Posted in health, Pakistan

احتیاط اور آگاہی ایڈز سے بچاو کا ذریعہ

احتیاط اور آگاہی ایڈز سے بچاو کا ذریعہ

  Posted On Tuesday, December 02, 2014   …… جویریہ صدیق…….
ایڈز سے آگاہی کا عالمی دن آتا ہے اور گزر جاتا ہےلیکن پھر بھی ہمارے ہاں پاکستان میں اس بیماری پر بات ہی نہیں کی جاتی۔کچھ تقریبات کا اہتمام ضرور ہوتا ہے لیکن اس سے اٹھارہ کروڑ عوام میں شعور اجاگر بالکل ناممکن ہے۔میں نے اس موضوع پر قلم اٹھانے کا سوچا تو اس پہلے کچھ معلومات درکار ہوتی ہیں۔ظاہر سی بات ہے میری ڈگری صحافت میں ہے طب میں نہیں تو کسی بھی طبی مسئلے پر لکھنے سے پہلے معلومات درکار ہوتی ہیں تاکہ ہم اپنے پڑھنے والوں کو مکمل آگاہی سے سکیں۔میں نے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کا رخ کیا دانستہ طور پر اپنے صحافی ہونے کی شناخت چھپا لی اوراسپتال کے استقبالیہ سے ایک عام شخص کی طرح سوال کیا کہ ایڈز کے حوالے سے معلومات درکار ہیں تو استقبالیہ پر موجود ادھیڑ عمر کے آدمی نے مجھ پر گہری نظر ڈالتے ہوئے کہا کیوں بی بی خیریت ہے اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا مجھے بتائیں آپ کا کیا مسئلہ ہے ؟میں نے اسے کہا آپ تو ریسپشن پر ہیں ڈاکٹر بھی نہیں اس لیے مجھے اس شعبے کا بتائیں جہاں آپ کے اسپتال میں ایڈزکے مریضوں کا علاج ہوتا ہے۔اس پر اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا بی بی ہم بھی ڈاکٹر سے کم نہیں کچھ بتائیں تو سہی ۔میں اس وقت یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ ایک عام شخص جو اس بیماری میں مبتلا ہوکر سرکاری اسپتال کا رخ کرتا ہوگا وہ تو اس رویے سے ہی مکمل طور پر ٹوٹ جاتا ہوگا۔جب اس ریسپشن پر بیٹھے صاحب جوکہ خود کو آدھا ڈاکٹر بتا رہے تھے کو میں نے اپنے صحافی ہونے سے آگاہ کیا تو بوکھلا گیا اورکہنے لگا او میڈم جی پہلے کیوں نہیں بتا یا آپ ٹی وی اخبار سے ہو میں ابھی آپ کو ایڈز کنٹرول سیل لے جاتا ہوں۔میڈم آپ رپورٹ بنانے آئی ہو کیمرہ بھی ہے آپ کبھی ہمارے مسائل پر بھی لکھیں میں نے اسکو کہا آپ بس مجھے ایڈز کنٹرول سیل کا پتہ بتایں اور آپ کا شکریہ۔
ایڈز کنٹرول سیل جاتے وقت میں یہ سوچتی رہی کہ سرکاری اسپتالوں میں بیمار انسانوں کے ساتھ کتنا تضحیک آمیز سلوک کیا جاتا ہے اور رازداری سے معلومات دینے کے بجائے ان کا مذاق اڑایاجاتا ہے۔سیل میں گئی تو وہاں ایک اور استقبالیہ تھا جو بالکل خوش اخلاقی سے عاری تھا۔ایک نرس اور ریسپشنٹ کے علاوہ کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا ان کے پاس بھی کوئی خاص معلومات بھی موجود نہیں تھیں۔صرف دوائوں کی کمپنیوں کے پمفلٹ موجو د تھے۔ان دونوں کو بھی اس بات میں دلچسپی تھی کہ مجھے یہ معلومات کیوں درکار ہیں۔ اس وقت مجھے اس بات کا احساس اور بھی زیادہ ہوا کہ عام غریب افراد کے ساتھ یہ ماتحت عملہ کیا کرتا ہو گا اور اسپتال کی انتظامیہ ڈاکٹرز کو اس بات کا ادراک بھی نہیں ہوگا کہ ایک عام مریض کس قدر اذیت کا شکار ہونے کے بعد ان تک پہنچتا ہوگا اور کچھ بے عزتی سہن نہیں کر پاتے ہوں گے اور واپس گھر لوٹ جاتے ہوں گے۔اس اسپتال سے کچھ معلومات نا ملی لیکن عالمی ادارہ صحت سے تمام معلومات مل گئی لیکن پاکستان کے ایک عام شخص کی تو وہاں تک رسائی نہیں انکو معلومات ہر حال میں رازداری کے ساتھ اسپتال سے ملنی چاہیے۔
ایڈز ایک ایسی جان لیوا بیماری ہے جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے لوگ شرم محسوس کرتے ہیں۔لیکن یہاں یہ بات جان لینا بہت ضروری ہے کہ یہ بیماری صرف بے راہ روی سے نہیں پھیلتی بلکہ اس کے پیچھے بہت سے دیگر وجوہات بھی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دو ہزار تیرہ میں ایڈز متاثرہ افراد کی تین کروڑ پچاس لاکھ تھی۔اس ہی سال پندرہ لاکھ افراد اس مرض کے باعث موت کہ منہ میں گئے اور سب سے زیادہ کیس افریقہ میں رپورٹ ہوئے۔پاکستان کی بات کی جائے تو اس وقت پاکستان میں ایڈز کے آٹھ ہزار سے زاید کیسز رجسٹرڈ ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ چھ ہزار سے زائد اس متاثر ہیں۔یہ تعداد اس بھی زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ ہمارے ہاں لوگ علاج میں تاخیر کرتے ہیں اوران کے پاس علاج معالجے کی سہولیات بھی دستیاب بھی نہیں۔لوگوں کا عمومی رویہ بھی ایسے مریضوں کے ساتھ نفرت آمیز ہوتا ہے تو بہت سے کیس رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے۔
