Posted in health, Javeria Siddique, Pakistan, rain, Uncategorized

موسم برسات میں احتیاط لازم

RAin-control۔۔

اسلام آباد….جویریہ صدیق….ملک اس وقت شدید بارشوں کی لپیٹ میں ہے اور محکمہ موسمیات نے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کی پیشگوئی کی ہے۔ملک کے بالائی علاقوں کشمیر فاٹا خیبر پختون خواہ بالائی پنجاب اور جڑواں شہروں میں بھی گھن گرج کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری ہے جس نے سردی میں اضافہ کردیا ہے۔

مسلسل بارش کی وجہ سے متعدد مکانات بھی منہدم ہوئے۔بلوچستان کے علاقوں خضدار، قلات، چمن، چاغی اور زیارت بارش سے زیادہ متاثر ہوئے۔بارشوں کے باعث خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں بھیمتعدد افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے۔

تاہم مسلسل بارش کے دوران کچھ احتیاطی تدابیر اپنا کر بہت سے حادثات کو ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔سب سے پہلے تو ٹی وی خبروں اخبارات ریڈیو یا محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ سے موسم کے حوالے سے آگاہ رہیں۔اگر آپ نشیبی علاقے میں رہائش پذیر ہیں توقیمتی سامان کو بالائی منزل پر شفٹ کرلیں۔

اگر ہوسکے تو ممکنہ سیلاب یا طغیانی سے بچنے کے لئے کسی رشتہ دار کے گھر چلے جائیں۔موسم ٹھیک ہونے پر واپس لوٹ آئیں۔چھت ڈالتے وقت یہ خیال رکھیں کہ وہ مضبوط اور پائیدار ہو۔ پاکستان میں بہت سے لوگ اپنی جان سے محض اس لئے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کہ کمزرو ہونے کی وجہ سے چھت گرتی ہے۔

بارشوں سے پہلے گھر میں چھت یا دیواروں کی لیکج کو چیک کروالیں۔گھر میں موجود ڈرینج سسٹم اور گٹر بھی چیک کروائیں۔ اگر کوئی بلاک ہے تو پلمبر اس کو کھول دے گا اوربارش میں نکاسی آب میں آسانی رہے گی۔ابتدائی طبی امداد کا سامان ادویات بھی خرید کر رکھ لیں تاکہ بارش میں نا جانا پڑے۔

اگر بارش اور سیلاب کی پیشنگوئی کی گئ ہو تو مناسب خوراک،اشیائے خوردونوش اور پینے کے صاف پانی کا بھی ذخیرہ کرلیں۔گھر میں ٹارچ سیل اور موم بتیاں بھی لازمی ہونی چاہیں۔تاہم اہم نمبر موبائل کے ساتھ ایک ڈائری میں لکھ کر بیگ یا پرس میں ساتھ رکھ لیں۔

بارش میں بہت سے حادثات بجلی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کسی بھی گیلی تار یا ٹوٹی ہوئی تار کو ہاتھ لگانے سے پرہیز کریں۔ دوران بارش کسی بھی بجلی کی چیز کو ننگے پاوں یا گیلے ہاتھ نا لگالیں۔غیر ضروری بجلی کے آلات کو بند کردیں۔اگر بارش کے باعث کوئی بجلی کی تار یا چیز خراب ہوجائے تو خود ٹھیک کرنے سے پرہیز کریں اور الیکٹریشن ہو کو بلائیں ۔

اگر گھر میں پانی داخل ہوجائے تو گیس اور بجلی کے مین سوئچ بند کردیں۔خود ٹارچ یا پورٹیبل لیمپ کا استعمال کریں۔اگر پانی زیادہ داخل ہوجائے تو پہلے اپنی جان کی حفاظت کریں اور خود کو محفوظ مقام پر منتقل کریں۔

باہر کسی بھی بجلی کے پول اور سائن بورڈ سے دوررہیں۔ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو اداروں کو مدد کے لئے فون کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ بارش میں حفظان صحت کے اصولوں کا بھی خیال رکھیں۔گندے ہاتھ منہ پر نا لگائیں۔کوئی بھی پھل ،سبزی بنا ہاتھ دھوئے نا کاٹیں نا کھائیں۔بازار کی اشیاء خاص طور پر پکوڑے، سموسے وغیرہ کھانے سے پرہیز کریں ۔پانی ابال کر پئیں۔

برسات میں خاص طور پر ہیضہ نزلہ زکام اسہال عام ہوجاتا ہے جس سے بچنے کا واحد حل حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند رہنا ہے۔

برسات میں مچھروں کی بھی بہتات ہوجاتی ہے اس کے ساتھ کیڑے مکوڑے بھی ان سے بچنے کے لئے ریپلنٹ کا ستعمال کیا جائے اور اسپرے کیا جائے۔بچوں پر خاص نظر رکھیں اور انہیں برسات میں ندی نالوں میں نہانے سے منع کریں۔

دوران بارش ڈرائیونگ سے گزیز کریں اگر ڈارئیونگ کرنا ناگزیر ہو تو نشیبی علاقوں میں گاڑی لے جانے سے پرہیز کریں۔اپنے گھر والوں کو اپنے روٹ سے آگاہ کریں۔

نکلنے سے پہلے گاڑی کی لائٹس، وائپر، ہیٹر اور فیول چیک کرلیں۔موبائل ساتھ لازمی رکھیں۔گاڑی کی رفتار کم رکھیں اور آگے والی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔ہلکی آواز میں ریڈیو سنتے رہیں تاکہ حالات سے باخبر رہیں۔ہیڈ لائٹس آن رکھیں۔

کسی بھی راہ چلتے شخص یا موٹر سائیکل سوار کے پاس گاڑی کی رفتار بہت کم کردیں تاکہ وہ کیچڑ سے محفوظ رہیں۔اگر بارش زیادہ ہوجائے تو کسی محفوظ جگہ پر یا سروس اسٹیشن پر گاڑی پارک کرکے پارش کے تھمنے کا انتظار کریں۔کسی بھی ندی نالے کو کراس کرنے سے گریز کریں کیونکہ پانی کی رفتار گاڑی کو بہا لے کر جاسکتی ہے۔اس لئے متبادل راستہ اختیار کریں۔تیز رفتاری صرف آپ کے لئے نہیں بلکے اردگرد لوگوں کے لئے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

بارشوں میں جلد پر بھی بہت سے جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں۔اس لئے جلد کی حفاطت کریں ۔منہ پر گندے ہاتھ نا لگائیں۔ہاتھوں کو صابن یا ہیںڈ واش سے دھویں اور منہ کو دن میں تین سے چار بار دھویں۔کوئی گندہ تولیہ یا کپڑا منہ پر نا استعمال کریں۔

سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ قدرتی طور پر ہوا سے آپ کا منہ خشک ہوجائے۔بارش بھی چند حفاظتی تدابیر اپنا کر ہم بہت سی بیماریوں اور حادثات سے بچ سکتے ہیں اور موسم کو بہترین طریقے سے انجوائے کرسکتے ہیں۔

 

575d63910d6a9

Advertisements
Posted in health, Pakistan, Uncategorized

ہیٹ اسٹروک تشخص علاج اور احتیاطی تدابیر

download (7)

 

 

 

 

جویریہ صدیق : اسلام آباد

Twitter  @javerias
پاکستان میں  گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سن اور ہیٹ اسٹروک  کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔2015کراچی میں  گرمی کی لہر کے باعث دو سو سے زائد افراد سن اسٹروک کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔اس لئے گرمی کے موسم میں کچھ احتیاطی تدابیر کرنا بہت ضروری ہے۔ سن اسٹروک سورج کی شعائوں اور گرمی کے باعث ہوتا ہے۔اس کی ابتدائی علامتوں میں سر میں اچانک سخت درد،بخار ہوجانا،آنکھوں کے آگے اندھیرا آنا،قے آنا ،سانس لینے میں دشواری اور پسینہ نا آنا شامل ہے۔اگر کسی بھی شخص میں یہ علامتیں دیکھیں تو اسکو فوری طور پر ٹھنڈی جگہ یا سایہ دار جگہ پر منتقل کریں۔متاثرہ شخص کے کپڑے کم کردیں۔جوتے اتار دیں۔ٹھنڈا پانی دیں مریض کے ماتھے سر گردن ہاتھوں پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں۔اگر طبیعت میں بہتری آئے تو متاثرہ شخص کو نہانے کا کہیں۔لیکن اگر طبیعت میں بہتری نا آئے تو فوری طور پر اسپتال کا رخ کریں۔

