Posted in Army, Pakistan, ZarbeAzb

کیپٹن مجاہد بشیر شہید

کیپٹن محمّد مجاہد بشیر شہید ، .

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت … نہ کشور کشائی

نام مجاہد اور دل میں شہادت کی خواہش لئے جب یہ شیر دل دشمن سے ٹکرایا تو دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا ۔ پاکستان کا یہ بہادر بیٹا 8 جولائی 1986 ء کو پیدا ہوا ۔ شروع سے ہی پاکستان آرمی میں جانے کا شوق تھا ۔ ابتدائی تعلیم اسلام آباد ماڈل کالج سے حاصل کی ۔ بی کام مکمل کیا ۔ سولہ مئی 2008 ء کو پی ایم اے جوائن کیا اور 119 لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی ۔ 160 آر سی جی ائیر ڈیفنس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔2012 میں ایف سی ہیڈ کوارٹر خیبر پختون خوا میں پوسٹنگ ہوئی ۔ باجوڑ میں فرائض منصبی سنبھالے اور اپنی شہادت تک وہیں ڈیوٹی انجام دیتے رہے ۔ 12 جولائی 2014 ء کو اس مرد مجاہد نے جام شہادت نوش کیا ۔

FB_IMG_1534923161415

باجوڑ کے قریب کٹ کوٹ کے مقام پر پاک آرمی کے ہیڈ کوارٹرز سے کیپٹن مجاہد نے فضل سیپی سرحدی چیک پوسٹ پر جانا تھا۔ماہ رمضان تھا کیپٹن مجاہد روزے سے تھے ہیڈ کوارٹر بریفنگ کے لئے آئے ۔ تاہم وہاں کام کی نوعیت کی وجہ سے دیر ہوگی ۔روزہ کھولنے کے بعد نماز سے فارغ ہوکر جب انہوں نے واپس فضل سیپی جانے کا ارادہ کیا تو سب نے منع کیا کہ اس وقت سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔لیکن پاک وطن کے اس مجاہد نے کہا چیک پوسٹ پر میرے ساتھی میرا انتظار کررہے ہوں گے، میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ۔

کیپٹن مجاہد رات گئے اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوگئے ۔ انہیں پوسٹ پر پہنچنے کی جلدی تھی کیونکہ اس پوسٹ پر اکثر دشمن کی طرف سے حملے ہوتے رہتے تھے ۔ کیپٹن مجاہد خود واپس جاکر جلد سے جلد کمان سنبھالنا چاہتے تھے ۔ لیکن راستے میں ہی دہشت گردوں نے ان پر دو اطراف سے حملہ کر دیا۔کیپٹن مجاہد اور ان کے ساتھی مردانہ وار لڑے ۔ ہر طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ ہوگئی لیکن کیپٹن مجاہد نے جوانمردی سے مقابلہ کیا اور دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔تاہم وہ اس معرکے میں شدید زخمی ہوئے اور جب تک کٹ کوٹ سے پاک فوج کی مزید نفری آئی کیپٹن مجاہد بشیر اپنے ساتھیوں کے ساتھ شہادت پاچکے تھے ۔

ان کے ساتھی ان کے یونٹ ممبران ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی خوش اخلاق اور نرم مزاج تھے ۔ ہمیشہ سب کے ساتھ بہت پیار اور شفقت سے پیش آتے۔وہ اپنی یونٹ کے تمام افراد سے رابطے میں رہتے۔ان کے دوستوں کے مطابق شہادت کی خواہش ان کے دل میں بہت شدید تھی ۔ بہادری سے لڑے اور بہادری سے اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔

گیارہ جنوری 2014 ء کو کیپٹن مجاہد صالحہ حیدر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ۔ 2012 ء میں نکاح ہوگیا تھا لیکن رخصتی 2014 ء میں مقرر ہوئی ۔شادی کے بعد کچھ عرصہ چھٹی گزارنے بعد کیپٹن مجاہد واپس محاذ جنگ پر چلے گئے ۔ ان کی اہلیہ صالحہ کچھ عرصہ باجوڑ ان کے پاس رہ کر آئیں ۔ کیپٹن مجاہد کی بیٹی صبغہ اپنے والد کی شہادت کے سات ماہ بعد فروری میں پیدا ہوئی۔صالحہ مجاہد بیوہ شہید کیپٹن مجاہد اے پی ایس میں پڑھاتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں مجاہد سے شادی ہوئی تو مجھے لگا جیسے مجھ سے زیادہ اس دنیا میں کوئی خوش نصب نہیں ہوگا ۔ وہ بہت ہی نرم مزاج محبت کرنے والے انسان تھے ۔

