Posted in Uncategorized

چینی صدر کا دورہ ملتوی ،سوشل میڈیا پر ردعمل

September 05, 2014   ……..جویریہ صدیق……..آخر کار وہی ہوا جس کا حکومتی اور سفارتی حلقوں کو ڈر تھا چینی صدر ژی جنگ پنگ کا دورہ پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کی نذر ہوگیا۔ ژی جنگ پنگ نے 14سے 16ستمبر تک پاکستان کے دورے پر تشریف لانا تھی لیکن شاہراہ دستور پر دھرنے کے باعث ان کی سیکورٹی حکام نے درخواست کی کہ ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس کا ملحقہ علاقے خالی کروالیے جائیں لیکن حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود دھرنے کے لیڈران نہ مانے۔ ژی جنگ پنگ اپنے شیڈول کے مطابق بھارت تو جائیں گے لیکن پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر وہ اب پاکستان تشریف نہیں لائیںگے۔ اسلام آباد میں اس وقت شاہراہِ دستور پر جہاں تمام اہم ریاستی ادارے واقع ہیں، اس سڑک پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری اپنے کارکنان سمیت قابض ہیں تو کیسے سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی عظیم طاقت چین کے صدر ہمارے ملک کا دورہ کریں۔ اس دورے کی منسوخی کے ساتھ ہی 32ارب ڈالر کے معاہدے التوا کا شکار ہوگئے۔ان معاہدوں میں پورٹ قاسم پر دو بجلی گھروں کی تعمیر، گڈانی میں انفراسٹرکچراپ گریڈ کرنے کا ایم او یو۔ سندھ میں توانائی اور جنوبی پنچاب میں سولر پارک منصوبے، کراچی سے لے کر پشاور تک شاہراہ کا منصوبہ، لاہور میں ریلوے نظام بجلی پر منتقل کرنے کے منصوبے جیسے کئی اہم معاہدوں پر دستخط التوا کا شکار ہوگئے۔ یہ خبر منظر عام پر آتے ہی کہ چینی صدر ژی جنگ پنگ کا دورۂ پاکستان ملتوی ہو گیا ہے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث کا آغاز ہوگیا۔

سب سے پہلے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ٹویٹ کیا اور طنزیہ طور پر کہا کہ عمران خان اور طاہر القادری کو مبارک ہو چین کے صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہوگیا ۔انہوں نے دوسرے ٹویٹ میں مزید کہا کہ پاکستانی عوام کبھی بھی عمران خان اور طاہر القادری کو معاف نہیں کریں گے، ان کے دھرنوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کراچی لاہور موٹروے منصوبہ چین کی مدد سے بننا تھا وہ کھٹائی میں پڑ گیا، یہ بد قسمتی ہے۔مریم نواز شریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ آج طاہر القادری اور عمران خان کا اینٹی پاکستان ایجنڈا مکمل ہوگیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما نبیل گبول نے کہا کہ سب کو نیا پاکستان مبارک ہو۔ سینئر صحافی عامر متین نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان کا دورہ تو ملتوی ہوا، اب چینی صدر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی سالگرہ بھارت میں منائیں گے۔ صحافی نذرانہ یوسف زئی نے کہا کہ ایک کرسی کے لیے پاکستان کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ صحافی جمشید بھگوان نے کہا کہ وہ افسردہ ہیں کہ چینی صدر کا دورۂ پاکستان آزادی مارچ کی وجہ سے ملتوی ہوا۔پشاور سے صحافی جاوید خان نے کہا کہ مظاہرین کو مبارک ہو، اب چینی صدر پاکستان تو نہیں لیکن بھارت جائیں گے۔ پاکستانی صحافی مدیحہ انور نے امریکا سے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کیا اب بھی طاہر القادی اپنے خطاب میں کہیں گے کہ مبارک ہو، مبارک ہو کہ چینی صدر پاکستان نہیں آرہے۔

چوہدری اویس نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ چین کے صدر کے دورے کے ملتوی ہونے کا سن کر ہی پی ٹی آئی اور عوامی تحریک والے پارلیمنٹ کے احاطے سے ڈی چوک واپس آگئے کیا یہ ہی ان کا پلان تھا؟ محسن حجازی نے کہا کہ کپتان خان آپ کامیاب ہوگئے۔ مصدق ذوالقرنین نے کہا کہ چینی صدر کا دورۂ پاکستان ملتوی ہونا بہت افسوس ناک ہے، طاہر القادری اور عمران خان نے وطن دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ حسن علی نے ٹویٹ کیا کہ کیا طاہر القادری اور عمران خان کی ضد اور انا اس ملک کے مفاد سے بڑھ کر ہے؟ ان دونوں کی ضد کے باعث چینی صدر کا دورہ ملتوی ہوا ہے۔ نو عمر طالب علم مزمل نے اپنے ٹویٹ میں کہا میں چینی صدر کے دورے کو لے کر بہت پرجوش تھا لیکن ان کا دورہ ملتوی ہونے سے مجھے بہت مایوسی ہوئی ہے، میرے لیے آج کا دن بہت اداس ہے۔ مدیحہ رانا نے کہا ہے کہ کیا آج بھی پی ٹی آئی اور عوامی تحریک والے جشن منائیں گے، ان کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ منسوخ ہوا۔ سید ناصر کاظمی نے کہا کہ اب بھارت والے چینی صدر کا پر تپاک استقبال کریں گے اور سرمایہ کاری بھی انہیں ہی ملے گی۔

کچھ افراد اس سنجیدہ صورتحال میں بھی طنز ومزاح سے بھر پور ٹویٹ کرتے رہے۔ سعدیہ نے کہا کہ چینی صدر بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ پرانے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملا جائے یا پھر نئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے؟ انعم شفیق نے کہا کہ شاید پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے باعث چینی صدر نے آنے سے انکار کردیا ہے۔ سرمد سومرو نے کہا کہ زیادہ باتیں نہ کی جائیں، پی ٹی آئی اور پی اے ٹی والے چینی صدر سے بھی استعفے کا مطالبہ کردیں گے۔ اذان سومرو نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ سابق وزیرداخلہ رحمان ملک صلح اور مذاکرات کرانے میں ماہر ہیں ان کو چین بھیج کر چینی صدر کو پاکستان لایا جائے۔

پاکستان کے تمام سنجیدہ حلقوں نے چینی صدر کے دورۂ پاکستان ملتوی ہونے کا ذمہ دار عمران خان اور طاہر القادری کو قرار دیا لیکن ان دونوں سیاستدانوں نے ایک بار پھر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے الزام حکومت پر عائد کردیا اور اپنی غلطی تسلیم نہیں کی۔

چین جیسے دوست ملک کے صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہونا افسوس ناک ہے۔ بھارت آنے والی نسلوں کی ترقی کا سوچ رہا ہے جبکہ پاکستانی سیاستدان دھرنوں کی سیاست کرکے آئندہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ کیا واقعی ہی کرسی انا اور ذاتی مفاد اس ملک میں پاکستان کی ترقی سے بڑھ کر ہیں؟ اس بات کا جواب ان سیاست دانوں کو دینا ہوگا۔ دھرنوں کی سیاست ملکی معشیت کو بدترین نقصان پہنچا چکی ہے اور اسں نقصان کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں اٹھائیں گی۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10159#sthash.FjLAqXdX.dpuf

Posted in Uncategorized

سعید اجمل کی معطلی اور سوشل میڈیا

September 11, 2014   …...جویریہ صدیق……
پاکستانی آف اسپنر سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ان پر پابندی عائد کردی ہے۔آئی سی سی کے مطابق آف اسپنر کی تمام گیندیں 15ڈگری سے تجاوز کر رہی تھیں، اس حوالے سے آسٹریلیا میں بائیو میکینکل ٹیسٹ کیا گیا اور نتائج آنے کے بعدان پر پابندی عائد کردی گئی ۔اس خبر کے نشر ہوتے ہوئے عوامی سطح پر غم اور مایوسی پھیل گی۔ون ڈے کرکٹ کے نمبر ون آف اسپنر سعید اجمل کا جادو صرف پاکستان ہی نہیں عالمی دنیا میں سر چڑھ کر بول رہا ہے اور ایسے وقت میں ان پر پابندی نے ان کے شائقین کو بے حد مایوس کیا ہے۔1977 میں پیدا ہونے والے سعید اجمل ٹیسٹ کرکٹ میں 178ون ڈے میچز میں 183اور ٹی ٹوینٹی میں 85وکٹیں لے چکے ہیں۔ سعید اجمل پر یہ اعتراض کچھ نیا نہیں 2009میں بھی ان کی بولنگ پر اعتراض کیا گیا تھا تاہم بعد میں ان کو کلیئر کردیا گیا۔ اس وقت سعید اجمل آئی سی سی کی عالمی ون ڈے رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں، لیکن پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گال ٹیسٹ میں امپائرز نے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو 15ڈگری سے تجاوز ہونے کی رپورٹ کی تھی۔ اس کے بعد انٹرنیشنل کونسل نے سعید اجمل کا آسٹریلوی شہر برسبین میں ان کا ٹیسٹ لیا اور دو ہفتے بعد ٹیسٹ کی رپورٹ کے مطابق کے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو قواعد و ضوابط کے منافی قرار دے کران پر پابندی عائد کردی۔ ایکشن کی درستگی تک وہ بین الاقوامی میچز میں بولنگ نہیں کرسکتے۔ اس پابندی کے سبب وہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں حصہ نہیں لے سکیں گے اور 2015ورلڈ کپ میں بھی ان کی شمولیت مشکوک ہوگئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ سعید اجمل پر پاپندی پر اپیل کا فیصلہ ایک سے دو دن میں کر لیا جائے گا۔ اگر یہ اپیل قبول ہو جاتی ہے تو سعید اجمل پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

