Posted in Uncategorized

بجلی اور پاکستانی

20170419_134338

یہ آرٹیکل 2013 میں لکھا گیا تھا آج 2017 میں بھی

صورتحال وہ ہی ہے :/ 

جویریہ صدیق 

میرخیال ہے پاکستان میں سب سے زیادہ بولے جانے والا

 لفظ آج کل بجلی ہے ۔۔۔۔

یہ بجلی کیا ہوتی ہے ۔۔۔

یہ بجلی کب آئے گی ۔۔۔

صبح سات بجے پاکستان

 ہو ہائے امی  امی  بجلی چلی گی ۔۔۔  میں سکول کیسے جا سکوں گا ۔۔ ارے پپو دیکھ تو سہی بجلی  ہماری ہی گی ہے یا پورے محلے کی ؟؟؟؟ ۔۔ اماں نہیں سب کی گئی ہے۔۔ پپو  اماں اماں  بجلی کب آیے گی ؟؟؟ اے موئے میرا سر نا کہا تیرا نانا کیا وزارت پانی بجلی میں ہے مجھے کیا پتہ ۔۔ جا اپنے باپ سے پوچھ ۔۔۔ پپو ابا ابا بجلی کب آیے گی ؟؟؟ پپو اپنی ماں سے پوچھ میرے کپڑے استر ی ہیں یا نہیں ؟؟ پپو ؛ ابا بجلی نہیں ہے  ۔۔۔چلو کویی بات نہیں میں کچھ کرتا ہوں کویی ایسے کپڑے پہن لیتا ہوں جن کو استری کا ضرورت نا ہو۔۔۔۔ یا آگ کی تپش سے استری گرم کرلیتا ۔ ہائےگیس بھی نہیں آرہی   ۔۔۔۔۔۔ورنہ ارے او بیگم غسل خانے میں پانی نہیں ۔۔ جی مجازی خدا صاحب بجلی نہیں ہے ارے تو جاو بالٹیاں ہی بھر لاو  ۔۔  کیا کیا ان بجلی والوں کی تو ۔۔۔۔۔۔ ٹوں ٹوں سنسر

 ﴿ اپنے اپنے شہر کے مطابق ادارے کا نام وغیرہ وغیرہ استمعال کرسکتے ہیں﴾

یہ تھا قیامت خیز پاکستانی صبح کا منظر

دوپہر کا منظرنامہ

ہاے صبح سات بجے سے لایٹ گی  ۔ اما ں کھانے میں کیا بنا ہے ارے بچوں صبح سے گیس ہے نا بجلی کیا بناتی میں ارے راجو بیٹا جا پاس والے تندور سے کچھ لے کر آجا ۔۔۔۔ اماں اتنی گرمی ہے پیدل باہر گیا نا تو سن اسٹروک ہوجائے گا۔کیا اول فول بک رہا ہے۔گیلا تولیہ سر پر رکھ سائیکل پر جا کچھ کھانے کا سامان تو ہو اور سن پپو کو بھی لے جا پاس والے ٹیوب ویل سے پانی کی بالٹیاں بھی بھر لانا گھر میں پانی کی ایک بوند بھی نہیں ۔۔۔

ہاے ہاے کب آیے گی لایٹ؟؟؟؟

شام کا منظر

پپو اماں سے ۔۔۔۔ اماں اماں لایٹ اگی ۔ چلو میرا یورینفام اور ابا کے کپڑے استری کردو پیاری اماں ، نا تجھے کپڑوں کی پڑی ہویی ہے جا جاکہ پانی کی موٹر چلا کویی منہ دھونے کا پانی تو ہو

بیگم لو میں گھر آگیا ارے یہ گھر کی کیا حالت بنا رکھی ہے۔آپ کو صبح سات سے شام تک بنا بجلی رہنا پڑتا تو میں پوچھتی کہ کون سے گھر کے کام اور کون سا گھر جلدی کریں نہا لیں میں چاے لاتی ہوں بھر بجلی نا چلی جاے۔پانی تو پلا دو گھر میں ٹھنڈا پانی نہیں ہے۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے یہ بجلی والے ہمیں دوزخ کی تیاری دنیا میں ہی کروارہے ہیں۔جلدی کرو موبائیل بھی چارجنگ پر لگاو۔استری والے کپڑے نکالو ۔میں ایسا کرتی ہوں واشنگ مشین لگا لیتی ہوں ۔

