Posted in lifestyle, Pakistan, Uncategorized

ماں کا دودھ بچے کیلئےمکمل غذا

 

ماں کا دودھ بچے کیلئےمکمل غذا
Posted On Wednesday, August 19, 2015
….. جویریہ صدیق…..
پیدائش کے بعد سے چھ ماہ تک بچے کے لیے ماں کا دودھ مکمل غذا ہے،اس میں قدرتی طور وہ تمام اجزا شامل ہوتے ہیں جو بچے کی پرورش اور نگہداشت کے لیے ضروری ہیں۔جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں وہ مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں،ان میں قوت مدافعت بھی زیادہ ہوتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق ماں کا دودھ پینے والے بچے دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں،ان بچوں کا آئی کیو اور کارکردگی ’فارمولا ملک‘ پینے والے بچوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ماں کا دودھ بچے کو نمونیا، کھانسی نزلے، دست،قبض،پیٹ کہ بیماریوں اور بدہضمی کے خلاف قوت مدافعت دیتا ہے۔

بچے کی پیدائش کے بعد آدھے گھنٹے کے اندر بچے کو پہلی دودھ کی خوراک دیے دینی چاہئے،ابتدائی طور پرر زردی مائل دودھ نکلتا ہے اس کو کولسٹرم کہتے ہیں،جسے بالکل ضائع نہیں کرنا چاہیے،یہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اور بچے کے لئے بہت مفید ہے،شروع میں بچے کو دودھ پلانے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا،بچہ رو کر اپنی بھوک کا اظہار کرتا ہے اور ماں کو اس ہی وقت بچے کو دودھ پلانا چاہیے.لیکن چھ ماہ کے بعد یہ روٹین بدل جاتی ہے اور دودھ کے ساتھ بچے کو ہلکی غذا شروع کروادی جاتی ہے تو بچہ چوبیس گھنٹے میں صرف آٹھ سے دس بار دودھ پیتا ہے۔

ماں کے دودھ میں چکنائی وٹامن معدنیات اور کاربوہائیڈریٹس موجود ہیں،ماں اس بات کا خیال کرے کہ وہ اپنے آپ کو صاف رکھے اور غسل کا باقاعدگی سے اہتمام کرے،بچہ بار بار دودھ مانگتا ہے اس لیے ماں کو اپنی خوراک کا بھی خاص خیال رکھے.ماں کو چاہیے وہ پھل سبزیوں دودھ اور پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرے، کیونکہ بچہ اپنی تمام غذائیت ماں سے لیتا ہے۔

تمام مائوں کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ بچوں کو اپنا دودھ پلائیں ڈبے کا دودھ پینے والے بچے بار بار بدہضمی اور ڈائریا کا شکار ہوجاتے ہیں،کیونکہ تمام تر احتیاط کے باوجود پانی اور فیڈر کی وجہ سے جراثیم بچے کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں جو ان کو بیمار کرتے ہیں،اس کی نسبت ماں کا دودھ پینے والے بچے کم ہی انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں،دودھ پلانے والی ماں کا وزن بھی دوبارہ کم ہوجاتا ہے،اس کے ساتھ دوسرے بچے کی پیدائش میں قدرتی وقفہ بھی آجاتا ہے،دودھ پلانے والی خاتون میں چھاتی کے کینسر کا امکان بھی کم رہ جاتا ہے۔

ماں بچے کو دس سے پندرہ منٹ تک چھاتی کے ساتھ لگائے رکھے صحت مند بچے جلدی اور کمزور بچے آہستہ دودھ پیتے ہیں،ماں بچے کو لیٹ کر بھی اور بیٹھ کر بھی دودھ پلا سکتی ہے،بچے کو مکمل طور پر ماں کے قریب ہونا چاہیے۔ دودھ پلانے کے بعد بچے کو ڈکار دلائی جائے تاکہ پیٹ میں جانے والی ہوا باہر آجائے اور بچہ بے آرام نا ہو۔

بچے کو دو سال تک دودھ پلانا بہترین ہے لیکن چھٹے ماہ میں اسے ہلکی ٹھوس غذا بھی شروع کروادینی چاہیے،جس میں سوجی، ساگودانہ، کھچڑی، کھیر ،پھل پیس کر اور تازہ جوس وغیرہ شامل ہیں،لیکن شروع میں ٹھوس اجزاء بہت کم مقدار دیئے جائیں کیونکہ زیادہ دینے سے بچہ بیمار ہوسکتا ہے،آہستہ آہستہ ٹھوس غذا کو بڑھایا جائے بچہ خود ہی ماں کا دودھ پینا کم کردیتا ہے۔