میں شادی کے بعد اکثر سوچتی اور اپنے آپ پر رشک آتا تھا کہ مجھے اتنا اچھا انسان جیون ساتھی کے طور پر ملا ۔ ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات میری زندگی کا کل سرمایہ ہیں ۔ صالحہ کہتی ہیں کیپٹن مجاہد مذہب سے خاص لگاؤ رکھتے تھے ۔ پانچ وقت کی نماز کا اہتمام باقاعدگی سے کرتے اور روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ۔ وہ کہتی ہیں ان کی عادات و اطوار نے مجھے ان کا مزید گرویدہ کر دیا ۔ ان کی شہادت سے قبل میں باجوڑ گئی اور ہم نے کچھ دن ساتھ گزارے ۔ اس کے بعد وہ مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلے گئے ۔

وہ کہتی ہیں کہ اتنا پیار کرنے والا انسان جب چھوڑ کر چلا جائے تو زندگی بے مقصد محسوس ہوتی ہے ۔ شروع شروع میں تو میرے ضبط کے سارے بند ٹوٹ جاتے اور مجھے بالکل قرار نہیں آتا تھا ۔ لیکن جب میں شہید ہونے والے دیگر فوجیوں کی بیواؤں سے ملی تو ان کا صبر دیکھ کر مجھے انتہائی حوصلہ ملا ۔ میں نے زندگی کو ایک بار پھر مجاہد کی یادوں کے ساتھ آگے بڑھایا ۔

صبغہ فاطمہ جو کیپٹن مجاہد کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی اس نے اپنے والد کا لمس تو محسوس نہیں کیا لیکن اس کی والدہ اسے باقاعدگی سے اس کے شہید بابا کی قبر پر لے کر جاتی ہیں ۔ صبغہ اپنی ماما کے فون پر جب کیپٹن مجاہد کی تصاویر دیکھتی ہیں تو بابا ، بابا کہہ کر ان کو پکارتی ہے اور خوب شور مچاتی ہے مگراس کے بابا اس کو جواب دینے کے لئے اس دنیا میں موجود نہیں ہیں ۔ گزشتہ دنوں جب عالمی یوم والد منایا جارہا تھا تو ننھی شہزادی صبغہ نے یہ دن اپنے شہید بابا کی قبر پر منایا ۔ ابھی تو وہ اتنی کم سن ہے کہ اسے معلوم نہیں کہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلا گیا ہے ۔

مسز کیپٹن مجاہد بشیر کہتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر کی یادوں کے سہارے زندگی گزار رہی ہیں اور صبغہ فاطمہ ان کی متاعِ کُل ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ مجاہد کی شہادت نے انہیں بالکل توڑ کر رکھ دیا تھا لیکن گھر والوں اور سسرال والوں کی محبت اور شفقت نے انہیں ہمت دی کہ وہ زندگی کو آگے لے کر چل سکیں ۔میرے اور صبغہ کے لئے ان کا چلے جانا ناقابل تلافی نقصان ہے۔تاہم ہمیں ان کی قربانی پر فخر ہے انہوں نے اپنی جان پاکستان کے لئے قربان کی ۔آگے چل کر جب ننھی صبغہ زندگی میں قدم بڑھائے گی تو اس کا ہاتھ تھامنے کے لئے اس کے بابا موجود نہیں ہوں گے ۔ اس کے اردگرد تمام بچے جب اپنے ماما بابا کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہوں گے تو ایک پل کو وہ رُک کر سوچے گی ضرور کہ میرے بابا میرے ساتھ کیوں نہیں ہیں۔سب کام میری ماما کو اکیلے کیوں کرنے پڑرہے ہیں ۔ لیکن جیسے جیسے شعور بیدار ہوگا تو وہ اپنے عظیم والد کی عظیم قربانی پر فخر کرے گی۔ہم سب کا بھی فرض ہے کہ ہم اپنے شہدا اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں۔اس ملک کی اساس کیپٹن مجاہد جیسے شیر جوانوں اور صالحہ مجاہد اور صبغہ فاطمہ جیسی عظیم بیٹیوں کی قربانیوں پر کھڑی ہے ۔

