Posted in Army, media, Pakistan

میڈیا ، سیلف سنسر شپ اور جبری برطرفیاں

میڈیا ، سیلف سنسر شپ اور جبری برطرفیاں

جویریہ صدیق

20181018_205310

اسلام آباد:

 سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد جب میں نے شہدا پر کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا تو اندر ایک خوف تھا کہ کسی دن کوئی دیو قامت اہلکار گھر کا داخلی دروازہ توڑتے ہوئے آئیں گے اور میری گردن پر بوٹ رکھ کر مسودہ لے جائیں گے ۔انٹرویو کے دوران میں اکثر کہتی رہی کہ یہ مضامین دسمبر 2015 میں شائع ہوں گے لیکن کتاب کا تذکرہ کھل کر کسی سے نہیں کررہی تھی ۔کتاب کا ایک حرف حرف خود ٹائپ کیا۔ انگلیاں آنکھیں درد کرنے لگتیں لیکن بس یہ خوف طاری تھا بات باہر نکلی تو کتاب نہیں چھپ پائے گئ ۔کتاب بہت مشکل سے مکمل ہوئی کیونکہ جتنے لوگ اسلام آباد اور پشاور سے سانحہ کور کررہے تھے انہوں نے ایک نمبر تک شئیر کرنا گوارا نہیں کیا۔میں اپنی مدد آپ کے تحت پہلے خاندان تک پہنچی اور اسکے کے بعد ایک ایک کرکے بیشتر خاندان رابطے میں آگئے۔کتاب میں صرف یاداشتیں ہیں شائع ہوئی میں نے لواحقین کو تحفے میں دی اور کہا اتنی محنت میں نے کسی مقبولیت یا پیسے کمانے کے لئے نہیں کی ۔یہ میری طرف سے شہدا کے خاندانوں کے لئے ایک تحفہ ہے جس میں تمام شہدا کی تفصیل درج ہے اور انکی تصاویر شامل ہیں تاکہ تاریخ انہیں ہمیشہ یاد رکھے ۔

کتاب شائع ہوئے 3 سال ہوگئے لیکن مجھے کسی قسم کی دھمکی یا سنسر شپ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔کیونکہ وقت کے ساتھ حالات بدل بہت حد تک بدل گئے۔ضیاء دور ہماری نسل نے نہیں دیکھا سنا ہے اس دور میں بہت مظالم ہوئے بولنے کی آزادی نہیں تھی۔نواز شریف اور بے نظیر کے دو ادوار ہماری نسل کے بچپن کا دور تھا اس وقت سرکاری میڈیا، این ٹی ایم ، ریڈیو پاکستان، ایف ایم ون او ون ،ون ہنڈرڈ ، کارٹون نیٹ ورک  اور کچھ اخبارات اور رسالے شائع ہوتے تھے۔جس وقت پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو سب لوگ بہت ڈرے ہوئے تھے کہ پرویز مشرف بولنے لکھنے کی آزادی چھین لیں گے۔ان کے دور میں 3 نومبر کی ایمرجنسی اور میڈیا پر بندش رہی لیکن پرائیوٹ میڈیا کو آواز دینے کا سہرا بھی اس ہی آمر پرویز مشرف کو جاتا ہے۔۔

جس وقت میں نے اے ٹی وی پارلیمنٹ ڈائری کی میزبان کے طور پر جوائن کیا تو پی پی پی اقتدار میں آچکی تھی۔اس زمانے میں روز میڈیا کی عدالت لگتی تھی روز پی پی پی کا میڈیا ٹرائل ہوتا تھا اور وہ خندہ پیشانی سے اس سب کا سامنا کرتے رہے ۔کبھی کسی چینل اینکر یا رپورٹر کا بائیکاٹ نہیں کیا۔5 سال میڈیا ٹرائل اور عدالتی میڈیا کے ساتھ وہ مدت پوری گئے اور اگلی باری آئی مسلم لیگ ن کی ۔آمریت کی گود سے جنم لینے والی جماعت میڈیا کو کنٹرول کرنا بخوبی جانتی تھی۔اقتدار میں آتے ہی تنقیدی چینلز کے اشتہارات بند کردیے اور چینلز کا بائیکاٹ کردیا۔اپنے ناپسندیدہ اینکرز کو بین کرنے کے لئے ہزار جتن کئے۔دوسری طرف پی ٹی آئی نے دھرنے کےدوران مخالف میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا ۔پرائیوٹ میڈیا بھی بالغ اور منہ زور ہوگیا اور کسی کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔دو ہزار چودہ کے بعد ہم نے میڈیا کے رنگ ڈھنگ بھی بدلتے دیکھے لیڈران کی نجی زندگی پر حملے ، ان کی شادیوں کی تاریخوں کا اعلان ازخود کیا جانے لگا ، کچھ کالم نگار بلاگرز ٹی وی چینلز  صحافی اینکرز پانامہ سکینڈل کے بعد باقاعدہ طور پر مسلم لیگ کے حصے کی مانند ان کے لئے مہم کرنے لگے کہ شریف خاندان بے قصور ہے ۔یہ دفاع اتنے روز و شور سے کیا جانے لگا کہ اصلی کارکنوں اور صحافیوں میں تفریق مشکل ہو گئ ۔نواز شریف دور میں من پسند چینلز پر اشتہارات کی بارش کردی گئ۔اپنے من پسند صحافیوں میں بھاری تنخواہوں کے ساتھ عہدے بانٹ دئے گئے اور یوں جمہوریت کے نام پر کرپشن کا دفاع شروع ہوگیا۔

ن لیگ کے متوالوں نے پانامہ کا ملبہ بھی آرمی آئی ایس آئی پر ڈالنے کی کوشش کی۔ جب اس میں کامیابی نہیں ہوئی تو توپوں کا رخ عدلیہ کی طرف کردیا اور معزز ججوں کو متنازعہ کرنے کی کوشش کی گئ تاہم پاکستان کی عدلیہ نے تمام تر منفی مہم کے باوجود تاریخ ساز فیصلہ دیا ۔

میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف  کے جیل جانے  کے بعد درباری میڈیا اور سوشل میڈیا ٹیم وقتی طور پر خاموش ہوگے ۔تاہم سوشل میڈیا پر درباری قلم نگار ،قومی سلامتی، فوج ، عدلیہ اور آئی ایس آئی کے خلاف ٹویٹس کرتے رہے ۔انکا صبح سے شام تک صرف ایک کام ہے وہ ہے کہ پاکستان کو عالمی دنیا کے سامنے متنازعہ کرنا ہے۔صبح سے شام تک یہ صرف منفی پہلو اجاگر کرتے ہیں جب کچھ نا ملے تو فوٹو شاپ تصاویر کے ساتھ کہانی گھڑ لیتے ہیں۔جب کہ پاکستان کا کوئی کھلاڑی تمغہ لے آئے کوئی پاکستانی عالمی ریکارڈ بنا لے تو ان دانشوروں کو لقوا مار جاتا ہے۔ 