سوشل میڈیا پر بھی سعید اجمل پر پابندی کے بعد بہت بے چینی اور غصہ نظر آیا۔ خبر کے بعد سے ہی یہ ٹویٹر پر ہائی ٹرینڈ بن گیا، ہر منٹ میں دس ٹویٹ سعید اجمل کے حوالے سے کیے گئے اور اب تک 15ہزار ٹویٹ کیے جا چکے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو پوری قوت کے ساتھ آئی سی سی میں سعید اجمل کا مقدمہ لڑنا چاہیے۔ سابق کرکٹر ثقلین مشتاق نے ٹویٹ کیا کہ میری تمام حمایت سعید اجمل کے لیے ہے اور میں ان کی ہر ممکن مدد کروں گا۔ سابق وزیر سینیٹر بابر اعوان نے ٹویٹ کیا کہ آئی سی سی کا یہ فیصلہ یک طرفہ ہے، اگر ملنگا کرکٹ کھیل سکتا ہے تو سعید اجمل کیوں نہیں، میں احتجاج کرتا ہوں۔ دی نیوز کے صحافی عثمان منظور نے ٹویٹ کیا کہ بگ تھری سعید اجمل کا مقابلہ تو نہیں کرسکتے اس لیے ان کو بین کردیا گیا۔ جیو ٹی وی کے رپورٹر اور کرکٹ ایکسپرٹ فیضان لاکھانی نے کہا کہ سعید اجمل اب بھی ورلڈ کپ کھیل سکتے ہیں بس اتنا کرنا ہے کہ وہ اپنے ایکشن میں بہتری لائیں، ڈیزل فوسٹر اس میں مدد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعید اجمل کو بین نہیں معطل کیا گیا ہے۔ ٹی وی اینکر سدرہ اقبال نے کہا کہ آج کل بری خبروں کا موسم ہے۔ افسوس کہ سعید اجمل پر پابندی عائد کردی گئی۔ صحافی مدیحہ انور نے ٹویٹ کیا کہ 111ون ڈے میچز اور 35ٹیسٹ میچیز کے بعد آئی سی سی کو پتہ چلا کہ سعید اجمل کا بولنگ ایکشن غیر قانونی ہے، حیرت ہے لیکن ہم سب سعید اجمل کے ساتھ ہیں۔

منزہ عباسی نے ٹویٹ کیا کہ بگ تھری کا پہلا شکار سعید اجمل ہوگئے۔ احمر خان نے کہا کہ اگر آپ کسی کو ہرا نہیں سکتے تو اس پر پابندی عائد کردیں، آئی سی سی کا فیصلہ افسوس ناک ہے، سعید اجمل کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ پاکستانی ہے۔ شاہد نبی نے ٹویٹ کیا کہ سعید اجمل دنیا کا نمبر ون بولر ہے، اچانک آئی سی سی کو خیال آتا ہے کہ نمبر ون بولر کا تو بولنگ ایکشن ہی غیر قانونی ہے، کیا بات ہے آئی سی سی کی سمجھ بوجھ کی۔ حرا شاہ نے ٹویٹ کیا کہ آئی سی سی صرف ہمارے کھلاڑیوں کو ہی ورلڈ لپ سے پہلے بین کیوں کرتا ہے؟علی حیدر نے ٹویٹ کیا آئی سی سی جانبدار ہے اور ورلڈ کپ سے پہلے سعید اجمل کو معطل کرنا پلان کاحصہ ہے۔فہد خان نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کہاں ہے ؟ارسلان عبید نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ بورڈ کی لابی بہت کمزور ہے۔محمد شہزاد نے کہا کہ آئی سی سی کو دوسرے بولرز کا مشکوک بولنگ ایکشن کیوں نہیں نظر آتا ؟سحر سمیع نے کہا کہ ورلڈ نمبرون آف اسپنر پر پابندی افسوس ناک ہے۔

بلال عباسی نے طنزیہ کہا کہ اس فیصلے کے خلاف آئی سی سی ہیڈ کوارٹر کے باہر دھرنا دینا ہوگا۔احمد خیام نے کہا کہ یہ بگ تھری کا تحفہ ہے پاکستانیوں کے لیے۔علی نے ٹویٹ کیا کہ ملنگا کا بولنگ ایکشن تو نظر نہیں آتا لیکن سعید اجمل ان کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔احسن جوکہ سوشل میڈیا ایکسپرٹ ہیں انہوں نے ٹویٹ کیا آئی سی سی آپ ہمیں بالکل اچھے نہیں لگتے۔سلمان نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ آئی سی سی کو اپنا نام انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے بدل کر انٹرنیشنل کرکٹ کامیڈی کر لینا چاہیے۔

تاہم حالات چاہے جو بھی ہوں سعید اجمل کے حوصلے بلند ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔پاکستان کے سنجیدہ حلقے اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس وقت کرکٹ بورڈ کو فوری طور پر سعید اجمل کے بو لنگ ایکشن کو درست کرنے پر توجہ دےاور تمام اعتراضات دور کرے۔اس کے ساتھ ساتھ دیگرکھلاڑیوں پر بھی توجہ دی جائے تاکہ ورلڈ کپ میں پاکستان متاثر کن کارکردگی دکھا سکے۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10181#sthash.s2qmQD9l.dpuf

Posted in Uncategorized

صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی

September 29, 2014   ………جویریہ صدیق………
پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں پنجاب ، سندھ،خیبر پختون خوااور بلوچستان کی ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ پلڈاٹ نے جاری کردی ہے۔ چاروں اسمبلیاں 2013کے عام انتخابات کے بعد وجود میں آئیں۔ پلڈاٹ کی رپورٹ میں میں 2013سے جون 2014تک کی صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی شامل کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ قانون سازی، ارکان کی حاضری، وزرائے اعلیٰ کی حاضری، قائمہ کمیٹیوں کی کارکردگی اور کام کے اوقات کار پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سب سے بہتر کارکردگی سندھ اسمبلی کی رہی،دوسرے نمبر پر خیبر پختون خوا ،تیسرے نمبر پر بلوچستان اور چوتھے نمبر پر پنجاب اسمبلی رہی۔ 12مہینے پر مشتمل پہلے پارلیمانی سال میں بلوچستان اسمبلی نے 54،خیبرپختون خواہ 72 ،پنجاب اسمبلی 70اور سندھ اسمبلی نے 57 دن کام کیا۔

سب سے پہلے بات ہوگی سندھ اسمبلی کی جو کارکردگی کے لحاظ سے اول نمبر پر رہی۔ صوبائی سندھ اسمبلی کے پہلے پارلیمانی سال کا آغاز 29مئی 2013سے شروع ہوکر 28مئی 2014کو مکمل ہوا۔ دس مہینے کی تاخیر کے بعد قائمہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، ہر محکمے کے لیے 37مجالس کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا۔ تاہم 37میں سے صرف 22مجالس فعال ہوئیں اور ان کے چیئرپرسن کا انتخاب ہوا۔ قانون سازی میں 36سرکاری بل قانون کی حیثیت اختیار کرگئے۔ ان میں سندھ کریمنل پراسیکیوشن سروس، ماحولیاتی تحفظ اور لوکل گورنمنٹ سے متعلقہ قوانین شامل ہیں۔صوبا ئی اسمبلی نےپیش کی جانے والی 65قراردادیں متفقہ طور پر منظور کیں۔ اسمبلی قواعد کے تحت 226قردادیں موصول ہوئیں جن میں سے 11کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا جن میں لڑکے اور لڑکی کی شادی کے لیے کم ازکم عمر 18سال، کم عمری کی شادی کا خاتمہ، صوبے میں گھریلو صنعتوں کا قیام، خواتین کو فنی تربیت کے لیے بلا سودی اسکیموں کا معتارف کرایا جانا شامل ہے۔ صوبائی اسمبلی سندھ کے پورے پہلے پارلیمانی سال کے دوران اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے 57نشستوں میں 27میں شرکت کی۔سندھ اسمبلی سے کوئی بھی وفد بیرون ملک نہیں گیا۔ اسمبلی نے اپنے 100ایام کار کے دوران 12اجلاس منعقد کیے جن میں اصل ورکنگ ڈے 57تھے۔ موجودہ اسمبلی نے اپنے پہلے سال میں قانون سازی کے حوالے سے اپنی کارکردگی میں گزشتہ اسمبلی کے اوسط کے حساب سے 58فیصد اضافہ کیا اور 174گھنٹے کام کیا۔

کارکردگی کے لحاظ سے خیبر پختون خوا اسمبلی دوسرے نمبر پر رہی، اگر اس کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل میں 7ماہ کی تاخیر ہوئی۔ بعد ازاں 46قائمہ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا جن میں سے صرف 17کا اجلاس ہوا۔ پہلے پارلیمانی سال میں 9کمیٹیوں کا اجلاس ہوا ہی نہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سب سے زیادہ 16اجلاس بلائے۔ ایوان میں پیش کیے جانے والے 39میں سے 28منظور ہوئے۔ غیرسرکاری 15مسوادت پیش ہوئے جن میں سے دو منظور ہوگئے۔ اسمبلی نے جن اہم قوانین کی منظوری دی ان میں معلومات کی رسائی کا قانون، احتساب کمیشن کا مثالی قانون۔موجودہ اسمبلی نے 100نشستوں کے مقابلے میں 104دن کام کیا۔ کل 243گھنٹے۔ اس اسمبلی میں124ارکان میں سے 75ارکان پہلی بار منتخب ہوکر ایوان میں آئےاورایوان میں اکثریت پاکستان تحریک انصاف کی ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ میں 604قراردادیں موصول ہوئیں، ان میں سے 34منظور ہوئیں۔ خبیر پختون خوا کے اسپیکر نے 3غیر ملکی دورے کیے اور اخراجات صوبائی اسمبلی خیبر پختوانخوا نے برداشت کیے۔ پہلے پارلیمانی سال کے دوران 12اجلاس ہوئے جن میں 8حکومت اور 4اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلائے گئے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے 75نشستوں میں سے 31میں حاضر رہے۔

