Posted in ArmyPublicSchool, Pakistan, Uncategorized

ایک ماں کی فریاد

Posted On Sunday, May 17, 2015   …..جویریہ صدیق…..
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات نے بہت سے خوبصورت چہرے ذہین فطین انسان ہم سے چھین لیے۔ایسی بہت سی کلیاں وقت سے پہلے ہی مرجھا گیں جنہیں تو ابھی گلستان میں مہکنا تھا۔ دہشت گردی نے ہمارے چمن کو خزاں آلود کر رکھا ہے۔ہر روز بہت سے پاکستانیوں کو لرزہ خیز دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے کے بعد منوں مٹی تلے دفنا دیا جاتا ہے۔ مٹی تلے جانے والے شخص کے ساتھ اس کا خاندان بھی زندہ درگور ہو جاتاہے۔ جسم سے روح صرف اس شخص کی نہیں نکلتی جو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کا سارا خاندان بھی ایک زندہ لاش کی صورت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتاہے۔کیونکہ کوئی بھی پیارا اتنی اچانک اور تکلیف دہ موت کے بعد ساتھ چھوڑ جائے تو لواحقین کے لیے بھی زندگی سے دلچسپی اور پیار ختم ہو جاتا ہے۔وہ جیتے ہیں اس لیے کہ سانس چل رہی ہے۔

16 دسمبر سانحہ آرمی پبلک سکول اور کالج کو پورے پانچ ماہ مکمل ہوگئے جس میں کم عمر بچے اور ان کے استاتذہ کو طالبان نے اپنی بربریت کی بھینٹ چڑھا دیا۔جو بچے حصول علم کے لیے اپنی درسگاہ گئے تھے لیکن زندہ واپس نا لوٹ سکے۔گئے تو یونیفارم میں تھے لیکن واپس آئے کفن میں۔مائوں کے چاند مائوں کے پھول گئے تو مامتا کی آغوش سے نکل کر تھے لیکن واپس ملے تواتنی گولیاں پیوست تھی کہ بیان سے باہر۔ہنستے بولتے خوبصورت بچے اور ان کے استاد ابدی نیند سو گئے۔ان سب نے اپنی جانیں وطن عزیز پر قربان کردیں اور پاکستان کی تاریخ میں امر ہوگے۔

افعت اقبال آرمی پبلک کالج گرلز برانچ میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ان کے بیٹے محمد زین اقبال نے16 دسمبر کو سانحہ آرمی پبلک سکول میں شہادت پائی۔افعت اقبال کہتی ہیں زین کیا گیا میرے گھر سے رونق ہی چلی گی نا ہی اب یہاں کوئی ہنستا ہے اور ہر طرف خاموشی ہے۔زین اقبال شہید سیکنڈ ایئر پر ی میڈیکل کا طالب علم تھا۔میرا بیٹا کے جی سے سیکنڈ ایئر تک آرمی پبلک اسکول و کالج میں زیر تعلیم رہا۔آنکھوں میں ایک خواب تھا کہ ڈاکٹر بننا ہے۔ اسکول میں ہر کلاس میں پوزیشن لی اور بورڈ میں بھی ٹاپ کیا۔گذشتہ رمضان اعتکاف میں بیٹھا۔لیکن دہشت گردوں نے مجھ سے میرا بیٹا چھین لیا۔16 دسمبر کو زین کا کیمسٹر ی کا پرچہ تھا،وہ بیالوجی لیب میں اپنا پیپر دے رہا تھا اور اس ہی دوران دہشت گرد نے حملہ کر ڈالا۔میرا بیٹا چلا گیا ،میرا زین چلا گیا ۔اس کے بعد سے اب زندگی سے اعتبار سا اٹھ گیا ہے۔مجھے اب مرنے کا خوف نہیں رہا مجھے اب موت سے ڈر نہیں لگتا۔

زین کی صبح کا آغاز میرے ساتھ ہوتا تھا جس ڈریسنگ ٹیبل پر میں تیاری ہوتی تھی خود بھی وہ وہاں تیار ہوتا بار بار مجھےگلے لگتا۔کبھی مجھے چومتا۔میں جب بھی اسکو دیکھتی تو سوچتی یہ کتنا شفیق اور رحم دل ڈاکٹر بنے گا۔زین خود گاڑی چلاتا اور مجھے بھی کالج ڈراپ کرتا، اس کے بعد ورسک روڈ آرمی پبلک سکول و کالج چلا جاتا۔صبح بھی اس کے پاس بہت سی باتیں ہوتی تھیں اور کالج واپسی سے تو بس شام تک اس پاس بہت سی باتیں جمع ہوتی صرف مجھ سے شیئر کرنے کے لیے وہ میرا بیٹا نہیں میرا دوست بھی تھا۔زین کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ فٹنس کا بھی بہت شوق تھا ،وہ ہر روز ورزش کرتا تھا، زرا سا وزن زیادہ ہو جاتا تو فوری تو طور پر ڈائٹنگ شروع کر دیتا ۔ہر چیز میں وہ سب سے آگے تھا اس لیے موت بھی اس کی غیر معمولی آئی اور شہید ہوکر اس نے اپنی جان پاکستان کے لیے قربان کردی۔

ابھی پورے پاکستان نے مائوں کا عالمی دن منایا لیکن میں یہ دن نہیں منایا کیونکہ میرا بیٹا جو ہر مدرز ڈے پر مجھے پھول دیتا تھا کارڈز بنا کر دیتا تھا، وہ اس بار میرے ساتھ نہیں تھا ۔ہم زندگی گزر رہے ہیں اس لے کیونکہ سانس چل رہی ہے لیکن جی نہیں رہے۔حکومت نے ہماری داد رسی نہیں کی بس کچھ کام دنیا دکھاوے کے لیے کردئیے ہیں۔ مشکل کی گھڑی میں ہمیں بالکل تنہا چھوڑے رکھا۔کوئی امداد دینے کی بات کررہا تھا تو کوئی اسکول کے نام تبدیل کرنے کی بات کرتا رہا۔پر ہم سب ایک حقیقی ہمدردی سے محروم رہے۔میں خیبر پختون خواہ کے حکمرانوں اور عمران خان سے کہنا چاہتی ہوں اپنے بچوں کو واپس لائیں انہیں بھی خیبر پختون خوا کے تعلیمی اداروں میں داخل کروائیں ۔تاکہ انہیں احساس ہو کہ عوام کس قسم کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔اب بھی بچے خوف کے سائے تلے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ان کی شخصیت پر اس کے کیا اثرات کیا پڑیں گے حکمران اس سے واقف نہیں۔

