Posted in Javeria Siddique, Pakistan, Uncategorized

راج دلارا

راج دلارا

جویریہ صدیق

o-father-son24-facebook

بس میری شروع سے خواہش تھی کہ پہلا تو بیٹا ہی ہونا چاہیے ۔بات یہ نہیں تھی کہ مجھے بیٹوں سے نفرت تھی ۔لیکن نسل چلانے کے لئے بھی کوئی ہونا چاہیے ۔رقیہ جب امید سے تھی تو میں نے صاف کہہ دیا مجھے تو پہلا بیٹا چاہیے وہ چپ کرکے میری بات سنتی رہی ۔ویسے بھی ہمارے معاشرے میں مرد صرف بولنے اور عورت صرف سننے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔میں تو خوشی سے نہال تھا جیسے جیسے دن قریب آرہے تھے۔اتوار بازار سے کتنے ہی کھلونے لئے آیا نیلے کالے سفید رنگ کے کپڑے بھی ۔گھر جاتے وقت کبھی دودھ ربڑی لئے جاتا تو کبھی چکن کڑاہی نان۔رقیہ بھی اپنے نصیب پر نازاں تھی کہ مجھ جیسا اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا ۔آخر وہ گھڑی آن پہنچی میں دائی نسرین کو لئے آیا اور خود بے صبری سے باہر انتظار کرنے لگا۔رقیہ کا چیخیں مجھے بے چین کررہی تھیں ۔میں بھاگ کر گلی کی نکڑ والی مسجد میں چلا گیا اور رونے لگا مولوی صاحب مجھے آکر تسلی دینے لگے ۔دل کا بوجھ ہلکا کرکے میں گھر لوٹا تو رقیہ درد سے اب بھی چلا رہی تھی۔میں نے دائی سے پوچھا خطرے کی کوئی بات نہیں انہوں نے کہا کچھ نہیں ہوتا تم فکر نا کروشوکت ۔

کچھ دیر میں رقیہ کی آواز خاموش ہوئی اور بچے کی رونے کی آواز آنے لگی۔میں تو خوشی سے نہال ہوگیا ۔میرا راج دلارا جو آگیا تھا ۔دائی میرے سامنے کپڑے میں لپیٹ کر لائی اور مجھے مبارک دی مبارک ہو راج دلاری آئی ہے مبارک ہو شوکت تیرے گھر اللہ کی رحمت آئی ہے۔

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے مجھے بیٹا چاہئے تھا یہ منحوس بیٹی کہاں سے پیدا ہوگئ۔مجھے بیٹا چاہیے تھا ۔دائی کو دل پر پتھر رکھ کر پیسے اور تحائف کے ساتھ رخصت کیا۔اندر گیا تو رقیہ میری منتظر تھی میں نے کپڑے دھونے والا ڈنڈا اٹھایا اسکو کو مارنا شروع کردیا ۔وہ تو شاید میری طرف شفقت محبت کی طالب گار تھی۔وہ حیران ہی رہ گئ ۔میرا دل کررہا تھا اس منحوس اور اسکی پیدا کی ہوئی لڑکی کا گلا دبا دوں ۔میرے ماں بیچ میں آگیی اس نے میری بیوی کو مار سے بچایا۔

میرا غصہ پھر بھی کم نہیں ہوا میں نے صحن میں لگے تندور میں کپڑے اور کھلونے جلا دیے ۔میری اماں بہت منع کرتی رہی بس نفرت غصے کی آگ میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا

مسجد میں مولوی صاحب نے مجھے بہت سمجھایا بیٹی اللہ کی رحمت ہے ۔بیٹوں کی احسن طریقے سے پرورش کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے ۔اس کے بعد میں خاموش ہوگیا اور سمجھوتہ کرلیا۔گھر کا ماحول بلکل بدل گیا ۔رقیہ جہاں ہنسا بولا کرتی تھی اب کسی مشین کی ماند کام کرتی رہتی تھی۔بیٹی کو مجھ سے دور رکھتی اور رات کو اس کو اماں کی کمرے سلاتی ۔

رقیہ اور میری اماں نے اس کا نام مریم رکھا ۔مریم دو سال کی ہوئی ۔تو ہمارے گھر میں پھر ننھے مہمان کی آمد

کی نوید ہوئی ۔میں نے ہر وقت دعا شروع کردی ۔اس بار بیٹا ہو۔میں رقیہ کے بہت ناز اٹھاتا وہ بہت سہمی ہوئی رہتی تھی۔شاید ایسے یقین نہیں تھا کہ اس بار بیٹا ہو۔

اس بار بھی وہ ہوا ایک اور بیٹی پیدا ہوئی۔میں نے رقیہ مریم دونوں کو بہت مارا ۔ڈھائی سال کی مریم روتی رہی ۔ہمیں نا مارو۔ہمیں نا مارو ۔پر میرے اندر کا شیطان کا روکنے کو نہیں آرہا تھا۔میری ماں نے مجھے بہت مشکل سے روکا ۔میں پورے ایک ہفتے گھر سے غائب رہا ۔مجھے رقیہ اور اسکی پیدا کی ہوئی بیٹوں سے نفرت ہورہی تھی۔

میرے رشتہ دار مجھے سمجھا کر واپس گھر لئے آئے۔اماں نے بیٹی کا نام زینب رکھا ۔گھر میں شیرینی بنا کر محلے میں بانٹ دی۔

