Posted in Uncategorized

انقلابی مون سون

, August 26, 2014   ………جویریہ صدیق………اگست میں انقلابی مارچ کے مون سون نے بہت سےپاکستانیوں کو سیاسی بخار میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس وقت واضح طور پاکستانی تین حصوں میں بٹ گےہیں۔ ایک ہی گھر میں درمیانی عمر کے افراد مسلم لیگ ن کے حامی یعنی حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے، اس ہی گھر کے نوجوان انقلاب کے لے پر جوش پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے ساتھ کھڑے اور تیسرا طبقہ وہ ہے جو ان دونوں کو یہ سمجھانے میں لگا ہوا ہے کہ پاکستان کسی نئے تجربے کا متحمل نہیں ہوسکتا، سب کی ترجیحات ملک کی ترقی پرمرکوز ہونی چاہیئے ذاتیات پر نہیں۔

موجودہ حالات میں بیشتر پاکستانی ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے ہیں اور دن رات تجزیئے سننے کے بعد خود بھی کافی حد تک مفکر بن گئے۔ جیسے ہی بریکنگ نیوز ٹی وی پر چلتی ہے پاکستانی عوام فوری طور پر فیس بک اور ٹویٹر پر اپنی آرا کا برملا اظہار کرنے لگ جاتے ہیں۔ سب اپنے اپنے نظریات کا پرچار کرتے ہیں اور اگر کوئی ان سے اختلاف کی جرأت کرے تو اس کو چھٹی کا دودھ یاد دلادیتے ہیں۔ 13دن ہوگئے اسلام آباد میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، ہر روز ان دونوں پارٹیوں کی طرف سے نئے مطالبات سامنے آجاتے ہیں۔ پرجوش اور جذباتی تقاریر کارکنان کا جوش گرمانے کے لیے کی جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کبھی وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں، کبھی الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام لگاتے ہیں تو کبھی توپوں کا رخ جیو جنگ گروپ کی طرف کردیتے ہیں اور جس دن کہنے کو کچھ نہ ہو تو اپنی شادی کا شوشہ چھوڑ کر پورے پاکستان کو ہی حیران کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کبھی حکومت کی بر طرفی کا مطالبہ کیا تو کبھی اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ اور اس دن تو حد ہوگی کہ جس دن کارکنان کو قومی اسمبلی پر قابض ہونے کا کہہ دیا اور کہا کہ یہاں پارلیمنٹ میں شہدا کا قبرستان بنے گا بعد میں خیر وہ اس مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے، کل وہ کفن لیے آئے جس سے عوامی کارکنان کی بڑی تعداد کی آنکھوں سے آنسو چھلک گئے۔ یہ خطابات کا سلسلہ 13دن سے جاری ہے، عوام سڑکوں پر موجود ہیں اور انقلابی اس کو اپنی اخلاقی فتح قراد دے رہے ہیں۔ انقلاب کے خواہاں پاکستانیوں کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے اس لیے ان کو مستعفی ہوکر گھر واپس جانا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ملک میں دمادم مست قلندر ہوگا۔ اب یہ دم مست قلندر کیا ہوتا ہے سیانے کہتے ہیں کہ رات گئے شاہراہِ دستور پر موسیقی کی دھن پر دم مست قلندر ہی ہوتا ہے خیر لیکن اس سے انقلاب تو آنے رہا۔

دوسری طرف ایک طبقہ حکومت کو سپورٹ کر رہا ہے ان کے مطابق جمہوریت کا تسلسل ملک میں بر قرار رہنا چاہیے اس لیے 2018سے پہلے انتخابات کا خواب نہ ہی دیکھا جائے۔ مسلم لیگ کے حامیوں کے مطابق حکومت نے مظاہرین کو بہت حد تک فری ہینڈ دے رکھا ہے اس لیے اس آزادی کا ناجائز فائدہ نا اٹھایا جائے۔ وزیر اعظم بھی یہ خود کہہ چکے ہیں کہ ٹانگیں نہ کھینچی جائیں اور ہمیں کام کرنے دینا چاہئے۔ جی میاں صاحب اگر آپ چار حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ سنجیدگی سے لے لیتے اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلتے تو آج یہ حالات ہی نہیں ہوتے۔

خیرآج کل خوب انقلاب کے حامیوں اور حکومت کے حامیوں میں گرما گرم بحث جاری ہے۔گھر ہو سوشل میڈیا، دفاتر ہو یا تفریح گاہیں، یہ دنوں ہر دم بس ایک دوسرے سے لڑنے کو تیار اور اکثر اوقات اس طرح کی سیاسی بحث کا اختتام دوستی کے اختتام کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ اس ساری صورتحال پر پاکستانی غیرجانبدارسنجیدہ طبقہ بہت سے فکرات کا شکار ہے کیونکہ اگر عوامی سطح پر ہم برداشت اور تحمل سے ایک دوسرے کا مؤقف سننے سے گریزاں ہیں تو ہمارے لیڈران سے پھر ہم آپس میں تحمل مزاجی یا مذاکرات کی امید کیوں رکھتے ہیں۔ اس طبقے کے مطابق اب اس تمام سیاسی بحران کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ملک میں انتشار کی کیفیت پھیل گی اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔اب لیڈران کو اپنی اپنی انا اور ذاتی عناد کو ایک طرف رکھتے ہوئے ملکی مفاد میں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ان دھرنوں کو ختم کیا جائے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر درج کی جائے۔ اپوزیشن اور حکومت با مقصد مذاکرات کرے اور الیکشن کمیشن میں اصلاحات کے لیے ممبران اسمبلی سفارشات مرتب کریں۔

کب آئے گا، انقلاب اور کب ملے گی، آزادی اس کا انتظار تو سب کو ہے لیکن یہ انقلابی مون سون بادلوں سے تو برسنے سے رہا، اس کے لیے ہم سب کو محنت کرنی ہو گی لیکن قوانین اور جمہوریت کے دائرہ کار میں رہ کر۔اس وقت مہنگائی، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی عوام کا بڑا مسئلہ ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے 9لاکھ حکومت اور عوام کی توجہ کے زیادہ مستحق ہیں۔ اس لیے اب سب مل کر سوچنا ہوگا کہ سب کے اپنے اپنے تجزیے تبصرے مفادات زیادہ اہم ہیں یا پاکستان۔ لیڈران کی انا 9لاکھ آئی ڈی پیز سے بڑھ کر تو نہیں اس لیے سیاسی اختلافات کو ختم کرکے فوری طور پر تکلیف میں مبتلا ہم وطنوں کے درد کا مداوا ضروری ہے۔ دنیا ہماری سیاسی ناپختگی کا مذاق اڑا رہی ہے اس لیے ہمیں سیاسی مسائل کو حل کرکے فوری طور پر بین الاقوامی حالات کے مطابق اپنی سفارتی تعلقات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔نہ ہمیں نیا پاکستان چاہیے نہ ہی روشن پاکستان ہمیں صرف قائد اعظم کا پاکستان چاہیے جس میں اسلامی فلاحی جمہوری ریاست کا تصور موجود ہے۔ بہت ہوا بس اب اس انقلابی بخار کو اتار پھینکنا ہوگا اس میں ہی پاکستان کی بقا ہے۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias

javeria.siddique@janggroup.com.pk   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10110#sthash.j9m4eDGf.dpuf

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s