Posted in Uncategorized

صحافیوں کے لیے انصاف نہیں: جویریہ صدیق کا بلاگ

صحافیوں کے لیے انصاف نہیں: جویریہ صدیق کا بلاگ

May 03, 2012

ہمارے معاشرہ میں جہاں کم سنی میں تو بچوں کو سچ بولنے کی تلقین کی جاتی ہے اور بچپن سے لڑکپن تک وہ یہ ہی سبق دہراتے رہتے ہئں لیکن اس کے برعکس عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی انہیں سچ کے ساتھ جھوٹ کی امیزش کے لئے مجبور کیا جا تا ہے اور جوبھی اس بات سے انکارکرتاہے تو معاشرہ اسکا سر قلم کر دیتا ہے۔ اس ہی اصول کے تحت جب بھی کوئی صحافی ایک حد سے زیادہ سچ لکھتا ہے یا جھوٹ چھاپنے سے انکار کردیتا ہے تو یہ معاشرہ اس کو خود خبر بنا دیتا ہے ۔

سلیم شہزاد اسلام اباد کا صحافی جس کے شب و روز صرف خبر کے ساتھ وابستہ تھے اور خود اس روز خبروں کا حصہ بھی بن گئے جس روز ان کی لاش منڈی بہاوالدین کے پاس نہر سے ملی اور
قصور فقط سچ بولنا تھا

قصہ چاہے کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی ولی خان بابر کا ہو تو بھی قاتلوں نے دستانے پہنے ہوئے تھے جو اب تک قاتلوں کا سراغ نہیں ملا اور ولی خان بابر کے نا معلوم قاتلوں کی تلا ش اج بھی صرف دفتری کاغذوں کی حد تک جاری ہیں ۔ولی خان بابر کے بہنیں اور بھائی جو اس کے سہرے کے پھول سجانے کا خواب دیکھ رہئے تھے اج پھول صرف اس کی قبر پر ڈالتے ہیں۔

یا مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے مکرم خان ہوں جن کو فرائض کی ادائیگی کے دوران موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور ان کے قتل کی وجہ صرف سچائی کا علم تھا اور کچھ نہیں

عارف خان ہو یا مصری خان ، موسی خیل ہوں یا چشتی مجاہد، ہدایت اللہ خان ہوں یا عامر نواب ، راجہ اسد حمید ، فضل وہاب ہوں یا صلاح الدین، غلام رسول ہوں یا عبد الرزاق ،محمد ابراہیم ، ساجد تنولی ہوں یا شاہد سومرو یا لالہ حمید بلوچ ہوں یہ تمام صحافی صرف سچ کی راہ کے شہید ہیں۔

ذمہ دار چاہے ریاست ہو یا اس کے ستون ، دہشت گرد ہوں یا ملکی حالات لیکن اس تمام صورتحا ل نے پاکستان کو صحافیون کے لئے خطرناک ملک بنا دیا ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا میں صحافیوں کیلیے خطرناک ممالک میں سرفہرست دس ممالک میں شمار ہونے لگا ہے جہاں حیات اللہ سے لیکر شہزاد سلیم جیسے کئي صحافی مارے گۓ ہوں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومتِ پاکستان سے کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے مسلمہ بین الاقوامی معیار کے مطابق صحافیوں کی ہلاکتوں اور اغواء کے واقعات کی مکمل اور جامع تحقیقات کرائے اور ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔

تاہم اب تک نا ہی کسی صحافی کے قتل کی تحقیقات مکمل ہوئی ہے نا ہی کسی مجرم کو سزا سنائی گئی ہے اور خبریں دیتے دیتے خود خبر بن جانے والے صحافیوں کے حوالے سے اج تک یہ خبر نہیں ائی کہ کہ مقتول صحافیوں کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا مل گئی ہے تاہم اب بھی ورثا اور صحافی برادری انصاف کے لئے منتظر ہے

انصاف

ان قلم کاروں کے لئے

مانگنا

وارثوں پے واجب تھا

منصفوں پے واجب تھا

انصاف کی تکمیل تک

منصفوں کی نگرانی

قدسیوں پے واجب تھی

وقت کی عدالت میں

خلق خدا ہم سے کہتی ہے،

سارا ماجرا لکھیں

کس نے کس طرح انصاف پایا،

اپنامدعا لکھیں

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s