Posted in Uncategorized

’روہنگیا‘‘دنیا کی مظلوم ترین قوم

Share
Posted On Thursday, June 11, 2015
…..جویریہ صدیق……
مہذب معاشروں میں اب بھی غیر مہذب افراد بستے ہیں جو رنگ نسل مذہب کی بنیاد پر دیگر افراد کا جینا دوبھر کردیتے ہیں۔روہنگیا مسلمانوں کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے جنہیں خود ساختہ مہذب کہلانے والے میانمار (برما)کے بدھ مت اکثریتی آبادی کے مظالم کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،دو سو سال سے روہنگیا مسلمان اس خطے میں مقیم ہیں اور اب میانمار کی حکومت انہیں اپنا شہری ماننے پر تیار نہیں،میانمار کی حکومت کہتی ہے یہ بنگلہ دیشی ہیں اور بنگلہ دیش کی حکومت یہ کہتی ہے کہ یہ ہمارے شہری نہیں۔امن کا نوبل انعام سر پر سجائے لیڈر آنگ سان سوچی بھی اس معاملے پر چپ سادھ کر بیٹھے ہوئے ہیں،کیوں نا چپ ہوں جب اسلامی ممالک چپ بیٹھے ہیں تو ایک بدھ مت کے پیروکار لیڈر سے کیا امید لگائی جائے۔

روہنگیا مسلمانوں پر میانمار میں طرح طرح کی غیر انسانی پابندیاں عائد ہیں،نا ہی وہ کوئی کاروبار کرسکتے ہیں نا ہی ان کو زمین خریدنے کا اختیار حاصل ہے،نا ہی انکے پاس شہریت ہے یہاں تک کہ ان کے شادی کرنے بچے پیدا کرنے اور تعلیم پر بھی بہت سی پابندیاں عائد ہیں،میانمار حکومت کی پالیسی مسلمانوں سے نفرت اور تعصب پر مبنی ہے،اقوام متحدہ نے اپیل کی تمام روہنگیا مسلم کا اندراج کیا جائے لیکن میانمار نے کہا کہ اگر وہ خود کو بنگالی مسلمان کہیں گے تو ٹھیک ورنہ روہنگیا کو ہم نہیں مانتے۔

ریاست راخائن میں بددھوں نے روہنگیا مسلمانوں پر وہ مظالم ڈھائے جس کی مثال نہیں ملتی،مردوں کو جلایا گیا عورتوں کی عصمت دری کرکے ان کے اعضاء کاٹ کر درختوں پر لٹکا دیے گئے اور معصوم بچے ان کو بھی نہیں بخشا گیا ان کے گلے کاٹ دئیے گئے.اقوام عالم چپ رہی امت مسلمہ چپ رہی کسی نے بھی میانمار کی حکومت پر دباؤ نہیں ڈالا کسی نے اپنے سفیر احتجاجی طور پر واپس نہیں بلائے،کیونکہ مرنے والے مسلمان اور مارنے والے بدھ مت کے پیروکار جو تھے۔

کچھ روہنگیا مسلمانوں نے سوچا میانمار کی زمین تو ہم پر تنگ کردی گئ ہے کیونکہ نا کسی قریبی ممالک میں پناہ لی جائے، بدترین طریقے سے ہزاروں افراد چند کشتیوں میں ٹھونس دئیے گئے۔ ایجنٹس کو پیسے دے کر سمندر میں پہنچے تو ملائشیا، تھائی لینڈ اورانڈونیشیا نے انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا، تین ممالک کے درمیان یہ بھٹکتے رہے،بھوک تنگ دستی ہزاروں لوگ کشتیوں پر اور ہر سو پھیلا وسیع سمندر، پر مہذب دنیا کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

لوگ سمندر میں تڑپ تڑپ کر جان دینے لگے کئی افراد آبی مخلوق کا لقمہ بن گئے،لیکن وہ مغربی ممالک جن کے ہاں کتے بلیوں کو بھی حقوق حاصل ہیں انہوں نے بھی سسکتے بلکتے انسانوں کےلیے آواز نہیں بلند کی، انڈونیشیا کے قریب جب روہنگیا مسلمانوں کی کشتیوں پر خوراک پھینکی گئی تو لڑائی چھینا چھپٹی میں سینکڑوں جانیں چلی گئیں۔