آج کل مارکیٹ میں ایک اور سستا انقلابی نعرہ سامنے آیا وہ ہے سیلف سنسر شپ ۔یہ سب شروع کہاں سے ہوا جب کچھ آزاد پختونستان کا نعرہ لگانے والو نے نقیب محسود کے قتل کو اپنے عزائم اور مردہ سیاست میں روح پھونکے کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ۔پاکستان مخالف اور آرمی مخالف تقاریر شروع کردی گئ ۔اس پر کچھ صحافیوں نے فوری طور پر اس فتنے کا ساتھ دینا شروع کیا یہاں سے یہ نیا لفظ ایجاد ہوا سیلف سنسر شپ ۔اگر آپ کے ایڈیٹر کا ضمیر زندہ ہے اور وہ آپ پاکستان مخالف آرٹیکل شائع کرنے سے روک دیتا ہے یا آپ کا کرپشن کی حمایت میں لکھا مضمون اسکو صحافت کے اصولوں کے منافی لگتا ہے تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ کا آرٹیکل ردی کی ٹوکری میں چلا جاتا ہے۔

سنسر شپ پر میڈیا کے کچھ بڑے اتنا بول رہے ہیں کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دے رہی ۔ سنسر شپ بھی ایک کونے میں کانوں میں انگلیاں ٹھوس کر کہتی ہے دھیمابولو ، پہلے تولو پھر بولو اور کم ازکم سچ تو بولو ۔

اس وقت میڈیا ورکرز کے اوپر جو سب سے بڑی تلوار لٹک رہی ہے وہ میڈیا کے اندر سے ہی ہے باہر سے نہیں۔آپ کو کیا لگا سیلف سنسر شپ ان کے لئے سب سے بڑا خطرہ  ہے نا نا یہ تو باتیں آزادی صحافت کے تمغے لینے وغیرہ کے لئے پھیلائی جاتی ہیں ۔اصل سنسر شپ تو اس بات پر ہے کہ میڈیا میں اپنے ادارے میں جاری میڈیا ورکرز کے استحصال پر کچھ نا بولو۔آپ ٹویٹر کے کسی بھی صحافی دانشور کی ٹائم لائن پر اس سے مختلف میڈیا کے اداروں میں تنخواہ میں تاخیر اور جبری برطرفیوں کے حوالے سے سوال کریں وہ آپ کو جواب نہیں دیے گا لیکن ویسے وہ دانشور سارا دن مگرمچھ کے آنسو بہائے گا۔ 

اکثر یہ ہی میڈیا کے بڑے منٹوں میں مڈ کرئیر جونیئرز کو ادارے سے یہ کہہ کر نکلوا دیتے ہیں کہ یہ نکما ہے جبکہ وہ محنتی کارکن ہوتا ہے بس ان کچھ بڑوں کو انکی شکل پسند نہیں ہوتی ۔پھرمقافات عمل ہوتا ہے جب ان بڑوں

کومالکان کم ریٹنگ اور سفید ہاتھی ہونے پر نکال دیتے ہیں تو یہ مگرمچھ کے آنسو بہائے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم جمہوریت پسند ہیں نا اس لئے ہمیں نوکری سے نکال دیا ۔جبکے ان کچھ بڑوں کو آپ نے اداروں میں دیکھیں تو ان سے بڑا مطلعق العنان کوئی نہیں ۔

عام میڈیا ورکرز کی بات کی جائے تو میڈیا میں کوئی جاب سیکورٹی نہیں جب کسی بڑے کا دل کرے وہ چھوٹے کو لات مار کر باہر کردے گا۔بیورو میں جھاڑو پھیر کر محنتی رپورٹرز کو فالتو سامان کی طرح باہر کردیا جاتا ہےتب جمہوریت یا آزادی صحافت خطرے میں نہیں آتی۔خاتون اینکر شادی کرلے یا حاملہ ہوجائے اس نوکری خطرے کی زد میں آجاتی ایچ آر کے مطابق موٹی لڑکی کا بھلا ٹی وی پر کیا کام ؟۔جو بیچاری نوکری بچا بھی لے اسکا بچہ گھر میں اسکے بنا تڑپتا ہے کیونکہ بہت سے دفاتر میں نرسری نام کی چیز نہیں ۔اکثر سفارشیوں کی چاندی ہوجاتی اور محنتی لوگ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔جاب کے تو کوئی ٹائمنگ نہیں کہا جاتا ہے کہ آپ میڈیا میں ہوکر نو سے پانچ والی جاب چاہتے ہو ایسا تو ممکن نہیں۔پر جب سیلری کی بات آئے وہ فکسڈ رہتی ہے رپورٹر کیمرہ مین میڈیا ورکر اس امید پر بوڑھا ہوجاتا کہ شاید اب اسکی سیلری میں ایک صفر بڑھ جائے ایسا بمشکل ہوتا ہے بلکے ناممکن ہے۔

میڈیا کو حکومت سے بڑی بڑی رقوم اشتہارات کی مد میں ملتی رہیں لیکن تنخواہ کی بات کریں تو حالات بہت خراب ہیں آپ اپنی تنخواہ کیوں مانگ رہے ہیں زیادہ مسئلہ ہے تو دوسری جگہ چلے جائیں ورکرز خاموش ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے یہ نوکری گئ تو دوسری نہیں ملے گئ ۔نئ جاب اوپنگز تو آتی ہی نہیں ہر سال نئے گریجویٹس انٹرن شپ کے نام پر بیگار کی طرح کام کرتے ہیں اور آخر میں ادارے کی طرف سے ملنے والے سرٹیفکیٹ کو لے کر گھر بیٹھ جاتے ہیں ۔میڈیا میں کوئی معاشی بحران نہیں ہے۔

بس میڈیا مارکیٹ میں بہت سے چینلز آگئے اکثر نئے ٹی وی لانچ ہوکر فلاپ ہوجاتے ہیں بڑے ناموں کی وجہ سے چھوٹے بھی ادھر کا رخ کرتے ہیں ۔پر ہوتا کیا ہے بڑے صحافی فوری طور “اصولی” موقف اپناتے ہوئے ڈیل اور یوٹرن مار جاتے اور چھوٹے دربدر ہوجاتے ہیں نا نئے دفتر جوگے رہتے ہیں نا پرانے میں جانے کی جگہ ملتی ہے ۔بہت سے میڈیا ورکرز کو چھٹی نہیں ملتی، میڈیکل نہیں ملتا، فیول نہیں ملتا، تنخواہ نہیں ملتی لیکن پھر بھی میڈیا ورکر اس انڈسٹری کو اپنے پتھر باندھے پیٹ اور کمزور کندھوں پر لے کر چل رہا ہے ۔اس سب پر وہ لوگ کیوں نہیں کچھ بولتے جو اس ملک میں آزادی صحافت کے چمپیئن بنے پھر رہے انہوں نے خود پر کیا سیلف سنسر شپ عائد کرلی ہے کہ صحافی بھائی کے لئے تو نہیں بولنا۔ ویسے تو بہت بولتے ہیں اتنا بولتے ہیں کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی سیاسی لیڈر کی چپل چادر بیگ آنسو چشمے مسکراہٹ لباس ہر چیز پر بولتے ہیں لیکن بس صحافی کے لئے نہیں بولتے۔میڈیا میں، سنسر شپ، تنخواہوں میں تاخیر اور جبری برطرفیوں کی زمہ دار حکومت، آرمی اور آئی ایس آئی نہیں خود میڈیا مالکان ، انتظامیہ ،اور میڈیا کے بڑے ہیں ۔ میڈیا کے درد کا مداوا کون کرے گا جب پی ایف یو جے خود تین حصوں میں تقسیم ہوچکی ہو۔جب صحافی خود جھوٹ بولیں کہ انہیں جمہوریت کا ساتھ دینے پر نکال دیا گیا جبکہ اصل وجہ یہ ہوکہ سیٹھ یا مالکن کو اپنا کاروباری مفاد عزیز ہو۔ وہ ادارے میں ڈوان سایزنگ کرے اور الزام آپ ایجنسی پر لگا دیں یہ تو صحافتی بددیانتی ہے۔میڈیا کے حالات خراب نہیں حالات صحافیوں کے خراب ہیں انہیں چاہیے کہ سچ بولیں اور میڈیا کی سیاست کو عیاں کر دیں ۔
ہر چیز کی زمہ داری فوج پر ڈال معاملات حل نہیں ہوگے مسئلے کا حل اپنی صفوں میں تلاش کریں۔