تیسرے نمبر پر بلوچستان کی صوبائی اسمبلی رہی۔ اسمبلی کا پہلا اجلاس یکم جون 2013کو ہوا اور پہلا پارلیمانی سال 22مئی 2014کو مکمل ہوا۔ بلوچستان اسمبلی میں نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، پاکستان مسلم لیگ، مجلس وحدت المسلمین اور پاکستان مسلم لیگ ن نے مل کر حکومت بنائی۔ حزب اختلاف میں عوامی نیشنل پارٹی،جمعیت علمائے اسلام،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل شامل ہیں۔10ویں اسمبلی نے 96دن کام کیا اور 100دن کم ازکم ایام کار کا آئینی تقاضہ پورا نہیں کیا۔ اسمبلی نے صرف 142گھنٹے کام کیا۔ قائمہ کمیٹیوں کی بات ہو تو پارلیمانی سال کے اختتام تک صرف دو مجالس تشکیل ہوسکیں۔ اسمبلی نے 21قوانین متفقہ طور پر منظور کیے جن میں مسودہ قانون مالیات،لازمی تعلیم کا قانون 2014بھی شامل ہیں۔10ویں صوبائی اسمبلی نے 28حکومتی اور 38غیر سرکاری ارکان کی قراردادیں منظور کیں۔ان میں اہم ہینڈری میسح،نجی صنعتی یونٹوں اور دیگر کمپنیوں میں ملازمت کے لیے مقامی نوجوانوں کے لیے 70فیصد کوٹہ مختص، بلوچستان کی ساحلی پٹی کا نیا نام رکھنے اور پولیو مہم کی اہمیت کے حوالے سے قراردادیں شامل ہیں۔ پہلے پارلیمانی سال کے دوران بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے تین غیر ملکی دورے کیے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے 54نشستوں میں سے 26میں شرکت کی۔

پنجاب اسمبلی کی کارکردگی سب سے آخر میں رہی۔ پنجاب اسمبلی نے اپنا پہلا پارلیمانی سال 31مئی 2014میں مکمل کیا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے 70میں سے صرف 3اجلاس میں شرکت کی۔ اسپیکر رانا محمد اقبال کا رویہ نرم رہا اور تمام اجلاس ہی دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئے۔کل 8اجلاس بلائے گئے جن میں 70نشستیں ہوئیں۔ پنجاب اسمبلی کو بھی 7ماہ تاخیر کے بعد قائمہ کمیٹیاں قیام کرنے کا خیال آیا۔ 37حکومتی بل پیش ہوئے جن میں 33پاس ہوئے۔پہلے پارلیمانی سال میں آٹھ پرائیوٹ ممبر بل پیش کیے گئے جن میں سے ایک کلیئر ہوا۔پہلے پارلیمانی سال میں 213گھنٹے کام کیا گیا۔ 478قراردایں پیش ہوئیں۔ 628توجہ دلاؤ نو ٹس پیش کیے گیے جن میں سے صرف 48کا جواب موصول ہوا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی 14میٹنگز ہوئیں۔جو اہم بل پا س ہوکر قانون کا حصہ بنے ان میں پنجاب فنانس بل، پنجاب مینٹل ہیلتھ ترمیمی بل، ماں بچے اور نومولود بچوں کی صحت کا بل، باب پاکستان فاؤنڈیشن بل، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بل اہم ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے 213گھنٹے کام کیا۔

اس ہی رپورٹ میں کیے گئے سروے کے مطابق ملک کی بڑی تعداد نے اسمبلیوں کی پورے سال کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ ان کے مطابق عوام کے بڑے مسائل توانائی،مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی کے حوالے سے کوئی مؤثر قانون سازی ہی نہیں کی گئی۔نہ ہی عوامی نمائندوں نے عوام کے مسائل مؤثر طریقے سے ایوان میں پیش کیے۔ اس رپورٹ میں سفارشات کی گئیں کہ وقفۂ سوالات میں اضافہ ناگزیر ہے اور ہفتے میں ایک بار وزیر اعلیٰ خود جواب دیں۔ بجٹ دورانیے کو 11سے 13یوم بڑھا کر کم از کم 30تا 40دن کردیا جائے۔ہر روز کی کارروائی میں ایک گھنٹہ صرف عوامی اور حلقے کے مسائل کے لیے مختص ہو۔ قائمہ کمیٹیوں میں اہم شعبوں کے ماہر اور پوسٹ گریجوٹ طالب علموں سے بھی معاونت حاصل کریں۔ صوبائی اسمبلیوں میں پارلیمانی کیلنڈربنایا جائے اور اس کی پابندی ہو۔اس کے ساتھ ساتھ اسمبلی میں اسٹاف بھرتی کرتے وقت قواعد وضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias

javeria.siddique@janggroup.com.pk   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10238#sthash.LIwJ1vpR.dpuf

Posted in Uncategorized

انقلابی کارکنان کا کوئی پرسانِ حال نہیں

August 16, 2014   ……..جویریہ صدیق……..عمران خان اور طاہر القادری کے مارچ بالآخر اسلام آباد پہنچ گئے۔دونوں کے قافلے کافی سست روی کا شکار رہے اور گذشتہ رات اسلام آباد میں داخل ہوئے۔ 14اگست سے انتظامیہ نے اسلام آباد کے تمام داخلی راستوں سے کنٹینرز ہٹا دیے تھے اس کے بعد سے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنان اسلام آباد میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔ اپنے اپنے قائدین کے آنے سے پہلے سینکڑوں کارکنان زیرو پوائنٹ پر موجود تھے۔ ان تمام کا جوش وخروش اپنی جگہ لیکن 14اگست سے آج 16اگست ہوگئی تاہمتحریک انصاف اور عوامی تحریک کی طرف سے اپنے کارکنان کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے۔

پہلے ہی اسلام آباد میں موجود کارکنان سڑکوں پر بے سروسامانی کے عالم میں تھے، اوپر سے مارچ کے ساتھ آنے والے افراد کے ساتھ یہ تعداد بڑھ گئی۔ انتظامیہ کی طرف سے جگہ کا تعین کرنے کے باوجود دونوں جماعتوں نے ہی اپنے کارکنوں کے لیے سر چھپانے کا بندوبست کیا نہ ہی کھانے پینے کے خاص انتظامات۔ پاکستان کے عوام سادہ لوح ہیں، لیڈروں کے چکنے چپڑے وعدوں میں آکر گھر سے نکل پڑتے ہیں اور بعد میں زحمت اٹھاتے ہیں۔ یہ حال ان جماعتوں کے کارکنوں کا بھی ہوا۔

اس وقت دھرنے کی جگہ پر سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ عمران خان کے کارکنان آبپارہ چوک کشمیر ہائی وے اور طاہر القادری کے مارچ کے شرکاء خیابان سہروردی پر ہیں۔ نہ ہی کارکنوں کے پاس پینے کے لیے پانی ہے اور نہ ہی وضو کرنے کے لیے۔ ان انقلابی مارچ اور آزادی دھرنوں سے پہلے کوئی حکمت عملی کیوں نہیں طے کی گئی؟ روز لیڈر ٹی وی پر آکر عوام کے جذبات تو ابھارتے رہے لیکن پارٹی کی مقامی قیادت نے کوئی کام نہیں کیا۔ کم از کم اور کچھ نہ ہوتا تو اسلام آباد پی ٹی آئی ونگ اور عوامی تحریک اپنے کارکنان میں مفت پانی تقسیم ہی کر وا دیتے۔

اس کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ اس وقت کھانے کا ہے کیونکہ عمران خان اور طاہر القادری کی جوش خطابت نے اسلام آباد میں ویسے ہی خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا اور عملی طور پر بازار 5دن سے جزوی طور پر بند ہیں۔ اس لیے مارچ کے شرکا ہی نہیں اسلام آباد کے شہری بھی غذائی اشیاء کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک میں انتشار کی سیاست کی بدولت آدھا اسلام آباد مفلوج پڑا ہے۔اس وقت بھی عوامی تحریک کے کارکنان اور پی ٹی آئی کے کارکنا ن کو اسلام آباد آئے تیسرا دن ہے اور ان کو کھانے کی فراہمی کا کوئی نظام نہیں۔کچھ خوانچہ فروش زیرو پوائنٹ اور کشمیر ہائی وے پر کھانے پینے کی اشیاء بیچ تو رہے ہیں لیکن ان بہت مہنگے داموں۔ دونوں جماعتوں کے کارکنان اس وقت بددل ہیں کہ وہ اپنے شہروں سے صرف اپنے لیڈروں کی کال پر اسلام آباد آئے ہیں اور مقامی قیادت نے ان کو بالکل نظر انداز کردیا ہے۔

قائدین نے تو اپنی رات آرام دہ پانچ ستاروں والے ہوٹل میں گزاری جو خیابان سہروردی پر ہی واقع ہے تاہم خواتین اور مرد کارکنان نے اپنی رات زیرو پوائنٹ اور کشمیر ہائی وے پر گزاری۔ جس وقت میڈیا کوریج اور تقاریر کے بعد لیڈران نرم بستروں پر آرام فرما رہے تھے اس وقت کارکن کھلے آسمان تلے بارش میں بھیگتے رہے۔ انتظامات نہ ہونے کے باعث پہلے سے آئے ہوئے کارکنوں نے دوسری رات سڑک پر گزاری اور مارچ کے ساتھ آنے والوں نے پہلی رات بارش اور سردی میں گزاری۔کارکنان کی بڑی تعداد نے کہا کہ اگر ان کے لیے کوئی رہائش کا بندوبست نہیں کرنا تھا تو کم از کم ان کو خیمے فراہم کر دیے جاتے یا گرم چادریں تاکہ وہ موسمی حدت سے بچ جاتے۔

