Posted in ArmyPublicSchool, Pakistan

بینش عمر شہید تمغہ شجاعت

11899792_10153093634323061_6483232467340070293_n

. جویریہ صدیق……آج ماں سے محبت کا عالمی دن ہے۔ ماں ایک ایسا رشتہ جو بے غرض بے لوث محبت کرتا ہے۔ماں جب اپنی آغوش میں اولاد کو لیتی ہے ایک زمانے کے غم مٹا دیتی ہے۔اس کی آغوش کی ٹھنڈک میں ہر درد کی تاثیر ہے۔ماں قربانی احساس اور ایثار کا دوسرا نام ہے۔ماں کی بانہوں کا حصار بچے کو وہ سکون دیتا ہے جو دنیا کی کسی اور نعمت سے حاصل نہیں۔ پشاور کی اٹھایس سالہ بینش عمر شہید تمغہ شجاعت بھی ممتا کے خمیر سے بنی تھی۔کمپیوٹر ساینس میں ایم اے کیا۔ عمرزیب بٹ کے ساتھ رشتہ ازداوج میں منسلک ہویی اور اللہ نے تین بار بینش کے آنگن میں اپنی رحمت کا نزول کیا۔بڑی بیٹی حباء منجھلی بیٹی عنایہ اور سب سے چھوٹی گڑیا عفف ۔ممتا کے عہدے پر فایز ہونے کے بعد بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا،پھر جب جاب کرنے کا فیصلہ کیا تو درس و تدریس کا انتخاب کیا۔بینش ایک نی نسل کو اپنے ہاتھوں سے پروان چڑھانے کی خواہش مند تھیں۔آرمی پبلک سکول پشاور میں تدریس کا آغاز کیا اور آٹھویں جماعت کو کمپیوٹر پڑھانے لگیں۔

بچوں کو ہر دل استاد بینش کوشش کرتی کہ کمپیوٹر کی تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ بچوں کی اخلاقی اور دینی اطوار پر تربیت کریں۔استاد اگر کم عمر ہو تو بہت جلد بچوں کا دوست بن جاتا ہے اور بچے بھی بلا جھجک اپنے مسایل استاد ساتھ زیر بحث لیے آتے ہیں۔بینش بھی اپنے طالب علموں کی بہترین دوست تھی۔ماں استاد اور دوست بینش نے سولہ دسمبر کو بھی اپنے بچوں کو تنہاہ نا چھوڑا۔سکول میں حباء کے جی کلاس میں تھی اور نھنی گڑیا عفف سکول کے ہی ڈے کیر میں تھی۔لیکن بینش نے اپنی اولاد کے بحایے اپنے روحانی بچوں کو فوقیت دی۔نہتی روحانی ماں نے دہشت گردوں کو للکارا معصوم بچوں کو جانے دو۔ان کا کیا قصور ہے۔بینش نے بچوں کو ہال سے نکالنے کی کوشش کی لیکن ظالم دہشت گرد جدید اسلحے کے ساتھ ہر طرف موجود تھے۔کچھ بچے نکلنے میں کامیاب بھی ہوگیے لیکن دہشت گردوں کی ایک گولی بنیش کے بازو میں پیوست ہویی اور وہ اسٹیج کے پاس گر گی اس کے بعد تو جسیے گولیوں کی بوچھاڑ ہوگی اور گردن میں لگنے والی گولی باعث بینش شہادت کے اس رتبے پر فایز ہوگیں ۔

بینش دنیا سے چلی گیئں لیکن زندہ جاوید ہوکر جب بھی طالب علم استاد کی عظمت کے بارے میں پڑھیں گے تو تاریخ کے اوراق پر روحانی ماں استانی بینش عمر شہید کا نام جلی حروف سے لکھا ہویا پایں گے۔بینش عمر شہید تمغہ شجاعت کے شوہر عمر زیب بٹ کہتے ہیں کہ میں نے اور بینش نے ساتھ تعلیم حاصل کی۔اپنی بہترین دوست کو ہی میں نے اپنا شریک حیات چنا۔بینش کہ آتے ہی میری زندگی میں بہار آگی خوش اخلاق سب سے شفقت اور احترام سے ملتی بینش پل بھر میں سب کو گرویدہ بنا لیتی۔امور خانہ داری میں ماہر مجھے ہر چیز بس تیار ملتی۔میرے والدین کی خدمت اپنے والدین کی خدمت اور ساتھ میں درس و تدریس لیکن کبھی تھکن کا شایبہ نہیں۔پندرہ دسبمر کو مجھے آفس فون کیا اور کہا کہ ایک عزیزہ ہسپتال میں داخل ہیں ان کی عیادت کے لیے جانا ہے۔میرے ساتھ گی ان کی خیریت دریافت کی بعد میں ہم بچوں کو بھی چیک اپ کے لیے گیے دو بیٹوں کی طبعیت ناساز تھی ۔میں نے بینش سے کہا بھی کہ کل سکول مت جاو لیکن بینش نے کہا چھٹی کرنے سے روحانی بچوں کا حرج ہوتا ہے۔

سولہ دسمبر عناییہ تو گھر پر ہی تھی لیکن حباء اور عفف بینش کے ساتھ ہی سکول گیں۔جب میں آفس جانے لگا تو روز کی طرح بینش میری ہر چیز تیار کرکے گی ہویی تھی،عناییہ کے لیے بھی ہر چیز رکھی ہویی تھی ۔میں آفس چلا گیا۔کہ اچانک دوست نے بتایا کہ آرمی پبلک سکول ورسک روڈ پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔میں دوست کے ساتھ ہی وہاں پہنچا بینش کو بہت فون کیے امید یہ ہی تھی کہ بینش خیریت سے ہوگی سب بچے محفوظ ہوں گے۔نا ہی بینش کا پتہ چل رہاتھا نا ہی میری دونوں بیٹوں کا ۔آرمی کا آپریشن چل رہا تھا تو ہم سکول میں داخل نہیں ہوسکتے تھے۔میری بیٹاں تو آرمی نے باحفاظت اپنی تحویل میں لے لیں تھیں اور ان کو قریب ہی محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا میرا بھایی انہیں لے کر گھر چلا گیا مجھے مزید حوصلہ ہوا کہ میری دوست میری محبت میری غم گسار بینش زندہ ہوگی۔لیکن تلاش اس وقت ختم ہویی جب ہسپتال میں شہید ہونے والوں کی فہرست میں بینش کا نام سرفہرست تھا۔میں ہسپتال گیا تو قیامت صغری برپا تھی ہر طرف چیخ و پکار نھنے بچوں کی کفن میں لپٹی ہویی لاشیں۔میں کیا پورا پشاور شہر رو رہا تھا کہ اتںے بے گناہوں کا خون ایک ساتھ پہلے کبھی نا بہا تھا۔میں بینش کو ڈھونڈتا رہا ایک کفن میں لپٹے ہویے جسد خاکی کا ہاتھ کچھ باہر تھا وہ میری بینش کا ہاتھ تھا۔’

بینش چلی گی اپنی جان اس وطن کے لیے قربان کرگی لیکن عمر بٹ کے مطابق حباء عنایہ تو اس عمر میں ہی نہیں ہیں کہ انہیں اپنی ماں کی قربانی کا ادراک ہو۔چار سال کی حباء ہر وقت اپنی ماں کا ڈوپٹہ لیے پھرتی ہے اور عنایہ کو کہتی ہے کہ میں ہو بنیش تمہاری ماما۔کبھی اپنی ماما کے جوتے پہن لیتی ہے تو کبھی ماما کی جیولری پہن کر گھر گھر کا کھیل کھیلتی ہے۔جب رات ہوتی ہے تو یہ دونوں روتی ہیں کہ ماما کہاں ہیں تو میں خود کو بہت بے بس محسوس کرتا ہوں کہ ماں کا لمس ان کے لیے نہیں لا سکتا۔عفف تو صرف چار ماہ کی تھی جب بینش چلی گی وہ تو اس کرب سے ابھی آشنا نہیں جس سے حباء اور عناییہ گزر رہی ہیں۔میں میری والدہ اور ساس ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ تینوں بچیوں کو کسی چیز کی کمی نا ہو لیکن والدہ کی کمی کویی پورا نہیں کرسکتا۔بینش کی شہادت کے بعد میری بیٹی حباء نے چند ہی روز بعد پارک جانے کی ضد کی میری لیے سوگ کی کفیت میں اسے پارک لیجانا مشکل تھا لیکن اس ضد کے آگے ہار مان کر جب میں پارک گیا تو وہ پارک میں بھی بینش کو دھونڈتی رہی کہ کہیں سے ماں سامنے آجایے اور ماں کو یاد کرکے زاروقطار روتی رہی۔اس وقت میرے دل پر جو گزری وہ میرا اللہ ہی جانتا ہے۔میں اپنی بچیوں کو ہر ہفتے انکی شہید ماں کی قبر پر لے جاتا ہوں ہم اس کی قبر پر فاتحہ پڑھتے ہیں اور پھولوں سے اسے سجا دیتے ہیں۔اب چند دن پہلے ابھی ہم عمرے پر گیے تب بھی پاکستان سے سرزمین حجاز تک بینش کا ڈوپٹہ حباء کے ساتھ رہا۔’

انیس سو سنتالیس میں پاکستان کے قیام کے وقت میرے خاندان کے سترہ افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا اور سولہ دسبمر کو بنیش بھی پاکستان پر قربان ہوگی۔مجھے اپنی اہلیہ کی قربانی پر فخرہے۔جب تک میری اہلیہ حیات رہی اس کی زندگی کا مقصد بچوں کی اچھی تربیت تھا۔اس نے اپنے شاگردوں کی جان بچاتے ہویے اپنی جان قربان کی اور استاد شاگرد کے رشتے کو امر گرگی۔ہر بچہ کے لیے وہ ماں کی شفقت رکھتی تھی وہ اکثر کہتی تھی یہ میرے شاگرد نہیں میرے بیٹے ہیں۔گذشتہ برس عالمی یوم ماں پر بینش نے پورے گھر کو سجایا میری اور اپنی والدہ کو تحایف دیے اور ہماری بیٹیوں کو بھی اس دن کی اہمیت سے آگاہ کیا۔اس ماں کے عالمی دن پر میری بچیوں کے ماں ان کے پاس نہیں لیکن میں اپنی بیٹوں کے ساتھ میں یہ دن اپنی شہید اہلیہ کی قبر پر حاضری دیے کر منا رہا ہوں ۔میری بیٹاں اپنی شہید ماں کے لیے کارڈز اور پھول لے کر ان کی قبر کے پاس مدرز ڈے منا رہی ہیں

۔میرے خاندان نے قیام پاکستان کے لیے قربانی دی اور اب بینش نے اس ملک کی بقا کے لیے قربانی دی۔یہ وقت میری معصوم بیٹیوں کے لیے بہت کٹھن ہے لیکن بڑے ہوکر انہیں اپنی ماں پر فخر ہوگا۔میری گزارش ہے کہ حکومت اور آرمی ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ کردیں اور سانحہ پشاور کے مجرمان ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایں ۔لواحقین کے ساتھ تمام معلومات شئیر کی جایں۔اب وقت آگیا ہے تمام پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا اور ہمیں اپنی افواج اور حکومت کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا۔مجھے میری اہلیہ بنیش عمر شہید تمغہ شجاعت پر فخر ہے اس نے ایک عظیم ماں ایک عظیم استاد کی صورت میں اپنے روحانی بچوں کے لیے اس وطن کے لیے اپنی جان قربان کردی –

Posted On Sunday, May 10, 2015  

 

