Posted in Uncategorized

انقلاب کا جھانسہ اورسادہ لوح عوام

.جویریہ صدیق…….
پاکستان میں اکثر عوام نوسربازوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔گلی گلی پھرنے والے یہ دھوکہ باز عوام کو یہ جھانسا دیتے ہیں کہ وہ ان کہ روپے اور زیورات ڈبل کردیں گے تاہم عوام کی آنکھوں میں دھول جھول کر یہ سارا کچھ باندھ کر غائب ہوجاتے ہیں۔اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ شعبدہ باز گلی محلوں میں جعلی پیروں کا روپ دھار کرکے آتے ہیں اور عوام کے سامنے قسمت کو بدل دینے کا دعویٰ کردیتے ہیں۔عوام ٹھہرے سادہ لوح اپنی تمام خواہشات کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنی تمام جمع پونجی ان ڈھونگیوں پرلٹا دیتے ہیں۔جب تک عوام ہوش میں آتے ہیں تو شعبدہ باز کسی دور درازعلاقے میں نکل جا چکا ہوتا ہے اور عوام کے پاس ہاتھ ملنے کے علاوہ کچھ نہیں رہ جاتا۔پاکستانی عوام کی اکثریت معصوم اور غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزر رہی ہے، اسی لیے کوئی بھی ان کے حالات کی تبدیلی کا نعرہ لگاتا ہے تو فوراً اس سے متاثر ہوجاتے ہیں بنا سوچے سمجھے کہ اس تقلید کا انجام کیا ہوگا۔

ماضی قریب سے کچھ سیاسی شخصیات بھی عوام کو تبدیلی اور انقلاب کے سحر میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ تیرہ اگست سے شروع ہونے والے اس سلسلے نے ملک کو بحران کو کیفیت میں مبتلا کیا رکھا۔ملک میں بے چینی اورغیر یقینی صورتحال نے اقتصادی شعبہ کو بری طرح متاثر کیا۔شاہراہیں بند ہوئیں ملک کا دارلحکومت اور ریاستی ادارے ان انقلابیوں کے یرغمال ہوگئے۔کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔لیکن آزادی اور انقلابی لیڈران کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ انقلاب میں ایسی چھوٹی موٹی قربانیاں تو دی ہی جاتی ہیں۔

سب پہلے انقلاب کا نعرہ بلند ہوا جب ایک دم سے دو ہزار تیرہ میں کینیڈا سے علامہ طاہر القادری جلوہ گر ہوئے ۔علامہ صاحب نے دو ہزار پانچ میں پاکستان چھوڑ کر کینیڈا کی شہریت اختیار کرلی لیکن پھر بھی انقلاب پاکستان میں لانے کے خواہاں۔یک دم کینیڈا سے درآمد شدہ قادری صاحب منہاج القران کے کارکنان کے ساتھ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے کربیٹھ گئے۔اب یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کب ان کے کارکنان عوامی تحریک کے ساتھ ہوتے ہیں اور کب منہاج القران کے ساتھ لیکن دونوں ہی کے سربراہ علامہ طاہر القادری ہیں۔سخت سردی میں سیکڑوں کارکنان علامہ صاحب کے ساتھ بیٹھے رہے، ہاں یہ اور بات ہے علامہ صاحب اپنے بلٹ پروف کنٹینر میں تھے جس میں ہیٹر ،بجلی،ٹی وی ،انٹرنیٹ کی تمام سہولیات موجود تھیں۔ ان کے کارکنان جنوری کے موسم میں بارش میں بیٹھے رہے اور یہ اپنے آرام دہ کنٹینر سے بیٹھ کر حکومت، پارلیمنٹ ،سیاستدانوں پر الزام تراشیاں کرتے رہے، پھر اس ہی پارلیمان اور حکومت سے مذاکرات کرکے مبارک ہو مبارک ہو کا نعرہ لگا کر اپنا سامان باندھ کر کینیڈا سدھار گئے۔اب سوچنے کی بعد یہ ہے کہ جس انقلاب کی بات انہوں نے کی تھی وہ تو نا آیا اور نا ہی اس کے ثمرات عوام تک پہنچے۔ تو یہ سب کیا ڈرامہ تھا ،سادہ عوام کی سوچ سے باہر ہے۔ایسے انقلاب سے فائدہ صرف وہ ہی اٹھاتے ہیں جو سب سے اوپر ہوتے ہیں۔اپنا حصہ لیا اور اس کے بعد تو کون میں خواہ مخواہ۔