اللہ تعالی نے قدرتی طور پر انسان کے جسم میں درجہ حرارت کو کنڑول کرنے کا نظام بنا رکھ ہے۔انسان جلد کے مساموں سے پانی خارج کرتا ہے اور گرمی میں یہ اخراج زیادہ ہوجاتا ہے اگر ہم پانی نا پئیں اور زیادہ وقت گرمی میں رہیں تو اس نظام میں بگاڑ آجاتا ہے اور انسان ہیٹ یا سن اسٹروک کا شکار ہوجاتا ہے۔ہیٹ اور سن اسٹروک میں معمولی سا فرق ہے سورج کی شعاعوں سے براہ راست متاثر ہونے والا شخص سن اسٹروک کا شکار ہوتا ہے اور گرم جگہ پر کام کرنے والا یا بنا بجلی کے گرمی میں کام کرنے والا شخص ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوتا ہے۔اس کا زیادہ شکار وہ ہی لوگ ہوتے ہیں جو گرمی میں سر ڈھانپ کر نا نکلیں جنہوں نے مناسب پانی کی مقدار نا پی رکھی ہو یا وہ گرم جگہ پر کام کرتے ہوں ۔اس کے ساتھ ساتھ شراب نوشی کرنے والے افراد اور وہ لوگ جنہوں نے موسم کے حساب سے کپڑے نا پہنے ہوں وہ بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

سن اسٹروک کسی بھی عمر کے افراد کو ہوسکتا ہے بہت زیادہ گرمی میں کام کرنا سخت ورزش کرنا دھوپ میں کسی کھیل کا حصہ بننا،بجلی کا نا ہونا،پانی کا دستیاب نا ہونا اور ہوا میں نمی کے تناسب میں کمی کے باعث یہ کسی بھی عمر کے بچے عورت یا مرد کو ہوسکتا ہے۔اگر اس کے علاج پر فوری طور پر توجہ نا دی جائے تو بعض اوقات انسان کومہ میں چلا جاتا ہے جو کہ اسکی موت کا باعث بن جاتا ہے۔

پمزاسپتال کے میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر سلمان شفیع کے مطابق زیادہ گرمی میں کام یا سفر ہیٹ اسٹروک کا باعث بنتا ہے اگر کوئی شخص بہت دیر دھوپ میں کام کرنے کے بعد بے ربط گفتگو کرنے لگے یا بہت پانی پینے کے باوجود اس کو پیشاب کی حاجت نا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کے جسم کا درجہ حرارت بگڑ چکا ہے۔اس کے ساتھ اگر کوئی شخص دھوپ میں بے ہوش ہوجائے اس کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔جب ہمارے پاس گرمی سے متاثر کوئی مریض آتا ہے تو ہم اس بہت سے فلوئیڈ لگاتے ہیں خاص طور پر ڈرپ بھی ٹھنڈی ہوتی ہے۔تاہم اگر کوئی مریض بے ہوشی کی حالت میں آئے تو سب سے پہلے ہم اسکے سانس کی بحالی پر توجہ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیمان کے مطابق رمضان المبارک گرمیوں میں آئیں گے تو روزہ دار کوشش کریں کہ وہ پانی کا تناسب سحری میں اور افطاری میں نارمل رکھیں ۔ہلکی پھلکی غذائیں لیں، مرغن کھانوں سے پرہیز کریں۔ہلکے رنگ کے کپڑے استعمال کریں سفید رنگ موزوں ترین ہے۔اپنے کام صبح یا عصر کے بعد انجام دیں۔تاہم دفتری فرائض کی ادائیگی کے لیے اگر دھوپ میں جانا ناگزیر ہو تو ٹوپی کپڑا یا چھتری کا استعمال کریں۔اپنے ساتھ پانی کی بوتل رکھیں گرمی لگے توکپڑے کو گیلا کرکے بھی سر گردن پر رکھ سکتے ہیں۔ان کے مطابق اگر کوئی شخص اچانک ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوجائے تو اسکو گیلا کرکے پنکھے یا اے اسی میں لے جائیں ۔اگر بجلی نا ہو تو ٹب میں پانی تھوڑی برف ڈال کر مریض کو گردن تک لٹا دیا جائے۔اگر لوڈشیڈنگ یا پانی کی کمی کے باعث یہ بھی ممکن نا ہو تو مریض کو ٹھنڈی پٹیاں کی جائیں اور اسکو ٹھنڈا پانی پلایا جائے۔ہیٹ یا سن اسٹروک سے اس ہی طرح بچا جاسکتا ہے کہ عین دوپہر میں دھوپ میں نکلنے سے پرہیز کیا جائے اور اگر نکلنا ناگزیر ہے تو پھر سر گردن چہرے کو ڈھانپ لیا جائے۔

جیسے ہی گرمیوں میں یہ محسوس ہو کہ جسم کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جسم گرم ہو جائے لیکن پسینہ نا آرہا ہو طبیعت بوجھل محسوس ہو سر میں سخت درد شروع ہوجائے یا دل کی دھڑکن تبدیل ہوجائے تو سمجھ جائیں کہ آپ سن اسٹروک کا شکار ہوگئے ہیں۔فوری طور پر ٹھنڈا پانی پئیں لیٹ جائیں ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کریں اگر طبیعت میں سدھار نا آئے تو فوری تو پر ڈاکٹر کو دکھائیں کیونکہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔گرمی میں پانی زیادہ سے زیادہ پئیں، ڈبے کے جوس اور فریزی ڈرنکس سے مکمل پرہیز کریں۔ گرمی میں شاپنگ سے پرہیز کریں اگر جانا ہو تو گاڑی کسی سائے دار جگہ پر پارک کریں اور گاڑی میں ہرگز بچوں کو نا چھوڑیں۔کیونکہ گرمی میں گاڑی کا درجہ حررات فوری طور پر بڑھ جاتا ہے۔احتیاط کریں کیونکہ سن اسٹروک کے باعث دماغ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Posted in fog, health, pollution, تمباکونوشی

یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے

Posted On Tuesday, November 22, 2016
بڑی بڑی عمارتیں بناتے ، لمبی لمبی گاڑیوں میں گھومتے انسان یہ تو بھول ہی گئے تھے کہ جس فضا میں سانس لئے رہے ہیں اس کو کتنا آلودہ کررہے ہیں ۔ہوا کچھ یوں نئی دہلی اور لاہور کے لوگ جب ایک صبح اٹھے تو دیکھا دھند چھائی ہوئی۔سب سمجھے کہ چلو آخر کار نومبر میں سردی آہی گئ۔خوشی خوشی باہر نکلے تو دھند کچھ عجیب تھی آنکھیں جلنےلگی اورگلےمیں خراش ارے یہ کیا ہوا یہ دھند تو نہیں کچھ اور ہے ۔اس دن شاید دونوں ممالک کے لوگوں کے احساس ہوا ۔ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ نفرت میں شاید مدر نیچر کو بھی نہیں بخشا ۔

جنگیں میزائل گولا بارود تو ایک طرف ہم تو ایک دوسرے کے لئے زہریلی فضا بھی قائم کررہے ہیں تاکہ ہماری موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلیں کھل کر جی بھی نا سکیں نا سانس لئے سکیں ۔لوگوں نے کہا دیکھو جی بھارت نے یہ زہریلی گیس پاکستان پر چھوڑی ارے تو بھائی کیا انہوں نے گیس اپنے دارالحکومت نئی دہلئ پر بھی خود چھوڑ دی ۔ایسا کچھ نہیں ہے دونوں ممالک میں ماحول دوست سرگرمیاں نا ہونے کے برابر ہیں اس لئے اب صورتحال کچھ ہے کہ نیچر کا از خود رپئیر کا سسٹم بھی اب کچھ تھک گیا ہے جس کی وجہ سے سموگ نے دہلی اور لاہور کو لپیٹ میں لئے لیا ۔