رات کا وقت پاکستان میں ہر جگہ

بات سنیں مجھے تو بس ٹی وی پر فواد خان ماہرہ کو دیکھنا ہے ۔۔۔۔۔ بیگم دیکھو مجھے خبرنامہ دیکھنا ضد مت کرو ۔۔۔۔۔ ابا کیا ہے آپ لوگوں کو مجھے ریموٹ دیں مجھے میچ دیکھنا ہے

او او

بجلی چلی گی

بجلی کب آیے گی ؟؟؟؟

ابا ایک سستا سا یو پی ایس ہی لیے لیں اگر ہمارے بھی پانامہ میں اکاونٹس ہوتے تو آج ہی جنریٹر خرید لاتا۔

آپ کو تو ہمارا خیال ہی نہیں

ارے پپودیکھ تو سہی

صرف ہماری بجلی  گی ہے یا سب کی

اماں نا ہماری نا ان کی پورے پاکستان کی

ٹوں ٹوں ۔۔۔ ٹوں ٹوں 

Advertisements
Posted in Uncategorized

Street Children in Pakistan.

FB_IMG_1492001312096

اسٹریٹ چلڈرن یا گلی کوچوں میں بچوں کی دو اقسام ہیں ۔
1)گلی کوچوں کے بچے
یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کا گھر ہوتا ہے لیکن یہ گلیوں میں پھر کر پیسے کماتے ہیں ۔
2)‏گلی کوچوں میں بچے
یہ وہ بچے ہیں جن کا گھر بار نہیں ہوتا یا وہ خاندان سے نکالے جاتے ہیں وہ گلیوں کو ہی اپنا گھر سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں 2۔1 سے 5۔1 ملین بچے گلی کوچوں میں رہتے ہیں ۔یہ بچے زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔یہ بچے اکثر جنسی زیادتی کا بھی شکار ہوجاتے ہیں ۔حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لئے دعوے تو بہت کرتی ہے لیکن عملی طور پر اس کا فقدان نظر آتا ہے۔

حکومت،این جی اوز،مخیر حضرات سب مل کر ہی بچوں کوانکا بچپن لوٹا سکتے ہیں کسی بھی انسان کے لیے سب سے خوبصورت دور اس کا بچپن ہوتا ہے اس لیے ہمیں اپنے اردگرد بہت سے انسانوں کے اس خوبصورت دور کو بد صورت ہونے سے روکنا ہے۔بچوں پر ظلم و زیادتی،بچوں کو غلام بنانا،بچوں سے بد فعلی،جسمانی سزایں،جسم فروشی اور دہشت گردی میں بچوں کا استعمال ان کی آنے والی زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے اور بہت سے بچے اس باعث اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اس لیے ہم سب کو مل کر ان کے لیے کام کرنا ہوگا ۔صرف حکومت کا اقدامات سے ہم ان مسایل کو قابو نہیں  کرسکتے ابھی اٹھیں اپنے گھر دفتر یا دوکان میں کام کرتے ہویے بچے کا ہاتھ نرمی سےروک کر اس میں کتاب پکڑا دیں

The number of street children in Pakistan is estimated to be between 1.2 million and 1.5 million.FB_IMG_1492001279973

