Posted in health, Javeria Siddique, Pakistan, rain, Uncategorized

موسم برسات میں احتیاط لازم

RAin-control۔۔

اسلام آباد….جویریہ صدیق….ملک اس وقت شدید بارشوں کی لپیٹ میں ہے اور محکمہ موسمیات نے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کی پیشگوئی کی ہے۔ملک کے بالائی علاقوں کشمیر فاٹا خیبر پختون خواہ بالائی پنجاب اور جڑواں شہروں میں بھی گھن گرج کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری ہے جس نے سردی میں اضافہ کردیا ہے۔

مسلسل بارش کی وجہ سے متعدد مکانات بھی منہدم ہوئے۔بلوچستان کے علاقوں خضدار، قلات، چمن، چاغی اور زیارت بارش سے زیادہ متاثر ہوئے۔بارشوں کے باعث خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں بھیمتعدد افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے۔

تاہم مسلسل بارش کے دوران کچھ احتیاطی تدابیر اپنا کر بہت سے حادثات کو ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔سب سے پہلے تو ٹی وی خبروں اخبارات ریڈیو یا محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ سے موسم کے حوالے سے آگاہ رہیں۔اگر آپ نشیبی علاقے میں رہائش پذیر ہیں توقیمتی سامان کو بالائی منزل پر شفٹ کرلیں۔

اگر ہوسکے تو ممکنہ سیلاب یا طغیانی سے بچنے کے لئے کسی رشتہ دار کے گھر چلے جائیں۔موسم ٹھیک ہونے پر واپس لوٹ آئیں۔چھت ڈالتے وقت یہ خیال رکھیں کہ وہ مضبوط اور پائیدار ہو۔ پاکستان میں بہت سے لوگ اپنی جان سے محض اس لئے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کہ کمزرو ہونے کی وجہ سے چھت گرتی ہے۔

بارشوں سے پہلے گھر میں چھت یا دیواروں کی لیکج کو چیک کروالیں۔گھر میں موجود ڈرینج سسٹم اور گٹر بھی چیک کروائیں۔ اگر کوئی بلاک ہے تو پلمبر اس کو کھول دے گا اوربارش میں نکاسی آب میں آسانی رہے گی۔ابتدائی طبی امداد کا سامان ادویات بھی خرید کر رکھ لیں تاکہ بارش میں نا جانا پڑے۔

اگر بارش اور سیلاب کی پیشنگوئی کی گئ ہو تو مناسب خوراک،اشیائے خوردونوش اور پینے کے صاف پانی کا بھی ذخیرہ کرلیں۔گھر میں ٹارچ سیل اور موم بتیاں بھی لازمی ہونی چاہیں۔تاہم اہم نمبر موبائل کے ساتھ ایک ڈائری میں لکھ کر بیگ یا پرس میں ساتھ رکھ لیں۔

بارش میں بہت سے حادثات بجلی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کسی بھی گیلی تار یا ٹوٹی ہوئی تار کو ہاتھ لگانے سے پرہیز کریں۔ دوران بارش کسی بھی بجلی کی چیز کو ننگے پاوں یا گیلے ہاتھ نا لگالیں۔غیر ضروری بجلی کے آلات کو بند کردیں۔اگر بارش کے باعث کوئی بجلی کی تار یا چیز خراب ہوجائے تو خود ٹھیک کرنے سے پرہیز کریں اور الیکٹریشن ہو کو بلائیں ۔

اگر گھر میں پانی داخل ہوجائے تو گیس اور بجلی کے مین سوئچ بند کردیں۔خود ٹارچ یا پورٹیبل لیمپ کا استعمال کریں۔اگر پانی زیادہ داخل ہوجائے تو پہلے اپنی جان کی حفاظت کریں اور خود کو محفوظ مقام پر منتقل کریں۔

باہر کسی بھی بجلی کے پول اور سائن بورڈ سے دوررہیں۔ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو اداروں کو مدد کے لئے فون کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ بارش میں حفظان صحت کے اصولوں کا بھی خیال رکھیں۔گندے ہاتھ منہ پر نا لگائیں۔کوئی بھی پھل ،سبزی بنا ہاتھ دھوئے نا کاٹیں نا کھائیں۔بازار کی اشیاء خاص طور پر پکوڑے، سموسے وغیرہ کھانے سے پرہیز کریں ۔پانی ابال کر پئیں۔

برسات میں خاص طور پر ہیضہ نزلہ زکام اسہال عام ہوجاتا ہے جس سے بچنے کا واحد حل حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند رہنا ہے۔

برسات میں مچھروں کی بھی بہتات ہوجاتی ہے اس کے ساتھ کیڑے مکوڑے بھی ان سے بچنے کے لئے ریپلنٹ کا ستعمال کیا جائے اور اسپرے کیا جائے۔بچوں پر خاص نظر رکھیں اور انہیں برسات میں ندی نالوں میں نہانے سے منع کریں۔