افعت اقبال کہتی ہیں کہ میرا بیٹا زین میرا سب سے اچھا دوست اس دنیا سے چلا گیا میرے لیے اس دنیا میں کوئی کشش نہیں لیکن میں چاہتی ہوں کہ باقی سب بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت فوری طور پر اقدام کرے۔میری اس قوم کی مائوں سے بھی التجا ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت پر بہت دھیان دیں، ماں کی اولاد کی تربیت میں غفلت کا خمیازہ پوری قوم بھگتی ہے۔میں نے اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہا ،اس پر دن رات محنت کی لیکن منزل کہ قریب آکر ایک ایسی ماں کا بیٹا جس کی ماں نے اسکی تربیت میں کوتاہی برتی مجھ سے اور اس قوم سے ایک قابل اور سنہرے مستقبل والے بچے کو چھین لیاگیا۔دہشت گرد بھی ایک ماں کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور ایک ڈاکٹر بھی اس قوم کی مائوں کو دیکھنا ہوگا کہ ان بچوں کی کیا سرگرمیاں ہیں کہیں وہ کسی ملک دشمن عناصر کی برین واشنگ کا شکار تو نہیں ہوگیا۔ماں کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس بچہ کیا پڑھ رہا کس کے ساتھ اٹھ بیٹھ رہا ہے۔

مجھے وفاقی اور صوبائی حکومت نے مایوس کیا ،اگر صدر ،وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ ہماری حفاظت کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے، دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی نہیں کراسکتے تو مستعفی ہوجائیں۔میرے بیٹا اگر زندہ ہوتا تو بہت قابل ڈاکٹر بنتا لیکن مجھے فخر ہے کہ وہ شہید ہوا اس کا لہو اس وطن کے لیے بہا ۔دہشت گردی سے نڈھال عوام کے لیے بہت سے اقدامات کی فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے بچوں کے قاتلوں کو سخت سزا دی جائے۔حکومت اس حادثے سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی ذہنی نفسیاتی صحت کی بحالی کے لیے مستقل بنیادوں پر کام کرے۔ میری گزارش ہے کہ 16 دسمبر کو عام تعطیل ہونی چاہیے اور نصاب میں بھی ان بچوں اور ان کے استاتذہ کی قربانی اسباق کو شامل کرنا چاہیے۔شہدا آرمی پبلک سکول اور کالج کی شہدا کی یادگار تعمیر کی جائے تاکہ ان کی قربانی کو تا قیامت پاکستان کے لوگ یاد رکھیں۔میرا بیٹا میرا خواب تھا میرا خواب کی تعبیر سے پہلے ہی اس توڑ دیا گیا ۔ حکومت اور آرمی دہشت گردوں کا خاتمہ کرے تاکہ پھر کوئی ماں یہ دن نا دیکھے۔ – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10847#sthash.GwYJB2Nk.dpuf

Advertisements
Posted in cricket, Pakistan, Uncategorized, کرکٹ

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ اورسوشل میڈیا

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ اورسوشل میڈیا

  Posted On Sunday, May 24, 2015   …..جویریہ صدیق…..
پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا سورج22مئی کو ایک بار پھر طلوع ہوا۔سری لنکن ٹیم پر لاہور میں حملے کے بعد آنے والے تعطل کو زمبابوے کی کرکٹ ٹیم نے ختم کیا اور یوں پاکستانی شائقین نے ایک عرصے بعد ہوم گروانڈ پر میچ دیکھا۔پاکستانی شایقین کرکٹ نے جمعہ کی نماز کے بعد سے ہی قذافی اسٹیڈیم کا رخ کرلیا حالانکہ میچ شام کو شروع ہونا تھا۔طویل لمبی قطاریں لیکن شائقین نے بہت حوصلے کے ساتھ گرمی برداشت کی اور سیکورٹی اہلکاروں سے بھرپور تعاون کیا۔جو شائقین ٹی وی پر میچ دیکھ رہے تھے انہوں نے تمام کام صبح ہی ختم کرلیے بس دل میں یہ دعا تھی کہ پاکستان جیت جائے اور میچ کے دوران بجلی نا جائے۔

میچ شروع ہوا پاکستانی شائقین نے کھل کر زمبابوے کی ٹیم کو بھی سپورٹ کیا اور پاکستانی ٹیم کوبھی۔پاکستانی اس بات پر بہت خوش ہیں کہ زمبابوے نے تمام تر مشکل حالات کے باوجود پاکستان کا رخ کیا۔شائقین نے پاک زمبابوے کرکٹ دوستی کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔بہت سے شائقین نے میچ کے لیے خصوصی لباس زیب تن کیا اور سب کی نظروں کا مرکز رہے۔زمبابوے کی ٹیم نے مقررہ اورز میں172 رنز بنائے۔محمد سمیع نے چار اورز میں36 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا ،وہاب ریاض نے 38 رنز دے کر دووکٹیں لیں۔پاکستانی ٹیم نے جب اپنی اننگز کا آغاز کیا تو احمد شہزاد اور احمد مختار کی بیٹنگ نے جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔پاکستان نے مطلوبہ ہدف 19اعشاریہ 3 اوورز میں پانچ وکٹ پر حاصل کیا۔83 رنز بنا کر احمد مختار مین آف دی میچ قرار پائے۔