FB_IMG_1492001342927

Posted in Uncategorized

ننھی پاکستانی کا سفاک قتل

20170409_203149

جویریہ صدیق 

مجھے نہیں معلوم اس ننھی بے نام بچی کا قصور کیا تھا لیکن وہ ہرگز گناہگار نہیں تھی ۔ وہ تو معصوم تھی جینے کا حق رکھتی تھی لیکن یہ حق اس سے چھین لیا گیا ۔وہ جس وقت اپنی ماں کے وجود کا حصہ بنی تو وہ عورت اس خوشخبری سے خوش نہیں تھی کیونکہ وہ اس بچی کے باپ کی بیوی نہیں تھی ۔ دونوں لڑتے رہے ہوں گے اسکو مارنے کے منصوبے بناتے رہے ہوں گے ۔ وہ بچی اندر ہی اندر کتنی خوفزدہ ہوتی ہوگی کہ کس بھی وقت اس کے سفاک ماں باپ اس سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے۔ڈاکٹر کے پاس بھی گئے ہوں گے تو کسی فرشتہ صفت ڈاکٹر نے قتل کرنے سے انکار کردیا ہوگا اور اس بچی کے ماں باپ کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا ہوگیا ۔وقتی طور پر تو وہ دونوں خاموش ہوگئے ہوں گے لیکن پھر ایک بار بچی کو مارنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے گئے ہوں کبھی ادویات ، کبھی دیسی ٹوٹکے کبھی دائیوں کے پاس تو کبھی حکیموں یا چھوٹے کلینکس پرپاس گئے ہوں ۔یہ سب حربے جب آزمائے گئے ہوں گے تو ننھی منی پر کتنا تکلیف دہ اثر پڑتا ہوگا  ۔ماں کے رحم میں وہ اکثر یہ سوچتی ہوگی کہ میں نے ایسا کون سے گناہ کردیا ہے جس کی وجہ سے میری ماں مجھے سے اتنی نفرت کرتی ہے اور مجھے مارنا چاہتی ہے ۔وقت گزرتا گیا تمام تر مارنے کی کوششوں کے باوجود وہ زندہ بچ گئ اور اسکی پیدائش ہوئی ۔وہ بہت صحت مند اور خوبصورت تھی ۔ گہرے کالے بال،  سانولی رنگت اور بڑی بڑی آنکھوں میں بہت سے خواب تھے۔وہ زور زور سے ہاتھ پاوں ہلارہی ہوگی ۔اپنی ماں کو پکار رہی ہوگی مجھے سینے سے لگا لو۔

