Posted in fog, health, pollution, تمباکونوشی

یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے

Posted On Tuesday, November 22, 2016
بڑی بڑی عمارتیں بناتے ، لمبی لمبی گاڑیوں میں گھومتے انسان یہ تو بھول ہی گئے تھے کہ جس فضا میں سانس لئے رہے ہیں اس کو کتنا آلودہ کررہے ہیں ۔ہوا کچھ یوں نئی دہلی اور لاہور کے لوگ جب ایک صبح اٹھے تو دیکھا دھند چھائی ہوئی۔سب سمجھے کہ چلو آخر کار نومبر میں سردی آہی گئ۔خوشی خوشی باہر نکلے تو دھند کچھ عجیب تھی آنکھیں جلنےلگی اورگلےمیں خراش ارے یہ کیا ہوا یہ دھند تو نہیں کچھ اور ہے ۔اس دن شاید دونوں ممالک کے لوگوں کے احساس ہوا ۔ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ نفرت میں شاید مدر نیچر کو بھی نہیں بخشا ۔

جنگیں میزائل گولا بارود تو ایک طرف ہم تو ایک دوسرے کے لئے زہریلی فضا بھی قائم کررہے ہیں تاکہ ہماری موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلیں کھل کر جی بھی نا سکیں نا سانس لئے سکیں ۔لوگوں نے کہا دیکھو جی بھارت نے یہ زہریلی گیس پاکستان پر چھوڑی ارے تو بھائی کیا انہوں نے گیس اپنے دارالحکومت نئی دہلئ پر بھی خود چھوڑ دی ۔ایسا کچھ نہیں ہے دونوں ممالک میں ماحول دوست سرگرمیاں نا ہونے کے برابر ہیں اس لئے اب صورتحال کچھ ہے کہ نیچر کا از خود رپئیر کا سسٹم بھی اب کچھ تھک گیا ہے جس کی وجہ سے سموگ نے دہلی اور لاہور کو لپیٹ میں لئے لیا ۔

بہت سے لوگ سموگ سے واقف نہیں ہیں تو ان کے لئے بتاتی چلوں یہ ایک ایسی دھند ہے جو آلودگی کے باعث جنم لیتی ہے۔جس میں سلفئر اوکسایڈ، نائٹروجن آکسائیڈ،سی ایف سی گیسز، کوئلے کا دھواں، صنعتی دھواں ،ٹریفک کا دھواں، مٹی کے زرات اور آگ شامل ہے۔ پاکستان اور بھارت میں فصلوں کی کٹائی کے بعد جڑوں کو آگ لگانے سے بھی سموگ پیدا ہوتی ہے۔اس کے ساتھ دیوالی کے موقع پر ہونے والی آتش بازی بھی اس کے پھیلاو کا سبب ہے۔اس کے باعث سڑکوں پر وزیبلیٹی یا حد نگاہ بہت کم ہوجاتی ہے۔

اس کے اثرات بہت مضر ہوتے ہیں ۔ سموگ بچوں بڑوں تمام کی صحت پر منفی اثرات چھوڑتی ہے ۔سب زیادہ اثر پھیپھڑوں، گلے دل اور آنکھوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔سموگ کے باعث لاہور اور نئی دہلی دونوں میں لوگ بڑی تعداد میں ناک کان آنکھوں اور گلے کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔جن میں سانس لینے میں دشواری ،آنکھوں میں جلن عام ہے۔

دنیا کے بڑے شہر بیجنگ دہلی میکسیکو اسکا شکار ہوئے اور اب لاہور بھی اس کی زد میں ہے۔سموگ کے باعث ٹریفک حادثات میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

لاہورمیں ایک عرصہ دراز سے تعمیراتی منصوبوں پر کام ہورہا ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ درختوں کو کاٹ دیا گیا ۔جس کے باعث آلودگی کی شرح میں اضافہ ہوا ۔لاہور شہر میں بہت سی صنعتیں غیر قانونی طور پر کام کررہی ہیں وہ بھی آلودگی کا بڑا سبب ہیں ۔اس کے ساتھ عوام کا بھی عمومی رویہ کچھ اس طرح کا ہے جس کی وجہ سے آلودگی بڑھ رہی ہے ۔کچرا سڑکوں پر پھینک دیا، صاف پانی میں فضلہ شامل کردیا،کیمیکلز کا استعمال، گاڑیوں کی ٹیونگ نا کروانا وغیرہ شامل ہے۔