جہاں شائقین کرکٹ اسٹیڈیم اور گھروں میں اس میچ سے لطف اندوز ہوئے ،وہاں سوشل میڈیا پرٹوئپس پل پل ٹوئٹس کرکے اپنی خوشی کا اظہار کرتے رہے۔وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے ٹوئٹ کیا، دہشت گردی سے ستائے لوگوں اور شہروں کو واپس نارمل زندگی کی طرف جاتا دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے ۔جے یو آئی کے رہنما جان اچکزئی نے ٹوئٹ کیا ،ویل ڈن پاکستان اور شاباش ٹیم زمبابوے انکی ٹیم نے بھی اچھا کھیلا۔ایم پی اے حنا بٹ حیات نے ٹوئٹ کیا آج پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا بڑا دن ہے۔ایم این اے اسد عمر نے ٹوئٹ کیا ، لالا نے ایک شاٹ میں دل خوش کردیا ایک بار پھر یاد دلایا کہ مرا ہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔ ایم این اے مایزہ حمید نے ٹوئٹ کیا۔

پاک خون شہیداں کی ہم کو قسم

پھول ہر سو امن کے کھلائیں گے ہم

میچ سے قبل اور فتح کے بعد بھی کھلاڑیوں اور سابق سینئر کھلاڑیوں نے بھی ٹوئٹ کیے شعیب ملک نے ٹویٹ کیا یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں گرین کٹ میں ملبوس ہوں اور یہ بات خوش آئند ہے کہ انٹرنشل کرکٹ آج پھر سے پاکستان میں بحال ہوگئی۔احمد شہزاد نے ٹوئٹ کیا ہر دکھ کے بعد سکھ آتا ہے اور آج پاکستان میں یہ ثابت ہوگیا الحمد اللہ آج پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوگئی۔عمر اکمل نے ٹوئٹ کیا شائقین کا شکریہ جنہوں نے اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کیا اور ہم پر اعتماد کرنے کے لیے شکریہ زمبابوے۔سعید اجمل نے ٹوئٹ کیا ہم زمبابوے کو خوش آمدید کہتے ہیں ہماری قوم کرکٹ سے محبت کرتی ہے۔ وسیم اکرم نے ٹوئٹ کیا ،کیاشائقین ہیں، کیا ٹیم ہے، کیا ملک ہے اور کیا جیت ہے کرکٹ واپس پاکستان آگئی۔

فنکار اور گلوکار بھی ہرے رنگ کے ملبوسات میں ملبوس ہوکر شائقین کرکٹ کا جذبہ بڑھاتے رہے اور ٹوئٹ کرتے رہے۔گلوکار کیو بی نے ٹوئٹ کیا کرکٹ سے محبت پاکستانیوں کے خون میں ہے۔میرا ہاشمی نے ٹوئٹ کیا کہ آج پاکستان جیتا ہے ہر دہشت گرد سے ہر طالبان کے حامی سے ۔ اداکارہ مائرہ خان نے ٹوئٹ کیا چھ سال بعد کرکٹ ملک میں واپس آیا مجھے امید ہے سب اچھا ہوگا۔اداکار عدنان ملک نے ٹوئٹ کیا 30ہزار لوگ ایک ساتھ اسٹیڈیم میں ترانہ پڑھ رہے ہیں پاکستان زندہ باد۔

سینئر صحافی حامد میر نے ٹوئٹ کیا آج پاکستان اور زمبابوے نے مل کر قذافی اسٹیڈیم میں دہشت گردی کو شکست دی۔نیوز کاسٹر رابیعہ انعم نے ٹوئٹ کیا، پاکستان جیت گیا اور دہشت گردی ہار گئی۔صحافی فیضان لاکھانی نے ٹوئٹ کیا تو آج پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ایک بار پھر سے بحا ل ہوگیا۔صحافی نوشین یوسف نے ٹوئٹ کیا، شکریہ زمبابوے آپ کی ٹیم کے پاکستان آنے کی وجہ سے آج پاکستانی شائقین کے چہروں پر خوشی ہے۔رائٹر سمیع چوہدری نے ٹوئٹ کیا اوئے آئی سی سی، ہن آرام اے۔فکشن رائٹر مبشر علی زیدی نے ٹویٹ کیا ،زمبابوے نے دل جیت لیا اور پاکستان نے میچ جیت لیا۔براڈکاسٹر نازیہ میمن نے ٹوئٹ کیا آج پاکستان نے عمدہ کارکردگی دکھائی بہترین بیٹنگ۔

مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ٹوئٹ کرتے رہے اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی اور پاکستان کی جیت کو سراہتے رہے۔جاوید آفریدی نے ٹوئٹ کیا شکر الحمد اللہ آج پاکستانیوں کے مسکراتے چہروں کے ساتھ حالات نارمل کی طرف لوٹ آئے۔صہیب اظہر نے ٹوئٹ کیا،شکریہ زمبابوے شکریہ پی سی بی آج چھ سال بعد کرکٹ پاکستان واپس آئی۔افشاں منصب نے ٹوئٹ کیا، زمبابوے کی ٹیم کی حفاظت پر مامور پنجاب پولیس زندہ با،د دوسرے ٹوئٹ میں کہا میچ کوئی بھی جیتے اصل فتح کھیل ،مسکراہٹ اور پاکستان کی ہوئی۔ ہاری ہے تو دہشت اور ہارا ہے تو دشمن۔ جمیل قاضی نے ٹوئٹ کیا مختار اور شہزاد کی اننگز نے اکتوبر 1997 میں قذافی اسٹیڈیم کے پاک بھارت میچ میں آفریدی اور اعجاز کی اننگز یاد دلا دی۔نومی فہیم نے ٹوئٹ کیا پاکستان ٹیم اور تمام کرکٹ لورز کو کرکٹ کی پاکستان واپسی اور ہوم گرئوانڈ پر فتح مبارک ہو۔

