Posted in ArmyPublicSchool, Pakistan

گل رعنا کا دکھ

گل رعنا کا دکھ

  Posted On Thursday, December 25, 2014   …..جویریہ صدیق……
مردان طورو سے تعلق رکھنے والی گل رعنا کے گھر محمد علی کی پیدایش12 اکتوبر1998 کو ہوئی۔گل رعنا اور ان کے شوہر شہاب الدین کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔تین بہنوں کا اکلوتا بھائی اسکا نام بھی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام کی مناسبت سے محمد علی رکھا گیا۔محمد علی کو شروع سے ہی آرمی میں جانے کا شوق تھا اور وہ بچپن میں جب بھی مچل مچل کر گاڑی جہازفوجی ٹینک والے کھلونوں کی ضد کرتا تو شہاب الدین مسکراتے ہوئے جابجا کھلونے اس کو لے دیتے اکلوتا جو تھا ۔گل رعنا کی آنکھوں کی ٹھنڈک اس کے دل کا قرار جب گھر سے تعلیم کے حصول کے لیے نکلا تو اس کے لیے اس کو شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی پبلک سکول ورسک روڈ کا انتخاب کیا گیا۔محمد علی کا تعلیمی سلسلہ شروع ہوا ہر مضمون میں بہترین اور ساتھ میں سکول کی باسکٹ بال ٹیم کا سب سے بہترین کھلاڑی۔سکول میں شوٹنگ میں بھی سب سے آگے اور ہمیشہ نشانے لیے ہوئے کہتا کہ ایک دن وہ دہشت گردوں پر بھی اسی ہی طرح نشانہ رکھ کر انہیں جہنم واصل کرےگا ۔گل رعنا کا شرارتی بیٹا ہر چیز میں آگے تھا گھر میں بہنوں کے ساتھ خوب شرراتیں ماما سے فرمائش، ماما چپس بنا دیں، ماما کیچپ دیں، ماما فرنچ ٹوسٹ کہاں ہے، ماما ریموٹ کہاں ہے میں نے سی آئی ڈی دیکھنا ہے بس جہاں کہیں ایکشن سسپنس سے بھرپور ڈرامہ یا پروگرام آرہا ہو وہاں ریموٹ صرف اس کاہی ہوتا۔محمد علی اپنے والد شہاب الدین کا خاص لاڈلا تھا گل رعنا پھر بھی سختی کرتی تھیں کہ اکلوتا ہے کہیں خود سر نا ہوجائے لیکن شہاب الدین تو کہتے کہ گل میرے بیٹے کو کچھ نا کہو کرنے دو اسکو شرارتیں یہ ہی دن ہیں ان کے کھیلنے کودنے کے پھر بڑا ہوجائے گا تو کہاں وقت ملےگا ۔
نوجوانی کی دہلیز پر دستک دیتا محمد علی کبھی دوستوں کے ساتھ کرکٹ کبھی باسکٹ بال تو کبھی کیرم کی بازی جہاں کہیں بھی محمد علی کھیل رہا ہوتا گل رعنا ایک نظر اس کو چپکے سے دیکھ ہی آتی جب محمد علی ان کو دیکھتا تو گھر آکر خفا ہوتا ماما اب میں بڑا ہوگیا میرے سب دوست دیکھتے ہیں کہ جہاں علی جاتا ہے اس کی ماما اس کو ضرور ایک نظر دیکھ کر جاتی ہیں لیکن گل رعنا مسکرا کر کہتی بیٹا یہ ماں کا دل ہے تم نہیں سمجھو گے۔دس دسمبر کو محمد علی باسکٹ بال میں میڈیل جیت کر آیا تو ماں نے بے ساختہ دعا دی بیٹا تم فخر خاندان ہو خدا تمہیں فخر پاکستان بنائے اور تم دیکھنا ایک دن اخبارات میں تمہاری تصاویر آئیں گی لیکن کسی کو کیا معلوم تھا محمد علی کی گل رعنا کے ساتھ ہی تصاویر آئیں گی لیکن سانحہ پشاور کے بعد۔
