Posted in Army, ArmyPublicSchool, ZarbeAzb, جویریہ صدیق

اے پی ایس کا غازی

 

.

 

 

 

.

 

 

 

...جویریہ صدیق.….
17 سالہ محمد طلحہ علی16 دسمبر کو موت کو ہرا کر غازی بن کر لوٹے، پر واپسی کا سفر اتنا آسان نہیں تھا، طلحہ پشاور سانحہ کے وقت ہال میں ہی موجود تھے، جب موت کی ہولی کھیلی گئی، ایک گولی طلحہ کو جبڑے میں لگی اور تین جسم کے اوپری حصے میں دائیں طرف لیکن کہتے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے،گولیاں لگنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے طلحہ کو دوسری زندگی عطاء کی۔

طلحہ کے والد محمد علی کہتے ہیں میرے تین بچوں میں طلحہ سب سے چھوٹا ہے،نرسری کلاس سے ہی طلحہ آرمی پبلک سکول میں زیر تعلیم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سولہ دسمبر کو پشاور میں بہت ٹھنڈ تھی طلحہ نے کہا آج سکول نہیں جاتا کیونکہ سیشن کا اختتام تھا اور چھٹیاں ہونے والی تھی،لیکن پھر اٹھ گیا تیار ہوا میں خود اسے سکول چھوڑ کر آیا۔

مجھے کوئی دس بجے کے بعد اطلاع ملی کے اسکول پر حملہ ہوگیا ہے تو میں فوری طور طلحہ کو لینے کے لئے بھاگا،کچھ بچوں کو اسکول سے متصل ڈیفنس پارک میں منتقل کردیا گیا تھا، وہاں مجھے ایک بچے نے بتایا کے انکل طلحہ کو گولی لگی ہے، میں بس وہاں ہی ساکت ہوگیا، نا مجھے کچھ سنائی دے رہا تھا نا ہی دکھائی، اس بچے نے مجھے کہا انکل اس کو منہ پر گولی ہے، میں اسپتال کی طرف گیا تو ہر طرف ننھے پھولوں کی لاشیں ہی لاشیں تھیں، میں طلحہ کو ڈھونڈتا رہا نہیں ملا تو نڈھال ہو کر بیٹھ گیا۔

اتنے میں سی ایم ایچ میں ایک نیک دل بریگیڈیئر صاحب نے مجھے تسلی دی ،پانی پلایا اور اس کے بعد مجھے پتہ چلا کے طلحہ آپریشن تھیٹر میں ہے،طلحہ کی والدہ شدت غم سے نڈھال تھیں، میں نے ان کو تسلی دی کے وہ زخمی ہے، جب آپریشن کے بعد میں نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو منہ کا ایک حصہ گولی کی وجہ سے اڑ چکا تھا، میرے بیٹے کا جبڑا اور ایک طرف کے سارے دانت ٹوٹ گئے تھے زبان بھی زخمی اور جسم پر دھماکے اور گولیوں کے نشان۔

ایسا کون سا حصہ نہیں تھا جس پر زخم نا ہو میں پتہ نہیں کیسے یہ منظر دیکھ رہا تھا، مجھے لگ رہا تھا۔میں نے بہت ہمت پیدا کرکے اپنے بیٹے کو دیکھا لیکن اپنی اہلیہ کو بہت دن طلحہ کو اس حالت میں نہیں دیکھنے دیا، کیونکہ اگر وہ پہلے دن طلحہ کو ایسے دیکھ لیتی تو اپنے ہوش گنوا دیتی،جب طلحہ ہوش میں آیا تو میں اس کی والدہ کو لے کر گیا، سی ایم ایچ کے ڈاکٹرز اور عملے نے ہمارا بہت خیال رکھا، ان کی شفقت اور محنت کی بدولت طلحہ کی صحت بہتر ہونا شروع ہوئی۔

طلحہ کے چہرے پر اب بھی 16 دسمبر کی یادیں نمایاں ہیں، ایک طرف سے وہ کھانا نہیں کھا سکتا ،سخت چیزیں نہیں کھاسکتا کیونکہ تمام دانت گولی لگنے سے ٹوٹ گئے تھے.طلحہ پھر بھی خود کو نفسیاتی اور جسمانی طور ہر مضبوطی سے سنبھالے ہوئے ہے، طلحہ نے میٹرک کا امتحان اس ہی حالت میں دیا اور نو سوسے زائد نمبر حاصل کئے،اب وہ فرسٹ ائیر میں ہے لیکن ناسازی طبیعت کے باعث ریگولر کلاس نہیں لے پارہا۔

غازی طلحہ کہتے ہیں میرے حوصلے بلند ہیں اس سانحے کے بعد میرے اندر بہت ہمت آگئی ہے، میں نے پری انجینئرنگ میں ایڈمیشن لے لیا ہے، میرا خواب ہے کہ میں سول انجینئر بنوں، مجھے میتھس، فزکس اور مطالعہ پاکستان بہت پسند ہیں، اب میں طبیعت میں بہتری محسوس کرتا ہوں تو کرکٹ کھیلنا پسند کرتا ہوں لیکن امی کو فکر ہوتی ہے وہ مجھے کہتی ہے ان ڈور گیم کھیلو۔

جب بھی16 دسمبر یاد آتا ہے تو چلے جانے والے دوست بہت یاد آتے ہیں، پر میں اسے وطن کی خاطر ایک عظیم قربانی گردانتا ہوں، جب اس دن کی ہولناکی یاد آتی ہے تو میں اس وطن عزیز پر جان قربان کرنے والوں کی داستانیں پڑھتا ہوں، اس سے میرے اندر جذبہ حب الوطنی مزید بڑھ جاتا ہے، میرے منہ پر گولی لگی اب بھی میرے زخم مکمل طور پر بھرے نہیں لیکن پھر بھی میرا جذبہ جوان ہے، مجھے باہر جاتے ہوئے ماسک پہنا پڑھتا ہے لیکن پھر بھی میں زندگی کی جنگ لڑ رہا ہوں۔

مجھے امید ہے مزید علاج سے میں مکمل طور پر نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئوں گا، میں اس بات سے مکمل آگاہ ہوں کہ مکمل صحت یاب ہونے میں کافی وقت لگے گا، لیکن میں خود کو نفسیاتی طور پر مکمل صحت مند محسوس کرتا ہوں اورخود کو خوش رکھتا ہوں، میرے والدین میرے خاندان اور دوستوں کی توجہ اور پیار نے مجھے ٹوٹنے نہیں دیا۔16 دسمبر کے بعد سے مجھے رات کو جلد نیند نہیں آتی تو میں خود کو کتابوں میں مگن کرلیتا ہوں،پر میرے بہت سے غازی ساتھی بہت تکلیف میں ہیں وہ ڈرتے ہیں رات کو سو نہیں پاتے جسمانی اور نفسیاتی تکلیف سے وہ نڈھال ہیں۔

طلحہ کہتے ہیں اس سانحے نے ہم میں وہ جذبہ بیدار کردیا ہے کہ دہشتگردی کو ختم ہم نے ہی کرنا ہے، اچھی تعلیم حاصل کرکے ہر شعبے میں ترقی کرکے اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس سانحے نے مجھے وطن کی قدر سیکھا دی ہے، کس طرح ہمارے بڑوں نے قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا اب ہم بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

نوجوان غازی کا حوصلہ اور جذبہ اپنی جگہ لیکن اب بھی طلحہ کو علاج کی ضرورت ہے اور اچھی تعلیم کی بھی لیکن یہ حکومتی معاونت کے بغیر ممکن نہیں، طلحہ کی ناک سرجری چہرے کی سرجری اور دوبارہ دانت لگنے کا عمل جاری ہے، جنرل راحیل شریف کی ہدایت پر اے پی ایس سانحے کے تمام بچوں کا علاج سی ایم ایچ میں مفت ہوا،لیکن اب پھر سے اے پی ایس کے بہت سے غازی دوبارہ فالو اپ چیک کے منتظر ہیں، بچوں کے چہروں کی سرجری، ان کی ہڈیوں کی بحالی اور نفسیاتی صحت پر کام فوری طور پر کرنا ہوگا۔
Javeria Siddique
twitter@javerias

Posted On Tuesday, September 08, 2015

Posted in human-rights, Uncategorized

انسانیت پانی میں بہہ گیی

 

Posted On Sunday, September 06, 2015
…..جویریہ صدیق…..
انسان نے ہی زمین پرانسانوں کا جینا مشکل کردیا ہے،مسلسل خانہ جنگیوں اور بڑی طاقتوں کے جنگی جنون نے پوری دنیا کے امن کو تباہ کر رکھا ہے۔کہنے کو تو یہ بڑے ممالک چھوٹے ممالک پر اس لئے حملہ کرتے ہیں کے ہم دہشت گرد ختم کررہے ہیں۔لیکن نا ہی دہشتگرد ختم ہوتے ہیں اور نا ہی پکڑے جاتے ہیں۔ پر شہری آبادیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔اچھے بھلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد سڑکوں پر دربدر ہوجاتے ہیں۔کچھ ملکوں کے مطلق العنان حکمران عوام پر وہ ظلم ڈھا رہے ہیں جس کی مثال نہیں ملتی ۔

مشرق وسطی کا امن ایک منظم سازش کے تحت تباہ کیا گیا ہے تاکہ اسرائیل کی خطے میں اجاہداری قائم ہوجائے۔ مسلم امہ میں اتفاق نہیں اسی لیے شام ،عراق،لیبا اور یمن جنگ کی وجہ سے بدحال ہیں۔وہاں کے نہتے عوام خانہ جنگی پریشان ہوکر قریبی ممالک میں پناہ لینا چاہتے ہیں لیکن کوئی عرب ملک ان کو لینے کے لئے تیار نہیں ، نا ہی دوسرے اسلامی ملک سوائے ترکی کے جس نے روہنجیا مسلمانوں کی بھی مدد کی اور اب شام کے مسلمان بہن بھائیوں کی بھی مدد کررہا ہے۔