Advertisements
Posted in Pakistan

متوازن غذا حاملہ خواتین کی اولین ضرورت

Posted On Wednesday, March 11, 2015   …..جویریہ صدیق……
ماں 9 مہینے کی مشقت اور تکلیف کے بعد بچے کو جنم دیتی ہے ۔پھر بہت پیار سے بچے کو پروان چڑھاتی ہے ۔ اس ہی لیے کہا جاتا ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔ دنیاوی رشتوں میں ماں ہی ایک ایسا بے لوث رشتہ ہے جو بنا کسی غرض کے اپنے بچے سے محبت کرتی ہے۔ماں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس بچے کو ہلکی سی خراش بھی نا آئےاور اس کی تعلیم و تربیت میں کوئی بھی کمی نا ہو۔بس ماں کی کل کائنات اس کی اولاد ہی ہوتی ہے۔کسی بھی عورت کا ماں بننا صرف اس ہی کے لیے نہیں بلکہ اس کے سارے خاندان کے لیے مسر ت کا باعث ہوتا ہے ،گھر کے تمام ہی افراد ننھے مہمان کی آمد کا سن کر ہی اس کے استقبال کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں۔ہر کسی کو انتظار ہوتا ہے کیسے گزرے گا یہ وقت اور ایک چھوٹے ننھے منے سے بچے کی کلکاریوں سے ان کا گھر گونج اٹھے گا۔لیکن اس دوران جو سب اہم بات جو اکثر نظر انداز کردی جاتی ہے وہ حاملہ خاتون کی صحت اور اس کے لیے متوازن غذا کا انتخاب کرنا ہے۔انسانی نسل کی بقا کے لیے ضروری کے ماں صحت مند ہو تب ہی وہ اپنی کوکھ سے ایک صحت مند بچے کو جنم دے سکتی ہے۔

راولپنڈی اسلام آباد کی معروف سینر گائنا کولوجسٹ مسز رشید کے مطابق حاملہ خاتون کے شوہر اور اہل خانہ کی ذمہ داری ہے کہ اس کو اچھی غذا اور مکمل آرام فراہم کیا جائے۔بچے کی اعضاء کی مکمل نشوونما اس کی دماغی صحت کے لیے ضروری ہے کہ ما ں مکمل متوازن غذا کا استعمال کرے۔اگر اسے مناسب غذا نا ملے تو بچہ کمزور پیدا ہوگا اور اس میں قوت مدافعت بھی کم ہوگی۔اگر ماں غذائی کمی کا شکار ہو تو دوران زچگی خود اسکی اور بچے کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور بعض اوقت قبل از وقت پیدایش کا بھی باعث بنتا ہے۔

دوران حمل جن غذائی اجزا کا استعمال ناگزیر ہے وہ کچھ یوں ہیں۔غذا میں لحمیات، نشاستہ،وٹامن ، چکنائی ، کیلشیم ، منرل ، فولاد اور پانی کا استعمال ضروری ہے۔حاملہ خاتون اپنی غذا میں دودھ، دہی، انڈا، مچھلی، پنیر، مرغی گوشت شامل کرے ،یہ اس کے اور بچے کے خلیات کی نشوونما میں اہم کردار ادا کریں گے۔اس کے ساتھ دالوں اور اناج میں بھی لحمیات یعنی پروٹین کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے ۔پورے دن میں70گرام پروٹین کا استعمال کافی ہے۔ حاملہ خاتون کو اپنی غذا میں نشاستے کا استعمال بھی متوازن رکھنا چاہئے۔ نشاستہ، پھل ،سبزیوں، چاول گندم،بریڈ، جوار اور باجرہ سے حاصل ہوتا ہے۔اس کے استعمال سے حاملہ ماں اور اس کے ہونے والے بچے کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔

لحمیات اور نشاستے کے بعدحاملہ عورت کے لیے ضروری ہےکہ وہ مناسب تعداد میں چکنائی کا استعمال بھی کرے۔ چکنائی ماں کی کھوکھ میں موجود بچے کی آنکھوں ، نروس سسٹم اور دماغی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔چکنائی حاملہ ماں کو دودھ سے بنی ہوئی اشیاء،گوشت، میوہ جات ،بیکری کی اشیاء کیک بسکٹ،مکھن،مارجرین،چپس ،کریم اور گھی سے ملتی ہے۔30سے 40ملی گرام چکنائی حاملہ ماں کے لیے موزوں ہے۔چکنائی کا زیادہ استعمال ہرگز نا کیا جائے۔ حیاتین یا وٹامن بھی حاملہ ماں اور بچے کے لیے بہت ضروری ہے۔وٹامن اے اور بی کے باعث بچے کی ہڈیوں اور دانتوں کی نشوونما میں مدد ملتی ہے اور وٹامن اے بی دودھ ،انڈوں،گاجروں،پالک ،بروکلی،آلو ، حلوہ کدو میں موجود ہے،حاملہ خاتون کیلئے روزآنہ 700 مائیکرو گرام وٹامن بی اور اے بہت ضروری ہے۔ وٹامن سی ماں اور بچےدونوں میں خلیوں کی حفاظت، قوت معدافت اور فولاد کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ترش پھلوں،آلو،ٹماٹر اور بروکلی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔وٹامن ڈی بھی حاملہ ماں اور اس کے بچے کی ہڈیوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس لیے حاملہ ماں کو دودھ اور مچھلی کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔وٹامن ای بچے کے ریڈ بلڈ سیل اور اعصاب کے لیے ناگزیر ہے، حاملہ خاتون میوہ جات، دلیہ ،پالک کے استعمال سے اسے حاصل کرسکتی ہے۔

کیلشیم حاملہ خاتون کی بہت اہم ضرورت ہے کیونکہ بچہ نشوونما کے لیے غذائیت ماں سے لے رہا ہوتا ہے اس لیے ماں جتنی اچھی خوارک لے گی بچہ اتنا ہی صحت مند ہوگا۔کیلشم دہی ، دودھ ، پنیر،آیس کریم ،لسی کے ساتھ ساتھ لوبیا،ہرے پتوں والی سبزییوں،دلیے اور چنوں میں شامل ہے۔دن میں ہزار ملی گرام سے لے کر 13سو گرام کیلشیم لینا ضروری ہے۔فولاد اور فولک ایسڈ بی ایک ایسا غذائی جز ہے جو حاملہ ماں اور بچے کے لیے بہت اہم ہے یہ جسم کے اندر سرخ خلیے بناتا ہے اور حاملہ خاتون کو خون کی کمی سے بچاتا ہے۔بچوں میں جلد پیدائش کے خطرے کو کم کرتا ہے،ایک دن میں600 مائیکرو گرام فولک ایسڈ اور27ملی گرام فولاد بہت کافی ہے۔پانی بھی بہت اہم جزو ہے۔

سینئرگائناکولوجسٹ مسز رشید کے مطابق متوازن غذا کے ساتھ یہ بہت ضروری ہے کہ حاملہ ماں کو مکمل سکون اور آرام دہ ماحول دیا جائے۔دوران حمل خاص طور پر خاوند کو اپنی زوجہ کے ساتھ بہت شفقت بھر ارویہ اختیار کرنا چاہئے، اس کے ساتھ سسرال واے بھی حاملہ خاتون کو ہر طرح کے دبائو سے دور رکھیں اور اپنی بہو کو مکمل آرام کرنے کا موقع دیں ۔اس کے ساتھ اس کا طبی معائنہ ضرور کروائیں تاکہ کسی بھی قسم کی پیچدگی سے بچا جاسکے۔ غذا کا متوازن ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر غذا متوازن نہیں ہوگی تو بچے کے قبل از وقت پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے، کچھ کیسز میں زیادہ خون بہنا شروع ہوجاتا ہے۔اس لیے بہت ضروری کہ ماں حمل سے لے کر زچگی اور دودھ پلانے کے عرصے تک متوازن غذا کا استعمال کرے تاکہ وہ خود بھی صحت مند رہے اور اس کا بچہ بھی۔ماں کا بیمار رہنا یا زچگی کے دوران گزر جانا صرف خاندان ہی نہیں بلکے معاشرے کا نقصان ہے ۔رویوں میں تبدیلی اور مناسب طبی سہولیات سے ایک صحت مند معاشرہ پروان چڑھ سکتا ہے۔
Javeria Siddique writes for Jang
twitter@javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10728#sthash.OnBahw76.dpuf

Posted in Pakistan

اراکین پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشوار

ے

Posted On Wednesday, April 15, 2015   …..جویریہ صدیق…..
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اراکین اسمبلی کے ٹیکس کی تفصیلات جاری کردیں۔ ڈائریکٹری میں 2014ء میں ارکان کی طرف سے دئیے گئے ٹیکس کی معلومات شامل ہیں۔پڑھنے سے پہلے تو ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ پاکستان کے امیر ترین سیاستدانوں نے اپنی حیثیت اور امارت کے مطابق لاکھوں کروڑوں میں ٹیکس دیا ہوگا لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے کچھ ارکان تو ایسے ہیں جن کے پاس کروڑوں روپے کے اثاثے ہیں لیکن ٹیکس کی مد میں کچھ بھی ادا نہیں کیا۔اسمبلی اجلاس ہو یا جلسے ہوں اس دوران سفر نجی جہازوں میں ،قافلوں میں آنے والی قیمتی بلٹ پروف گاڑیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں ،قیمتی ڈیزائنر سوٹ،مہنگے جوتے،اسلحہ برادر نجی حفاظتی دستے کئی ایکٹر پر مبنی فارم ہائوسز،زرعی رقبے لیکن ٹیکس کے خانے میں یا تو صفر یا تو چند ہزار روپے لکھے ہوئے۔

کچھ خواتین رکن اسمبلی بھی اس مقابلے میں مردوں کے ساتھ کھڑی نظر آئیں جو ہر روزڈیزائنر اشیاءاورقیمتی زیورات، لاکھوں روپے مالیت کے دھوپ کے چشمے اور گھڑیاں پہنتی ہیں پر ٹیکس کے خانے میں صفر لکھا ہے،جو چیزیں لندن میلان پیرس میں لانچ ہوتی ہے سب سے پہلے خواتین سیاستدانوں کے پاس آتی ہے لیکن حیرت ہے یا تو ٹیکس دیا نہیں یا پھر اتنا کم کے انسان سوچ میں پڑ جائے۔ ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کے 96 ارکان، قومی اسمبلی کے305 اور صوبائی اسمبلیوں کے 639 ارکان نے ٹیکس ریٹرن فائل کیا۔129 ارکان کے نام اس ڈائریکٹری میں شامل نہیں ۔جن میں شرمیلا فاروقی، مراد سعید ،عارف علوی اور مخدوم امین فہیم قابل ذکر ہیں۔

95 ارکان ایسے ہیں جنہوں نے صفر انکم ٹیکس ادا کیا۔اب سیاستدانوں کے بہانے کچھ بھی ہوں کہ میرا بزنس تو بچوں کے پاس ہے سب کچھ والدین کا ہے یا خرچہ مجازی خدا اٹھا رہے ہیں لیکن قانون سازوں کے لیے اتنا کم ٹیکس دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ملک اور اس کے قوانین کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔جو ارکان خود ہی مکمل ٹیکس نہیں دیتے وہ کیا خاک قوم کے لیے قانون سازی کیا کریں گے۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے26 لاکھ11 ہزار روپے ٹیکس دیا یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جن کا رائیونڈ میں محل ہے، بزنس لندن سے جدہ تک پھیلا ہوا ہے۔بات ہو اگر خادم اعلیٰ شہباز شریف کی جو کرپشن کرنے والوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے55 لاکھ25 ہزار روپے کا ٹیکس دیا۔نظر ڈالیں اگر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ٹیکس پر تو انہوں نے22 لاکھ 86 ہزار روپے ٹیکس دیا ،یہ وہ ہی وزیر خزانہ ہیں جنہوں نے بیٹے کو40لاکھ ڈالر کا قرضہ حسنہ دیا تھا۔نئے پاکستان کے روح رواں عمران خان جو تبدیلی کا نعرہ لگتے ہیں سب سیاستدانوں کو کرپٹ کرپٹ پکارتے ہیں ،انہوں نے 2 لاکھ 18 ہزار روپے ٹیکس دیا حالانکہ موصوف ڈھائی سو کنال کے گھر میں رہتے ہیں اورنجی جہاز میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں ۔پر جب ٹیکس کی بات آتی ہے تو نئے پاکستان کے لیڈر پرانے پاکستان کے لیڈران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