Advertisements
Posted in Army, Pakistan, ZarbeAzb

کیپٹن مجاہد بشیر شہید

کیپٹن محمّد مجاہد بشیر شہید ، .

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت … نہ کشور کشائی

نام مجاہد اور دل میں شہادت کی خواہش لئے جب یہ شیر دل دشمن سے ٹکرایا تو دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا ۔ پاکستان کا یہ بہادر بیٹا 8 جولائی 1986 ء کو پیدا ہوا ۔ شروع سے ہی پاکستان آرمی میں جانے کا شوق تھا ۔ ابتدائی تعلیم اسلام آباد ماڈل کالج سے حاصل کی ۔ بی کام مکمل کیا ۔ سولہ مئی 2008 ء کو پی ایم اے جوائن کیا اور 119 لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی ۔ 160 آر سی جی ائیر ڈیفنس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔2012 میں ایف سی ہیڈ کوارٹر خیبر پختون خوا میں پوسٹنگ ہوئی ۔ باجوڑ میں فرائض منصبی سنبھالے اور اپنی شہادت تک وہیں ڈیوٹی انجام دیتے رہے ۔ 12 جولائی 2014 ء کو اس مرد مجاہد نے جام شہادت نوش کیا ۔

FB_IMG_1534923161415

باجوڑ کے قریب کٹ کوٹ کے مقام پر پاک آرمی کے ہیڈ کوارٹرز سے کیپٹن مجاہد نے فضل سیپی سرحدی چیک پوسٹ پر جانا تھا۔ماہ رمضان تھا کیپٹن مجاہد روزے سے تھے ہیڈ کوارٹر بریفنگ کے لئے آئے ۔ تاہم وہاں کام کی نوعیت کی وجہ سے دیر ہوگی ۔روزہ کھولنے کے بعد نماز سے فارغ ہوکر جب انہوں نے واپس فضل سیپی جانے کا ارادہ کیا تو سب نے منع کیا کہ اس وقت سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔لیکن پاک وطن کے اس مجاہد نے کہا چیک پوسٹ پر میرے ساتھی میرا انتظار کررہے ہوں گے، میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ۔

کیپٹن مجاہد رات گئے اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوگئے ۔ انہیں پوسٹ پر پہنچنے کی جلدی تھی کیونکہ اس پوسٹ پر اکثر دشمن کی طرف سے حملے ہوتے رہتے تھے ۔ کیپٹن مجاہد خود واپس جاکر جلد سے جلد کمان سنبھالنا چاہتے تھے ۔ لیکن راستے میں ہی دہشت گردوں نے ان پر دو اطراف سے حملہ کر دیا۔کیپٹن مجاہد اور ان کے ساتھی مردانہ وار لڑے ۔ ہر طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ ہوگئی لیکن کیپٹن مجاہد نے جوانمردی سے مقابلہ کیا اور دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔تاہم وہ اس معرکے میں شدید زخمی ہوئے اور جب تک کٹ کوٹ سے پاک فوج کی مزید نفری آئی کیپٹن مجاہد بشیر اپنے ساتھیوں کے ساتھ شہادت پاچکے تھے ۔

ان کے ساتھی ان کے یونٹ ممبران ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی خوش اخلاق اور نرم مزاج تھے ۔ ہمیشہ سب کے ساتھ بہت پیار اور شفقت سے پیش آتے۔وہ اپنی یونٹ کے تمام افراد سے رابطے میں رہتے۔ان کے دوستوں کے مطابق شہادت کی خواہش ان کے دل میں بہت شدید تھی ۔ بہادری سے لڑے اور بہادری سے اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔

گیارہ جنوری 2014 ء کو کیپٹن مجاہد صالحہ حیدر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ۔ 2012 ء میں نکاح ہوگیا تھا لیکن رخصتی 2014 ء میں مقرر ہوئی ۔شادی کے بعد کچھ عرصہ چھٹی گزارنے بعد کیپٹن مجاہد واپس محاذ جنگ پر چلے گئے ۔ ان کی اہلیہ صالحہ کچھ عرصہ باجوڑ ان کے پاس رہ کر آئیں ۔ کیپٹن مجاہد کی بیٹی صبغہ اپنے والد کی شہادت کے سات ماہ بعد فروری میں پیدا ہوئی۔صالحہ مجاہد بیوہ شہید کیپٹن مجاہد اے پی ایس میں پڑھاتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں مجاہد سے شادی ہوئی تو مجھے لگا جیسے مجھ سے زیادہ اس دنیا میں کوئی خوش نصب نہیں ہوگا ۔ وہ بہت ہی نرم مزاج محبت کرنے والے انسان تھے ۔

میں شادی کے بعد اکثر سوچتی اور اپنے آپ پر رشک آتا تھا کہ مجھے اتنا اچھا انسان جیون ساتھی کے طور پر ملا ۔ ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات میری زندگی کا کل سرمایہ ہیں ۔ صالحہ کہتی ہیں کیپٹن مجاہد مذہب سے خاص لگاؤ رکھتے تھے ۔ پانچ وقت کی نماز کا اہتمام باقاعدگی سے کرتے اور روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ۔ وہ کہتی ہیں ان کی عادات و اطوار نے مجھے ان کا مزید گرویدہ کر دیا ۔ ان کی شہادت سے قبل میں باجوڑ گئی اور ہم نے کچھ دن ساتھ گزارے ۔ اس کے بعد وہ مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلے گئے ۔