دوران بارش ڈرائیونگ سے گزیز کریں اگر ڈارئیونگ کرنا ناگزیر ہو تو نشیبی علاقوں میں گاڑی لے جانے سے پرہیز کریں۔اپنے گھر والوں کو اپنے روٹ سے آگاہ کریں۔

نکلنے سے پہلے گاڑی کی لائٹس، وائپر، ہیٹر اور فیول چیک کرلیں۔موبائل ساتھ لازمی رکھیں۔گاڑی کی رفتار کم رکھیں اور آگے والی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔ہلکی آواز میں ریڈیو سنتے رہیں تاکہ حالات سے باخبر رہیں۔ہیڈ لائٹس آن رکھیں۔

کسی بھی راہ چلتے شخص یا موٹر سائیکل سوار کے پاس گاڑی کی رفتار بہت کم کردیں تاکہ وہ کیچڑ سے محفوظ رہیں۔اگر بارش زیادہ ہوجائے تو کسی محفوظ جگہ پر یا سروس اسٹیشن پر گاڑی پارک کرکے پارش کے تھمنے کا انتظار کریں۔کسی بھی ندی نالے کو کراس کرنے سے گریز کریں کیونکہ پانی کی رفتار گاڑی کو بہا لے کر جاسکتی ہے۔اس لئے متبادل راستہ اختیار کریں۔تیز رفتاری صرف آپ کے لئے نہیں بلکے اردگرد لوگوں کے لئے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

بارشوں میں جلد پر بھی بہت سے جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں۔اس لئے جلد کی حفاطت کریں ۔منہ پر گندے ہاتھ نا لگائیں۔ہاتھوں کو صابن یا ہیںڈ واش سے دھویں اور منہ کو دن میں تین سے چار بار دھویں۔کوئی گندہ تولیہ یا کپڑا منہ پر نا استعمال کریں۔

سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ قدرتی طور پر ہوا سے آپ کا منہ خشک ہوجائے۔بارش بھی چند حفاظتی تدابیر اپنا کر ہم بہت سی بیماریوں اور حادثات سے بچ سکتے ہیں اور موسم کو بہترین طریقے سے انجوائے کرسکتے ہیں۔

 

575d63910d6a9

Advertisements
Posted in Javeria Siddique, Pakistan, Uncategorized

راج دلارا

راج دلارا

جویریہ صدیق

o-father-son24-facebook

بس میری شروع سے خواہش تھی کہ پہلا تو بیٹا ہی ہونا چاہیے ۔بات یہ نہیں تھی کہ مجھے بیٹوں سے نفرت تھی ۔لیکن نسل چلانے کے لئے بھی کوئی ہونا چاہیے ۔رقیہ جب امید سے تھی تو میں نے صاف کہہ دیا مجھے تو پہلا بیٹا چاہیے وہ چپ کرکے میری بات سنتی رہی ۔ویسے بھی ہمارے معاشرے میں مرد صرف بولنے اور عورت صرف سننے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔میں تو خوشی سے نہال تھا جیسے جیسے دن قریب آرہے تھے۔اتوار بازار سے کتنے ہی کھلونے لئے آیا نیلے کالے سفید رنگ کے کپڑے بھی ۔گھر جاتے وقت کبھی دودھ ربڑی لئے جاتا تو کبھی چکن کڑاہی نان۔رقیہ بھی اپنے نصیب پر نازاں تھی کہ مجھ جیسا اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا ۔آخر وہ گھڑی آن پہنچی میں دائی نسرین کو لئے آیا اور خود بے صبری سے باہر انتظار کرنے لگا۔رقیہ کا چیخیں مجھے بے چین کررہی تھیں ۔میں بھاگ کر گلی کی نکڑ والی مسجد میں چلا گیا اور رونے لگا مولوی صاحب مجھے آکر تسلی دینے لگے ۔دل کا بوجھ ہلکا کرکے میں گھر لوٹا تو رقیہ درد سے اب بھی چلا رہی تھی۔میں نے دائی سے پوچھا خطرے کی کوئی بات نہیں انہوں نے کہا کچھ نہیں ہوتا تم فکر نا کروشوکت ۔

کچھ دیر میں رقیہ کی آواز خاموش ہوئی اور بچے کی رونے کی آواز آنے لگی۔میں تو خوشی سے نہال ہوگیا ۔میرا راج دلارا جو آگیا تھا ۔دائی میرے سامنے کپڑے میں لپیٹ کر لائی اور مجھے مبارک دی مبارک ہو راج دلاری آئی ہے مبارک ہو شوکت تیرے گھر اللہ کی رحمت آئی ہے۔