شام خانہ جنگی کا شکار ہے۔ملک میں بشار الاسد کے جیسا حکمران اور دوسری طرف داعش کا خوف کوئی بھی انسان ایسے ماحول میں نہیں رہنا چاہتا۔اپنے لئے اچھی زندگی کون نہیں چاہتا۔لیکن جنگ کے حالات میں دیگر پڑوسی ممالک پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے بند کردیتے ہیں۔اس کی وجہ سے بہت سے جنگ متاثرین غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش میں موت کا شکار بن جاتے ہیں۔اس سب صورتحال میں انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کی چاندی ہے جو ہجرت کرنے والوں سے بھاری رقوم لوٹتے ہیں اور انہیں بیچ سمندر میں چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔یہ ہی سب عبداللہ کردی کے ساتھ ہوا ، شام سے جان بچا کر نکلے ترکی میں پناہ لی لیکن غیرقانونی طور پر یورپ جاتے ہوئے اپنی کل کائنات اپنا خاندان گنوا بیٹھے۔عبداللہ نے کینڈا میں پناہ کے حصول کی درخواست دی لیکن رد ہوگئی پھر ترکی سے یورپ جاتے ہوئے عبداللہ کی کشتی الٹ گئی جس کے نتیجے میں اس کی بیوی اور دو بیٹے جاں بحق ہوگئے۔عبداللہ کے تین سالہ بیٹے ایلان کی لاش ترکی کے جزیرے بوردم کے ساحل سے ملی ۔ترک کوسٹ گارڈز نے بھی کیا منظر دیکھا کہ ایک ننھا وجود ساحل پر بے جان پڑا تھا۔ایک کم سن غیر قانونی تارک وطن جس کو اس لفظ کا مطلب بھی نہیں پتہ دنیا سے جا چکا تھا۔

عبداللہ کہتے ہیں جیسے ہی کشتی الٹنے لگی تو وہ ایجنٹ جس نے ہمیں یونان پہنچانے کا وعدہ کیا تھا فوری طور پر کشتی سے اتر گیا، پیچھے رہ گئے میں میری بیوی اور دو بیٹے ہمارے پاس لائف جیکٹ بھی نہیں تھی۔میری بیوی کو پانی سے بہت ڈر لگتا تھا ایک ایک کرکے وہ سب میری آنکھوں کے سامنے ڈوب گئے میں کسی کو نہیں بچا سکا۔ اب کچھ نہیں بچا میری زندگی میں۔عبداللہ کہتے ہیں میں اب اپنے اہل خانہ کو کوبانی میں دفن کرنے کے بعد کہیں نہیں جائوں گا کیونکہ ہجرت میں ان کی وجہ سے کرنا چاہتا تھا، ان کو روشن مستقبل دینا کا خواہشمند تھا۔ میں اپنی بیوی اور بچوں کو پرامن زندگی دینا چاہتا تھا۔اب یہ کوبانی میں مدفون ہیں تو میں بھی ساری زندگی یہاں ہی رہوں گا۔

ایلان کی ساحل پر تصویر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انسانیت واقعی ہی پانی میں بہہ گئی۔برطانیہ کی لکھاری ورسن شائر نے تبصرہ کیا سب کو سمجھنا ہوگا کوئی بھی انسان اس وقت تک اپنے بچوں کو کشتی میں نہیں بٹھاتا جب تک پانی زمین سے زیادہ محفوظ نا لگنے لگے۔ ورسن بالکل صحیح کہتی ہیں عبداللہ کو بھی زمین پر اور اس پر رہنے والوں سے زیادہ سمندر اور کشتی پر اعتماد تھا کہ وہ اسے ایک پرامن مقام تک لے جائے گی۔کیونکہ شام میں تو ان کے لیے زمین تنگ کردی گئی تھی۔انا پرست حکمران عوام پر جنگیں مسلط کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ اس کے کتنے بھیانک اثرات نکلیں گے۔ایلان جیسے کتنے اور پھول بنا کھلے مرجھا گئے۔عبداللہ جیسے کتنے باپ ہیں جو اپنا تمام اثاثہ لٹا چکے ہیں۔لیکن طاقت ور افراد کا جنگی جنون کم ہونے کو نہیں آرہا۔

ایلان کی ساحل پر مردہ حالت میں تصویر دیکھ کر سوشل میڈیا پر بھونچال آگیا ، ملکی اور غیر ملکی فیس بک اور ٹوئٹر صارفین نے اپنے غم کا اظہار کیا۔ پانچ ،چھ ٹرینڈ ایلان کی اس دردناک موت کو زیر بحث لانے کے لیے بنائے گئے۔ مغربی ممالک میں لوگ خوش آمدید پناہ گزین اور انسانیت پانی میں بہہ گئی ٹرینڈ کے ساتھ اپنے دل کا غبار نکلتے رہے۔ برطانوی صحافی امول راجن نے ٹویٹ کیا ڈیوڈ کیمرون آپ اس وقت بہت بے حس لگ رہے آپ کو جنگ سے متاثرین افراد کو برطانیہ میں پناہ دینی چاہیے۔سابق برطانوی وزیر ڈیوڈ ملی بینڈ نے ٹویٹ کیا ہمارا یہ ہی پیغام ہے کہ اردن سے لے کر جرمنی تک اور برطانیہ سے امریکا ہر جگہ پناہ گزنیوں کو خوش آمدید کہا جائے۔

جبکہ پاکستانی سوشل میڈیا یوزرز نے’’ عرب حکمرانوں شرم کرو‘‘ اور’’ بشار الاسد بچوں کا قاتل‘‘ ٹرینڈ کیا۔ صحافی نوشین یوسف نے ٹویٹ کیا اس وقت شام کے دو اعشاریہ چھ ملین بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دو ملین بچے پناہ گزین کے طور پر ہمسایہ ممالک میں مقیم ہیں۔شینا عابدہ نے طنزیہ ٹویٹ کیا لاکھوں شامی ہجرت کرگئے میدان صاف ہے اب شام ، لبنان کو اسرائیل کے حوالے کردو۔حماد ذوالفقار نے ٹویٹ کیا

کعبے کی قسم عرش پہ محشر کی گھڑی تھی

اک طفل کی جان موج طلاطم سے لڑی تھی

کل شام سے جنت میں بھی ماتم کا سماں ہے

پانی کے کنارے پہ کوئی لاش پڑی تھی۔

دوسری طرف مشرق وسطی خلیجی ریاستوں میں سوشل میڈیا یوزر نے اپنی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ شام کے پناہ گزینوں کی ذمہ داری یورپ پر نہیں ہم پر زیادہ عائد ہوتی ہے۔سوال تو یہاں یہ پیدا ہوتا ہے ہر بات میں امت مسلمہ کے بڑے بھائی بننے والے سعودیہ عرب اور ایران کہاں ہیں۔اس موقع پر کیا ان کا فرض نہیں بنتا ہے وہ شامی بھائیوں کی مدد کے لیے سامنے آئیں۔دیگر امیر اسلامی ممالک کہاں ہیں ؟ پاکستان بنگلہ دیش متحدہ عرب امارت کویت قطر کوئی تو آئے جو ان لوگوں کی مدد کرے جو ترکی سے یونان تک زندگی کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔

کیا امت مسلمہ صرف نصابی کتابوں اورجہادی لٹریچر تک محدود ہے۔کیا واقعی ہی اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو اپنا ذاتی مفاد اور فرقہ بندیاں زیادہ عزیز ہیں۔ننھے ایلان کی موت بھی کیا ان حکمرانوں کو غفلت کی نیند سے نہیں اٹھا سکی۔ اب بھی وقت ہے اسلامی ممالک کو اتحاد کرکے اس خانہ جنگی کو ختم کرنا چاہیے اپنی سرحدیں جنگ متاثرہ افراد کے لیے کھول دینا چاہئیں، ورنہ بہت سے ایلان زندگی کی بازی ہار جائیں گے اور اللہ کے حضور یہ ہی ننھے پھول مسلم امہ کےحکمرانوں کے خلاف مقدمہ لڑیں گے۔دنیا میں تو شاید وقتی بچت ہوجائے لیکن ایلان کے مجرمان روز قیامت کہیں بھی پناہ نہیں حاصل کرسکیں گے۔

ایلان تو چلا گیا لیکن اپنے دیگر شامی بہن بھائیوں کے لیے یورپ کی سرحد قانونی طور پر کھول گیا اس ننھے فرشتے کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی جس نے پورے پورپ کو ہلا کر رکھ دیا ۔ وہاں کے عوام سراپا احتجاج ہوکر اپنی حکومتوں سے مطالبہ کرنے لگے کہ جنگ متاثرین کو پناہ دی جائے۔ان کی حکومتوں نے ایسا ہی کیا اور اب شامی مہاجرین کو پناہ دینے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔پر افسوس اسلامی ممالک کے حکمران کے دل ایلان کی اس قربانی پر بھی نا پگھل سکے اور نا ہی ساحل پر پڑی ایلان کی لاش ان میں انسانیت کو جگا سکی۔
Javeria Siddique writes for Daily jang
twitter@javerias

Posted in Uncategorized

سحرافشاں شہید تمغہ شجاعت

 

Posted On Friday, August 28, 2015
…..جویریہ صدیق…..
16 دسمبر 2014 کو پشاور آرمی پبلک اسکول پشاور میں اپنے شاگردوں کے ساتھ اردو کی استاد سحر افشاں نے بھی جام شہادت نوش کیا،سحر افشاں سانحہ پشاور کے ان پہلے شہیدوں میں تھیں جنہیں دہشتگردوں نے نشانہ بنایا،ان کے غازی شاگرد کہتے ہیں ہماری بہادر میڈیم نے دہشتگردوں کو بہت کہا بچوں کو جانے دو یہ بہت چھوٹے ہیں ان سے کس بات کا بدلہ لے رہے ہو،لیکن انہوں نے ہماری ٹیچر کو پوائنٹ بلینک پر نشانہ بنایا اور وہ ہمارے سامنے شہید ہوگئیں۔سحر افشاں شہید23 نومبر1981 ء کوپشاور میں پیدا ہوئیں۔ وہ شروع سے پڑھائی میں بہت بہترین اور اردو سے خاص لگائو رکھتی تھیں،بچپن سے ہی یہ ٹھان لی کہ اردو ادب میں ہی ماسٹرز کروں گی۔ہمیشہ اسکالر شپ جیتے ،چاہے اسکول ہو کالج یا یونیورسٹی ہر دل عزیز اور استاتذہ کی آنکھوں کا تارہ ۔2006 میں ایم اے کرنے کے بعد تدریس کا شعبہ اختیا ر کیا اور آرمی پبلک اسکول میں آٹھویں نویں میٹرک فرسٹ ایئر کو اردو پڑھاتی تھیں۔کوئی بھی تقریب ہو انتظامات سحر افشاں کو ملتے۔بیت بازی ، مقابلہ مضمون نویسی اور مباحثوں کی تیاری بھی طالب علموں کو سحر ہی کرواتیں۔سحر سنجیدہ مزاج استاد تھیں۔اردو پڑھانے کےساتھ ساتھ بچوں کی دیگر صلاحیتوں پر بھی محنت کرتیں۔ان کے بہت سے طالب علم مقابلوں میں انعامات جیت کرآتے۔16 دسمبر کو سحر افشاں معمول کے مطابق اسکول گئیں، لیکن لوٹ کر واپس نا آسکیں اور اپنے شاگردوں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔

