Posted in lifestyle, Pakistan, Uncategorized

ماں کا دودھ بچے کیلئےمکمل غذا

 

ماں کا دودھ بچے کیلئےمکمل غذا
Posted On Wednesday, August 19, 2015
….. جویریہ صدیق…..
پیدائش کے بعد سے چھ ماہ تک بچے کے لیے ماں کا دودھ مکمل غذا ہے،اس میں قدرتی طور وہ تمام اجزا شامل ہوتے ہیں جو بچے کی پرورش اور نگہداشت کے لیے ضروری ہیں۔جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں وہ مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں،ان میں قوت مدافعت بھی زیادہ ہوتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق ماں کا دودھ پینے والے بچے دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں،ان بچوں کا آئی کیو اور کارکردگی ’فارمولا ملک‘ پینے والے بچوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ماں کا دودھ بچے کو نمونیا، کھانسی نزلے، دست،قبض،پیٹ کہ بیماریوں اور بدہضمی کے خلاف قوت مدافعت دیتا ہے۔

بچے کی پیدائش کے بعد آدھے گھنٹے کے اندر بچے کو پہلی دودھ کی خوراک دیے دینی چاہئے،ابتدائی طور پرر زردی مائل دودھ نکلتا ہے اس کو کولسٹرم کہتے ہیں،جسے بالکل ضائع نہیں کرنا چاہیے،یہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اور بچے کے لئے بہت مفید ہے،شروع میں بچے کو دودھ پلانے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا،بچہ رو کر اپنی بھوک کا اظہار کرتا ہے اور ماں کو اس ہی وقت بچے کو دودھ پلانا چاہیے.لیکن چھ ماہ کے بعد یہ روٹین بدل جاتی ہے اور دودھ کے ساتھ بچے کو ہلکی غذا شروع کروادی جاتی ہے تو بچہ چوبیس گھنٹے میں صرف آٹھ سے دس بار دودھ پیتا ہے۔

ماں کے دودھ میں چکنائی وٹامن معدنیات اور کاربوہائیڈریٹس موجود ہیں،ماں اس بات کا خیال کرے کہ وہ اپنے آپ کو صاف رکھے اور غسل کا باقاعدگی سے اہتمام کرے،بچہ بار بار دودھ مانگتا ہے اس لیے ماں کو اپنی خوراک کا بھی خاص خیال رکھے.ماں کو چاہیے وہ پھل سبزیوں دودھ اور پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرے، کیونکہ بچہ اپنی تمام غذائیت ماں سے لیتا ہے۔

تمام مائوں کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ بچوں کو اپنا دودھ پلائیں ڈبے کا دودھ پینے والے بچے بار بار بدہضمی اور ڈائریا کا شکار ہوجاتے ہیں،کیونکہ تمام تر احتیاط کے باوجود پانی اور فیڈر کی وجہ سے جراثیم بچے کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں جو ان کو بیمار کرتے ہیں،اس کی نسبت ماں کا دودھ پینے والے بچے کم ہی انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں،دودھ پلانے والی ماں کا وزن بھی دوبارہ کم ہوجاتا ہے،اس کے ساتھ دوسرے بچے کی پیدائش میں قدرتی وقفہ بھی آجاتا ہے،دودھ پلانے والی خاتون میں چھاتی کے کینسر کا امکان بھی کم رہ جاتا ہے۔

ماں بچے کو دس سے پندرہ منٹ تک چھاتی کے ساتھ لگائے رکھے صحت مند بچے جلدی اور کمزور بچے آہستہ دودھ پیتے ہیں،ماں بچے کو لیٹ کر بھی اور بیٹھ کر بھی دودھ پلا سکتی ہے،بچے کو مکمل طور پر ماں کے قریب ہونا چاہیے۔ دودھ پلانے کے بعد بچے کو ڈکار دلائی جائے تاکہ پیٹ میں جانے والی ہوا باہر آجائے اور بچہ بے آرام نا ہو۔

بچے کو دو سال تک دودھ پلانا بہترین ہے لیکن چھٹے ماہ میں اسے ہلکی ٹھوس غذا بھی شروع کروادینی چاہیے،جس میں سوجی، ساگودانہ، کھچڑی، کھیر ،پھل پیس کر اور تازہ جوس وغیرہ شامل ہیں،لیکن شروع میں ٹھوس اجزاء بہت کم مقدار دیئے جائیں کیونکہ زیادہ دینے سے بچہ بیمار ہوسکتا ہے،آہستہ آہستہ ٹھوس غذا کو بڑھایا جائے بچہ خود ہی ماں کا دودھ پینا کم کردیتا ہے۔

اس دوران اگر دودھ پلانے والی ماں اپنی چھاتیوں میں تکلیف محسوس کرے تو فوری طور پر ڈاکٹر یا لیڈی ہیلتھ ورکرز کو معائنہ کروائے،دودھ پلانے والی ماں اپنے آپ کو صاف رکھے .آرام کرے اور اپنی غذائیت کا خیال رکھے،ہر سال آٹھ لاکھ سے زائد بچے اپنے پانچویں سالگرہ نہیں دیکھ پاتے،ان میں زیادہ تر بچے پیٹ کی بیماروں نمونیا ڈائریا کے باعث اپنی جان سے جاتے ہیں،ان بیماریوں کی بڑی وجہ گندا پانی اور فیڈر کے ذریعے سے جانے والے جراثیم ہیں،ماں کے دودھ سے آٹھ لاکھ میں سے ایک چوتھائی بچوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بچے کو چھ ماہ تو ماں کا دودھ لازمی طور پر پلایا جائے،تاہم پاکستان میں بوتل سے دودھ پلانے کا رواج زیادہ ہے اور بریسٹ فیڈنگ کم ہے،اس کو فیشن کہیں رواج یا گھر والوں کا عدم تعاون کہ بہت سی خواتین بچوں کو فیڈر لگا دیتی ہیں۔

2002 میں بریسٹ فیڈنگ اور چائلڈ نیوٹریشن آرڈیننس پاس کیا گیا ہے لیکن اس پر عملدرآمد نظر نہیں آتا،نا ہی خواتین کو اس کی افادیت کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے نا ہی انہیں ایسا ماحول دیا جاتا ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلاسکیں،ملازمت پیشہ خواتین کوایسی کوئی سہولت نہیں دی جاتی کہ وہ اپنا شیر خوار بچہ دوران ملازمت ساتھ رکھ سکیں،اس وجہ سے مائیں اپنے بچوں کو فارمولا ملک اور فوڈ شروع کروادیتی ہیں۔

اگر ہم صحت مند ماں اور صحت بچے کی بنیاد پر معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس قدرتی نظام کو عام کرنے کے لیے بات کرنا ہوگی،بچے اگر اپنی ماں کا دودھ پئیں گے تو وہ صحت مند ہوں گے اور خود ماں بھی متعدد بیماروں سے محفوظ رہے گی،اس لیے خواتین کو دوران ملازمت ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ وہ اپنے شیرخوار بچوں کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
twitter @javerias

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s