بہت سے لوگ سموگ سے واقف نہیں ہیں تو ان کے لئے بتاتی چلوں یہ ایک ایسی دھند ہے جو آلودگی کے باعث جنم لیتی ہے۔جس میں سلفئر اوکسایڈ، نائٹروجن آکسائیڈ،سی ایف سی گیسز، کوئلے کا دھواں، صنعتی دھواں ،ٹریفک کا دھواں، مٹی کے زرات اور آگ شامل ہے۔ پاکستان اور بھارت میں فصلوں کی کٹائی کے بعد جڑوں کو آگ لگانے سے بھی سموگ پیدا ہوتی ہے۔اس کے ساتھ دیوالی کے موقع پر ہونے والی آتش بازی بھی اس کے پھیلاو کا سبب ہے۔اس کے باعث سڑکوں پر وزیبلیٹی یا حد نگاہ بہت کم ہوجاتی ہے۔

اس کے اثرات بہت مضر ہوتے ہیں ۔ سموگ بچوں بڑوں تمام کی صحت پر منفی اثرات چھوڑتی ہے ۔سب زیادہ اثر پھیپھڑوں، گلے دل اور آنکھوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔سموگ کے باعث لاہور اور نئی دہلی دونوں میں لوگ بڑی تعداد میں ناک کان آنکھوں اور گلے کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔جن میں سانس لینے میں دشواری ،آنکھوں میں جلن عام ہے۔

دنیا کے بڑے شہر بیجنگ دہلی میکسیکو اسکا شکار ہوئے اور اب لاہور بھی اس کی زد میں ہے۔سموگ کے باعث ٹریفک حادثات میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

لاہورمیں ایک عرصہ دراز سے تعمیراتی منصوبوں پر کام ہورہا ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ درختوں کو کاٹ دیا گیا ۔جس کے باعث آلودگی کی شرح میں اضافہ ہوا ۔لاہور شہر میں بہت سی صنعتیں غیر قانونی طور پر کام کررہی ہیں وہ بھی آلودگی کا بڑا سبب ہیں ۔اس کے ساتھ عوام کا بھی عمومی رویہ کچھ اس طرح کا ہے جس کی وجہ سے آلودگی بڑھ رہی ہے ۔کچرا سڑکوں پر پھینک دیا، صاف پانی میں فضلہ شامل کردیا،کیمیکلز کا استعمال، گاڑیوں کی ٹیونگ نا کروانا وغیرہ شامل ہے۔

سموگ سے کچھ احتیاط کرکے بچا جاسکتا ہے جس وقت محکمہ موسمیات کی طرف سے یہ وارنگ جاری کی جائے کہ سموگ ہونے کا امکان ہے تو گھر سے نکلنے سے پرہیز کریں اگر باہر جانا ہو تو منہ ڈھانپ کر نکلیں ۔آنکھوں پر چشمہ لگائیں بہت دھند میں گاڑی چلانے سے پرہیز کریں۔لیکن یہ عارضی احتیاطی تدابیر ہیں۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرہ سر پر کھڑا ہے لیکن نا ہی پاکستان نا ہی انڈیا دونوں کی توجہ اس پر نہیں ۔ ۔کیوں نا دہلی سرکار اور لاہور کے درمیان ایک مقابلہ ہوجائے درخت لگانے کا کون زیادہ درخت لگائے گا۔

عوام صرف ماحول دوست سرگرمیاں کرکے ہی ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرسکتے ہیں۔پودے لگائے جائیں،جنگلات کی کٹائی کو روکا جائے ،شمسی توانائی کو عام کیا جائے ،پانی کو آلودہ نا کیا جائے ۔غیر ضروری طور پر اگ نالگائی جائے ۔سی ایف سی اور وی او سی جن اشیاء میں شامل ہو ان کے استعمال سے گریز کریں ۔گاڑی کی ٹیونگ کرائیں اور قریب میں کہیں جاتے ہوئے سائیکل یا واک کرنے کو ترجیح کریں ۔تمباکو نوشی سے پرہیز کریں ۔اسلام آباد اور لاہور میں بہت سے تعمیراتی منصوبے جاری ہیں اس لئے حکومت پر یہ خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان منصوبوں کے ساتھ پلانٹیشن کریں تاکہ فضائی آلودگی میں کمی آئے۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Twitter @javerias

Posted in health, human-rights, Pakistan, Uncategorized, ،خصوصی_افراد

 

 

پاکستان ڈائری-11

پاکستان ڈائری-

11

عمارہ انور پاکستان کی ایک باہمت بیٹی ہے۔عمارہ پیدائشی طور پر نابینا ہیں لیکن عمارہ نے اپنی تعلیم اور ترقی کی راہ میں اسکو کبھی حائل نہیں ہونے دیا۔انیس سو ستاسی میں پیدا ہونے والی عمارہ نے تمام تعلیم عام اداروں میں حاصل کی

17.03.2016 ~ 25.10.2016

پاکستان ڈائری-11

 
 
00:00/05:23

عمارہ انور پاکستان کی ایک باہمت بیٹی ہے۔عمارہ پیدائشی طور پر نابینا ہیں لیکن عمارہ نے اپنی تعلیم اور ترقی کی راہ میں اسکو کبھی حائل نہیں ہونے دیا۔انیس سو ستاسی میں پیدا ہونے والی عمارہ نے تمام تعلیم عام اداروں میں حاصل کی ۔ایف اے ایف سیون ٹو کالج اور بی بی اے اورایم بی اے کی ڈگری نمل یونیورسٹی سے حاصل کیااوراب جاب کررہی ہیں۔

میں نے خود زمانہ طالب علمی میں عمارہ کو بہت قریب سے دیکھا ہماری ملاقات اکثر تقریری مقابلوں میں ہوا کرتی تھی۔عمارہ زمانہ طالب علمی سے ہی بہت کانفیڈینٹ اور انڈیپنڈنٹ رہی ہے۔عمارہ نے کبھی اپنے لئے ہمدردی کو پسند نہیں کیا وہ بھی باقی طالب علموں کی طرح ہر چیز میں حصہ لیتی۔اکثر کالج اور یونیورسٹی کے لئے تقریری مقابلوں میں انعامات جیت کر آتیں۔ عمارہ اس وقت پاکستان فاونڈیشن فائٹنگ بلائنڈنس کے ساتھ منسلک ہیں۔

عمارہ کہتی ہیں کہ جب سے میرا جنم ہوا میں نے اپنی فیملی کو بہت سپورٹو پایا۔ ریٹینا ڈی ٹیچمنٹ کی وجہ سے میں دیکھ نہیں سکتی اورمیرا بھائی بھی نہیں دیکھ سکتا۔میرے والدہ اور والد نے جس قدر ہم پر محنت کی ہماری تعلیم اور صحت کا خیال رکھا وہ الفاظ میں بیان کرنے سے میں قاصر ہوں۔میرے والدین نے مجھے خود مختار بنایا مجھے ہمدردی سیمٹنے کا کوئی شوق نہیں میں پڑھی لکھی پاکستانی ہوں اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہوں

زمانہ طالب علمی کی تصاویر

عمارہ اپنے دور طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں نے ابتدائی تعلیم فیصل آباد میں حاصل کی اس کے بعد تمام تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی۔مجھے ہمیشہ استاتذہ اور کلاس فیلوز نے مثبت رسپانس دیا۔میں نے تعلیم کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا اور سکول کالج میں تقریری مقابلوں میں انعامات جیتے۔میری والدہ ہمیں خود پڑھاتی ہماری صلاحیتوں پر کام کرتیں۔وہ خود استاد رہیں ہیں تو انہوں نے جدید تکینک کےساتھ مجھے اور میرے بھائی کو پڑھایا۔

