Posted in Uncategorized

چھاتی کا سرطان

 

Posted On Saturday, October 10, 2015
…..جویریہ صدیق……
اکتوبر کے مہینے میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جاتی ہے،چھاتی کا سرطان پاکستانی خواتین پر خطرے کی تلوار کی طرح لٹک رہا ہے، اگر خواتین کو اس کے مرض حوالے سے مکمل آگاہی دی جائے تو اس کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہےکیونکہ اگر اس سرطان کو ابتدائی طور پر تشخیص کر لیا جائے تو مریض کے صحت مند ہونے کے امکان بہت زیادہ ہیں.

اس مرض کی تشخیص بہت آسان ہے اگر چھاتی میں تکلیف ہو،کوئی ایسا زخم ہو جس میں خون یا مواد رسنا بند نا ہو، ایک چھاتی کا سائز بہت بڑا ہوجائے،یا اس میں گلٹی محسوس ہو،سوجن ہو،اگر چھاتی کا رنگ اور ساخت بدل جائے،اس میں درد ہو،.نپل میں درد تکلیف،خارش،یا زخم ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھائیں،چھاتی میں بننے والی اکثر گلٹیاں درد نہیں کرتی اس لئے جس وقت کینسر کا پتہ چلتا ہے یہ بہت حد تک پھیل چکا ہوتا ہے۔

اس لئے تیس سال کی عمر کے بعد 5 سال میں ایک مرتبہ میموگرافی ضرور کروائیں اور اگر اوپر درج کوئی بھی علامت مستقبل نظر آئے تو فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھائیں، چالیس سال سے اوپر کی خواتین کو ہر دو سال بعد میمو گرافی کرانا لازم ہے، پچاس سال سے اوپر کی خواتین ہر سال میموگرافی احتیاطی طور پر کروالیں، ان خواتین کو اس خطرہ زیادہ ہے جن کے ہاں بچوں کی پیدائش تیس سال کی عمر کے بعد ہو، اگر خاندان میں یہ بیماری پہلے بھی کسی قریبی عزیز کوہوچکی ہو،یا جن خواتین کو ماہانہ ایام بہت کم عمری میں شروع ہوئے ہوں اور ختم پچاس سال کی عمر کے بعد ہوں، سہل پسندی ، موٹاپا، تمباکو نوشی اور شراب نوشی بھی اس مرض کے امکان کو بڑھاتے ہیں۔

لازمی نہیں کہ ہر گلٹی کینسر کی علامت ہو لیکن پھر بھی احتیاط بہتر ہے اور ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔ بریسٹ کینسر دو طرح کا ہوتا ہے ایک کینسر بریسٹ میں موجود ڈیکٹس میں بنتا ہے یہ بریسٹ سے باہر دیگر جسم کے حصوں میں نہیں پھیلتا، دوسری قسم کے بریسٹ کینسر میں یہ بریسٹ سے نکل کر دوسرے حصوں میں پھیل سکتا ہے ، مرض کی تشخیص میموگرافی، الٹرا سائونڈ، ایم آر آئی سے ہوتی ہے اور اس مرض کا علاج سرجری، بائیوپسی ،کیمیو تھراپی اور ریڈیو تھراپی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

کوئی بھی خاتون اگر اس موذی مرض کا شکار ہوجائے تو خاندان کا کردار اس کے لئے ایک بہت بڑی سپورٹ بن سکتا ہےجوکہ اسکو اس مرض سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے، یہ کسی بھی عمر کی خاتون کو ہوسکتا ہے لیکن نوجوان خواتین میں یہ کیسز کم سامنے آتے ہیں، لیکن پر جیسے ہی اوپر درج علامات مستقل خاتون کو اپنے اندر محسوس ہوتو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کیا جائے۔

جو مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلا رہی ہیں تو اس مرض کی اسکرینگ یا میموگرافی تک وہ اپنا دودھ بچے کو پلا سکتی ہیں، تاہم ریڈیو ایکٹیو اور کیمو تھراپی کے دوران وہ بچے کو دودھ نا پلائیں اس وقت روکے رکھیں جب تک ریڈیو ایکٹیو اثرات جسم سے زائل نا ہوجائیں، ماں کے دودھ سے بچے کو کینسر نہیں ہوتا لیکن کینسر کے علاج دوران استعمال ہونے والی ریڈیشن بچے کے لئے خطرناک ہے۔

خواتین مرض کی تشخیص خود بھی کرسکتی ہیں، ماہانہ ایام کے بعد بی ایس ای یعنی بریسٹ سیلف ایگزمینشن سب سے موزوں ہے، شیشے کے سامنے یا نہاتے ہوئے بازو اوپر کرکے خواتین یہ چیک کریں کہ بریسٹ میں کوئی تبدیلی یا گلٹی تو نہیں، اپنی بغل کو بھی چیک کریں اس میں کوئی گلٹی تو نہیں، دوسرے طریقے میں خاتون لیٹ کر بھی خود کو چیک کرسکتی ہے جس میں ایک کندھے کی نیچے تکیہ ہو ایک بازو سر کے نیچے اور دوسرے ہاتھ سے خاتون اپنا معائنہ کرے، ہر ماہ اس عمل کو دہرائیں۔

بریسٹ کینسر سے بچنے کے لئے صحتمندانہ سرگرمیاں اپنانے کی ضرورت ہے روزانہ واک، وزن کو کنٹرول میں رکھنا، تمباکو نوشی سے دور رہنا اور گوشت چکنائی کا کم سے کم استعمال اس مرض کے امکان کو کم کرتا ہےجو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ان میں بھی اس کا امکان بہت کم ہوتا ہے، اس کے ساتھ خواتین کاٹن کے زیر جامے استعمال کریں بہت فٹنگ ریشمی جالی والے زیر جاموں سے پرہیز کریں، رات کو ان زیر جاموں کو اتار کر سوئیں۔

پاکستان میں اس طرح کے موضوعات پر کم بات کی جاتی ہے جس کی وجہ سے خواتین شرم کی وجہ سے اپنی بیماری بیان نہیں کرپاتی اور مسئلہ گھمبیر ہوجاتا ہے، اگر کینسر کی تشخیص بروقت ہوجائے تو بہت سی قیمتی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں، اکتوبر میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے آگاہی دی جاتی ہے تاکہ خواتین کو اس موذی مرض سے بچایا جائے، بات کریں ایک دوسرے کو آگاہی دیں۔

حکومت پاکستان بھی اپنا کردار ادا کرے خواتین میں اس مرض کی آگاہی کے لئے کتابچے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو اور طبی مراکز پر مہیا کرے، اس مرض کی تشخیص اور علاج کو عام آدمی کی پہنچ تک لائے ، اس کے علاج کے خرچ کو حکومت اس حد تک کم کرے کہ ایک غریب شخص بھی اس بیماری کا علاج کرواسکے، جس ملک میں اربوں روپے کی سڑکیں بنتی ہوں اگر تھوڑا بجٹ صحت کا شعبے کا بڑھا دیا جائے تو ہم اپنی قوم کا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں، ایک صحت مند عورت ہی صحت معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s