بات ہو اگر پی پی کے خورشید شاہ کی تو انہوں نے صرف ایک لاکھ روپے ٹیکس دیا۔سندھ کے سیاہ و سفید کے مالک وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ بھی ان ساتھ کھڑے نظر آئے اور ٹیکس کی مد میں صرف ایک لاکھ 11 ہزار روپے دئیے۔ ایئر لائن کے مالک شاہد خاقان عباسی نے 22 لاکھ روپے ٹیکس دیا۔چیئرمین سینیٹ کی بات ہو تو رضا ربانی صاحب نے 6 لاکھ85 ہزار ٹیکس دیا۔مولانا فضل الرحمان نے صرف15 ہزار روپے ٹیکس دیا۔شیریں مزاری11لاکھ 21 ہزار، شاہ محمود قریشی 15 لاکھ33 ہزاراور مشاہد حسین49 ہزار روپے ٹیکس کے ساتھ نظر آئے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے ٹیکس ادا ہی نہیں کیا۔ شاہ فرمان،جمشید الدین ،امتیاز قریشی،اکرام اللہ،ملک قاسم،ارباب جہانداد خان،قاسم خٹک،علی امین گنڈا پور،امتیازشاہد ،محمود خان نے بھی ٹیکس کی مدد میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔کل ملا کر 31ارکان نے ٹیکس ادا نہیں کیا۔ جن میں خواتین رکن صوبائی اسمبلی رقیہ حنا،راشدہ رفعت،انیسہ طاہر زیب خیالی،نجمہ شاہین،عظمی خان،نرگس علی اور نسیم حیات شامل ہیں۔ نور سیلم ملک نے ایک کروڑ21 لاکھ روپے ٹیکس دیا ۔جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ پرویز خٹک نے 6 لاکھ 60 ہزار روپے ٹیکس دیا۔

بات ہو اگر بلوچستان کی تو وزیر اعلیٰ بلوچستان عبد المالک نے صفر ٹیکس ادا کیا۔سردار محمد اسلم نے بھی کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا،جبکہ میر حمال نے بلوچستان اسمبلی کے تمام ارکان کے مقابلے میں سب سے زیادہ44لاکھ7 ہزارروپے ٹیکس ادا کیا۔

سندھ اسمبلی میں صفر ٹیکس دینے والوں میں سردار کمال خان،میر اللہ بخش تالپور، فیاض علی بٹ ،بیگم شہناز،سائرہ شاہلانی ، خرم شیر زمان، وقارحسین شاہ اور عارف مسیح شامل ہیں۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے5 لاکھ 37 ہزار ٹیکس دیا۔ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے ایک لاکھ26 ہزار روپے ٹیکس دیا۔فیصل سبزواری نے49ہزار دو سو چار روپے ٹیکس دیا۔خواجہ اظہار الحسن نے94 ہزار دو سو35 روپے ٹیکس دیا۔اویس مظفر نے تین لاکھ 72ہزار روپے ٹیکس دیا۔نادر مگسی نے 4 لاکھ73ہزار روپے ٹیکس جمع کروایا۔وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے 15لاکھ89 ہزار روپے ٹیکس دیا۔رئوف صدیقی نے58 ہزار آٹھ سوروپے کا ٹیکس دیا۔

پنجاب اسمبلی کے رکن ارشد وڑائچ نے دو کروڑ 40لاکھ 80 ہزار روپے ٹیکس دیا اور وہ تمام ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیکس دے کر ٹاپ پر ہیں۔ان کے بعد سب سے زیادہ ٹیکس شیخ علائو الدین نے ایک کروڑ31لاکھ ٹیکس دیا۔اسپیکراور قائم مقام گورنر رانا اقبال خان نے ایک لاکھ 83 ہزارروپے ٹیکس دیا۔ راجہ اشفاق سرور نے ایک لاکھ 40ہزارروپے ٹیکس دیا۔شجاع خانزادہ70 ہزار روپے،رانا ثناء اللہ6 لاکھ 82ہزار روپے،پرویز الہٰی13 لاکھ روپے،مونس الہٰی 16 لاکھ روپے،مسز ذکیہ شاہنواز نے ایک لاکھ 66ہزارروپے ٹیکس دیا۔حنا بٹ نے ایک لاکھ 81 ہزار روپے ٹیکس دیا۔اب اگر دیکھیں ان ارکان کو جنہوں نے صفر ٹیکس دیا ۔ ملک احمد سعید خان، سید علی رضا گیلانی، مسعود شفقت، رائے منصب علی خان، میاں عطا محمد مانیکا، احمد شاہ ، سردار خان محمد، پروین اختر نسیم لودھی، کنول نعمان، حسنیہ بیگم،لبنیٰ فیصل،رائو اختر، ملک فیض، چوہدری رفاقت حسین، چوہدری اشرف وڑائچ، میاں طاہر، شیخ اعجاز، رائے عثمان کھرل،رائے حیدر علی خان، سبطین خان، چوہدری طاہر، ملک ظہور انور، ذوالفقارعلی خان،چوہدری لیاقت اور افتخار احمد کے نام شامل ہیں۔

سینٹ کا جائزہ لیں تو کروڑوں روپیہ خرچ کرکے سینٹ میں آنے والوں کے ٹیکس کچھ یوں ہے۔گل بشرا، میر نعمت اللہ ظاہری،محمد عثمان خان کاکڑ،سردار محمد اعظم ،شہباز درانی،ہلال الرحمان،اقبال ظفر جھگڑا،عطاء الرحمان، جان ولیمز،اعظم خان ہوتی،جاوید عباسی،ثمینہ عابد،سراج الحق،ستارہ ایاز،سلیم ضیاء اور نگہت مزرا نے کوئی ٹیکس نہیں دیا۔

سلیم مانڈی والا نے12 لاکھ 34ہزار روپے ٹیکس دیا،سحر کامران نے31ہزار،سسی پلیجو25 ہزار،سعید غنی 78 ہزار،فاروق نائیک 68 لاکھ ،فروغ نسیم ایک کروڑ6 لاکھ ،رحمان ملک 70 ہزار،وزیر اطلاعات پرویز رشید3 لاکھ، اعتزاز احسن ایک کروڑ24 لاکھ،طلحہٰ محمود ایک کروڑ42 لاکھ،فرحت اللہ بابر5 لاکھ86ہزار روپے اورعبد الغفور حیدری30ہزار روپے ۔

اب نظر دوڑائیں قومی اسمبلی پر تو پہلے بات ہوجائے صفر ٹیکس والوں کی گلزار خان،مجاہد علی،عاقب اللہ،محمد اجمل خان،عبد الرحمان خان کانجو،ملک سلطان محمود،سردار کمال خان،ساجد احمد،عیسیٰ نوری،سنجے پروانی ان میں شامل ہیں جن کی آمدنی اتنی نہیں کہ وہ ٹیکس دیں۔حاجی غلام احمد بلور نے 17ہزار روپے ٹیکس دیا۔عمر ایوب34 لاکھ، کیپٹن صفدر 39 ہزار،اسد عمر4 لاکھ 89ہزار،وزیر داخلہ چوہدری نثار6 لاکھ ،عوامی مسلم لگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے 3 لاکھ ،شیخ آفتاب 5 لاکھ،سائرہ افضل تاڑر 87 ہزار،دانیال عزیر4 لاکھ 68 ہزار، طلال چوہدری 47ہزار، احسن اقبال ایک لاکھ 30 ہزار،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق تین لاکھ،سعد رفیق 20 لاکھ،شفقت محمود 72 ہزارروپے،فریال تالپور48 لاکھ،نوید قمر40ہزار روپے،فہمیدہ مرزا59 ہزار روپے،شازیہ مری60ہزار روپے،ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈرفاروق ستار89 ہزار،سید علی رضا عابدی 4 لاکھ 93 ہزار،محمود خان اچکزئی 15 ہزار، نفیسہ خٹک 54 ہزار،عائشہ گلالئی 31 ہزار ،زیب جعفر31ہزار،طاہرہ اورنگزیب 15 ہزار،مائزہ حمید54 ہزار،کشور زہرہ چار لاکھ90 ہزار، نفیسہ شاہ نے تین لاکھ،ماروی میمن 43 ہزار،ثمن جعفری 14 ہزار اور منزہ حسن نے ایک لاکھ 12 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

یہ صورتحال بہت افسوس ناک ہے کے عوام کے نمائندے ہی ٹیکس نہیں دے رہے تو یہ ملک کیا خاک ترقی کرے گا۔قانون سازوں کو قانون کی پاسداری بھی کرنی چاہیے۔ملک کی ہر چیز پر قادر افراد کے دل اتنے ہی چھوٹے ہیں جتنا ان کے انکم ٹیکس کے خانے میں ہندسہ درج ہے۔ اراکین کو چاہیے اپنے ان ساتھیوں سے کچھ سکھیں جنہوں نے ایک کروڑ سے اوپر کا ٹیکس دیا ہے۔ جس ملک نے انہیں اتنی عزت اور دولت دے رکھی ہے اس کا کچھ تو قرض اتاریں، اس ہی ملک سے کمائے ہوئے سرمائے کا اگر تھوڑا سا حصہ ایمانداری کے ساتھ ٹیکس دیتے ہوئے لوٹا دیا جائے تو ہمیں کبھی ورلڈ بینک اور آیی ایم ایف سے قرضے نا لینے پڑیں – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10801#sthash.zu8al8YH.dpuf

Posted in Pakistan

تحریک انصاف کی پارلیمنٹ میں واپسی !!

Posted On Tuesday, April 07, 2015   …..جویریہ صدیق…..
پی ٹی آئی نے سات ماہ سے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کررکھا تھا،126دن تک طویل دھرنا دیا ۔ہر روز پارلیمنٹ کے سامنے پارلیمنٹ کو جعلی اور بوگس قرار دیا جاتا رہا،کبھی ایمپائر کی انگلی ، کبھی اوئے اوئےتو کبھی استعفے ، کبھی دھواں دار تقاریر ، تو کبھی سول نافرمانی کی کال تو کبھی الزامات کی بوچھاڑ تو کبھی چار حلقے،تحریک انصاف نے تمام ہی جماعتوں کے قائدین کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔پھر بھی حکومت اور دیگر جماعتیں روٹھے ہوئوں کو منانے میں لگی رہیں اور یہ کفر 6اپریل کو ٹوٹا جب یمن کی صورتحال کے لیے بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پی ٹی آئی نے واپس اسمبلی میں آنے کا فیصلہ کرلیا۔خوش و خرم پی ٹی آئی کے ارکان جس وقت اسمبلی میں داخل ہوئے تو ایم کیو ایم ،جمعیت علمائے اسلام ف ، اے این پی اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے خوب احتجاج کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ تحریک انصاف کے ارکان کس حیثیت میں اسمبلی میں واپس آئے ہیں۔ظاہر سی بات سات ماہ تحریک انصاف نے بھی تو کم نشتر نا برسائے تھے ان سب جماعتوں پر اس ہی لیے اراکین اسمبلی نے موقع اچھا جانا اور اسمبلی ہال’’ گو عمران گو‘‘،پی ٹی آئی یو ٹرن لے کر آئی، معافی مانگو کے نعروں سے گونج اٹھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی بار بار درخواست کے بعد کچھ دیر تو ایوان میں خاموشی تو ہوئی لیکن پہلا سیشن یمن کے بجائے پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفوں پر بحث کی نظر ہوگیا۔ ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے کہا کہ پارلیمنٹ کا آج کا اجلاس غیر قانونی ہے جو رکن چالیس دن تک غیر حاضر رہے وہ مستعفی ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل کی شق 64 ون اور ٹو واضح ہے اس لیے تحریک انصاف کو واپس آنے کی اجازت دینا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ایوان کے باہر ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استعفے تین طلاقوں کی طرح ہے اس لیے نامحرموں کا اسمبلی میں کیا کام۔