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے مجھے بیٹا چاہئے تھا یہ منحوس بیٹی کہاں سے پیدا ہوگئ۔مجھے بیٹا چاہیے تھا ۔دائی کو دل پر پتھر رکھ کر پیسے اور تحائف کے ساتھ رخصت کیا۔اندر گیا تو رقیہ میری منتظر تھی میں نے کپڑے دھونے والا ڈنڈا اٹھایا اسکو کو مارنا شروع کردیا ۔وہ تو شاید میری طرف شفقت محبت کی طالب گار تھی۔وہ حیران ہی رہ گئ ۔میرا دل کررہا تھا اس منحوس اور اسکی پیدا کی ہوئی لڑکی کا گلا دبا دوں ۔میرے ماں بیچ میں آگیی اس نے میری بیوی کو مار سے بچایا۔

میرا غصہ پھر بھی کم نہیں ہوا میں نے صحن میں لگے تندور میں کپڑے اور کھلونے جلا دیے ۔میری اماں بہت منع کرتی رہی بس نفرت غصے کی آگ میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا

مسجد میں مولوی صاحب نے مجھے بہت سمجھایا بیٹی اللہ کی رحمت ہے ۔بیٹوں کی احسن طریقے سے پرورش کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے ۔اس کے بعد میں خاموش ہوگیا اور سمجھوتہ کرلیا۔گھر کا ماحول بلکل بدل گیا ۔رقیہ جہاں ہنسا بولا کرتی تھی اب کسی مشین کی ماند کام کرتی رہتی تھی۔بیٹی کو مجھ سے دور رکھتی اور رات کو اس کو اماں کی کمرے سلاتی ۔

رقیہ اور میری اماں نے اس کا نام مریم رکھا ۔مریم دو سال کی ہوئی ۔تو ہمارے گھر میں پھر ننھے مہمان کی آمد

کی نوید ہوئی ۔میں نے ہر وقت دعا شروع کردی ۔اس بار بیٹا ہو۔میں رقیہ کے بہت ناز اٹھاتا وہ بہت سہمی ہوئی رہتی تھی۔شاید ایسے یقین نہیں تھا کہ اس بار بیٹا ہو۔

اس بار بھی وہ ہوا ایک اور بیٹی پیدا ہوئی۔میں نے رقیہ مریم دونوں کو بہت مارا ۔ڈھائی سال کی مریم روتی رہی ۔ہمیں نا مارو۔ہمیں نا مارو ۔پر میرے اندر کا شیطان کا روکنے کو نہیں آرہا تھا۔میری ماں نے مجھے بہت مشکل سے روکا ۔میں پورے ایک ہفتے گھر سے غائب رہا ۔مجھے رقیہ اور اسکی پیدا کی ہوئی بیٹوں سے نفرت ہورہی تھی۔

میرے رشتہ دار مجھے سمجھا کر واپس گھر لئے آئے۔اماں نے بیٹی کا نام زینب رکھا ۔گھر میں شیرینی بنا کر محلے میں بانٹ دی۔

مجھے سب چیزوں سے نفرت ہوتی جارہی تھی۔جب دایی نسرین نے بتایا رقیہ ایک پھر پیٹ سے ہے ۔میں نے سوچا میں گاوں سے لاہور چلا جاو۔وہاں سے کما کر بھیجتا رہوں کم از مجھے ان عورتوں کا منہ نہیں دیکھنا پڑے گا۔

ٹھیک سات ماہ بعد ماں نے مجھے خط بھیجا کہ میرے گھر بیٹا ہوا۔مجھے لگا کسی نے مذاق کیا۔رفیق کی دوکان فون کیا اور پوچھا کیا واقعی ہی ایسا ہے گھر سے پتہ کرے۔تھوڑی میں رفیق کا ٹیلی فون آیا دوسری طرف ماں کی ہانپتی ہوئی آواز آئی مبارک  ہوتیرا بیٹا ہوا ہےچل واپس آ اسکا نام رکھ عقیقہ کر۔میں نے لاہور میں کام ختم کیا۔بچے کے لئے بہت سارے کھلونے کپڑے سونے کی ایک انگوٹھی خریدی ۔

گھر آیا تو اماں رقیہ اور بیٹیاں مجھے دیکھ کر بہت خوشی ہوئیں ۔بیٹیاں میری طرف دیوانہ وار لپکی میں نے جھٹکے سے پیچھا کیا دفع ہو جاو اپنی منحوس شکلیں مجھے نا دیکھاو۔وہ ڈر کر چھپ گئ۔

میں نے اپنے بیٹا کو گود میں لیا اور وہ ناچا کہ وہ پیسے وارے ۔اس کے عقیقے میں 4 بکرے کٹوائے وہ دعوت چلی کہ پورے گاوں نے نہیں دیکھی تھی ۔

بیٹے کا نام شان شوکت رکھا وقت گزرتا گیا میں نے ہر موقع پر بیٹوں کو ہر موقعے پر دھتکارا اور بیٹے کو آگے آگے رکھا۔گھر میں گوشت صرف میرے اور شان کے لئے پکتا رقیہ زینب مریم دال کھاتی۔شان خود سر ہوتا رہا میں اس کی جوانی کو دیکھ کر اتراتا ۔بیٹوں کو تو مڈل کے بعد میں نے سکول نہیں جانے دیا ۔گھر میں سلائی کڑھائی میں لگا دیا۔شان کو پڑھنے لاہور بھیج دیا ۔