مسٹر اینڈ مسز انور

ایف اے تک تو میرے ساتھ پیر لکھنے کے لئے کوئی ہیپلر ہوتا تھا لیکن بی بی اے ایم بی اے میں کمپیوٹر کی مدد سے میں نے خود ٹائیپنگ کرکے پیپر دیے۔ماڈرن ٹیکنالوجی نے زندگی کو بہت آسان بنا دیا۔مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں تو اتنی ٹیکنالوجی عام نہیں تھی تو میرے والدین مجھے اور میرے بھائی کو بریل اور آڈیو کی مدد سے پڑھاتے تھے۔پر اب ہم فون ٹیبز اور لیپ ٹاپ کی مدد سے بہت آسانی کے ساتھ بہت سا کام کرجاتے ہیں۔

عمارہ کہتی ہیں کہ میرے والدین نے ہمشہ ہمیں عام تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی کیونکہ وہ ہمیں معاشرے سے کاٹ کر نہیں رکھنا چاہتے تھے۔میں نے صرف تین سال سپیشل تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کی اس کے بعد صرف عام اداروں میں زیر تعلیم رہی۔اس کا مجھے بہت فائدہ ہوا۔وہ والدین غلط کرتے ہیں جو اپنے فزیکل چیلنجڈ بچوں کو ایک کمرے کی حد تک محدود کردیتے ہیں یا انہیں لوگوں سے چھپاتے ہیں۔دنیا کے ہر شخص میں کچھ نا کچھ کمی ہے کوئی بھی اس دنیا میں پرفیکٹ نہیں۔

عمارہ کہتی ہیں کہ خود کو ہمدردی کا مرکز بنانے سے بہتر ہے کہ انسان محنت کرے اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالے۔میں دیگر لوگوں کی طرح تمام مسائل کا مقابلہ کرکے محنت کررہی ہوں ۔مشکلات کس کی زندگی میں نہیں آتی سب کی زندگی میں آتی ہیں بس ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔میں اس وقت پاکستان فاونڈیشن فائٹنگ بلائنڈنس کے ساتھ پروگرام اسپیشلیسٹ کے طور پر کام کررہی ہوں اور ہمارا کام بنیائی سے محروم لوگوں کے لئے مختلف پراجیکٹس پر کام کرنا ہے۔جس میں آن لائن لائبری آڈیو ورلڈ اور آئی ٹی ریسرچ شامل ہے۔

عمارہ کہتی ہیں والدین کا رول بہت اہم ہے سب سے پہلے اپنے خصوصی بچوں کو پیار دیں ۔ان پر بھی انویسٹ کریں جیسے اپنے دیگر بچوں پر بھی کام کرتے ہیں۔خصوصی بچوں پر محنت کریں وہ کسی گناہ کا نتیجہ نہیں ہیں۔وہ فزیکلی چلینجڈ لیکن بلکل نارمل ہیں اللہ تعالی کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں۔سب ایسے بچوں کو تھوڑا زیادہ ٹائم اور زیادہ پیار کریں۔ان کے استاتذہ سے ملیں ان کے ساتھ مل بچوں کی زندگی آسان بنائیں۔ان کے مشاغل میں دلچسپی لیں اور ان کے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لئے والدین اور استاتذہ ان کا بھرپور ساتھ دیں۔اس طرح یہ بچے معاشرے کے کارآمد شہری بن جائیں گے۔

http://www.trt.net.tr/urdu/slslh-wr-prwgrm/2016/03/17/pkhstn-ddy-ry-11-452891

 

 

 

 

 

 

 

 

Posted in health, Pakistan, Uncategorized

زکا وائرس

 

زکا وائرس
Posted On Wednesday, February 03, 2016
… جویریہ صدیق … زکا وائرس اڈیس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔یہ وہی مچھر ہے جس کے باعث ڈینگی بخار اور زرد بخار پھیلتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے مطابق 1947 میں پہلی بار یوگنڈا میں اس کا پہلا کیس سامنے آیا۔حال ہی میں برازیل میں اس کی وبا پھوٹ پڑی ہے اس کے ساتھ یہ جنوبی امریکا کے 20 ممالک میں پھیل گیا ہے۔اس سے سب سے زیادہ خطرہ حاملہ خواتین کو ہے ۔ زکا وائرس کی شکار خواتین کے بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہورہے ہیں۔

پھیلاو :

زکا وائرس ایک مخصوص مچھر aedes aegypiti کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔اڈیس مچھر صبح سویرے اور شام کے اوقات میں کاٹتا ہے۔یہ مچھر صاف پانی پر پرورش پاتا ہے۔یہ مچھر زیادہ تر گھروں میں افزائش پاتا ہے.اس مچھر کی ایک مخصوص پہچان ہے اس کے جسم پر سیاہ سفید نشان ہوتے ہیں. یہ مچھر زیادہ تر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے.

انسانوں سے انسانوں میں منتقلی

بنیادی طور پر تو یہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔کچھ کیسز میں متاثرہ شخص کے خون کے ذریعے سے یہ صحت مند انسان میں منتقل ہوسکتا ہے ۔اگر مریض کا خون یا استعمال شدہ سرنج یا اس کے ساتھ دوران بیماری جنسی ملاپ کیا جائے ۔زکا وائرس جسم میں صرف ایک ہفتے تک رہتا ہے پھر ختم ہوجاتا ہے۔

علامات :

اس کی علامات میں بخار،جوڑوں میں درد، آنکھوں کا سرخ ہونا،جسم پر لال دھبے ،سر درد شامل ہے ۔کچھ لوگوں میں تو یہ علامات عام زکام کی طرح آتی ہیں ان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ زکا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔

احتیاطی تدابیر :

اس وائرس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان خود کو مچھر کے کاٹنے سے محفوظ رکھے۔ان کی افزائش کو ختم کیا جائے۔مکمل لباس پہنا چاہیے تاکہ مچھر کے کاٹنے سے محفوظ رہیں۔پانی نا کھڑا ہونے دیں۔فالتو سامان کو پھینک دیں۔ پرانے ٹائر گھر سے نکال دیں.اگر پانی ذخیرہ کرنا ہو تو اس کو لازمی طور پر ڈھانپ دیں.گھر میں لگے پودوں اور گملوں میں پانی نا جمع نا ہونے دیں پرانے.باتھ روم میں بھی پانی کھڑا نا ہونے دیں اور اس کا دروازہ بند رکھیں.روم کولرز میں سے پانی نکال لیں۔

اپنی حفاظت کے لئےمچھر مار اسپرے استعمال کریں یا رپلینٹ کا استعمال کریں .گھر میں جالی لگوائیں اور بلا ضرورت کھڑکیاں نا کھو لیں. ڈینگی کا مچھر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ کاٹتا ہے اس لئے اس وقت خاص طور پر احتیاط کریں.سوتے وقت نیٹ کے اندر سوئیں.کوائیل کا استعمال کریں.

علاج :

اس بیماری کے لئے کوئی مخصوص علاج نہیں ہے۔نا ہی ویکسین دستیاب ہے ۔بس مریض کو بہت سا پانی پلایا جائے،تازہ پھلوں کے جوس اور سوپ ۔اس کے ساتھ درد کم کرنے کے لئے ادویات۔مریض کو آرام کروایا جائے۔یہ جان لیوا بیماری نہیں ہے۔

حاملہ خواتین اور زکا وائرس :

اگر حاملہ خواتین کو زکا وائرس ہوجائے تو ہونے والے بچے کے اعصاب کو متاثر کردیتی ہے۔بچےmicrocephaly کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کا سر چھوٹا رہ جاتاہے۔ برازیل میں اب تک 270 سے زاید بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے ایبولا کی طرح ایمرجنسی قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق حاملہ خواتین کو لاطینی امریکا کے ممالک سفر سے گریز کرنا چاہیے۔

زکا وائرس صرف ایک ہفتے تک جسم میں رہتا ہے ۔اس کے بعد ختم ہوجاتاہے۔لیکن اس کے پھیلاو سے عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کو بہت تشویش ہے۔اس کی کوئی ویکسین تو موجود نہیں اس لئے احتیاط ہی میں اس کا علاج ہے۔خاص طور پر حاملہ خواتین کو ان علاقوں میں جانے سے پرہیز کرنا چاہیے جہاں زکا کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Twitter @javerias