صبغہ فاطمہ کے نقصان کا خلا کبھی بھی پر نہیں ہوسکتا لیکن تمام پاکستانیوں کو اس کے والد کی قربانی اور اس کی والدہ کے صبر و استقامت پر پر فخر ہے ۔ ۔کیپٹن مجاہد اور ان جیسے دیگر پاک فوج کے شہداء کی قربانیوں کی بنیاد پر آج وطن عزیز میں امن قائم ہوا ہے ۔ اللہ تعالی ہمارے شہدا کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین .
تحریر: جویریہ صدیق IMG_5g70qf

http://hilal.gov.pk/…/hilal-u…/item/2250-2016-08-12-06-44-02

Advertisements
Posted in health, Javeria Siddique, Pakistan, rain, Uncategorized

موسم برسات میں احتیاط لازم

RAin-control۔۔

اسلام آباد….جویریہ صدیق….ملک اس وقت شدید بارشوں کی لپیٹ میں ہے اور محکمہ موسمیات نے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کی پیشگوئی کی ہے۔ملک کے بالائی علاقوں کشمیر فاٹا خیبر پختون خواہ بالائی پنجاب اور جڑواں شہروں میں بھی گھن گرج کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری ہے جس نے سردی میں اضافہ کردیا ہے۔

مسلسل بارش کی وجہ سے متعدد مکانات بھی منہدم ہوئے۔بلوچستان کے علاقوں خضدار، قلات، چمن، چاغی اور زیارت بارش سے زیادہ متاثر ہوئے۔بارشوں کے باعث خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں بھیمتعدد افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے۔

تاہم مسلسل بارش کے دوران کچھ احتیاطی تدابیر اپنا کر بہت سے حادثات کو ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔سب سے پہلے تو ٹی وی خبروں اخبارات ریڈیو یا محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ سے موسم کے حوالے سے آگاہ رہیں۔اگر آپ نشیبی علاقے میں رہائش پذیر ہیں توقیمتی سامان کو بالائی منزل پر شفٹ کرلیں۔

اگر ہوسکے تو ممکنہ سیلاب یا طغیانی سے بچنے کے لئے کسی رشتہ دار کے گھر چلے جائیں۔موسم ٹھیک ہونے پر واپس لوٹ آئیں۔چھت ڈالتے وقت یہ خیال رکھیں کہ وہ مضبوط اور پائیدار ہو۔ پاکستان میں بہت سے لوگ اپنی جان سے محض اس لئے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کہ کمزرو ہونے کی وجہ سے چھت گرتی ہے۔

بارشوں سے پہلے گھر میں چھت یا دیواروں کی لیکج کو چیک کروالیں۔گھر میں موجود ڈرینج سسٹم اور گٹر بھی چیک کروائیں۔ اگر کوئی بلاک ہے تو پلمبر اس کو کھول دے گا اوربارش میں نکاسی آب میں آسانی رہے گی۔ابتدائی طبی امداد کا سامان ادویات بھی خرید کر رکھ لیں تاکہ بارش میں نا جانا پڑے۔

اگر بارش اور سیلاب کی پیشنگوئی کی گئ ہو تو مناسب خوراک،اشیائے خوردونوش اور پینے کے صاف پانی کا بھی ذخیرہ کرلیں۔گھر میں ٹارچ سیل اور موم بتیاں بھی لازمی ہونی چاہیں۔تاہم اہم نمبر موبائل کے ساتھ ایک ڈائری میں لکھ کر بیگ یا پرس میں ساتھ رکھ لیں۔