اس دوران اگر دودھ پلانے والی ماں اپنی چھاتیوں میں تکلیف محسوس کرے تو فوری طور پر ڈاکٹر یا لیڈی ہیلتھ ورکرز کو معائنہ کروائے،دودھ پلانے والی ماں اپنے آپ کو صاف رکھے .آرام کرے اور اپنی غذائیت کا خیال رکھے،ہر سال آٹھ لاکھ سے زائد بچے اپنے پانچویں سالگرہ نہیں دیکھ پاتے،ان میں زیادہ تر بچے پیٹ کی بیماروں نمونیا ڈائریا کے باعث اپنی جان سے جاتے ہیں،ان بیماریوں کی بڑی وجہ گندا پانی اور فیڈر کے ذریعے سے جانے والے جراثیم ہیں،ماں کے دودھ سے آٹھ لاکھ میں سے ایک چوتھائی بچوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بچے کو چھ ماہ تو ماں کا دودھ لازمی طور پر پلایا جائے،تاہم پاکستان میں بوتل سے دودھ پلانے کا رواج زیادہ ہے اور بریسٹ فیڈنگ کم ہے،اس کو فیشن کہیں رواج یا گھر والوں کا عدم تعاون کہ بہت سی خواتین بچوں کو فیڈر لگا دیتی ہیں۔

2002 میں بریسٹ فیڈنگ اور چائلڈ نیوٹریشن آرڈیننس پاس کیا گیا ہے لیکن اس پر عملدرآمد نظر نہیں آتا،نا ہی خواتین کو اس کی افادیت کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے نا ہی انہیں ایسا ماحول دیا جاتا ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلاسکیں،ملازمت پیشہ خواتین کوایسی کوئی سہولت نہیں دی جاتی کہ وہ اپنا شیر خوار بچہ دوران ملازمت ساتھ رکھ سکیں،اس وجہ سے مائیں اپنے بچوں کو فارمولا ملک اور فوڈ شروع کروادیتی ہیں۔

اگر ہم صحت مند ماں اور صحت بچے کی بنیاد پر معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس قدرتی نظام کو عام کرنے کے لیے بات کرنا ہوگی،بچے اگر اپنی ماں کا دودھ پئیں گے تو وہ صحت مند ہوں گے اور خود ماں بھی متعدد بیماروں سے محفوظ رہے گی،اس لیے خواتین کو دوران ملازمت ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ وہ اپنے شیرخوار بچوں کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
twitter @javerias

Advertisements
Posted in human-rights, lifestyle, qandeel,, Uncategorized

اور قندیل بجھ گئی

 

اور قندیل بجھ گئی Share
Posted On Wednesday, July 20, 2016
جویریہ صدیق ۔۔۔۔ قندیل کسی کو بھی پسند نہیں تھی کسی کے لئے رول ماڈل نہیں تھی لیکن حیرت کی بات ہے وہ تیس سیکنڈ کی بھی وڈیو اپ لوڈ کرتی تھی تو کچھ ہی لمحوں میں ہزاروں ویوز سینکڑوں شئیرز اور کئی سو کمنٹس آجاتے تھے۔ہم ایک منافق قوم ہیں اس لئے سچ بولنے اور اس کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔گناہ کرنے سے باز نہیں آتے چھپ چھپ کر گناہ کرتے ہیں۔دوسروں کے سامنے پارسا بن کر انہیں برا ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔یہ قندیل کے ساتھ ہوتا تھا۔معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت بڑے افراد کی تعداد روانہ اس کے فیس بک انسٹاگرام اور ٹویٹر پر اس صرف اس لئے آتی کہ آج کیا مصالحہ دیکھنے کے لیے موجود ہے۔

پہلا طبقہ وہ جو چھپ کر اس کی ویڈیوز صرف اس لئے دیکھتے تھے کہ بعد میں اس کی اس بے باکی پر تبصرے کرسکیں اور اس کو ہماری معاشرتی قدروں کے منافی قرار دے سکیں لیکن دیکھتے تھے۔دوسرا طبقہ وہ ہے جو اس کے خدوخال دیکھ کر خوش ہوتا تھا اور جواز یہ پیش کرتا تھا کہ وہ دیکھاتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں حالانکہ وہ نظریں نیچی بھی کرسکتے تھے۔تیسرا طبقہ وہ تھا جو کہ اس کا فیس بک فین بھی تھا اس کی ویڈیوز بھی دیکھتا تھا لیکن کمنٹس میں اس کو فاحشہ بے غیرت لکھ کر اس کو مرنے کی بد دعا دیتا تھا۔

آخر میں ایک طبقہ وہ بھی تھا جو اس کے درد تکلیف محرومیوں کو سمجھتے ہوئے اس کی ان حرکتوں پر تاسف کا اظہار کرتا کہ پتہ نہیں پیچھے کیا درد ناک کہانی ہے جس نے اس لڑکی کو قندیل بنا دیا۔یہ طبقہ اس کی ویڈیوز بھی دیکھتا اسکو شییر بھی کرتا لیکن قندیل کی برایی نہیں کرتا تھا۔قندیل نے بہت کوشش کی کہ کس ہی طرح کوئی بڑا بریک مل جائے وہ بھی رات و رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جائے،ہر ٹی وی میگزین ریڈیو پر اس کا چرچا ہو۔ دولت اس کے گھر کی باندی ہو ۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا میڈیا نے اسکی بےباکی ،اداؤں، بے وقوفیوں کو کیش کروا کر ریٹنگز تو خوب لی لیکن قندیل کو کچھ نہیں دیا ۔