سولہ دسمبر کا دن طلوع ہوا محمد علی نے صبح کے وقت قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پڑھا گل رعنا نے آواز دی بیٹا تیار ہوکر ناشتہ کرلو علی سکول کے لیے تیار تو ہوگیا لیکن ناشتہ نا کیا اور دوبارہ قرآن کی تلاوت شروع کردی ماں نے پھر آواز دی تو کہا امی میں چاہتا ہوں وین آنے سے پہلے سپارہ ختم کرلوں۔مامتا سے مجبور ماں نے کہا چائے ہی پی لو بس دو گھونٹ چائے پی اور سکول کے لیے روانہ ہوگیا ۔علی کےتمام دوست سکول کی باسکٹ بال ٹیم کا حصہ تھے۔باسکٹ بال کی پریکٹس کی بعد میں روٹین کی پڑھائی۔ اس دن ہال میں طبی امداد کی ٹرینگ دی جانی تھی اور میڈم افشاں کے ساتھ علی کی کلاس نائن ڈی بھی ہال میں آگئی ۔دوسری طرف گل رعنا اپنی بیٹیوں اور بیٹے کو سکول بھیجنے کے بعد گھر کے کاموں میں مصروف ہوگی ۔
موت طالبان ظالمان کی صورت آرمی پبلک سکول میں داخل ہوئی اور بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی گئی۔ طالبان کی طرف سےحیوانیت کا وہ کھیل کھیلا گیا کہ عرش کانپ اٹھا ۔میڈیم افشاں دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ میں آگئی اور بچوں کو ہال سے بھاگنے کے لیے کہا۔محمد علی ان کچھ چند خوش نصیب بچوں میں تھا جوکہ ہال میں نکلنے سے کامیاب ہوگئے لیکن جب پیچھے دیکھا تو اس کے باسکٹ بال کے پلیئر ساتھی اس کے دوست اس کے کلاس فیلو اذان علی ،علی رحمان اور وقار تو پیچھے ہی رہ گئے تھے وہ پھر پلٹا تو ظالم دہشت گردوں نے گل رعنا کے پھول جیسے بیٹے کی ٹانگوں پر گولیاں ماردی۔وہ گر پڑا لیکن ہمت نا ہاری زمین پر رینگتا ہوا سکول کے گیٹ کی طرف بڑھا لیکن وحشی درندوں نے ایک بار پھر اس معصوم کو نشانہ بنایا اور گولیوں سے چھلنی کردیا یوں محمد علی اس وطن پر قربان ہوگیا۔
گل رعنا اور شہاب الدین کو جب اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو فوری طور پر سکول کی طرف بھاگے لیکن وہاں آرمی آپریشن شروع ہوچکا تھا وہاں سے اسپتال کا رخ کیا تو گل رعنا کو یہ ہی امید تھی اس کا اکلوتا بیٹا اسکا نور نظر زندہ ہوگا ہسپتال میں قیامت صغری برپا تھی ہر طرف آرمی پبلک سکول کے ننھے پھولوں کی مسخ لاشیں تھیں۔اسپتال کے ایک کونے میں آرمی پبلک سکول کی پوری باسکٹ بال کی ٹیم کی لاشیں بھی موجود تھیں اسکول کی پوری باسکٹ بال ٹیم ہی ختم ہوگئی۔وہ بچے جو سنہرے خواب آنکھوں میں سجائے سکول گئے تھے اب ان کی بے نور آنکھیں سوال کر رہی تھیں کہ ہمارا کیا قصور تھا ہمیں کیوں اس نے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا؟گل رعنا کا جیتا جاگتا بیٹا جس کو گھر سے سکول تعلیم کے لیے بھیجا تھا جس کو ابھی پاک فوج میں بھیج کر ملک کا پاسبان بننا تھا جس کے سہرے کے پھول ابھی دیکھنے تھے وہ بچہ دیگر ایک سو پینتیس بچوں کے ساتھ سفید کفن میں ملبوس تھا۔زمین کیوں نا پھٹی آسمان کیوں نا ٹوٹ پڑا آہ گل رعنا کی کل کاینات اس کا بیٹا محمد علی چلا گیا۔
محمد علی کے تابوت سے لپٹ کر روتی رہی اسکو اٹھنے کا کہتی رہی گھنٹوں روتہ رہی پھر بیٹا نا اٹھا کیونکہ محمد علی تو اپنی جان اس وطن کے لیے قربان کرکے شہید کا درجہ حاصل چکا تھا۔گل رعنا جس وقت اپنے بیٹے کے لیے تڑپ تڑپ کر رو رہی تو متعدد کیمروں نے اس کی اپنے شہید بیٹے کے ساتھ تصویر محفوظ کرلی،جس جس پاکستانی نے یہ تصویر دیکھی وہ تڑپ اٹھا گل رعنا کی تکلیف دیکھ کر جس بیٹے کو نو ماہ کوکھ میں رکھ کر پیدا کیا راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس کی دیکھ بھال کی اتنی محنت کرکے پندرہ سال کا کیا آنے والے درندوں نے پندرہ منٹ بھی نا لگائے او گل رعنا کی امیدوں ارمانوں اور خوشیوں کا خون کرکے چلے گئے۔