شہید سحر افشاں کے بڑے بھائی فواد گل کہتے ہیں سحر بہت محنتی اور ملنسار تھیں ۔سحر ہر فن مولا تھیں جہاں ایک طرف وہ اردو کی بہترین استاد تھیں تو دوسری طرف ہر ایونٹ بھی احسن طریقے سے آرگنائز کرواتیں۔کلاسز اور ہال کی سجاوٹ اتنی عمدہ کرواتی کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے۔اسکول سے آنے بعد سحر ایم فل کی کلاس لینے پشاور یونیورسٹی جاتی، اس کے بعد آکر گھر بھی سنبھالتی ۔میں اپنی بہن کی صلاحتیں دیکھ کر دنگ رہ جاتا کہ کس طرح اس نے پروفیشنل لائف اور گھر میں توازن رکھا ہوا ہے، ہم دونوں بہت اچھے دوست تھے ، ہر وقت گپ شپ باتیں نوک جھوک وہ گھر بھر کی جان تھی۔ میرے والد ڈاکٹر تھے ان کا انتقال2006 میں ہوگیا تھا، اس کے بعد سے ہماری کفالت ہمارے ماموں نے کی، تب سے بس میری زندگی کا کل اثاثہ میری ماں،میرے ماموں اور چھوٹی بہن تھے۔16 دسمبر کو میں نے ہی سحر کو نیند سے جگایا بہت سردی تھی، اسکا اٹھنے کا دل نہیں کررہا تھا۔ میں نے کہا سحر اٹھو کہیں تمہیں دیر نا ہوجائے سحر اٹھی اور تیار ہوگئی لیکن اس کی اسکول وین وقت پر نہیں آئی وہ بہت دیر انتظار کرتی رہی آخر ساڑھے سات بجے وین آگئ۔وہ اسکول چلی گئی اور میں دفتر۔ کوئی گیارہ بجے کے قریب اپنے بینک کی طرف سے کورٹ میں پیش تھا جب مجھے اطلاع ملی کہ آرمی پبلک اسکول اور کالج پر حملہ ہوگیا۔ میں جج صاحب کو بتایا اور سیدھا ورسک روڈ کی طرف بھاگا۔

بہن کو بہت فون کئے لیکن وہ اٹھا نہیں رہی تھی۔گھر پر امی بہت پریشان ہورہی تھی۔عینی شاہدین کے مطابق جس وقت سحر نے مسلح افراد کو ہال کر طرف آتے دیکھا تو انہوں نے اپنے ارداگرد بچوں کو فوری طور پر محفوظ جگہ پر منتقل کرنا چاہا پر اتنی مہلت نا ملی اور پوائنٹ بلینک پر دہشت گردوں نے انہیں نشانہ بنایا۔فواد گل کہتے ہیں کہ جس وقت مجھے اپنی شہید بہن کا جسد خاکی ملا تو چہرابالکل سلامت تھا لیکن دماغ کا دائیاں حصہ گولیوں کے باعث مکمل طور پر اڑ چکا تھا۔ان کی گردن کندھے پر بھی گولیاں لگی تھیں۔

سحر کے جانے سے زندگی کی تمام خوشیاں ہم سے روٹھ گئی ہیں میری والدہ شدید علیل ہیں، سحر کے یوں اچانک چلے جانے نے انہیں توڑ کر رکھ دیا ہے۔

سحر کی شہادت کے بعد مجھے سی ایم ایچ سے فون آیا کہ آپ کی بہن کا فون ہمارے پاس ہے آپ لے جائیں، جب مجھے فون ملا تو بالکل صیح تھا تاہم کچھ عرصہ بعد خود بخود اس کی اسکرین ٹوٹ گئی، میں نےسحر کے فون کو دیگر اشیاء کے ساتھ سنبھال کر رکھ لیا ہے۔ سحر کے کمرے میں اس کی تمام اشیاء موجود ہیں لیکن وہ نہیں ہے۔پھر بھی میں حوصلہ کے ساتھ تمام امور کو چلا رہا ہوں۔ان کے غازی شاگرد بھی انہیں یاد کرتے ہیں اور ہم سے اپنے والدین کے ہمراہ ملنے آجاتے ہیں۔ میری اور میری والدہ کی یہ خواہش ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے،.مجھے اپنی بہن اور ہر آرمی پبلک سکول کے شہید کی قربانی پر فخر ہے۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
twitter@javerias

Posted in Uncategorized

 

ارکان اسمبلی غیر حاضر جناب‎
Posted On Sunday, August 23, 2015
…..جویریہ صدیق…..
الیکشن میں تو سیاستدان بلند و بالا دعوے کرتے ہیں کہ اگر ہم عوام کے ووٹوں سے جیت گئے تو تبدیلی لائیں گے،پر الیکشن جیتنے کے بعد عوام کے لیے تو نہیں اپنے لیے سیاستدان کافی تبدیلیاں لئے آتے ہیں،سیکڑوں گاڑیوں کا پروٹوکول، روزانہ سرکاری اور سفارتی تقریبات میں شرکت، غیر ملکی دورے ، میڈیا کوریج، امارت میں اضافہ وغیرہ وغیرہ، ان سب میں وہ اس ادارے کو بالکل فراموش کرجاتے ہیں جس میں بیٹھ کر قانون سازی کرنے کے لئے عوام انہیں ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں۔ جی ہاں میں بات کر رہی ہوں پارلیمنٹ کی، جب سیاست دان اس سے باہر ہوتے ہیں تو اس میں جانے کی بے تابی ہوتی ہے اور جب اس میں پہنچ جائیں تو اس کا منہ دیکھنا ہی گوارا نہیں، اب یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے پارلیمنٹ سے باہر ہمارے منتخب نمائندوں کی ایسی کیا مصروفیت ہیں جو ان کے پاس ایوان میں آنے کے لئے وقت ہی نہیں۔

اس بار 24 ویں اور 23 ویں سیشن میں ممبران اسمبلی کی حاضری کو نیشنل اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے پبلک گیا ہے۔ 23 واں سیشن پانچ جون سے 25 جون پر مشتمل تھا، اس میں 161 ارکان نے بجٹ بحث میں حصہ لیا۔ وزیراعظم نواز شریف کی حاضری صرف پانچ فیصد تھی، بجٹ سیشن کے دوران انہوں نے پندرہ نشستوں میں سے صرف چار میں شرکت کی، تیسری نشست میں کورم کی کمی کے باعث اجلاس کو ملتوی کرنا پڑا، قانون سازوں کی بجٹ سیشن میں شرکت بہت کم رہی۔ فافن کے مطابق سیشن کا آغاز اوسط چالیس کے قریب ممبران سے ہوتا اور اختتام 78 تک جاکر ہوتا۔

23 ویں اجلاس کے پندرہ سیشن میں حاجی غلام احمد بلور 12، آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے 13 ، مولانا فضل الرحمان نے 7، مراد سعید نے 7،اسد عمر نے 10، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے11، چوہدری نثار نے 7، شیخ رشید احمد نے 14، طلال چوہدری 14، عابد شیر علی 10، خرم دستگیر 9، پرویز الٰہی 4، دانیال عزیز 9، خواجہ سعد رفیق 6، شفقت محمود 7، سید خورشید شاہ 13، سید نوید قمر 11، سید علی رضا عابدی 8، محمود خان اچکزئی 10 میں شریک ہوئے۔

بات ہو خواتین ارکان اسمبلی کی تو23 ویں اجلاس کے 15 سیشن میں انوشہ رحمان نے 9، زیب جعفر 9، مائزہ حمید 9، تہمینہ دولتانہ 7 ، ڈاکٹر شیریں مزاری13، شگفتہ جمانی 6، کشور زہرہ 5، ثمن جعفری12، ماروی میمن 12، عائشہ گلالئی 9، سائرہ افضل تارڑ14، ڈاکٹر عذرا 13 اور شازیہ مری 13میں شریک ہوئیں۔

جن ارکان نے غیر حاضری اور کم اٹینڈنس کے ریکارڈ قائم کئے ان میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور حمزہ شہباز شریف صفر حاضری کے ساتھ 23 ویں اجلاس میں سرفہرست نظر آئے۔علی محمد خان مہر ،مخدوم امین فہیم،ڈاکٹر فہمیدہ،میرمنور علی تالپور ،علیزے اقبال حیدر صفر حاضری کی فہرست میں کھڑے نظر آئے۔

یوسف تالپور 1، سہیل منصور 1، امیر حیدر خان 1، خیل زمان اورکزئی 1، ڈاکٹر فاروق ستار 1، سردار کمال خان 1، زاہد حامد 2، جعفر لغاری 2، غلام ربانی کھر 2، فریال تالپور 2، علی راشد 2، عبدالرحیم مندوخیل 3، محمد عاصم نظیر 3، میاں طارق محمود 3، ریاض ملک 3، حافظ عبد الکریم 3، ایاز سومر 3، کنور نوید جمیل 3، ردا خان صرف 3 دن ہی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے وقت نکال سکے۔

جن ارکان کی حاضری 23 ویں اجلاس میں پورے15 دن رہی ان میں سردار ایاز صادق، شیخ آفتاب ، جاوید اخلاص، سحر اکبر خان، افتخار الدین، کپٹن محمد صفدر، افتخار چیمہ، اسد الرحمان، جنید انور چوہدری، اکرم انصاری، افضل خان، غلام رسول ساہی، سردار ممتاز خان، رمیش لال، نعیمہ کشور خان، عائشہ سید، عالیہ کامران، بیلم حسنین ، رومینہ خورشید، شاہین شفیق ، شہناز سلیم ملک ، طاہرہ اورنگزیب ، عبدالستار بچانی، آفتاب شعبان میرانی، ارشد خان لغاری، ریاض پیرزادہ، سردار امجد کھوسہ ، رائو محمد اجمل خان،ڈاکٹر رمیش کمار،کرن حیدر،شاہدہ اختر شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کا 24 واں سیشن27 جولائی سے شروع ہوا اور تیرہ اگست تک جاری رہا،اس کے 14 اجلاس ہوئے اور تقریباً ہر اجلاس آدھے گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا، قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق 14 میں سے 11 دن حاضر رہے۔ ڈپٹی اسپیکر 14 میں سے تیرہ دن حاضر ہوئے، وزیراعظم نے صرف دو اجلاس میں شرکت کی اور اپوزیشن لیڈر نو سیشنز میں حاضر رہے۔ فافن کے مطابق اجلاس اوسط 38 ارکان سے شروع ہوتا اور اختتام پر 52 فیصد پر۔