وہ اکثر مارنگ شوز میں ہونی والی شادیوں میں مہمان بن کر آتی تھی۔وہاں بھی اداکاروں کے ساتھ سلفیز ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ تاکہ کچھ فیس بک لائکس مل جائیں ۔پر کسی نے اسے کام نہیں دیا کیا وہ اتنی ٹیلینٹڈ بھی نہیں تھی کہ ایک میوزک شو ہوسٹ کرلیتی۔وہ بہت اچھی اداکارہ اور گلوکارہ بن سکتی تھی لیکن کسی نے موقع ہی نہیں دیا۔میڈیا اور معاشرے نے اسے اپنے اپنے حساب سے استعمال کیا ۔

جب قندیل نے دیکھا کہ کام تو اسکو نہیں مل رہا تو وہ مزید بے باک ہوگی اس نے سوچا اگر کپڑے مزید کم کردوں گی تو پڑوسی ملک میں تو کام مل جائے ۔اس دوران اس کے فیس بک فالورز کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئ۔لیکن فیس بک سے کہاں پیٹ بھرتا ہے اس کے لئے روٹی چاہیے ہوتی ہے۔مہنگے مہنگے ہوٹلوں کے کمروں سے قندیل کی ویڈیوز اپ لوڈ ہونا بہت سےغیرت مندوں کےمنہ پرطمانچہ ہیں۔

کسی نےبھی اسکی محرومیوں کا ازالہ نہیں کیا۔

پھر ایک دن ایک رپورٹر بریکنگ کی دوڑ میں اسکو پھر قندیل سے فوزیہ بنا گیا ۔جس جگہ سے نکلنے میں اس کو سالوں لگے ایک بار پھر وہاں کھڑی تھی۔وہ سچی تھی روتے ہوئے مان گئ کہ ہاں وہ فوزیہ عظیم ہے جس کی شادی کم عمری میں کردی گئ تھی ۔جہاں وہ اپنے جاہل شوہر سے روز مار کھاتی تھی۔اس سے تعلیم کا حق چھین لیا گیا۔بیٹا پیدا ہوا تب بھی حالات نہیں بدلے۔

روز ماں باپ کو کہتی کے مجھے واپس آنا ہے لیکن وہ کہتے اب تمہارا گھر وہ ہی ہے ۔ایک دن تشدد سے تنگ اکر وہ بھاگ کر دار الامان چلی گئ۔اس نے سب چیزوں کا اعتراف میڈیا کے سامنے کرلیا کہ وہ زندگی میں پڑھ لکھ کر آگے بڑھنا چاہتی تھی۔معاشرے نے اسے ڈاکٹر انجینئر پائلٹ تو نہیں بننے دیا لیکن ہوٹلوں کے کمروں سے ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والی قندیل بنا دیا۔جب تک وہ قندیل بلوچ تھی تو اس کی کمائی سے گھر والے بھی خوش تھے لیکن جس دن وہ فوزیہ عظیم کے طور پر میڈیا پر ابھری تو ایک بے غیرت بھائی کی غیرت جاگ گئی اور اس نے قندیل کا گلا گھونٹ کر اس کو مار دیا ۔نیند کی وادی سے قندیل موت کی وادی میں چلی گی۔

مرتے مرتے بھی میڈیا کو ریٹنگ دی گئی اس کا نام سی این این بی بی سی سے لے کر ہر غیر ملکی اور ملکی نشریاتی ادارے پر تھا۔بڑی شخصیت جنہوں نے اس کی زندگی میں اس سے ملنا یا بات تو دور کی بات ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا اس کے لئے تعزیتی پیغامات چھوڑے اس کے قتل کی مذمت کی۔اس کے لئے دعا کی گی اس کے لئے شمعیں روشن کی جب قندیل بجھ گئ۔

کوٴیی گناہگار نہیں سواٴے قندیل کے نا وہ ماں باپ جو اسے زندگی کی بنیادی سہولیات نا فراہم کرسکے نا وہ ریاست جس نے اس کو بنیادی تعلیم مفت دی نا ہی کم عمری کی شادی سے بچایا نا ہی وہ بھایی گناہگار جن کے ہوتے ہویے بھی اسے روٹی کپڑا مکان کے لیے اس کو قندیل بنانا پڑا۔ نا ہی وہ شوہر گناہ گار ہے جو روز اس کو مارتا تھا ۔نا ہی وہ لوگ گناہ گار ہیں جس نے اس کو میڈیا میں باعزت نوکری کے بجایے ہوٹل کے بند کمروں میں پہنچایا۔نا ہی وہ لوگ گناہ گار ہیں جو اس کی زندگی کی قیمت پر رینٹنگز کمارہے تھے۔نا ہی وہ لوگ مجرم ہیں جو اس کی ویڈیوز کے نیچے لکھتے تھے اسے مر جانا چاہیے لیکن یہ لکھنے سے پہلے آنکھ بھر کر اسکودیکھتے ضرور تھے۔سب پارساوں نے فوزیہ کو قندیل بنایا پھر اسے مار دیا یہ کہہ کر کہ بری عورت تھی۔