اے این پی نے بھی تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لیا اور سینٹر زاہد خان نے کہا عمران خان کو یہ معلوم ہی نہیں کے وہ کیا کررہے ہیں اب ان کے پاس کیاجواز ہے اس اسمبلی میں آنے کا، جس اسمبلی کو وہ جعلی اور بوگس قرار دے چکے ہیں، تاہم اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے معاملے کو رفع دفع کرواتے ہوئے کہا کہ لڑائی کو لڑائی نہیں بلکہ بات چیت سے ختم کیا جائے۔تحریک انصاف کا واپس پارلیمنٹ آنا خوش آئند ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے بھی خوب پی ٹی آئی کی کلاس لی اور کہا کہ آج پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کو ایوان میں اجنبی تصور کیا جائے، آئین کے تحت استعفیٰ دینے والے خود بخود مستعفی ہوجاتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی جب ایوان کا ماحول گرم دیکھا تو وہ بھی یمن کو بھول کر پی ٹی آئی کی کلاس لینے لگے اور کہا اسمبلیوں کو جعلی کہنے والے آج کس منہ کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی والے شرم کریں اور حیا کریں،تاہم بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا حکومت خود پی ٹی آئی کو ایوان میں لائی ہے تو اب احتجاج کیوں ؟ حکومت کا لہجہ تلخ نہیں ہونا چاہیے۔ اس سب صورتحال کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت وزیر دفاع اور ایم کیو ایم کو خوب کھر ی کھری سنائیں اور کہا جوڈیشل کمیشن اصولی موقف تھا اور الیکشن میں دھاندلی ہوئی میں اب بھی اپنے موقف پر قائم ہوں ۔انہوں نے کہا کہ کیا میاں نوازشریف کو پتہ نہیں تھا کہ ان کے وزیر نے کیا بولنا ہے، ان کی موجودگی میں وزیر نے کس طرح کی زبان استعمال کی ایسی زبان تو کوئی تلنگا بھی نہیں استعمال کرتا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کے ہم پارلیمنٹ قومی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں جبکہ وزیر دفاع نے ذاتی معاملات کو ترجیح دی۔

تاہم اس تمام کشیدہ صورتحال میں اسپیکر نے صورتحال کو بخوبی سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے انہوں نے رولنگ دی کے تحریک انصاف کی پارلیمنٹ واپسی آئین کی خلاف ورزی نہیں آئین کی شق64 کے ساتھ سپریم کورٹ کا آڈر بھی پڑھا جائے۔سپریم کورٹ کے مطابق اسپیکر فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کہ کون مستعفی ہورہا ہے اور کون نہیں ۔ ایاز صادق نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے کوئی بھی اپنے استعفے کی تصدیق کے لیے نہیں آیا اس لیے استعفے منظور نہیں ہوئےلیکن جاوید ہاشمی اپنے استعفے کی تصدیق خود کرواگئے جو منظور ہوگیا تھا۔

استعفوں کا معاملہ اسمبلی کے فلور اور گیٹ نمبر ون تک محدود نہیں رہا بلکہ ن لیگ کے رہنما سید ظفر علی شاہ نے تحریک انصاف کے ارکان کی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ ظفر علی شاہ نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان سات ماہ قبل استعفا دے چکے ہیں اور آئین کی شق چونسٹھ ون اے اور ٹو اے کے مطابق جو رکن رضا کارانہ طور پر استعفیٰ دے اور چالیس دن مستقل غیر حاضر رہے تو اس کے بعد نشت خالی قرار دے دی جاتی ہے ۔ظفر علی شاہ نے کہا مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ سات مہینے تک بھی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ان استعفوں کی تصدیق نا کرسکے حالانکہ استعفے رضاکارانہ طور پر دئیے گئے تھے، یہ بات پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی میں بیٹھنے کا آئینی جواز کھو چکے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر شعیب رازق نے کہا یہ معاملہ اسپیکر اور ارکان کے درمیان تھا ارکان نے استعفیٰ دیا اور اسپیکر نے قبول نہیں کیا اس لیے اب جوڈیشل کے قیام کے بعد تحریک انصاف کا حق ہے کہ وہ اسمبلی واپس جاسکتے ہیں کیونکہ ان کے استعفے قبول نہیں کئے گئے۔

اگر پہلے ہی پی ٹی آئی جمہوری دائرے سے باہر نا جاتی تو آج پارلیمان واپسی پر مشکل اور خفت کا سامنا نا کرنا پڑتا مسائل کا حل اگر سڑکوں کے بجائے ایوان میں مذاکرات اور قانون سازی کرکے نکالا جاتا توآج ایوان میں اجنبیت کا احساس نا ہوتا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حالات کس طرف کروٹ لیتے ہیں اور استعفوں کا معاملہ کہاں تک جائے گا اور تحریک انصاف کتنی سنجیدگی کے ساتھ معاملات کو طے کرتی ہے۔گرجنے برسنے سے کچھ حاصل نہیںہوگا، معاملات کا حل صرف افہام و تفیہم سے ہی نکل سکتا ہے۔اب بہت ہوئے پرانے گلے شکوے کچھ مستقبل کی طرف پر بھی پیش قدمی ہو۔   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10782#sthash.B6wH3OpG.dpuf

Posted in Pakistan

سیو دی شفقت‘اورسائبرکرائم

’سیو دی شفقت‘اورسائبرکرائم

Posted On Wednesday, April 22, 2015   …..جویریہ صدیق…..
سوشل میڈیا پر اکثر بے تکے ٹرینڈز دیکھنے کو ملتے ہیں ان کو بنانے والوں میں سے اکثر سیاسی جماعتوں کہ پے رول پر ہیں جن کا کام ہی صبح سے شام تک مدمقابل افراد پر کیچڑ اچھالنا ہے۔اس ہر طرح سوشل میڈیا پر ایک اور طبقہ بھی ہے جو ان سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے جن کا کام ہر وقت وطن عزیر کو بدنام کرنا ہے۔

اس بار بھی کچھ ایسا ہوا کہ نام نہاد لبرلز کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک ٹرینڈ چلا’’ سیو دی شفقت‘‘ ۔شفقت کشمیر سے تعلق رکھنے والا جوان کراچی میں محنت مزدوری کی غرض سے آیا۔اس نے کچھ عرصے بعد ایک معصوم بچے کو اغوا برائے تاوان کے لیے اٹھا لیا اور بعد ازاں قتل کردیا۔اب لبرلز نے یہ شور مچا دیا کہ شفقت تو صرف 14 برس کا تھا، اس پر پولیس نے تشدد کرکے بیان لیا اور ایک 14 سال کے بچے کو سزا کسیے ہوسکتی ہے۔ان کو شروع کرنے والوں نے پاکستان کی عدلیہ پر بھی انگلیاں اٹھائیں ، اکیسویں آئینی ترمیم پر اعتراض کیا اور یہ منظم پروپیگنڈہ شروع ہوگیا کہ پاکستان میں تو سفاک لوگ بستے ہیں جو 14 سال کے بچوں کو بھی پھانسیاں دے رہے ہیں۔شفقت کے بچپن کی ایک تصویر بھی کچھ این جی اوز کے ملازمین اپ لوڈ کرتے رہے اور پاکستان کے خلاف دہایاں دیتے رہے۔عالمی میڈیا اور ممالک بھی پاکستان سے سوال کرنے لگے۔یہاں تک کہ معاملہ اقوام متحدہ بھی تک پہنچ گیا۔سماجی تنظیمیں این جی اوز نے حکومت پر دبائو جاری رکھا اور سوشل میڈیا نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا۔

پھانسی سے ٹھیک ایک دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک برتھ سرٹیفکیٹ پھیلا دیا گیا جو کہ ٹائون کمیٹی کیل کشمیرکی طرف سے جاری ہوا جس کے مطابق شفقت حسین کی تاریخ پیدایش یکم اکتوبر1991 ہے۔یہ سرٹیفکیٹ 22 دسمبر 2014 کو جاری ہوا، جب یہ سوال اٹھا یا گیا کہ1991 میں پیدا ہونے والے بچے کا سرٹیفکیٹ 2014 میں کیوں جاری ہوا تو شفقت کے ساتھ کھڑی این جی اوز کے مطابق علاقہ ہی اتنا پسماندہ ہے تو یہاں روایت ہی نہیں کاغذ بنائے جائیں ۔ چلیں مان لیتے ہیں لیکن اگر سرٹیفکیٹ غور سے دیکھا جائے تو جس بھی جلد بازی میں یہ بنایا اس نے گورنمنٹ کے مخف میں جی کے بجائے ڈی لکھ دیا۔ٹائون کی اسپیلنگ بھی غلط ہے ۔پھر بھی پروپیگنڈا اتنا زیادہ تھا کہ صدر ممنون حسین نے شفقت حسین کی پھانسی موخر کرکے اس کی عمر کے تعین کی جانچ کے لیے کہا۔وزیر داخلہ چوہدی نثار نے بھی کہا یہ انسانی جان کا معاملہ ہے اس پر سیاست اور بیان بازی سے گریز کیا جائے۔انہوں نے کہا نہ ہی شفقت کے والد کا کارڈ ملا ناہی والدہ کا، صرف ایک بھائی کا کارڈ ملا جس کی عمر44 سال ہے۔ تاہم ایف آئی اے کی ٹیم نے اس معاملے کی تحقیقات کی اور اس کے نتیجے میں یہ بات عیاں ہوگی کہ شفقت کو جس وقت پولیس نے حراست میں لیا تھا وہ نا بالغ نہیں تھا۔ اس کی عمر23 سال تھی اب کہاں 14 سال اور کہاں 23سال۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے 2014 میں جاری ہونے سرٹیفکیٹ بھی آزاد کشمیر میں متعلقہ حکام نے کینسل کردیا ہے۔کیونکہ اس میں فراہم کردہ معلومات درست نہیں تھیں۔اس کے ساتھ ساتھ دس سال اس مقدمے میں مجرم کے وکیل منصور الحق نے کبھی عمر کا معاملہ عدالت میں نہیں اٹھایا۔ تو اچانک سے این جی اوز نے کس کے ایما پر یہ معاملہ اٹھایا اور پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کیا۔اس کے پیچھے کیا مقصد تھا کیا کچھ این جی اوزملک میں پھانسی کر سزا دوبارہ سے بحال ہونے پر خوش نہیں تھیں یا اس بات پر فنڈ مہیا ہویے تھے کی شفقت کو بنیاد بنا کر اکیسویں ترمیم کو متنازع بنایا جائے۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر جرم کے وقت شفقت کی عمر ساڑھے بارہ سال تھی تو جس جگہ وہ ملازمت کررہا تھا کیا اسے تین سال پہلے نو سال کی عمر میں چوکیدار کی نوکری دے دی گی تھی کیا ایسا ممکن ہے کوئی نو سال کے بچے کو چوکیدار کی نوکری پر رکھے گا۔شفقت کو جس وقت نوکری پر رکھا گیا تو وہ بالغ تھا ۔اس کے ساتھ1994 میں اسکول کے ریکارڈ کے مطابق شفقت حسین کلاس فور میں تھا اب کیسے ممکن ہے کوئی1991 میں پیدا ہو اور1994 میں وہ درجہ چہارم میں پہنچ جائے۔رپورٹ کے مطابق شفقت حسین کیس کو بنیاد بنا کر ایسا تاثر دیا کہ پاکستان میں کم عمروں کے لیے انصاف کی کوئی جگہ ہی نہیں لیکن یہ غلط ہے صرف کراچی میں2004 سے لے کر2015 تک867 10 اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے مقدمات کی جیوینائل جسٹس کے تحت کاروائی کی گئی۔