کچھ ٹوئپس مزاحیہ ٹوئٹس بھی کرتے رہے ،سرفراز احمد نے کہا کہ خادم اعلیٰ نے لاہور سے زمبابوے تک فلائی اوور بنانے کا اعلان کردیا۔محسن حجازی نے ٹوئٹ کیا موقع ہے اب تو مشہور بھی ہے زمبابوے کے تمام کھلاڑیوں کو رعایتی نرخوں پر پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی دی جاسکتی ہے۔حیدر نقوی نے ٹوئٹ کیا جس طرح لاہوری قذافی اسٹیڈیم پہنچ رہے ہیں لگتا ہے میچ کے بعد کھانے کا بھی انتظام ہے۔آم اچار نے ٹوئٹ کیا ،شاباش مختار احمد جیو اور جیتے رہو شہزادے۔اریب نے ٹوئٹ کیا ،میں حیران ہوں احمد شہزاد اتنی دیر بنا سیلفی لیے کیسے گرائونڈ میں کھڑا رہے۔
Javeria Siddique writes for Jang

twitter@javerias

– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10854#sthash.FEBAtDTj.dpuf

Posted in human-rights, روہنگیا

روہنگیا دنیا کی مظلوم ترین قوم

’روہنگیا دنیا کی مظلوم ترین قوم

  Posted On Thursday, June 11, 2015   …..جویریہ صدیق……
مہذب معاشروں میں اب بھی غیر مہذب افراد بستے ہیں جو رنگ نسل مذہب کی بنیاد پر دیگر افراد کا جینا دوبھر کردیتے ہیں۔روہنگیا مسلمانوں کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے جنہیں خود ساختہ مہذب کہلانے والے میانمار (برما)کے بدھ مت اکثریتی آبادی کے مظالم کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،دو سو سال سے روہنگیا مسلمان اس خطے میں مقیم ہیں اور اب میانمار کی حکومت انہیں اپنا شہری ماننے پر تیار نہیں،میانمار کی حکومت کہتی ہے یہ بنگلہ دیشی ہیں اور بنگلہ دیش کی حکومت یہ کہتی ہے کہ یہ ہمارے شہری نہیں۔امن کا نوبل انعام سر پر سجائے لیڈر آنگ سان سوچی بھی اس معاملے پر چپ سادھ کر بیٹھے ہوئے ہیں،کیوں نا چپ ہوں جب اسلامی ممالک چپ بیٹھے ہیں تو ایک بدھ مت کے پیروکار لیڈر سے کیا امید لگائی جائے۔

روہنگیا مسلمانوں پر میانمار میں طرح طرح کی غیر انسانی پابندیاں عائد ہیں،نا ہی وہ کوئی کاروبار کرسکتے ہیں نا ہی ان کو زمین خریدنے کا اختیار حاصل ہے،نا ہی انکے پاس شہریت ہے یہاں تک کہ ان کے شادی کرنے بچے پیدا کرنے اور تعلیم پر بھی بہت سی پابندیاں عائد ہیں،میانمار حکومت کی پالیسی مسلمانوں سے نفرت اور تعصب پر مبنی ہے،اقوام متحدہ نے اپیل کی تمام روہنگیا مسلم کا اندراج کیا جائے لیکن میانمار نے کہا کہ اگر وہ خود کو بنگالی مسلمان کہیں گے تو ٹھیک ورنہ روہنگیا کو ہم نہیں مانتے۔

ریاست راخائن میں بددھوں نے روہنگیا مسلمانوں پر وہ مظالم ڈھائے جس کی مثال نہیں ملتی،مردوں کو جلایا گیا عورتوں کی عصمت دری کرکے ان کے اعضاء کاٹ کر درختوں پر لٹکا دیے گئے اور معصوم بچے ان کو بھی نہیں بخشا گیا ان کے گلے کاٹ دئیے گئے.اقوام عالم چپ رہی امت مسلمہ چپ رہی کسی نے بھی میانمار کی حکومت پر دباؤ نہیں ڈالا کسی نے اپنے سفیر احتجاجی طور پر واپس نہیں بلائے،کیونکہ مرنے والے مسلمان اور مارنے والے بدھ مت کے پیروکار جو تھے۔

کچھ روہنگیا مسلمانوں نے سوچا میانمار کی زمین تو ہم پر تنگ کردی گئ ہے کیونکہ نا کسی قریبی ممالک میں پناہ لی جائے، بدترین طریقے سے ہزاروں افراد چند کشتیوں میں ٹھونس دئیے گئے۔ ایجنٹس کو پیسے دے کر سمندر میں پہنچے تو ملائشیا، تھائی لینڈ اورانڈونیشیا نے انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا، تین ممالک کے درمیان یہ بھٹکتے رہے،بھوک تنگ دستی ہزاروں لوگ کشتیوں پر اور ہر سو پھیلا وسیع سمندر، پر مہذب دنیا کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

لوگ سمندر میں تڑپ تڑپ کر جان دینے لگے کئی افراد آبی مخلوق کا لقمہ بن گئے،لیکن وہ مغربی ممالک جن کے ہاں کتے بلیوں کو بھی حقوق حاصل ہیں انہوں نے بھی سسکتے بلکتے انسانوں کےلیے آواز نہیں بلند کی، انڈونیشیا کے قریب جب روہنگیا مسلمانوں کی کشتیوں پر خوراک پھینکی گئی تو لڑائی چھینا چھپٹی میں سینکڑوں جانیں چلی گئیں۔

ایران سعودیہ عرب متحدہ عرب امارات، پاکستان کسی بڑے اسلامی ملک کی حکومت نے مدد تو کیا آواز بھی اٹھانا مناسب نہیں سمجھا،اس موقع پر گیمبیا جیسے ایک چھوٹے افریقی ملک نے روہنگیا مسلمانوں کو اپنانے کا اعلان کیا،اس ملک نے گزارش کہ ہے کشتیوں پر پھنسے انسانوں کو بڑے ممالک کے بحری بیڑے ہمارے ملک چھوڑ جائیں،ہم ان کی آباد کاری کے لیے تیار ہیں۔

یہ بات تمام بڑے ممالک کے منہ پر ایک طمانچہ نہیں کہ گیمبیا نے روہنگیا مسلمانوں کے لیے آواز بلند کی اور اپنی سر زمین بھی پیش کردی،جبکہ دیگر بڑے اسلامی ممالک اور مغربی ممالک تماشہ دیکھتے رہے،ہاں سنا ہے پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھی ایک قرارداد پاس کی ہے،وزیراعظم نے بھی ایک کمیٹی بنائی ہے،لیکن اس کا فائدہ کیا بوٹ میں سوار لوگوں کے لیے ایک منٹ تاخیر کا مطلب موت ہےلیکن اسلامی ممالک کی مصلحتیں مغربی ممالک کی اسلام دشمنی کہیں بے گناہ انسانوں کی جان خطرے میں ڈال رہی ہے۔