بات کی جائے ارکان کی تو بہت سے ارکان اس سیشن سے غیر حاضر رہے یا صرف ایک دو دن شریک ہوئے۔ عمران خان صفر دن، حمزہ شہباز شریف صفر،چوہدر ی پرویز الہی صفر، ناصر خان صفر ، چوہدری خادم صفر،قاری محمد یوسف صفر،ڈاکٹر ناصر احمدصفر،محمد عاصم نذیر صفر ،محمد صدیق خان صفر،مخدوم خسرو بختیارصفر،ایاز سومر و صفر،عذرا پیچوہو صفر،ڈاکٹر فہمیدہ مرزا صفر،امین فہیم صفر،ملک اسد صفر،روشن دین جونیجوصفر، سید عیسیٰ نوری صفر،ردا خان صفر،خالدہ منصور صفر،ثریا جتوئی صفر،طارق کرسٹوفرصفر،علیزے اقبال صفر (یہ اب مستعفی ہوگئ ہیں)۔

میاں محمد نواز شریف 1، امیر حیدر ہوتی 1 ، پیر صدر الدین شاہ راشدی 1، عباد اللہ 1، شاہدخاقان عباسی 1، ملک اقبال مہدی خان 1، خرم دستگیر 1، مخدوم سید مصطفیٰ 1، سید ایاز علی1، پرویز ملک 2، دانیال عزیز 2، طاہر چیمہ 2، محمد خان شیرانی 2، احسن مزاری 2، چوہدری طارق بشیر2، شائستہ پرویز2، محمد خان مہر2، ساجد حسین طوری3، جاوید اخلاص 3، ریٹا اشوار 3، صبیحہ نذیر 3، رفیق احمد جمالی 3، عبید اللہ شادی خیل 3، محسن شاہ نواز 3، امیر زمان3، میاں طارق 3، عابد شیر علی 4، سائرہ افضل تارڑ4، میر منور علی تالپور کی 4 دن حاضری رہی۔

سردار ممتاز خان ، شیخ آفتاب ، طلال چوہدری، غلام رسول ساہی، شیخ محمد اکرم، چوہدری اسد الرحمان ، مہر اشتیاق احمد ، میاں محمد رشید، رانا افضل ، ولید عالم خان، ملک عبدالغفار ڈوگر، سردار امجد کھوسہ، شیخ فیاض الدین ، خواجہ غلام رسول، آفتاب میرانی، عبد الستار بیچانی، شمس النساء، عبدالقہار خان، عبد الحکیم بلوچ، قمر الدین،طاہرہ اورنگزیب، پروین مسعود بھٹی، سیما جمالی، شاہین شفیق، شاہدہ رحمانی، مسرت رفیق، طاہرہ بخاری، نعیمہ کشور، شاہدہ علی، خلیل جارج، عالیہ کامران، کرن حیدر سو فیصد حاضری کے ساتھ نمایاں ہیں۔

دیگر اہم رہنماؤں کی حاضری کچھ یوں رہی۔ چویدری نثار 7، شیخ رشید احمد 11، ڈاکٹر طارق فضل 12، اسد عمر 10، حاجی غلام احمد بلور 8، مراد سعید 7، احسن اقبال 6، شفقت محمود 8، خواجہ سعد رفیق 6، شاہ محمود قریشی 7، اویس لغاری 7، سید خورشید شاہ 9، رشید گوڈیل 9، علی رضا عابدی 11، ڈاکٹر عارف علوی 10، مائزہ حمید 9، شیریں مزاری 11، نفیسہ شاہ 6 ، کشور زہرہ 11، عائشہ گلالئی 8، ڈاکٹر درشن 8 دن اسمبلی میں حاضر ہوئے۔

حیرت ہے جو لوگ الیکشن میں ووٹ مانگتے ہیں انتخابہ مہم میں لاکھوں خرچ کرتےہیں مقصد صرف اسمبلی آنا ہوتا ہے، عوام کو جھوٹے سچے خواب دیکھا کر ووٹ لیے جاتے ہیں،پر اسمبلی کا حصہ بنتے ہی پتہ نہیں ایسی کون سی مصروفیات آڑے آجاتی ہیں کہ جس کی وجہ سے اسمبلی ہی نہیں آسکتے ہیں،چاہے وجوہات جو بھی ہوں، اگر ارکان کے پاس قانون سازی کے لیے وقت نہیں تو استعفیٰ دے کر وہی کام کریں جس کی وجہ سے اسمبلی نہیں آسکتے، خیر اب تو قانون سازوں نےاستعفوں کا بھی مذاق بنا کر رکھا ہوا ہے، عوام کی خدمت کے بجائے تمام ارکان اپنے اپنے لیڈر کی خوشنودی میں لگے ہوئے ہیں، جب وہ کہیں یہ اسمبلیوں سے باہر جو وہ کہیں یہ اسمبلی میں حاضرجو ان کے علاوہ ہیں ان میں سے بیشتر چھٹی پر ہیں یا بنا بتائے ہی ایوان سے غیر حاضر، بہت کم تعداد ہے جو مسلسل اپنے حاضری کو اسمبلی میں یقینی بناتے ہیں ۔ میرے خیال میں قومی اسمبلی پاکستان کا وہ واحد ادارہ ہے جو مستعفی ہونے والوں،غیر حاضر رہنے والوں اور چھٹی پر جانے والے تمام افراد کو تخواہ دیتا ہے اور کہنے کو ہم غریب ملک ہیں۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

twitter @javerias

Posted in lifestyle, Pakistan, Uncategorized

ماں کا دودھ بچے کیلئےمکمل غذا

 

ماں کا دودھ بچے کیلئےمکمل غذا
Posted On Wednesday, August 19, 2015
….. جویریہ صدیق…..
پیدائش کے بعد سے چھ ماہ تک بچے کے لیے ماں کا دودھ مکمل غذا ہے،اس میں قدرتی طور وہ تمام اجزا شامل ہوتے ہیں جو بچے کی پرورش اور نگہداشت کے لیے ضروری ہیں۔جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں وہ مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں،ان میں قوت مدافعت بھی زیادہ ہوتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق ماں کا دودھ پینے والے بچے دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں،ان بچوں کا آئی کیو اور کارکردگی ’فارمولا ملک‘ پینے والے بچوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ماں کا دودھ بچے کو نمونیا، کھانسی نزلے، دست،قبض،پیٹ کہ بیماریوں اور بدہضمی کے خلاف قوت مدافعت دیتا ہے۔

بچے کی پیدائش کے بعد آدھے گھنٹے کے اندر بچے کو پہلی دودھ کی خوراک دیے دینی چاہئے،ابتدائی طور پرر زردی مائل دودھ نکلتا ہے اس کو کولسٹرم کہتے ہیں،جسے بالکل ضائع نہیں کرنا چاہیے،یہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اور بچے کے لئے بہت مفید ہے،شروع میں بچے کو دودھ پلانے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا،بچہ رو کر اپنی بھوک کا اظہار کرتا ہے اور ماں کو اس ہی وقت بچے کو دودھ پلانا چاہیے.لیکن چھ ماہ کے بعد یہ روٹین بدل جاتی ہے اور دودھ کے ساتھ بچے کو ہلکی غذا شروع کروادی جاتی ہے تو بچہ چوبیس گھنٹے میں صرف آٹھ سے دس بار دودھ پیتا ہے۔

ماں کے دودھ میں چکنائی وٹامن معدنیات اور کاربوہائیڈریٹس موجود ہیں،ماں اس بات کا خیال کرے کہ وہ اپنے آپ کو صاف رکھے اور غسل کا باقاعدگی سے اہتمام کرے،بچہ بار بار دودھ مانگتا ہے اس لیے ماں کو اپنی خوراک کا بھی خاص خیال رکھے.ماں کو چاہیے وہ پھل سبزیوں دودھ اور پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرے، کیونکہ بچہ اپنی تمام غذائیت ماں سے لیتا ہے۔

تمام مائوں کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ بچوں کو اپنا دودھ پلائیں ڈبے کا دودھ پینے والے بچے بار بار بدہضمی اور ڈائریا کا شکار ہوجاتے ہیں،کیونکہ تمام تر احتیاط کے باوجود پانی اور فیڈر کی وجہ سے جراثیم بچے کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں جو ان کو بیمار کرتے ہیں،اس کی نسبت ماں کا دودھ پینے والے بچے کم ہی انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں،دودھ پلانے والی ماں کا وزن بھی دوبارہ کم ہوجاتا ہے،اس کے ساتھ دوسرے بچے کی پیدائش میں قدرتی وقفہ بھی آجاتا ہے،دودھ پلانے والی خاتون میں چھاتی کے کینسر کا امکان بھی کم رہ جاتا ہے۔

ماں بچے کو دس سے پندرہ منٹ تک چھاتی کے ساتھ لگائے رکھے صحت مند بچے جلدی اور کمزور بچے آہستہ دودھ پیتے ہیں،ماں بچے کو لیٹ کر بھی اور بیٹھ کر بھی دودھ پلا سکتی ہے،بچے کو مکمل طور پر ماں کے قریب ہونا چاہیے۔ دودھ پلانے کے بعد بچے کو ڈکار دلائی جائے تاکہ پیٹ میں جانے والی ہوا باہر آجائے اور بچہ بے آرام نا ہو۔

بچے کو دو سال تک دودھ پلانا بہترین ہے لیکن چھٹے ماہ میں اسے ہلکی ٹھوس غذا بھی شروع کروادینی چاہیے،جس میں سوجی، ساگودانہ، کھچڑی، کھیر ،پھل پیس کر اور تازہ جوس وغیرہ شامل ہیں،لیکن شروع میں ٹھوس اجزاء بہت کم مقدار دیئے جائیں کیونکہ زیادہ دینے سے بچہ بیمار ہوسکتا ہے،آہستہ آہستہ ٹھوس غذا کو بڑھایا جائے بچہ خود ہی ماں کا دودھ پینا کم کردیتا ہے۔