اس کے ساتھ ساتھ جو اہم مسئلہ اس وقت دونوں ہی پارٹیوں کے کارکنان کو پیش ہے وہ ہے باتھ رومز کا۔ دونوں پارٹیوں کی طرف سے موبائل باتھ رومز کا دعویٰ تو کیا گیا تھا تاہم عملی طور پر ایسا کچھ نہیں ہے۔ کارکنان رفع حاجت کے لیے خیابان سہروردی اور کشمیر ہائی وے سے متصل گرین بیلٹ کا رخ کررہے ہیں۔ خواتین کی بڑی تعداد اس وجہ سے مشکل میں نظر آئی۔خواتین کے مطابق کم از کم خواتین کے لیے ہی الگ بند وبست کر دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔

اس وقت بھی انقلابی اور آزادی مارچ والے سڑکوں پر موجود ہیں اور لیڈرشپ اپنے محلات میں۔ اسلام آباد آئے ہوئے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنان کی مشکلات کو دیکھ کر وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی انقلاب اور آزادی کے لیے آئے ہوئے افراد کے لیے قیام طعام اور پینے کے صاف پانی کا بندوبست کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نے سی ڈی اے کو فوری طور پرعارضی باتھ رومز بنانے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ عوام کی مشکلات کا کچھ ازالہ ہوسکے۔ اس وقت اسلام آباد آئے ہوئے عوام کو پانی،خشک خوارک، صابن اور رفع حاجت کے لیے باتھ رومز کی فوری ضرورت ہے۔اگر ایسا نہ ہوا تو عوام کی بڑی تعداد بخار، فلو، اسہال، ہیضے اور اعصابی دبا ؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔

انقلاب یا آزادی صرف باتوں یا وعدوں سے نہیں آتے۔ اس کے لیے عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنا پڑتا ہے۔اس وقت اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہے اور اب تک 36ارب کا نقصان ہو چکا ہے۔ کاروباری مراکز غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بند رہے، تاجروں کو دس ارب کا نقصان ہو چکا ہے۔عید کے بعد سے عملی طور پر پنجاب اور اسلام آباد بند پڑے ہیں۔عوام گھروں میں محصور مشکلات کا شکار ہیں۔بات ہو اگر اسلام آباد آنے والے کارکنان کی تو 14اگست سے وہ آج تک سڑکوں پر ہی ہیں، لیڈرز جوکہ انقلاب اور آزادی کا دعویٰ کررہے ہیں ان کے لیے پانی کھانے اور سر چھپانے کا بندوبست بھی نہ کرسکے تو ملک کی تقدیر کیا بدلیں گے۔ لیڈران نے رات 5ستارے والے ہوٹل اور اپنی ذاتی محلات میں گزاری اور عوام بارش میں بھیگتے انقلاب کا انتظار کرتے رہے۔ اپنی انا اور ذاتی فوائد کے لیے عوام کا یوں استعمال کرنا درست نہیں۔جو لوگ اپنے لیے پانی اور کھانا خریدنے سے قاصر ہیں کیونکہ جیب اجازت نہیں دیتی تو دیکھتے ہیں کہ وہ کتنے دن آزادی اور انقلابی دھرنے میں رک پائیں گے۔ انقلاب میں محتاط اندازے کے مطابق دونوں جماعتوں کے ملا کر30ہزار کارکنان بنتے ہیں اور اگر اعلیٰ قیادت کی عدم توجہی کی یہی صورتحا ل رہی تو اسلام آباد میں آ ئے ہوئے کارکنان جلد بد د ل ہوکر واپس چلے جائیںگے۔

Javeria Siddique is a Journalist and Photographer works for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10058#sthash.c1ywEHJO.dpuf

Posted in Uncategorized

انتشار کی سیاست کیوں ؟

August 13, 2014   ……..جویریہ صدیق……..جب سے ہوش سنبھالا ہے جمہوری حکومتوں کو منتخب ہونے کےساتھ ہی پھر فوری طور پر برطرف ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نادیدہ قوتیں کبھی جمہوری حکومت کو سکون سے پانچ سال آرام سے مکمل کرنے دیں۔ جنرل ضیاء کے طویل دور کے بعد جب نوجوان لیڈر بینظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو عوام کو ان سے بہت سے امیدیں تھی لیکن ان کے پورا ہونے سے پہلے ہی غلام اسحق خان نے 9اگست 1990میں ان کی حکومت بر طرف کردی۔ 1990میں الیکشن کے بعد میاں محمد نواز شریف کو حکومت بنانے کا موقع ملا لیکن بہت سی وجوہات کی بنا پر پہلے وزیر اعظم نواز شریف پھر صدر غلام اسحق دونوں ہی مستعفی ہوگئے ۔نگران حکومت آئی 1993میں ایک بار پھر انتخابات ہوئے۔ یوں صرف 5سالوں میں 3بار انتخابات کروادیئے گئے۔ 1993میں اقتدار کا ہما بینظیرکے سر پر بیٹھا لیکن ان کی حکومت صدر فاروق لغاری نے 1996میں برطرف کردی۔اس کے بعد ایک بار پھر نواز شریف اقتدار میں آئیے اور مختلف بحرانوں کی زد میں رہنے کے بعد بالاآخر اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف نے 1999 میں ان کا تختہ دھڑن کردیا۔

یوں اسی سے نوے کی دہائی میں اس بات کا اندازہ لگنا کچھ مشکل نہیں کہ پاکستان میں عوام کے مینڈیٹ اور انتخابی عمل کی کچھ زیادہ وقعت نہیں۔ میرے ہم عمر پاکستانیوں نے پہلی فوجی حکومت 12اکتوبر 1999میں دیکھی\ ایک طاقتور صدرپرویز مشرف جس نے بلا شرکت غیرے 9سال ملک پر حکومت کی۔ اس دوران پاکستان نے 5وزیر اعظم دیکھے جن میں ظفر اللہ خان جمالی،شوکت عزیز اور یوسف رضا گیلانی۔2 نگران وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین اور محمد میاں سومرو۔ان کے اس طویل دور حکومت میں دو بار الیکشن ہوئے ۔2008میں پیپلزپارٹی برسر اقتدار آئی، اس کے بعد پرویز مشرف کے طویل دور حکومت کا سورج غروب ہوا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت 2008سے 2013تک قاvم رہنے والی وہ واحد منتخب جمہوری حکومت ہے جس نے 5سال مکمل کیے جس میں پارلیمنٹ سے منتخب کیے گئے صدر آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی نے حکومت کی۔ اس جمہوری روایت کے قائم ہونے کے بعد 2013کے الیکشن سے بہت توقعات رکھی جارہی تھیں۔ پاکستان کے سنجیدہ حلقوں میں کافی طمانیت تھی کہ پاکستان اب صیح معنوں میں جمہوریت کی پٹری پر چڑھ چکا ہے۔ 2013کے الیکشن میں خاص طور پر نوجوانوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا،ووٹ کاسٹ کیے ،اپنے اپنے لیڈران کے لیے خوب مہم چلائی۔2013کے انتخابات میں میاں محمد نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوگئے۔سیاسی پنڈت تو پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کی پیشن گوئیاں کررہے تھے لیکن الیکشن کے نتائج کے مطابق عمران خان کی جماعت پارلیمان میں نشستوں کے حساب سے تیسرے نمبر پر آئی اور خیبر پختون خوا میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی لیکن عمران خان نے اپنی شکست کو تسلیم نہیں کیا اور شروع دن سے وہ الیکشن کمیشن، نگران حکومت، عدلیہ اور مسلم لیگ ن پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ زخم بھر جاتے ہیں، آج حکومت کو بنے ڈیڑھ سال کا عرصہ ہونے کو ہے لیکن عمران خان کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ اپنے حکومتی صوبے خبیر پختون خواہ میں تو متاثر کن کارکردگی دکھانے سے قاصر ہیں لیکن وفاق پر ہر روز تنقید کرنا فرض سمجھتے ہیں۔ اب انقلاب کا نعرہ لگا رہے ہیں تو عمران خان صاحب انقلاب سب سے پہلے آپ اپنے صوبے خیبر پختون خوا سے شروع کیوں نہیں کرتے؟ کیا دہشت گردی سے نڈھال صوبہ آپ کی توجہ کا پہلا مرکز نہیں ہونا چاہیے تھا؟ اپنی شکست کے غم میں عمران خان نے مئی 2013 سے اب تک خیبر پختون خوا کو مکمل فراموش کر رکھا ہے۔ ہر روز عمران خان ایک نئی فہرست کے ساتھ آجاتے ہیں کہ یہ سب بھی دھاندلی میں ملوث ہیں۔ پہلے توپوں کا رخ مسلم لیگ نواز، ریٹرینگ آفیسرز اور نگران حکومت پر رہا، بعد میں جنگ، جیو، جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری، جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن رمدے اور جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی بھی ان کے الزامات کی زد میں آگئے۔ کاش کہ عمران خان اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرلیتے اور اس صوبے میں مکمل محنت کرکے ایک مثال قائم کرتے جہاں عوام نے ان پر مکمل اعتماد کیا۔

پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کی توہین صرف عمران خان ہی نہیں کر رہے بلکے اس میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری بھی پیش پیش ہیں، وہ سیاسی کارکنوں میں مذہبی جذبات کو ابھا کر انقلاب برپا کرنے کی تیاریوں میں ہے۔ یہ انقلاب عمران خان کے انقلاب سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ عمران خان تو ذاتی حملے اور دھاندلی کا شور ڈال کر چپ ہو جاتے ہیں لیکن طاہر القادری اپنے مذہبی پیرا کاروں کو شہادت اور سول نافرمانی پر اکسا رہے ہیں۔ ان حالات میں مسلم لیگی رہنما تدبر سے کام لیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے لیڈران کو ساتھ ملا کر کوئی درمیانی راستہ نکالیں۔ عوام کسی انقلاب کے متحمل نہیں جو مذہبی جنونیت اور ذاتی عناد پر مشتمل ہو۔ حکومت کو آئے ہوِے صرف ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا ہے اس لیے حکومت کو کارکردگی دکھانے کا موقع ملنا چاہئے۔

