Posted in Uncategorized

کم عمری کی شادی اور صحت کے مسائل

March 31, 2014  

جویریہ صدیق…
ہم اس سے قبل بھی بچوں کی شادیوں کے حوالے سے جنگ بلاگز پر بات کرچکے ہیں اور 29جنوری کو یہ بلاگ کم عمری میں شادی کا رواج کیوں؟ کے نام سے شائع ہوچکا ہے لیکن اس موضوع کو اور تقویت اس وقت ملی جب اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے سربراہ مولانا شیرانی کی طرف یہ بیان سامنے آیا کہ پاکستانی عائلی قوانین میں تبدیلی کی جائے جن کے مطابق کم عمری کی شادی پر پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر اسلامی ہے اور اسلام میں کم عمری کی شادی کی معانعت نہیں۔ مولانا شیرانی کے مطابق نکاح کے لیے کم سے کم کوئی عمر نہیں مقرر کی جاسکتی لیکن رخصتی کیلئے بلوغت کا ہونا لازمی ہے۔ نیز یہ کے اسلامی نظریاتی کونسل اس قانون میں ترمیم کی شفارش کرتی ہے جس کے تحت پاکستان میں شادی کے لیے کم سے کم عمر لڑکی کے لیے سولہ سال اور لڑکے کے لیے اٹھارہ سال ہے۔

مسلم عائلی قوانین میں مجریہ 1965ء پاکستان میں مسلمانوں کی شادی سے متعلق سب سے اہم قانون ہے، یہ قانون 1961ء میں آرڈیننس کی صورت میں نافذ ہوا تھا۔ جس کے تحت شادی ایک شرعی اور قانونی معاہدہ ہے جس کے لیے بغیر کسی جبر، دھوکے کے بنا ایجاب و قبول ضروری ہے۔ شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی کی رضامندی، نکاح کے وقت لڑکی کے حسب منشاء مہر کا تعین، دو گواہان کے دستخط اور نکاح نامے کا اندارج کروانا ضروری ہے۔ بات ہو اگر بندش بچگانہ شادی ایکٹ کی تو یہ قانون 1929ء میں انگریز دور میں بنایا گیا اور چند ترامیم کے بعد اس کو پاکستانی قانون کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس قانون کے تحت 16سال سے کم عمر لڑکی سے شادی قابل سزا جرم ہے اور کم عمری کی شادی کروانے والوں کو ایک مہینے کی قید اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا ہے، تاہم شادی کو فسخ نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس صورتحال پر بہت سے قلم کار اور بچوں کی حقوق پر کام کرنے والی تنظیمیں آواز اٹھا رہی ہیں کہ اس قانون میں مزید ترامیم کی ضرورت ہے اور بچوں کی کم عمری میں شادی پر پابندی لگائی جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کم عمری میں شادی کرنے سے کیا مسائل درپیش ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کی بڑی وجہ فرسودہ رسومات ہیں جن میں ونی، سوارہ، وٹا سٹہ شامل ہے۔ بہت سی بچیوں کی شادیاں خون بہا، قصاص یا صلح کے بدلے میں کردی جاتی ہیں۔ کچھ غریب ماں باپ اپنی کم سن بیٹیاں غربت کے باعث بوڑھے آدمیوں کو بیاہ دیتے ہیں اس کے عوض انہیں رقم ملتی ہے یعنی وہ اپنی بیٹیاں بیچ دیتے ہیں۔ پاکستان میں کم عمری کی شادیاں زیادہ تر مرد اپنی تسکین کے لیے بھی کرتے ہیں ایک بیوی کے عمر رسیدہ ہوتے ہی کم عمر بیوی کا خواب۔ ان شادیوں کے پیچھے ہرگز بھی اسلامی تعلیمات کار فرما نہیں کہ بچوں کی شادیاں جلد کی جائیں تاکہ وہ بے راہ روی سے بچ سکیں، پاکستان میں کم عمر بچیوں سے شادی کی بڑی وجہ صرف ذاتی خواہشات ہیں۔ اسلام یہ کبھی نہی کہتا کہ دو بچوں کی شادیاں آپس میں کردی جائیں یا کسی بچے کی شادی کسی عمررسیدہ انسان سے کردی جائے۔ اسلام میں شادی دو بالغ افراد کے درمیان شرعی اور قانونی رشتہ ہے جس میں دونوں فریقین کی رضا مندی ہونا ضروری ہے۔