پر ظالم ماں نے دیکھنا بھی پسند نہیں کیا کیونکہ اس کے سفاک باپ نے جو اسکو اپنایا نہیں ۔پھر اسکو ایک رازدار شخص کے حوالے کردیا گیا یا وہ ماں باپ میں سے خود کوئی ایک تھا جوکہ اس کو گلستان جوہر کراچی میں پھینک گیا۔پھینکنے سے پہلے اس پر تشدد کیا گیا اس کی ہڈیاں تک توڑ دی گئ۔ننھی بہت بلک بلک کر روئی ہوگی دودھ مانگتی رہی ہوگی، ماں کی گرم آغوش مانگ رہی ہوگی، باپ کی شفقت کے لئے تڑپتی ہوگی لیکن اسکو ویرانے میں مرنے کے لیے پھینک دیا گیا ۔
ننھی کا دل ضرور ضرور سے دھڑک رہا ہوگا کہ یہ کیا ہوا ماں کی کوکھ اور یہ زمیں و آسمان دونوں میرے لئے تنگ کیوں کردئے گئے ۔بہت روئی ہوگی مدد کے لئے پکارتی رہی ہوگی لیکن کوئی انسان نہیں آیا ۔وہ تین گھنٹے کی ننھی پاکستانی بے لباس کچرے میں پڑی رہی فرش سے عرش کانپ گیا انسانیت شرما گی لیکن انسانوں کو شرم نہیں آئی ۔
 بہت سارے کتے اس کے گرد جمع ہوگئے ۔اسکو سمجھ نہیں آرہا ہوگا انسان زیادہ خطرناک ہیں یا یہ کتے ۔اسکو کتے  نوچتے گئے۔وہ صرف تین گھنٹے کی تھی کتنی مزاحمت کرتی سانس اکھڑنے لگی کہ اچانک ایک فرشتہ صفت انسان منہاس احمد نے اسکو ان کتوں کی چنگل سے آزاد کروایا ۔یہ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری محبت بھرا لمس تھا جوکہ اس نے محسوس کیا ہوگا۔منہاس احمد ننھی کے لئے فکر مند تھا اس نے ننھی پاکستانی کو وقت ضائع کئے بنا چھیپا ویلفیئر ٹرسٹ کے حوالے کیا اور وہ اسے لےکر ہسپتال پہنچے۔ڈاکٹر ابراہیم بخاری نے اس معصوم کے زخم صاف کئے نرم بستر پر لٹایا اس کی جان بچانے کی پوری کوشش کی ۔ننھی پاکستانی بہت بہادر تھی موت سے بہت دیر لڑتی رہی لیکن ہوس زدہ معاشرے کے انسانوں نے اس کی روح اور کتوں نے اس کے گوشت اور ہڈیوں کو بھنبھوڑ کررکھ دیا تھا ۔اس کی سانس اکھڑنے لگی اور زندگی کے بارہویں گھنٹے میں وہ دم توڑ گئ۔
 یہ ہمارے معاشرے کی حقیقت ہے یہ پاکستان کی حقیقت ہے۔۔ ایک ماں یا باپ بچی کو ویرانے میں کیوں پھینک گئے تھے اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ بچی بغیر نکاح کے پیدا ہوئی ہوگی ۔یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے کیا واقعی ہی اس ریاست میں لوگوں کو مذہب اور قوانین سے کوئی سروکار نہیں ۔کیا لوگ واقعی ہی یہاں یہ نہیں جانتے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔بنا نکاح کے ازدواجی تعلقات رکھنے میں لوگوں کو اخلاقیات اور مذہبی قوانین نہیں یاد آتے ۔لیکن ان ہی ناجائز تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والا معصوم بچہ سب کو ناجائز گناہ گار لگنے لگتا ہے۔
کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کیا معلوم کہ ماں باپ نے غربت کی وجہ سے ایسا کیا ہو یا انہیں بیٹیوں سے نفرت ہو ۔نہیں اگر اس معصوم کے سفاک ماں باپ کے دل میں چور نا ہوتا تو وہ بچہ ایدھی ہوم کے جھولے میں ڈال آتے ۔پاکستان کے تمام ایدھی ہومز میں جھولے موجود ہیں جن پر یہ لکھا ہے بچے قتل نا کریں ہمارے جھولے میں ڈال دیں ۔لیکن ایسا نہیں ہوا اور ننھی پاکستانی کو ویرانے میں موت کے حوالے کردیا گیا ۔
 ننھی پاکستانی کا سفاک قتل پورے معاشرے کے منہ پر طمانچہ جوکہ کبھی تعلیم تو کبھی کرئیر تو کبھی فرسودہ رسومات کی وجہ سے نکاح میں تاخیر ڈالتا ہے۔لوگ شادی کرنے کو مشکل اور افیر چلانے کو آسان سمجھنے لگے ہیں ۔اس کے ذمہ دار والدین معاشرہ اور حکومت سب ہی ہیں ۔
متوسط طبقے کی کہ بیٹیاں جہیز نا ہونے کی وجہ سے بیٹھی رہی جاتی ہیں ۔تو کسی ماں باپ کو نوجوان اولاد کے صرف کیرئیر کی فکر ہے ان کی فطری تقاضوں سے جان بوجھ کی نظر چرائی جاتی ہے ۔یوں ناجائز تعلقات جنم لیتے ہیں اور ماں باپ کو پتہ چلنے تک بات ہاتھ سے نکل گئی ہوتی ہے۔یوں بہت سے معصوم پھول بنا کھلے مرجھا جاتے ہیں تو معاشرے سے سوال کرتے ہیں کہ نکاح کو کیوں نہیں آسان بنا دیتے ۔ہیش ٹیگ ویڈنگز کے دور میں یہ ممکن نظر نہیں آرہا اگر اس ہی طرح شادی کے نام پر پندرہ بیس دن کی تقریبات ہوتی رہیں ۔جہیز پر پابندی نہیں لگی۔اٹھارہ سے بیس سال کی عمر میں نکاح کو عام نہیں کیا گیا تو اور ننھے  بے قصور پاکستانی اس ہی طرح قتل ہوتے رہیں گے۔اس ننھی پاکستانی کا قتل پورے معاشرے پر ہے اور قیامت کے دن ہم سب کو جواب دینا ہوگا ۔جہاں معاشرے میں ننھی پاکستانی کے والدین جیسے  لوگ بھی موجود ہیں وہاں دوسری طرف رمضان چھیپا، منہاس احمد اور ڈاکٹر ابراہیم بخاری جیسے نیک دل اور اعلی اوصاف کے لوگ بھی جن کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں انسانیت زندہ ہے ۔ان تینوں کو سلام ۔
جویریہ صدیق صحافی مصنفہ اور فوٹوگرافر ہیں اور ان کا ٹویٹر اکاونٹ @javerias ہے 
Posted in health, Pakistan, Uncategorized