اس دوران اگر دودھ پلانے والی ماں اپنی چھاتیوں میں تکلیف محسوس کرے تو فوری طور پر ڈاکٹر یا لیڈی ہیلتھ ورکرز کو معائنہ کروائے،دودھ پلانے والی ماں اپنے آپ کو صاف رکھے .آرام کرے اور اپنی غذائیت کا خیال رکھے،ہر سال آٹھ لاکھ سے زائد بچے اپنے پانچویں سالگرہ نہیں دیکھ پاتے،ان میں زیادہ تر بچے پیٹ کی بیماروں نمونیا ڈائریا کے باعث اپنی جان سے جاتے ہیں،ان بیماریوں کی بڑی وجہ گندا پانی اور فیڈر کے ذریعے سے جانے والے جراثیم ہیں،ماں کے دودھ سے آٹھ لاکھ میں سے ایک چوتھائی بچوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بچے کو چھ ماہ تو ماں کا دودھ لازمی طور پر پلایا جائے،تاہم پاکستان میں بوتل سے دودھ پلانے کا رواج زیادہ ہے اور بریسٹ فیڈنگ کم ہے،اس کو فیشن کہیں رواج یا گھر والوں کا عدم تعاون کہ بہت سی خواتین بچوں کو فیڈر لگا دیتی ہیں۔

2002 میں بریسٹ فیڈنگ اور چائلڈ نیوٹریشن آرڈیننس پاس کیا گیا ہے لیکن اس پر عملدرآمد نظر نہیں آتا،نا ہی خواتین کو اس کی افادیت کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے نا ہی انہیں ایسا ماحول دیا جاتا ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلاسکیں،ملازمت پیشہ خواتین کوایسی کوئی سہولت نہیں دی جاتی کہ وہ اپنا شیر خوار بچہ دوران ملازمت ساتھ رکھ سکیں،اس وجہ سے مائیں اپنے بچوں کو فارمولا ملک اور فوڈ شروع کروادیتی ہیں۔

اگر ہم صحت مند ماں اور صحت بچے کی بنیاد پر معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس قدرتی نظام کو عام کرنے کے لیے بات کرنا ہوگی،بچے اگر اپنی ماں کا دودھ پئیں گے تو وہ صحت مند ہوں گے اور خود ماں بھی متعدد بیماروں سے محفوظ رہے گی،اس لیے خواتین کو دوران ملازمت ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ وہ اپنے شیرخوار بچوں کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
twitter @javerias

Posted in Uncategorized

قصورکے بچوں کو انصاف دو۔

 

قصورکے بچوں کو انصاف دو۔۔
Posted On Tuesday, August 11, 2015
…..جویریہ صدیق…..
قصور میں بچوں کے ساتھ وہ حیوانیت برتی گئ کہ پاکستان میں ہر درد مند دل کانپ اٹھا۔ کیا کوئی انسان کسی بھی معصوم بچے کے ساتھ ایسا کرنے کا سوچ بھی سکتاہے۔لیکن ہاں! قصور میں معصوم بچوں کے ساتھ بد فعلی کی گئی ،اس دوران ان کی ویڈیوز بنائی گئی پھر ان کو بلیک میل بھی کیا گیا۔کیا بیتی ہوگی ان معصوم کلیوں پر جن کے ساتھ تین طرح کے جرم کا ارتکاب کیا گیا۔ان واقعات نے ان ننھی کلیوں کے دماغ پر کیا اثرات چھوڑے ہوں گے۔ جب بھی کوئی بچہ اس طرح کے ظلم کا شکار ہوتا ہے تو جسمانی چوٹ کے ساتھ ساتھ گھائو ان کی روح پر بھی لگتے ہیں۔اس طرح کے حادثے بچوں کی نفسیاتی صحت کو مکمل طور پر تباہ کردیتے ہیں۔

پاکستان جہاں ایسے موضوعات پر بات کرنا ہی معیوب سمجھا جاتا ہے وہاں جب ایک بچہ اس طرح کے سانحے کا شکار ہوجائے تو وہ اپنے لب خوف اور شرمندگی کے باعث سی لیتا ہے۔حالانکہ اس طرح کے واقعے میں بچے کا کوئی قصور نہیں ہوتا، لیکن خوف شرمندگی کے باعث وہ چپ رہنے لگ جاتا ہے اور ہر وقت خوفزدہ رہتا ہے۔اپنے دوستوں رشتہ داروں سے ملنے سے کتراتا ہے۔اسکول یا مدرسے جانے سے انکار کرتا اور گھر پر رہنے کو ترجیح دیتا ہے، اگر یہ واقعہ گھر میں ہی کسی قریبی رشتہ دار کے سبب پیش آیا ہو تو بچے گھر سے بھاگنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ نفسیاتی علامات کے ساتھ جسمانی اثرات بھی نمایاں ہوتے ہیں جن میں جسم پر چوٹ، جلے ہوئے نشان موجود ہوتے ہیں، بخار، جسم میں درد اور بستر گیلا کرنا بھی اس کی علامات میں شامل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ماں باپ بچوں کی چال ڈھال سے بھی اس بات کا اندازہ بخوبی لگاسکتے ہیں کہ ان کے بچے کے ساتھ یہ حادثہ رونما ہوا ہے۔

اس ساری صورتحال میں ماں باپ کو بہت شفقت کے ساتھ اپنے بچے سے وجہ اور واقعہ دریافت کرنا چاہیے۔بچہ شاید کچھ عرصہ بات کو چھپائے گا،لیکن ماں باپ کی شفقت کی وجہ سے وہ ضرور اپنی آپ بیتی بیان کرے گا۔ والدین ایسے بچے کو خاص طور پر توجہ دیں اس کے علاج اور خوراک کا خاص خیال کریں۔اس کو فوری طور پر اسپتال لے کر جائیں تاکہ اسے کسی بھی قسم کے انفیکشن سے بچایا جاسکے۔ اس کو اکیلا گھر پر رہنے اور اکیلا درسگاہ جانے سے ڈر لگے تو گھر کے افراد ڈیوٹیاں بانٹ لیں لیکن بچے کو اکیلا مت چھوڑیں۔اگر بچے کی طبیعت میں گھر والوں کے پیار اور توجہ کے باوجود بہتری نا آئے تو اس کو فوری طور پر ماہر نفسیات کو دکھایا جائے۔ پاکستان کے تقریبا تمام سرکاری اسپتالوں میں ماہر نفسیات موجود ہیں اور ان کی کونسلنگ کی وجہ سے بچہ چند دن میں واضح بہتری محسوس کرے گا۔اگر جنسی زیادتی کے بعد بچے کے علاج پر توجہ نا دی جائے تو اس کے بہت بھیانک اثرات ہوسکتے ہیں۔ بچے خود کشی کی کوشش کرنے لگتے ہیں اور بعض اوقات گھر سے بھاگ جاتے ہیں۔

جنسی زیادتی کا واقعہ کسی بھی بچے کے ساتھ پیش آسکتا ہے، اس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے والدین ہی معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔کبھی بھی بچوں کی جسمانی یا نفسیاتی صحت کو پس پشت نا ڈالیں۔ان کی بات غور سے سنیں اگر وہ کسی چیز کی شکایت کررہے ہیں ،تو اس پر دھیان دیں۔جنسی زیادتی کا واقعہ لازمی نہیں کہ باہر بازار یا کسی ویران جگہ پر ہو یہ گھر میں بھی ہوسکتا ہے ،اسکول میں بھی یا کھیل کے میدان میں بھی ، اس لیے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں ان کی ذمہ داری پورے طریقے سے اٹھائیں۔اساتذہ بھی بچوں کو آگاہی دیں کہ وہ اپنی حفاظت کس طرح سے کریں،کسی بھی شخص کو یہ اجازت نا دیں کہ وہ آپ کے بچے کو چومے، گود میں اٹھائے یا اس کا دوست بن جائے۔اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ انہوں نے غیر افراد سے کتنا فاصلہ رکھنا ہے۔

اب قصور میں بچوں کی نفسیاتی بحالی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ملزمان نے نا صرف بچوں کے ساتھ گھنائونا کام کیا بلکہ ان کی ویڈیو بنا کر انہیں بلیک میل کیا۔یہ سب چیزیں کسی بھی بچے کی شخصیت کو مسخ کرنے کے لیے بہت کافی ہیں۔ اس لیے میڈیا بھی بچوں کے انٹرویو لینے سے پرہیز کرے اور بار بار ان سے سوالات سے گریز کرے۔اس کے ساتھ ساتھ خادم اعلیٰ سے یہ سوال ہے کہ ایک عرصہ ہوا کہ آپ صوبہ پنجاب کے حکمران ہیں اور آج تک پولیس کے حالات جوں کے توں ہیں۔جب منصف ہی مجرم بنے ہوں تو کون انصاف مانگنے تھانے جائے گا۔ والدین اور بچے کس کرب سے گزررہیں ہیں اور پولیس نے مجرمان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ شہباز شریف صاحب معاشرہ کنکریٹ کی عمارتوں پر تعمیر نہیں ہوتا، معاشرہ صرف انصاف کے بل بوتے پر کھڑا ہوتا ہے۔اگر معاشرے میں انصاف نہیں ہوگا تو ایسے واقعات روز سامنے آئیں گے، اس لیے حکومت کو یہ مک مکا والے پولیس تھانے کے کلچر کو تبدیل کرنا ہوگا ۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی افراد کا ہر کیس میں اثر انداز ہونا یہ بہت غلط ہے ہم انہیں تبدیلی کے لیے ووٹ دیتے ہیں یا غنڈے بدمعاشوں کی پشت پناہی کے لیے ؟؟تمام سیاست دانوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی فوٹو شوٹ اور سیاست چمکانے سے گریز کریں ۔بچوں کو کوریج یا سیاستدانوں کے طرف سے کسی تحفے کی ضرورت نہیں ہے۔انہیں اس وقت علاج اور انصاف کی ضرورت ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم بچوں کے حقوق کے لیے موثر قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کے لیے آواز اٹھائیں۔ والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، انہیں باہر کے خطرات سے آگاہ کریں۔ ان کی صحت تعلیم اورحفاظت کے لیےمناسب انتظام کریں۔بچے کو یہ تعلیم دیں کہ اس جسم کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا، اگر کوئی ایسا کرے تو شور مچا کر اس کو منع کریں اور فوری طور پر اپنے والدین کو مطلع کریں۔جب تک ہم ان موضوعات پر اپنے بچوں کو آگاہی نہیں دیں گے باہر کے خطرات سے آگاہی نہیں دیں گے تو جرائم اسی طرح بڑھتے رہیں گے۔تمام باشعور پاکستانیوں سے گزارش ہے صرف اپنے ہی نہیں ارداگرد تمام بچوں کا بھی خیال رکھیں اگر کسی بھی فرد یا گروہ پر شک ہو کہ وہ بچوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں تو بچوں کو بھی چوکنا کردیں اور ان کے والدین کو بھی خطرے سے آگاہ کریں۔مجرمان کو جب تک سزائیں نہیں ملیں گی ہم اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں بنا سکتے ۔اس لیے قصور میں بچوں کے ساتھ اس مکروہ فعل میں ملوث افراد کو کڑی سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسی حرکت کرنے کا سوچے بھی نہیں۔اگر حکومت پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بچوں کے درندہ صفت مجرمان کو چھوڑ دیا گیا تو تباہی کے اثرات کئی نسلوں تک پھیل جائیں گے۔ حکمرانوں سے گزارش ہے یہ اسلامی ملک ہے قانون کی پرواہ نا سہی تھوڑی خدا خوفی ہی کرلیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
twitter @javerias