بارش میں بہت سے حادثات بجلی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کسی بھی گیلی تار یا ٹوٹی ہوئی تار کو ہاتھ لگانے سے پرہیز کریں۔ دوران بارش کسی بھی بجلی کی چیز کو ننگے پاوں یا گیلے ہاتھ نا لگالیں۔غیر ضروری بجلی کے آلات کو بند کردیں۔اگر بارش کے باعث کوئی بجلی کی تار یا چیز خراب ہوجائے تو خود ٹھیک کرنے سے پرہیز کریں اور الیکٹریشن ہو کو بلائیں ۔

اگر گھر میں پانی داخل ہوجائے تو گیس اور بجلی کے مین سوئچ بند کردیں۔خود ٹارچ یا پورٹیبل لیمپ کا استعمال کریں۔اگر پانی زیادہ داخل ہوجائے تو پہلے اپنی جان کی حفاظت کریں اور خود کو محفوظ مقام پر منتقل کریں۔

باہر کسی بھی بجلی کے پول اور سائن بورڈ سے دوررہیں۔ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو اداروں کو مدد کے لئے فون کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ بارش میں حفظان صحت کے اصولوں کا بھی خیال رکھیں۔گندے ہاتھ منہ پر نا لگائیں۔کوئی بھی پھل ،سبزی بنا ہاتھ دھوئے نا کاٹیں نا کھائیں۔بازار کی اشیاء خاص طور پر پکوڑے، سموسے وغیرہ کھانے سے پرہیز کریں ۔پانی ابال کر پئیں۔

برسات میں خاص طور پر ہیضہ نزلہ زکام اسہال عام ہوجاتا ہے جس سے بچنے کا واحد حل حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند رہنا ہے۔

برسات میں مچھروں کی بھی بہتات ہوجاتی ہے اس کے ساتھ کیڑے مکوڑے بھی ان سے بچنے کے لئے ریپلنٹ کا ستعمال کیا جائے اور اسپرے کیا جائے۔بچوں پر خاص نظر رکھیں اور انہیں برسات میں ندی نالوں میں نہانے سے منع کریں۔

دوران بارش ڈرائیونگ سے گزیز کریں اگر ڈارئیونگ کرنا ناگزیر ہو تو نشیبی علاقوں میں گاڑی لے جانے سے پرہیز کریں۔اپنے گھر والوں کو اپنے روٹ سے آگاہ کریں۔

نکلنے سے پہلے گاڑی کی لائٹس، وائپر، ہیٹر اور فیول چیک کرلیں۔موبائل ساتھ لازمی رکھیں۔گاڑی کی رفتار کم رکھیں اور آگے والی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔ہلکی آواز میں ریڈیو سنتے رہیں تاکہ حالات سے باخبر رہیں۔ہیڈ لائٹس آن رکھیں۔

کسی بھی راہ چلتے شخص یا موٹر سائیکل سوار کے پاس گاڑی کی رفتار بہت کم کردیں تاکہ وہ کیچڑ سے محفوظ رہیں۔اگر بارش زیادہ ہوجائے تو کسی محفوظ جگہ پر یا سروس اسٹیشن پر گاڑی پارک کرکے پارش کے تھمنے کا انتظار کریں۔کسی بھی ندی نالے کو کراس کرنے سے گریز کریں کیونکہ پانی کی رفتار گاڑی کو بہا لے کر جاسکتی ہے۔اس لئے متبادل راستہ اختیار کریں۔تیز رفتاری صرف آپ کے لئے نہیں بلکے اردگرد لوگوں کے لئے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

بارشوں میں جلد پر بھی بہت سے جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں۔اس لئے جلد کی حفاطت کریں ۔منہ پر گندے ہاتھ نا لگائیں۔ہاتھوں کو صابن یا ہیںڈ واش سے دھویں اور منہ کو دن میں تین سے چار بار دھویں۔کوئی گندہ تولیہ یا کپڑا منہ پر نا استعمال کریں۔

سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ قدرتی طور پر ہوا سے آپ کا منہ خشک ہوجائے۔بارش بھی چند حفاظتی تدابیر اپنا کر ہم بہت سی بیماریوں اور حادثات سے بچ سکتے ہیں اور موسم کو بہترین طریقے سے انجوائے کرسکتے ہیں۔

