Posted in human-rights, lifestyle, qandeel,, Uncategorized

اور قندیل بجھ گئی

 

اور قندیل بجھ گئی Share
Posted On Wednesday, July 20, 2016
جویریہ صدیق ۔۔۔۔ قندیل کسی کو بھی پسند نہیں تھی کسی کے لئے رول ماڈل نہیں تھی لیکن حیرت کی بات ہے وہ تیس سیکنڈ کی بھی وڈیو اپ لوڈ کرتی تھی تو کچھ ہی لمحوں میں ہزاروں ویوز سینکڑوں شئیرز اور کئی سو کمنٹس آجاتے تھے۔ہم ایک منافق قوم ہیں اس لئے سچ بولنے اور اس کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔گناہ کرنے سے باز نہیں آتے چھپ چھپ کر گناہ کرتے ہیں۔دوسروں کے سامنے پارسا بن کر انہیں برا ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔یہ قندیل کے ساتھ ہوتا تھا۔معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے افراد کی تعداد روانہ اس کے فیس بک انسٹاگرام اور ٹویٹر پر اس صرف اس لئے آتی کہ آج کیا مصالحہ دیکھنے کے لیے موجود ہے۔

پہلا طبقہ وہ جو چھپ کر اس کی ویڈیوز صرف اس لئے دیکھتے تھے کہ بعد میں اس کی اس بے باکی پر تبصرے کرسکیں اور اس کو ہماری معاشرتی قدروں کے منافی قرار دے سکیں لیکن دیکھتے تھے۔دوسرا طبقہ وہ ہے جو اس کے خدوخال دیکھ کر خوش ہوتا تھا اور جواز یہ پیش کرتا تھا کہ وہ دیکھاتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں حالانکہ وہ نظریں نیچی بھی کرسکتے تھے۔تیسرا طبقہ وہ تھا جو کہ اس کا فیس بک فین بھی تھا اس کی ویڈیوز بھی دیکھتا تھا لیکن کمنٹس میں اس کو فاحشہ بے غیرت لکھ کر اس کو مرنے کی بد دعا دیتا تھا۔

آخر میں ایک طبقہ وہ بھی تھا جو اس کے درد تکلیف محرومیوں کو سمجھتے ہوئے اس کی ان حرکتوں پر تاسف کا اظہار کرتا کہ پتہ نہیں پیچھے کیا درد ناک کہانی ہے جس نے اس لڑکی کو قندیل بنا دیا۔یہ طبقہ اس کی ویڈیوز بھی دیکھتا اسکو شییر بھی کرتا لیکن قندیل کی برایی نہیں کرتا تھا۔قندیل نے بہت کوشش کی کہ کس ہی طرح کوئی بڑا بریک مل جائے وہ بھی رات و رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جائے،ہر ٹی وی میگزین ریڈیو پر اس کا چرچا ہو۔ دولت اس کے گھر کی باندی ہو ۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا میڈیا نے اسکی بےباکی ،اداؤں، بے وقوفیوں کو کیش کروا کر ریٹنگز تو خوب لی لیکن قندیل کو کچھ نہیں دیا ۔

وہ اکثر مارنگ شوز میں ہونی والی شادیوں میں مہمان بن کر آتی تھی۔وہاں بھی اداکاروں کے ساتھ سلفیز ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ تاکہ کچھ فیس بک لائکس مل جائیں ۔پر کسی نے اسے کام نہیں دیا کیا وہ اتنی ٹیلینٹڈ بھی نہیں تھی کہ ایک میوزک شو ہوسٹ کرلیتی۔وہ بہت اچھی اداکارہ اور گلوکارہ بن سکتی تھی لیکن کسی نے موقع ہی نہیں دیا۔میڈیا اور معاشرے نے اسے اپنے اپنے حساب سے استعمال کیا ۔

جب قندیل نے دیکھا کہ کام تو اسکو نہیں مل رہا تو وہ مزید بے باک ہوگی اس نے سوچا اگر کپڑے مزید کم کردوں گی تو پڑوسی ملک میں تو کام مل جائے ۔اس دوران اس کے فیس بک فالورز کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئ۔لیکن فیس بک سے کہاں پیٹ بھرتا ہے اس کے لئے روٹی چاہیے ہوتی ہے۔مہنگے مہنگے ہوٹلوں کے کمروں سے قندیل کی ویڈیوز اپ لوڈ ہونا بہت سےغیرت مندوں کےمنہ پرطمانچہ ہیں۔

