Posted in media, Pakistan

ٹک ٹاک، ہنی ٹریپ اور پاکستان

تحریر جویریہ صدیق 

میں اتنی قدامت پسند تو نہیں کہ تفریح کو بند کرنے کی بات کرو لیکن اتنی روشن خیال بھی نہیں کہ بے حیائی کو تفریح مان کر اس سپورٹ کرو۔ٹک ٹاک ایک نئ وباء جس نےپاکستان میں لپیٹ میں لے لایا ہے۔جس کا دل کرتا ہے کچھ بھی بنا کر پوسٹ کردیتا ہے ۔بچے بڑے بوڑھے خواتین عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں، گانوں پر ناچ، ڈائلاگز پر اداکاری تو کسی بھی اجنبی کے ساتھ ویڈیو جوڑ کر مکالمہ یا ناچ گانا یہ ٹک ٹاک کی پٹاری جس میں بہت کچھ ہے۔بچوں کے لئے تو بلکل مناسب ایپ نہیں لیکن اکثر ماں باپ غافل ہیں کہ بچے کیا کررہے ہیں ۔

ٹک ٹاک کی دنیا میں وہ لوگ بھی کود پڑے جو پہلے بازار حسن کی زینت تھے چونکہ بازار ختم ہوگئے تو یہ عام علاقوں میں چھپ کر اپنا کاروبار کرنے لگے ان کے گاہک بظاہر اس معاشرے کے مہذب افراد کہلاتے ہیں ۔ان افراد نے اپنے بزنس کے پھیلاو کے لئے ٹاک ٹاک کا خوب استعمال کیا یہاں تک کہ کچھ اس ملک کی ان ہستیوں تک پہنچ گئ جو خود کو اس ملک کا کرتا دھرتا کہلاتے ہیں ۔
images (6)
گاہک اور طوائف کے درمیان بھی کچھ راز داری کی شرائط طے ہوتی ہوگی لیکن اگر پیسے لے کر تماشا سرعام لگا دیا جائے تو اس کو بلیک میلنگ کہتے ہیں ۔اب یہ ہنی ٹریپ کسی کے ایماء پر کیا گیا یہ بھنورے عادت سے مجبور پھولوں پر منڈلانے لگے یہ تو سوچنے کی بات ہے لیکن اگر ملک کی اشرافیہ خود کو ٹاک ٹاک کے لیول تک گرا لے گی تو یہ ان کے عہدے کی توہین ہے۔بعض پھول دیکھنے میں تو خوشنما ہوتے ہیں لیکن جب مکھے اور بھنورے ان کے پاس آتے ہیں تو یہ پھول انکو سالم نگل جاتے ہیں ۔
پاکستان میں بہت سے ہنی ٹریپ طاقت کے ایوانوں میں دیکھے گئے ۔کچھ میں معاملہ پیسوں سے ختم ہوگیا تو کچھ میں شادیاں کرنی پڑ گئ جوکہ بعد میں طلاق کی نہج پر پہنچ کر ختم ہوگئی ۔مرد ہے دل تو رکھتا ہے زرا سا چلبلا پن دیکھا، زرا سی خوبصورتی اور شرارت دیکھی دل پھسل گیا بعد میں مذہبی حدود توڑنے کے بعد پریشانی پشیمانی ہی ملی۔ہمارے ہاں مرد سمجھتا ہے اسکو سب کرنے کی اجازت ہے وہ بیوی کے ہوتے ہوئے گرل فرینڈ، دوستیں اور رکھیل رکھ سکتا ہے ۔لیکن ایسا نہیں ہے مرد صرف دوسرا نکاح کرسکتا ہے وہ بھی جب وہ دونوں میں 
برابری کرسکے ۔
 مرد کو صرف اپنی شریک حیات تک محدود رہنا چاہئے جو مرد اخلاقی سماجی اور مذہبی حدود کو توڑ کر ناجائز تعلقات استور کرتے ہیں اس کا خمیازہ نا صرف وہ بلکے انکی اگلی نسل بھی انکے اثرات سے محفوظ نہیں رہتی ۔اس لیے مرد اپنی شریک حیات کا دل نہ توڑے جو پابندی عورت پر ہے وہ ہی مرد پر ہے زنا دونوں کے لئے حرام ہے۔
گندی صحبت انسان کو گندا کردیتی ہے پہلے لوگوں سے فائدہ لینا ،انکے پیسے پر عیش کرنا ،ان سے دوستیاں کرنا بعد میں ان کے پیغامات ریکارڈ کرکے پھیلا دینا، پھر عورت کارڈ کھیلنا اور یہ کہنا کہ پاکستان میں عورت محفوظ نہیں مکاری کی انتہا ہے۔لکھنو کی طوائفوں کے پاس لوگ تہذیب سیکھنے جاتے تھے شاید ڈیجیٹل طوائفوں کے کوئی اصول نہیں ۔

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s