 

575d63910d6a9

Posted in health, Pakistan, Uncategorized

ہیٹ اسٹروک تشخص علاج اور احتیاطی تدابیر

download (7)

 

 

 

 

جویریہ صدیق : اسلام آباد

Twitter  @javerias
پاکستان میں  گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سن اور ہیٹ اسٹروک  کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔2015کراچی میں  گرمی کی لہر کے باعث دو سو سے زائد افراد سن اسٹروک کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔اس لئے گرمی کے موسم میں کچھ احتیاطی تدابیر کرنا بہت ضروری ہے۔ سن اسٹروک سورج کی شعائوں اور گرمی کے باعث ہوتا ہے۔اس کی ابتدائی علامتوں میں سر میں اچانک سخت درد،بخار ہوجانا،آنکھوں کے آگے اندھیرا آنا،قے آنا ،سانس لینے میں دشواری اور پسینہ نا آنا شامل ہے۔اگر کسی بھی شخص میں یہ علامتیں دیکھیں تو اسکو فوری طور پر ٹھنڈی جگہ یا سایہ دار جگہ پر منتقل کریں۔متاثرہ شخص کے کپڑے کم کردیں۔جوتے اتار دیں۔ٹھنڈا پانی دیں مریض کے ماتھے سر گردن ہاتھوں پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں۔اگر طبیعت میں بہتری آئے تو متاثرہ شخص کو نہانے کا کہیں۔لیکن اگر طبیعت میں بہتری نا آئے تو فوری طور پر اسپتال کا رخ کریں۔

اللہ تعالی نے قدرتی طور پر انسان کے جسم میں درجہ حرارت کو کنڑول کرنے کا نظام بنا رکھ ہے۔انسان جلد کے مساموں سے پانی خارج کرتا ہے اور گرمی میں یہ اخراج زیادہ ہوجاتا ہے اگر ہم پانی نا پئیں اور زیادہ وقت گرمی میں رہیں تو اس نظام میں بگاڑ آجاتا ہے اور انسان ہیٹ یا سن اسٹروک کا شکار ہوجاتا ہے۔ہیٹ اور سن اسٹروک میں معمولی سا فرق ہے سورج کی شعاعوں سے براہ راست متاثر ہونے والا شخص سن اسٹروک کا شکار ہوتا ہے اور گرم جگہ پر کام کرنے والا یا بنا بجلی کے گرمی میں کام کرنے والا شخص ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوتا ہے۔اس کا زیادہ شکار وہ ہی لوگ ہوتے ہیں جو گرمی میں سر ڈھانپ کر نا نکلیں جنہوں نے مناسب پانی کی مقدار نا پی رکھی ہو یا وہ گرم جگہ پر کام کرتے ہوں ۔اس کے ساتھ ساتھ شراب نوشی کرنے والے افراد اور وہ لوگ جنہوں نے موسم کے حساب سے کپڑے نا پہنے ہوں وہ بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

سن اسٹروک کسی بھی عمر کے افراد کو ہوسکتا ہے بہت زیادہ گرمی میں کام کرنا سخت ورزش کرنا دھوپ میں کسی کھیل کا حصہ بننا،بجلی کا نا ہونا،پانی کا دستیاب نا ہونا اور ہوا میں نمی کے تناسب میں کمی کے باعث یہ کسی بھی عمر کے بچے عورت یا مرد کو ہوسکتا ہے۔اگر اس کے علاج پر فوری طور پر توجہ نا دی جائے تو بعض اوقات انسان کومہ میں چلا جاتا ہے جو کہ اسکی موت کا باعث بن جاتا ہے۔