وہ کہتی ہیں کہ اتنا پیار کرنے والا انسان جب چھوڑ کر چلا جائے تو زندگی بے مقصد محسوس ہوتی ہے ۔ شروع شروع میں تو میرے ضبط کے سارے بند ٹوٹ جاتے اور مجھے بالکل قرار نہیں آتا تھا ۔ لیکن جب میں شہید ہونے والے دیگر فوجیوں کی بیواؤں سے ملی تو ان کا صبر دیکھ کر مجھے انتہائی حوصلہ ملا ۔ میں نے زندگی کو ایک بار پھر مجاہد کی یادوں کے ساتھ آگے بڑھایا ۔

صبغہ فاطمہ جو کیپٹن مجاہد کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی اس نے اپنے والد کا لمس تو محسوس نہیں کیا لیکن اس کی والدہ اسے باقاعدگی سے اس کے شہید بابا کی قبر پر لے کر جاتی ہیں ۔ صبغہ اپنی ماما کے فون پر جب کیپٹن مجاہد کی تصاویر دیکھتی ہیں تو بابا ، بابا کہہ کر ان کو پکارتی ہے اور خوب شور مچاتی ہے مگراس کے بابا اس کو جواب دینے کے لئے اس دنیا میں موجود نہیں ہیں ۔ گزشتہ دنوں جب عالمی یوم والد منایا جارہا تھا تو ننھی شہزادی صبغہ نے یہ دن اپنے شہید بابا کی قبر پر منایا ۔ ابھی تو وہ اتنی کم سن ہے کہ اسے معلوم نہیں کہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلا گیا ہے ۔

مسز کیپٹن مجاہد بشیر کہتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر کی یادوں کے سہارے زندگی گزار رہی ہیں اور صبغہ فاطمہ ان کی متاعِ کُل ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ مجاہد کی شہادت نے انہیں بالکل توڑ کر رکھ دیا تھا لیکن گھر والوں اور سسرال والوں کی محبت اور شفقت نے انہیں ہمت دی کہ وہ زندگی کو آگے لے کر چل سکیں ۔میرے اور صبغہ کے لئے ان کا چلے جانا ناقابل تلافی نقصان ہے۔تاہم ہمیں ان کی قربانی پر فخر ہے انہوں نے اپنی جان پاکستان کے لئے قربان کی ۔آگے چل کر جب ننھی صبغہ زندگی میں قدم بڑھائے گی تو اس کا ہاتھ تھامنے کے لئے اس کے بابا موجود نہیں ہوں گے ۔ اس کے اردگرد تمام بچے جب اپنے ماما بابا کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہوں گے تو ایک پل کو وہ رُک کر سوچے گی ضرور کہ میرے بابا میرے ساتھ کیوں نہیں ہیں۔سب کام میری ماما کو اکیلے کیوں کرنے پڑرہے ہیں ۔ لیکن جیسے جیسے شعور بیدار ہوگا تو وہ اپنے عظیم والد کی عظیم قربانی پر فخر کرے گی۔ہم سب کا بھی فرض ہے کہ ہم اپنے شہدا اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں۔اس ملک کی اساس کیپٹن مجاہد جیسے شیر جوانوں اور صالحہ مجاہد اور صبغہ فاطمہ جیسی عظیم بیٹیوں کی قربانیوں پر کھڑی ہے ۔

صبغہ فاطمہ کے نقصان کا خلا کبھی بھی پر نہیں ہوسکتا لیکن تمام پاکستانیوں کو اس کے والد کی قربانی اور اس کی والدہ کے صبر و استقامت پر پر فخر ہے ۔ ۔کیپٹن مجاہد اور ان جیسے دیگر پاک فوج کے شہداء کی قربانیوں کی بنیاد پر آج وطن عزیز میں امن قائم ہوا ہے ۔ اللہ تعالی ہمارے شہدا کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین .
تحریر: جویریہ صدیق IMG_5g70qf

http://hilal.gov.pk/…/hilal-u…/item/2250-2016-08-12-06-44-02

Posted in Army, ArmyPublicSchool, Pakistan, ZarbeAzb, جویریہ صدیق

سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی یاد میں دعائیہ تقریب جاری

پشاور: سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی یاد میں دعائیہ تقریب جاری۔

جویریہ صدیقimg-20161215-wa0062 ۔سانحہ اے پی ایس کی دوسری برسی کے موقع پر حسن زیب شہید کے گھر پر دعائیہ تقریب میں لواحقین کی بڑی تعداد میں شرکت ۔لواحقین نے شہدا کے لئے شمعیں روشن کی اور فاتحہ خوانی کی ۔اس موقعے پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ورثا دھاڑیں مار مار کر روتے رہے اور اپنے پیاروں کو یاد کرتے رہے۔حسن زیب شہید کے گھر میں تمام شہدا اے پی ایس کی تصاویر آویزاں ہیں لواحقین ان تصاویر کے آگے شمعیں جلا کر ان لمحات کو یاد کرتے رہے جو انہوں نے زندگی میں ساتھ گزرے تھے ۔والدین خاص طور پر سولہ دسمبر کی ہولناکی کو یاد کرکے روتے رہے ۔اپنے بچوں اور ان کے اساتذہ کے لئے فاتحہ خوانی کرنے کے ساتھ ساتھ خود کے لئے بھی صبر کی دعاء کرتے رہے ۔حسن زیب شہید نے سولہ دسمبر  اپنے اساتذہ اور ساتھیوں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا تھا ۔دو سال سے ہر ماہ ان کے گھر میں اے پی ایس فیملیز دعائیہ تقریبات میں اکٹھی ہوتی ہیں ۔

img-20161215-wa0061

img-20161215-wa0069aps-3aps-5

جویریہ صدیق صحافی اور فوٹوگرافر ہیں ۔ سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشیں کتاب کی مصنفہ ہیں۔آپ انہیں ٹویٹر پر فالو کرسکتے ہیں @javerias

Posted in Army, ArmyPublicSchool, Javeria Siddique, ZarbeAzb, جویریہ صدیق

سانحہ آرمی پبلک سکول چار خاندانوں کے دو دو بیٹے ان سے بچھڑ گئے

page

جویریہ صدیق

Javeria Siddique 

۔

سانحہ آرمی پبلک سکول  سولہ دسمبرکو 2سال مکمل ہوجائے گا ۔لیکن ایسا لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو جب بچے ہنستے مسکراتے سکول گئے تھے لیکن واپس نا آسکے اور والدین کو اپنے بچے تابوت میں ملے۔دو سال مکمل ہونے گیے پر بہت سے والدین اس حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ان کے بچے ہمیشہ ہمشہ کے لئے چلے گئے اور اب واپس نہیں آئیں گے۔جب بھی دروازے پر دستک ہو یا سکول وین کا ہارن سنائی دے توان کے دل میں یہ امید جاگ جاتی ہے کہ شاید ہمارا بیٹا واپس آگیا ہو۔

سانحہ اے پی ایس میں ایک سو سنتالیس افراد شہید ہوئے۔اس سانحے میں متاثر ہونے والے چار خاندان ایسے بھی ہیں جن کے دو دو بیٹے شہید ہوئے۔کسی بھی درد دل رکھنے والے شخص کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا کہ ان خاندانوں پر کیا بیت رہی ہوگی۔شامویل طارق ننگیال طارق،نور اللہ درانی سیف اللہ درانی ،ذیشان احمد اویس احمد اور سید عبداللہ سید حسنین نے سانحہ آرمی پبلک سکول میں شہادت پائی۔