ایران سعودیہ عرب متحدہ عرب امارات، پاکستان کسی بڑے اسلامی ملک کی حکومت نے مدد تو کیا آواز بھی اٹھانا مناسب نہیں سمجھا،اس موقع پر گیمبیا جیسے ایک چھوٹے افریقی ملک نے روہنگیا مسلمانوں کو اپنانے کا اعلان کیا،اس ملک نے گزارش کہ ہے کشتیوں پر پھنسے انسانوں کو بڑے ممالک کے بحری بیڑے ہمارے ملک چھوڑ جائیں،ہم ان کی آباد کاری کے لیے تیار ہیں۔

یہ بات تمام بڑے ممالک کے منہ پر ایک طمانچہ نہیں کہ گیمبیا نے روہنگیا مسلمانوں کے لیے آواز بلند کی اور اپنی سر زمین بھی پیش کردی،جبکہ دیگر بڑے اسلامی ممالک اور مغربی ممالک تماشہ دیکھتے رہے،ہاں سنا ہے پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھی ایک قرارداد پاس کی ہے،وزیراعظم نے بھی ایک کمیٹی بنائی ہے،لیکن اس کا فائدہ کیا بوٹ میں سوار لوگوں کے لیے ایک منٹ تاخیر کا مطلب موت ہےلیکن اسلامی ممالک کی مصلحتیں مغربی ممالک کی اسلام دشمنی کہیں بے گناہ انسانوں کی جان خطرے میں ڈال رہی ہے۔

کیا محسوس کررہے ہوں گے کشتیوں پر سوار انسان نیچے سمندر اوپر آسمان نا ہی کوئی خشکی کا ٹکڑا دور دور تک اور نا ہی انسانیت کا کچھ اتہ پتہ.مسلمان فرقہ بندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں مغربی ممالک کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی ہے کیا کوئی انسان بھی اس زمین پر بستے ہیں جو مشکل میں گھیرے انسانوں کو سمندر سے بچا کر لے آئیں۔

اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی سب سے ستائی ہوئی قوم قرار دیا ہے لیکن میرا خیال میںیہ انہیں روہنگیا کو دنیا کی سوتیلی قوم قرار دینا چاہیے تھا کیونکہ اتنی بڑی زمین پر نا ہی ان کے لئے خشکی کا ٹکڑا ہے اور نا ہی کوئی قوم ان کو پناہ دینے کو تیار ہے،سمندروں میں صرف انسان ہی نہیں انسانیت بھی دم توڑ رہی ہے۔

ترکی نے اب اپنا امدادی جہاز بھیجا ہے ایک ملین ڈالر امداد کا بھی اعلان کیا ہےلیکن دیگر اسلامی ممالک کہاں ہیں کیا تم اسلامی ممالک فوری طور پر اپنے بحری بیڑے بھیج کر ان مسلمانوں کو بچا کر دوبارہ آباد کرنا چاہیے،بنگلہ دیش کی بھارت نواز وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کہہ رہی ہیں کہ غیر ملکی تارکین وطن ملک کی شبیہہ خراب کررہے ہیں شاید ان جیسے حکمرانوں میں خدا خوفی ختم ہوگئ ہے لیکن پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف ،ترکی کے صدر طیب اردوان، سعودیہ عرب کے شاہ سلیمان کو فوری طور پر مشترکہ امدادی کاروائیاں کرکے ان مسلمانوں کو بچانا چاہیے۔

اس کے ساتھ میانمار پر سفارتی دبائو ڈال کر وہاں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کو انکے بنیادی حقوق دلوائے جائیں،اب تک صرف چار ہزار روہنگیا قوم کے افراد کو بچایا جاچکا ہے لیکن اب سینکڑوں کھلے سمندر میں بھوکے پیاسے بھٹک رہے ہیں۔

میانمار (برما) کی سفاکی تو سب کے سامنے کھل کر عیاں ہے جوکہ تیرہ لاکھ سے زائد آبادی والے روہنگیا کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہےلیکن عالمی دنیا کی مجرمانہ خاموشی اس مسئلے کو مزید گھمبیر کررہی ہے،میانمار کی نسل پرستانہ اور روہنگیا دشمن پالیسی کو مزید نظرانداز کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا،میانمار پر عالمی دنیا زور دے کہ انسانیت سوز پالیسیاں تبدیل کرے اور روہنگیا مسلمانوں کو حقوق دے،کشتیوں میں پھنسے افراد کو فوری طور پر خشکی پر لا کر آباد کیا جائے،انہیں شہریت ملنی چاہئے اور مساوی حقوق بھی۔اقوام متحدہ اور عالمی امن فوج اس ضمن میں بہترین کردار ادا کرسکتی ہے، عالمی برادری اور مسلم امہ خواب غفلت سے جاگے اور اپنا کردار ادا کرے۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s