پمزاسپتال کے میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر سلمان شفیع کے مطابق زیادہ گرمی میں کام یا سفر ہیٹ اسٹروک کا باعث بنتا ہے اگر کوئی شخص بہت دیر دھوپ میں کام کرنے کے بعد بے ربط گفتگو کرنے لگے یا بہت پانی پینے کے باوجود اس کو پیشاب کی حاجت نا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کے جسم کا درجہ حرارت بگڑ چکا ہے۔اس کے ساتھ اگر کوئی شخص دھوپ میں بے ہوش ہوجائے اس کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔جب ہمارے پاس گرمی سے متاثر کوئی مریض آتا ہے تو ہم اس بہت سے فلوئیڈ لگاتے ہیں خاص طور پر ڈرپ بھی ٹھنڈی ہوتی ہے۔تاہم اگر کوئی مریض بے ہوشی کی حالت میں آئے تو سب سے پہلے ہم اسکے سانس کی بحالی پر توجہ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیمان کے مطابق رمضان المبارک گرمیوں میں آئیں گے تو روزہ دار کوشش کریں کہ وہ پانی کا تناسب سحری میں اور افطاری میں نارمل رکھیں ۔ہلکی پھلکی غذائیں لیں، مرغن کھانوں سے پرہیز کریں۔ہلکے رنگ کے کپڑے استعمال کریں سفید رنگ موزوں ترین ہے۔اپنے کام صبح یا عصر کے بعد انجام دیں۔تاہم دفتری فرائض کی ادائیگی کے لیے اگر دھوپ میں جانا ناگزیر ہو تو ٹوپی کپڑا یا چھتری کا استعمال کریں۔اپنے ساتھ پانی کی بوتل رکھیں گرمی لگے توکپڑے کو گیلا کرکے بھی سر گردن پر رکھ سکتے ہیں۔ان کے مطابق اگر کوئی شخص اچانک ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوجائے تو اسکو گیلا کرکے پنکھے یا اے اسی میں لے جائیں ۔اگر بجلی نا ہو تو ٹب میں پانی تھوڑی برف ڈال کر مریض کو گردن تک لٹا دیا جائے۔اگر لوڈشیڈنگ یا پانی کی کمی کے باعث یہ بھی ممکن نا ہو تو مریض کو ٹھنڈی پٹیاں کی جائیں اور اسکو ٹھنڈا پانی پلایا جائے۔ہیٹ یا سن اسٹروک سے اس ہی طرح بچا جاسکتا ہے کہ عین دوپہر میں دھوپ میں نکلنے سے پرہیز کیا جائے اور اگر نکلنا ناگزیر ہے تو پھر سر گردن چہرے کو ڈھانپ لیا جائے۔

جیسے ہی گرمیوں میں یہ محسوس ہو کہ جسم کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جسم گرم ہو جائے لیکن پسینہ نا آرہا ہو طبیعت بوجھل محسوس ہو سر میں سخت درد شروع ہوجائے یا دل کی دھڑکن تبدیل ہوجائے تو سمجھ جائیں کہ آپ سن اسٹروک کا شکار ہوگئے ہیں۔فوری طور پر ٹھنڈا پانی پئیں لیٹ جائیں ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کریں اگر طبیعت میں سدھار نا آئے تو فوری تو پر ڈاکٹر کو دکھائیں کیونکہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔گرمی میں پانی زیادہ سے زیادہ پئیں، ڈبے کے جوس اور فریزی ڈرنکس سے مکمل پرہیز کریں۔ گرمی میں شاپنگ سے پرہیز کریں اگر جانا ہو تو گاڑی کسی سائے دار جگہ پر پارک کریں اور گاڑی میں ہرگز بچوں کو نا چھوڑیں۔کیونکہ گرمی میں گاڑی کا درجہ حررات فوری طور پر بڑھ جاتا ہے۔احتیاط کریں کیونکہ سن اسٹروک کے باعث دماغ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Posted in Javeria Siddique, Pakistan, Uncategorized