ننگیال طارق شہید تمغہ شجاعت  شامویل طارق شہید تمغہ شجاعت

unnamed-3

پندرہ سالہ شامویل طارق اور تیرہ سال کے ننگیال طارق بلترتیب نویں کلاس اور آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے.دو سال پہلے ہی دونوں کو اچھی تعلیمی سہولیات کے باعث آرمی پبلک سکول ورسک روڈ میں داخل کروایا گیا۔دونوں کو پاک آرمی جوائین کرنے کا شوق تھا۔شہدا کی بہن مہوش جوکہ مقامی یونیورسٹی میں بی ایس آنر کر رہی ہیں وہ کہتی ہیں اس واقعے نے ہماری زندگی ویران کردی ہے.میرے دونوں بھائی بہت ذہین اور خوش اخلاق تھے۔

ہم آج بھی سولہ دسمبر دو ہزار چودہ میں سے نہیں نکل سکے۔ہمارے سامنے دونوں بھائیوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں پڑی تھیں۔ وہ بھائی جو ہماری امیدوں کا مرکز تھے ہمارے والدین کے بڑھاپے کا سہارا تھے۔ ہمیں یقین نہیں آرہا تھا وہ چلے گئے۔میری والدہ کے آنسو اب بھی خشک نہیں ہوئے۔سولہ دسمبر سانحہ آرمی پبلک سکول ہمارے ہنستے بستے گھر کو ہمیشہ کے لئے اجڑ گیا۔.میں چاہتی ہوں کہ ان بچوں کو انصاف دیا جائے اور دہشتگردوں کو کڑی سزا دی جائے.

 

 

نور اللہ درانی شہید  تمغہ شجاعت  سیف اللہ درانی شہید تمغہ شجاعت

unnamed-2

نور اللہ سیف اللہ دونوں بھائی آرمی پبلک سکول میں
نویں کلاس اور آٹھویں کے طالب علم تھے.دونوں بچپن سے ہی آرمی پبلک سکول و کالج ورسک روڈ میں زیر تعلیم تھے.شرارتی نٹ کھٹ نور اللہ اور سیف اللہ گھر بھر کی جان تھے..اکثر دونوں کھلونا بندوقیں خریدتے اور پھر آرمی بن کر دہشتگردوں کو پکڑنے کا کھیل کھیلتے. دونوں کو آرمی میں جانے کا بہت شوق تھا نور کو بری فوج میں اور سیف کو پاک فضائیہ جوائین کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا.نور یہ کہتا تھا میں فوج میں جاکر تمام ملک دشمنوں کا خاتمہ کروں گا اور سیف کو تو جہاز اڑنے کا شوق تھا وہ کہتا تھا میں ایف سولہ طیارہ اڑاوں گا اور دشمن کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے انہیں نیست و نابود کردوں گا..شہید طالب علموں کی بہن ثناء کہتی ہیں ایسا کوئی دن نہیں گزرتا کہ وہ یاد نا آتے ہوں ہم کھانا بھی کھانا چاہیں پر چند لقموں کے بعد نوالے حلق میں پھنس جاتے ہیں.میرے والدین صبر ہمت کی مثال ہیں لیکن ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جس میں ہم روتے نا ہو.میں بس یہ دعاء کرتی ہوں کہ اللہ تعالی سب والدین کو صبر دے آمین۔

 

سید عبداللہ شاہ شہید تمغہ شجاعت  سید حسنین رضا شہید تمغہ شجاعت

unnamed-1

سانحہ آرمی پبلک سکول اپنے پیچھے بہت سی دردناک داستانیں چھوڑ گیا ہے.جس میں ایک دل سوز داستان سید فضل حسین کی بھی ہے.جن کے دونوں بیٹوں سید عبداللہ اور سید حسنین نے آرمی پبلک سکول و کالج ورسک روڈ میں سولہ دسمبر کو شہادت پائی.عبداللہ دسویں حماعت کے طالب علم تھے اور ڈاکٹر بن کر ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔جبکے سید حسنین آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے ان کی والدہ انہیں فوج میں بھیجنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ سانحے کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے لیکن والدین کی نگاہیں اب بھی  ان دونوں کی راہ تک رہے ہیں.گھر سے دو بچوں کا چلے جانا کسی قیامت سے کم نہیں۔.
شہدا کے والد فضل حسین کہتے ہیں کہ ہمارا گھر ان کے جانے بعد کسی کھنڈر کا سا سماں پیش کرتا ہے ان کی والدہ بچوں کے کپڑوں کو نکال کر چومتی ہیں اور روتی ہیں۔ہمارے بچے شروع سے ہی اے پی ایس میں زیر تعلیم تھے عبد اللہ خاص طور پر پوزیشن ہولڈر تھا۔عبداللہ کی شہادت کے بعد جب اس کا نتیجہ آیا اس کی پہلی پوزیشن تھی۔ان دوںوں کے بعد ہماری زندگی تباہ ہوگئی ان کے لئے ہمارے سارے ارمان ادھورے رہ گئے۔پر اس بات سے دل کو تسلی دیتے ہیں کہ انہوں نے وطن کی خاطر جان دی۔۔پاک آرمی کے افسران نے ہمارا بہت ساتھ دیا مشکل کی گھڑی میں ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا۔اللہ تعالی ہماری صفوں میں اتحاد کردے اس وطن میں امن و امان کردے آمین۔

 

ذیشان احمد شہید تمغہ شجاعت  اویس احمد شہید تمغہ شجاعت

unnamed

ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے صوبیدار ر اکرام اللہ کے دو بیٹوں نے بھی سانحہ آرمی پبلک سکول میں شہادت پائی۔ذیشان احمد دسویں کلاس میں اور اویس احمد آٹھویں کلاس میں تھے۔پلے گروپ سے ہی دونوں اے پی ایس میں زیر تعلیم تھے۔ذیشان ڈاکٹر بننا چاہتے تھے اور اویس کی دلچسپی کمپیوٹر میں تھی۔شہید بچوں کے والد اکرام اللہ کہتے ہیں کہ میرے دونوں بچے بہت اخلاق والے تھے۔ہمیشہ سب کی مدد کرتے۔ہمیں لگتا ہے کہ جیسے آج بھی ہم کہیں سولہ دسمبر دو ہزار چودہ میں ہی کھڑے ہیں۔ان کی والدہ بہت ہی رنجیدہ رہتی ہیں ۔میں نے خود ساری زندگی فوج میں رہ کر وطن کی خدمت کی مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرے بیٹوں نے پاکستان کے لئے اپنی جان دی۔ان بچوں کی قربانی کے بعد پاکستان کے امن و امان پر بہت فرق پڑا اور صورتحال بہتر ہوئی۔میری دعاء ہے کہ اللہ تعالی پاکستان کو امن کا گہوارا بنادے آمین۔

جویریہ صدیق صحافی اور فوٹوگرافر ہیں ۔ سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشیں کتاب کی مصنفہ ہیں۔آپ انہیں ٹویٹر پر فالو کرسکتے ہیں @javerias

Posted in Army, ArmyPublicSchool, ZarbeAzb, جویریہ صدیق

اے پی ایس کا غازی

 

.