Javeria Siddiques writes for Daily Jang

Twitter @javerias

Posted in lifestyle, Uncategorized

خواتین کی عید شاپنگ اور بیچارے مرد

 

خواتین کی عید شاپنگ اور بیچارے مرد
Posted On Thursday, July 07, 2016
جویریہ صدیق ۔۔۔ عورتوں کے حقوق کے لئے تو بہت آواز اٹھائی جاتی ہے لیکن کبھی کسی نے مظلوم مردوں کے لیے بھی آواز اٹھائی ہے۔رمضان سے لے کر شعبان تک خواتین ان کی جیب تو صاف کرتی ہی کرتی ہیں لیکن ساتھ میں بیگار میں کام بھی کرواتی ہیں۔ایک تو پتہ نہیں کون بول گیا کہ

کہتے ہیں عید تو صرف بچوں اور عورتوں کی ہوتی ہے لیکن جس نے بھی یہ کہا ہے بلکل غلط کہا ہمیں کیوں بھول گئے ۔عید ہماری بھی تو ہوتی ہے لیکن اس عورتوں اور بچوں کی دنیا میں مردوں کی پرواہ کیسے ہے ۔ ان خواتین کی تیاری جو رمضان کے پہلے روزے سے شروع ہوتی ہے وہ چاند رات تک بھی ختم نہیں ہوتی۔سحر ی ہو افطاری لسٹ تیار “اجی سنتے ہیں ” بس یہ جملہ سن کر ہمیں اپنے بٹوے کا حجم سکڑتا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے۔پہلے عشرے میں نیک بخت کہتی ہیں آخری عشرہ تو بلکل خریداری میں مصروف ہوکر ضائع نہیں کیا جاسکتا اس لئے آپ پہلے عشرے میں ہی عید کی شاپنگ کروادیں۔

ہم بھی بھولے پن میں آکر سحری افطاری میں ایک نیک سعادت مند شوہر کی طرح انہیں بازاروں اور مالز میں لے جاتے ہیں۔بعض اوقات روزے کی حالت میں بھی ہم یہ شاپنگ کا کشت کاٹتے ہیں۔ برینڈڈ لان کی دوکانوں پر ایسے رش ہوتا ہے جیسے مفت لان بانٹ رہی ہوں۔ایک قیمض جس کے ساتھ نا ڈوپٹہ نا شلوار قیمت چار ہزار ہم نے دوکاندار کو کہا کیوں میاں اس پر ہیرے موتی لگے ہیں ۔وہ کہنا لگا اس پرتین کرسٹل کی بٹن لگیں ہیں اس وجہ سےیہ چار ہزار کاہے۔

بیگم نے کہا ہم نے تو یہ ہی شرٹ لینی ہے ۔مجھ غریب نے دل میں سوچا پھر سوچ کر کہا خرید لو یہ قمیض بیگم آگے چل کر ہاتھ تنگ ہوا تو یہ ہی بٹن قمیض سے اتار کر بیچ دیں گے ۔بیگم نے سختی سے ہمارا گھٹیا آئیڈیا جھڑک دیا۔

چارہزار کی قمیض کے بعد میچنگ ٹراوز 2 ہزار ڈوپٹہ کے نام پر ایک پھندہ نما چیز 1500 میں خریدنے کے بعد بیگم خراماں خراماں جوتوں کی دوکان کی طرف بڑھنے لگی ۔جوتے دو ہزار سے شروع ہوکر 20 ہزار پر ختم ہورہے تھے ۔بس خاکسار اس ہی وقت دعا کرنے لگ گیا مہنگے جوتوں میں سائز ہی نا ہو ۔سینکڑوں جوتے نکلوانے کے بعد جب غریب سیلز مین بے ہوش ہونے کے قریب تھا تب شاید بیگم کو اس پر ترس آگیا اور ایک تین ہزار کی جوتی پسند کرلی۔بیگم اب تک مجھے کئی ہزار روپے کی پڑ چکی تھیں۔

میری طبعیت کچھ مکدر سی ہونی لگے دل ڈوبنے لگا مجھے احساس ہونے لگے کہہ آخر مرد ہارٹ اٹیک سے ہی کیوں مرتے ہیں ۔

ہم نے مریل سی آواز میں کہا بیگم آو گھر چلیں باقی شاپنگ کسی اور دن کر لینا کہنے لگی اب آئیں ہیں تو بچوں کی چیزیں بھی خرید کر جائیں گے میں نے میک اپ اور جیولری بھی خریدنی ہے ۔ایک دوکان سے دوسری ایک منزل سے دوسری منزل کسی نے خادم یعنی ہمیں پوچھا تک نہیں کہ ایک سوٹ چپل تم بھی خرید لو۔