راج دلارا

راج دلارا

جویریہ صدیق

o-father-son24-facebook

بس میری شروع سے خواہش تھی کہ پہلا تو بیٹا ہی ہونا چاہیے ۔بات یہ نہیں تھی کہ مجھے بیٹوں سے نفرت تھی ۔لیکن نسل چلانے کے لئے بھی کوئی ہونا چاہیے ۔رقیہ جب امید سے تھی تو میں نے صاف کہہ دیا مجھے تو پہلا بیٹا چاہیے وہ چپ کرکے میری بات سنتی رہی ۔ویسے بھی ہمارے معاشرے میں مرد صرف بولنے اور عورت صرف سننے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔میں تو خوشی سے نہال تھا جیسے جیسے دن قریب آرہے تھے۔اتوار بازار سے کتنے ہی کھلونے لئے آیا نیلے کالے سفید رنگ کے کپڑے بھی ۔گھر جاتے وقت کبھی دودھ ربڑی لئے جاتا تو کبھی چکن کڑاہی نان۔رقیہ بھی اپنے نصیب پر نازاں تھی کہ مجھ جیسا اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا ۔آخر وہ گھڑی آن پہنچی میں دائی نسرین کو لئے آیا اور خود بے صبری سے باہر انتظار کرنے لگا۔رقیہ کا چیخیں مجھے بے چین کررہی تھیں ۔میں بھاگ کر گلی کی نکڑ والی مسجد میں چلا گیا اور رونے لگا مولوی صاحب مجھے آکر تسلی دینے لگے ۔دل کا بوجھ ہلکا کرکے میں گھر لوٹا تو رقیہ درد سے اب بھی چلا رہی تھی۔میں نے دائی سے پوچھا خطرے کی کوئی بات نہیں انہوں نے کہا کچھ نہیں ہوتا تم فکر نا کروشوکت ۔

کچھ دیر میں رقیہ کی آواز خاموش ہوئی اور بچے کی رونے کی آواز آنے لگی۔میں تو خوشی سے نہال ہوگیا ۔میرا راج دلارا جو آگیا تھا ۔دائی میرے سامنے کپڑے میں لپیٹ کر لائی اور مجھے مبارک دی مبارک ہو راج دلاری آئی ہے مبارک ہو شوکت تیرے گھر اللہ کی رحمت آئی ہے۔

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے مجھے بیٹا چاہئے تھا یہ منحوس بیٹی کہاں سے پیدا ہوگئ۔مجھے بیٹا چاہیے تھا ۔دائی کو دل پر پتھر رکھ کر پیسے اور تحائف کے ساتھ رخصت کیا۔اندر گیا تو رقیہ میری منتظر تھی میں نے کپڑے دھونے والا ڈنڈا اٹھایا اسکو کو مارنا شروع کردیا ۔وہ تو شاید میری طرف شفقت محبت کی طالب گار تھی۔وہ حیران ہی رہ گئ ۔میرا دل کررہا تھا اس منحوس اور اسکی پیدا کی ہوئی لڑکی کا گلا دبا دوں ۔میرے ماں بیچ میں آگیی اس نے میری بیوی کو مار سے بچایا۔

میرا غصہ پھر بھی کم نہیں ہوا میں نے صحن میں لگے تندور میں کپڑے اور کھلونے جلا دیے ۔میری اماں بہت منع کرتی رہی بس نفرت غصے کی آگ میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا

مسجد میں مولوی صاحب نے مجھے بہت سمجھایا بیٹی اللہ کی رحمت ہے ۔بیٹوں کی احسن طریقے سے پرورش کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے ۔اس کے بعد میں خاموش ہوگیا اور سمجھوتہ کرلیا۔گھر کا ماحول بلکل بدل گیا ۔رقیہ جہاں ہنسا بولا کرتی تھی اب کسی مشین کی ماند کام کرتی رہتی تھی۔بیٹی کو مجھ سے دور رکھتی اور رات کو اس کو اماں کی کمرے سلاتی ۔

رقیہ اور میری اماں نے اس کا نام مریم رکھا ۔مریم دو سال کی ہوئی ۔تو ہمارے گھر میں پھر ننھے مہمان کی آمد

کی نوید ہوئی ۔میں نے ہر وقت دعا شروع کردی ۔اس بار بیٹا ہو۔میں رقیہ کے بہت ناز اٹھاتا وہ بہت سہمی ہوئی رہتی تھی۔شاید ایسے یقین نہیں تھا کہ اس بار بیٹا ہو۔