ایچ آئی وی ایڈز ایک ایسا خطرناک وائرس ہے جو انسان میں قوت مدافعت ختم کردیتا اور ہر طرح کی بیماریاں انسان پر حملہ آور ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔اس کی علامتیں ظاہر ہونے میں دو سے پندرہ سال کا عرصہ گزر جاتا ہے۔ ابتدائی علامات جو ظاہر ہوتی ہیں ان میں مختلف انفکیشنز کا ہونا مسلسل بخار،کھانسی،اسہال،وزن میں کمی،گلے میں سوزش،نزلہ زکام اور جوڑوں میں درد شامل ہے۔اگر یہ علامتیں ہوں تو فوری طور پر ایڈز کے لیے مخصوص شعبے کا رخ کیا جائے اور ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ٹیسٹ کروائے جائیں۔اس بیماری کے ہونے کی پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں جیسے اگر متاثرہ مریض کی روطوبت کسی صحت مند انسان میں منتقل ہوجائے،استعمال شدہ سرنج کا استعمال،متاثرہ مریض کے ساتھ جنسی تعلقات،ہم جنس پرستی،متاثرہ عورت سے اس کے پیدا ہونے والے بچے میں اس کے دودھ سے بھی بچے کو یہ مرض منتقل ہوجاتاہے۔اس کے علاوہ ایڈز متاثرہ خون لگوانے سے،منشیات کا استعمال کرنے والے،ڈاکٹرز کے طبی اوزار اگر صاف نا کیے جائیں اورٹیٹوز ناک کان چھدوانے کے اوزار اگر اسٹیریلائز نا ہوں تو یہ بیماری پھیلانے باعث بنتے ہیں۔
اس بیماری سے بچنے کا سب سے بڑا طریقہ احتیاط اور اس مرض کے حوالے سے آگاہی ہے۔اگر آپ سے بیماری کے پھیلنے کی وجوہات سے واقف ہیں تو ان تمام چیزوں اور کاموں سے احتیاط کریں جوکہ اس مرض کے پھیلائو کا باعث ہیں۔اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور بے راہ روی سے پرہیز کریں۔ہمیشہ نئی سرنج کا استعمال کریں،سڑکوں پر بیٹھے ہوئے دندان سازوں اور ناک کان چھدوانے سے مکمل اجتناب کریں۔اگر کسی کو خون لگوانا ہو تو معیاری بلڈ بینک سے لیں اگر کوئی فرد عطیہ کر رہا ہو تو اس کا ٹیسٹ کروایا جائے کہ وہ ہر طرح کی بیماری سے محفوظ ہے۔پالرز میں قینچی اور مینی، پیڈی کیور کرنے والے اوزار مکمل صاف ہوں۔کسی کا استعمال شدہ بلیڈ استعمال نا کریں۔
اس بیماری کی تشخیص ہونے کے بعد مریض کوسب سے پہلے کونسلنگ کی ضرورت ہے یہ بیماری کوئی چھوت کی بیماری نہیں ہے اس لیے خاندان کی شفقت اور ڈاکٹرز کا ہمدردانہ رویہ مریض میں اس بیماری سے لڑنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔پاکستان کے زیادہ تر اسپتال ماہر نفیسات سے محروم ہیں اس لیے یہ بات لازم ہے کہ رسپسشن پر بھی اور ایڈز جیسے موذی امراض کے شعبے میں ماہر نفسیات بیٹھائے جائیں تاکہ مریضوں کو حوصلہ ملے اور کوئی شخص بھی ان کی تضحیک نا کرے۔اس کے بعد ایڈز کے مریضوں کے علاج کے لیے اب ادویات دستیاب ہیں جوکہ اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت تو نہیں رکھتی لیکن مختلف اینٹی ریٹرو وائیرل ادویات کی مدد سے ایڈز کو کہیں سال تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔تاہم یہ ادویات بہت مہنگی ہیں اس لیے حکومت کو ان ادویات کو مریضوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کرنا ہوگی اس کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء جو ایڈز کے تدارک میں استعمال ہوتی ہیں انہیں عام کیا جاہے۔یہ بات اب سائینسی طور پر ثابت ہے کہ ختنے کروانے سے ایڈزکے امکان کو ساٹھ فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے اس لیے اس کی سہولت اسپتال میں مہیا کی جائے۔استعمال شدہ سرجن،انجکشن اور بلیڈ کو فوری طور پر تلف کر دیا جائے اور دیگر آلات کو مکمل طور پر جراثیم سے پاک کرکے استعمال کیا جائے۔محکمہ صحت خود اس بات کی نگرانی کرے کہ اسپتالوں،بلڈ بینک اور لیباٹریوں میں صحت و صفائی کے اصولوں کا مکمل خیال کیا جائے۔تب جا کر ہم اس بیماری پر قابو پاسکتے ہیں۔اس کے ساتھ میڈیا حکومت اور سول سوسائٹی آگاہی پھیلائے اور ٹی وی اخبارات اس ضمن میں بہترین کام انجام دےسکتے ہیں ،ایڈز کو پھیلنے سے ہم صرف اس بیماری کے حوالے سے آگاہی عام کرکے کم کرسکتے ہیں۔بات کریں اور ایڈز کو مزید پھلنے سے روکیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Contact at https://twitter.com/#!/javerias
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10414#sthash.NKwrASrp.dpuf