گھر آکر سکون کا سانس لیا چلو شاپنگ ختم اب سارا رمضان آرام سے گزرے گا لیکن اگلے ہی دن معلوم ہوا کہ وہ تو عید کے پہلے دن کی شاپنگ تھی اب تو دو دن کے لئے مزید چیزیں خریدنی ہیں ۔ہم نے درخواست بھی کی بیگم کچھ اعتدال سے چلیں پھر وہ ہی آنسو میکے جانے کی دھمکی اپنے والد صاحب کی امیری کے قصے ۔کیا کرتے پھر چپ کرکے بازار چل پڑے شوہر کی تے نخرہ کی۔

بیگم نے کچھ ان سلے سوٹ خریدے باقی بچوں کی شاپنگ۔ہم نے گزارش کی بیگم کچھ ہمارے لئے بھی خرید لیں تو کہا درزی کو لٹھا خرید دیا تھا وہ آپ کا کرتا بنا دے اور چپل زیادہ مہنگی نہیں لینی ایسی ہی مسجد کے باہر گم گئ سیل سے خرید دو گی۔

ہم بس مرجھا کر رہے گئے ہماری اماں کس چاہ سے ہمیں تیار کرتی تھیں پر بیگم کے سامنے منہ بند رکھنے پر ہی اکتفا کیا۔اس کے بعد بھی تابعدار کی سختی میں کمی نہیں آئی۔ہر روز حکم ماسٹر صاحب سے میرے کپڑوں کا ضرور پتہ کرلینا ۔،کبھی پیکو، کبھی ہم رنگ گوٹا کناری سب کام ہمارے ہی ذمہ داری۔گرمی کے روزے اور بیگم کے نخرے چاند نکلنے کا اعلان ہوا تو خوشی دگنی ہوگی۔چلو آج کچھ باہر رونق میلا دیکھ کر آتے ہیں۔

ارے یہ کیا عید کا چاند کیا نظر آیا یہ تو گھر کے کام چھوڑ پھر شیشہ سنبھال کہ کھڑی ہوگئ بچے اور ہم بھوکے بیٹھے پر ان پر چاند رات کو بازار جانا فرض ہے۔ہم اگر تھوڑی ہمت جمع کرکے پوچھ بھی لیں کہ بیگم وہ سارا رمضان جو ہم آپ کو سحری اور افطاری کے اوقات میں بازار کے چکر لگواتے رہے وہ کیا تھا ؟ تو بس یہ سننے کی دیر ہوگی کہ وہ رونا دھونا شروع ہوگا کہ اللہ کی پناہ ہائَے جب سے آپ کے گھر آئی ہو ں ملازمہ بن کر رہ گی ہوں ۔میرے تو اتنے رشتے آئے تھے ہائے اماں ابا نے کنگال اور کنجوس کے پلے باندھ دیا ۔

ہمارے پاس اس گھریلو جنگ کو ختم کرانے کا ایک ہی آپشن ہے کہ بیگم کو پھر بازار لئے جائیں گھر سے نکلیں تو سب سے پہلے یہ درزی کے پاس جایں گے روئیں دھویں گی سوٹ نا تیار ہونے پر اس کو سخت سست کہہ کر کسی ڈیزائنر سٹور سے ریڈی میڈ سوٹ لے کر چاٹ کھا کر چوڑیاں پہن کر مہندی لگا جب یہ شاپنگ مال سے برآمد ہوتی ہیں تو ہمارا بچوں کو سنبھال سنبھال کر تراہ نکل گیا ہوتا لیکن ہم امن و امان کے پیش نظر زبان بندی پر ہی یقین رکھتے ہیں۔

آخرکار اپ ٹو 50 فیصد سیل والی دوکان سے ہمیں ایک عدد شلوار سوٹ اور جوتا مل ہی جاتا ہے۔ ان تمام ترچاند رات کی ستم ظریفوں کے بعد جب ہم رات کے دو تین بجے گھر پہنچتے ہیں تو خود مہندی والے ہاتھ لئے بیٹھ جاتی ہیں اور سارے کام ہمارے زمے۔ کچھ دیر ہی کمر سیدھی کی ہوتی ہے کہ بیگم کی چنگاڑتی آواز آتی نماز روزے کا تو شوق نہیں اٹھ جائیں عید کی نماز نہیں پڑھنی ۔ہم آنکھیں ملتے ملتے اٹھ جاتے ہیں اور مسجد جاکر اپنے جیسے مظلوم بھائیوں کو بغل گیر ہوکر کہتے ہیں عید مبارک