ہیٹ اسٹروک تشخص علاج اور احتیاطی تدابیر

download (7)

 

 

 

 

جویریہ صدیق : اسلام آباد

Twitter  @javerias
پاکستان میں  گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سن اور ہیٹ اسٹروک  کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔2015کراچی میں  گرمی کی لہر کے باعث دو سو سے زائد افراد سن اسٹروک کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔اس لئے گرمی کے موسم میں کچھ احتیاطی تدابیر کرنا بہت ضروری ہے۔ سن اسٹروک سورج کی شعائوں اور گرمی کے باعث ہوتا ہے۔اس کی ابتدائی علامتوں میں سر میں اچانک سخت درد،بخار ہوجانا،آنکھوں کے آگے اندھیرا آنا،قے آنا ،سانس لینے میں دشواری اور پسینہ نا آنا شامل ہے۔اگر کسی بھی شخص میں یہ علامتیں دیکھیں تو اسکو فوری طور پر ٹھنڈی جگہ یا سایہ دار جگہ پر منتقل کریں۔متاثرہ شخص کے کپڑے کم کردیں۔جوتے اتار دیں۔ٹھنڈا پانی دیں مریض کے ماتھے سر گردن ہاتھوں پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں۔اگر طبیعت میں بہتری آئے تو متاثرہ شخص کو نہانے کا کہیں۔لیکن اگر طبیعت میں بہتری نا آئے تو فوری طور پر اسپتال کا رخ کریں۔

اللہ تعالی نے قدرتی طور پر انسان کے جسم میں درجہ حرارت کو کنڑول کرنے کا نظام بنا رکھ ہے۔انسان جلد کے مساموں سے پانی خارج کرتا ہے اور گرمی میں یہ اخراج زیادہ ہوجاتا ہے اگر ہم پانی نا پئیں اور زیادہ وقت گرمی میں رہیں تو اس نظام میں بگاڑ آجاتا ہے اور انسان ہیٹ یا سن اسٹروک کا شکار ہوجاتا ہے۔ہیٹ اور سن اسٹروک میں معمولی سا فرق ہے سورج کی شعاعوں سے براہ راست متاثر ہونے والا شخص سن اسٹروک کا شکار ہوتا ہے اور گرم جگہ پر کام کرنے والا یا بنا بجلی کے گرمی میں کام کرنے والا شخص ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوتا ہے۔اس کا زیادہ شکار وہ ہی لوگ ہوتے ہیں جو گرمی میں سر ڈھانپ کر نا نکلیں جنہوں نے مناسب پانی کی مقدار نا پی رکھی ہو یا وہ گرم جگہ پر کام کرتے ہوں ۔اس کے ساتھ ساتھ شراب نوشی کرنے والے افراد اور وہ لوگ جنہوں نے موسم کے حساب سے کپڑے نا پہنے ہوں وہ بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

سن اسٹروک کسی بھی عمر کے افراد کو ہوسکتا ہے بہت زیادہ گرمی میں کام کرنا سخت ورزش کرنا دھوپ میں کسی کھیل کا حصہ بننا،بجلی کا نا ہونا،پانی کا دستیاب نا ہونا اور ہوا میں نمی کے تناسب میں کمی کے باعث یہ کسی بھی عمر کے بچے عورت یا مرد کو ہوسکتا ہے۔اگر اس کے علاج پر فوری طور پر توجہ نا دی جائے تو بعض اوقات انسان کومہ میں چلا جاتا ہے جو کہ اسکی موت کا باعث بن جاتا ہے۔