Posted in Uncategorized

مک مکا کی سیاست

مک مکا کی سیاست
Posted On Friday, July 31, 2015
……جویریہ صدیق……
آزادی مارچ اور دھرنے میں قومی اسمبلی کے جعلی ہونے پر بہت شور ڈالا گیا،پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی گئ اور عمران خان نے اپنے منہ بولے کزن طاہر القادری کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ ہائوس کا گیٹ توڑ ڈالا،اک عجب تماشہ تھا کہ خود کو سیاسی جماعتوں کے سربراہ کہلانے والے سیاست کے مرکز پارلیمان کی بے حرمتی کررہے تھے،گنتی بھر آزادی اور انقلابی کارکنان کافی دن تک پارلیمنٹ ہائوس کے احاطے میں پڑائو ڈال کر بیٹھے رہے اور اپنے قائدین کے منہ تکتے رہے،قائدین امپائر کے منہ طرف دیکھتے ہی رہ گئے لیکن انقلاب کہاں اس طرح آتے ہیں،انقلاب نہیں آیا تو گنتی بھر لوگ بھی گھر لوٹ گئے، پہلے طاہر القادری گئے پھر عمران خان کنٹینر پر سے رخصت ہوئے۔

اب پی ٹی آئی کے ممبران جوکہ دھرنے کے دنوں میں قومی اسمبلی سے مستعفی ہوچکے تھے بے تاب تھے کہ واپس اسمبلی میں جایا جائے، بہت سے تو استعفیٰ دینے کو بھی تیار نہیں تھے لیکن اپنے لیڈر کی ضد کے آگے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، اب جب دھرنا ہی ختم ہوگیا امپائر کی انگلی بھی نا اٹھی تو بیشتر پی ٹی آئی ارکان اس صورتحال میں سٹپٹا گئے کہ اب کیا گیا جائے، انہیں اپنا سیاسی مستقبل دائو پر دکھائی دینے لگا، یمن کی صورتحال کے پیش نظر جب قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا تو پی ٹی آئی نے بھی موقع اچھا جانا اور پارلیمنٹ تشریف لے ہی آئے۔

6 اپریل کو جب پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں واپس آئی تو ایوان میں خوب مچا کہ جن لوگوں نے استعفے دے دئیے اب ان کا ایوان میں کیا کام؟ ہال ’’گو عمران گو‘‘ اور’’ پی ٹی آئی یو ٹرن لے کر آئی‘‘ سے گونج اٹھا، جہاں دیگر ارکان پی ٹی آئی کے دوران دھرنا الزامات پر نالاں تھے تو دوسری طرف ارکان اس بات پر حیران تھے کہ از خود استعفے کے بعد اب پارلیمان میں پی ٹی آئی کی موجودگی پارلیمانی قوانین پر سوالیہ نشان ہے، آئین کے آرٹیکل 64 ون اے اور ٹو اے کے مطابق جو رکن بھی اسپیکر کے نام اپنا استعفیٰ لکھ دے اس کی نشت فوری طور پر خالی ہوجاتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ جو رکن چالیس دن تک بنا درخواست دیئے غیر حاضر رہے اس کی نشت بھی خالی ہو جاتی ہے۔

تاہم ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے ارکان کا دفاع کیا انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ تحریک انصاف اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے میرے پاس نہیں آئی تھی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مک مکا والی سیاست کو اپناتے ہوئے معاملے کو رفع دفع کروایا، اب جب جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد سے یہ بات دوبارہ سر اٹھا رہی ہے کہ جس پارلیمنٹ کو پی ٹی آئی دھاندلی زدہ اور جعلی قرار دیتی تھی اس میں بیٹھنے کا اخلاقی طور پر کیا جواز ہے، جب جوڈیشل کمیشن میں یہ ثابت ہوگیا کہ الیکشن میں کوئی منظم دھاندلی نہیں ہوئی تھی تو پی ٹی آئی کا دعویٰ تو جھوٹ ثابت ہوا، جس اسمبلی کو کنٹینر پر دن رات دھاندلی زدہ کہا، اس کی حرمت کو پامال کیا، اب پی ٹی آئی ارکان اس میں بیٹھنا بھی چاہتے ہیں، وہ بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ معاہدے کی آڑ لے کر اپنا موقف اور اصول کہاں گئے، جس وقت شاہ محمود قریشی ، اسد عمر، شیریں مزاری، عارف علوی، شفقت محمود سب پارلیمنٹ کا تمسخر اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو پارلیمنٹ سے مستعفی ہوگئے، اس وقت تو بہت اعلیٰ اصولوں کا پرچار کیا تھا اب کہاں گئے وہ اصول کیا نظریہ ضرورت کی بھینٹ چڑھ گئے یا وہ سب دعوے جھوٹ تھے۔

پیر سے شروع ہونے والے قومی اجلاس میں ایم کیوایم اور جمعیت علمائے اسلام ف نے تحریک انصاف کے ارکان کے خلاف 40 روز سے زیادہ غیر حاضر رہنے پر ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک پیش کردیں، تاہم اسپیکر نے اس پر کاروائی ایک ہفتے تک موخر کردی، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے چار رکنی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی تاکہ ایم کیو ایم اور جے یو آئی ف کو منایا جاسکے، تاہم اب تک ایم کیو ایم اور جے یو آئی ف دونوں ہی جماعتیں تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے کے مطالبے سے پیچھے ہٹتی نظر نہیں آرہیں۔

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے مطابق2007 اور 1992 میں تو فوری طور پر استعفے قبول کر لیے گئے تھے، اب تحریک انصاف کو کیوں رعایت دی جارہی ہے، ہمارا اعتراض تحریک انصاف کی واپسی پر نہیں پر انہیں آئین کے حوالے سے مطمئن نہیں کیا جارہا۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف تحریک انصاف کے تمام مستعفی اراکین کو پارلیمنٹ سے نکال باہر کریں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی نے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو بھی چوہے بلی کا کھیل بنا دیا ہے، ایسے ارکان جو مستعفی ہوچکے ہیں ان کا پارلیمان میں بیٹھنا پارلیمنٹ کی توہین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے،پولیس اہلکاروں پر تشدد، لوگوں کی ہلاکت پر عمران خان اور ان کی جماعت پر قتل اقدام قتل اور غداری کے مقدمات قائم کئے جائیں۔

پی ٹی آئی بھی اپنے دفاع میں پیش پیش نظر آتی ہے شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ اسمبلیوں میں ان کی واپسی معاہدے کا حصہ ہے، معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ اگر اسمبلیاں بچ گئیں تو تحریک انصاف اسمبلیوں میں واپس آجائے گی، اگر حکومت رکن نہیں سمجھتی تو ہمیں فارغ کردے، ہمارے ضمیر مطمئن ہے۔ دوسری حکومت یہ چاہتی ہے کہ تمام جماعتیں پی ٹی آئی کی تمام تر غلطیاں الزامات بھلا کر انہیں ساتھ لے کر چلیں، حکومت اس وقت اپنے لیے مزید مشکلات نہیں چاہتی۔

پارلیمنٹ کی راہداریوں میں یہ گفتگو کی جارہی ہے کہ حکومت کہ قانون اور آئین کی بالادستی چاہتی ہے یا مک مکا کی سیاست۔ پی ٹی آئی نے خود استعفے دئیے تھے اب چور راستے سے پارلیمنٹ واپس آنا چاہتے ہیں،جس جماعت نے جمہوریت کی بساط لپٹنے کی کوشش کی انہیں اسمبلی میں بیٹھانا غیر آئینی ہے۔

یا تو پی ٹی آئی کے اراکین یہ خود کہیں کہ یہ استعفے انہوں نے نہیں دیئے یا کوئی ایسی شق بتائیں جس پر ان کے دوبارہ اسمبلی آنے میں کوئی قباحت نا ہو، جس اسمبلی کو جعلی کہتے تھے اس میں واپس آنے کے لیے اتنی بے تابی کیوں۔ حکومت کے رویے سے تو یہ عیاں ہے کہ نظریہ ضرورت کے تحت سیاست کی جارہی ہے اور حکومت پی ٹی آئی کو گھر بھیج کر اپنے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتی، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدے میں لکھا تھا کہ اگر جوڈیشل کمیشن میں انتخابات میں منظم دھاندلی ثابت نہیں ہوئی تو تحریک انصاف واپس اسمبلی میں آجائے گی، یعنی پی ٹی آئی کا یہ موقف غلط تھا جس کے پیچھے 126 دن کا دھرنا دے کر قوم کا وقت ضائع کیا، حکومت کو بھی اپنا کارڈ دھیان سے کھیلنے ہوں گے کہ وہ کس طرح سے معاملے کو حل کریں گے،جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو یہ سوچنا ہوگا کہ کون ہے جس نے پی ٹی آئی کو بند گلی میں پہنچایا ہے،جمہوری سیاسی معاملات اگر پہلے ہی پارلیمان میں حل کرلیے جاتے تو آج یوں نظریہ ضرورت اور مک مکا کی سیاست کا سہارا نا لیا جاتا۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang Twitter @javerias

 

Posted in human-rights, lifestyle, qandeel,, Uncategorized

اور قندیل بجھ گئی

 

اور قندیل بجھ گئی Share
Posted On Wednesday, July 20, 2016
جویریہ صدیق ۔۔۔۔ قندیل کسی کو بھی پسند نہیں تھی کسی کے لئے رول ماڈل نہیں تھی لیکن حیرت کی بات ہے وہ تیس سیکنڈ کی بھی وڈیو اپ لوڈ کرتی تھی تو کچھ ہی لمحوں میں ہزاروں ویوز سینکڑوں شئیرز اور کئی سو کمنٹس آجاتے تھے۔ہم ایک منافق قوم ہیں اس لئے سچ بولنے اور اس کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔گناہ کرنے سے باز نہیں آتے چھپ چھپ کر گناہ کرتے ہیں۔دوسروں کے سامنے پارسا بن کر انہیں برا ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔یہ قندیل کے ساتھ ہوتا تھا۔معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے افراد کی تعداد روانہ اس کے فیس بک انسٹاگرام اور ٹویٹر پر اس صرف اس لئے آتی کہ آج کیا مصالحہ دیکھنے کے لیے موجود ہے۔