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Twitter @javerias

Posted in health, lifestyle, Pakistan, Smoking, تمباکونوشی

تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر

                                                                                                                                                تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر

  Posted On Monday, June 01, 2015   …..جویریہ صدیق……
دنیا بھر میں 31مئی کو انسداد تمباکو نوشی کا دن منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں تمباکو کے استعمال سے پہنچنے والے نقصانات سےآگاہ کرنا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ایک ارب افراد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جن میں سے تقریبا ًچھ ملین افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، ان میں دس فیصد وہ ہیں جو خود تو سگریٹ نہیں پیتے لیکن اپنے اردگرد تمباکو نوشی کے دھویں سے متاثر ہوتے ہیں۔ہر سال سولہ فیصد مرد اور آٹھ فیصد خواتین تمباکو نوشی کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔بات کی جائے پاکستان کی تو ہر سال ایک لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے لقمہ اجل بنتے ہیں۔

پاکستان میں تمباکو کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے،نوجوان نسل سگریٹ ،شیشہ اور گٹکا کی دلدادہ ہے اور بنا اس کے نقصانات کو جانے اس کا استعمال کررہی ہے۔ایک اندازے کے مطابق 45فیصد مرد اور چھ فیصد خواتین پاکستان میں تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ ہو سگار ہو ،گٹکا،یا حقہ اگر آپ تمباکو استعمال کررہے ہیں تو پھیپھڑوں کا سرطان،خوراک کی نالی کا سرطان، منہ کا کینسر،عارضہ قلب، کولیسٹرول، ٹی بی،دمہ اور ہائی بلڈ پریشر جیسے خطرناک امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔اگر تمباکو نوشی خواتین کریں تو ان بیماریوں کے ساتھ ساتھ ماہانہ ایام کی خرابی،اسقاط حمل اور کمزور قبل از وقت بچوں کی پیدائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

صحبت کے زیر اثر لوگ تمباکو نوشی کا استعمال تو شروع کردیتے ہیں لیکن جب یہ اپنا اثر دیکھنا شروع کرکے انسان کو بیمار کرنا شروع کرتا ہے تو اس لت سے جان چھڑانا آسان کام نہیں. لیکن اگر انسان پختہ ارادہ کرلے تو پھر آہستہ آہستہ تمباکو نوشی ترک کی جاسکتی ہے،تمباکو کی لت انسان کی نفسیاتی اور جسمانی ضرورت بن جاتی ہے اس لیے اس کو ترک کرنے کے لیے دماغ اور جسم دونوں پر کام کرنا پڑتا ہے،جب بھی یہ ارادہ کریں کہ آپ تمباکو نوشی ترک کررہے ہیں تو اپنے اہل خانہ اور دوستوں کو اعتماد میں لیں تاکہ وہ آپ کے ساتھ تعاون کریں۔

اگر آپ پوری سگریٹ کی ڈبی پیتے ہیں تو پلان کے پہلے پندرہ دن اس کو آدھا استعمال کریں سولہویں دن سے چوتھائی اور دوسرے مہینے میں تین سے چار اور45دن بعد ایک یا دو کر دیں،جس وقت آپ کو زیادہ سگریٹ کی طلب ہو اپنا دھیان ہٹائیں ،اپنے اس پلان میں ورزش کو شامل کریں،پانی زیادہ سے زیادہ پئیں،پھلوں کا استعمال کریں۔اگر زیادہ بے چینی ہو تو ببل گم چبائیں یا گاجر پودینے کا استعمال کریں۔ نفسیاتی طور پر اپنے آپ سے خود بات کریں اپنے آپ کو سمجھائیں کے تمباکو آپ کے لیے بہت خطرناک ہے۔

تمباکو نوشی ترک کرتے ہوئے پہلے چند ہفتے انسان بہت چڑچڑا ہوجاتا ہے،کیونکہ تمباکو میں شامل نکوٹین وقتی طور پر جسم اور دماغ کو سکون پہنچاتی ہے.اس لیے اس کو استعمال نا کرنے پر انسان غصہ کرنے لگتا ہے سر میں درد، نیند کی کمی، بے چینی ،کھانسی میں اضافہ،ڈپریشن،قبض،پیٹ کی خرابی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری عام طور پر تمباکو چھوڑنے کی علامتوں میں شامل ہے،ان سب چیزوں سے گھبرائیں نہیں بلکے ان کا مقابلہ کریں۔

پھلوں سبزیوں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں،خود کومصروف رکھیں، ہلکی ورزش کریں روز نہائیں،اس دورانیہ میں ایسے ماحول سے کچھ عرصہ دور رہیں جو آپ کو سگریٹ نوشی کی طرف راغب کرتا ہو ۔اگر آپ اپنی مدد آپ نہیں کرسکتے تو معالج سے رجوع کریں ان کی ادویات اور کونسلنگ فائدہ مند ہے، تمباکو نوشی ترک کرتے ہی آپ کی صحت بتدریج بہتر ہونا شروع ہوجائے گی،بلڈ پریشر دل کی دھڑکن نارمل ہوجائے گی،کھانسی،الرجی بھی نا ہونے کے برابر رہ جائیں گی،سرطان ،فالج اور دل کے دورے کا امکان بھی نارمل افراد جتنا ہوجائے گا۔

