Posted in Pakistan

سانحات اور قیادت کی بے حسی‎

  Posted On Monday, February 16, 2015   ……جویریہ صدیق……
پاکستان میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تحفظ میں بالکل ناکام نظر آرہے ہیں ۔ سال کی شروعات میں پندرہ دن کے وقفے سے دو امام بارگاہوں کونشانہ بنایا گیا۔شکار پور شہر میں مسجد میں73 نمازی دہشت گردی کا شکار ہوئے اور پشاور میں21 افراد نماز کے دوران دہشت گردوں کی بربریت کا نشانہ بنے۔
دھماکے میں جاں بحق ہونے والے صرف عدد نہیں ہوتے جیتےجاگتے انسان ہوتے ہیں ۔ا ن سے وابستہ کئی لوگوں کی زندگی کا محور صرف وہ ہی ہوتے ہیں۔کتنے ہی جان سے جانے والے گھر کا واحد کفیل ہوتے ہیں۔دھماکے خودکش حملے میں جب لوگوں اچانک اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو اس غم کا اندازہ صرف وہ ہی لگا سکتے ہیں جس کا پیارا اس دنیا سے جاتا ہے۔ہر روز پاکستان میں یہ موت کا کھیل جاری ہے، کبھی دھماکا کبھی ٹارگٹ کلنگ،کبھی خود کش حملہ ہر روز پاکستانیوں کا خون بہتا ہے۔خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں صوبہ خیبر پختون خواہ کی قربانیاں بہت زیادہ اس صوبے میں ہر چوک سڑک کسی نا کسی شہید یا سانحے سے منسوب ہے اس صوبہ کا ہر گوشہ اس صوبے پر ہونے والے مظالم کی داستان سناتا ہے۔16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول میں 145 افراد نے جام شہادت نوش کیا جن میں 135 بچے تھے۔اس کے بعد توقع یہ ہی تھی کہ اب شاید عوام کے لیے کچھ سیکورٹی کا خاطر خواہ بندوبست کیا جائے گا لیکن شکار پور کا سانحہ اور پشاور میں امامیہ امام بارگاہ میں حملہ حکومتی دعووں کا پول کھولنے کے لیے کافی ہے۔
عوام اپنے اپنے علاقوں سے سیاسی اراکین کو اس لیے منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کی خدمت کریں لیکن یہاں سیاستدان صرف سیاست پر ہی یقین رکھتے ہیں عوام کی خدمت تو ان کے ایجنڈے میں ہی شامل نہیں۔اس وقت پھی سینیٹ الیکشن تمام سیاستدانوں کی پہلی ترجیح ہے، باقی دیگر ملکی مسائل کی کوئی وقعت ہی نہیں۔کس کو ٹکٹ دینا ہے کون زیادہ موزوں ہوگا کس کس کو سینٹ میں نواز کر ان کے احسانات کا بدلہ چکانا اس وقت زیادہ ضروری ہے۔باقی رہے عوام تو جب بھی کوئی دھماکہ ہوتا ہے تو بڑے لیڈران تو یہ کہہ کر خود کو علیحدہ کر لیتے ہیں کہ ہم تو جائے وقوعہ کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن سیکورٹی کلیرنس نہیں ملی ۔سیاستدان ٹویٹ اور ٹی وی پر آکر عوام سے ہمدردی کرلیتے ہیں اور اس موقع پر بھی مخالف پارٹی کو نیچا دیکھانے سے باز نہیں آتے۔جو کوئی مقامی قیادت لواحقین سے ہمدردی کے لیے پہنچ بھی جائے تو اپنی پارٹی کے جھنڈے اور پوسٹر لیجانا نہیں بھولتے۔آخر کو جان ہیتھلی پر رکھ کر عوام کے درمیان آئے تو اس موقع کو کیش ناکروائیں وہ ؟ لواحقین کے ساتھ تصاویر لے کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کروانے کے بعد نو دو گیارہ۔
کیا کبھی کس نے یہ سوچا ہے کہ دہشت گردی میں مرنے والا کتنا زندہ دل تھا ؟ اس کے دل میں کتنے خواب تھے ؟ اس کو زندگی سے کتنا پیار تھا ؟ وہ زندگی میں کیا کرنا چاہتا تھا اور اس کے قبر میں اتر جانے کے بعد پیچھے کتنی زندہ لاشیں اس کے گھر میں رہ گئی ہیں۔ایسا بہت ہی کم لوگ سوچتے ہیں یہاں دھماکا ہوا نہیں اور سیاسی جماعتیں میدان میں اتر جاتی ہیں ایک دوسرے پر گندگی اچھالنے کے لیے ہر مسئلے پر سیاست حالانکہ جس وقت کوئی بھی سانحہ ہوتا ہے تو عوام کو ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے پر افسوس ہمارے ہاں فوری طور پر اس پر سیاست شروع ہوجاتی ہے مرکزی حکومت صوبائی حکومت پر الزام دیتی ہے اور صوبائی مرکزی پر، اور یوں ایسا لگتا ہے سانحہ کا سبب عوام خود ہی ہیں جنہوں نے بے حس حکمرانوں کو خود پر مسلط کیا۔