سموگ سے کچھ احتیاط کرکے بچا جاسکتا ہے جس وقت محکمہ موسمیات کی طرف سے یہ وارنگ جاری کی جائے کہ سموگ ہونے کا امکان ہے تو گھر سے نکلنے سے پرہیز کریں اگر باہر جانا ہو تو منہ ڈھانپ کر نکلیں ۔آنکھوں پر چشمہ لگائیں بہت دھند میں گاڑی چلانے سے پرہیز کریں۔لیکن یہ عارضی احتیاطی تدابیر ہیں۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرہ سر پر کھڑا ہے لیکن نا ہی پاکستان نا ہی انڈیا دونوں کی توجہ اس پر نہیں ۔ ۔کیوں نا دہلی سرکار اور لاہور کے درمیان ایک مقابلہ ہوجائے درخت لگانے کا کون زیادہ درخت لگائے گا۔

عوام صرف ماحول دوست سرگرمیاں کرکے ہی ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرسکتے ہیں۔پودے لگائے جائیں،جنگلات کی کٹائی کو روکا جائے ،شمسی توانائی کو عام کیا جائے ،پانی کو آلودہ نا کیا جائے ۔غیر ضروری طور پر اگ نالگائی جائے ۔سی ایف سی اور وی او سی جن اشیاء میں شامل ہو ان کے استعمال سے گریز کریں ۔گاڑی کی ٹیونگ کرائیں اور قریب میں کہیں جاتے ہوئے سائیکل یا واک کرنے کو ترجیح کریں ۔تمباکو نوشی سے پرہیز کریں ۔اسلام آباد اور لاہور میں بہت سے تعمیراتی منصوبے جاری ہیں اس لئے حکومت پر یہ خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان منصوبوں کے ساتھ پلانٹیشن کریں تاکہ فضائی آلودگی میں کمی آئے۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Twitter @javerias

Posted in health, lifestyle, Pakistan, Smoking, تمباکونوشی

تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر

                                                                                                                                                تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر

  Posted On Monday, June 01, 2015   …..جویریہ صدیق……
دنیا بھر میں 31مئی کو انسداد تمباکو نوشی کا دن منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں تمباکو کے استعمال سے پہنچنے والے نقصانات سےآگاہ کرنا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ایک ارب افراد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جن میں سے تقریبا ًچھ ملین افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، ان میں دس فیصد وہ ہیں جو خود تو سگریٹ نہیں پیتے لیکن اپنے اردگرد تمباکو نوشی کے دھویں سے متاثر ہوتے ہیں۔ہر سال سولہ فیصد مرد اور آٹھ فیصد خواتین تمباکو نوشی کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔بات کی جائے پاکستان کی تو ہر سال ایک لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے لقمہ اجل بنتے ہیں۔

پاکستان میں تمباکو کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے،نوجوان نسل سگریٹ ،شیشہ اور گٹکا کی دلدادہ ہے اور بنا اس کے نقصانات کو جانے اس کا استعمال کررہی ہے۔ایک اندازے کے مطابق 45فیصد مرد اور چھ فیصد خواتین پاکستان میں تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ ہو سگار ہو ،گٹکا،یا حقہ اگر آپ تمباکو استعمال کررہے ہیں تو پھیپھڑوں کا سرطان،خوراک کی نالی کا سرطان، منہ کا کینسر،عارضہ قلب، کولیسٹرول، ٹی بی،دمہ اور ہائی بلڈ پریشر جیسے خطرناک امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔اگر تمباکو نوشی خواتین کریں تو ان بیماریوں کے ساتھ ساتھ ماہانہ ایام کی خرابی،اسقاط حمل اور کمزور قبل از وقت بچوں کی پیدائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