حکومت انسداد تمباکو نوشی کے حوالے سے موثر اقدامات کرے،پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی سے سختی سے عمل درآمد کروائے،اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ اور شیشہ مہیا کرنے والے دکانداروں اور کیفے ہوٹلز پر جرمانہ عائد کیا جائے، سگریٹ اسمگلنگ پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دی جائے،تمباکو سے بنی اشیاء کے اشتہارات پر مکمل پابندی ہو اور پیکٹ پر وزارت صحت کی وارننگ لازمی چھپی ہوئی ہو۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت اس انڈسٹری پر اور پراڈکٹس ٹیکس عائد کرے تاکہ یہ قوت خرید سے نکل جائے۔

ایسی عادت کو ترک کردینا چاہیے جو آپ کے ساتھ آپ کے اہل خانہ کے لیے بھی مضر ہے،زندگی کی طرف واپس آئیں اور محسوس کریں زندگی تمباکو نوشی کے بنا کتنی حسین ہے،کسی بھی چیز کی لت اچھی نہیں اس لیے اپنی صحت زندگی خاندان کہ خاطر اس زہر کو پینا چھوڑ دیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10868#sthash.1XPr1xX1.dpuf

Posted in health, lifestyle, Pakistan, skincare

جلد ی امراض اور ان کا علاج

جلد ی امراض اور ان کا علاج

  Posted On Monday, February 09, 2015   ……جویریہ صدیق……
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے باعث خواتین ، مردوں اور بچوں کی بڑی تعداد مختلف نوعیت کے جلدی امراض میں مبتلا ہوجاتی ہے۔
جلد ہمارے جسم کا سب بڑا جزو ہے۔اگر ہم اس کو نظر انداز کریں تو بہت سی بیماریاں ہم پر حملہ آور ہوجاتی ہیں ۔پاکستانی عام طور پر ایگزیما،ایکنی،خشکی،گرمی دانے،ایمپیٹیگو،اسکیبز،جھریاں،چھایاں ، چہرے پر کھدراپن اورسورج سے حساسیت جیسی بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ان امراض کے حوالے سے آگاہی نا ہونے کے باعث پہلے توعوام جلدی مسائل کو نظر انداز کیے رکھتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب یہ مسئلہ بڑھ جائے تو پھر اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ جلد کا علاج وقت طلب ہے اور مہنگا بھی ہے اگر شروع میں ہی بیماری کوروک لیا جایے تو بہتر رہتا ہے اگر دیر کی جائے تو طویل علاج کے بعد ہی صحت یاب ہونا ممکن ہے۔
پاکستانی عوام کی بڑی تعداد ایگزیما کا شکار ہوتے ہیں ایگزیما اصل میں ہے کیا ؟ہماری جلد میں قدرتی طور پر پانی کو جذب اور خارج کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اگر اس صلاحیت میں کوئی نقص پیدا ہوجائے تو ایگزیما کا باعث بنتا ہے۔ دھوپ کی زیادتی ، دھول ، مٹی یا جراثیم کی وجہ سے جلد پر سوزش ہوجاتی ہے اور یہ سوزش ایگزیما کو مزید بڑھا دیتاہے۔اس کی وجہ سے جلد خشک اور کھدری ہو جاتی ہے پانی کے چھالے پڑ جاتے ہیں۔بعض اوقات لوگوں کو کسی بھی چیز سے حسیات کی وجہ سے یہ ہوتا ہے جن میں چمڑا،تیل،دھاتیں،میک اپ ،جیولری، جراثیم کش ادویات،کپڑے برتن دھونے کے صابن وغیرہ شامل ہیں۔ اس کو کونٹیکٹ ایگزیما کہتے ہیں۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی معروف ماہرامراض جلد ڈاکٹر ارمیلا جاوید کے مطابق ایگزیما سے بچائو کے لیے بہت ہی مائلڈ صابن یا ایگزیما سے بچائو کے لیے خاص صابن کا استعمال کریں۔برتن اور کپڑے دھوتے وقت ہاتھوں پر دستانے پہنیں کام ختم ہونے کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھو کر خشک کریں اور وہ کریم استعمال کریں جو آپ کو ڈاکٹر نے تجویز کی ہو۔منہ دھوتے وقت اور نہاتے وقت بھی مائلڈ ہینڈ واش اور شاور جیل یا صابن کا استعمال کرنا چاہیے۔ہاتھوں کی جلد کو سب سے زیادہ نقصان برتن اور کپڑے دھونے کا صابن اور سرف پہنچتا ہے۔