اس کی کمپیوٹر میں ڈگری مکمل ہوئی جاب بھی لگ گی مجھے لگا دن پھیرنے کو ہیں اب میں بھی گھر پر آرام کروں گا ۔پر شان ڈگری کے ساتھ بہو بھی لئے آیا مجھے بہت غصہ آیا اس نے میرے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ۔میں نے سوچا کوئی بات نہیں جوان خون ہے بہک گیا ۔شادی ہی کی ہے کوئی گناہ تو نہیں ۔میں نے دھوم دھام سے ولیمہ کیا لوگوں نے بہت باتیں کی لیکن میں پرواہ نہیں کہ بیٹیاں ابھی بیٹھی ہیں اور میں نے بیٹے کی شادی پہلے کردی۔

شان نے جب کہا کہ وہ اب گاؤں نہیں رہے گا اور لاہور میں رہے گا ۔تو میرا دل ٹوٹ سے سا گیا ۔چند دن میں وہ واپس چلا گیا ۔

میں رقیہ کو لے کر لاہور بھی گیا پر وہ اتنی گرمجوشی سے نہیں ملا ۔اس کی بیوی نے بھی ہماری خاص عزت نہیں کی مجھے بہت افسوس ہوا ایسا لگا دل میں کچھ چبھ سا گیا ہے ۔

گاؤں آتے ہی فالج نے مجھے آن لیا۔رقیہ نے لاہور بہت فون کیے لیکن نوکروں نے بتایا شان صاحب اپنی بیگ

کے ساتھ دبی گئے ہوئے ہیں ۔میں تڑپ رہا تھا اور میرا راج دلارا میرے پاس نہیں تھا ۔مریم اور زینب ڈرتے ڈرتے میری تیمار داری کرتیں ۔مجھے دوائی دینا میری مالش کرنا میرے منہ میں نرم غذا ڈالنا۔یہ دونوں وہ ہی تھیں جن کو میں نے منحوس چڑیلیں کہا تھا ۔جن کے پیدا ہونے پر میں انہیں مارنا چاہا تھا ۔میری وہ بیوی جس کو میں ڈنڈے سے مارا کرتا تھا خود میرا لباس تبدیل کرواتی مجھے صاف کرتی۔میں ندامت سے گڑ جاتا ۔

ایک مہینے بعد جب شان لوٹا تو مجھے فون کرکے خیریت دریافت کی اور تب بھی ملنے نہیں آیا ۔میرے راج دلارے کے پاس میرے لئے وقت نہیں تھا۔میں جس کو ہمیشہ پیار دیا لاڈ دیا وہ تو نہیں آیا۔پر اللہ کی رحمت میری بیٹوں نےمیرے تمام زخموں کو بھر دیا۔میں نے ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگی وہ رونے لگیں اور میرے گلے لگ گئ

Javeria Siddique is a Journalist , Author and Photographer

Twitter @javerias

https://www.facebook.com/OfficialJaverias/

575d63910d6a9

Posted in Javeria Siddique, TRT Urdu, Uncategorized, جویریہ صدیق

. آگاہی ایوارڈ پاکستان سے ٹی آر ٹی اُردو سروس کو جویریہ صدیق کے پروگرام “پاکستان ڈائری” پر ایوارڈملکی اورغیر ملکی کوریج

 

آگاہی ایوارڈ پاکستان سے ٹی آر ٹی اُردو سروس کو جویریہ صدیق کے پروگرام “پاکستان ڈائری” پر ایوارڈ

آگہی ایوارڈ نے پاکستان ڈائری میں لکھے گئے گھریلو باغبانی کے آرٹیکل اور ریڈیو پروگرام کو ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا ۔اس آرٹیکل میں گھر میں کیمیکل سے پاک سبزیوں اور پھلوں کو اگانے کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی گئی تھی

12.12.2016 ~ 15.12.2016

آگاہی ایوارڈ پاکستان سے  ٹی آر ٹی اُردو سروس کو  جویریہ صدیق کے پروگرام

سلام آباد : مختلف شعبہ جات میں اعلی کارکردگی

کا مظاہرہ کرنے والے صحافیوں کو آگہی میڈیا ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ٹی آر ٹی اردو سروس سے وابستہ صحافی جویریہ صدیق کو شعبہ زراعت میں 2016 کے بہترین صحافی ہونے کا ایوارڈ دیا گیا۔جویریہ صدیق کے سلسلہ وار پروگرام پاکستان ڈائری نے عوام میں بہت کم وقت میں مقبولیت پائی ۔ٹی آر ٹی اردو سروس کی اس مثبت کاوش کو پاکستان بھر میں سراہا گیا۔

آگہی ایوارڈ نے پاکستان ڈائری میں لکھے گئے گھریلو باغبانی کے آرٹیکل اور ریڈیو پروگرام کو ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا ۔اس آرٹیکل میں گھر میں کیمیکل سے پاک سبزیوں اور پھلوں کو اگانے کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی گئی تھی۔