Posted in health, Uncategorized

نمونیا ایک خطرناک بیماری

 

نمونیا ایک خطرناک بیماری
Posted On Thursday, January 14, 2016
۔۔۔ جویریہ صدیق ۔۔۔۔ نمونیا پھیپھڑوں کی خطرناک بیماری ہے۔عام طور پر بچے اور عمر رسیدہ افراداس بیماری کاشکار ہوتے ہیں۔یہ فنگس بیکٹریا اور وائرس کے سبب پھیلتا ہے۔ انسان کے پھیپھڑے میں alveoli ducts میں ہوا بھرتی ہے لیکن اگر انسان نمونیا کے جراثیم کا شکار ہوجائے تو alveoli پس سے بھر جاتی ہے۔جس کے باعث انسان کو سانس لینے میں تکلیف اور دشواری ہوتی ہے ۔نمونیا کی اہم علامات کچھ یوں ہیں۔کھانسی کا ہونا،سانس کی بے ترتیبی اور سانس کا تیزچلنا،بخار،سانس باہر نکالتے وقت آواز کا پیدا ہونا،قے،دل کی دھڑکن کاتیز ہونا،کپکپی، سینے میں درد اور پسلیوں کا چلنا اگر بچے میں یہ علامات دیکھیں تو فوری طور پر اسے ہسپتال لئےکرجائیں۔

بچہ اگر شیرخوار ہے تواس بچے کو نمونیا کے دوران دودھ پینے اور نگلنے میں دشواری ہوگی ۔ان بچوں میں نمونیا کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے جو غذائی قلت کا شکار ہوں اور جنہوں نے ماں کا دودھ نا پیا ہو۔اس کے ساتھ ساتھ غربت ،ماحولیاتی آلودگی، پر ہجوم طرز رہائش اورتمباکونوشی بھی اس کےہونےکےامکان کو بڑھا دیتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2015 میں 9 لاکھ 22 ہزار بچے نمونیا کی وجہ سے موت کہ منہ میں گئے۔ان میں سے زیادہ تر بچے 5 سال کی عمر سے کم تھے۔اس بیماری کا زیادہ شکار جنوبی ایشیا اور افریقہ کے بچے ہوتے ہیں۔پاکستان میں ہر سال 80 ہزار سے زائد بچے نمونیہ کا شکار ہوکر انتقال کرجاتے ہیں۔

نمونیا کا علاج موجود ہے۔اینٹی بائیوٹک ادویات کے ذریعے سے اسے کنٹرول کیا جاتاہے۔لیکن اگر بچے کی صحت کی حالت تسلی بخش نا ہو اس کو ہسپتال داخل کرلیا جاتا ہے۔اینٹی بائیوٹک ادویات کے ساتھ کھانسی اور بخار کم کرنے کی دوائیاں بھی دی جاتی ہیں۔ادویات کے ساتھ اس کی غذا جاری رکھی جاتی ہے اور اگر بچہ شیر خوار ہے تو ماں کا دودھ اسے وقفے وقفے سے دیا جائے۔ماں کا دودھ بچے کو بیماریوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے۔بچہ اگر چھ ماہ سے اوپر ہو تو اس کو سوپ یا یخنی،شہد یا کم پتی والی چائے دی جائے یہ بھی بچے کے گلے کو سکون پہنچاتی ہے۔

بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اگر اس کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس شروع کروالیا جائے تو یہ بچے کو نمونیا اور اس طرح کی دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں معاون ہے۔اس کے ساتھ ماں بچے کے کام کرتے ہوئے ہاتھ ضرور دھوئے اس سے بھی نمونیا کے امکان کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ماں کا دودھ کم از چھ ماہ تک ہر بچے کا حق ہے اور ماں کا دودھ نمونیا بیماری کے امکان کو کم کرتا ہے۔

اس کے ساتھ بچے کے اردگرد ماحول کو صاف ہونا چاہیے ۔والدین بچے کے قریب تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔بچے کے قریب جانور نہیں ہونے چاہیں۔ماں بچے کی چھاتی کا خود بھی معائنہ کرسکتی ہے جس وقت بچہ سو رہا ہو۔اگر بچے کی سانسیں تیز ہوں تو اس کو فوری طور پر ڈاکٹر کو دیکھا جائے۔

نمونیا بیماری میں 65 سے اوپر کے لوگ بھی مبتلا ہوتے ہیں خطرے کی زد میں زیادہ وہ آتے ہیں جو فالج ،کینسر،شوگر ،سیربل پالسی اور ایڈز کا شکار ہوں۔اس کے ساتھ تمباکو نوشی،شراب نوشی اور منشیات کا استعمال کرنے والے افراد بھی بڑھاپے میں اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 5 لاکھ عمر رسیدہ افراد اس مرض کی وجہ سے جانبر نہیں ہو پاتے۔ اگر ضعیف افراد میں یہ علامات دیکھیں کہ دیکھیں کہ وہ کنفیوژن کا شکار ہے ، ان کا بلڈ پریشر گر رہا ہے،سانسیں بے ترتیب ہیں،بخار اور کھانسی ہے انہیں فوری طور پر ہسپتال شفٹ کریں۔

اگر اس کے علاج پر فوری توجہ نا دی جائے تو جراثیم خون میں پھیل سکتے ہیں ۔جس کی وجہ سے دوسرے اعضاء بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔اس لئے بروقت علاج سے قیمتی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔اس کے ساتھ مریض کو مکمل آرام کروایا جائے ،بہت سارا پانی،سوپ اور یخنی دی جائے۔ادویات کو وقت پر دیا جائے اور مریض کو کورس مکمل کروایا جائے۔ہر عام انسان کو اس بیماری سے بچنے کے لئے ویکسین لگوانی چاہیے۔

جویریہ صدیق صحافی،مصنفہ اور فوٹوگرافر ہیں۔ان کی کتاب سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشتں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ان کا ٹویٹر اکاونٹ @javerias ہے ۔

Posted in health, lifestyle, Pakistan, Smoking, تمباکونوشی

تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر

                                                                                                                                                تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر

  Posted On Monday, June 01, 2015   …..جویریہ صدیق……
دنیا بھر میں 31مئی کو انسداد تمباکو نوشی کا دن منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں تمباکو کے استعمال سے پہنچنے والے نقصانات سےآگاہ کرنا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ایک ارب افراد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جن میں سے تقریبا ًچھ ملین افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، ان میں دس فیصد وہ ہیں جو خود تو سگریٹ نہیں پیتے لیکن اپنے اردگرد تمباکو نوشی کے دھویں سے متاثر ہوتے ہیں۔ہر سال سولہ فیصد مرد اور آٹھ فیصد خواتین تمباکو نوشی کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔بات کی جائے پاکستان کی تو ہر سال ایک لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے لقمہ اجل بنتے ہیں۔

پاکستان میں تمباکو کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے،نوجوان نسل سگریٹ ،شیشہ اور گٹکا کی دلدادہ ہے اور بنا اس کے نقصانات کو جانے اس کا استعمال کررہی ہے۔ایک اندازے کے مطابق 45فیصد مرد اور چھ فیصد خواتین پاکستان میں تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ ہو سگار ہو ،گٹکا،یا حقہ اگر آپ تمباکو استعمال کررہے ہیں تو پھیپھڑوں کا سرطان،خوراک کی نالی کا سرطان، منہ کا کینسر،عارضہ قلب، کولیسٹرول، ٹی بی،دمہ اور ہائی بلڈ پریشر جیسے خطرناک امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔اگر تمباکو نوشی خواتین کریں تو ان بیماریوں کے ساتھ ساتھ ماہانہ ایام کی خرابی،اسقاط حمل اور کمزور قبل از وقت بچوں کی پیدائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