 

 

 

.

 

 

 

...جویریہ صدیق.….
17 سالہ محمد طلحہ علی16 دسمبر کو موت کو ہرا کر غازی بن کر لوٹے، پر واپسی کا سفر اتنا آسان نہیں تھا، طلحہ پشاور سانحہ کے وقت ہال میں ہی موجود تھے، جب موت کی ہولی کھیلی گئی، ایک گولی طلحہ کو جبڑے میں لگی اور تین جسم کے اوپری حصے میں دائیں طرف لیکن کہتے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے،گولیاں لگنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے طلحہ کو دوسری زندگی عطاء کی۔

طلحہ کے والد محمد علی کہتے ہیں میرے تین بچوں میں طلحہ سب سے چھوٹا ہے،نرسری کلاس سے ہی طلحہ آرمی پبلک سکول میں زیر تعلیم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سولہ دسمبر کو پشاور میں بہت ٹھنڈ تھی طلحہ نے کہا آج سکول نہیں جاتا کیونکہ سیشن کا اختتام تھا اور چھٹیاں ہونے والی تھی،لیکن پھر اٹھ گیا تیار ہوا میں خود اسے سکول چھوڑ کر آیا۔

مجھے کوئی دس بجے کے بعد اطلاع ملی کے اسکول پر حملہ ہوگیا ہے تو میں فوری طور طلحہ کو لینے کے لئے بھاگا،کچھ بچوں کو اسکول سے متصل ڈیفنس پارک میں منتقل کردیا گیا تھا، وہاں مجھے ایک بچے نے بتایا کے انکل طلحہ کو گولی لگی ہے، میں بس وہاں ہی ساکت ہوگیا، نا مجھے کچھ سنائی دے رہا تھا نا ہی دکھائی، اس بچے نے مجھے کہا انکل اس کو منہ پر گولی ہے، میں اسپتال کی طرف گیا تو ہر طرف ننھے پھولوں کی لاشیں ہی لاشیں تھیں، میں طلحہ کو ڈھونڈتا رہا نہیں ملا تو نڈھال ہو کر بیٹھ گیا۔

اتنے میں سی ایم ایچ میں ایک نیک دل بریگیڈیئر صاحب نے مجھے تسلی دی ،پانی پلایا اور اس کے بعد مجھے پتہ چلا کے طلحہ آپریشن تھیٹر میں ہے،طلحہ کی والدہ شدت غم سے نڈھال تھیں، میں نے ان کو تسلی دی کے وہ زخمی ہے، جب آپریشن کے بعد میں نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو منہ کا ایک حصہ گولی کی وجہ سے اڑ چکا تھا، میرے بیٹے کا جبڑا اور ایک طرف کے سارے دانت ٹوٹ گئے تھے زبان بھی زخمی اور جسم پر دھماکے اور گولیوں کے نشان۔

ایسا کون سا حصہ نہیں تھا جس پر زخم نا ہو میں پتہ نہیں کیسے یہ منظر دیکھ رہا تھا، مجھے لگ رہا تھا۔میں نے بہت ہمت پیدا کرکے اپنے بیٹے کو دیکھا لیکن اپنی اہلیہ کو بہت دن طلحہ کو اس حالت میں نہیں دیکھنے دیا، کیونکہ اگر وہ پہلے دن طلحہ کو ایسے دیکھ لیتی تو اپنے ہوش گنوا دیتی،جب طلحہ ہوش میں آیا تو میں اس کی والدہ کو لے کر گیا، سی ایم ایچ کے ڈاکٹرز اور عملے نے ہمارا بہت خیال رکھا، ان کی شفقت اور محنت کی بدولت طلحہ کی صحت بہتر ہونا شروع ہوئی۔

طلحہ کے چہرے پر اب بھی 16 دسمبر کی یادیں نمایاں ہیں، ایک طرف سے وہ کھانا نہیں کھا سکتا ،سخت چیزیں نہیں کھاسکتا کیونکہ تمام دانت گولی لگنے سے ٹوٹ گئے تھے.طلحہ پھر بھی خود کو نفسیاتی اور جسمانی طور ہر مضبوطی سے سنبھالے ہوئے ہے، طلحہ نے میٹرک کا امتحان اس ہی حالت میں دیا اور نو سوسے زائد نمبر حاصل کئے،اب وہ فرسٹ ائیر میں ہے لیکن ناسازی طبیعت کے باعث ریگولر کلاس نہیں لے پارہا۔

غازی طلحہ کہتے ہیں میرے حوصلے بلند ہیں اس سانحے کے بعد میرے اندر بہت ہمت آگئی ہے، میں نے پری انجینئرنگ میں ایڈمیشن لے لیا ہے، میرا خواب ہے کہ میں سول انجینئر بنوں، مجھے میتھس، فزکس اور مطالعہ پاکستان بہت پسند ہیں، اب میں طبیعت میں بہتری محسوس کرتا ہوں تو کرکٹ کھیلنا پسند کرتا ہوں لیکن امی کو فکر ہوتی ہے وہ مجھے کہتی ہے ان ڈور گیم کھیلو۔

جب بھی16 دسمبر یاد آتا ہے تو چلے جانے والے دوست بہت یاد آتے ہیں، پر میں اسے وطن کی خاطر ایک عظیم قربانی گردانتا ہوں، جب اس دن کی ہولناکی یاد آتی ہے تو میں اس وطن عزیز پر جان قربان کرنے والوں کی داستانیں پڑھتا ہوں، اس سے میرے اندر جذبہ حب الوطنی مزید بڑھ جاتا ہے، میرے منہ پر گولی لگی اب بھی میرے زخم مکمل طور پر بھرے نہیں لیکن پھر بھی میرا جذبہ جوان ہے، مجھے باہر جاتے ہوئے ماسک پہنا پڑھتا ہے لیکن پھر بھی میں زندگی کی جنگ لڑ رہا ہوں۔

مجھے امید ہے مزید علاج سے میں مکمل طور پر نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئوں گا، میں اس بات سے مکمل آگاہ ہوں کہ مکمل صحت یاب ہونے میں کافی وقت لگے گا، لیکن میں خود کو نفسیاتی طور پر مکمل صحت مند محسوس کرتا ہوں اورخود کو خوش رکھتا ہوں، میرے والدین میرے خاندان اور دوستوں کی توجہ اور پیار نے مجھے ٹوٹنے نہیں دیا۔16 دسمبر کے بعد سے مجھے رات کو جلد نیند نہیں آتی تو میں خود کو کتابوں میں مگن کرلیتا ہوں،پر میرے بہت سے غازی ساتھی بہت تکلیف میں ہیں وہ ڈرتے ہیں رات کو سو نہیں پاتے جسمانی اور نفسیاتی تکلیف سے وہ نڈھال ہیں۔