اب جس سال شفقت کو زیرحراست لیا گیا اس ہی سال1455 بچوں کو نو عمر کیلئے نظام انصاف کے تحت کاروائی کا سامنا کرنا پڑا تو شفقت کے ساتھ کسی کی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی جو اسکو سزائے موت سنا دی گئی۔پاکستان کی عدلیہ پر سوال اٹھانے والے اس پانچ سال کے بچے کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے جس کو شفقت نے لالچ کی وجہ سے مار ڈالا تھا ۔میرا سوال صرف ان این جی اوز اور خود ساختہ مغرب نواز لبرلز سے ہے کیا وہ اب معافی مانگیں گے جس طرح انہوں نے غیر ملکی اخبارات ویب سائٹس پر آرٹیکل لکھ کر ٹوئٹر پر ٹوئٹس کرکے ملک کا نام دنیا بھر میں بدنام کیا۔سوشل میڈیا پر لوگوں کو گمراہ کیا اور انہیں بھی اپنی مذموم مہم کا حصہ بنایا۔ کیا شفقت کی بچپن کی تصاویر اور جھوٹے برتھ سرٹیفکیٹ بنا کر ملک کو بدنام کیا وہ سب معافی مانگیں گے ؟

ہم سب کو بھی چاہیے بنا تحقیق کیے ہم کسی بھی سوشل میڈیا مہم کا حصہ نا بنیں۔کب کون ڈالرز کی خاطرسوشل میڈیا پر عام عوام کو صرف اپنی جیب بھرنے کی خاطر استعمال کرلے اور بعد میں باضمیر افراد کو اس بات پر پشیمانی ہو کہ ملک کو بدنام کرے والوں نے دھوکہ دے کر استعمال کر ڈالا۔شفقت کا کیسں تو عدالت میں ہے اس کو اور مقتول بچے کا انصاف تو ہم عدالت پر چھوڑتے ہیں۔لیکن کیا حکومت شفقت کو بچانے کے لیے منظم دھوکے پر مشتمل مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی کرے گی۔ان افراد کے خلاف نئے سائبر قانون کے تحت کاروائی ہونی چاہیے جنہوں نے عام پاکستانیوں کو سوشل میڈیا پر بے وقوف بنایا اور پاکستان کو بدنام کیا۔ ایک قاتل کے لیے تو مہم چلائی، اس بچے کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے جس کو شفقت نے بے دردی سے قتل کرڈالا۔مظلوم کا ساتھ دیں ظالم کا نہیں اور اگلی بار سوشل میڈیا پر کسی بھی مہم کا حصہ سوچ سمجھ کر بنائے گا۔ – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10810#sthash.ow9VRMbh.dpuf

Posted in media, Pakistan

؟؟ آئٹم سانگ فلم کی کامیابی کی ضمانت

 ؟

Posted On Friday, May 08, 2015   …….جویریہ صدیق…….

ایک زمانہ ہوتا تھا جب فلم ساز بڑے بڑے ادیبوں سے فلم کا اسکرپٹ لکھواتے تھے اور حب بات آتی تھی فلم میں موسیقی اور شاعری کی تو نامور شاعر وہ بول لکھتے تھے کہ گیت آج بھی زندہ ہیں۔آہستہ آہستہ فلم آرٹ کمرشلزم کی بھینٹ چڑھ گیا اور اب بیشتر فلموں میں نہ ہی اسکرپٹ جاندار ہوتا ہے اور نہ ہی گانوں کی شاعری مسحورکن۔پاکستان میں تو ویسے بھی فلم انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے،اس کے پیچھے ان ہدایت کاروں اور فنکاروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو مرحوم سلطان راہی کے انداز کو کوئی دو سو تین سو فلموں میں کاپی کرگئے۔ جس زمانے میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ فلمیں بن رہی ہوں وہاں کون گنڈاسے والی فلم دیکھنے آئے گا۔ ایک ہی جیسے موضوعات سلطان راہی جیسا ہیرو اس کے پچھے نچاتی گاتی ہیروئین تھوڑے غنڈے، ایکشن اور آخر میں ہیرو ہیروئین کی شادی کون ایسی فلم دیکھنے آتا ہے۔

پاکستانی فلم بینوں کی بڑی تعداد بھارتی فلمیں دیکھنے پر مجبور ہے۔ ہندی مووی بگ بجٹ کے ساتھ دنیا کی حسین ترین لوکشنز پر شوٹ کی جاتی ہیں، جاندار موسیقی بڑے بڑے فلمی نام شائقین کو فلم دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بھارت اپنی فلموں سے دنیا بھر میں اپنی ثقافت سے کو اجاگر کر رہاہے۔ پاکستانی سینما مالکان بھی ہندی فلموں کو ہی چلانے پر مجبور ہیں کیونکہ پاکستان میں فلمیں بہت کم تعداد میں بن رہی ہیں ۔سال میں صرف ایک دو ہی ایسی فلمیں آتی ہیں جو پاکستانیوں کو سنیما کی طرف جانے کی مجبورکرتی ہیں۔نوجوان ہدایت کار اور بہت سے اداکار اب فلم انڈسٹری کو سہارا دے رہے ہیں۔شائقین کو سال میں تین، چار اچھی پاکستانی فلمیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔

لیکن نئے ہدایت کار بھی ہندی فلموں سے بہت متاثر نظر آرہے ہیں اور ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کوئی نہ کوئی آئٹم سانگ ڈال کر فلم میں مصالحہ ڈالا جائے۔ اچھی فلموں سے ضرور متاثر ہو لیکن ہو بہو بھارت کا کلچر اپنی فلموں میں دیکھنا کہاں کا انصاف ہے۔پہلے پاکستانی فلم ساز بارش میں گانا عکس بند کرواتے تھے جس میں ایک فربہ وزن ہیروئین تنگ کپڑے پہنے گانے کے آخر تک کود کود کر اپنا برا حال کرلیتی تھی۔ پر نیے ہدایت کار وہ بارش والا گانا تو نہیں لیکن ایک بار یا کلب میں بالکل ہندی فلم جیسا آئٹم سانگ ضرور ڈالتے ہیں۔جس میں ایک حسینہ چست لباس میں رقص کررہی ہوتی ہے اور بہت سے اس کے دیوانے ولایتی مشروبات لیے اس کو سراہ رہے ہوتے ہیں۔ بھارت میں تو شاید بار کلچر ہو کلبز بھی ہوں گے لیکن پاکستان میں تو ایسا کہیں بھی دیکھنے کونہیں ملتا۔پھر فلم ساز اس کو پاکستان کا کلچر بنا کر کیسے دیکھا سکتے ہیں۔ اگر بھارت کا ہی کلچر دیکھنا ہے تو ہم ان کی فلم میں دیکھ لیں ٹکٹ خرید کر اگر ہم سینما میں پاکستانی فلم دیکھنے جاتے ہیں تو فلم بینوں کا اتنا تو حق ہے کہ انہیں صاف ستھری تفریح ملے۔

بھارت کی فلموں میں آئٹم سونگ کا رواج 2010ءسے بڑھا منی بدنام ہوئی،شیلا کی جوانی، چکنی چمبیلی، بے بی ڈول میں سونے کی، ہلکٹ جوانی، ببلی ہے پیسے والوں کی وغیرہ جیسے گانے تقریباً ہر فلم کا حصہ ہیں۔ جس کی شاعری واہیات ہے۔ان گانوں کی عکس بندی میں بھی اداکارہ کو ایسے ایسے زاویوں سے دکھایا جاتا ہے کہ وہ خواتین اور رقص کی توہین ہے۔ اس طرح کے گانوں میں ہر طرح کی اداکارائیں کام کررہی ہیں جبکہ یہ انہیں سوچنا چاہیے کہ لوگ انہیں ان کی اداکاری پر سراہ سکتے ہیں، بلاوجہ ایکپسوز کرنا قطعی مناسب نہیں۔ کوئی غیر معروف اداکارہ صف اول کی ہیروئین بننے کے لیے آئٹم سانگ کرے تو سمجھ بھی آتا ہے کہ وہ شہرت کی سیڑھیاں چڑھنے کی جلد خواہش مند ہے لیکن جب کترینہ کیف، کرینہ کپور اور پریانکا چوپڑا جیسی صف اوّل کی اداکارائیں آئٹم گرل بن کر آئیں تو یہ ان کی بہترین اداکارنہ کی صلاحیتوں کی توہین ہے۔

خود بھارت میں بہت سی سماجی تنظیمیں ان گانوں پر پابندی کا مطالبہ کررہی ہیں کہ یہ گانے خواتین کی توہین ہیں اور خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں،عام فلم بین کو محسوس ہوتا ہے کہ ہر لڑکی ہی شاید آئٹم گرل جیسی ہے۔ایسا بالکل نہیں ہے، گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین آئٹم گرل نہیں ہیں، وہ بھی پروفیشنل ہیں جو اپنے گھر کے چولھے میں ایندھن ڈالنے کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہیں۔ ان گانوں نے عام فلم بین کے دماغ کو آلودہ کردیا ہے۔اب یہ ہی سلسلہ پاکستان کا رخ کر رہا ہے۔فلم میکنگ میں اعلیٰ ڈگری یافتہ ہدایت کار نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی آئٹم سانگ کو فلم کی کامیابی کا لازمی حصہ سمجھ رہے ہیں۔

میں ہوں شاہد آفریدی فلم نے پاکستان بھر میں بہت اچھا بزنس کیا لیکن اس فلم کے گانے بس تیری ہی کمی ہے میں متھیرا اور ماہ نور بلوچ کے آئٹم سانگ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ شاہد آفریدی بھی کہہ اٹھے بزرگ فنکارہ کا گانا فلم میں غیر ضروری ہے۔ بزرگ وہ ما نور کو کہہ رہے تھے لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ ماہ نور جیسی سینئر اداکارہ کیسے آئٹم سنگ کے لیے مان گئی۔اس ہی سال وار مووی بھی ریلیز ہوئی جس میں کوئی آئٹم سانگ نہیں تھا، فلم کی مضبوط کہانی اور اداکاروں کی بہترین پرفارمنس کے باعث اس فلم نے 23کروڑ کا بزنس کیا۔اسی طرح صباء قمر جیسی سینئر اداکارہ بھی مستانی بنی نظر آئیں جو فلم ۸۹۶۸ میں ان پر فلمایا گیا، نہ ہی اس گانے کے بول سننے کے قابل ہیں اور رقص بھی ویسا ہی ہے جیسے کسی بھی آئٹم سانگ میں ہوتا ہے۔صباء قمر جیسی منجھی ہوئی اداکارہ بالکل بھی آئٹم گرل کے لیے موزوں نہیں۔

اس کے بعد مہوش حیات پاکستان کا ایک خوبصورت چہرہ بلی بنے نظر آئی۔نا معلوم افراد فلم میں یہ کہاں کا کلچر دیکھایا گیا ہے جہاں ایک خاتون ایک مجمع میں نچاتی ہے اور کہتی ہے میں ہوں بلی۔اسی سال فلم دختر بھی ریلز ہوئی جس میں بچوں کی شادیوں جیسا حساس موضوع اٹھایا گیا اس میں تو کوئی آئٹم سانگ نہیں تھا پھر بھی فلم نے اچھا بزنس کیا۔ بات ہو اگر جلیبی فلم کی جو اس سال ریلیز ہوئی اس میں ژالے سرحدی آئٹم سانگ میں نظر آئیں۔ شوخ جوانی گانے پر رقص کرتی ژالے کو بھی سب دیکھ کر حیران تھے کہ پاکستانی فلمیں کہاں جارہی ہیں۔ اب ایک اور فلم آرہی ہے کراچی سے لاہور اس کے سب پہلے ٹریلر میں عائشہ عمر جو کہ پاکستان کا پسندیدہ ترین چہرہ ہیں کو چولی اور لہنگے میں دکھایا گیا ہے، ٹریلر صرف ان کی کمر سے شروع ہوکر ان کمر پر ختم ہوجاتا ہے، کیا ہدایت کار کو اپنی صلاحیتوں پر یقین نہیں، کیا وہ یہ سمجھتا ہے سنجیدہ فلم شائقین صرف کمر کو دیکھ کر فلم دیکھنے آئیں گے۔ جب اس فلم کا دوسرا ٹریلر ریلز ہوا تو پتہ چلا کہ اسٹوری بہت اچھی ہے لیکن خاتون کو شو پیس بنا کر پیش کرنا سمجھ سے باہر ہے۔عائشہ عمر نے اداکاری بھی اچھی کی ہوگی ہم وہ دیکھنے کے لیے بھی سینما آسکتے ہیں۔کیونکہ سنجیدہ شایق پاکستان کی فلم انڈسٹری کا عروج چاہتے ہیں۔

