Posted in Uncategorized

انسداد منشیات کا عالمی دن

June 26, 2014   ……..جویریہ صدیق……..

26جون کو دنیا بھر میں انسداد منشیات کا عالمی دن منایا جاتاہے۔اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں منشیات کے مضر اثرات کے حوالے سے عوام الناس میں آگاہی پھیلانا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں 31کروڑ 50لاکھ افراد منشیات کا استعمال کررہے ہیں۔ان میں 15سال سے لے کر 65سالہ افراد شامل ہیں۔18کروڑ افراد حشیش کے عادی ہیں، ایک کروڑ افراد ہیروئن کا جبکہ ایک کروڑ 60لاکھ افراد افیون کا استعمال کرتے ہیں ۔باقی دیگر افراد مختلف نوعیت کا نشہ کرتے ہیں۔منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہر سال 40لاکھ افراد موت کے منہ میں چلا جاتے ہیں اس لیے اس عالمی دن کو منانے کا مقصد منشیات کے مضر اثرات اس کی تباہ کاریوں سےلوگوں کو آگاہ کیاجاسکے۔اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں گذشتہ سال 311ٹن صرف ہیروئن ہی بنائی گئی، دیگر نشہ آور اشیاء اس کے علاوہ ہیں۔

بات کی جائے اگرپاکستان میں اس وقت 60لاکھ 70ہزار افرادمنشیات کے عادی ہیں ۔اس کی بڑی وجہ افغانستان میں پوست کی کاشت ہے ۔ دنیا بھر میں افیون کی 70فیصد سپلائی افغانستان سے ہی ہوتی ہے اور باقی 30فیصد پاکستان کے ذریعے سے یہ عالمی دنیا تک پہنچتی ہے۔اس ہی وجہ سے پاکستان میں ہیروئن، افیون، مورفن، کوکین، بھنگ، گانجا اور حشیش استعمال کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ نامساعد حالات کی وجہ سے افغانستان میں پوست کی کاشت عروج ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا صوبہ خیبر پختون خوا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس کے 11فیصد عوام نشے کے عادی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 60لاکھ سے زائد افراد منشیات جیسی لعنت کا شکار ہیںجن میں سے 5لاکھ افراد انجکشن سے نشہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے مزید کیسز سامنے آرہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 20لاکھ افراد ہیروئن کا، 15لاکھ چرس اور 9لاکھ سے زائد نشہ آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ افیم،مورفن،شیشہ،بھنگ،کوکین، خواب آور ادویات اور سگریٹ نوشی بھی عام ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستانی ہر سال 5ارب کی منشیات استعمال کرتے ہیں۔ اسی کی وجہ معاشرے میں لاتعداد برائیا ں جنم لے رہی ہیں۔ نشہ کرنے کے پیچھے لاتعداد عوامل کار فرما ہیں جن میں نفسیاتی، سماجی اور معاشی الجھنیں شامل ہیں۔کچھ افراد محبت میں ناکامی تو کچھ مالی معمالات تو کچھ حالات سے فرار کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں،نئی نسل ایک دوسرے کی نقل میں منشیات کا استعمال فیشن کے طور پر شروع کرتے ہیں اور بعد میں یہ شوق لت کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔نشہ نہ ملنے کی صورت میں اس کو استعمال کرنے والا بے چین ہوجاتا ہے اور اپنے آپ پر قابو کھو بیٹھتا ہے۔ اس طرح کے مریضوں کے لیے بحالی صحت کے مراکز عام ہیں ان سے علاج کرواکے اس لعنت سے مکمل چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں اینٹی نارکوٹکس فورس کا کردار قابل ستائش ہے۔ منشیات کو تلف کرنا اور مجرموں سے برآمد کرنے میں اے این ایف دنیا بھر میں صف اول پر کھڑی نظر آتی ہے۔ اے این ایف نے 2013میں 803افراد کو گرفتار کیا جن سے بھاری تعداد میں افیون، مورفین، ہیروئن اور حشیش برآمد ہوئی۔ اس ہی طرح 2014میں 419افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان سے اور دیگر ملنے والی 134ٹن منشات کو گزشتہ سال 26جون کو نذرِ آتش کردیاگیا۔ اس کی لوکل مارکیٹ میں مالیت 19ارب تھی۔ اگر ائیرپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو 2013میں 180کیسز سامنے آئے اور مسافروں سے 236کلو گرام ہیروئن، 2کلو گرام حشیش اور 9کلو کوکین برآمد ہوئی، بات ہو 2014کی تو ایئرپورٹس پر اب تک 83مسافروں سے 95کلو گرام ہیروئن اور دیگر منشیات برآمد ہوئیں۔آج26جون کو اسمنشیات کو بھی نذرِ آتش کردیا جائے گا۔