مجھے سب چیزوں سے نفرت ہوتی جارہی تھی۔جب دایی نسرین نے بتایا رقیہ ایک پھر پیٹ سے ہے ۔میں نے سوچا میں گاوں سے لاہور چلا جاو۔وہاں سے کما کر بھیجتا رہوں کم از مجھے ان عورتوں کا منہ نہیں دیکھنا پڑے گا۔

ٹھیک سات ماہ بعد ماں نے مجھے خط بھیجا کہ میرے گھر بیٹا ہوا۔مجھے لگا کسی نے مذاق کیا۔رفیق کی دوکان فون کیا اور پوچھا کیا واقعی ہی ایسا ہے گھر سے پتہ کرے۔تھوڑی میں رفیق کا ٹیلی فون آیا دوسری طرف ماں کی ہانپتی ہوئی آواز آئی مبارک  ہوتیرا بیٹا ہوا ہےچل واپس آ اسکا نام رکھ عقیقہ کر۔میں نے لاہور میں کام ختم کیا۔بچے کے لئے بہت سارے کھلونے کپڑے سونے کی ایک انگوٹھی خریدی ۔

گھر آیا تو اماں رقیہ اور بیٹیاں مجھے دیکھ کر بہت خوشی ہوئیں ۔بیٹیاں میری طرف دیوانہ وار لپکی میں نے جھٹکے سے پیچھا کیا دفع ہو جاو اپنی منحوس شکلیں مجھے نا دیکھاو۔وہ ڈر کر چھپ گئ۔

میں نے اپنے بیٹا کو گود میں لیا اور وہ ناچا کہ وہ پیسے وارے ۔اس کے عقیقے میں 4 بکرے کٹوائے وہ دعوت چلی کہ پورے گاوں نے نہیں دیکھی تھی ۔

بیٹے کا نام شان شوکت رکھا وقت گزرتا گیا میں نے ہر موقع پر بیٹوں کو ہر موقعے پر دھتکارا اور بیٹے کو آگے آگے رکھا۔گھر میں گوشت صرف میرے اور شان کے لئے پکتا رقیہ زینب مریم دال کھاتی۔شان خود سر ہوتا رہا میں اس کی جوانی کو دیکھ کر اتراتا ۔بیٹوں کو تو مڈل کے بعد میں نے سکول نہیں جانے دیا ۔گھر میں سلائی کڑھائی میں لگا دیا۔شان کو پڑھنے لاہور بھیج دیا ۔

اس کی کمپیوٹر میں ڈگری مکمل ہوئی جاب بھی لگ گی مجھے لگا دن پھیرنے کو ہیں اب میں بھی گھر پر آرام کروں گا ۔پر شان ڈگری کے ساتھ بہو بھی لئے آیا مجھے بہت غصہ آیا اس نے میرے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ۔میں نے سوچا کوئی بات نہیں جوان خون ہے بہک گیا ۔شادی ہی کی ہے کوئی گناہ تو نہیں ۔میں نے دھوم دھام سے ولیمہ کیا لوگوں نے بہت باتیں کی لیکن میں پرواہ نہیں کہ بیٹیاں ابھی بیٹھی ہیں اور میں نے بیٹے کی شادی پہلے کردی۔

شان نے جب کہا کہ وہ اب گاؤں نہیں رہے گا اور لاہور میں رہے گا ۔تو میرا دل ٹوٹ سے سا گیا ۔چند دن میں وہ واپس چلا گیا ۔

میں رقیہ کو لے کر لاہور بھی گیا پر وہ اتنی گرمجوشی سے نہیں ملا ۔اس کی بیوی نے بھی ہماری خاص عزت نہیں کی مجھے بہت افسوس ہوا ایسا لگا دل میں کچھ چبھ سا گیا ہے ۔

گاؤں آتے ہی فالج نے مجھے آن لیا۔رقیہ نے لاہور بہت فون کیے لیکن نوکروں نے بتایا شان صاحب اپنی بیگ

کے ساتھ دبی گئے ہوئے ہیں ۔میں تڑپ رہا تھا اور میرا راج دلارا میرے پاس نہیں تھا ۔مریم اور زینب ڈرتے ڈرتے میری تیمار داری کرتیں ۔مجھے دوائی دینا میری مالش کرنا میرے منہ میں نرم غذا ڈالنا۔یہ دونوں وہ ہی تھیں جن کو میں نے منحوس چڑیلیں کہا تھا ۔جن کے پیدا ہونے پر میں انہیں مارنا چاہا تھا ۔میری وہ بیوی جس کو میں ڈنڈے سے مارا کرتا تھا خود میرا لباس تبدیل کرواتی مجھے صاف کرتی۔میں ندامت سے گڑ جاتا ۔

ایک مہینے بعد جب شان لوٹا تو مجھے فون کرکے خیریت دریافت کی اور تب بھی ملنے نہیں آیا ۔میرے راج دلارے کے پاس میرے لئے وقت نہیں تھا۔میں جس کو ہمیشہ پیار دیا لاڈ دیا وہ تو نہیں آیا۔پر اللہ کی رحمت میری بیٹوں نےمیرے تمام زخموں کو بھر دیا۔میں نے ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگی وہ رونے لگیں اور میرے گلے لگ گئ

Javeria Siddique is a Journalist , Author and Photographer

Twitter @javerias

https://www.facebook.com/OfficialJaverias/

575d63910d6a9

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

2 thoughts on “راج دلارا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s