اگہی ایوارڈ 2016 میں مارچ 2015 سے اگست 2016 تک نشر اور شائع ہونے والی رپورٹس شامل تھیں ۔آگہی ایوارڈ کے منتظمین عامر جہانگیر اور پریوش چوہدری کے مطابق اس سال 3500 سے زائد نامزدگیاں سامنے آئی جس میں سے 48 صحافیوں کو ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔آگہی ایوارڈ پاکستان میں کام کرنے والوں صحافیوں کے لئے واحد ایوارڈ ہیں۔جس میں پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا ریڈیو اور ان لائن میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو ان کی اعلی کارکردگی پر ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔2012 میں پہلی بار اس ایوارڈ کا اجرا ہوا تھا۔

2016 کے بہترین نیوز اینکر کے ایوارڈ وسیم بادامی اور عائشہ بخش کے نام ہوئے ۔مستند ترین اینکر نسیم زہرہ قرار پائیں ۔جب کے انویسٹیگٹیو جرنلسٹ آف دی دئیر کا مشترکہ ایوارڈ  اے ار وائی کے پروگرام پاور پلے پروگرام کے اینکر ارشد شریف اور پروڈیوسر عدیل راجہ کے نام ہوا۔مقبول ترین چینل اے آر وائی قرار پایا۔


http://www.trt.net.tr/urdu/pkhstn/2016/12/12/aghy-ywrdd-pkhstn-sy-tty-ar-tty-urdw-srws-khw-jwyryh-sdyq-khy-prwgrm-pkhstn-ddy-ry-pr-ywrdd-628962

پاکیستانین اوسکاری صاحب‌لرینه وئریلدی

آگاه اؤدول‌لری اوچون بو ایل اؤلکه سویه‌سینده اوچ مین 500دن چوخ شخص یازی‌لی مطبوعات، تلویزیون، رادیو و اینترنت مئدیاسی داخیل 35 کاتگوریده نامیزد گؤستریلدی

13.12.2016 ~ 15.12.2016

پاکیستانین اوسکاری صاحب‌لرینه وئریلدی

پاکیستانین اوسکاری اولا‌راق بیلینن آگاه اؤدولو صاحب‌لرینه وئریلدی.

ایسلام آباددا گئچیریلن اؤدول مراسیمینده ت‌رت تورکیه‌نین سسی رادیوسو اوردوجا سرویسی اوچون پروگرام حاضرلایان جوریه صدیقی 2016 تاریم کاتگوریسینده اؤدول قازاندی.

صدیقی پروگرامی پاکیستان جمعیتی و تورکیه‌نین سسی رادیوسونون اوردوجا پروگرامی پاکیستاندا قیسا بیر مدتده شؤهرت قازاندی.

آگاه اؤدولو اونون باغچی‌لیق ایله علاقه‌لی یازی‌لاری و رادیو پروگرامین‌دان اؤترو وئریلمیش‌دیر.

اونون یازی‌لاری اینسان‌لاری میوه و یاشیللیقلاری نئجه یئتیش‌دیره بیله‌جگی قونوسوندا حساسلاشدیرمیشدیر.

آگاه اؤدول‌لری اوچون بو ایل اؤلکه سویه‌سینده اوچ مین 500دن چوخ شخص یازی‌لی مطبوعات، تلویزیون، رادیو و اینترنت مئدیاسی داخیل 35 کاتگوریده نامیزد گؤستریلدی.

آگاه اؤدول‌لرینه ژورنالیستلر ماراق گؤستردی و آگاه اؤدول‌لری پاکیستاندا سوسیال مئدیا یولو ایله 6 میلیون‌دان چوخ انسانا چاتدی و خالق‌لارین سئچه‌نگی اؤدول‌لری کاتگوریلری اوچون اس‌ام‌اس یولو ایله هارداسا 1.5 میلیون نفره اولاشیلدی.

بؤلگه‌ده ایلک دفعه آگاه اؤدول‌لری خالق‌لارین سئچه‌نگی کاتگوریلرینی اؤلچه‌بیلمک اوچون بؤیوک بیر بیلگی و دویارلی‌لیق تحلیلی ائتدیرمیش‌دیر

http://www.trt.net.tr/turki/khwltwr-w-sn-t/2016/12/13/pkhystnyn-wskhry-shblrynh-wy-ryldy-629798

В Исламабаде состоялась церемония награждения AGAHI

Жаверия Сиддик (Javeria Siddique), занимающаяся подготовкой программ для радио Голос Турции на языке урду, была удостоена награды в категории Сельское хозяйство – 2016

13.12.2016 ~ 15.12.2016

В Исламабаде состоялась церемония награждения AGAHI

В Исламабаде состоялась церемония награжденияAGAHI – награды, которую называют пакистанским Оскаром.

Жаверия Сиддик (Javeria Siddique), занимающаяся подготовкой программ для радио “Голос Турции” на языке урду, была удостоена награды в категории “Сельское хозяйство – 2016”.