طلحہ کہتے ہیں اس سانحے نے ہم میں وہ جذبہ بیدار کردیا ہے کہ دہشتگردی کو ختم ہم نے ہی کرنا ہے، اچھی تعلیم حاصل کرکے ہر شعبے میں ترقی کرکے اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس سانحے نے مجھے وطن کی قدر سیکھا دی ہے، کس طرح ہمارے بڑوں نے قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا اب ہم بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

نوجوان غازی کا حوصلہ اور جذبہ اپنی جگہ لیکن اب بھی طلحہ کو علاج کی ضرورت ہے اور اچھی تعلیم کی بھی لیکن یہ حکومتی معاونت کے بغیر ممکن نہیں، طلحہ کی ناک سرجری چہرے کی سرجری اور دوبارہ دانت لگنے کا عمل جاری ہے، جنرل راحیل شریف کی ہدایت پر اے پی ایس سانحے کے تمام بچوں کا علاج سی ایم ایچ میں مفت ہوا،لیکن اب پھر سے اے پی ایس کے بہت سے غازی دوبارہ فالو اپ چیک کے منتظر ہیں، بچوں کے چہروں کی سرجری، ان کی ہڈیوں کی بحالی اور نفسیاتی صحت پر کام فوری طور پر کرنا ہوگا۔
Javeria Siddique
twitter@javerias

Posted On Tuesday, September 08, 2015

Posted in Army, Pakistan, Uncategorized

قوم کی عظیم بیٹی مریم مختیار

 

قوم کی عظیم بیٹی مریم مختیار

  Posted On Sunday, November 29, 2015
  …..جویریہ صدیق…..
مریم مختیارشہید جیسی بیٹیاں صدیوں میں جنم لیتی ہیں، ایسی بیٹیاں قوم کا اثاثہ اور باعث فخر ہوتی ہیں، پاکستان کی پہلی خاتون شہید پائلٹ مریم 1992 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔

والد کرنل (ر) مختیار احمد شیخ کو دیکھ کر مریم کے دل میں بھی پاک افواج میں جانے کا شوق پیدا ہوا،ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور سول انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی۔

بعد ازاں پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی،لڑاکا طیاروں کو اڑانے کی تربیت کا آغاز کیا اور پی اے ایف رسالپور اکیڈمی سے 2014 میں گریجویٹ کیا،فلائنگ آفیسر مریم مختیار پاکستان کے پہلے جنگی جہاز اڑانے والی خواتین کے گروپ میں سے ایک تھیں، شاہین صفت مریم کو آسمان کی بلندیوں پر پرواز کا شوق تھا، یہ شوق انہیں آگےبڑھنےمیں مدد دیتارہا۔

مریم مختیار نے اپنی شہادت سے پہلے انٹرویو میں کہا مجھے شروع سے ہی ائیر فورس میں جانے کا شوق تھا، مجھے ائیر فورس کا یونیفارم اور شان وشوکت شروع سے پسند تھے، وطن کے لئے کچھ ہٹ کر کرنے کا جذبہ مجھے ائیر فورس میں لئے آیا، مجھے میرا کام بہت پسند ہے۔دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ پاکستان میں خواتین کو کام کرنے کی کتنی آزادی ہے، مجھے پاک فضائیہ نے مزید پر اعتماد بنا دیا ہے۔

24 نومبر کو مریم مختیار اسکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی کے ساتھ روٹین کی فلائٹ پر تھیں کہ میانوالی کے قریب طیارے میں فنی خرابی ہوگئ، فلائٹ آفیسر مریم مختیار اور ان کے ساتھ اسکواڈرن لیڈر نے کمال مہارت کے ساتھ طیارے کو شہری آبادی پر گرنے سے بچایا،اس ہی جدوجہد میں 24 سالہ مریم مختیار نے جام شہادت نوش کیا اور اسکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی زخمی ہوگئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

میڈیا پر یہ خبر آتے ہی کہ فلائٹ آفیسر مریم مختیار نے طیارہ کریش میں جام شہادت نوش کیا ہے ہر طرف سوگ کی کیفیت طاری ہوگی، ہر طرف پاکستان کی اس بہادر بیٹی کے چرچے ہونے لگے۔ آفرین ہے شہید مریم مختیار کے خاندان پر انہوں نے بہت حوصلے سے جواں سال بیٹی کی اچانک موت پر بہت صبر کا مظاہرہ کیا، شہید کے والد اور والدہ دونوں نے کہا ہمیں اپنی بیٹی کی شہادت پر فخر ہے۔

مریم مختیار کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئےکہا میں اپنی بیٹی کو کہتی تھی سورج بنو، اپنی روشنی اور قابلیت سے دنیا کے کام آئو، وہ کہتی ہیں زندگی ایسی گزار کر جانا چاہیے کہ دنیا فخر کرے، میری بیٹی کو ائیر فورس نے تراش کر ہیرا بنا دیا، آج مریم مختیار شہید کی زندگی اور شہادت پر سب کو فخر ہے، مریم شہید کے والد کہتے ہیں مجھے امید ہے مریم کی شہادت کے بعد مزید بچیاں اس شعبے میں آکر مریم کا مشن آگے لے کر چلیں گی، وہ بہت بہادر تھی اس نے مجھے کہا بابا جب پائلٹ کا جہاز کا کریش ہوتا ہےتو اس کی صرف راکھ ملتی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی قوم کی اس شیر دل بیٹی کو سب خراج تحسین پیش کرتے رہے۔ حنا طاہر نواز نے ٹوئٹ کیا ریسٹ ان پیس مریم مختیار۔ مہوش راجپوت نے ٹوئٹ کیا پاکستان کی شہزادی مریم مختیار ہمیں تم پر فخر ہے۔طاہر اکبر نے ٹوئٹ کیا پوری قوم کو شہید مریم کی شہادت پر فخر ہے۔ماریہ چوہدری نے ٹوئٹ کیا مریم شہید پاکستان کی پہلی خاتون شہید پائلٹ ہیں۔ضمیر احمد ملک نے ٹوئٹ کیا مریم مختیار صرف24سال کی عمر میں شہادت کا درجہ پاگئ۔ قوم کی اس عظیم بیٹی کو سلام۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter@javerias