کسی نےبھی اسکی محرومیوں کا ازالہ نہیں کیا۔

پھر ایک دن ایک رپورٹر بریکنگ کی دوڑ میں اسکو پھر قندیل سے فوزیہ بنا گیا ۔جس جگہ سے نکلنے میں اس کو سالوں لگے ایک بار پھر وہاں کھڑی تھی۔وہ سچی تھی روتے ہوئے مان گئ کہ ہاں وہ فوزیہ عظیم ہے جس کی شادی کم عمری میں کردی گئ تھی ۔جہاں وہ اپنے جاہل شوہر سے روز مار کھاتی تھی۔اس سے تعلیم کا حق چھین لیا گیا۔بیٹا پیدا ہوا تب بھی حالات نہیں بدلے۔

روز ماں باپ کو کہتی کے مجھے واپس آنا ہے لیکن وہ کہتے اب تمہارا گھر وہ ہی ہے ۔ایک دن تشدد سے تنگ اکر وہ بھاگ کر دار الامان چلی گئ۔اس نے سب چیزوں کا اعتراف میڈیا کے سامنے کرلیا کہ وہ زندگی میں پڑھ لکھ کر آگے بڑھنا چاہتی تھی۔معاشرے نے اسے ڈاکٹر انجینئر پائلٹ تو نہیں بننے دیا لیکن ہوٹلوں کے کمروں سے ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والی قندیل بنا دیا۔جب تک وہ قندیل بلوچ تھی تو اس کی کمائی سے گھر والے بھی خوش تھے لیکن جس دن وہ فوزیہ عظیم کے طور پر میڈیا پر ابھری تو ایک بے غیرت بھائی کی غیرت جاگ گئی اور اس نے قندیل کا گلا گھونٹ کر اس کو مار دیا ۔نیند کی وادی سے قندیل موت کی وادی میں چلی گی۔

مرتے مرتے بھی میڈیا کو ریٹنگ دی گئی اس کا نام سی این این بی بی سی سے لے کر ہر غیر ملکی اور ملکی نشریاتی ادارے پر تھا۔بڑی شخصیت جنہوں نے اس کی زندگی میں اس سے ملنا یا بات تو دور کی بات ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا اس کے لئے تعزیتی پیغامات چھوڑے اس کے قتل کی مذمت کی۔اس کے لئے دعا کی گی اس کے لئے شمعیں روشن کی جب قندیل بجھ گئ۔

کوٴیی گناہگار نہیں سواٴے قندیل کے نا وہ ماں باپ جو اسے زندگی کی بنیادی سہولیات نا فراہم کرسکے نا وہ ریاست جس نے اس کو بنیادی تعلیم مفت دی نا ہی کم عمری کی شادی سے بچایا نا ہی وہ بھایی گناہگار جن کے ہوتے ہویے بھی اسے روٹی کپڑا مکان کے لیے اس کو قندیل بنانا پڑا۔ نا ہی وہ شوہر گناہ گار ہے جو روز اس کو مارتا تھا ۔نا ہی وہ لوگ گناہ گار ہیں جس نے اس کو میڈیا میں باعزت نوکری کے بجایے ہوٹل کے بند کمروں میں پہنچایا۔نا ہی وہ لوگ گناہ گار ہیں جو اس کی زندگی کی قیمت پر رینٹنگز کمارہے تھے۔نا ہی وہ لوگ مجرم ہیں جو اس کی ویڈیوز کے نیچے لکھتے تھے اسے مر جانا چاہیے لیکن یہ لکھنے سے پہلے آنکھ بھر کر اسکودیکھتے ضرور تھے۔سب پارساوں نے فوزیہ کو قندیل بنایا پھر اسے مار دیا یہ کہہ کر کہ بری عورت تھی۔

Javeria Siddiques writes for Daily Jang

Twitter @javerias

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s