Программа “Общество Пакистана”, автором которой является Жаверия Сиддик,  стала очень популярной. В этой программе она рассказывает о том, как нужно правильно выращивать фрукты и овощи.

На получение премий AGAHI в 35 категориях были номинированы более трех с половиной тысячи представителей всех видов СМИ – прессы, телевидения, радио и интернета.


Pakistan: Großes Interesse für AGAHI-Preise

Auszeichnung für Programmgestalterin der Urdu-Redakiton der TRT-Stimme der Türkei

13.12.2016 ~ 15.12.2016

Pakistan: Großes Interesse für AGAHI-Preise

Die als Oscar Pakistans bekannten AGAHI-Preise sind verliehen worden. Bei der Preisverleihung in Islamabad wurde Javeria Siddique, die Programme für die Urdu-Redaktion von TRT – Stimme der Türkei vorbereitet, in der Agrar Kategorie 2016 ausgezeichnet. Das Programm von Siddique erlangte in der pakistanischen Gesellschaft und im Urdu-Programm der Stimme der Türkei in kürzester Zeit großen Ruhm. Der AGAHİ-Preis wurde ihr für ihre Artikel und Radioprogramme zu Gartengestaltung verliehen. Mit ihren Artikeln wurden Menschen zum Obst- und Gemüseanbau sensibiliert. Dieses Jahr wurden in ganz Pakistan mehr als 3500 Menschen aus Printmedien, Fernsehen, Radio und Internet für die AGAHİ-Preise nominiert. Die AGAHI-Preise erreichten in Pakistan über die sozialen Netzwerke mehr als 6 Millionen Menschen, für die Kategorie Preise des Volkes wurden über SMS 1,5 Millionen Menschen errreicht.


..

La Voz de Turquía recibe el premio de AGAHI, el Óscar de Pakistán

Javeria Siddique, quien prepara un programa para el departamento de Urdú de la Voz de Turquía de la TRT, ganó el premio en la categoría de Agricultura 2016

13.12.2016 ~ 15.12.2016

La Voz de Turquía recibe el premio de AGAHI, el Óscar de Pakistán

Se entregaron los premios de AGAHI conocidos como el Óscar de Pakistán.

Javeria Siddique, quien prepara un programa para el departamento de Urdú de la Voz de Turquía de la TRT, ganó el premio en la categoría de Agricultura 2016.

Siddique ganó el premio por sus artículos y su programa sobre jardinería.

Los artículos de Siddique narran cómo se cultivan frutas y verduras.

A los premios de AGAHI se presentaron candidatos más de tres mil 500 artículos en 35 categorías, entre ellas prensa escrita, televisión, radio e internet.

Los premios de AGAHI alcanzaron más de 6 millones de personas a través de la red social, y obtuvieron el voto de casi 1,5 millones de personas para la categoría de “Premios de la Elección del Pueblo”.

Los premios de AGAHI por primera vez analizaron la información y la sensibilidad del pueblo gracias a la categoría de la “Elección del Pueblo”.


فارسی

جوایز AGAHI به صاحبانشان اعطا شد

Javeria Siddique تهیه کننده برنامه برای سرویس زبان اردو در رادیو صدای ترکیه تی آر تی، در رشته کشاورزی 2016 جایزه دریافت کرد

13.12.2016 ~ 15.12.2016

جوایز AGAHI  به صاحبانشان اعطا شد

جوایز AGAHI که بعنوان اسکار پاکستانی شناخته می شود به صاحبانشان اعطا شد.

در مراسم اعطای جوایز که در اسلام آباد ترتیب یافت، Javeria Siddique تهیه کننده برنامه برای سرویس زبان اردو در رادیو صدای ترکیه تی آر تی، در رشته کشاورزی 2016 جایزه دریافت کرد.

برنامه Javeria Siddique با عنوان جامعه پاکستان و برنامه رادیو صدای ترکیه به زبان اردو در کوتاه مدت در پاکستان به شهرت دست یافت.

جایزه AGAHI بخاطر مقالات مربوط به باغچه داری و برنامه هایی رادیوی به وی اعطا شده است.

نوشتجات وی انسانها را در رابطه با نحوه پرورش میوه و سبزیجات حساستر کرده است.

برای جوایز AGAHI در سطح این کشور بیش از هزار و 500 نفر در 35 رشته منجمله مطبوعات، تلویزیون، رادیو و اینترنت بعنوان نامزد نشان داده شدند.

جامعه روزنامه نگاران به جوایز مذکور توجه خاصی نشان دادند. بطوریکه جوایز AGAHI از طریق رسانه های اجتماعی پاکستان به بیش از 6 میلیون نفر و جوایز گزینه ملتها نیز از طریق اس ام اس به حدود 1 و نیم میلیون نفر رسیده است.


Agahi’  mükafatı sahiblərinə təqdim  edilib

Pakistanın  Oscarı   olaraq  qəbul  edilən    ‘Agahi’  mükafatı sahiblərini  tapdı.