صحبت کے زیر اثر لوگ تمباکو نوشی کا استعمال تو شروع کردیتے ہیں لیکن جب یہ اپنا اثر دیکھنا شروع کرکے انسان کو بیمار کرنا شروع کرتا ہے تو اس لت سے جان چھڑانا آسان کام نہیں. لیکن اگر انسان پختہ ارادہ کرلے تو پھر آہستہ آہستہ تمباکو نوشی ترک کی جاسکتی ہے،تمباکو کی لت انسان کی نفسیاتی اور جسمانی ضرورت بن جاتی ہے اس لیے اس کو ترک کرنے کے لیے دماغ اور جسم دونوں پر کام کرنا پڑتا ہے،جب بھی یہ ارادہ کریں کہ آپ تمباکو نوشی ترک کررہے ہیں تو اپنے اہل خانہ اور دوستوں کو اعتماد میں لیں تاکہ وہ آپ کے ساتھ تعاون کریں۔

اگر آپ پوری سگریٹ کی ڈبی پیتے ہیں تو پلان کے پہلے پندرہ دن اس کو آدھا استعمال کریں سولہویں دن سے چوتھائی اور دوسرے مہینے میں تین سے چار اور45دن بعد ایک یا دو کر دیں،جس وقت آپ کو زیادہ سگریٹ کی طلب ہو اپنا دھیان ہٹائیں ،اپنے اس پلان میں ورزش کو شامل کریں،پانی زیادہ سے زیادہ پئیں،پھلوں کا استعمال کریں۔اگر زیادہ بے چینی ہو تو ببل گم چبائیں یا گاجر پودینے کا استعمال کریں۔ نفسیاتی طور پر اپنے آپ سے خود بات کریں اپنے آپ کو سمجھائیں کے تمباکو آپ کے لیے بہت خطرناک ہے۔

تمباکو نوشی ترک کرتے ہوئے پہلے چند ہفتے انسان بہت چڑچڑا ہوجاتا ہے،کیونکہ تمباکو میں شامل نکوٹین وقتی طور پر جسم اور دماغ کو سکون پہنچاتی ہے.اس لیے اس کو استعمال نا کرنے پر انسان غصہ کرنے لگتا ہے سر میں درد، نیند کی کمی، بے چینی ،کھانسی میں اضافہ،ڈپریشن،قبض،پیٹ کی خرابی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری عام طور پر تمباکو چھوڑنے کی علامتوں میں شامل ہے،ان سب چیزوں سے گھبرائیں نہیں بلکے ان کا مقابلہ کریں۔

پھلوں سبزیوں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں،خود کومصروف رکھیں، ہلکی ورزش کریں روز نہائیں،اس دورانیہ میں ایسے ماحول سے کچھ عرصہ دور رہیں جو آپ کو سگریٹ نوشی کی طرف راغب کرتا ہو ۔اگر آپ اپنی مدد آپ نہیں کرسکتے تو معالج سے رجوع کریں ان کی ادویات اور کونسلنگ فائدہ مند ہے، تمباکو نوشی ترک کرتے ہی آپ کی صحت بتدریج بہتر ہونا شروع ہوجائے گی،بلڈ پریشر دل کی دھڑکن نارمل ہوجائے گی،کھانسی،الرجی بھی نا ہونے کے برابر رہ جائیں گی،سرطان ،فالج اور دل کے دورے کا امکان بھی نارمل افراد جتنا ہوجائے گا۔

حکومت انسداد تمباکو نوشی کے حوالے سے موثر اقدامات کرے،پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی سے سختی سے عمل درآمد کروائے،اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ اور شیشہ مہیا کرنے والے دکانداروں اور کیفے ہوٹلز پر جرمانہ عائد کیا جائے، سگریٹ اسمگلنگ پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دی جائے،تمباکو سے بنی اشیاء کے اشتہارات پر مکمل پابندی ہو اور پیکٹ پر وزارت صحت کی وارننگ لازمی چھپی ہوئی ہو۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت اس انڈسٹری پر اور پراڈکٹس ٹیکس عائد کرے تاکہ یہ قوت خرید سے نکل جائے۔

ایسی عادت کو ترک کردینا چاہیے جو آپ کے ساتھ آپ کے اہل خانہ کے لیے بھی مضر ہے،زندگی کی طرف واپس آئیں اور محسوس کریں زندگی تمباکو نوشی کے بنا کتنی حسین ہے،کسی بھی چیز کی لت اچھی نہیں اس لیے اپنی صحت زندگی خاندان کہ خاطر اس زہر کو پینا چھوڑ دیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10868#sthash.1XPr1xX1.dpuf