دوسرے نمبر پر جس بیماری سے پاکستانی متاثر ہوتے ہیں وہ ایکنی ہے،پاکستانی لڑکے اور لڑکیاں اس کا سب سے بڑا شکار ہیں،جس بھی شخص کے منہ پر یہ دانے کیل مہاسے نکل آتے ہیں اس کے چہرے پر بدنما داغ چھوڑ جاتے ہیں اور متاثرہ شخص کو احساس کمتر ی میں مبتلا کر جاتے ہیں۔نوجوان لڑکے لڑکیاں خوبصورت لگنے کے چکر میں مہنگی مہنگی کریمز ڈاکٹر کے مشورے کے بنا ہی استعمال شروع کردیتے ہیں جس سے ان کی ایکنی مزید بگڑ جاتی ہے۔ ڈاکٹر ارمیلا کے مطابق کیل ،مہاسے ایکنی کا شکار نوجوان بچے بھی ہیں اور عمر کے زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ بھی لوگ اسکا شکار ہوتے ہیں۔ لوگ مساموں کے گرد چکنائی ، سوزش اور جراثیم کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
بہت سےلوگوں کا علاج ایکنی کنٹرول کرنے والے صابن ، فیس واش اور ہلکی دوائی کے ساتھ ہوجاتا ہے۔صرف ڈاکٹر کے مشورے کے ساتھ اشیاء کا استعمال کیا جائے سیلف میڈی کیشن بالکل نا کی جائے۔اگر ایکنی زیادہ ہے تو ماییکروڈرمابرشن کے ذریعے سے چہرے سے ایکنی اس کے داغ اور کیل مہاسے مکمل طور پر ختم کردیے جاتے ہیں۔کچھ کیسز میں لوگوں کے لیے لیزر اور فلرز بھی کارآمد ہیں لیکن یہ کام مستند ڈاکٹر ہی کرسکتے ہیں۔
خشکی بھی ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے پاکستانی بہت مشکل کا شکار ہوجاتے ہیں اگر سر میں خشکی زیادہ ہوجائے تو باعث ندامت بھی بنتی ہے اور تکلیف کا باعث بھی۔ ڈاکٹر ارمیلا کے مطابق سر کی خشکی اگر معمولی نوعیت کی ہے تو کسی بھی میڈیکیٹڈ شیمپو جس میں زنک شامل ہو اس سے خشکی کنٹرول کی جاسکتی ہے۔خشکی ایک قسم وہ بھی ہے جس میں خشکی کی موٹی موٹی تہیں سر پر جم جاتی ہیں اور بالوں میں برش کرتے وقت یہ اوپر گرنے لگتی ہے اوراس کےساتھ یہ چہرے تک پھیل جاتی ہے۔جن میں آنکھوں کے پاس پلکوں اور ناک کے گرد یہ خارش پیدا کردیتی ہے۔ ایسی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
بات کی جائے اگر بچوں کی تو ان میں خارش اور دانوں کی بیماری عام طور پر دیکھی جاتی ہے یہ بچوں کو بے چین کیے رکھتی ہیں اور بچوں کی تکلیف ماں باپ کے لیے بے چینی کا باعث بنتی ہے ۔ ڈاکٹر ارمیلا کے مطابق پاکستانی بچوں میں خارش اور دانوں کی بیماری زیادہ پھیلتی ہیں والدین کو ان صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ان کے لئے بہت مائلڈ سوپ اور شیمپو کا استعمال کیا جائے اور ان کا تولیہ اور دیگر اشیا الگ ہونی چاہئیں۔اگر کوئی ایک بچہ گھر میں اسکیبزدانوں اور خارش کی بیماری کا شکار ہو جائے تو فوری طور پر ماہر امراض جلد کو دکھایا جائے کیونکہ یہ متعدی بیماری ہے اور ایک سے دوسرے کو فوری منتقل ہوجاتی ہے۔
جلد کے حوالے سے دیگر حفاظتی تدابیر کے متعلق ڈاکٹرارمیلا نے بتا یا کہ دھوپ میں جاتے وقت اپنا چہرہ ہر ممکن طور پر سورج سے بچائیں۔سن بلاک کا استعمال کریں۔ سن بلاک جلد کو اسکن کے کینسر سے بچاتا ہے لیکن رنگ کو مکمل طور پر بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ وٹامن سی والی کریمز کہ استعمال سے چہرے کی رنگت کو نکھارا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی صرف ماہر امراض جلد ہی بتا سکتا ہے کہ آپ کی جلد پر کون سی کریم صحیح رہے گی۔رنگ گورا کرنے والی تمام عام کریمیوں سے اجتناب کریں اور بہت ساری کریمیز کو مکس کرکے چہرے پر ہرگز نا لگائیں یہ جلد کے لیے بہت مضر ہیں ۔ان غیر معیاری کریموں کی وجہ سے چہرے پر بالوں میں مزید اضافہ،وقت سے پہلے جھریاں اور چھایاں پڑ جاتی ہیں۔پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔اسکن کو موسچرائیز کریں، صرف چہرہ ہی نہیں بلکے ہاتھ پاوں اور جسم کے دیگر حصوں پر بھی لگائیں۔متوازن غذا کھائیں جن میں پھل ، سلاد اور دودھ کا استعمال کریں جبکہ چکنی اور تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں۔
Javeria Siddique writes for Jang
Twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10651#sthash.N0w9BkaW.dpuf