پہلے ہی اداکارہ صائمہ، نرگس اور دیدار کے بارش والے گانے ہمارے انڈسٹری کو بہت نقصان پہنچا چکے ہیں۔کیا اب نئے فلم ساز بھی اسی ڈگر پر چلیں گے جس پر چل کر 1990ءکے اوائل سے لے کر 2005ءتک پاکتسان کی فلم انڈسٹری کو تباہ کردیا۔پاکستان کا کلچر بھارت سے مختلف ہے۔ بھارت میں ہوں گی بار ڈانسرز یا آئٹم گرل لیکن پاکستانی معاشرے میں یہ چیزیں عام نہیں ہیں۔ پاکستان کی اداکاراؤں کو چاہیے وہ اداکاری کے میدان میں اپنے جوہر دکھائیں، آئٹم سانگ سے انکار کریں،آئٹم سانگ کی شاعری اس کا رقص عورت کی تذلیل ہے۔ میں خواتین کے فلموں میں کام کرنے یا رقص کرنے کے خلاف نہیں لیکن اداکارائیں کم ازکم گانے کی شاعری تو سنیں اس کے بعد فیصلہ کریں کہ کیا انہیں اس گانے پر رقص کرنا چاہیے۔جن گانوں کا میں نے تذکر کیا ہے مستانی،بلی،شوخ جوانی وغیرہ وغیرہ کیا ان کا فلم کی کامیابی میں کوئی کردار تھا یا نہیں۔فلم صرف اس لیے ہٹ جاتی ہے اگر اس کی اسٹوری اچھی ہو، اداکاروں نے کردار کو اچھی طرح نبھایا ہو اور فلم کو خوبصورتی سے عکس بند کیا ہو۔

فلمیں بنائیں ان میں گانے بھی ہوں، اچھے رقص بھی ہوں، ہیرو ہیروئین کی اٹھکیلیاں بھی ہوں، بس اس میں عورت کی تذلیل نہ ہو، آئٹم سانگ عورت کی تذلیل ہے، میں ایسے آرٹ نہیں مانتی جس میں عورت کو کم کپڑوں میں غیر مناسب زوایوں سے دکھایا جائے اور ذومعنی الفاظ والے گانوں پر رقص کرایا جائے۔ عورتوں کو فلموں میں مضبوط کردار ملنے چاہئیں تاکہ وہ بھی اپنے فن کا کھل کر مظاہرہ کریں اور اپنی اداکاری کے جوہر سب کو دکھائیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری بہت مشکل سے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہورہی ہے آرٹ کے نام پر عورت کے جسم کو نہ بیچیں۔ پاکستانیوں کو صاف ستھری تفریح کی ضرورت ہے ،آئٹم سانگ کے زہر سے انہیںآلودہ نہ کریں۔

اگر پاکستان کی اب تک سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلموں پر نظر ڈالیں جن میں خدا کے لیے ،بول اور وارمیں کوئی آئٹم سانگ نہیں تھا۔ اس لیے فلم ساز اس بات کو ذہن سے نکال دیں کہ آئٹم سانگ فلم کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ فلم کی کامیابی کے لیے بہترین اسکرپٹ، عمدہ موسیقی، خوبصورت شاعری، جان دار اداکاری اور حسین لوکیشنز کے لوازمات پورے کرنا ضروری ہیں۔ پاکستان کی سینئر اور پسندیدہ اداکاراؤں کو بھی چاہیے کہ چند پیسوں کی خاطر گھٹیا شاعری اور ایکسپوزنگ والے رقص سے پرہیز کریں۔ بھارت تو عورتوں کے خلاف جرائم میں بہت آگے نکل چکا ہے جس کی بڑی وجہ عورت کو عورت کو نمود ونمائش کی چیز کے طور پر پیش کرنا ہے۔ پاکستانیوں کو سوچنا ہوگا کہیں تفریح کے نام پر ہم نوجوان ذہنوں کو آلودہ تو نہیں کررہے۔ سنسر بورڈ اور پیمرا صرف پاکستانی ہی نہیں ان بھارتی آئٹم سانگز پر بھی پابندی لگائے جن کی شاعری یا رقص میں خواتین کی تذلیل نمایاں ہے۔

Javeria Siddique writes for Jang

Twitter @javerias
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10833#sthash.QOXf6iMU.dpuf

Posted in Uncategorized

پاکستان کی 50بااثر خواتین

Posted On Monday, March 09, 2015   …..جویریہ صدیق……
خواتین اب مردوں کے شانہ بشانہ ہر شعبے میں کام کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں حصہ ڈال رہی ہیں۔طب سے لے کر مسلح افواج،سیاست،صحافت،فلم سازی،ادب،تعلیم،بزنس،سیاحت کھیل،اداکاری،سماجی خدمت ہر شعبے میں ہی خواتین وطن کا نام روشن کررہی ہیں۔پاکستان کی تعمیر و ترقی میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ یہ صرف ریاست کو ہی نہیں بلکہ معاشرے کو بھی مضبوط اطوار پر استوار کرتی ہیں۔جہاں ایک طرف اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہو کر یہ ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں حصہ ڈالتی ہیں ،وہاں دوسری طرف خاندان کی دیکھ بھال بھی خود کرتی ہیں۔یوں ماں ،بہن ،بیوی اور بیٹی کی صورت میں ایک نئی نسل کو معاشرے کا کامیاب فرد بنانے میں ان کا کلیدی کردار ہے۔پاکستانی معاشرے میں فرسودہ روایتوں سے لڑ کر آگے آنے والی خواتین باعث فخر ہیں۔

8 مارچ عالمی یوم خواتین پر جنگ میڈیا گروپ نے کچھ مختلف انداز میں خواتین کو خراج تحسین پیش کیا۔ایک خصوصی ایڈیشن صرف خواتین کے لیے شائع کیا گیا جس میں پاکستان کی 50 بااثر خواتین کی فہرست شائع کی گی۔ اس ضمن دلچسپ بات یہ تھی کہ جنگ اخبار دی نیوز اور ویب سائٹ پر پاکستان بھر کی خواتین سے اس ایوارڈ کے لیے نامزدگی مانگی گئی اور ووٹنگ کے ذریعے سے با اثر خواتین کا انتخاب کیا گیا ۔ووٹنگ اور نامزدگی 5 مارچ تک جاری رہی۔دی نیوز ویمن پاور ففٹی نے سوشل میڈیا پر بھی خوب پذیرائی پائی۔ لوگ اپنے حسب منشاء مختلف طبقہ ہایے فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو نامزد کرتے رہے اور ووٹنگ کی اپیل کرتے رہے۔5 مارچ کو جس وقت ووٹنگ بند ہوئی اس وقت تک11 لاکھ7 ہزار633 ووٹ کاسٹ ہوچکے تھے۔دی نیوز ویمن پاور ففٹی میں آٹھ شعبہ جات میں خواتین کو نامزد کیا گیا، ان میں سیاست ،کھیل،پبلک سروس،میڈیا،انٹرٹینمنٹ،بزنس،تعلیم،آرٹس اور ادب شامل تھے۔8مارچ کو 50با اثر خواتین کے نام دی نیوز اخبار کی اشاعت خصوصی میں شائع ہوئے۔

میڈیا کے شعبے میں سابق سفیر، صحافی، اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملحیہ لودھی، جیو ٹی وی کی نیوز کاسٹر رابعہ انعم ، صحافی اور اینکر ریحام خان، معروف انگریزی جریدے کی مدیر سینئرصحافی ریحانہ حکیم اور سی این این سے وابستہ صحافی صائمہ محسن با اثر ترین میڈیا شخصیت قرار پائیں۔سیاست میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف، ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت، جماعت اسلامی کی رہنما ڈاکٹر سمعیہ راحیل ، پی پی پی سے تعلق رکھنے والی سیاستدان شرمیلا فاروقی ، پی ٹی آئی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات رکن قومی اسمبلی شریں مزاری بااثر ترین خواتین سیاستدان۔کھیل کے شعبے میں طاقت ور خواتین میں تیراک کرن خان، ایتھلیٹ نسیم حمید، کرکٹرثناء میر،ا سکواش پلیئرسعدیہ گل اورکوہ پیما ثمینہ بیگ شامل۔انٹرٹینمنٹ کے شعبے میں معروف ایونٹ منیجر سابقہ ماڈل اور ڈیزائنر فریحہ الطاف، فلم سازمہرین جبار، معروف اداکارہ ثانیہ سعید،آسکر انعام یافتہ فلم سازشرمین عبید چنائے اور ہدایت کار اداکارہ زیبا بختیار شامل۔پبلک سروس میں سب با اثر خواتین میں معروف سماجی کارکن اور وکیل عاصمہ جہانگیر،پاکستان ایئر فورس کی پائلٹ عائشہ فاروق، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی اٹارنی جلیلہ حیدر، آرٹسٹ اور سماجی کارکن منیبہ مزاری اور ثانیہ نشتر کے نام شامل ہیں۔سماجی خدمت میں سماجی کارکن بلقیس ایدھی، میک اپ آرٹسٹ اور تیزاب سے جھلسی ہوئی خواتین کے لیے کام کرنے والی مسرت مصباح،عورت فائونڈیشن کی نگار احمد، جذام کے مریضوں کے لیے بلا معاوضہ کام کرنے والی ڈاکٹر روتھ اورتنزیلا خان با اثر خواتین کی فہرست میں شامل کی گئیں۔ادب اور آرٹس میں انگریزی زبان کی ناول نگار ببسی سدھوا،سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کی پوتی رائٹر فاطمہ بھٹو، ایوارڈ یافتہ ناول نگارکمیلا شمسی، معروف شاعرہ کشور ناہید اور رائٹر مصور سلیمہ ہاشمی با اثر ترین خواتین۔تعلیم کے شعبے میں سب سے بااثر خواتین میں دینی امور کی ماہر ڈاکٹر فرحت ہاشمی ، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی، ماہر تعلیم خدیجہ مشتاق، بیکن ہائوس کی بانی ماہر تعلیم نسرین محمودقصوری اور روٹس اسکول سسٹم کی بانی ماہر تعلیم رفعت مشتاق شامل۔بزنس میں بااثر ترین خواتین میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی ایم ڈی آمنہ سید، معروف ڈریس ڈیزائنرماہین خان،مشرف حی، معروف لان ڈیزائنرثناء سفینہ اور معروف اسٹائیلسٹ نبیلا ۔ موسیقی میں لوک گلوگارہ عابدہ پروین، کلاسیکل گلوکارہ فریحہ پرویز، پاپ گلوکارہ حدیقہ کیانی ،صوفی گائیکا صنم ماروی اور کتھک رقاصہ شیما کرمانی سب سے با اثر۔

دی نیوز پاور ویمن میں ان با اثر خواتین کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا جو کہ اب ہم میں نہیں ان میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح،ملکہ ترنم نور جہاں، گلوکارہ اقبال بانو،سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو، لوک گلوکارہ ریشماں،ارفع کریم رندھاوا کم عمر ترین مائیکروسافٹ پروفیشنل، پاپ گلوکارہ نازیہ حسن،ناول نگار رضیہ بٹ، ماہر تعلیم انیتا غلام علی،طاہرہ قاضی شہید پرنسپل آرمی پبلک اسکول پشاور،بیگم رعنا لیاقت علی،آرٹسٹ لیلیٰ شہزادہ،شیف فرح عالم، شاعرہ پروین شاکر،آرٹسٹ اینا مولیکا احمد،روشن آرا بیگم،زبیدہ آغا اور پوپی افضل خان شامل ہیں۔ پاکستان کی تعمیر اور ترقی میں ان خواتین کی خدمات کو آنے والی تمام نسلیں یاد رکھیں۔پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کا کام کرنا اور اپنے کام سے معاشرے پر اثر انداز ہونا ہر اس عورت کی کامیابی ہے جو خواب دیکھتی ہے۔اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت کرتی ہے ہر محنتی اور جرات مند پاکستانی خاتون کو سلام۔

