام مجاہد اور دل میں شہادت کی خواہش لئے جب یہ شیر دل دشمن سے ٹکرایا تو دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا ۔ پاکستان کا یہ بہادر بیٹا 8 جولائی 1986 ء کو پیدا ہوا ۔ شروع سے ہی پاکستان آرمی میں جانے کا شوق تھا ۔ ابتدائی تعلیم اسلام آباد ماڈل کالج سے حاصل کی ۔ بی کام مکمل کیا ۔ سولہ مئی 2008 ء کو پی ایم اے جوائن کیا اور 119 لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی ۔ 160 آر سی جی ائیر ڈیفنس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔2012 میں ایف سی ہیڈ کوارٹر خیبر پختون خوا میں پوسٹنگ ہوئی ۔ باجوڑ میں فرائض منصبی سنبھالے اور اپنی شہادت تک وہیں ڈیوٹی انجام دیتے رہے ۔ 12 جولائی 2014 ء کو اس مرد مجاہد نے جام شہادت نوش کیا ۔

FB_IMG_1534923161415

باجوڑ کے قریب کٹ کوٹ کے مقام پر پاک آرمی کے ہیڈ کوارٹرز سے کیپٹن مجاہد نے فضل سیپی سرحدی چیک پوسٹ پر جانا تھا۔ماہ رمضان تھا کیپٹن مجاہد روزے سے تھے ہیڈ کوارٹر بریفنگ کے لئے آئے ۔ تاہم وہاں کام کی نوعیت کی وجہ سے دیر ہوگی ۔روزہ کھولنے کے بعد نماز سے فارغ ہوکر جب انہوں نے واپس فضل سیپی جانے کا ارادہ کیا تو سب نے منع کیا کہ اس وقت سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔لیکن پاک وطن کے اس مجاہد نے کہا چیک پوسٹ پر میرے ساتھی میرا انتظار کررہے ہوں گے، میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ۔

کیپٹن مجاہد رات گئے اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوگئے ۔ انہیں پوسٹ پر پہنچنے کی جلدی تھی کیونکہ اس پوسٹ پر اکثر دشمن کی طرف سے حملے ہوتے رہتے تھے ۔ کیپٹن مجاہد خود واپس جاکر جلد سے جلد کمان سنبھالنا چاہتے تھے ۔ لیکن راستے میں ہی دہشت گردوں نے ان پر دو اطراف سے حملہ کر دیا۔کیپٹن مجاہد اور ان کے ساتھی مردانہ وار لڑے ۔ ہر طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ ہوگئی لیکن کیپٹن مجاہد نے جوانمردی سے مقابلہ کیا اور دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔تاہم وہ اس معرکے میں شدید زخمی ہوئے اور جب تک کٹ کوٹ سے پاک فوج کی مزید نفری آئی کیپٹن مجاہد بشیر اپنے ساتھیوں کے ساتھ شہادت پاچکے تھے ۔

ان کے ساتھی ان کے یونٹ ممبران ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی خوش اخلاق اور نرم مزاج تھے ۔ ہمیشہ سب کے ساتھ بہت پیار اور شفقت سے پیش آتے۔وہ اپنی یونٹ کے تمام افراد سے رابطے میں رہتے۔ان کے دوستوں کے مطابق شہادت کی خواہش ان کے دل میں بہت شدید تھی ۔ بہادری سے لڑے اور بہادری سے اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔

گیارہ جنوری 2014 ء کو کیپٹن مجاہد صالحہ حیدر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ۔ 2012 ء میں نکاح ہوگیا تھا لیکن رخصتی 2014 ء میں مقرر ہوئی ۔شادی کے بعد کچھ عرصہ چھٹی گزارنے بعد کیپٹن مجاہد واپس محاذ جنگ پر چلے گئے ۔ ان کی اہلیہ صالحہ کچھ عرصہ باجوڑ ان کے پاس رہ کر آئیں ۔ کیپٹن مجاہد کی بیٹی صبغہ اپنے والد کی شہادت کے سات ماہ بعد فروری میں پیدا ہوئی۔صالحہ مجاہد بیوہ شہید کیپٹن مجاہد اے پی ایس میں پڑھاتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں مجاہد سے شادی ہوئی تو مجھے لگا جیسے مجھ سے زیادہ اس دنیا میں کوئی خوش نصب نہیں ہوگا ۔ وہ بہت ہی نرم مزاج محبت کرنے والے انسان تھے ۔

میں شادی کے بعد اکثر سوچتی اور اپنے آپ پر رشک آتا تھا کہ مجھے اتنا اچھا انسان جیون ساتھی کے طور پر ملا ۔ ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات میری زندگی کا کل سرمایہ ہیں ۔ صالحہ کہتی ہیں کیپٹن مجاہد مذہب سے خاص لگاؤ رکھتے تھے ۔ پانچ وقت کی نماز کا اہتمام باقاعدگی سے کرتے اور روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ۔ وہ کہتی ہیں ان کی عادات و اطوار نے مجھے ان کا مزید گرویدہ کر دیا ۔ ان کی شہادت سے قبل میں باجوڑ گئی اور ہم نے کچھ دن ساتھ گزارے ۔ اس کے بعد وہ مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلے گئے ۔

وہ کہتی ہیں کہ اتنا پیار کرنے والا انسان جب چھوڑ کر چلا جائے تو زندگی بے مقصد محسوس ہوتی ہے ۔ شروع شروع میں تو میرے ضبط کے سارے بند ٹوٹ جاتے اور مجھے بالکل قرار نہیں آتا تھا ۔ لیکن جب میں شہید ہونے والے دیگر فوجیوں کی بیواؤں سے ملی تو ان کا صبر دیکھ کر مجھے انتہائی حوصلہ ملا ۔ میں نے زندگی کو ایک بار پھر مجاہد کی یادوں کے ساتھ آگے بڑھایا ۔