انتخابی عمل کوئی مذاق نہیں جس میں کروڑوں ووٹ ڈالے گئے ہوں۔ عوام کے مینڈیٹ کا احترام عمران خان اور طاہر القادری پر واجب ہے اور خدارا ملک کو نوے کی سیاست میں نہ لے جائیں۔ اس وقت پنجاب اور جڑواں شہر اسلام آباد اور راولپنڈی بند ہیں، اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہے اور غریب عوام کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ اپنے ذاتی مقاصد کو قومی مقاصد کا لبادہ اڑا کر عوام کے جذبات کے ساتھ کھیل اب بند ہونا چاہئے۔

عمران خان یہ بات جانتے ہیں کہ وہ اسمبلی میں اتنی اکثریت نہیں رکھتے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا سکیں یہی حال طاہر القادری کا ہے جن کی نمائندگی ایوان میں موجو د ہی نہیں اس لے دونوں کو سڑکوں پر آنا زیادہ آسان لگتا ہے۔ پاکستانی عوام بھی جذباتی ہیں اس طرح کی اشتعال انگیز تقاریر سے جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ جمہوری نظام میں سڑکوں پر فیصلے نہیں ہوتے بلکہ مذاکرات کے ذریعے سے مسائل کا حل نکا لا جاتا ہے۔ 2013 کے انتخابات کو عالمی مبصر شفاف ترین الیکشن قرار دے چکے ہیں۔ عمران خان اور دیگر انقلابیوں کو مکمل اقتدار حاصل کرنے کے لیے اب اگلے انتخابات تک انتظار کرنا ہوگا اور اگر ابھی اپنے حکومتی صوبے پر فوری توجہ نہ دی تو شاید اگلے الیکشن تک ان پارٹی کا پارلیمان سے مکمل صفایا ہی ہوجائے۔ انقلاب کا نعرہ لگانے والوں کے پاس کوئی جواز نہیں کہ وہ اپنی شکست کے بدلے میں ملک کو ہی آگ میں جھونک دیں۔ انتشار کی سیاست ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے اور ذمہ دارں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Javeria Siddique is a Journalist and Photographer works for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10042#sthash.cNdnLrjf.dpuf

Posted in Uncategorized

عید، مسلم امہ اور فلسطین

عید، مسلم امہ اور فلسطین

August 05, 2014   …….جویریہ صدیق..

…..مسلم امہ نے عید منائی اور فلسطین نے سوگ۔مسلم ممالک نے عید کی خوشیاں سمیٹی اور فلسطین کے حصے میں آئی بربریت اور موت۔ برونائی دارالاسلام میں جب مسلمان عید کے لیے بیدار ہو رہے تھے اس وقت فلسطین میں اسرائیلی بمباری سے آبادیاں کھنڈرات میں تبدیل ہورہی تھی۔ انڈونیشیا میں جب مسلمان عید کا خطبہ سن رہے تھےفلسطین کے مسلمان صرف بمباری۔ دھماکے اور زخمی ہونے والوں آہ پکار سن رہے تھے۔ملایشیا میں جب فرزندان توحید نے نماز عید ادا کی تو فلسطین میں لوگ شہدا کی نماز جنازہ پڑ رہے تھے۔ بنگلا دیش میں جب مسلمان عید کے نماز کے بعد بغل گیر تھے فلسطین کے مسلمان اپنے پیاروں کے مردہ وجود سے لپٹ کر رو رہے تھے۔ پاکستان میں مسلمان اپنے اہل خانہ میں عیدی بٹنانے میں مصروف تھے تو فلسطینی مسلمان اپنے پیاروں کو لحد میں اتار رہے تھے۔ ایران میں جب عید کے روایتی پکوان کھائے جارہے تھے تو فلسطین میں اس وقت بچے دودھ اور کھانے کے لیے بلک رہے تھے۔ ترکی میں مسلمان تفریح گاہوں میں عید منارہے تھَے، اس وقت فلسطین میں مسلمان قبرستان میں اپنے پیاروں کی قبروں پر آنسو بہا رہے تھے۔ اومان میں جس وقت غریب غربا میں زکوٰۃ تقسیم ہورہی تھی فلسطین میں امیر ترین لوگ بھی مدد کی بھیک مانگ رہے تھے۔ سعودی عرب میں جب شاہ کی طرف سے زائرین میں عید کے تحائف تقسیم کروائے جارہے تھے اس وقت فلسطین میں لوگ بے سرو سامانی کے عالم میں سڑکوں پر موجود تھے۔ شام میں جب مسلمان اپنے خوبصورت مکانات میں رشتہ داروں کی خاطر تواضع کررہے تھے فلسطینی بمباری سے تباہ حال اپنے مکانوں کے ملبے پر افسردہ کھڑے تھے۔ متحدہ عرب امارت میں عید کی خوشی میں آتش بازی ہو رہی تھی اسی وقت اسرائیل نے ایک بار پھر فلسطین پر راکٹ اور بموں کی بوچھاڑ کردی۔ اردن میں جس وقت بازار برقی قمقموں سے جگمگا رہے تھے اس وقت فلسطین میں ماں باپ اپنے بچوں کو بجلی کی عدم دستیابی کی بنا پر اسپتال میں مرتا دیکھ رہے تھے۔ لیبیا میں جب رات کو عید کی ضیافتیں عروج پر تھیں اس وقت فلسطینی فاقہ کشی پر مجبور تھے۔ قطر میں جس وقت مسلمان عید کے لیے لگائے گئے میلوں میں گھوم رہے تھے اس وقت فلسطینی سر چھپانے کا ٹھکانہ تلاش کر ہے تھے۔ مصر میں جس وقت لوگ ٹیلی ویژن پر عید کے پروگراموں سے لطف اندوز ہو رہے تھے اس وقت فلسطین میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بجلی منقطع تھی۔ باقی دیگر اسلامی ممالک کا بھی یہ ہی حال تھا سب عید میں مگن تھے۔ اسرائیل کی صہیونی فوج نہتے فلسطینیوں پر مظالم ڈھاتی رہی اور امت مسلمہ صرف عید کے مزے میں چور رہی۔ فلسطین لہو لہان تھا 17سو سے زائد بچے عورتیں مرد اپنی جان سے گئے اور 9ہزار سے زائد زخمی ہیں لیکن مسلم امہ کی مجرمانہ خاموشی عیاں ہے۔ 67 سال سے فلسطینی اسرائیل کی بربریت کا شکار ہے لیکن عالمی دنیا کی نظر میں اسرائیل معصوم اور نہتے فلسطینی گناہ گار ہیں۔ اسلامی دنیا جس کو امت مسلمہ کہا جاتا ہے صرف نصابی کتابوں تک محدود ہے، سب کو اپنے مفادات عزیز ہیں، حققیی دنیا میں یہ سب الگ الگ مما لک ہیں۔ تیل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ملک مل کر بھی اسرائیل پر سفارتی دباؤ نہیں ڈال سکتے؟ فلسطین میں معصوم بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے، ممنوعہ گیس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ بمباری کرتے وقت حماس نہیں بلکہ شہری آبادیوں، اسپتالوں اور مارکیٹوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آج اس خطے کے اصل مالک فلسطینی آج صرف 27میل پر محیط رہ گئے، باقی سب پر یہود قابض ہیں۔ کیا جدید دنیا میں بھی کوئی قوم اتنی سفاک ہو سکتی ہے جو اپنے ہمسایوں کے ساتھ اتنا غیرانسانی سلوک کرے۔ جی یہ اسرائیل اتنا ہی سفاک ہے، جو مذہبی اور نسلی بنیادوں پر فلسطینیوں کی آنے والی نسل کو ختم کر رہے ہیں اور بچوں عمر بھرکی معذوری دے رہے ہیں۔ بات یہاں نہیں ختم نہیں ہوتی جو معصوم فلسطینی بچے ان مظالم سے بچ گئے ہیں، ان میں سے بیشتر ماں با پ کے سائے سے محروم ہیں۔ ایک نسل معذور اور دوسری یتیم ……آہ۔ کبھی ایک فوجی گیلاد شاد کا بہانہ کرکے حملہ کرے تو آج ہادار گولڈن کی وجہ سے سینکڑوں معصوم جان سے گیے۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ مسلم ممالک اور مغربی ممالک کے عام عوام تو اسرائیلی بربریت پر سراپا احتجاج ہیں، تاہم ان تمام ممالک کے حکمران نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ کہاں ہیں اسلامی ممالک، امن کے خود ساختہ علم بردار نیٹو ممالک، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور عالمی رفاہی تنظیمیں …….کوئی ہے جو اس بربریت اور ظلم کو روکنے کے لیے آواز بڑھائے۔

لیکن انسانیت تو اسی دن مر گئی تھی جس دن مردہ ماں کے وجود سے جنم لینے والی ننھی شایمہ اسپتال انکیوبیٹر میں پانچویں روز اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بجلی کی عدم دستیابی کے باعث جان کی بازی ہار گئی۔آج ایسا محسوس ہورہا ہے ہم سب تو اسرائیل کی بربریت اور ظلم سے ان کے سامنے جھک گئے ہیں لیکن ایک ہی بہادر قوم دنیا میں ہے جس کا نام فلسطین ہے اور فلسطین نے ظلم کے آگے نہ جھکنے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔
کوئی لہو کے نشے میں یہ بھول بیٹھا ہے
کہ زخم کھا کے فلسطین ہوگیا ہوں میں
وہ سر بلند فلسطین جس کا سارا بدن
لہو لہو ہے مگرپھر بھی تازہ دم ہے ابھی
اسی لیے تو میرا نام معتبر بھی ہے
اور اہل دل کی نگاہوں میں محترم ہے ابھی
میں پوری ایک صدی کا ہوں عالمی مقتول
اے سال نو مجھے اپنے نصاب میں رکھنا
میں قتل ہوکے بھی فاضل بس اتنا چاہتا ہوں
کہ میرے خون کی شبنم گلاب میں رکھنا
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10010#sthash.tuuqJAmx.dpuf