Javeria Siddique writes for Jang

twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10720#sthash.EJZkydMX.dpuf

Posted in Pakistan

سانحہ یوحنا آباداورمظاہرین کا ردعمل

  Posted On Monday, March 16, 2015   ……جویریہ صدیق…..
لاہور میں یوحنا آباد کے کرائسٹ اور کیتھولک گرجا گھروں پر دو خود کش دھماکوں کے نتیجے میں15 افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد زخمی ہیں۔ دھماکے کے بعد ہر طرف خوف و ہراس اور بھگدڑ مچ گئی۔جاں بحق افراد میں ایک خاتون ، دو بچے اور دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔گرجا گھروں میں دعائیہ سروس جاری تھی کہ خود کش حملہ آوروں نے مرکزی گیٹ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی ۔تاہم گارڈ اور رضا کارکی مزاحمت پر وہ چرچ میں داخل نا ہوسکے تو انہوں نے فائرنگ شروع کردی اور مرکزی دروازے پر ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ۔بم دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق اور70سے زائد زخمی ہوگئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہل علاقہ مشتعل ہوگئے، انہوں نے دو مشکوک افراد کو پکڑ کر مارا پیٹا اور بعد ازاں انہیں نذر آتش کردیا۔غصہ صرف یہاں ہی ختم نہیں ہوا تین پولیس اہلکاروں کو پکڑ کر زدوکوب کیا ، سڑکوں پر گھسیٹا اور بعد میں انہیں ایک دوکان میں گھنٹوں بند رکھا۔اس کے بعد مشتعل ہجوم نے گجومتہ میں میٹرو بس ٹریک کو نقصان پہنچایا اور لوٹ مار کی ۔

دوسری طرف صوبائی حکومت نے بھی امدادی کاموں میں سستی دکھائی جس نےاور جلتی پر تیل کا کام کیا۔یوحنا آباد سے زخمیوں کو عوام خود ہی اپنی مدد آپ کے تحت اسپتال پہنچایا۔یوں تو پاکستان میں مسیحی برادری بہت پرامن ہے لیکن یوحنا آباد میں مسیحی بھائیوں کا احتجاج پرتشدد ہوگیا۔اگر ان تمام واقعات کے فوٹیج کو غور سے دیکھا جائے تو ہجوم کا حصہ نوجوانوں اور بچوں پر مشتمل تھا۔جس وقت جائے وقوعہ سے پکڑے جانے والے مشکوک شخص کو مارا جارہا تھا تو ادھیڑ عمر افراد کے ساتھ سات سے آٹھ سال کے بچے بھی اس شخص کو مار رہے تھے ۔جب مشکوک شخص کو جلایا گیا تب بھی نوجوان اور بچے اس ہجوم میں پیش پیش تھے۔ اس کے علاوہ اگر میٹرو ٹریک پر ہنگامہ آرائی کرنے والے نوجوانوں کی عمریں بھی15 سے18 سال تھیں۔یہ ہجوم اشتعال میں دو افراد کو جلا گیا۔پولیس پر تشدد کرتا رہا اور اس ہجوم نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔جس طرح خود کش حملہ بدترین دہشت گردی ہے اس ہی طرح یہ ہنگامہ آرائی اور لوگوں کو جلا دینا بھی دہشت گردی کے ہی زمرے میں آتا ہے۔

ماہر نفسیات رابعہ منظور کے مطابق اس ہجوم کی نفسیات کے پیچھے بہت سے عوامل کار فرما ہیں ۔بم دھماکے میں بہت سے لوگوں کا ایک دم جان سے چلے جانا کچھ لوگوں کو بہت افسردہ اور کچھ کو بہت اشتعال دلا جاتا ہے۔جس ہجوم نے آج دو افراد کو جلایا ، پولیس کو زدوکوب کیا اور توڑ پھوڑ کی وہ بہت زیادہ غصے ،اشتعال اور مایوسی کا شکار تھے۔ مسیحی برادری پر حملے نئے نہیں ،پشاور میں چرچ پر حملہ میں85 افراد کا جاں بحق ہونا، کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلا دینا ،سانحہ گوجرہ، مشنری اسکول پر حملے ،شہباز بھٹی کا قتل ، لاہورجوزف کالونی میں100سے زائد مسیحی افراد کے گھر جلا دئیے گئے، یہ سب ان واقعات کا ردعمل ہے کیونکہ کسی بھی معاملے میں انصاف نہیں ملا۔جب انصاف نا ملے تو لوگ ہجوم کے ذریعے سے انصاف لینے کی کوشش کرتے ہیں جو بہت خطرناک ہے اور معاشرتی اقدار کے منافی ہے۔

رابعہ منظور نے کہا اس واقعے میں کم عمر بچے بھی پرتشدد ہجوم کا حصہ تھے۔بچے عام طور پر جلدی اشتعال میں آجاتے ہیں اور اپنے غصے و جذبات کا اظہار انہوں نے اس طریقے سے کیا کہ سرکاری املاک پر حملے کرتے رہے۔ اگر قانون نفاذ کرنے والے ادارے اور امدای کارکن فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے تو یہ صورت حال نا ہوتی ۔ ان کے مطابق بچے اپنی کم عمری جذباتی طبیعت اور نا سمجھی کے باعث ایسے واقعات کا حصہ بن جاتے ہیں۔کسی بھی سانحے کے بعد بدلہ یا انتقام کی آگ ان واقعات کا سبب بن جاتی ہے۔

یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے شعبہ عمرانیات کے استاد ثمریز حفیظ کے مطابق اگر اس خطے کی تاریخ دیکھی جائے تو یہاں کے باشندے بہت پر امن رہے ہیں لیکن اب واقعات اور حالات نے عوام کو بہت جذباتی اور پر تشدد بنا دیا ہے۔ افغان جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ نے حالات کو یہاں یکسر تبدیل کردیا ہے۔اس کے ساتھ قانون نفاذ کرنے والے اداروں کا عوام کے ساتھ نا تعاون کرنا بھی ایسے واقعات کو جنم دیتا ہےجس میں ہجوم خود ہی منصف بن کر فیصلہ سنا دیتا ہے۔پاکستان میں پولیس کا رویہ جس میں وہ ہمیشہ انصاف کے متلاشی افراد کو تنگ ہی کرتے ہیں ان کے ساتھ بالکل بھی تعاون نہیں کرتے یہ سب عوام کو بددل کرکے قانون اور انصاف کو اپنے ہاتھوں میں لینے پر مجبور کرتا ہے۔ریاست اپنے فرایض کی ادائیگی میں مکمل ناکام ہے جب عام آدمی کو بنیادی حقوق ہی میسر نہیں، تعلیم کا فقدان ہے تو ہجوم کی صورت میں ہم عوام سے کیا امید کرسکتے ہیں۔اگر پولیس اور ریاست کا رویہ یہ ہی رہا اور لوگوں نے سڑکوں پر انصاف لینا شروع کردیا تو یہ معاشرے، نظام انصاف اور حکمرانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

ماہر نفسیات رابعہ منظور کے مطابق اگر امن امان کی صورتحال کو بہتر کیا جائے لوگوں کو انصاف بر وقت ملے تو ان واقعات کا سدباب ہوسکتا ہے ۔ اس کے ساتھ تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ہجوم کو منظم کرسکتی ہے۔ پیار ایثار اور ہمدردی سے بھی ہم معاشرے میں بھائی چارہ قائم کرسکتے ہیں۔ ہجوم کا انصاف معاشرے کے لیے بہت بھیانک ثابت ہو سکتا ہے اس لیے حکومت اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے فوری طور پر اس مسئلے کی طرف متوجہ ہوں ۔مہذب معاشرے میں ہجوم کا انصاف بالکل جگہ نہیں رکھتا۔حکومت کو چاہیے کے یوحنا آباد کے رہائشیوں کی داد رسی کرے اور ان کے علاج معالجے میں کوئی کسر نا چھوڑی جائے۔ماہرعمرانیات ثمریز حفیظ کے مطابق اس طرح کے واقعات کا سدباب تب ہی ممکن ہے جب ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے اور بنیادی انسانی حقوق عوام کا حق ہے اس لیے عوام کے تحفظ کے لیے ریاست اپنا کردار ادا کرے صرف مذمت کافی نہیں ہے۔ اقلیتوں کا تحفظ معاشرے کا فرض اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔
Javeria Siddique writes for Jang
twitter@javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10747#sthash.Nkm08OXb.dpuf

Posted in Pakistan, social media

ٹیم گرین کی شکست اور سوشل میڈیا

Posted On Sunday, March 22, 2015   …..جویریہ صدیق…..
اور پاکستان ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر ہوگیا۔یہ تو ٹیم کی کارکردگی سے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ کپ ہمارا نہیں ہے لیکن گذشتہ میچز میں کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی سے یہ لگا کہ شاید کوئی معجزہ ہوجائے اور یہ ورلڈ کپ ہمارے نام ٹھہرے لیکن افسوس پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے ہاتھوں کوارٹر فائنل میں شکست کھانے کے بعد ورلڈ کپ سے آئوٹ ہوگی۔فیس بک اور سوشل میڈیا پر ملا جلا رجحان رہا کچھ لوگ ٹیم کی حمایت اور اچھا کھیل پیش کرنے والے کھلاڑیوں کو داد دیتے رہے تو کچھ دل جلے اپنے غصہ ٹوئٹ اور اسٹیٹس کے ذریعے سے نکالتے رہے۔کچھ شایقین ہارنے کے بعد مورال اپ کرنے کے لیے مزاحیہ ٹوئٹس بھی کرتے رہے۔

پاکستانی سیاست دان اور سابق پاکستانی کھلاڑی شکست کے بعد بھی ٹیم اور قوم کا مورال بلند کرتے رہے۔تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی نے ٹوئٹ کیا وہاب ریاض کی کارکردگی متاثرکن رہی مجھے امید ہے مستقبل میں ایک اچھی مضبوط ٹیم ابھرے گی۔ ایم پی اے حنا بٹ نے ٹوئٹ کیا یہ دو کیچ ڈراپ نہیں ہوئے بلکہ ورلڈ کپ ڈراپ ہوگیا۔ایم پی اے شرمیلا فاروقی نے ٹوئٹ کیا وہاب ریاض پاکستان کو تم پر فخر ہے۔سابق کرکٹر اظہر محمود نے ٹوئٹ کیا ’ہارڈ لک پاکستان، آج ہمارا دن نہیں تھا لیکن وہاب اور سرفراز جیسے کھلاڑی ابھر کر سامنے آئے۔اظہر محمود نے دوسرے ٹوئٹ میں کہا کہ پی سی بی سابق کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرے تاکہ ٹیم کی کارکردگی کو مضبوط کیا جائے۔ سابق کرکٹر وسیم اکرم نے ٹوئٹ کیا وہاب ریاض کی کارکردگی شاندار رہی۔سابق کھلاڑی و کوچ ثقلین مشتاق نے ٹوئٹ کیا پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ہار جانا افسوس ناک ہے یہ ایک اداس دن ہے، پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اب آگے دیکھنا ہوگا ایک بارپھر سے خود کو بنائیں ۔ شعیب ملک نے ٹوئٹ کیا وہاب ریاض کی کارکردگی شاندار تھی شکریہ،الوادع مصباح الحق اور شاہد آفریدی جو کچھ آپ نے پاکستان کے لیے کیا شکریہ۔