14.12.2016 ~ 15.12.2016

‘Agahi’  mükafatı sahiblərinə təqdim  edilib

İslamabadda təşkil edilən mükafat mərasimində TRT Türkiyənin Səsi Radiosunun Urduca  departamentinin yayım  proqramında   efirə   buraxılmaq  üzrə   hazırlanan  Pakistan Cəmiyyəti veriliş 2016 Kənd Təsərrüfatı nominasiyasında mükafata   layiq  görüldü.   Verilişin  müəllifi  Javeria Siddique olub.

Javeria Siddiquein,  Türkiyənin   səsi    radiosunun   Urduca   rəhbərliyinin  yayım  proqramı   üçün  hazırladığı  ‘Pakistan Cəmiyyəti’  adlı  veriliş  Pakistanda reytinq   rekordu qırdı.

Qeyd  edək  ki, 2016  Agahi Mükafatlarına  üç min 500-dən çox  məqalə,  məktub  və şərh, televiziya, radio və internet mediası daxil  olmaqla   35   kateqoriyada namizəd göstərildi.

Agahi Mükafatlarına jurnalistlərin də  böyük  marağı olub

Posted in Army, ArmyPublicSchool, Javeria Siddique, ZarbeAzb, جویریہ صدیق

سانحہ آرمی پبلک سکول چار خاندانوں کے دو دو بیٹے ان سے بچھڑ گئے

page

جویریہ صدیق

Javeria Siddique 

۔

سانحہ آرمی پبلک سکول  سولہ دسمبرکو 2سال مکمل ہوجائے گا ۔لیکن ایسا لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو جب بچے ہنستے مسکراتے سکول گئے تھے لیکن واپس نا آسکے اور والدین کو اپنے بچے تابوت میں ملے۔دو سال مکمل ہونے گیے پر بہت سے والدین اس حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ان کے بچے ہمیشہ ہمشہ کے لئے چلے گئے اور اب واپس نہیں آئیں گے۔جب بھی دروازے پر دستک ہو یا سکول وین کا ہارن سنائی دے توان کے دل میں یہ امید جاگ جاتی ہے کہ شاید ہمارا بیٹا واپس آگیا ہو۔

سانحہ اے پی ایس میں ایک سو سنتالیس افراد شہید ہوئے۔اس سانحے میں متاثر ہونے والے چار خاندان ایسے بھی ہیں جن کے دو دو بیٹے شہید ہوئے۔کسی بھی درد دل رکھنے والے شخص کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا کہ ان خاندانوں پر کیا بیت رہی ہوگی۔شامویل طارق ننگیال طارق،نور اللہ درانی سیف اللہ درانی ،ذیشان احمد اویس احمد اور سید عبداللہ سید حسنین نے سانحہ آرمی پبلک سکول میں شہادت پائی۔

ننگیال طارق شہید تمغہ شجاعت  شامویل طارق شہید تمغہ شجاعت

unnamed-3

پندرہ سالہ شامویل طارق اور تیرہ سال کے ننگیال طارق بلترتیب نویں کلاس اور آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے.دو سال پہلے ہی دونوں کو اچھی تعلیمی سہولیات کے باعث آرمی پبلک سکول ورسک روڈ میں داخل کروایا گیا۔دونوں کو پاک آرمی جوائین کرنے کا شوق تھا۔شہدا کی بہن مہوش جوکہ مقامی یونیورسٹی میں بی ایس آنر کر رہی ہیں وہ کہتی ہیں اس واقعے نے ہماری زندگی ویران کردی ہے.میرے دونوں بھائی بہت ذہین اور خوش اخلاق تھے۔

ہم آج بھی سولہ دسمبر دو ہزار چودہ میں سے نہیں نکل سکے۔ہمارے سامنے دونوں بھائیوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں پڑی تھیں۔ وہ بھائی جو ہماری امیدوں کا مرکز تھے ہمارے والدین کے بڑھاپے کا سہارا تھے۔ ہمیں یقین نہیں آرہا تھا وہ چلے گئے۔میری والدہ کے آنسو اب بھی خشک نہیں ہوئے۔سولہ دسمبر سانحہ آرمی پبلک سکول ہمارے ہنستے بستے گھر کو ہمیشہ کے لئے اجڑ گیا۔.میں چاہتی ہوں کہ ان بچوں کو انصاف دیا جائے اور دہشتگردوں کو کڑی سزا دی جائے.

