Posted in Uncategorized

مسائل کا شکار پاکستانی خواتین

February 04, 2014   …جویریہ صدیق…
پاکستان میں خواتین بہت سے مسائل کا شکار ہیں جن میں کم عمری کی شادی،صنفی امتیاز،غذائی قلت،تیزاب گردی،طبی سہولیات کا فقدان،دوران زچگی اموات، گھریلو تشدد،غیرت کے نام پر قتل،ریپ، ملازمت کے کم مواقع اور تنگ نظری شامل ہیں۔ زیادہ تر افراد بیٹی کی پیدایش پر تاسف کا اظہار کرتے ہیں۔بیٹے کی غذائی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے وہاں بیٹیوں کو مناسب خوراک بھی مل نہیں پاتی ، اس ہی وجہ سے یہ بچیاں جب شادی کے بعد امید سے ہوتی ہیں تو دوران حمل طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہوجا تی اور سسرال والوں کا غیر مناسب رویہ،حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نا کرنا،غربت، غیر تربیت یافتہ دایاں، طبی سہولیات کا فقدان بھی ان کی جان کو لاتعداد خطرے لاحق کردیتا ہے۔
پاکستان میں دوران زچگی خواتین کی اموات کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہوگی ہے ہر سال 25 سے 30ہزار خواتین زچگی میں لقمہ اجل بن جاتی ہیں۔ خوراک کی کمی اور مردوں کی لاپروایی سے ماں اور بچے کی زندگی کو بہت سے خطرات لاحق ہوجاتے ہیں اور ماوں کے ساتھ ساتھ روزانہ11 سوسے زائد بچے بھی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ سال 2013 میں56 خواتین کو صرف بیٹی پیدا کرنے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
پاکستان میں جو خواتین پڑھنے لکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں لیکن جب وہ ملازمت کے حصول کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہیں تو سواے تعلیم اور صحت کے شعبے کہ ان سے باقی شعبوں میں ملازمت اور تنخواوں میں اضافے پر امتیاز برتا جاتا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق پاکستان، چاڈ، یمن اور چلی صنفی امتیاز کے حوالے سے بدترین ملکوں میں شامل ہیں۔خواتین کو ملازمت کے حصول سے لیے کر ملازمت کرنے تک مختلف النوع مشکلات اوراذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،جس کا اظہار گھورنے، پریشان کرنے ،تعاقب کرنے غیر شائستہ اشارے ، مذاق اور جنسی حملے کی صورت میں ظاہر ہو تا ہے اس سے خواتین ذہنی امراض میں مبتلا ہو جاتی ہیں اور اپنا اعتماد کھو بیٹھتی ہیں۔
پاکستان کے دیہی علاقوں میں قرآن سے شادی،ونی اورکاروکاری جیسی رسوم کی وجہ سے بھی استحصال کا شکار ہیں اور ان خواتین کی زندگی کی ڈور صرف جرگے اور پنچایت کے ہاتھ میں ہے۔صرف2013 میں 840 خواتین غیریت کے نام پر قتل کردی گئیں۔
2013 میں344 گینگ ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔تیزاب گردی میں دو ہزار تیرہ سے اب تک نوے لڑکیوں کے چہرے تیزاب سے جھلسا دیے گئے اور کسی کے مجرم کو اب تک سزا نہیں ہوئی ہے۔
گھریلو تشدد بھی ایک ایسا دیمک ہے جو عورتوں کو کھا رہا ہے اور گھریلو تشدد کے بیشتر واقعات تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے جو پچھلے سال رپورٹ ہویے ان کی تعداد پانچ ہزار کے قریب تھی۔تشدد کے وقعات میں پچھلے سال سے اب تک بہتر خواتین کو زندہ جلا کر مار دیا گیا۔
سیاست اور قانون سازی کی بات ہو تو وفاقی کابینہ یا صوبایی خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے خواتین کو نا ہی دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں جنرل نشستوں پر خاطر خواہ کامیابی ہویہی اور نا ہی مخصوص نشستوں پر میرٹ کا خیال رکھا گیا۔ ریاست کے چار اہم ستونوں کے اعلیٰ عہدوں پر کوئی بھی خاتون فائز نہیں۔
اگرچہ خواتین معاشرے کی معاشی ترقی کے لیے حیات افزا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اس کردار کو شاذونادر ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔ پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر کی طرف سے عورت کو گھریلو ذمہ داریوں کی ادائیگی میں خصوصی سہولیات فراہم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھا ئے گئے ہیں جبکہ کہ ایک بڑی اکثریت بحیثیت عورت اپنے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ کیے ہوئے ہیں۔
خواتین کے ساتھ پاکستان میں جاری ناروا سلوک کو دیکھتے ہوئے ان کے حق میں مخلتف اقدامات کی فوری ضرورت ہے، جن میں خواتین دوست قانوں سازی کی جائے،انہیں ملازمتوں میں مردوں کے برابر مواقع ملنے چاہئیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ان کی تقرریاں کی جائیں۔ خواتین پر تشدد کرنے والے افراد کو قرار واقعی سزا دینی چاہئے اور سب سے بڑھ کر معاشرے میں والدین کو اولاد کی تربیت کرتے وقت خواتین کا احترام کرنا ضرور سکھایا جائے۔
Javeria Siddique is a Journalist and Award winning photographer. Contact at https://twitter.com/javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9547#sthash.QbkTgCyL.dpuf

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s