Posted in Uncategorized

پاکستان اور پولیو

January 15, 2014   …جویریہ صدیق

…پولیو ایک ایسا نا قابل علاج مرض ہے جو عمر بھر کی معذوری دے جاتا ہے۔ نائیجیریا، پاکستان اورافغانستان کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک میں اس کا خاتمہ ہوچکا ہے۔2011ء میں دنیا میں پولیو کے سب سے زیادہ 198کیسز پاکستان میں پائے گئے تھے جبکہ 2012ء میں پاکستان بھر میں پولیو کے 56 کیسز سامنے آئے اور 2013ء میں 58کیسز سامنے آئے جبکہ آج کی تاریخ تک مزید 6کیسز سامنے آچکے ہیں۔یوں 2014ء میں پولیو کیسزز کی تعداد 91ہوچکی ہے۔

پاکستان میں دوبارہ اس مرض کی پھیلنے کی وجہ غربت اور افلاس ہے۔ عوام الناس صاف پانی، نکاسی آب، خالص غذا اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

اس مرض کے پھیلنے کی دوسری بڑی وجہ معاشرتی رویہ اور قدامات پسندی بھی ہے۔ پاکستان کہ بہت سے حلقے انسداد پولیو ویکسین کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اپنے بچوں کو پولیو سے حفاظت کے قطرے پلانے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2012ء میں 60ہزار بچوں کے والدین نے اپنے بچوں کو قطرے پلوانے سے انکار کر دیا اور 2013میں 2لاکھ سے زائد بچے ویکسین سے محروم رہ گئے۔

شدت پسندی کی وجہ سے بھی پاکستان میں اس موذی مرض نے اپنا سر دوبارہ سے اٹھا یا ہے۔ بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے والی ٹیم پر پہلا حملہ 17جولائی 2012ء کو کراچی کے نواحی علاقے سہراب گوٹھ کے قریب ہوا جب قطرے پلانے کی مہم کے دوران پر فائرنگ سے عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ایک غیر ملکی ڈاکٹر زخمی ہوئے۔

اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ 21جولائی کو کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں ہی رونما ہوا جس میں بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے پر مامور عالمی ادارہ صحت کے ایک اہلکار اسحاق نور کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح اکتوبر میں صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کر کے انسداد پولیو ٹیم کے ایک رکن کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ان حملوں سے انسداد پولیو کی مہم براہ راست متاثر ہوئی کیونکہ ہر حملے کے بعد مقامی سطح پر یہ مہم معطل کی گئی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سال جون میں شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے ڈرون حملے جاری رہنے تک پولیو کے خلاف مہم پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد حکومت نے شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور باڑہ میں بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے کی مہم ملتوی کردی تھی لیکن اس مہم کو سب سے زیادہ اور بڑاجھٹکا اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں آپریشن کے بعد سامنے آنے والے حقائق کے نتیجے میں پہنچا جب یہ پتا چلا کہ اس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی بھی شامل ہوئے تھے۔ مبصرین کے مطابق اس کے بعد سے پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے دیکھنے میں آرہے ہیں۔

اس کے بعد پانچ خواتین رضاکاروں کو 9دسمبر کو کراچی اور پشاور میں نشانہ بنایا گیا اور یوں انسداد پولیو کی ویکسین لے کر جانے والی رضا کار فرزانہ، مدیحہ، فہمیدہ، نسیم اور کینز زندہ اپنے گھروں کو نہ لوٹ سکیں۔

بات ہو اگر 2013ء کی تو 18کے قریب ہیلتھ ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکار انسداد پولیو مہم کے دوران اپنی جان سے گئے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں انسدادِ پولیو کے سلسلے میں مذہبی علماء کانفرنس نے ایک مذمتی قراراد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے اہلکاروں کا جاسوسی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جانا غلط ہے۔ علما کانفرنس نے عالمی ادارہٴ صحت اور یونیسف سے کہا ہے کہ وہ اقوام عالم تک پیغام پہنچائیں کہ کوئی بھی ملک صحت ِ عامہ کی کارروائی کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہ کرے۔علما نے مزید کہا کہ صحت کے اہلکاروں پر حملے اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں جن کی انتہائی شدت سے مذمت ہونی چاہیے۔

حکومت پاکستان پولیو سے نمٹنے کے لیے ہنگامی طور پر اقدامات کررہی ہے لیکن قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن، عسکریت پسندوں اور ملک کے دوسرے حصوں میں انتہا پسندوں کی وجہ سے اہداف مکمل نہیں کر پارہی اور بچوں کی بڑی تعداد انسداد پولیو کے قطروں سے محروم ہیں۔ ماہرین صحت اور سماجیات کے مطابق حکومت علما،میڈیا اور عوام الناس کو ساتھ ملا کر اس مہم کا دوبارہ موٴثر طریقے سے آغاز کرے اور اس تاثر کو زائل کیا جائے کہ پولیو ویکسین مسلم آبادی کو کم کرنے کے لیے ایک مغربی سازش ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ انسداد پولیو ٹیمز کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کرنا بے حد ضروری ہیں۔ بڑے اور چھوٹے اسپتالوں میں انسداد پولیو ویکسین کی فراہمی اور ہوائی اڈوں پر بیرون ملک جانے والے بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے کے فوری انتظامات سے اس مرض کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔
Javeria Siddique is a Journalist and Award winning photographer.

Contact at https://twitter.com/javerias

See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9490#sthash.NuF3nHD5.dpuf

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s