کیا محسوس کررہے ہوں گے کشتیوں پر سوار انسان نیچے سمندر اوپر آسمان نا ہی کوئی خشکی کا ٹکڑا دور دور تک اور نا ہی انسانیت کا کچھ اتہ پتہ.مسلمان فرقہ بندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں مغربی ممالک کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی ہے کیا کوئی انسان بھی اس زمین پر بستے ہیں جو مشکل میں گھیرے انسانوں کو سمندر سے بچا کر لے آئیں۔

اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی سب سے ستائی ہوئی قوم قرار دیا ہے لیکن میرا خیال میںیہ انہیں روہنگیا کو دنیا کی سوتیلی قوم قرار دینا چاہیے تھا کیونکہ اتنی بڑی زمین پر نا ہی ان کے لئے خشکی کا ٹکڑا ہے اور نا ہی کوئی قوم ان کو پناہ دینے کو تیار ہے،سمندروں میں صرف انسان ہی نہیں انسانیت بھی دم توڑ رہی ہے۔

ترکی نے اب اپنا امدادی جہاز بھیجا ہے ایک ملین ڈالر امداد کا بھی اعلان کیا ہےلیکن دیگر اسلامی ممالک کہاں ہیں کیا تم اسلامی ممالک فوری طور پر اپنے بحری بیڑے بھیج کر ان مسلمانوں کو بچا کر دوبارہ آباد کرنا چاہیے،بنگلہ دیش کی بھارت نواز وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کہہ رہی ہیں کہ غیر ملکی تارکین وطن ملک کی شبیہہ خراب کررہے ہیں شاید ان جیسے حکمرانوں میں خدا خوفی ختم ہوگئ ہے لیکن پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف ،ترکی کے صدر طیب اردوان، سعودیہ عرب کے شاہ سلیمان کو فوری طور پر مشترکہ امدادی کاروائیاں کرکے ان مسلمانوں کو بچانا چاہیے۔

اس کے ساتھ میانمار پر سفارتی دبائو ڈال کر وہاں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کو انکے بنیادی حقوق دلوائے جائیں،اب تک صرف چار ہزار روہنگیا قوم کے افراد کو بچایا جاچکا ہے لیکن اب سینکڑوں کھلے سمندر میں بھوکے پیاسے بھٹک رہے ہیں۔

میانمار (برما) کی سفاکی تو سب کے سامنے کھل کر عیاں ہے جوکہ تیرہ لاکھ سے زائد آبادی والے روہنگیا کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہےلیکن عالمی دنیا کی مجرمانہ خاموشی اس مسئلے کو مزید گھمبیر کررہی ہے،میانمار کی نسل پرستانہ اور روہنگیا دشمن پالیسی کو مزید نظرانداز کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا،میانمار پر عالمی دنیا زور دے کہ انسانیت سوز پالیسیاں تبدیل کرے اور روہنگیا مسلمانوں کو حقوق دے،کشتیوں میں پھنسے افراد کو فوری طور پر خشکی پر لا کر آباد کیا جائے،انہیں شہریت ملنی چاہئے اور مساوی حقوق بھی۔اقوام متحدہ اور عالمی امن فوج اس ضمن میں بہترین کردار ادا کرسکتی ہے، عالمی برادری اور مسلم امہ خواب غفلت سے جاگے اور اپنا کردار ادا کرے۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias    35 – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10887#sthash.bpKpuoa1.dpuf

Posted in health, lifestyle, Pakistan, Smoking, تمباکونوشی

تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر

                                                                                                                                                تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر

  Posted On Monday, June 01, 2015   …..جویریہ صدیق……
دنیا بھر میں 31مئی کو انسداد تمباکو نوشی کا دن منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں تمباکو کے استعمال سے پہنچنے والے نقصانات سےآگاہ کرنا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ایک ارب افراد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جن میں سے تقریبا ًچھ ملین افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، ان میں دس فیصد وہ ہیں جو خود تو سگریٹ نہیں پیتے لیکن اپنے اردگرد تمباکو نوشی کے دھویں سے متاثر ہوتے ہیں۔ہر سال سولہ فیصد مرد اور آٹھ فیصد خواتین تمباکو نوشی کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔بات کی جائے پاکستان کی تو ہر سال ایک لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے لقمہ اجل بنتے ہیں۔

پاکستان میں تمباکو کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے،نوجوان نسل سگریٹ ،شیشہ اور گٹکا کی دلدادہ ہے اور بنا اس کے نقصانات کو جانے اس کا استعمال کررہی ہے۔ایک اندازے کے مطابق 45فیصد مرد اور چھ فیصد خواتین پاکستان میں تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ ہو سگار ہو ،گٹکا،یا حقہ اگر آپ تمباکو استعمال کررہے ہیں تو پھیپھڑوں کا سرطان،خوراک کی نالی کا سرطان، منہ کا کینسر،عارضہ قلب، کولیسٹرول، ٹی بی،دمہ اور ہائی بلڈ پریشر جیسے خطرناک امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔اگر تمباکو نوشی خواتین کریں تو ان بیماریوں کے ساتھ ساتھ ماہانہ ایام کی خرابی،اسقاط حمل اور کمزور قبل از وقت بچوں کی پیدائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

صحبت کے زیر اثر لوگ تمباکو نوشی کا استعمال تو شروع کردیتے ہیں لیکن جب یہ اپنا اثر دیکھنا شروع کرکے انسان کو بیمار کرنا شروع کرتا ہے تو اس لت سے جان چھڑانا آسان کام نہیں. لیکن اگر انسان پختہ ارادہ کرلے تو پھر آہستہ آہستہ تمباکو نوشی ترک کی جاسکتی ہے،تمباکو کی لت انسان کی نفسیاتی اور جسمانی ضرورت بن جاتی ہے اس لیے اس کو ترک کرنے کے لیے دماغ اور جسم دونوں پر کام کرنا پڑتا ہے،جب بھی یہ ارادہ کریں کہ آپ تمباکو نوشی ترک کررہے ہیں تو اپنے اہل خانہ اور دوستوں کو اعتماد میں لیں تاکہ وہ آپ کے ساتھ تعاون کریں۔