پہلا طبقہ وہ جو چھپ کر اس کی ویڈیوز صرف اس لئے دیکھتے تھے کہ بعد میں اس کی اس بے باکی پر تبصرے کرسکیں اور اس کو ہماری معاشرتی قدروں کے منافی قرار دے سکیں لیکن دیکھتے تھے۔دوسرا طبقہ وہ ہے جو اس کے خدوخال دیکھ کر خوش ہوتا تھا اور جواز یہ پیش کرتا تھا کہ وہ دیکھاتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں حالانکہ وہ نظریں نیچی بھی کرسکتے تھے۔تیسرا طبقہ وہ تھا جو کہ اس کا فیس بک فین بھی تھا اس کی ویڈیوز بھی دیکھتا تھا لیکن کمنٹس میں اس کو فاحشہ بے غیرت لکھ کر اس کو مرنے کی بد دعا دیتا تھا۔

آخر میں ایک طبقہ وہ بھی تھا جو اس کے درد تکلیف محرومیوں کو سمجھتے ہوئے اس کی ان حرکتوں پر تاسف کا اظہار کرتا کہ پتہ نہیں پیچھے کیا درد ناک کہانی ہے جس نے اس لڑکی کو قندیل بنا دیا۔یہ طبقہ اس کی ویڈیوز بھی دیکھتا اسکو شییر بھی کرتا لیکن قندیل کی برایی نہیں کرتا تھا۔قندیل نے بہت کوشش کی کہ کس ہی طرح کوئی بڑا بریک مل جائے وہ بھی رات و رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جائے،ہر ٹی وی میگزین ریڈیو پر اس کا چرچا ہو۔ دولت اس کے گھر کی باندی ہو ۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا میڈیا نے اسکی بےباکی ،اداؤں، بے وقوفیوں کو کیش کروا کر ریٹنگز تو خوب لی لیکن قندیل کو کچھ نہیں دیا ۔

وہ اکثر مارنگ شوز میں ہونی والی شادیوں میں مہمان بن کر آتی تھی۔وہاں بھی اداکاروں کے ساتھ سلفیز ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ تاکہ کچھ فیس بک لائکس مل جائیں ۔پر کسی نے اسے کام نہیں دیا کیا وہ اتنی ٹیلینٹڈ بھی نہیں تھی کہ ایک میوزک شو ہوسٹ کرلیتی۔وہ بہت اچھی اداکارہ اور گلوکارہ بن سکتی تھی لیکن کسی نے موقع ہی نہیں دیا۔میڈیا اور معاشرے نے اسے اپنے اپنے حساب سے استعمال کیا ۔

جب قندیل نے دیکھا کہ کام تو اسکو نہیں مل رہا تو وہ مزید بے باک ہوگی اس نے سوچا اگر کپڑے مزید کم کردوں گی تو پڑوسی ملک میں تو کام مل جائے ۔اس دوران اس کے فیس بک فالورز کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئ۔لیکن فیس بک سے کہاں پیٹ بھرتا ہے اس کے لئے روٹی چاہیے ہوتی ہے۔مہنگے مہنگے ہوٹلوں کے کمروں سے قندیل کی ویڈیوز اپ لوڈ ہونا بہت سےغیرت مندوں کےمنہ پرطمانچہ ہیں۔

کسی نےبھی اسکی محرومیوں کا ازالہ نہیں کیا۔

پھر ایک دن ایک رپورٹر بریکنگ کی دوڑ میں اسکو پھر قندیل سے فوزیہ بنا گیا ۔جس جگہ سے نکلنے میں اس کو سالوں لگے ایک بار پھر وہاں کھڑی تھی۔وہ سچی تھی روتے ہوئے مان گئ کہ ہاں وہ فوزیہ عظیم ہے جس کی شادی کم عمری میں کردی گئ تھی ۔جہاں وہ اپنے جاہل شوہر سے روز مار کھاتی تھی۔اس سے تعلیم کا حق چھین لیا گیا۔بیٹا پیدا ہوا تب بھی حالات نہیں بدلے۔

روز ماں باپ کو کہتی کے مجھے واپس آنا ہے لیکن وہ کہتے اب تمہارا گھر وہ ہی ہے ۔ایک دن تشدد سے تنگ اکر وہ بھاگ کر دار الامان چلی گئ۔اس نے سب چیزوں کا اعتراف میڈیا کے سامنے کرلیا کہ وہ زندگی میں پڑھ لکھ کر آگے بڑھنا چاہتی تھی۔معاشرے نے اسے ڈاکٹر انجینئر پائلٹ تو نہیں بننے دیا لیکن ہوٹلوں کے کمروں سے ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والی قندیل بنا دیا۔جب تک وہ قندیل بلوچ تھی تو اس کی کمائی سے گھر والے بھی خوش تھے لیکن جس دن وہ فوزیہ عظیم کے طور پر میڈیا پر ابھری تو ایک بے غیرت بھائی کی غیرت جاگ گئی اور اس نے قندیل کا گلا گھونٹ کر اس کو مار دیا ۔نیند کی وادی سے قندیل موت کی وادی میں چلی گی۔

مرتے مرتے بھی میڈیا کو ریٹنگ دی گئی اس کا نام سی این این بی بی سی سے لے کر ہر غیر ملکی اور ملکی نشریاتی ادارے پر تھا۔بڑی شخصیت جنہوں نے اس کی زندگی میں اس سے ملنا یا بات تو دور کی بات ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا اس کے لئے تعزیتی پیغامات چھوڑے اس کے قتل کی مذمت کی۔اس کے لئے دعا کی گی اس کے لئے شمعیں روشن کی جب قندیل بجھ گئ۔

کوٴیی گناہگار نہیں سواٴے قندیل کے نا وہ ماں باپ جو اسے زندگی کی بنیادی سہولیات نا فراہم کرسکے نا وہ ریاست جس نے اس کو بنیادی تعلیم مفت دی نا ہی کم عمری کی شادی سے بچایا نا ہی وہ بھایی گناہگار جن کے ہوتے ہویے بھی اسے روٹی کپڑا مکان کے لیے اس کو قندیل بنانا پڑا۔ نا ہی وہ شوہر گناہ گار ہے جو روز اس کو مارتا تھا ۔نا ہی وہ لوگ گناہ گار ہیں جس نے اس کو میڈیا میں باعزت نوکری کے بجایے ہوٹل کے بند کمروں میں پہنچایا۔نا ہی وہ لوگ گناہ گار ہیں جو اس کی زندگی کی قیمت پر رینٹنگز کمارہے تھے۔نا ہی وہ لوگ مجرم ہیں جو اس کی ویڈیوز کے نیچے لکھتے تھے اسے مر جانا چاہیے لیکن یہ لکھنے سے پہلے آنکھ بھر کر اسکودیکھتے ضرور تھے۔سب پارساوں نے فوزیہ کو قندیل بنایا پھر اسے مار دیا یہ کہہ کر کہ بری عورت تھی۔

images (76)

Twitter @javerias

Posted in lifestyle, Uncategorized

خواتین کی عید شاپنگ اور بیچارے مرد

 

خواتین کی عید شاپنگ اور بیچارے مرد
Posted On Thursday, July 07, 2016
جویریہ صدیق ۔۔۔ عورتوں کے حقوق کے لئے تو بہت آواز اٹھائی جاتی ہے لیکن کبھی کسی نے مظلوم مردوں کے لیے بھی آواز اٹھائی ہے۔رمضان سے لے کر شعبان تک خواتین ان کی جیب تو صاف کرتی ہی کرتی ہیں لیکن ساتھ میں بیگار میں کام بھی کرواتی ہیں۔ایک تو پتہ نہیں کون بول گیا کہ

کہتے ہیں عید تو صرف بچوں اور عورتوں کی ہوتی ہے لیکن جس نے بھی یہ کہا ہے بلکل غلط کہا ہمیں کیوں بھول گئے ۔عید ہماری بھی تو ہوتی ہے لیکن اس عورتوں اور بچوں کی دنیا میں مردوں کی پرواہ کیسے ہے ۔ ان خواتین کی تیاری جو رمضان کے پہلے روزے سے شروع ہوتی ہے وہ چاند رات تک بھی ختم نہیں ہوتی۔سحر ی ہو افطاری لسٹ تیار “اجی سنتے ہیں ” بس یہ جملہ سن کر ہمیں اپنے بٹوے کا حجم سکڑتا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے۔پہلے عشرے میں نیک بخت کہتی ہیں آخری عشرہ تو بلکل خریداری میں مصروف ہوکر ضائع نہیں کیا جاسکتا اس لئے آپ پہلے عشرے میں ہی عید کی شاپنگ کروادیں۔

ہم بھی بھولے پن میں آکر سحری افطاری میں ایک نیک سعادت مند شوہر کی طرح انہیں بازاروں اور مالز میں لے جاتے ہیں۔بعض اوقات روزے کی حالت میں بھی ہم یہ شاپنگ کا کشت کاٹتے ہیں۔ برینڈڈ لان کی دوکانوں پر ایسے رش ہوتا ہے جیسے مفت لان بانٹ رہی ہوں۔ایک قیمض جس کے ساتھ نا ڈوپٹہ نا شلوار قیمت چار ہزار ہم نے دوکاندار کو کہا کیوں میاں اس پر ہیرے موتی لگے ہیں ۔وہ کہنا لگا اس پرتین کرسٹل کی بٹن لگیں ہیں اس وجہ سےیہ چار ہزار کاہے۔

بیگم نے کہا ہم نے تو یہ ہی شرٹ لینی ہے ۔مجھ غریب نے دل میں سوچا پھر سوچ کر کہا خرید لو یہ قمیض بیگم آگے چل کر ہاتھ تنگ ہوا تو یہ ہی بٹن قمیض سے اتار کر بیچ دیں گے ۔بیگم نے سختی سے ہمارا گھٹیا آئیڈیا جھڑک دیا۔