Posted in health, Pakistan

آیوڈین کی کمی کے شکار عوام

آیوڈین کی کمی کے شکار عوام  

  Posted On Thursday, November 27, 2014   ……جویریہ صدیق…..

صحت مند رہنے کے لیے متوازن غذا لینا بہت ضروری ہے۔اس غذا میں نشاستے،لمحیات،چکنائی،حیاتین،معدنیات اور پانی کا متوازن تناسب بہت ضروری ہے۔غذا کی اقسام میں معدنیات بھی بہت اہم ہے اور یہ جسم کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔معدنیات میں کیلشیم ،آیوڈین،فولاد اور سوڈیم ہماری جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہیں۔ خاص طور پرآیوڈین ہمارے جسم اور دماغ کے لیے بہت ضروری ہے۔آیوڈین ہمارے جسم میں تھائرائیڈ کے غدود سے نکلنے والے مادے کو بنانے میں اہم کردار ادا کرتاہے۔یہ مادہ ہمارے جسم کی نشوونما،درجہ حرارت کو تناسب سے رکھنے میں معاون ہے،خاص طور پر دوران حمل اور بچپن میں یہ ذہنی نشوونما کے لیے اہم ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ آیوڈین کی کمی کا شکار لوگ بھارت،پاکستان،سوڈان گھانا اور سینگال جیسے ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔تقریبا ًسالانہ چار کروڑ بچے آیوڈین کی کمی کا شکار خواتین کے گھر پیدا ہوتے ہیں جن میں سے ایک کروڑ اسی لاکھ ذہنی معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔

آیوڈین قدرتی طور پر زمین میں شامل ہے۔سمندری مچھلی ،جھینگے وغیرہ میں،ڈیری پراڈکٹس پنیر،دودھ ،دہی ، انڈے وغیرہ،سبزیوں،گوشت،پانی اوراناج میں شامل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ آیوڈین حاصل کرنے کا سب سے آسان اور سستا ذریعہ آیوڈین ملا نمک ہے۔اگر ہماری خوارک میں آیوڈین کی مناسب مقدار نا شامل ہو تو ہم بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔جن میں گلہڑ نمایاں ہے،دماغی کمزوری،جسمانی کمزوری،قد کا چھوٹا رہ جانا،بہرہ پن اور بانجھ پن شامل ہے۔اگر آیوڈین کی کمی حاملہ خواتین میں ہو تو وہ بہت سے تکالیف اور مشکلات کا شکار ہوسکتی ہیں جن میں کمزوری اور ان کے بچے کی نا مکمل نشوونما شامل ہے بچہ پیدایش کے بعد گونگا یا بہرا بھی ہوسکتا ہے،بعض اوقات آیوڈین کی کمی اسقاط حمل اور مردہ بچے کی پیدایش کا بھی سبب بن سکتی ہے۔اس ہی طرح بچے میں آیوڈین کی کمی بہت خطرناک ہے ایسے بچے تعلیمی میدان میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ،ایسے بچے کمزوری تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں،ان میں سیکھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے اور کچھ بچے قد چھوٹا رہ جانے اور دماغی کمزوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ آیوڈین مناسب مقدار میں خوارک میں شامل کیا جائے۔

صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم دی نیٹ ورک کے مطابق پاکستان کی پچاس فیصد آبادی آیوڈین کی کمی کا شکار ہے۔ جن میں باون فیصد خواتین اور تیس فیصد بچے ہیں۔ہر سال پاکستان میں بائیس لاکھ پچاس ہزار بچے ذہنی طور کمزور پیدا ہوتے ہیں۔پاکستان میں آیوڈین کی کمی کو پورا کرنا کا سب سے آسان اور سستا حل آیوڈین ملا نمک استعمال کرنا ہے۔ دی نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائیریکٹر ندیم اقبال کے مطابق پاکستان میں آیوڈین کی کمی کو ختم کرنے کے لیے پروگرام کا آغاز انیس سو ستر میں کیا گیا تھا اس پروگرام نے کامیابی کے ساتھ اپنے اہداف مکمل کیے اور اس وقت پاکستان کی کثیر آبادی آیوڈین ملے نمک کا استعمال کر رہی ہے۔تاہم تیس فیصد آبادی اب بھی آیوڈین ملے نمک کا استعمال نہیں کررہی اور اس تیس فیصد آبادی کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے کہ وہ بھی آیوڈین ملے نمک کا استعمال کریں۔جس میں آیوڈین ملے نمک کی افادیت کے حوالے سے آگاہی اہم ہے۔ندیم اقبال کے مطابق کچھ لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ آیوڈین ملے نمک میں کچھ ایسے اجزا ہیں جو بانجھ پن کا باعث بنتے ہیں ان کے مطابق علماء دین اور طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آیوڈین ملے نمک میں ایسے کوئی اجزاء نہیں جو بانجھ پن کا باعث بنیں۔اس کے ساتھ ساتھ آیوڈین ملے نمک کا ذائقہ بالکل عام نمک جیسا ہے اور یہ مہنگا بھی نہیں۔ندیم اقبال کے مطابق اراکین اسمبلی اور میڈیا اس ضمن اپنا کردار اد اکرسکتے ہیں قانون سازی کی جائے کہ ہر نمک آیوڈین ملا نمک ہو اور یہ کم قیمت پر ہر جگہ دستیاب ہو۔

ایسے علاقے جو سطح سمندر سےاوپر ہوں وہاں زمین اور پانی میں آیوڈین کی کمی ہوجاتی ہے۔اس علاقے میں سبزیوں اناج اور پھلوں میں بھی آیوڈین کم ہوجاتا اور جانوروں کے گوشت میں بھی اس لیے ماہرین آیوڈین ملا نمک تجویز کرتے ہیں جوکہ قیمت میں بھی کم ہے اور آیوڈین کی کمی کو بھی پورا کرتا ہے۔پورا دن میں صرف چائے کا آدھا چمچ آیوڈین بہت کافی ہے وہ بھی ایک ساتھ نہیں مختلف غذا کے ذریعے سے پورا دن میں لیا جائے۔تاہم جو لوگ ہائی بلڈ پریشر اور دل کے عارضے میں مبتلا ہیں انہیں نمک کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے اور ڈاکٹر مشورے کے بعد نمک کی خوارک میں مقدار کا تعین کرنا چاہیے۔ایک صحت مند انسان یومیہ پانچ گرام نمک استعمال کرسکتا ہے یعنی صرف ایک چائے کا چمچ بہت کافی ہے۔بڑھتے ہوئے بچوں میں آیوڈین کا استعمال یقینی بنائیں یہ ان کے آئی کیو میں اضافہ کرتا ہے ۔اس کے لیے ہمیں قانون سازی کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر موثر کمپین کی بھی ضرورت ہے جس میں عوام الناس کو آیوڈین ملے نمک کی افادیت سے آگاہ کیا جائے کہ اس کے استعمال سے ہمیں کیا فائدہ ہے اور اس کی کمی سے ہمیںکون سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔،آیوڈین ملے نمک کا استعمال کرکے ہی ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو ذہین بنا سکتے ہیں۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10405#sthash.drTGclSQ.dpuf