اگر آپ پوری سگریٹ کی ڈبی پیتے ہیں تو پلان کے پہلے پندرہ دن اس کو آدھا استعمال کریں سولہویں دن سے چوتھائی اور دوسرے مہینے میں تین سے چار اور45دن بعد ایک یا دو کر دیں،جس وقت آپ کو زیادہ سگریٹ کی طلب ہو اپنا دھیان ہٹائیں ،اپنے اس پلان میں ورزش کو شامل کریں،پانی زیادہ سے زیادہ پئیں،پھلوں کا استعمال کریں۔اگر زیادہ بے چینی ہو تو ببل گم چبائیں یا گاجر پودینے کا استعمال کریں۔ نفسیاتی طور پر اپنے آپ سے خود بات کریں اپنے آپ کو سمجھائیں کے تمباکو آپ کے لیے بہت خطرناک ہے۔

تمباکو نوشی ترک کرتے ہوئے پہلے چند ہفتے انسان بہت چڑچڑا ہوجاتا ہے،کیونکہ تمباکو میں شامل نکوٹین وقتی طور پر جسم اور دماغ کو سکون پہنچاتی ہے.اس لیے اس کو استعمال نا کرنے پر انسان غصہ کرنے لگتا ہے سر میں درد، نیند کی کمی، بے چینی ،کھانسی میں اضافہ،ڈپریشن،قبض،پیٹ کی خرابی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری عام طور پر تمباکو چھوڑنے کی علامتوں میں شامل ہے،ان سب چیزوں سے گھبرائیں نہیں بلکے ان کا مقابلہ کریں۔

پھلوں سبزیوں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں،خود کومصروف رکھیں، ہلکی ورزش کریں روز نہائیں،اس دورانیہ میں ایسے ماحول سے کچھ عرصہ دور رہیں جو آپ کو سگریٹ نوشی کی طرف راغب کرتا ہو ۔اگر آپ اپنی مدد آپ نہیں کرسکتے تو معالج سے رجوع کریں ان کی ادویات اور کونسلنگ فائدہ مند ہے، تمباکو نوشی ترک کرتے ہی آپ کی صحت بتدریج بہتر ہونا شروع ہوجائے گی،بلڈ پریشر دل کی دھڑکن نارمل ہوجائے گی،کھانسی،الرجی بھی نا ہونے کے برابر رہ جائیں گی،سرطان ،فالج اور دل کے دورے کا امکان بھی نارمل افراد جتنا ہوجائے گا۔

حکومت انسداد تمباکو نوشی کے حوالے سے موثر اقدامات کرے،پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی سے سختی سے عمل درآمد کروائے،اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ اور شیشہ مہیا کرنے والے دکانداروں اور کیفے ہوٹلز پر جرمانہ عائد کیا جائے، سگریٹ اسمگلنگ پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دی جائے،تمباکو سے بنی اشیاء کے اشتہارات پر مکمل پابندی ہو اور پیکٹ پر وزارت صحت کی وارننگ لازمی چھپی ہوئی ہو۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت اس انڈسٹری پر اور پراڈکٹس ٹیکس عائد کرے تاکہ یہ قوت خرید سے نکل جائے۔

ایسی عادت کو ترک کردینا چاہیے جو آپ کے ساتھ آپ کے اہل خانہ کے لیے بھی مضر ہے،زندگی کی طرف واپس آئیں اور محسوس کریں زندگی تمباکو نوشی کے بنا کتنی حسین ہے،کسی بھی چیز کی لت اچھی نہیں اس لیے اپنی صحت زندگی خاندان کہ خاطر اس زہر کو پینا چھوڑ دیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10868#sthash.1XPr1xX1.dpuf

Posted in india, Pakistan, Uncategorized

قصہ ایک معصوم کبوتر کا‎

قصہ ایک معصوم کبوتر کا‎

  Posted On Thursday, June 04, 2015   …..جویریہ صدیق ……
بھلا کبوتر کو کیا پتہ کہ وہ پاکستان سے اڑ کر بھارت نہیں جاسکتا، اس پرندے پر یہ حقیقت آشکار نہیں کہ بھارتی حکام پاکستان سے کتنا بغض رکھتے ہیں،معصوم کبوتر کو کیا معلوم انسانوں نے زمینی کیا فضائی کیا سمندری حدود بھی مقرر رکھی ہیں اور کوئی پاسپورٹ ویزہ اور دیگر سفری دستاویزات کے بنا ان جغرافیائی لکیروں کی پار نہیں کرسکتا۔ اس کبوتر نے پھر بھی جسارت کر ڈالی پاکستان سے اڑا اور بھارت کی حدود میں دھر لیا گیا وہ بھی جاسوسی کے الزام میں.بیچارے کبوتر کو جیل میں ڈال کر تفتیش کی گئی ،وہ بے زبان کیا بولتا قصور تو اس کا صرف یہ تھا کہ وہ پاکستان سے اڑ کر بھارت آگیا،ایکسرے ہوئے ،الٹرا سائونڈ بھی کروایا گیا لیکن بھارتی حکام کے ہاتھ کچھ نا آیا۔ پاکستان کے بغض میں مبتلا بھارتی میڈیا بھی اس کبوتر کی خبر کو اچھالنے لگ گیا کہ سرحد پار کرتے ہوئے ایک جاسوس دھر لیا گیا۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہی ہے کہ ایک معصوم پرندے کو جاسوسی کے الزام میں دھر لیا گیا اور شور یہ ڈالا گیا کہ اس کے پاس اردو میں لکھا ایک خط بھی ہے اور پاکستان کے ضلع نارووال کا فون نمبر بھی درج ہے،پتہ نہیں کسی کبوتر باز عاشق کا یہ پیغام رساں بھارت کے علاقے پٹھان کوٹ پہنچ گیا اور وہاں اس بیچارے کو پابند سلاسل کردیا گیا،بیچارے کبوتر کا قصور صرف پاکستانی کبوترہونا ہے،بھارتی پولیس اور خفیہ ادارے کی مشترکہ کاروائی میں امن و محبت کی علامت کبوتر کو گرفتار کر لیا گیا۔