محمد علی کے جنازے میں پشاور اور مردان طورو میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔علاقے کا ہر شخص محمد علی کی تابع داری اور بڑوں کے ساتھ حسن سلوک کا چرچا کرتا رہا۔مردان میں طورو کے علاقے میں ننھے شہید محمد علی کو سپرد خاک کردیاگیا۔
گل رعنا کے وجود کا حصہ اس کی پندرہ سال کی محنت اس کا پیار اس کی آنکھوں کی تارہ اب ایک سرد قبر کا مکین ہے وہ بچہ جسے کو ماں نے کبھی ایک پل آنکھ سے دور نا کیا تھا آج مردان میں ابدی نیند سو رہا ہے۔گل رعنا کے گھر پاک فوج کے افسران اور اے این پی کے لیڈران حاجی غلام احمد بلور،ہارون بشیر بلور،میاں افتخار حسین اور شگفتہ مالک آئے اور انہیں تسلی دی اور دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کا عندیہ دیا۔لیکن گل رعنا انتظار کرتی رہی کہ کب وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف،وزیر اعلی خیبر پختون خواہ پرویز خٹک کب پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان،مریم نواز شریف اورپی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس کے گھر آئیں گے اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھیں گے ،شہاب الدین کو تسلی دیں گے محمد علی کی تین کم سن بہنوں کے آنسو پونچھیں گے لیکن ایسا نا ہوا کوئی بھی نا آیا۔ جب ووٹ لینے کے لیے لیڈران ہمارے علاقوں اور گھروں میں آسکتے ہیں تو ہمارے غم میں شرکت کرنے کیوں نہیں آسکتے جب گل رعنا کو یہ پتہ چلا کہ عمران خان آرمی پبلک سکول آرہے ہیں تو گل رعنا سوگ کی کیفیت میں اسکول چلی گئی اور عمران خان سے سوال کیا کہ یہ ہے وہ تبدیلی جس کا خواب آپ سب کو دیکھا رہے ہیں ؟ ہمارے بچے چلے گئے اور ہمیں پرسہ دینے بھی کوئی نہیں آیا۔آپ کب طالبان کے خلاف ایکشن لیں گے ؟ ہمارے بچوں کو انصاف کون دےگا؟ لیکن تحریک انصاف کے چیئرمین کے پاس کوئی جواب نا تھا۔
گل رعنا کہتی ہیں کہ میرا بیٹا محمد علی تو اس ملک پر اپنی جان نچھاور کرگیا لیکن میں نہیں چاہتی کہ اس قربانی رائیگاں جائے۔میں چاہتی ہوں میرے بیٹے کے لہو کی قربانی سے ملک میں امن آجائے اور کوئی ماں ایسا غم پھر نا دیکھے جو میں نے اور دیگر ایک سو چونتیس بچوں کی مائوں نے دیکھا ہے۔گل رعنا نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ انکے بیٹے باقی شہید ہونے والے بچوں کوسرکاری طور پر شہید کا درجہ دیا جائے اور آرمی پبلک کے شہدا کی یاد میں ایک یادگار تعمیر کی جائے۔انہوں نے آرمی اور حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ ایک ایک دہشت گرد کو اسکو انجام تک پہنچایا جائے تاکہ پھر کسی ماں کی گود نا اجڑے۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at :Twitter @javerias
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10477#sthash.1OdFvxwO.dpuf

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s