Posted in Uncategorized

ایک شوہر کی چاند رات ڈائری

, July 28, 2014   ..…جویریہ صدیق……
کہتے ہیں عید تو صرف بچوں کی ہوتی ہے لیکن جس نے بھی یہ کہا ہے جملہ ادھورا کہا کیونکہ عید صرف بچوں کی نہیں خواتین کی بھی ہوتی ہے۔ رہ گئے ہم مرد حضرات تو ہم مساکین کا کیا ہے، ایک نیا سوٹ اور چپل ہماری عید کی تیاری کے لیے کافی ہے لیکن ان خواتین کی تیاری جو رمضان کے پہلے روزے سے شروع ہوتی ہے وہ چاند رات تک بھی ختم نہیں ہوتی۔سحر ی ہو، افطاری ہو، پہلا کام جو ہمیں بتا یا جاتا وہ ہے ماسٹر صاحب سے میرے کپڑوں کا ضرور پتہ کرلینا۔کبھی ان کے جوڑوں کی سلائی کبھِی میچنگ ڈوپٹہ،کبھی پیکو، کبھی ہم رنگ گوٹا کناری سب کام ہمارے ہی ذمہ داری۔یا تو ان کو بازار لے کر جایا جائے یا پھر ہم ہی یہ عجیب وغریب اشیاء بازار سے برآمد کریں۔ بہتر یہی ہے کہ ان کو بازار ہی لے جائیں۔
جیسے ہی عید کا چاند نظر آتا ہے سارے گھر کے کام چھوڑ شیشہ سنبھال کہ کھڑی ہوجاتی ہیں، چاہے بچے روتے پھر رہے ہوں، سینک برتنوں سے بھرا ہو، ہم بھوکے مر رہے ہوں، مگر ان پر چاند رات کو بازار جانا فرض ہے۔ہم اگر جرأت کرکے پوچھ بھی لیں کہ بیگم وہ سارا رمضان جو ہم آپ کو سحری اور افطاری کے اوقات میں بازار کے چکر لگواتی رہیں وہ کیا تھا؟ تو قہرآلود نظر ڈال کر کہیں گی کہ کیا آپ کی بچوں کی عید کی تیاری نہ کروں؟جو آپ کی بہنیں آجائیں گی ان کو عیدی میں کچھ نہیں دینا؟ ہم معصوم سے بن کر کہتے ہیں کہ کیا پچھلے 28دن آپ صرف اپنی تیاری کرتی رہیں؟ بس یہ سننے کی دیر ہوگی کہ وہ رونا دھونا شروع ہوگا کہ اللہ کی پناہ، ہائَے جب سے آپ کے گھر آئی ہو ،ں ملازمہ بن کر رہ گئی ہوں، اگر ذرا سا کچھ اپنے اوپر خرچ کرلیا تو آپ کا دل تنگ پڑ رہا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ ان کا ذرا سا خرچہ ہماری مہینے بھر کی تنخواہ خرچ کرگیا اور اب بھی ان کے دل کے ارمان پورے نہ ہوئے۔
گھر سے نکلیں تو سب سے پہلے یہ درزی کے پاس جائیں گے، سوٹ تیار ہے تو یہ بات باعث مسرت ہوگی، اگر نہیں ہے تو کیا بگاڑ سکتے ہیں درزی کا یا بیگم کا، فوراً کسی بوتیک پر لے جائیں اور ان کو ایک اور جوڑا خرید دیں۔ ڈیزائنر جوڑے سے نیچے تو کچھ لیں گی نہیں، آپ لاکھ کہیں کہ وہ بیگم اس کا (ریپلیکا) نقل لے لو تو کہیں گی کہ آپ کی بیگم ہوکر اب میں سستا جوڑا لوں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں بالکل بالکل میں تو کسی سلطنت کا سلطان ہوں ناں، لو بیگم اور لو، زہر کا گھونٹ بھر کر ہم یہ بات کہتے ہیں۔جوڑا خرید لیا تو اب جیو کہانی پر آنے والے شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل میرا سلطان میں آنے والی ملکہ حورم سلطان جیسی جیولری کی باری آتی ہے۔ نقلی زیورات بیچنے والا دکاندار بھی اتنا جھوٹا ہے کہ کیا کہوں، مسلسل ہماری بیگم کو کہتا ہے باجی یہ بھِی خرید لیں وہ بھی آپ تو بالکل حورم سلطان جیسی ہیں، حالانکہ بیگم تو کھا کھا کر دایا خاتون جیسی لگنے لگی ہیں، لیکن ہم امن و امان کے پیش نظر زبان بندی پر ہی یقین رکھتے ہیں۔جب ہماری بیگم میرا سلطان جیسے ملبوسات اور زیورات سے فارغ ہوجاتی ہیں تو باری آتی ہے جوتوں کی۔ساری دکان کے جوتے نکلوا دیں گی اور آخر میں یہ کہہ کر اٹھ جائیں گی کہ کوئی بھی جوتا اچھا ہی نہیں۔پانچ چھ دکانوں میں سیلزمینوں کو ناکوں چنے چبوا کر آخر میں ایک جوتا لے ہی لیں گی۔ اب نمبر ہے مہندی کا، ہم بچے اٹھائے اٹھائے تھک کر چور ہوجاتے ہیں لیکن نہ اب تک ہماری باری آئی ہے، نہ ہی بچوں۔ ہم یہ سوچ کر خوش ہوجاتے ہیں کہ چلو یہ پارلر میں ہیں تو جب تک ہم گاڑی سے باہر چلتی پھرتی خوبصورتی کو سراہ سکیں گے لیکن پارلر سے مہندی لگواتے وقت بچے بھی ہمیں دے جائیں گی اور گاڑی کے شیشے پر بلائیں لگا جائیں گی۔ہائے ری قسمت بچوں کے ابا کو نوٹس بھی کس نے کرنا ہے۔ بچے ہم سے مختلف فرمائش کرتے رہیں گے، ابا آئس کریم، ابا پاپ کارن، ابا باتھ روم یہ سب ہم ہی کو کرنا پڑے گا۔
ان کے لوازمات کے بعد اب ہماری خریداری کی باری آتی ہے، شہر کے سب سے سستے بازار کی سب سے سستی دکان کا رخ کرتی ہیں اور 70فیصد سیل والی دکان سے ہمیں ایک عدد شلوار سوٹ اور جوتا مل ہی جاتی ہے۔ اس دکان میں اپنے ماتحت لوگوں سے بھی ملاقات ہوجاتی ہے اور وہ بنا عیدی لیے جان نہیں چھوڑتے۔بچوں کی شاپنگ کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہماری شامت ختم لیکن ابھی ان کو گول گپے چاٹ کھانی ہوتی ہے۔ان کے فولادی ہاتھوں پر تو مہندی لگی ہوئی ہوتی ہے اس لیے ان کو اور بچوں کو ہم ہی گول گپے چاٹ کھلاتے ہیں۔خود تو بھوکے ہی مر جاتے ہیں۔ ان تمام ترچاند رات کی ستم ظریفوں کے بعد جب ہم کہتے ہیں کہ بیگم صبح عید کی نماز کے لیے جلدی اٹھنا ہے چلو واپس چلیں تو کہتی ہیں کہ چوڑیاں تو ابھی رہتی ہیں، مہندی ابھی ہی خشک ہوئی ہے۔
اب ان کو چوڑیاں پہنانے کے لیے لے کرچلو ہم نے مذاقاً پوچھ لیا بیگم آپ کے ہاتھ کے سائز کی چوڑیاں بنتی بھی ہیں تو فوراً ناراض ہو جائیں گی۔اس ناراضگی کو ختم کرنے کے لیے آپ کو مزید شاپنگ کے لیے پیسے نکالنا ہوں گے۔ورنہ یہ جھگڑا میکے تک پہنچ جائے گا۔ بس یہ اس کے بعد بھی اپنی شاپنگ میں مگن پرس، کلپ، میک اپ اور ہم رہیں گاڑی میں سڑتے۔
گھر پہنچ کر بھی سب کام ہم سے ہی کروائیں گی کیونکہ ان کے ہاتھ تو حنا سے مزین ہیں۔ ڈرائنگ روم کی صفائی، بچوں کو کھانا کھلانا اور کچن کے سب کام کرکے جب ہم چار بجے بستر پر دراز ہوتے ہیں۔ تو ٹھیک دو گھنٹے بعدعید کی نماز کے لئے چھے بجے اٹھاتے ہوئے بیگم کہتی ہیںکہ کوئی نماز روزے کی پروا نہیں بس صرف سونے کا شوق ہے، خیر انسان صرف صبر کے گھونٹ پینے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے ۔چاند مبارک، عید مبارک !!
Javeria Siddique is a Journalist and Photographer works for Daily Jang
Contact at https://twitter.com/#!/javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9994#sthash.3cGcbV64.dpuf