Posted in health, lifestyle, Pakistan, skincare

جلد ی امراض اور ان کا علاج

جلد ی امراض اور ان کا علاج

  Posted On Monday, February 09, 2015   ……جویریہ صدیق……
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے باعث خواتین ، مردوں اور بچوں کی بڑی تعداد مختلف نوعیت کے جلدی امراض میں مبتلا ہوجاتی ہے۔
جلد ہمارے جسم کا سب بڑا جزو ہے۔اگر ہم اس کو نظر انداز کریں تو بہت سی بیماریاں ہم پر حملہ آور ہوجاتی ہیں ۔پاکستانی عام طور پر ایگزیما،ایکنی،خشکی،گرمی دانے،ایمپیٹیگو،اسکیبز،جھریاں،چھایاں ، چہرے پر کھدراپن اورسورج سے حساسیت جیسی بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ان امراض کے حوالے سے آگاہی نا ہونے کے باعث پہلے توعوام جلدی مسائل کو نظر انداز کیے رکھتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب یہ مسئلہ بڑھ جائے تو پھر اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ جلد کا علاج وقت طلب ہے اور مہنگا بھی ہے اگر شروع میں ہی بیماری کوروک لیا جایے تو بہتر رہتا ہے اگر دیر کی جائے تو طویل علاج کے بعد ہی صحت یاب ہونا ممکن ہے۔
پاکستانی عوام کی بڑی تعداد ایگزیما کا شکار ہوتے ہیں ایگزیما اصل میں ہے کیا ؟ہماری جلد میں قدرتی طور پر پانی کو جذب اور خارج کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اگر اس صلاحیت میں کوئی نقص پیدا ہوجائے تو ایگزیما کا باعث بنتا ہے۔ دھوپ کی زیادتی ، دھول ، مٹی یا جراثیم کی وجہ سے جلد پر سوزش ہوجاتی ہے اور یہ سوزش ایگزیما کو مزید بڑھا دیتاہے۔اس کی وجہ سے جلد خشک اور کھدری ہو جاتی ہے پانی کے چھالے پڑ جاتے ہیں۔بعض اوقات لوگوں کو کسی بھی چیز سے حسیات کی وجہ سے یہ ہوتا ہے جن میں چمڑا،تیل،دھاتیں،میک اپ ،جیولری، جراثیم کش ادویات،کپڑے برتن دھونے کے صابن وغیرہ شامل ہیں۔ اس کو کونٹیکٹ ایگزیما کہتے ہیں۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی معروف ماہرامراض جلد ڈاکٹر ارمیلا جاوید کے مطابق ایگزیما سے بچائو کے لیے بہت ہی مائلڈ صابن یا ایگزیما سے بچائو کے لیے خاص صابن کا استعمال کریں۔برتن اور کپڑے دھوتے وقت ہاتھوں پر دستانے پہنیں کام ختم ہونے کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھو کر خشک کریں اور وہ کریم استعمال کریں جو آپ کو ڈاکٹر نے تجویز کی ہو۔منہ دھوتے وقت اور نہاتے وقت بھی مائلڈ ہینڈ واش اور شاور جیل یا صابن کا استعمال کرنا چاہیے۔ہاتھوں کی جلد کو سب سے زیادہ نقصان برتن اور کپڑے دھونے کا صابن اور سرف پہنچتا ہے۔
دوسرے نمبر پر جس بیماری سے پاکستانی متاثر ہوتے ہیں وہ ایکنی ہے،پاکستانی لڑکے اور لڑکیاں اس کا سب سے بڑا شکار ہیں،جس بھی شخص کے منہ پر یہ دانے کیل مہاسے نکل آتے ہیں اس کے چہرے پر بدنما داغ چھوڑ جاتے ہیں اور متاثرہ شخص کو احساس کمتر ی میں مبتلا کر جاتے ہیں۔نوجوان لڑکے لڑکیاں خوبصورت لگنے کے چکر میں مہنگی مہنگی کریمز ڈاکٹر کے مشورے کے بنا ہی استعمال شروع کردیتے ہیں جس سے ان کی ایکنی مزید بگڑ جاتی ہے۔ ڈاکٹر ارمیلا کے مطابق کیل ،مہاسے ایکنی کا شکار نوجوان بچے بھی ہیں اور عمر کے زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ بھی لوگ اسکا شکار ہوتے ہیں۔ لوگ مساموں کے گرد چکنائی ، سوزش اور جراثیم کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
بہت سےلوگوں کا علاج ایکنی کنٹرول کرنے والے صابن ، فیس واش اور ہلکی دوائی کے ساتھ ہوجاتا ہے۔صرف ڈاکٹر کے مشورے کے ساتھ اشیاء کا استعمال کیا جائے سیلف میڈی کیشن بالکل نا کی جائے۔اگر ایکنی زیادہ ہے تو ماییکروڈرمابرشن کے ذریعے سے چہرے سے ایکنی اس کے داغ اور کیل مہاسے مکمل طور پر ختم کردیے جاتے ہیں۔کچھ کیسز میں لوگوں کے لیے لیزر اور فلرز بھی کارآمد ہیں لیکن یہ کام مستند ڈاکٹر ہی کرسکتے ہیں۔
خشکی بھی ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے پاکستانی بہت مشکل کا شکار ہوجاتے ہیں اگر سر میں خشکی زیادہ ہوجائے تو باعث ندامت بھی بنتی ہے اور تکلیف کا باعث بھی۔ ڈاکٹر ارمیلا کے مطابق سر کی خشکی اگر معمولی نوعیت کی ہے تو کسی بھی میڈیکیٹڈ شیمپو جس میں زنک شامل ہو اس سے خشکی کنٹرول کی جاسکتی ہے۔خشکی ایک قسم وہ بھی ہے جس میں خشکی کی موٹی موٹی تہیں سر پر جم جاتی ہیں اور بالوں میں برش کرتے وقت یہ اوپر گرنے لگتی ہے اوراس کےساتھ یہ چہرے تک پھیل جاتی ہے۔جن میں آنکھوں کے پاس پلکوں اور ناک کے گرد یہ خارش پیدا کردیتی ہے۔ ایسی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
بات کی جائے اگر بچوں کی تو ان میں خارش اور دانوں کی بیماری عام طور پر دیکھی جاتی ہے یہ بچوں کو بے چین کیے رکھتی ہیں اور بچوں کی تکلیف ماں باپ کے لیے بے چینی کا باعث بنتی ہے ۔ ڈاکٹر ارمیلا کے مطابق پاکستانی بچوں میں خارش اور دانوں کی بیماری زیادہ پھیلتی ہیں والدین کو ان صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ان کے لئے بہت مائلڈ سوپ اور شیمپو کا استعمال کیا جائے اور ان کا تولیہ اور دیگر اشیا الگ ہونی چاہئیں۔اگر کوئی ایک بچہ گھر میں اسکیبزدانوں اور خارش کی بیماری کا شکار ہو جائے تو فوری طور پر ماہر امراض جلد کو دکھایا جائے کیونکہ یہ متعدی بیماری ہے اور ایک سے دوسرے کو فوری منتقل ہوجاتی ہے۔
جلد کے حوالے سے دیگر حفاظتی تدابیر کے متعلق ڈاکٹرارمیلا نے بتا یا کہ دھوپ میں جاتے وقت اپنا چہرہ ہر ممکن طور پر سورج سے بچائیں۔سن بلاک کا استعمال کریں۔ سن بلاک جلد کو اسکن کے کینسر سے بچاتا ہے لیکن رنگ کو مکمل طور پر بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ وٹامن سی والی کریمز کہ استعمال سے چہرے کی رنگت کو نکھارا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی صرف ماہر امراض جلد ہی بتا سکتا ہے کہ آپ کی جلد پر کون سی کریم صحیح رہے گی۔رنگ گورا کرنے والی تمام عام کریمیوں سے اجتناب کریں اور بہت ساری کریمیز کو مکس کرکے چہرے پر ہرگز نا لگائیں یہ جلد کے لیے بہت مضر ہیں ۔ان غیر معیاری کریموں کی وجہ سے چہرے پر بالوں میں مزید اضافہ،وقت سے پہلے جھریاں اور چھایاں پڑ جاتی ہیں۔پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔اسکن کو موسچرائیز کریں، صرف چہرہ ہی نہیں بلکے ہاتھ پاوں اور جسم کے دیگر حصوں پر بھی لگائیں۔متوازن غذا کھائیں جن میں پھل ، سلاد اور دودھ کا استعمال کریں جبکہ چکنی اور تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں۔
Javeria Siddique writes for Jang
Twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10651#sthash.N0w9BkaW.dpuf