پاکستان میچ تو ہار گیا لیکن وہاب ریاض کی کارکردگی پر غیر ملکی کھلاڑی اور ماہرین بھی تبصرے کرتے رہے۔ کیون پیٹرسن نے ٹوئٹ کیا مدت بعد کسی غیر ملکی بائولر کا جادو سرزمین آسٹریلیا پر چلا،وہاب بہترین باولنگ ۔برائن لارا نے ٹویٹ کیا اف خدایا کیا بائولنگ کا حصار ہے اور وہاب ریاض کی بائولنگ دیکھ کر بہت مزہ آیا ۔ٹامی موڈی نے ٹویٹ کیا ،وہاب کیا خوبصورت بائولنگ کا حصار ہے۔آسٹریلوی کھلاڑی گیلن میکس ویل نے ٹوئٹ کیا شاندار بائولنگ وہاب۔ تجزیہ نگار جیاوف لیمن نے ٹوئٹ کیا، وہاب اور وٹسن اسے کہتے ہیں کرکٹ۔غیر ملکی صحافی و اسپورٹس اینکر ملینڈافارل نے ٹوئٹ کیا وہاب ریاض کی کارکردگی بہترین تھی اور اس نے شکست بھی ایک گریس کے ساتھ قبول کی۔

صحافی اور اینکر تنزیلا مظہر نے ٹویٹ کیا ہمارے بائولرز نے بہترین کارکردگی دکھائی لیکن خراب فیلڈ نگ ٹیم کی کارکردگی پرا ثرانداز ہوئی۔ صحافی آمنہ ایسانی نے ٹوئٹ کیا کہ اچھا ہوا انڈیا سے ہارنے سے بہتر تھا کہ ہم آج آسٹریلیا سے ہار گئے۔صحافی وسیم عباسی نے ٹوئٹ کیا سری لنکا جیسی ان فارم ٹیم اتنی بری طرح ہاری اس لحاظ سے ہم باعزت ہارے ہیں، اس لیے ٹیم پاکستان زندہ باد۔ رائٹر سمیع چوہدری نے ٹوئٹ کیا مصباح الحق اکیلا فائٹر ۔صحافی ندیم ایف پراچہ نے ٹوئٹ کیا کہ صرف عرفان نہیں باقی ٹیم بھی گھر واپس آرہی ہے۔فکشن رائٹر مبشر علی زیدی نے ٹوئٹ کیا آج صبح جن کی آنکھوں میں ستارے مسکرارہے تھے اب ان میں موتی جھلملا رہے ہیں۔جیو کے سپورٹس رپورٹر فیضان لاکھانی نے ٹوئٹ کیا یہ وقت مناسب ہے کہ ان کھلاڑیوں کو سائیڈ پر کردیا جائے جنہوں نے ٹیم میں رہ کر اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔صحافی نازیہ میمن نے ٹوئٹ کیا فیلڈنگ نے مایوس کیا لیکن بائولرز کی کارکردگی قابل ستائش تھی۔

ڈاکٹر فیصل رانجھا نے ٹوئٹ کیا ٹیم گرین نے بہت اچھا اور جان لگا کر کھیلا۔خاص طور پر کپتان مصباح الحق کا شکریہ جنہوں نے اتنی کمزور ٹیم کے ساتھ اچھی کارکردگی دکھائی۔فیصل محمود نے ٹویٹ کیا کہ ہماری ٹیم کی فیلڈنگ بھی خراب ہے بیٹنگ بھی لیکن باولنگ کمال کی ہے شکریہ مصباح شکریہ وہاب ریاض۔سائرہ احمد نے ٹوئٹ کیا ٹیم کو برابھلا کہنے کے بجائے وہاب ریاض کی بائولنگ کی تعریف کریں ،مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ پر اچھے الفاظ میں الوداع کہیں۔صہیب اظہر نے ٹوئٹ کیا شکریہ مصباح اور وہاب۔ افشاں منصب نے ٹویٹ کیا میچ کی فیس کا بیس فیصد تو جرمانے میں گیا لیکن وہاب ریاض کی کارکردگی نے ہارے ہوئے میچ کے باوجود دنیا کی نظروں میں پاکستان کا وقار بلند کردیا۔

کچھ توطنز و مزاح سے بھرپور ٹوئٹس کرتے رہے ایم عاقب نے ٹویٹ کیا کہ1992ء میں بھی 19آتا ہے اور 2019ءمیں بھی19 اس لیے اگلا ورلڈ کپ ہمارا ہے۔زوہیب رئوف نے ٹوئٹ کیا کرکٹ ٹیم 1992 میں بھی پی آئی اے سے واپس آئی تھی۔لوکی الباکستانی نے ٹویٹ کیا کہ 1992میں بھی کیا یہ ہی ہوا تھا ؟ ۔باسط نے ٹوئٹ کیا اب شاہد آفریدی آرام سے ماڈلنگ کرسکتے ہیں بلاوجہ کرکٹ کےباعث ان کے کام میں رکاوٹ آتی تھی۔عاصم اکرام نے پاکستانی ٹیم کی میچ میں شکست کے بعد ٹوئٹ کیا ،ہر پاکستانی کو کرکٹ میچ میں شکست کے بعد سنبھلنے کے بعد دو تین دن تو لگ جاتے ہیں۔حیدر نقوی نے ٹوئٹ کیا پاکستانی کرکٹ آئی سی یو میں ہے۔مانو بلی نے ٹوئٹ کیا آج کا میچ ہنسی ، مذاق،غصےاور پھر آنسو سے لبریز اپنے نقوش ہمیشہ کے لیے ہمارے دلوں پر چھوڑ گیا۔

Javeria Siddique writes for Jang

twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10758#sthash.M4ITduCf.dpuf

Posted in Pakistan

شاہینوں کی جیت اور سوشل میڈیا

Posted On Monday, March 02, 2015   ….. جویریہ صدیق……
آخرکار شاہینوں نے ورلڈ کپ کرکٹ میں پہلی فتح حاصل کر ہی لی۔
قومی کرکٹ ٹیم کی پہلے دو ورلڈ کپ میچز میں کارکردگی نے قوم کو مایوس کردیا تھا اور پاکستان زمبابوے میچ سے بھی امید بہت کم تھی۔ شائقین نے صبح میچ دیکھنا شروع کیا تو سوشل میڈیا پر ردعمل مایوس کن تھا۔عوام میچ دیکھتے رہئے اور قومی کرکٹ ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے۔کھیلو یا سامان باندھو ،ٹرینڈ ٹوئٹر پر سب سے اوپر رہا،لیکن دوسرے ہاف میں میچ کا پانسہ پلٹا اور ایک مشکل اننگز کے بعد فتح پاکستان کے نام ہوئی۔پاکستانی شائقین اس غیر متوقع فتح سے نہال ہوگے اور مخالفانہ ٹوئٹس یک دم تعریفی ٹوئٹس میں تبدیل ہوگے ۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اپنے ٹوئٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آیندہ میچز کے لیے بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم سےبہترین کارکردگی کی امید ہے۔سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے ٹوئٹ کیا، ویل ڈن ٹیم پاکستان ،امید ہے کہ میں 7 اور15 مارچ کو بھی پاکستان کی جیت کی خوشی میں شکرانے کے نوافل ادا کروں گی ۔ ایم پی اے حنا بٹ حیات نے ٹوئٹ کیا اس فتح کا سہرا مصباح کو جاتا ہے ۔قوم کے چہرے پر مسکراہٹیں لانے کے لیے بہت شکریہ مصباح۔وزیر اعظم کے خصوصی سفیر برائے سرمایہ کاری جاوید ملک نے ٹوئٹ کیا آخرکار جیت پاکستان کا مقدر بنی۔تحریک انصاف کی رہنما ناز بلوچ نے ٹویٹ کیا آخرکار پاکستانی کرکٹ ٹیم پہلی جیت سمیٹنے میں کامیاب ہوگئی۔

اینکر و صحافی حامد میر نے ٹوئٹ کیا شاباش کرکٹ ٹیم مصباح،عرفان اور وہاب نے پاکستانی کرکٹ کو بڑی شرمندگی سے بچا لیا۔اینکر و صحافی شاہد مسعود نے ٹوئٹ کیا بہت مبارک ہو پاکستان۔ صحافی طارق بٹ نے ٹوئٹ کیا ورلڈ کپ میں پہلی جیت مبارک ہو۔صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے ٹوئٹ کیا، ویل ڈن مصباح تمہارے بنا یہ میچ باعث ندامت بن جاتا۔صحافی عمر قریشی نے ٹوئٹ کیا کچھ خراب بیٹنگ اور فیلڈنگ کے باوجود بالرز کی بہترین کارکردگی نے پاکستان کو میچ جتوا دیا، سب کو فتح مبارک ہو۔جیو کے اسپورٹس رپورٹر فیضان لاکھانی نے ٹوئٹ کیا کہ پاکستانی شائقین کو آخرکار جشن منانے کا موقع مل ہی گیا۔بی این این کے رائٹر سمیع چوہدری نے ٹویٹ کیا قوم کو جیت مبارک ہو اگلے میچ میں سرفراز،یونس اور یاسر کو بھی لایا جائے۔صحافی صوفیہ صدیقی نے ٹویٹ کیا ،پاکستان کی پہلی فتح مبارک گو گرین گو یہ ہوئی بات۔

مونا فیصل بلور نے ٹوئٹ کیا ویل ڈن وہاب۔ڈاکٹر فیصل نے ٹوئٹ کیا، میچ جیتنے کی اتنی خوشی ہے کہ آنکھیں بھر آئیں۔ صہیب اظہر نے ٹوئٹ کیا کہ آج کے میچ میں ٹاس بھی قومی ٹیم نے جیتا اور پچاس اورز مکمل کھیلے۔ ٹوئٹستان کے احسن نے ٹوئٹ کیا پاکستان کے میچ جیتنے کی اتنی خوشی ہورہی ہے، اتنی خوشی تو مجھے کلاس میں اول آنے پر بھی نہیں ہوئی تھی۔یسریٰ قادر نے ٹوئٹ کیا کہ پاکستانی قوم ایک بار پھر معجزات پر یقین کرنے لگی ہے۔

انڈا پراٹھا کے نام سے ایک اکائونٹ سے ٹوئٹ ہوا میں بتا رہا ہوں کسی بھی ٹیم کے بارے میں پیشگوئی کردو لیکن پاکستان کے بارے میں مت کرنا۔آفاق حسین نے ٹوئٹ کیا کہ عمر اکمل نے آج کے میچ میں ایک تقریباً ناممکن کیچ پکڑ کر ناقدین کو داندن شکن جواب دے دیا ہے۔حبیب اللہ سواتی نے ٹوئٹ کیا آفریدی کی کارکردگی متاثر کن تو نہیں لیکن انہیں ان کی سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔زوہا اصغر نے ٹوئٹ کیا ہار کو جیتنے والے کو بازی گر کہتے ہیں۔ثاقب نے ٹوئٹ کیا کہ 1992 ورلڈ کپ میں پاکستان کی پہلی جیت زمبابوے کے خلاف تھی۔انعم زہرہ نے ٹوئٹ کیا شاباش وہاب ریاض اتنی شاندار پرفامنس قابل ستائش ہے۔عمائمہ نوید نے کہا کہ آج تو عمر اکمل کے گلابی دستانے بھی اچھے لگ رہے ہیں۔ عفیفہ نے ٹوئٹ کیا،آج کا دن جشن منانے کا دن ہے۔جمہور پسند نے ٹوئٹ کیا کہ عرفان تینوں رب دیاں راکھاں۔ماہرہ ملک نے ٹوئٹ کیا کہ میچ جیتنے کی خوشی میں حکومت عام تعطیل کا اعلان کرے۔محمد فیاض نے ٹوئٹ کیا تمام پاکستانیوں کو جیت مبارک ہو پاکستان زندہ باد۔
Javeria Siddique writes for Jang
Twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10704#sthash.q3cEQ2Fi.dpuf