بات ہو اگر منشیات فروشوں کو سزا کی تو 2013میں 53افراد کو عمر قید کی سزا ہوئی اور 4کو موت کی سزا سنائی گئی جبکہ 2014میں 33افراد کو عمر قید اور ایک کو موت کی سزا ہوئی۔

اس وقت پاکستان میں اس چیز کی آگاہی بہت ضروری ہے کہ منشیات کی وجہ سے انسان کی صحت اور مال و دولت دونوں ہی برباد ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں ہیروئن کلچر افغان مہاجرین کی وجہ سے متعارف ہوا۔افغانستان سے آنے والے 30لاکھ مہاجرین میں سے بیشتر ہیروئن کے عادی تھے۔ اس وقت بھی بارڈر طویل ہونے کی وجہ سے منشیات کو پاکستان اسمگل کردیا جاتا ہے۔90فیصد افیون افغانستان سے آتی ہے اور اس سے دیگر منشیات تیار ہوکر دنیا بھر میں سپلائی کی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے پاکستانی عوام بھی متاثر ہورہے ہیں اور ان میں منشیات کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے حالانکہ پاکستان 2011سے پوست کی کاشت سے مکمل طور پر پاک ہے۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ عوام کو منشات کے مضر اثرات سے آگاہ ہوں۔ اس کے استعمال میں شائد وقتی سرور ہو تاہم بعد میں صرف بیماریاں، ذلت اور معاشی بدحالی رہ جاتی ہیں۔ میڈیا بھی اپنا کلیدی کردار نبھا سکتا ہے اور عوام میں اس لت کو ختم کرنے کے حوالے سے مؤثر مہم چلا سکتا ہے۔ اگر اپنےارد گرد کوئی ایسا مریض دیکھیں جو چپ چاپ الگ تھلگ رہتا ہو اور اس کے پاس سفید سفوف، انجکشنز اور سگریٹ بھی ہوں تو اسے بہت نرم رویے کے ساتھ قائل کرنے کی کوشش کریں اور معالج کے پاس لے کرآئیں۔ سرکاری اسپتالوں کے ساتھ ساتھ اب نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن نے بھی ادارۂ برائے بحالیٔ صحت قائم کیا ہے۔ان اداروں میں صرف 45دنوں میں انسان نشے کی لت سے اپنی جان چھڑا سکتا ہے۔ ان سینٹرز میں مفلس و نادر افراد کا علاج مفت کیا جاتا ہے۔ ہم سب کو مل کر اپنے وطن سے منشیات کی لعنت کو ختم کرنا ہوگا، ہمیں ایسے عناصر پر نظر رکھنا ہوگی اور ان کی نشاہدہی کرنا ہوگی جو نئی نسل کی رگوں میں یہ زہر اتار رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی کو نشے کی عادت میں مبتلا دیکھیں تو اس کو دوبارہ معاشرے کا کارآمد شہری بنے میں مدد کریں۔

– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9940#sthash.salAOQdc.dpuf

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s