پھر دوبارہ پاکستان کی یاد دو ہزار چودہ میں آئی ۔پاکستان کو تو انقلاب کی اشد ضرورت ہے کہ اس طرح ہی گرجتے برستے قادری صاحب میڈیا کی فل کوریج کے ساتھ لاہور اترے تو جہاز سے نکلنے سے انکار کردیا۔غیرملکی ایئرلائن کا طیارہ گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا کہ جب تک کور کمانڈر صاحب ان کو لینے نہیں آئیں گے وہ طیارے سے باہر نہیں نکلیں گے۔وہ تو بھلا ہو غیر ملکی ایئر لائن کے پائلٹ کا جس نے جہاز کا اے سی بند کردیا تو قادری صاحب گرمی برداشت نہیں کرسکے اور گورنر سرور کے ساتھ آخرکار گھر کی طرف روانہ ہوئے۔

لاہور میں خوب گرما گرم تقاریر کا آغاز کیا حکومت کا تختہ الٹانے کی دھمکیاں دی اور غریب عوام کو انقلاب کے سنہرے خواب دکھائے جس میں ہر غریب کے پاس اپنا گھر ہوگا،انصاف کا بول بالا ہوگا،تعلیم ہر بچے کا حق ہوگا کوئی انسان فاقوں کے باعث خود کشی نہیں کرے گا ،خواتین کے لیے یہ معاشرہ مثالی ہوگا ،وغیرہ وغیرہ۔عوام دو ہزار تیرہ کےبعد ایک بار بھر ان کے دکھائے ہوئے انقلاب کے خواب دیکھنے لگے۔ قادری صاحب کی حفاظت کے پیش نظر ان کے مرید ین ان کے گھر کے باہر پہرہ دینے لگے اور گھر سے متصل پارک میں رہائش اختیار کر لی۔سترہ جون کو علامہ طاہر القادری کے کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں چودہ افراد جاں بحق ہوئے جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں ۔شازیہ اور تنزیلہ جس میں تنزیلہ حاملہ تھی۔خیر کارکنان تو ہوتے ہی قربانی کہ لیے ہیں ان کی پرواہ کہاں کسی کو یہاں۔اپنے قائد طاہر القادری کے انقلاب کے خواب کوپورا کرنے کے لیے چودہ افراد نے اپنی جانیں قربان کردی۔

قادری صاحب کے انقلاب کو لاشیں مل گئیں۔مرنے والے کسی کے پیارے تھے جیتے جاگتے انسان تھے لیکن کسی کو لواحقین کا خیال نا آیا۔لیکن ان چودہ لاشوں پر خوب سیاست ہوئی قادری صاحب نے انتقام لینے کی ٹھانی،خون کا بدلہ خون کا نعرہ لگایا اور اپنے مریدوں، کارکنان کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کیا۔چودہ اگست سے بائیس اکتوبر تک اسلام آباد میں قادری صاحب کا قیام رہا۔اس دوران اسلام آباد مفلوج رہا ،کاروباری تعلیمی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہوئیں۔شہر میں پہلے آبپارہ پھر ڈی چوک پھر شاہراہ دستور اور پارلیمنٹ کا احاطہ ان کے قبضے میں رہا۔انقلاب کے خواہش مند سڑکوں پر ہی دن رات بسر کرنے لگے، کھانا پینا ،نہانا یہاں تک کہ ایک بچی کی پیدائش بھی شاہراہ دستور پر ہوئی،جس کو قادری صاحب نے انقلابی کا نام دیا۔

