Posted in Uncategorized

حفاظتی ٹیکوں کا عالمی ہفتہ

April 30, 2014   …جویریہ صدیق…
24تا 30اپریل حفاظتی ٹیکوں کے عالمی ہفتے کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس ہفتے کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں حفاظتی ٹیکہ جات کی افادیت کو اجاگر کرنا ہے۔ نو مولود بچوں میں قوت معدافت بہت کم ہوتی ہے اس لیے وہ جلد بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔پولیو،خناق، تشنج، پیپاٹایٹس، ٹی بی، کالی کھانسی، خسرہ، نمونیا اور گردن توڑ بخار سے پاکستان میں ہر سال سات لاکھ سے زائد بچے اپنی جان سے چلے جاتے ہیں۔ ان اموات کی بڑی وجہ پاکستان میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے نا لگوانا ہے۔حفاظتی ٹیکے صرف چھ بار لگوانے پڑتے ہیں جن سے بچوں کو نو مہلک بیماریوں سے بچایا جاسکتا ہے۔

بچے کو پیدائش پر دو ویکسین دی جاتی ہیں جن میں پولیو ویکسن اور بی سی جی ویکسین شامل ہے۔پولیو ویکسین بچے کو پولیو سے بچاتی ہے پولیو زیادہ تر تین سال سے کم عمر بچوں کو ہوتا ہے اس بیماری میں بچوں کے جسم کا ایک حصہ مفلوج ہو جاتاہے لیکن اگر بچے کو ویکسین دے دی جائے تو وہ اس بیماری سے محفوظ رہتاہے۔بی سی جی کا انجکشن بچے کو ٹی بی سے لڑنے کی قوت مدافعت دیتا ہے۔اگر بچہ اس بیماری میں مبتلاہو جائے تو اس کا وزن نہیں بڑھتا اور وہ مسلسل بخار اور کھانسی کا شکار ہوجاتا ہے۔

بچے کو پیدائش کے چھ ہفتے بعد ایک بار پھر پولیو سے بچاوٴ کے قطرے دیے جاتے ہیں کیونکہ یہ بیماری ہوا،پانی اور خوراک سے انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے۔ پولیو ویکسین کے علاوہ بچوں کو چھٹے ہفتے میں پینٹا ویلنٹ ون ڈی پی ٹی،ایچ بی،ایچ آئی بی انجکشن دیے جاتے ہیں۔ یہ ٹیکہ جات کا کورس نومولود کو خناق، تشنج، کالی کھانسی، گردن توڑ بخار اور ہیپاٹایٹس بی سے محفوظ رکھتا ہے۔ خناق ایک ایسی بیماری ہے جس میں گلے میں شدید دکھن ہوتی ہے اورگلے کے غدود کا اردگرد کا حصہ بھی سوج جاتا ہے اس کے باعث بچہ بخار اور اعصابی کمزوری کا شکار ہوجاتاہے۔ کالی کھانسی میں بھی مبتلا ہونے کی بڑی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کا کورس نہ کروایا جائے۔ اس بیماری میں سانس کی نالی میں خراش اور سوجن پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بچے شدید کھانسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ گردن توڑ بخار بھی وبائی بیماری ہے۔ اس بیماری میں مرض سانس اور کھانسی سے دوسروں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس بیماری میں بخار جوڑوں کا درد، کھانسی، نمونیا کے باعث نو مولود بچوں کی جان جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے تاہم پینٹا ویلنٹ ون سے اس پر بہت حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

بچوں کو پیدائش کے دس ہفتے بعد ایک با ر پھر پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلائے جاتے ہیں اور پینٹا ویلنٹ ٹو ڈی پی ٹی، ایچ بی، ایچ آیی بی ٹیکہ جات بھی لگتے ہیں۔ یہ ٹیکے بچے کو خناق، تشنج، کالی کھانسی، گردن توڑ بخار اور ہیپاٹائٹس بی سے مقابلہ کرنے کے لیے قوت مدافعت فراہم کرتے ہیں۔ تشنج کسی بھی زخم کے ذریعے جسم میں انفیکشن کی صورت میں پھیل سکتا ہے۔اس میں جسم کے پٹھوں میں شدید کھنچاوٴ پیدا ہو جاتا ہے اور موت واقع ہو سکتی ہے لیکن پینٹا ویلنٹ بچوں کو اس معتدی مرض سے بچاتی ہے۔ یہ ٹیکہ جات بچوں کو ہیپاٹائٹس بی سے بھی بچاتے ہیں، یہ بیماری بھی متعدی ہے اس بیماری میں بخار، قے اور جوڑوں میں درد عام ہے۔

پیدائش کے چودہ ہفتے کے بعد ایک بار پھر بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے اور اور پینٹا ویلنٹ تھری ڈی پی ٹی، ایچ بی، ایچ آئی بی کی ڈوز دی جاتی ہے۔ بچے کو نو ماہ کی عمر میں خسرہ سے بچاوٴ کے لیے ٹیکہ لگایا جاتا ہے اور دوسرا ٹیکہ ڈیرھ سال کی عمر کے بعد۔ خسرہ میں بچے زکام کھانسی کے ساتھ ساتھ سرخ رنگ کے دانوں کا شکار ہو جاتے ہیں اگر اس کا مکمل علاج نہ کیا جائے تو یہ موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے بچوں میں مزید قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے اور بتائے گئے ٹیکے اور ویکسین بچوں کو لگوانا بہت ضروری ہے۔ وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروس سائرہ افضل تارڑ کے مطابق پاکستان میں بھی اس ہفتے کو منانے کا مقصد عوام میں حفاظتی ٹیکہ جات کے حوالے سے شعور کو اجاگر کرنا ہے ان کے مطابق والدین کو اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس ضرور مکمل کروانا چاہیے تاکہ ان کے بچے ایک صحت مند اور لمبی زندگی گزار سکیں۔ وزیر مملکت کے مطابق تمام اسپتالوں میں یہ حفاظتی ٹیکے مفت لگائے جاتے ہیں۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر سال پیدائش کے ایک ماہ کے اندر 30لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس ملک میں ماں باپ کو ادراک کرنا ہوگا کہ اگر انہیں بچوں کی زندگی عزیز ہے تو قدامت پسندی کو خود سے علیحدہ کرکے بچوں کو پولیو ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کا کورس ضرور کروائیں۔

اگر والدین ایسا نہیں کریں گے تو ان کے بچے موت کے منہ میں جاسکتے ہیں یا پھر ساری زندگی کے لیے معذوری کا شکار ہوسکتے ہیں لیکن مکمل علاج، حفظانِ صحت کے اصول اور حفاظتی ٹیکہ جات کے ذریعے سے قوم کے مستقبل کو مفلوج ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

Javeria Siddique is a Journalist and Award winning photographer.

Contact athttps://twitter.com/javerias  

– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9777#sthash.7RFlcozH.dpuf

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s