صبغہ فاطمہ جو کیپٹن مجاہد کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی اس نے اپنے والد کا لمس تو محسوس نہیں کیا لیکن اس کی والدہ اسے باقاعدگی سے اس کے شہید بابا کی قبر پر لے کر جاتی ہیں ۔ صبغہ اپنی ماما کے فون پر جب کیپٹن مجاہد کی تصاویر دیکھتی ہیں تو بابا ، بابا کہہ کر ان کو پکارتی ہے اور خوب شور مچاتی ہے مگراس کے بابا اس کو جواب دینے کے لئے اس دنیا میں موجود نہیں ہیں ۔ گزشتہ دنوں جب عالمی یوم والد منایا جارہا تھا تو ننھی شہزادی صبغہ نے یہ دن اپنے شہید بابا کی قبر پر منایا ۔ ابھی تو وہ اتنی کم سن ہے کہ اسے معلوم نہیں کہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلا گیا ہے ۔

مسز کیپٹن مجاہد بشیر کہتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر کی یادوں کے سہارے زندگی گزار رہی ہیں اور صبغہ فاطمہ ان کی متاعِ کُل ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ مجاہد کی شہادت نے انہیں بالکل توڑ کر رکھ دیا تھا لیکن گھر والوں اور سسرال والوں کی محبت اور شفقت نے انہیں ہمت دی کہ وہ زندگی کو آگے لے کر چل سکیں ۔میرے اور صبغہ کے لئے ان کا چلے جانا ناقابل تلافی نقصان ہے۔تاہم ہمیں ان کی قربانی پر فخر ہے انہوں نے اپنی جان پاکستان کے لئے قربان کی ۔آگے چل کر جب ننھی صبغہ زندگی میں قدم بڑھائے گی تو اس کا ہاتھ تھامنے کے لئے اس کے بابا موجود نہیں ہوں گے ۔ اس کے اردگرد تمام بچے جب اپنے ماما بابا کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہوں گے تو ایک پل کو وہ رُک کر سوچے گی ضرور کہ میرے بابا میرے ساتھ کیوں نہیں ہیں۔سب کام میری ماما کو اکیلے کیوں کرنے پڑرہے ہیں ۔ لیکن جیسے جیسے شعور بیدار ہوگا تو وہ اپنے عظیم والد کی عظیم قربانی پر فخر کرے گی۔ہم سب کا بھی فرض ہے کہ ہم اپنے شہدا اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں۔اس ملک کی اساس کیپٹن مجاہد جیسے شیر جوانوں اور صالحہ مجاہد اور صبغہ فاطمہ جیسی عظیم بیٹیوں کی قربانیوں پر کھڑی ہے ۔

صبغہ فاطمہ کے نقصان کا خلا کبھی بھی پر نہیں ہوسکتا لیکن تمام پاکستانیوں کو اس کے والد کی قربانی اور اس کی والدہ کے صبر و استقامت پر پر فخر ہے ۔ ۔کیپٹن مجاہد اور ان جیسے دیگر پاک فوج کے شہداء کی قربانیوں کی بنیاد پر آج وطن عزیز میں امن قائم ہوا ہے ۔ اللہ تعالی ہمارے شہدا کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین .
تحریر: جویریہ صدیق IMG_5g70qf

http://hilal.gov.pk/…/hilal-u…/item/2250-2016-08-12-06-44-02

Posted in Uncategorized

جہاز کی سیاست

جویریہ صدیق

Twitter @javerias 

جہاز کی سیاست 

بچپن میں کبھی گھر گھر اور کھلونوں سے کھیلنے کا دل نہیں کرتا تو میری دوست جو عمر میں ہم سب بڑی تھی اپنی بلیک جیکٹ اور کالا چشمہ پہن کر Screenshot_20180624-134154_Photo Editorچھوٹی سے بیٹری والی گاڑی پر جھنڈا لگا کر سیاست دان بن جاتئ اور دوسری سفید ڈوپٹہ پہن کر خاتون سیاست دان بن جاتی بھائی کو پانی والی پستول دے کر گن مین بنالیا جاتا پھر فخر سے گلی کے چھوٹے بچوں کو احکامات جاری کرتے اور ہم سب بچے غریب ووٹرز کی طرح جی جی کرتے رہتے ۔نوے کی دہائی میں ایک پجارو دو گن مین کالا چشمہ سفید شلوار قمیض اور سفید ڈوپٹہ آپ کو سیاست دان بنا دیتا تھا 

تاہم دو ہزار اٹھارہ میں سیاست دان بنانے کے لئے بڑے محلات کروڑ روپے اوپر کی بلٹ پروف کاریں ، 15 سے 20 سیکورٹی کی گاڑیاں، گوچی کے مہنگے چشمے اور مفلر ، چینل کے بروچ ، میڈیا کے کیمرے، سوشل میڈیا ٹیم کے ٹویٹس ، پھول پھینکنے اور حق میں نعرے لگانے کے لئے ہائر کے گئے لوگ ، میک آرٹسٹ، ڈی جے اور 3 سے 4 نجی جہاز چاہیے ہوتے ہیں ۔اگر سیاست دان کے پاس اپنا ذاتی جہاز نا بھی ہو تو بھی کوئی فکر نہیں انویسٹر ہے نا۔

جہاز کی سیاست زندہ باد