 
Posted in Army, human-rights, Pakistan, Uncategorized, ZarbeAzb

آپریشن ضرب عضب کا ایک سال

آپریشن ضرب عضب کا ایک سال

Posted On Monday, June 15, 2015   …..جویریہ صدیق……
امریکا میں تو نائن الیون جیسا دہشتگردی کا واقعہ ایک بار ہوا لیکن اس واقعے کی قیمت پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں اتحادی بننے کے بعد ہر روز چکائی۔سیکڑوں نائن الیون جیسے واقعات پاکستان میں رونما ہوئے جس میں70 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جان سے گئے۔ طالبان ہوں القاعدہ ہو یا ’را‘ کے آلہ کار سب کے نشانے پر معصوم پاکستانی۔ دہشت گردی نے پاکستانی عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔کچھ مصلحت پسند سیاست تب بھی دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کا راگ الاپتے رہے،لیکن کراچی میں اصفہانی ہینگر پر دہشت گردانہ حملے کے بعد عوام کی طرف سے یہ مطالبہ شدت اختیار کرگیا کہ دہشتگردوں کے خلاف فوری بڑے آپریشن کا آغاز کیا جائے،پاک آرمی اس پہلے بھی آپریشن راہ راست، آپریشن راہ نجات،آپریشن المیزان اور آپریشن راہ حق کے ذریعے سے شدت پسندی کا خاتمہ کرچکی تھی،لیکن شمالی وزیرستان میں بڑے آپریشن کی اشد ضرورت کی جارہی تھی۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم نواز شریف نے جون 2014 میں ضرب عضب آپریشن کا آغاز کیا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار مبارک پر اس آپریشن کا نام رکھا گیا، یہ تلوار رسول اللہ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر اور غزوہ احد میں استعمال کی، اس کا مطلب ہے کاٹ دینے والی ضرب۔آپریشن ضرب عضب سے پہلے عام شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کی تلقین کی گئ۔ساڑھے دس لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی جنہیں بنوں اور بکا خیل میں عارضی طور پر پناہ دی گئ۔آرمی نے تمام لوگوں کو باقاعدہ رجسٹر ڈکرکے کیمپوں میں منتقل کیا۔15 جون کو پہلی کاروائی میں 120 دہشت گرد مارے گئے اور بارودی ذخیرے تباہ ہوئے۔آپریشن میں ابتدائی طور پر لڑاکا جیٹ طیاروں،گن شپ ہیلی کاپٹر کوبرا نے اہداف کو نشانہ بنایا بعد میں زمینی کاروائی کا آغاز ہوا۔میر علی، میران شاہ،ڈانڈے درپہ خیل،غلام علی ،شوال،بویا،سپلگاہ،زراتا تنگی میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا،ان کاروائیوں میں دہشتگردوں کو بھاری نقصان پہنچا اور متعدد گولہ بارود کے ٹھکانے تباہ کئے گئے۔

اکتوبر میں ضرب عضب کے ساتھ ساتھ خیبر ایجنسی میں خیبر ون اور ٹو کا بھی آغاز کردیا گیا۔ضرب عضب نے کامیابی سے اپنے اہداف پورے کرنا شروع کئے تو پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں طور پر کمی آئی،تاہم بزدل دشمن نے بدلے کی آگ میں پشاور میں آرمی پبلک سکول و کالج پر حملہ کردیا،ان کا مقصد بچوں کو یرغمال بنانا نہیں تھا ،ان بزدل دہشتگردوں کا مقصد صرف پاک افواج اور پاکستانی شہریوں کے قلب پر حملہ کرنا تھا،پر بزدل طالبان اور بھارت کے پالتو دہشتگرد پاکستانیوں کے حوصلے کو پست نہیں کرسکے،سانحہ پشاور کے بعد قوم نے ایک بار پھر متحد ہوکر دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کیا۔اس موقع پر آرمی چیف راحیل شریف کا کردار قابل ستائش ریا، جہاں وہ ایک شفیق بڑے بھائی کی طرح سانحہ پشاور کے شہدا کو دلاسا دیتے رہے تو دوسری طرف ماہر سپہ سالار کی طرح دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت علمی ترتیب دیتے گئے۔

وزیراعظم نواز شریف نے پھانسی پر عائد پابندی کو ختم کردیا اور ملٹری کورٹس کی منظوری دےدی،دہشتگردوں کو پھانسیاں دے کر انہیں زمانے بھر کے آگے نشان عبرت بنا ڈالا یو ں دوسرے بزدل دہشت گردوں کے حوصلے بھی مزید پست ہوگئے،اب دہشتگردی کی کاروائیاں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں کم ہوگئیں۔

آپریشن ضرب عضب کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے اور اس دوران 2763 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاگیا۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق شمالی وزیرستان سے 18087 ہتھیار اور 253 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیاگیا،دہشت گردوں کے 837 خفیہ ٹھکانے تباہ کئے گئے،اس آپریشن کے نتیجے میں بیشتر علاقہ دہشتگردوں سے خالی کروالیا گیا،ملک کی خاطر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے 347 فوجی جوانوں اور افسران نے جام شہادت نوش کیا.یہ ان نوجوانوں کی قربانی کا نتیجہ ہے کہ وزیرستان کے لوگ آج واپس اپنے علاقوں میں لوٹ رہے ہیں،اب ان افراد کو یہ اطمینان ہے کہ وہ اپنے گھر کو لوٹ رہے ہیں جو اب مکمل طور پر پرامن ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مطابق اس آپریشن پر 44 ارب روپے خرچ ہوئے ہیں اور اس آپریشن نے اپنے اہداف کامیابی سے حاصل کئے۔ان کے مطابق آئی ڈی پیز کی واپسی اور مکمل بحالی کے لیے 130 ارب روپے خرچ ہوں گے۔پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے عندیہ دیا ہے دہشتگردوں کے خلاف اس وقت تک کاروائی جاری رہے گی جب تک کہ ملک سے شدت پسندوں کا خاتمہ نا ہوجائے۔

پاکستانیوں کی بھی یہ ہی خواہش ہے کہ یہ آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچے اور وطن عزیز میں مکمل امن ہوجائے، تاہم اب بھی ایک بہت بڑا چیلنج درپیش ہے چین کے صدر ژی جن پنگ کے دورہ پاکستان جس میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا اعلان کیا گیا،اس کے بعد سے دہشتگردی کی ایک نئی لہر سامنے آئی اور یہ ثبوت عیاں ہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را اس میں ملوث ہے۔پاک فوج کو سندھ اور بلوچستان میں ان عناصر کا خاتمہ کرنا ہوگا جو دشمن کے آلہ کار ہیں۔پاکستان کو اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا ،نئی بندرگاہوں کی تعمیر ناگزیر ہے،جس طرح ضرب عضب میں دہشتگردوں کی کمر توڑی گئ اس ہی طرح پاکستان کے دیگر شہروں میں وطن دشمن سرگرمیوں میں مصروف افراد اور مافیا کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کرنا ہوگا،قوم کی نگاہیں راحیل شریف کی طرف ہیں کس طرح سپہ سالار قوم کو مکمل طور پر دہشت گردی سے نجات دلوائے گا،قوم کے ہر اس سپوت کو سلام جس نے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ضرب عضب میں حصہ لیا اور دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا،قوم کی ان مائوں کو سلام جن کے جوان بیٹوں نے مادر وطن پر اپنی جان نچھاور کردی اور ان کے حوصلے اب بھی بلند ہیں،قوم کے ان غازیوں کو بھی سلام جن کی بدولت آج دہشتگردی میں قدرے کمی آئی ہے۔

پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد
Javeria Siddique writes for Daily Jang
twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10891#sthash.Ps7IQwTT.dpuf