Posted in Uncategorized

درزی اور عید

, July 28, 2014   ….جویریہ صدیق…..
عید الفطر پر جتنا مصروف درزی صاحبان ہوتے ہیں شاید ہی اور کوئی ہوتا ہے۔ خواتین جو کپڑوں کی سلائی کی وجہ سے پہلی رمضان سے ان کی دوکانوں کا رخ کرتی ہیں تو سلسلہ 29 رمضان تک جاری رہتا ہے۔ آپ نے خریدا ہوگا کوئی پانچ ہزار والا ڈیزائنر لان سوٹ یا چکن کاری یا پھر کڑھائی سے مزین کوئی شفون کا تھری پیس سب بیکار جا سکتا ہے اگر ماسٹر صاحب آپ کو آپکا جوڑا بروقت سلائی کرکے نہیں دیتے۔
درزی، ٹیلر انکل، ماسٹر صاحب الگ الگ ناموں سے ان کو پکارا جاتا ہے پر کام سب کا ایک ہی ہے کپڑے کبھی بروقت نا دینا۔آپ ان کی اس ہی خاصیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کو سوٹ سلائی کے لیے ماہ رمضان سے پہلے بھی دے آئیں لیکن یہ چاند رات سے پہلے آپ کو سوٹ دے دیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جب بھی ماسٹر صاحب کو فون کرو یا تو بند یا پھر مسلسل مصروف۔ دوکان پر کپڑوں کا پوچھنے کے لیے چلے جائو تو بہانے ملاحظہ ہوں باجی گائوں میں ایمرجنسی ہوگئی تھی وہاں چلا گیا تھا۔باجی بجلی نے بہت تنگ کیا ہوا ہے کیا کریں ہم کہاں یو پی ایس لگوا سکتے ہیں۔
اس سے پہلے کے آپ کے تیور بگڑنے لگیں تو کہتے ہیں باجی بس یہ دیکھیں آپ کا ہی سوٹ کا ٹنے لگا تھا کل شام تک تیار ہوجائے گا ۔آہ لیکن وہ شام کوئی پندرہ سے بیس دن کےبعد ہی آتی ہے ۔کبھی آپ کا سوٹ جلدی سلائی ہو بھی جائے تو غیر متوقع طور پرآپ کو صدمہ بھی پہنچ سکتا ہے باجی کیا سوٹ آپ کا تھا ؟؟؟ میں نے تو چھوٹی باجی کے ناپ کا بنا دیا ہے ۔بس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے آپ میں حوصلہ پیدا کریں کوئی بات نہیں چھوٹی بہن کو اپنا سوٹ دے دیں اور اسکا خود لے لیں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی حل نہیں۔
دوسرا صدمہ جو آپ کو عید کے نزدیک پہنچ سکتا ہے کہ ٹیلر انکل وہ ڈیزائن بالکل نہیں بنائیں گے جو آپ دے کر آئےہوں گے۔ بہت ارمان کے ساتھ آپ نے وہ ماڈل والی تصویر اپنے جوڑے کے ساتھ جو دی تھی، ماسٹر صاحب نے تو اس پر پکوڑے رکھ کر کھا لیے تھے۔اس لیے ایک بار جوڑا ماسٹر صاحب کو دینے کے بعد ان کو روز اس کا ڈیزائن یا د کرنا نا بھولیں۔
ایک اور کارنامہ بھی صرف درزی ہی انجام دے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ باجی وہ رش میں آپ کا جوڑا کہیں گم ہوگیا ہے یہ ایک ایسا جملہ ہے جو آپ کے حواس پر بم گر اسکتا ہے۔درزیوں کی ان تمام کارستانیوں کا اثر براہ راست مردحضرات پر پڑتا ہے خواتین ایک تو روز ان کے چکر لگواتی ہیں اوپر سے اگر ماسٹر صاحب جوڑا خراب کر دیں تو پھر ان کو ایک اور اتنی ہی مالیت کا نیا جوڑا چاہیے ہوتا ہے۔اس کے ساتھ درزیوں کی طرف سے کیے جانے والے تمام مظالم کی داستانیں اور غیبتیں بھی مرد حضرات کو سننا پڑتی ہیں۔
بات اگر مرد حضرات کی ہو تو انہوں نے خواتین کی طرح پانچ یا چھ جوڑے تو نہیں سلوانے نہیں ہوتے لیکن ان کا عید کا کرتا اور شلوار قمیض بھی بہت جتن کے بعد تیار ہوتا یہاں پر بہانے وہ ہی ہوتے ہیں کہ آپ کا کرتا کاج کے لیے گیا ہوا ہے بس آپ کا گلا کاٹ رہا ہوں ، اس کا مطلب ہے کہ آپ کے عید کے جوڑے کا گلا، بازو کٹ گئے ہیں بس قمیض سے جڑنے کی دیر ہے یہ وہ عام جملے ہیں جو چاند رات تک یہ آپ کے گوش گزار کرتے رہیں گے۔ کبھی کہیں کے کاریگر بھاگ گئے اور کبھی آپ کے سوٹ کے ہم رنگ بٹن نہیں مل رہے۔
اگر آپ اس سب سے بچنا چاہتے ہیں تو ماسٹر صاحب کو رمضان میں متواتر افطاریاں بجھواتے رہیں ایک عدد جوڑا بھی تحفے میں دیں گے اگر اس کے بعد بھی صورتحا ل میں تبدیلی نا آئےتو آپ کسی بھی بوتیک سے ریڈی میڈ جوڑا لے آئیں ۔اب بہت مناسب قیمت میں ہر طرح کے سلے سلائے سوٹ مل جاتے ہیں ۔ اس کے ساتھ اب پاکستان میں انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سے ای سٹور بھی متعارف کروادیے گئے ہیں۔ آن لائن اب خواتین، مرد اور بچوں کے لیے ہرطرح کے کپڑے موجود ہیں ۔آپ صرف پسند کریں تو ایک دن میں جوڑا آپ کے گھر پہنچ جائےگا اور اس ہی وقت ادایگی کردیں کوئی کریڈیٹ کا چکر بھی نہیں ۔کیش ادائیگی کریں اور گھر بیٹھے جوڑا حاصل کریں۔ میں تو جارہی ہوں اپنا جوڑا لینے ماسٹر صاحب نے تیار کر ہی دیا ،آپ کا تیار ہوگیا ؟ ضرور بتائیے گا، عید مبارک ۔ – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9993#sthash.074B22mn.dpuf

Posted in Uncategorized

رمضان المبارک اور افطار پارٹیاں

July 22, 2014   ………جویریہ صدیق……… رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آغاز ہوگیا ہے لیکن اب بھی بہت سے لوگوں کی توجہ صرف افطار پارٹیوں پر مرکوز ہے۔بیس روزے کافی نا تھا کہ طاق راتوں کے عشرے میں بھی عوام الناس کو دعوت افطاری سے فرصت نہیں۔پاکستان میں زیادہ تر افطاریوں کا مقصد ہی صرف پی آر میں اضافہ کرنا ہوتا ہے اگر اللہ کی خوشنودی مقصود ہو تو یہ ہی کھانا مستحقین کو کھلایا جایے۔لوگوں کی عام طور پر کوشش ہوتی ہے ایک پر تکف سی افطاری کرکے تمام جاننے کو بلوالیا جایے جن سے کویی کام نکلوانا مقصود ہو۔بعض اوقات یہ افطاریاں گھر پر کیٹرنگ کر کے کروایی جاتی ہیں اور بعض اوقات کسی چار یا پانچ ستارے والے ہوٹل ہیں یہ کام انجام دیا جاتا ہے۔افطاری پر کھانے پینےکا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور ملبوسات بھی خاص اہتمام کے ساتھ پہنے جاتے ہیں لیکن میزبانوں سے اگر یہ پوچھا جایے کہ نماز ادا کرنی ہے تو وہ قبلے کا رخ بتانے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔اکثر تقریبات میں نماز کی اداییگی کے لیے خاص انتظام ہوتا بھی نہیں۔افطاری کے لوازمات کی بات کی جایے تو کیا نہیں جو موجود نا ہو پکوڑے، سموسے، دہی بھلے فروٹ چاٹ، کچوریاں، کھجوریں، پھل ، سلاد ، مٹھاییاں، کیک پسٹریاں ، مشروبات اس کے بعد بات کی جایے کھانے کی تو جتنی اوپر کی آمدنی اتنا وسیع کھانے کا منیو مرغی ، مچھلی ، بریانی ، روغنی نان ،سالم بکرے دنبے اور انواع اقسام کے میٹھے بھی شامل ۔ خواتین اور مرد حضرات کی بڑی تعداد اذان ہونے سے پہلے ہی کھانے پینے پر ٹوٹ پڑتی ہے سب کو بس یہ جلدی ہوتی ہے کہ پلیٹ جلد سےجلد بھر لی جایے ۔اکثر اوقات ان جیسے افراد کی پیلیٹس کسی ڈش کا منظر دکھا رہی ہوتی ہیں سموسے پکوڑے چکن کیا نہیں جو ایک پلٹ میں لبالب بھرا ہو ۔اکثر لوگ توا س طرح سے کھانے پر ٹوٹتے ہیں جیسے آج سے پہلے انہوں نے کبھی کھانا کھایا ہی نہیں۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی ان افطار پارٹیوں میں ان تمام پکوانوں سے انصاف کے بعد آخر میں چایے اور قہوے کا دور چلتا ہے۔اس دوران مغرب اور عشاء کی نماز بھی قضا ہوجاتی ہے اور باہر انتظار میں گارڈز اور ڈرایورز بھوکے رہ جاتے ہیں ۔لیکن ان باتوں کی کیا پروہ توجہ صرف شکم سیری پر مرکوز ہوتی ہے۔