صحبت کے زیر اثر لوگ تمباکو نوشی کا استعمال تو شروع کردیتے ہیں لیکن جب یہ اپنا اثر دیکھنا شروع کرکے انسان کو بیمار کرنا شروع کرتا ہے تو اس لت سے جان چھڑانا آسان کام نہیں. لیکن اگر انسان پختہ ارادہ کرلے تو پھر آہستہ آہستہ تمباکو نوشی ترک کی جاسکتی ہے،تمباکو کی لت انسان کی نفسیاتی اور جسمانی ضرورت بن جاتی ہے اس لیے اس کو ترک کرنے کے لیے دماغ اور جسم دونوں پر کام کرنا پڑتا ہے،جب بھی یہ ارادہ کریں کہ آپ تمباکو نوشی ترک کررہے ہیں تو اپنے اہل خانہ اور دوستوں کو اعتماد میں لیں تاکہ وہ آپ کے ساتھ تعاون کریں۔

اگر آپ پوری سگریٹ کی ڈبی پیتے ہیں تو پلان کے پہلے پندرہ دن اس کو آدھا استعمال کریں سولہویں دن سے چوتھائی اور دوسرے مہینے میں تین سے چار اور45دن بعد ایک یا دو کر دیں،جس وقت آپ کو زیادہ سگریٹ کی طلب ہو اپنا دھیان ہٹائیں ،اپنے اس پلان میں ورزش کو شامل کریں،پانی زیادہ سے زیادہ پئیں،پھلوں کا استعمال کریں۔اگر زیادہ بے چینی ہو تو ببل گم چبائیں یا گاجر پودینے کا استعمال کریں۔ نفسیاتی طور پر اپنے آپ سے خود بات کریں اپنے آپ کو سمجھائیں کے تمباکو آپ کے لیے بہت خطرناک ہے۔

تمباکو نوشی ترک کرتے ہوئے پہلے چند ہفتے انسان بہت چڑچڑا ہوجاتا ہے،کیونکہ تمباکو میں شامل نکوٹین وقتی طور پر جسم اور دماغ کو سکون پہنچاتی ہے.اس لیے اس کو استعمال نا کرنے پر انسان غصہ کرنے لگتا ہے سر میں درد، نیند کی کمی، بے چینی ،کھانسی میں اضافہ،ڈپریشن،قبض،پیٹ کی خرابی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری عام طور پر تمباکو چھوڑنے کی علامتوں میں شامل ہے،ان سب چیزوں سے گھبرائیں نہیں بلکے ان کا مقابلہ کریں۔

پھلوں سبزیوں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں،خود کومصروف رکھیں، ہلکی ورزش کریں روز نہائیں،اس دورانیہ میں ایسے ماحول سے کچھ عرصہ دور رہیں جو آپ کو سگریٹ نوشی کی طرف راغب کرتا ہو ۔اگر آپ اپنی مدد آپ نہیں کرسکتے تو معالج سے رجوع کریں ان کی ادویات اور کونسلنگ فائدہ مند ہے، تمباکو نوشی ترک کرتے ہی آپ کی صحت بتدریج بہتر ہونا شروع ہوجائے گی،بلڈ پریشر دل کی دھڑکن نارمل ہوجائے گی،کھانسی،الرجی بھی نا ہونے کے برابر رہ جائیں گی،سرطان ،فالج اور دل کے دورے کا امکان بھی نارمل افراد جتنا ہوجائے گا۔

حکومت انسداد تمباکو نوشی کے حوالے سے موثر اقدامات کرے،پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی سے سختی سے عمل درآمد کروائے،اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ اور شیشہ مہیا کرنے والے دکانداروں اور کیفے ہوٹلز پر جرمانہ عائد کیا جائے، سگریٹ اسمگلنگ پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دی جائے،تمباکو سے بنی اشیاء کے اشتہارات پر مکمل پابندی ہو اور پیکٹ پر وزارت صحت کی وارننگ لازمی چھپی ہوئی ہو۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت اس انڈسٹری پر اور پراڈکٹس ٹیکس عائد کرے تاکہ یہ قوت خرید سے نکل جائے۔

ایسی عادت کو ترک کردینا چاہیے جو آپ کے ساتھ آپ کے اہل خانہ کے لیے بھی مضر ہے،زندگی کی طرف واپس آئیں اور محسوس کریں زندگی تمباکو نوشی کے بنا کتنی حسین ہے،کسی بھی چیز کی لت اچھی نہیں اس لیے اپنی صحت زندگی خاندان کہ خاطر اس زہر کو پینا چھوڑ دیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10868#sthash.1XPr1xX1.dpuf