 

 

نور اللہ درانی شہید  تمغہ شجاعت  سیف اللہ درانی شہید تمغہ شجاعت

unnamed-2

نور اللہ سیف اللہ دونوں بھائی آرمی پبلک سکول میں
نویں کلاس اور آٹھویں کے طالب علم تھے.دونوں بچپن سے ہی آرمی پبلک سکول و کالج ورسک روڈ میں زیر تعلیم تھے.شرارتی نٹ کھٹ نور اللہ اور سیف اللہ گھر بھر کی جان تھے..اکثر دونوں کھلونا بندوقیں خریدتے اور پھر آرمی بن کر دہشتگردوں کو پکڑنے کا کھیل کھیلتے. دونوں کو آرمی میں جانے کا بہت شوق تھا نور کو بری فوج میں اور سیف کو پاک فضائیہ جوائین کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا.نور یہ کہتا تھا میں فوج میں جاکر تمام ملک دشمنوں کا خاتمہ کروں گا اور سیف کو تو جہاز اڑنے کا شوق تھا وہ کہتا تھا میں ایف سولہ طیارہ اڑاوں گا اور دشمن کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے انہیں نیست و نابود کردوں گا..شہید طالب علموں کی بہن ثناء کہتی ہیں ایسا کوئی دن نہیں گزرتا کہ وہ یاد نا آتے ہوں ہم کھانا بھی کھانا چاہیں پر چند لقموں کے بعد نوالے حلق میں پھنس جاتے ہیں.میرے والدین صبر ہمت کی مثال ہیں لیکن ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جس میں ہم روتے نا ہو.میں بس یہ دعاء کرتی ہوں کہ اللہ تعالی سب والدین کو صبر دے آمین۔

 

سید عبداللہ شاہ شہید تمغہ شجاعت  سید حسنین رضا شہید تمغہ شجاعت

unnamed-1

سانحہ آرمی پبلک سکول اپنے پیچھے بہت سی دردناک داستانیں چھوڑ گیا ہے.جس میں ایک دل سوز داستان سید فضل حسین کی بھی ہے.جن کے دونوں بیٹوں سید عبداللہ اور سید حسنین نے آرمی پبلک سکول و کالج ورسک روڈ میں سولہ دسمبر کو شہادت پائی.عبداللہ دسویں حماعت کے طالب علم تھے اور ڈاکٹر بن کر ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔جبکے سید حسنین آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے ان کی والدہ انہیں فوج میں بھیجنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ سانحے کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے لیکن والدین کی نگاہیں اب بھی  ان دونوں کی راہ تک رہے ہیں.گھر سے دو بچوں کا چلے جانا کسی قیامت سے کم نہیں۔.
شہدا کے والد فضل حسین کہتے ہیں کہ ہمارا گھر ان کے جانے بعد کسی کھنڈر کا سا سماں پیش کرتا ہے ان کی والدہ بچوں کے کپڑوں کو نکال کر چومتی ہیں اور روتی ہیں۔ہمارے بچے شروع سے ہی اے پی ایس میں زیر تعلیم تھے عبد اللہ خاص طور پر پوزیشن ہولڈر تھا۔عبداللہ کی شہادت کے بعد جب اس کا نتیجہ آیا اس کی پہلی پوزیشن تھی۔ان دوںوں کے بعد ہماری زندگی تباہ ہوگئی ان کے لئے ہمارے سارے ارمان ادھورے رہ گئے۔پر اس بات سے دل کو تسلی دیتے ہیں کہ انہوں نے وطن کی خاطر جان دی۔۔پاک آرمی کے افسران نے ہمارا بہت ساتھ دیا مشکل کی گھڑی میں ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا۔اللہ تعالی ہماری صفوں میں اتحاد کردے اس وطن میں امن و امان کردے آمین۔

 

ذیشان احمد شہید تمغہ شجاعت  اویس احمد شہید تمغہ شجاعت

unnamed

ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے صوبیدار ر اکرام اللہ کے دو بیٹوں نے بھی سانحہ آرمی پبلک سکول میں شہادت پائی۔ذیشان احمد دسویں کلاس میں اور اویس احمد آٹھویں کلاس میں تھے۔پلے گروپ سے ہی دونوں اے پی ایس میں زیر تعلیم تھے۔ذیشان ڈاکٹر بننا چاہتے تھے اور اویس کی دلچسپی کمپیوٹر میں تھی۔شہید بچوں کے والد اکرام اللہ کہتے ہیں کہ میرے دونوں بچے بہت اخلاق والے تھے۔ہمیشہ سب کی مدد کرتے۔ہمیں لگتا ہے کہ جیسے آج بھی ہم کہیں سولہ دسمبر دو ہزار چودہ میں ہی کھڑے ہیں۔ان کی والدہ بہت ہی رنجیدہ رہتی ہیں ۔میں نے خود ساری زندگی فوج میں رہ کر وطن کی خدمت کی مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرے بیٹوں نے پاکستان کے لئے اپنی جان دی۔ان بچوں کی قربانی کے بعد پاکستان کے امن و امان پر بہت فرق پڑا اور صورتحال بہتر ہوئی۔میری دعاء ہے کہ اللہ تعالی پاکستان کو امن کا گہوارا بنادے آمین۔

جویریہ صدیق صحافی اور فوٹوگرافر ہیں ۔ سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشیں کتاب کی مصنفہ ہیں۔آپ انہیں ٹویٹر پر فالو کرسکتے ہیں @javerias