اب اس معصوم بے قصور کبوتر کے ساتھ کیا ہو وہ تو کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن بھارتی حکام کی پاکستان دشمنی کھل کر سامنے آگئی ۔ایک کبوتر کو جاسوسی کے الزامات میں زیر حراست رکھنا بھارتی حکام کی بوکھلاہٹ کو صاف ظاہر کرتا ہے،یہ خبر جیسے ہی منظر عام پر آئی بھارت کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر خوب جگ ہنسائی ہوئی۔ٹوئپس بھارت کے ساتھ اگلے پچھلے حسابات چکتا کرتے نظر آئے۔

مشکت عمیر نے تصویری ٹوئٹ کیا پاکستان کا ایس ایس جی کبوتر اسکواڈ مشن کے لیے تیار ہے۔سارہ احمد نے ٹوئٹ کیا پاکستانی کبوتر نے بھارت پر حملہ کردیا۔سب سے دلچسپ ٹوئٹ عمار مسعود نے کیا،شرم کرو حیا کرو،ہمارا کبوتر رہا کرو۔چوہدری جہانزیب نے ٹوئٹ کیا ،میں کبوتر ہوں دہشت گرد نہیں۔ فرحان خان نے ٹوئٹ کیا بھارت ہمارا معصوم کبوتر واپس کرو۔صائم رضوی نے ٹوئٹ کیا،بڑا انڈیا بنا پھرتا ہے

ایک کبوتر سے ڈرتا ہے۔ہادیہ شاہ نے ٹوئٹ کیا ایک زمانہ تھا بھارت ہمارے ایٹم بم سے ڈرتا تھا ، اب تو ان کو ڈرانے کے لیے ایک کبوتر ہی کافی ہے۔عثمان علی خان نے ٹوئٹ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کہلانے والے ملک کو ایک پاکستانی کبوتر سے ڈر لگتا ہے.بہت ہی حیرت ناک اور شرمناک بات ہے ، عمران لودھی نے ٹوئٹ کیا قوم کا کبوتر واپس لایا جائے۔

بھارت پاکستان دشمنی میں اتنا آگے جا چکا ہے کہ اس کی نفرت کا نشانہ ایک معصوم کبوتر بھی بن گیا،بھارت خود اپنے تمام پڑوسی ممالک میں دہشتگردی میں ملوث پایا گیا ہے، حالیہ کراچی اور بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی کے واقعات کے تانے بانے بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے جا کر ملتے ہیں،بھارت کی یہ عادت ہے وار بھی خود کرتا ہے اور شور بھی خود ہی مچاتا ہے۔

ایک کبوتر کر ہی کیا سکتا ہے پرانے وقتوں میں لوگ ایسے پیغام رسانی کے لیے استعمال کرتے تھے وہ بھی اب متروک ہوگیا،اس کبوتر پر اگر کچھ درج بھی تھا تو ہوسکتا ہے اس مالک نے اسکی شناخت کے لیے لکھوایا ہو،پر بھارت کو پاکستان پر الزام تراشی کا موقع چاہیے.ایک کبوتر گرفتار کیا اور پاکستان کے خلاف زہر افشانی شروع۔چند دن پہلے ہی بھارت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کا مقابلہ دہشت گرد بھیج کر ہی کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا دہشت گرد تیار کرکے سرحد پار بھجیں جائیں۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ردعمل میں کہا یہ بیان پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں بھارت کے ملوث ہونے کا ثبوت ہے۔

بھارت کو ہوش کے ناخن لینا ہوگے جس ملک میں خود اتنی غربت دہشتگردی اور علیحدگی کی تحاریک چل رہی ہوں اسے پڑوسی پر نظر رکھنے بجائے اپنے داخلی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن بھارت کی طرف سے الزام تراشیاں اور دہشتگردوں کی پشت پناہی کوئی نیک شگون نہیں،اگر 2015 میں بھی بھارت مہذب پڑوسی کی طرح رہنا نہیں سیکھ سکتاتو یہ رویہ خطے کے امن کو متاثر کرسکتا ہےاور کبوتر جیسے معصوم پرندے کو جیل میں ڈالنا اور کچھ نہیں بھارت کی اپنی کم علمی جہالت اور پاکستان دشمنی کا شاخسانہ ہے جو ان کی جگ ہنسائی کرواگیا۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10875#sthash.XJQ0NK5J.dpuf

Posted in Army, human-rights, Pakistan, Uncategorized, ZarbeAzb

آپریشن ضرب عضب کا ایک سال

آپریشن ضرب عضب کا ایک سال

Posted On Monday, June 15, 2015   …..جویریہ صدیق……
امریکا میں تو نائن الیون جیسا دہشتگردی کا واقعہ ایک بار ہوا لیکن اس واقعے کی قیمت پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں اتحادی بننے کے بعد ہر روز چکائی۔سیکڑوں نائن الیون جیسے واقعات پاکستان میں رونما ہوئے جس میں70 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جان سے گئے۔ طالبان ہوں القاعدہ ہو یا ’را‘ کے آلہ کار سب کے نشانے پر معصوم پاکستانی۔ دہشت گردی نے پاکستانی عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔کچھ مصلحت پسند سیاست تب بھی دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کا راگ الاپتے رہے،لیکن کراچی میں اصفہانی ہینگر پر دہشت گردانہ حملے کے بعد عوام کی طرف سے یہ مطالبہ شدت اختیار کرگیا کہ دہشتگردوں کے خلاف فوری بڑے آپریشن کا آغاز کیا جائے،پاک آرمی اس پہلے بھی آپریشن راہ راست، آپریشن راہ نجات،آپریشن المیزان اور آپریشن راہ حق کے ذریعے سے شدت پسندی کا خاتمہ کرچکی تھی،لیکن شمالی وزیرستان میں بڑے آپریشن کی اشد ضرورت کی جارہی تھی۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم نواز شریف نے جون 2014 میں ضرب عضب آپریشن کا آغاز کیا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار مبارک پر اس آپریشن کا نام رکھا گیا، یہ تلوار رسول اللہ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر اور غزوہ احد میں استعمال کی، اس کا مطلب ہے کاٹ دینے والی ضرب۔آپریشن ضرب عضب سے پہلے عام شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کی تلقین کی گئ۔ساڑھے دس لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی جنہیں بنوں اور بکا خیل میں عارضی طور پر پناہ دی گئ۔آرمی نے تمام لوگوں کو باقاعدہ رجسٹر ڈکرکے کیمپوں میں منتقل کیا۔15 جون کو پہلی کاروائی میں 120 دہشت گرد مارے گئے اور بارودی ذخیرے تباہ ہوئے۔آپریشن میں ابتدائی طور پر لڑاکا جیٹ طیاروں،گن شپ ہیلی کاپٹر کوبرا نے اہداف کو نشانہ بنایا بعد میں زمینی کاروائی کا آغاز ہوا۔میر علی، میران شاہ،ڈانڈے درپہ خیل،غلام علی ،شوال،بویا،سپلگاہ،زراتا تنگی میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا،ان کاروائیوں میں دہشتگردوں کو بھاری نقصان پہنچا اور متعدد گولہ بارود کے ٹھکانے تباہ کئے گئے۔

