Posted in Pakistan

کم عمری میں شادی کا رواج کیوں؟

January 29, 2014  

…جویریا صدیق…
یوں تو پاکستان میں بچے بہت سی مشکلات کا شکار ہیں لیکن ان میں سے ایک مسئلہ اب تک میڈیا عوام کی نظر سے بہت حد تک پوشیدہ ہے وہ ہے کم عمری میں شادیاں۔پاکستان میں سترہ فیصد بچیاں اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے ہی رشتہ ازداوج میں منسلک کردی جاتی ہیں۔
ایک ننھی کلی کھیل کود اور پڑھنے کی عمر میں ایک ایسے گھر میں بھیج دی جاتی ہے جس میں اسے اپنے شوہر اس کے اہل خانہ خیال رکھنا پڑتا ہے اور پورے گھر کے کام کی ذمہ داری بھی اٹھانا پڑتی ہے۔اس سب صورتحال میں کم عمر بچی جس کرب سے گزرتی ہوگی یہ کرب نا قابل بیان ہے بات صرف گھریلو ذمہ داریوں پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ کم عمری میں ماں بننے سے مزید پیچدگیوں کا شکار ہوجاتی ہیں۔
کم عمری کی شادیوں کی بڑی وجہ فرسودہ رسومات ہیں جن میں ونی، سوارہ، وٹا سٹہ شامل ہے ۔بہت سی بچیوں کی شادیاں خون بہا، قصاص یا صلح کے بدلے میں کردی جاتی ہیں اور دوسرے گھر جاکر یہ بچیاں ساری زندگی اذیتِ اٹھاتی ہیں۔کچھ غریب ماں باپ اپنی کم سن بیٹیاں غربت کے باعث بوڑھے آدمیوں کو بیاہ دیتے ہیں اس کے عوض انہیں رقم ملتی ہے یعنی ایک طرح سے وہ اپنی بیٹیاں بیچ دیتے ہیں ان بچیوں کے ساتھ غلاموں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔
بات کی جائے ان بچیوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کی تو بہت سی بچیاں کم عمری کے باعث بیماریوں کا شکار ہوجاتی ہیں اور لاتعداد بچیاں دوران حمل اور زچگی اپنی زندگی ہار جاتی ہیں،کچھ زچگی کا مرحلہ پار کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں لیکن ان کے بچے وزن میں کم اور معتدد بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔کم سن ماں کبھی بھی صحت مند بچے کو جنم نہیں دے سکتی۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں روزانہ بیس ہزار بچیاں اٹھارہ سال کی عمر سے قبل ہی بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ اور بچوں کی پیدائش، ناقص غذا، گھریلو کام کی زیادتی کی وجہ سے یہ جسمانی امراض جیسے فیسٹولا، بچہ دانی کے کینسر، ہڈیوں میں کیلشیم کی کمی کے ساتھ ساتھ ڈپریشن کا بھی شکار ہوجاتی ہیں۔یہ بچیاں تعلیم کی کمی، غربت، کے باعث مانع حمل ادویات بھی استعمال سے آگاہ نہیں ہوتی اور ہر سال بچے کی پیدائش ان کو موت کے منہ میں لیے جاتی ہے۔
حکومت کی عدم توجہ کا تو یہ حال ہے کہ پاکستان میں اب تک انگریز کا بنایا ہو ا انیس سو انتیس کا چائلڈ میرج ایکٹ ہی چل رہا ہے اور اس میں اب تک کوئی خاص ترمیم نہیں کی گئی۔حالات کا تقاضہ ہے حکومت فوراً اس پر توجہ دے اور قانون سازی کے ذریعے سے شادی کی عمرکم سے کم سولہ سال سے ختم کرکے اٹھارہ سال مقرر کرے۔جب کوئی لڑکی سولہ سال کی عمر میں نا بینک میں اکاؤنٹ کھول سکتی ہے، نا ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرسکتی ہے نا ہی شناختی کارڈ بنوا سکتی ہے تو پھر وہ سولہ سال میں شادی کے قابل کیسے ہوسکتی ہے۔
بچوں کی شادی کرانے کی کوشش کرانے والوں پر قید بامشقت اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور ان قوانین پر عمل درآمد موثر بنا یا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ علما کرام بھی اس ضمن میں کردار ادا کرسکتے ہیں، مساجد میں لوگوں کو یہ بات سمجھائی جائے کہ نکاح اس وقت کیا جائے جب بچیاں عاقل و بالغ ہوں اور ان میں اتنی سمجھ اور ہمت ہو کہ وہ آنے والی نسلوں کی صحیح معنوں میں تربیت کرسکیں۔نکاح خواں بھی ایسا نکاح نا پڑھائیں جس میں دلہن کم عمر ہو۔
ایک کم عمر ماں جو خود تعلیم یافتہ نہیں اس کی غذا متوازن نہیں وہ مختلف امراض کا شکار ہے وہ کسی طور پر ایک صحت مند معاشرے کوجنم نہیں دے سکتی۔اس لیے معاشرے کو یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کم سن بچیوں کے وجود پر ایک کامیاب معاشرے کی بنیاد نہیں رکھ سکتے۔
Javeria Siddique is a Journalist and Award winning photographer.

Contact at https://twitter.com/javerias  

– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9536#sthash.5QBg7bzJ.dpuf

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s