قادری صاحب کے ایما پر کارکنان نے وزیر اعظم ہائوس پر حملہ کیا پارلیمنٹ ہائوس کا گیٹ توڑ دیا۔پھر انقلابیوں نے اپنی خیمہ بستی پارلیمنٹ ہائوس کے احاطے میں منتقل کرلی۔قادری صاحب اپنے ان تمام غیر جمہوری اقدامات کو انقلاب گردانتے رہے۔قادری صاحب کے ایما پر کارکنان نے سرکاری ٹی وی پر قبضہ کرلیا،بعد میں یہ بات اور ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری دونوں ہی مکر گئے کہ حملہ آور ہمارے کارکن تھے۔چودہ اگست سے بائیس اکتوبر تک ہر دن اعلان ہوتے رہے آج انقلاب متوقع ہے ،نہیں کل پرسوں ،اگلے ہفتے چھوٹی عید پر بڑی عید اور اب اگلے سال کی عید کا کہا جارہا ہے۔انقلاب نے نہیں آنا تھا نہیں آیا۔

انقلاب آیا تو نہیں لیکن عوامی تحریک کا انقلاب آخرکار اسلام آباد سےرخصت ہوگیا ہے ، قادری صاحب اسلام آباد سےروانہ ہوئے، کارکنان کو بھی اجازت دی کہ اپنے گھر لوٹ جائیں۔کارکنان زار و قطار روتے ہوئے شاہراہ دستور سے رخصت ہوئے کیونکہ جو انقلاب کا خوب وہ آنکھوں میں سجائے آئے تھے وہ شرمندہ تعبیر نا ہوسکا۔ دھرنا ختم کرنے کے بعد قادری صاحب نےایک دو جلسے کیے دھواں دھار تقاریر کی کہ اب انقلاب پورے ملک میں پھیلا رہے ہیں۔ آخر کاراٹھائیس اکتوبر کو امریکہ کے لیے روانہ ہوگئے۔جانے سے پہلے کہہ کر گئے ہیں کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی نا ہی پیسے لیے ہیں اور پھر واپس آکر انقلاب لائوں گا۔مذاق اچھا ہے ویسے قوم کے ساتھ، غریب لوگوں کو انقلاب کا جھانسا دینا ،سبز باغ دکھانا، اس کے بعد اپنا فائدہ دیکھتے ہوئے ملک سے چلے جانا۔ایسے انقلاب کبھی نہیں آتے، انقلاب صرف غریب ہی غریبوں کے لیے لاتے ہیں کوئی امرا ء میں سے یا غیر ملکی شہریت اختیار کرنے والے کبھی انقلاب نہیں لاسکتے۔

قصور صرف انقلاب کا جھوٹا نعرہ لگانے والوں کا نہیں ہے، قصور ان کا بھی ہے جو آنکھوں پر پٹی باندھ کر انقلاب کا نعرہ لگانے والوں کی پیروی کرنا شروع کردیتے ہیں۔دھرنے میں70 روز بیٹھے رہے بہت سے غریب عوام نے اپنے گھر چھوڑے نوکریوں سے استعفے دئیے ان کے بچوں کے نام اسکول سے کٹ گئے، آج ان کے دل پر کیا بیت رہی ہوگی کہ انقلابی قائد تو دنیا کی مہنگی ترین ایئر لائن میں بیٹھ کر امریکا روانہ ہوگئے،شازیہ اور تنزیلہ کے گھر والوں پر کیا بیتی ہوگی جنہوں نے اپنے انقلابی قائد کے لیے جان دی تھی ۔قادری صاحب جانے سے پہلے یہ بات کہہ کر گئے ہیں کہ دوبارہ واپس آئوں گا اور اگلی منزل صرف انقلاب ہے۔ میرا قادری صاحب سے یہ سوال ہے اور کتنے سال اور کتنے غیر ملکی دوروں کے بعد انقلاب متوقع ہے ؟ اور عوام سےصرف سے یہ سوال ہے آپ سب کتنی بار نقلی انقلاب کے جھانسے میں آئیں گے ؟ –

See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10326#sthash.nNDKOmlo.dpuf

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s