اکتوبر میں ضرب عضب کے ساتھ ساتھ خیبر ایجنسی میں خیبر ون اور ٹو کا بھی آغاز کردیا گیا۔ضرب عضب نے کامیابی سے اپنے اہداف پورے کرنا شروع کئے تو پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں طور پر کمی آئی،تاہم بزدل دشمن نے بدلے کی آگ میں پشاور میں آرمی پبلک سکول و کالج پر حملہ کردیا،ان کا مقصد بچوں کو یرغمال بنانا نہیں تھا ،ان بزدل دہشتگردوں کا مقصد صرف پاک افواج اور پاکستانی شہریوں کے قلب پر حملہ کرنا تھا،پر بزدل طالبان اور بھارت کے پالتو دہشتگرد پاکستانیوں کے حوصلے کو پست نہیں کرسکے،سانحہ پشاور کے بعد قوم نے ایک بار پھر متحد ہوکر دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کیا۔اس موقع پر آرمی چیف راحیل شریف کا کردار قابل ستائش ریا، جہاں وہ ایک شفیق بڑے بھائی کی طرح سانحہ پشاور کے شہدا کو دلاسا دیتے رہے تو دوسری طرف ماہر سپہ سالار کی طرح دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت علمی ترتیب دیتے گئے۔

وزیراعظم نواز شریف نے پھانسی پر عائد پابندی کو ختم کردیا اور ملٹری کورٹس کی منظوری دےدی،دہشتگردوں کو پھانسیاں دے کر انہیں زمانے بھر کے آگے نشان عبرت بنا ڈالا یو ں دوسرے بزدل دہشت گردوں کے حوصلے بھی مزید پست ہوگئے،اب دہشتگردی کی کاروائیاں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں کم ہوگئیں۔

آپریشن ضرب عضب کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے اور اس دوران 2763 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاگیا۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق شمالی وزیرستان سے 18087 ہتھیار اور 253 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیاگیا،دہشت گردوں کے 837 خفیہ ٹھکانے تباہ کئے گئے،اس آپریشن کے نتیجے میں بیشتر علاقہ دہشتگردوں سے خالی کروالیا گیا،ملک کی خاطر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے 347 فوجی جوانوں اور افسران نے جام شہادت نوش کیا.یہ ان نوجوانوں کی قربانی کا نتیجہ ہے کہ وزیرستان کے لوگ آج واپس اپنے علاقوں میں لوٹ رہے ہیں،اب ان افراد کو یہ اطمینان ہے کہ وہ اپنے گھر کو لوٹ رہے ہیں جو اب مکمل طور پر پرامن ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مطابق اس آپریشن پر 44 ارب روپے خرچ ہوئے ہیں اور اس آپریشن نے اپنے اہداف کامیابی سے حاصل کئے۔ان کے مطابق آئی ڈی پیز کی واپسی اور مکمل بحالی کے لیے 130 ارب روپے خرچ ہوں گے۔پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے عندیہ دیا ہے دہشتگردوں کے خلاف اس وقت تک کاروائی جاری رہے گی جب تک کہ ملک سے شدت پسندوں کا خاتمہ نا ہوجائے۔

پاکستانیوں کی بھی یہ ہی خواہش ہے کہ یہ آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچے اور وطن عزیز میں مکمل امن ہوجائے، تاہم اب بھی ایک بہت بڑا چیلنج درپیش ہے چین کے صدر ژی جن پنگ کے دورہ پاکستان جس میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا اعلان کیا گیا،اس کے بعد سے دہشتگردی کی ایک نئی لہر سامنے آئی اور یہ ثبوت عیاں ہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را اس میں ملوث ہے۔پاک فوج کو سندھ اور بلوچستان میں ان عناصر کا خاتمہ کرنا ہوگا جو دشمن کے آلہ کار ہیں۔پاکستان کو اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا ،نئی بندرگاہوں کی تعمیر ناگزیر ہے،جس طرح ضرب عضب میں دہشتگردوں کی کمر توڑی گئ اس ہی طرح پاکستان کے دیگر شہروں میں وطن دشمن سرگرمیوں میں مصروف افراد اور مافیا کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کرنا ہوگا،قوم کی نگاہیں راحیل شریف کی طرف ہیں کس طرح سپہ سالار قوم کو مکمل طور پر دہشت گردی سے نجات دلوائے گا،قوم کے ہر اس سپوت کو سلام جس نے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ضرب عضب میں حصہ لیا اور دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا،قوم کی ان مائوں کو سلام جن کے جوان بیٹوں نے مادر وطن پر اپنی جان نچھاور کردی اور ان کے حوصلے اب بھی بلند ہیں،قوم کے ان غازیوں کو بھی سلام جن کی بدولت آج دہشتگردی میں قدرے کمی آئی ہے۔

پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد
Javeria Siddique writes for Daily Jang
twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10891#sthash.Ps7IQwTT.dpuf