Posted in health, Pakistan

احتیاط اور آگاہی ایڈز سے بچاو کا ذریعہ

احتیاط اور آگاہی ایڈز سے بچاو کا ذریعہ

  Posted On Tuesday, December 02, 2014   …… جویریہ صدیق…….
ایڈز سے آگاہی کا عالمی دن آتا ہے اور گزر جاتا ہےلیکن پھر بھی ہمارے ہاں پاکستان میں اس بیماری پر بات ہی نہیں کی جاتی۔کچھ تقریبات کا اہتمام ضرور ہوتا ہے لیکن اس سے اٹھارہ کروڑ عوام میں شعور اجاگر بالکل ناممکن ہے۔میں نے اس موضوع پر قلم اٹھانے کا سوچا تو اس پہلے کچھ معلومات درکار ہوتی ہیں۔ظاہر سی بات ہے میری ڈگری صحافت میں ہے طب میں نہیں تو کسی بھی طبی مسئلے پر لکھنے سے پہلے معلومات درکار ہوتی ہیں تاکہ ہم اپنے پڑھنے والوں کو مکمل آگاہی سے سکیں۔میں نے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کا رخ کیا دانستہ طور پر اپنے صحافی ہونے کی شناخت چھپا لی اوراسپتال کے استقبالیہ سے ایک عام شخص کی طرح سوال کیا کہ ایڈز کے حوالے سے معلومات درکار ہیں تو استقبالیہ پر موجود ادھیڑ عمر کے آدمی نے مجھ پر گہری نظر ڈالتے ہوئے کہا کیوں بی بی خیریت ہے اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا مجھے بتائیں آپ کا کیا مسئلہ ہے ؟میں نے اسے کہا آپ تو ریسپشن پر ہیں ڈاکٹر بھی نہیں اس لیے مجھے اس شعبے کا بتائیں جہاں آپ کے اسپتال میں ایڈزکے مریضوں کا علاج ہوتا ہے۔اس پر اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا بی بی ہم بھی ڈاکٹر سے کم نہیں کچھ بتائیں تو سہی ۔میں اس وقت یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ ایک عام شخص جو اس بیماری میں مبتلا ہوکر سرکاری اسپتال کا رخ کرتا ہوگا وہ تو اس رویے سے ہی مکمل طور پر ٹوٹ جاتا ہوگا۔جب اس ریسپشن پر بیٹھے صاحب جوکہ خود کو آدھا ڈاکٹر بتا رہے تھے کو میں نے اپنے صحافی ہونے سے آگاہ کیا تو بوکھلا گیا اورکہنے لگا او میڈم جی پہلے کیوں نہیں بتا یا آپ ٹی وی اخبار سے ہو میں ابھی آپ کو ایڈز کنٹرول سیل لے جاتا ہوں۔میڈم آپ رپورٹ بنانے آئی ہو کیمرہ بھی ہے آپ کبھی ہمارے مسائل پر بھی لکھیں میں نے اسکو کہا آپ بس مجھے ایڈز کنٹرول سیل کا پتہ بتایں اور آپ کا شکریہ۔
ایڈز کنٹرول سیل جاتے وقت میں یہ سوچتی رہی کہ سرکاری اسپتالوں میں بیمار انسانوں کے ساتھ کتنا تضحیک آمیز سلوک کیا جاتا ہے اور رازداری سے معلومات دینے کے بجائے ان کا مذاق اڑایاجاتا ہے۔سیل میں گئی تو وہاں ایک اور استقبالیہ تھا جو بالکل خوش اخلاقی سے عاری تھا۔ایک نرس اور ریسپشنٹ کے علاوہ کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا ان کے پاس بھی کوئی خاص معلومات بھی موجود نہیں تھیں۔صرف دوائوں کی کمپنیوں کے پمفلٹ موجو د تھے۔ان دونوں کو بھی اس بات میں دلچسپی تھی کہ مجھے یہ معلومات کیوں درکار ہیں۔ اس وقت مجھے اس بات کا احساس اور بھی زیادہ ہوا کہ عام غریب افراد کے ساتھ یہ ماتحت عملہ کیا کرتا ہو گا اور اسپتال کی انتظامیہ ڈاکٹرز کو اس بات کا ادراک بھی نہیں ہوگا کہ ایک عام مریض کس قدر اذیت کا شکار ہونے کے بعد ان تک پہنچتا ہوگا اور کچھ بے عزتی سہن نہیں کر پاتے ہوں گے اور واپس گھر لوٹ جاتے ہوں گے۔اس اسپتال سے کچھ معلومات نا ملی لیکن عالمی ادارہ صحت سے تمام معلومات مل گئی لیکن پاکستان کے ایک عام شخص کی تو وہاں تک رسائی نہیں انکو معلومات ہر حال میں رازداری کے ساتھ اسپتال سے ملنی چاہیے۔
ایڈز ایک ایسی جان لیوا بیماری ہے جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے لوگ شرم محسوس کرتے ہیں۔لیکن یہاں یہ بات جان لینا بہت ضروری ہے کہ یہ بیماری صرف بے راہ روی سے نہیں پھیلتی بلکہ اس کے پیچھے بہت سے دیگر وجوہات بھی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دو ہزار تیرہ میں ایڈز متاثرہ افراد کی تین کروڑ پچاس لاکھ تھی۔اس ہی سال پندرہ لاکھ افراد اس مرض کے باعث موت کہ منہ میں گئے اور سب سے زیادہ کیس افریقہ میں رپورٹ ہوئے۔پاکستان کی بات کی جائے تو اس وقت پاکستان میں ایڈز کے آٹھ ہزار سے زاید کیسز رجسٹرڈ ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ چھ ہزار سے زائد اس متاثر ہیں۔یہ تعداد اس بھی زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ ہمارے ہاں لوگ علاج میں تاخیر کرتے ہیں اوران کے پاس علاج معالجے کی سہولیات بھی دستیاب بھی نہیں۔لوگوں کا عمومی رویہ بھی ایسے مریضوں کے ساتھ نفرت آمیز ہوتا ہے تو بہت سے کیس رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے۔
ایچ آئی وی ایڈز ایک ایسا خطرناک وائرس ہے جو انسان میں قوت مدافعت ختم کردیتا اور ہر طرح کی بیماریاں انسان پر حملہ آور ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔اس کی علامتیں ظاہر ہونے میں دو سے پندرہ سال کا عرصہ گزر جاتا ہے۔ ابتدائی علامات جو ظاہر ہوتی ہیں ان میں مختلف انفکیشنز کا ہونا مسلسل بخار،کھانسی،اسہال،وزن میں کمی،گلے میں سوزش،نزلہ زکام اور جوڑوں میں درد شامل ہے۔اگر یہ علامتیں ہوں تو فوری طور پر ایڈز کے لیے مخصوص شعبے کا رخ کیا جائے اور ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ٹیسٹ کروائے جائیں۔اس بیماری کے ہونے کی پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں جیسے اگر متاثرہ مریض کی روطوبت کسی صحت مند انسان میں منتقل ہوجائے،استعمال شدہ سرنج کا استعمال،متاثرہ مریض کے ساتھ جنسی تعلقات،ہم جنس پرستی،متاثرہ عورت سے اس کے پیدا ہونے والے بچے میں اس کے دودھ سے بھی بچے کو یہ مرض منتقل ہوجاتاہے۔اس کے علاوہ ایڈز متاثرہ خون لگوانے سے،منشیات کا استعمال کرنے والے،ڈاکٹرز کے طبی اوزار اگر صاف نا کیے جائیں اورٹیٹوز ناک کان چھدوانے کے اوزار اگر اسٹیریلائز نا ہوں تو یہ بیماری پھیلانے باعث بنتے ہیں۔
اس بیماری سے بچنے کا سب سے بڑا طریقہ احتیاط اور اس مرض کے حوالے سے آگاہی ہے۔اگر آپ سے بیماری کے پھیلنے کی وجوہات سے واقف ہیں تو ان تمام چیزوں اور کاموں سے احتیاط کریں جوکہ اس مرض کے پھیلائو کا باعث ہیں۔اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور بے راہ روی سے پرہیز کریں۔ہمیشہ نئی سرنج کا استعمال کریں،سڑکوں پر بیٹھے ہوئے دندان سازوں اور ناک کان چھدوانے سے مکمل اجتناب کریں۔اگر کسی کو خون لگوانا ہو تو معیاری بلڈ بینک سے لیں اگر کوئی فرد عطیہ کر رہا ہو تو اس کا ٹیسٹ کروایا جائے کہ وہ ہر طرح کی بیماری سے محفوظ ہے۔پالرز میں قینچی اور مینی، پیڈی کیور کرنے والے اوزار مکمل صاف ہوں۔کسی کا استعمال شدہ بلیڈ استعمال نا کریں۔
اس بیماری کی تشخیص ہونے کے بعد مریض کوسب سے پہلے کونسلنگ کی ضرورت ہے یہ بیماری کوئی چھوت کی بیماری نہیں ہے اس لیے خاندان کی شفقت اور ڈاکٹرز کا ہمدردانہ رویہ مریض میں اس بیماری سے لڑنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔پاکستان کے زیادہ تر اسپتال ماہر نفیسات سے محروم ہیں اس لیے یہ بات لازم ہے کہ رسپسشن پر بھی اور ایڈز جیسے موذی امراض کے شعبے میں ماہر نفسیات بیٹھائے جائیں تاکہ مریضوں کو حوصلہ ملے اور کوئی شخص بھی ان کی تضحیک نا کرے۔اس کے بعد ایڈز کے مریضوں کے علاج کے لیے اب ادویات دستیاب ہیں جوکہ اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت تو نہیں رکھتی لیکن مختلف اینٹی ریٹرو وائیرل ادویات کی مدد سے ایڈز کو کہیں سال تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔تاہم یہ ادویات بہت مہنگی ہیں اس لیے حکومت کو ان ادویات کو مریضوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کرنا ہوگی اس کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء جو ایڈز کے تدارک میں استعمال ہوتی ہیں انہیں عام کیا جاہے۔یہ بات اب سائینسی طور پر ثابت ہے کہ ختنے کروانے سے ایڈزکے امکان کو ساٹھ فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے اس لیے اس کی سہولت اسپتال میں مہیا کی جائے۔استعمال شدہ سرجن،انجکشن اور بلیڈ کو فوری طور پر تلف کر دیا جائے اور دیگر آلات کو مکمل طور پر جراثیم سے پاک کرکے استعمال کیا جائے۔محکمہ صحت خود اس بات کی نگرانی کرے کہ اسپتالوں،بلڈ بینک اور لیباٹریوں میں صحت و صفائی کے اصولوں کا مکمل خیال کیا جائے۔تب جا کر ہم اس بیماری پر قابو پاسکتے ہیں۔اس کے ساتھ میڈیا حکومت اور سول سوسائٹی آگاہی پھیلائے اور ٹی وی اخبارات اس ضمن میں بہترین کام انجام دےسکتے ہیں ،ایڈز کو پھیلنے سے ہم صرف اس بیماری کے حوالے سے آگاہی عام کرکے کم کرسکتے ہیں۔بات کریں اور ایڈز کو مزید پھلنے سے روکیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Contact at https://twitter.com/#!/javerias
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10414#sthash.NKwrASrp.dpuf