پمزاسپتال کے میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر سلمان شفیع کے مطابق زیادہ گرمی میں کام یا سفر ہیٹ اسٹروک کا باعث بنتا ہے اگر کوئی شخص بہت دیر دھوپ میں کام کرنے کے بعد بے ربط گفتگو کرنے لگے یا بہت پانی پینے کے باوجود اس کو پیشاب کی حاجت نا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کے جسم کا درجہ حرارت بگڑ چکا ہے۔اس کے ساتھ اگر کوئی شخص دھوپ میں بے ہوش ہوجائے اس کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔جب ہمارے پاس گرمی سے متاثر کوئی مریض آتا ہے تو ہم اس بہت سے فلوئیڈ لگاتے ہیں خاص طور پر ڈرپ بھی ٹھنڈی ہوتی ہے۔تاہم اگر کوئی مریض بے ہوشی کی حالت میں آئے تو سب سے پہلے ہم اسکے سانس کی بحالی پر توجہ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیمان کے مطابق رمضان المبارک گرمیوں میں آئیں گے تو روزہ دار کوشش کریں کہ وہ پانی کا تناسب سحری میں اور افطاری میں نارمل رکھیں ۔ہلکی پھلکی غذائیں لیں، مرغن کھانوں سے پرہیز کریں۔ہلکے رنگ کے کپڑے استعمال کریں سفید رنگ موزوں ترین ہے۔اپنے کام صبح یا عصر کے بعد انجام دیں۔تاہم دفتری فرائض کی ادائیگی کے لیے اگر دھوپ میں جانا ناگزیر ہو تو ٹوپی کپڑا یا چھتری کا استعمال کریں۔اپنے ساتھ پانی کی بوتل رکھیں گرمی لگے توکپڑے کو گیلا کرکے بھی سر گردن پر رکھ سکتے ہیں۔ان کے مطابق اگر کوئی شخص اچانک ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوجائے تو اسکو گیلا کرکے پنکھے یا اے اسی میں لے جائیں ۔اگر بجلی نا ہو تو ٹب میں پانی تھوڑی برف ڈال کر مریض کو گردن تک لٹا دیا جائے۔اگر لوڈشیڈنگ یا پانی کی کمی کے باعث یہ بھی ممکن نا ہو تو مریض کو ٹھنڈی پٹیاں کی جائیں اور اسکو ٹھنڈا پانی پلایا جائے۔ہیٹ یا سن اسٹروک سے اس ہی طرح بچا جاسکتا ہے کہ عین دوپہر میں دھوپ میں نکلنے سے پرہیز کیا جائے اور اگر نکلنا ناگزیر ہے تو پھر سر گردن چہرے کو ڈھانپ لیا جائے۔

جیسے ہی گرمیوں میں یہ محسوس ہو کہ جسم کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جسم گرم ہو جائے لیکن پسینہ نا آرہا ہو طبیعت بوجھل محسوس ہو سر میں سخت درد شروع ہوجائے یا دل کی دھڑکن تبدیل ہوجائے تو سمجھ جائیں کہ آپ سن اسٹروک کا شکار ہوگئے ہیں۔فوری طور پر ٹھنڈا پانی پئیں لیٹ جائیں ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کریں اگر طبیعت میں سدھار نا آئے تو فوری تو پر ڈاکٹر کو دکھائیں کیونکہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔گرمی میں پانی زیادہ سے زیادہ پئیں، ڈبے کے جوس اور فریزی ڈرنکس سے مکمل پرہیز کریں۔ گرمی میں شاپنگ سے پرہیز کریں اگر جانا ہو تو گاڑی کسی سائے دار جگہ پر پارک کریں اور گاڑی میں ہرگز بچوں کو نا چھوڑیں۔کیونکہ گرمی میں گاڑی کا درجہ حررات فوری طور پر بڑھ جاتا ہے۔احتیاط کریں کیونکہ سن اسٹروک کے باعث دماغ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