شکار پور جیسےچھوٹے شہر میں نمازیوں پر حملہ ہوتا ہے ایک نسل کو ہی مٹا دیا جاتا ہے لیکن ملک کے بڑے بڑے لیڈران کو وقت ہی نہیں ملتا کہ وہ اس شہر کے باسیوں کے زخموں پر مرہم رکھ سکیں۔کسی نے سوچا ہے کہ73 افراد کے لواحقین کے ان کے بنا کیسے گزر بسر کریں گے؟ ان کی مائوں، بہنوں اور بچوں کی کفالت کون کرنے گا ؟نہیں کوئی اس طرف دیکھنے کو بھی تیار نہیں۔اسی طرح 13فروری کو جمعے کی نماز میں پشاور میں اہل تشیع نشانہ بنتے ہیں تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اب بھی خیبر پختونخوا دہشت گردوں کے نرغے میں ہے ان کا جہاں دل کرتا ہے کاروائی کرتے ہیں اور کئی پاکستانیوں کی زندگی کے چراغ گل کرجاتے ہیں۔
اکثر ان سانحات کے بعد وزیر داخلہ گھنٹوں پر محیط تقریر کرنے آجاتے ہیں جس میں وہ بتاتے ہیں کہ ہمیں تو پہلے ہی اطلاع تھی اگر جناب پہلے ہی اطلاع تھی تو آپ نے دہشت گردی کو روک کیوں نہیں پاتے ؟ پھر کہتے ہیں ہمیں خود کش حملہ آور کا سر مل گیا کبھی انگلی وغیرہ وغیرہ، وہ تو جیسے بایو میٹرک شاختی کارڈ یا سم لیے گھوم رہے ہیں نا جو آپ اس کی انگلی سے اسکا پورا حدود اربع نکال لیں گے۔اب بہت ہوگیا حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی ذاتی جنگ لڑنا بند کرے۔عوام کی خدمت کا آغاز کریں اگر اپنے ہی ووٹرز کے گلی محلوں میں نہیں آسکتے ان کی داد رسی نہیں کرسکتے تو بہتر یہ ہی کہ آپ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا حکمران جب اپنی جان کی حفاظت کو ترجیح دینے لگیں تو وہ ملک اور قوم کی آبرو کی حفاظت کے قابل نہیں رہتا۔
ملک میں فرقہ وارنہ دہشت گردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی اور جمہوری حکومت اس کو روکنے میں مکمل ناکام نظر آرہی ہے۔امامیہ مسجد اور شکارپور میں جان سے جانے والے بھی اتنے ہی مسلمان اور پاکستانی ہیں جتنے آپ ہم سب ہیں۔پاکستانیوں کو اب فرقوں اور نسل کے رنگ و فرق سے نکلنا ہوگا۔جن تک ہم متحد نہیں ہوں گے ہم دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ پولیس کو جدید طرز پر تربیت دے اور ماڈرن ٹیکنالوجی سے لیس کرے تاکہ وہ عوام کا صحیح معنوں میں دفاع کرسکیں۔پاکستان کے اندر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مکمل کریک ڈائون کیا جائے،مدارس کی اسکروٹنی کی جائے ،دہشت گردوں سے ہمدردی کو ناقابل معافی جرم بنایاجائے۔اب ہمیں اپنا دوغلا رویہ ختم کرنا ہوگا ۔ اچھے طالبان اور برے طالبان کی رٹ گردانا بند کرنا ہوگی۔ سارے ہی دہشت گرد برے ہیں اور ہمیں قوم کو اس عذاب سے نجات دلانا ہوگا،انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔کب تک ہم دوسروں کے مفادات کی جنگ اپنے ملک میں لڑیں گے ہم سب کو اب صرف پاکستان کا مفاد سامنے رکھ کر سوچنا ہوگا۔
اب تک 70ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں گنواچکے ہیں، جن میں 135 بچوں کے جنازے ایک ہی دن میں اٹھائے گئے۔اب ہم سب کو اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔فوج سرحدوں پر ہمارا دفاع کررہی ہے دہشت گردوں کے خلاف بھی بر سرپیکار ہے ، اب پولیس کو جدید زمانے کے لحاظ سے تربیت دینا ناگزیر ہوگیا ہے، پولیس 25،30سالہ پرانے اسلحے سے جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔اس کے ساتھ ساتھ گلی محلوں میں امن کمیٹیاں بنائی جائیں جومشکوک افراد پر نظر رکھیں، یہ کمیٹی پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔پولیس بھی ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔عوام کو ایک بار پھر سے این سی سی کی ٹریننگ شروع کروائی جائے جس میں انہیں ہنگامی حالت کا مقابلہ کرنا سکھایا جائے، اس کے ساتھ ابتدائی طبی امداد بھی سکھائی جائے کہ کسی حادثے یا سانحے کی صورت میں کس طرح اپنے دیگر ہم وطنوں کی مدد کرنی ہے۔اگر اب بھی سجدے میں شہید ہونے والے افراد اور کمسنی میں مرجھانے والے پھولوں کی قربانی ہمارے مردہ ضمیر کو زندہ کرنے کے لیے نا کافی ہے تو ہمیں دہشت گردی کے عذاب سے کبھی نجات نہیں مل سکے گی۔
Javeria Siddique writes for Jang
Twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10665#sthash.M2F0pLOK.dpuf

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s