اب ایک شادی میں دوسرے فریق کو اتنی سمجھ ہی نہیں اس کی رضامندی ہی نہیں تو نکاح کیسے ہوسکتا ہے؟ کم عمری کی شادی کسی بھی لڑکی سے اس کا بچپن چھین لیتی ہے، اس کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے، یہ شادی اس کی صحت کو خطرات لاحق کردیتی ہے۔ کم عمری میں زچگی کے باعث بہت سی بچیاں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

اس ہی حوالے سے پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن قومی اسمبلی ماروی میمن نے بچگانہ شادیوں کے خلاف موجود قانون چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا ہے تاکہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے اور دو سال قید بامشقت یا پھر دونوں سزائیں ساتھ دی جائیں۔ماروی میمن کے مطابق اس بل کو لانے کا مقصد کم عمری کی شادی حوصلہ شکنی ہے اور دوران زچگی کم عمر بچیوں کی اموات میں کمی لانا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور جے یو آیی نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل غیر اسلامی ہے اور بچے کا نکاح کسی بھی عمر میں کیا جاسکتا ہے لیکن ماروی میمن کے مطابق کیا کم عمری میں بچیوں کا ماں بننا ان کو موت کے منہ میں دکھیلنے کے مترادف نہیں؟ معروف عالم دین جاوید احمد غامدی کے مطابق کم عمری کی شادیاں بچیوں پر ظلم ہیں اور وقت کی اہم ضرورت کے پاکستانی معاشرے کے مطابق اس پر مکمل قانون سازی کی جائے اور کم عمر بچیوں کو تحفظ دیا جائے۔

معتدل حلقوں کی طرف سے یہ آواز پہلے بھی اٹھائی جا چکی ہے کہ عقد یا عقد ثانی کے شوقین کسی عمر رسیدہ کنواری خاتون، بیوہ یا مطلقہ سے شادی کیوں نہیں کرتے۔ اگر شادی یا جلد شادی سے بے راہ روی ختم کرنا مقصود ہے تو یہ شادیاں بچوں کی نہیں بلکے بالغ اور درمیانی عمر کے لوگوں کی کروائی جائیں جو کسی بھی وجہ سے شادی کے بندھن سے محروم ہیں۔ رہی بات بچوں کی تو آج کے دور میں اچھی خوراک اور جسمانی طور پر قوت معدافعت زیادہ ہونے پر بچیاں جلد بالغ ہوجاتی ہیں لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ان تولیدی اعضاء بھی اس قدر مضبوط ہوگیے ہیں کہ اگے آنے والی نسلوں کا بوجھ اٹھا سکیں۔ بچوں کی پیدائش، ناقص غذا، گھریلو کام کی زیادتی کی وجہ سے یہ جسمانی امراض جیسے فیسٹولا، بچہ دانی کے کینسر، ہڈیوں میں کیلشیم کی کمی کے ساتھ ساتھ ڈپریشن کا بھی شکار ہوجاتی ہیں۔ یہ بچیاں تعلیم کی کمی، غربت کے باعث مانع حمل ادویات بھی استعمال سے آگاہ نہیں ہوتی اور ہر سال بچے کی پیدائش ان کو موت کے منہ میں لیے جاتی ہے،اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بچوں کو شادیوں سے نکل کر کچھ اس حوالے سے بھی سوچنا چاہیے کہ 16سال سے کم عمر کی بچی کی شادی درحقیت اس کے لیے نئی زندگی اور خوشیوں کا نہیں بلکے موت کا پروانہ ہے۔جب 16سال سے کم عمر بچے کو بچہ اور نا سمجھ گردانتے ہوئے ان کا شناختی کارڈ نہیں بن سکتا، نہ ہی ان کا ڈرائیونگ لائیسنس بن سکتا ہے تو پھر بچہ پرشادی جیسی بڑی ذمہ داری کا بوجھ کیسے ڈالا جاسکتا ہے ؟ –

See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9692#sthash.vW3F3lLW.dpuf

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s