روزے کا مقصد نفس کو قابو کرکے صبر کرنا ہے، اس مہینے کا مقصد غریب اور مساکین کی مدد کرنا ہے ناکہ اپنا قیمتی عبادت کا وقت ہلے گلے والی افطار پارٹیوں پر صرف کرنا۔اب تو صرف افطار پارٹیاں نہیں بلکے سحری پر بھی دعوت دینا عام ہوگی ہے یوں لوگ اس عبادتوں کے مہینے کو صرف کھانے پینے کے مہینے میں تبدیل کر جاتے ہیں۔ان کا مقصد صرف سحری میں کیا کھا جاے اور افطاری کہاں کی جایے رہ جاتا ہے۔اس ہی مسلسل کھانے میں بے احتیاطی کی وجہ سے رمضان کے مہیںے میں ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔پمز کے سینر ڈاکٹر وسیم خواجہ کے مطابق عام دنوں کے برعکس ماہ رمضان میں تیزابیت ، معدے اور خوارک کی نالی میں جلن،پیٹ میں درد ،اسہال، ڈایریا ، پیٹ کے کیڑوں اور گیسٹرو کے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔اس کی بڑی وجہ باہر کی جانے والی افطاریاں، بازاروں کے بنے ہویے کھانے اور چکنایی سے بھرپور اشیاء ہیں۔ڈاکٹر وسیم خواجہ کے مطابق سحری میں افطاری میں اعتدال سے کھایں۔تلی ہویی اشیاء سے ہر ممکن پر ہیز کریں نمک کا استعمال کم سے کم کریں۔گرمی کے روزوں میں لیموں پانی ، دودھ ، دہی، پھل ، سبزیوں کا استعمال کریں۔ کھانا آرام آرام سے چبا کر کھایں اور واک ضرور کریں۔انہوں نے مزید کھا کہ سحری اور افطاری کے ٹایم کے دوران پانی کا استعمال بھی زیادہ کریں تاکہ جسم میں نمکیات کی کمی نا ہو۔افطاری اور سحری کا اہتمام گھر میں کیا جایے اور کھانا بنانے سے پہلے اور کھانا کھاتے وقت ہاتھ ضرور دھو لیے جایں۔

رمضان المبارک کا آخری عشرہ جاری ہے اس مہینے میں صرف کھانے پینے کو مقصد نا بنایا جایے۔ عبادات میں خصوع وخشوع کے ساتھ اپنے گناہوں کی توبہ کرنی چاہیے اور اللہ سے رحمت کا طلب گا ر ہونا چاہیے ۔ اس کے ساتھ اپنے ارد گرد غریب رشتہ داروں اور دیگرافراد کی مدد کرنی چاہیے جتنے کی افطاری آپ ایک پانچ ستارے والے ہوٹل میں کر آتے ہیں اتنے میں ایک غریب گھرانے کا پورا راشن آجاتا ہے۔جتنا کھانا آپ افطاریوں میں ضایع کر آتے ہیں اس سے بہت سے مساکین اورنادر افراد کا پیٹ بھر سکتا ہے۔اگر اعتدال کے ساتھ کھاتے ہویے ہم مبارک مہینہ گزاریں تو ہم بیماریوں سے بھی محفوظ رہیں گے اور دلجمعی کے ساتھ نیکوں میں بھی اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

Javeria Siddique is a Journalist and Photographer works for Daily Jang …

. Contact at https://twitter.com/javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9986#sthash.9MiLXYrE.dpuf

Posted in Uncategorized

پولیو کی روک تھام کیسے؟

July 15, 2014   ……جویریہ صدیق…… پاکستان میں صحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے ۔زبانی کلامی تو اس شعبے کی بحالی کے حوالے سے بہت سی باتیں کی جاتی ہیں لیکن عملی طور پر اقدامات کا فقدان ہے۔بات کی جائے اگر پولیو کی تو پولیو ایک ایسا مرض ہے جو دنیا بھر سےتقریبا ختم ہوچکا ہے لیکن سوائے تین ممالک کے جن میں پاکستان،نائیجیریا اور افغانستان شامل ہے۔ انسداد پولیو کے عالمی مانیٹرنگ بورڈ کی پولیو سے متعلق رپورٹ میں یہ حقیقت عیاں ہے کہ پاکستان پولیو کے پھیلائو میں سب سے آگے ہے۔دو ہزار چودہ میں دنیا میں پولیو کے شکار ہر پانچ میں سے چار کیسز پاکستان میں ہیں۔گذشتہ چھ ماہ میں پاکستان سے پولیو وائرس شام،اسرائیل اور غزہ منتقل ہوا۔اس صورتحال کے بعد عالمی ادارہ صحت نے پاکستانی مسافروں پر انسداد پولیو ویکسین کا سرٹیفکیٹ لازم قرار دے دیا ہے۔اگر کسی بھی مسافر نے پولیو ویکسن کی خوراک نا پی ہو اور انسداد پولیوویکسین سرٹیفیکٹ نا ہو تو اس مسافرکو ملک بدر کردیاجایےگا۔ پاکستان کے لیے صورتحال لمحہ فکریہ ہے کہ صحت کے شعبے میں پاکستان کا نام نائیجیریا اور افغانستان جیسے کم ترقی یافتہ ملکوں میں آتا ہے اور اب اس پر سفری پابندیاں بھی عائد کر دی گی ہیں۔

پاکستان میں اگر پولیو کی صورتحال کا جائزہ لیں تو دو ہزار گیارہ میں ایک سو اٹھانوے پولیو کیسز سامنے آئے،دو ہزار بارہ میں چھپن بچے اس مرض میں مبتلا ہویے۔دو ہزار تیرہ میں پچاسی کیسز مزید سامنے آئے،جائزہ لیں اگر دو ہزار چودہ کا تو پانچ جولائی تک ملک بھر میں نوے پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں فاٹا میں اڑسٹھ کیسز ہیں شمالی وزیرستان میں پچپن، جنوبی وزیرستان میں پانچ،خیبر ایجنسی میں چھ اور ایف آر بنوں میں دو شامل ہیں۔ خبیر پختون خواہ میں پندرہ کیسز سامنے آئے جن میں پانچ پشاور، نو بنوں، ایک مردان میں ہے۔صوبہ سندھ میں سات کیسز جن میں سات کے سات کراچی میں ہیں ایک بلدیہ، ایک اورنگی ،تین گڈاپ، ایک سائٹ اور ایک لانڈھی سے سامنے آیا۔بات ہو بلوچستان کی اور پنچاب کی تو اس سال دونوں صوبوں میں کوئی پولیو کیس اب تک سامنے نہیں آیا۔

خیبر پختون خوا اورفاٹا میں پولیو کیسز سیکورٹی خدشات اور انسداد پولیو ٹیمز پر حملوں کی وجہ سے متاثر ہونے والی مہمات کی وجہ سے زیادہ ہوئےہیں۔ پاکستانی عوام میں انسداد پولیو مہم کو لے کر بہت سے خدشات موجود ہیں یہ بات عام ہے کہ اس ویکسین کی وجہ سے انسان بانجھ پن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یہ صرف مفروضہ ہی ہے علماء اور ماہرین انسداد پولیو ویکسین کو بالکل محفوظ قرار دیتے ہیں۔نیز یہ کہ اس میں کوئی حرام اجزا بھی شامل نہیں۔بات صرف یہاں ہی ختم نہیں ہوتی انسداد پولیو مہم کو سب سے بڑا جھٹکا پاکستان میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کا اسامہ بن لادن کی جاسوسی ایک ہیلتھ ورکر کے روپ میں کیے جانے کی وجہ سے لگا ۔ اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد سے عسکریت پسندوں نے ہیلتھ ورکرز پر حملے شروع کردیئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ان حملوں میں خواتین ،مرد ہیلتھ ورکرز اور سیکورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی جان کی بازی ہاری۔ان تمام واقعات اور قدامت پسندی کی وجہ سے پولیو کیس سب سے زیادہ فاٹا اور کے پی کے میں ہیں اور یہاں سے ہی یہ وایرس دنیا بھر میں منتقل ہورہا ہے۔

حکومت اور محکمہ صحت پولیو سے نمٹنے کے لیے ہنگامی طور پر اقدامات کررہے ہیں لیکن فاٹا میں امن امان کی صورتحال اور فوجی آپریشن کے باعث اہداف مکمل کرنا ناممکن ہے ۔اس وقت آپریشن ضرب عضب کے باعث نقل مکانی کرنے والے نو لاکھ افراد کو بھی پولیو ویکسن دی جارہی ہے تاکہ اس مرض کو پھیلنے سے روکا جائے۔

پاکستان اس وقت مختلف انسداد پولیو مہمات کے ذریعے سے پولیو پر قابو کرنے کی کوشش کررہا،گھر گھر جا کر ہیلتھ ورکرز بچوں کو ویکسن پلارہے ہیں۔اسپتالوں میں بھی خصوصی کاونٹرز قائم ہیں اور بیرون ملک جانے والے مسافروں کے لیے ہوائی اڈوں پر پولیو ویکسن کی خوراک دی جارہی ہے۔ سعودیہ عرب نے بھی اس ضمن پاکستان کو ایک کروڑ پولیو ویکسن کی خوراکیں فراہم کی ہیں۔ یہ خوراک ہوائی اڈوں پر استعمال ہوگی۔

تاہم ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے صرف حکومت پر نہیں ہمیں توہم پرستی کی پٹی آنکھوں سے اتار کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم آنے والی نسلوں کو مفلوج مستقبل دینا چاہتے ہیں یا پھر روشن مستقبل ؟علماء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ انسداد پولیو ویکسن میں کوئی حرام اجزا نہیں نا ہی اس میں کوئی بانجھ پن پیدا کرنے کی اجزاء ہیں۔ علماء کا یہ بھی مزید کہنا ہے کہ ہیلتھ ورکرز پر حملے اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں ان کو روکنا ہوگا ۔اس کے ساتھ عالمی دنیا کو بھی اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ صحت کے اہلکاروں کا جاسوسی کی کاروایوں میں استعمال نا کیا جائے،صحت کے اہلکار صرف صحت سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ ہیلتھ ورکرز کی تنخواہ اور مراعات میں بھی اضافے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ شعبہ صحت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اگر ان کو مناسب مراعات فراہم کر دی جائیں تو یہ مزید مستعد ہوکر پولیو کے خلاف جنگ حصہ ڈال سکیں گے – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9974#sthash.ecjZ3rxi.dpuf