چارہزار کی قمیض کے بعد میچنگ ٹراوز 2 ہزار ڈوپٹہ کے نام پر ایک پھندہ نما چیز 1500 میں خریدنے کے بعد بیگم خراماں خراماں جوتوں کی دوکان کی طرف بڑھنے لگی ۔جوتے دو ہزار سے شروع ہوکر 20 ہزار پر ختم ہورہے تھے ۔بس خاکسار اس ہی وقت دعا کرنے لگ گیا مہنگے جوتوں میں سائز ہی نا ہو ۔سینکڑوں جوتے نکلوانے کے بعد جب غریب سیلز مین بے ہوش ہونے کے قریب تھا تب شاید بیگم کو اس پر ترس آگیا اور ایک تین ہزار کی جوتی پسند کرلی۔بیگم اب تک مجھے کئی ہزار روپے کی پڑ چکی تھیں۔

میری طبعیت کچھ مکدر سی ہونی لگے دل ڈوبنے لگا مجھے احساس ہونے لگے کہہ آخر مرد ہارٹ اٹیک سے ہی کیوں مرتے ہیں ۔

ہم نے مریل سی آواز میں کہا بیگم آو گھر چلیں باقی شاپنگ کسی اور دن کر لینا کہنے لگی اب آئیں ہیں تو بچوں کی چیزیں بھی خرید کر جائیں گے میں نے میک اپ اور جیولری بھی خریدنی ہے ۔ایک دوکان سے دوسری ایک منزل سے دوسری منزل کسی نے خادم یعنی ہمیں پوچھا تک نہیں کہ ایک سوٹ چپل تم بھی خرید لو۔

گھر آکر سکون کا سانس لیا چلو شاپنگ ختم اب سارا رمضان آرام سے گزرے گا لیکن اگلے ہی دن معلوم ہوا کہ وہ تو عید کے پہلے دن کی شاپنگ تھی اب تو دو دن کے لئے مزید چیزیں خریدنی ہیں ۔ہم نے درخواست بھی کی بیگم کچھ اعتدال سے چلیں پھر وہ ہی آنسو میکے جانے کی دھمکی اپنے والد صاحب کی امیری کے قصے ۔کیا کرتے پھر چپ کرکے بازار چل پڑے شوہر کی تے نخرہ کی۔

بیگم نے کچھ ان سلے سوٹ خریدے باقی بچوں کی شاپنگ۔ہم نے گزارش کی بیگم کچھ ہمارے لئے بھی خرید لیں تو کہا درزی کو لٹھا خرید دیا تھا وہ آپ کا کرتا بنا دے اور چپل زیادہ مہنگی نہیں لینی ایسی ہی مسجد کے باہر گم گئ سیل سے خرید دو گی۔

ہم بس مرجھا کر رہے گئے ہماری اماں کس چاہ سے ہمیں تیار کرتی تھیں پر بیگم کے سامنے منہ بند رکھنے پر ہی اکتفا کیا۔اس کے بعد بھی تابعدار کی سختی میں کمی نہیں آئی۔ہر روز حکم ماسٹر صاحب سے میرے کپڑوں کا ضرور پتہ کرلینا ۔،کبھی پیکو، کبھی ہم رنگ گوٹا کناری سب کام ہمارے ہی ذمہ داری۔گرمی کے روزے اور بیگم کے نخرے چاند نکلنے کا اعلان ہوا تو خوشی دگنی ہوگی۔چلو آج کچھ باہر رونق میلا دیکھ کر آتے ہیں۔

ارے یہ کیا عید کا چاند کیا نظر آیا یہ تو گھر کے کام چھوڑ پھر شیشہ سنبھال کہ کھڑی ہوگئ بچے اور ہم بھوکے بیٹھے پر ان پر چاند رات کو بازار جانا فرض ہے۔ہم اگر تھوڑی ہمت جمع کرکے پوچھ بھی لیں کہ بیگم وہ سارا رمضان جو ہم آپ کو سحری اور افطاری کے اوقات میں بازار کے چکر لگواتے رہے وہ کیا تھا ؟ تو بس یہ سننے کی دیر ہوگی کہ وہ رونا دھونا شروع ہوگا کہ اللہ کی پناہ ہائَے جب سے آپ کے گھر آئی ہو ں ملازمہ بن کر رہ گی ہوں ۔میرے تو اتنے رشتے آئے تھے ہائے اماں ابا نے کنگال اور کنجوس کے پلے باندھ دیا ۔

ہمارے پاس اس گھریلو جنگ کو ختم کرانے کا ایک ہی آپشن ہے کہ بیگم کو پھر بازار لئے جائیں گھر سے نکلیں تو سب سے پہلے یہ درزی کے پاس جایں گے روئیں دھویں گی سوٹ نا تیار ہونے پر اس کو سخت سست کہہ کر کسی ڈیزائنر سٹور سے ریڈی میڈ سوٹ لے کر چاٹ کھا کر چوڑیاں پہن کر مہندی لگا جب یہ شاپنگ مال سے برآمد ہوتی ہیں تو ہمارا بچوں کو سنبھال سنبھال کر تراہ نکل گیا ہوتا لیکن ہم امن و امان کے پیش نظر زبان بندی پر ہی یقین رکھتے ہیں۔

آخرکار اپ ٹو 50 فیصد سیل والی دوکان سے ہمیں ایک عدد شلوار سوٹ اور جوتا مل ہی جاتا ہے۔ ان تمام ترچاند رات کی ستم ظریفوں کے بعد جب ہم رات کے دو تین بجے گھر پہنچتے ہیں تو خود مہندی والے ہاتھ لئے بیٹھ جاتی ہیں اور سارے کام ہمارے زمے۔ کچھ دیر ہی کمر سیدھی کی ہوتی ہے کہ بیگم کی چنگاڑتی آواز آتی نماز روزے کا تو شوق نہیں اٹھ جائیں عید کی نماز نہیں پڑھنی ۔ہم آنکھیں ملتے ملتے اٹھ جاتے ہیں اور مسجد جاکر اپنے جیسے مظلوم بھائیوں کو بغل گیر ہوکر کہتے ہیں عید مبارک

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Twitter @javerias

Posted in Pakistan, Uncategorized, ZarbeAzb

بچوں کے کھلونے ٹوٹ گئے

بچوں کے کھلونے ٹوٹ گئے
Posted On Monday, March 28, 2016
۔۔۔ جویریہ صدیق ۔۔۔۔ کل پھر عالم برزخ میں معصوم نہتے پاکستانی بچوں کا ایک غول اڑ کر پہنچا ۔یہ معصوم سوچ رہے ہیں ہم تو پارک میں مزے سے جھولے لئے رہے تھے ابھی تو پاپ کارن ، بھنے چنے ،برگر ،آئیس کریم اور میٹھے لچھے کھانا باقی تھے ۔ابھی تو کشتی کی سیر کرنی تھی چڑیا گھر بھی جانا تھا پر ایک زور دار آواز کے بعد ہم سب بچے رونے لگے پھر ہم یکدم یہاں کیسے آگئے امی ابو کہاں گئے۔

ایک بچہ دوسرے بچے سے کہنے لگا میں نے کوئی ضد بھی نہیں کی تھی نا کسی چیز کی فرمائش پھر بھی ہم یہاں کیسے آگئے۔دوسرے بچے نے کہا میرے امتحان ابھی ختم ہوئے تھے 31 مارچ کو میرا نتیجہ آنا تھا میں تو خود فرمائش کرکے پارک آیا تھا کیونکہ میں نے ماما پاپا کو بتا دیا تھا کلاس میں اس بار میں ہی فرسٹ آوں گا۔ میں گلشن اقبال پارک آیا خوب کشتی کی سیر پھر یکدم دھماکہ ہوا ہر طرف شور آگ اور مٹی کا طوفان پھر مجھے کچھ یاد نہیں۔دہشت گرد گندے ہیں وہ کبھی ہمارے سکولوں تو کبھی پارکوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

تیسرا بچہ بولا جب میں بڑے گول والے ویل میں بیٹھا تھا تو سب کچھ کتنا اچھا لگ رہا تھا جب جھولا یکدم نیچے آتا تو مجھے کتنا ڈر لگتا لیکن نیچے ہاتھ ہلاتے امی ابو کو دیکھ کر میں بہادر بننے کی کوشش کرتا اور چہرے پر خوف کو طاری نا ہونے دیتا کیونکہ میں خود فرمائش کرکے گلشن اقبال پارک جو آیا تھا۔مجھے معلوم تھا امی ابو مجھے مالز میں بنے مہنگے انڈور پارکس میں نہیں لئے کر جاسکتے وہاں جھولوں کے ٹکٹ مہنگے جو ہوئے۔

آج اتوار کا دن تھا اور ایسٹر بھی میری طرح بہت بچے پارک میں مزے کر رہے تھے۔کوئی جھولے لئے رہا تھا کوئی دوڑ لگا رہا تھا تو کوئی مزے مزے کی چیزیں کھا رہا تھا۔ہم سب خوشی سے کبھی ایک جھولے تو دوسرے جھولے پر جارہے تھے۔بس یکدم ایک آواز آئی ہر طرف چیخ و پکار مچ گئ ۔میرے سارے پسندیدہ جھولے ٹوٹ گئے۔جو دوست میں نے پارک میں آکر بنائے تھے وہ سب خون سے نہا گئے۔مجھے امی ابو بھی نہیں مل رہے تھے اور میں کب یہاں پہنچ گیا معلوم نہیں۔

ان لاہور کے بچوں کے پاس اے پی ایس پشاور کے بچے آکر پوچھنے لگے ہم تو سمجھ رہے تھے کہ ہماری قربانی کے بعد شاید پاکستان میں آگ و خون کا کھیل رک گیا ہوگا ۔شاید ہمارے جانے کے بعد انکل نواز نے انکل راحیل اور انکل عمران کے ساتھ مل کر دہشتگردی کا خاتمہ کردیا ہوگیا۔کیا آج بھی پاکستانی متحد نہیں کیا آج بھی دہشتگردوں کو اچھے برے کی تفریق سے جانا جاتا ہے۔کیا آج بھی دہشتگرد ہمارے معصوم بچوں کو نشانہ بناریے ہیں۔

لاہور اور پشاور کے شہید بچے پھر سسکتے ہوئے دعا کرنے لگے کہ اے اللہ پاکستانیوں کی صفوں میں اتحاد پیدا کر۔ پاکستانی اپنے اصل دشمنوں کو پہچان سکیں اور اپنے بچوں کو دہشتگردی سے محفوظ رکھ سکیں ۔پھر کوئی والدین اپنے بچوں کو دہشتگردی میں ہمیشہ کے لئے کھو دینے کے کرب سے نا گزرے جس سے ہمارے والدین گزر رہے ہیں۔پھر کبھی کسی بچے کا بستہ خون سے تر نا ہو پھر کسی بچے کے پسندیدہ جھولے نا ٹوٹیں ۔ آمین