اس بار بھی وہ ہوا ایک اور بیٹی پیدا ہوئی۔میں نے رقیہ مریم دونوں کو بہت مارا ۔ڈھائی سال کی مریم روتی رہی ۔ہمیں نا مارو۔ہمیں نا مارو ۔پر میرے اندر کا شیطان کا روکنے کو نہیں آرہا تھا۔میری ماں نے مجھے بہت مشکل سے روکا ۔میں پورے ایک ہفتے گھر سے غائب رہا ۔مجھے رقیہ اور اسکی پیدا کی ہوئی بیٹوں سے نفرت ہورہی تھی۔

میرے رشتہ دار مجھے سمجھا کر واپس گھر لئے آئے۔اماں نے بیٹی کا نام زینب رکھا ۔گھر میں شیرینی بنا کر محلے میں بانٹ دی۔

مجھے سب چیزوں سے نفرت ہوتی جارہی تھی۔جب دایی نسرین نے بتایا رقیہ ایک پھر پیٹ سے ہے ۔میں نے سوچا میں گاوں سے لاہور چلا جاو۔وہاں سے کما کر بھیجتا رہوں کم از مجھے ان عورتوں کا منہ نہیں دیکھنا پڑے گا۔

ٹھیک سات ماہ بعد ماں نے مجھے خط بھیجا کہ میرے گھر بیٹا ہوا۔مجھے لگا کسی نے مذاق کیا۔رفیق کی دوکان فون کیا اور پوچھا کیا واقعی ہی ایسا ہے گھر سے پتہ کرے۔تھوڑی میں رفیق کا ٹیلی فون آیا دوسری طرف ماں کی ہانپتی ہوئی آواز آئی مبارک  ہوتیرا بیٹا ہوا ہےچل واپس آ اسکا نام رکھ عقیقہ کر۔میں نے لاہور میں کام ختم کیا۔بچے کے لئے بہت سارے کھلونے کپڑے سونے کی ایک انگوٹھی خریدی ۔

گھر آیا تو اماں رقیہ اور بیٹیاں مجھے دیکھ کر بہت خوشی ہوئیں ۔بیٹیاں میری طرف دیوانہ وار لپکی میں نے جھٹکے سے پیچھا کیا دفع ہو جاو اپنی منحوس شکلیں مجھے نا دیکھاو۔وہ ڈر کر چھپ گئ۔

میں نے اپنے بیٹا کو گود میں لیا اور وہ ناچا کہ وہ پیسے وارے ۔اس کے عقیقے میں 4 بکرے کٹوائے وہ دعوت چلی کہ پورے گاوں نے نہیں دیکھی تھی ۔

بیٹے کا نام شان شوکت رکھا وقت گزرتا گیا میں نے ہر موقع پر بیٹوں کو ہر موقعے پر دھتکارا اور بیٹے کو آگے آگے رکھا۔گھر میں گوشت صرف میرے اور شان کے لئے پکتا رقیہ زینب مریم دال کھاتی۔شان خود سر ہوتا رہا میں اس کی جوانی کو دیکھ کر اتراتا ۔بیٹوں کو تو مڈل کے بعد میں نے سکول نہیں جانے دیا ۔گھر میں سلائی کڑھائی میں لگا دیا۔شان کو پڑھنے لاہور بھیج دیا ۔

اس کی کمپیوٹر میں ڈگری مکمل ہوئی جاب بھی لگ گی مجھے لگا دن پھیرنے کو ہیں اب میں بھی گھر پر آرام کروں گا ۔پر شان ڈگری کے ساتھ بہو بھی لئے آیا مجھے بہت غصہ آیا اس نے میرے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ۔میں نے سوچا کوئی بات نہیں جوان خون ہے بہک گیا ۔شادی ہی کی ہے کوئی گناہ تو نہیں ۔میں نے دھوم دھام سے ولیمہ کیا لوگوں نے بہت باتیں کی لیکن میں پرواہ نہیں کہ بیٹیاں ابھی بیٹھی ہیں اور میں نے بیٹے کی شادی پہلے کردی۔

شان نے جب کہا کہ وہ اب گاؤں نہیں رہے گا اور لاہور میں رہے گا ۔تو میرا دل ٹوٹ سے سا گیا ۔چند دن میں وہ واپس چلا گیا ۔

میں رقیہ کو لے کر لاہور بھی گیا پر وہ اتنی گرمجوشی سے نہیں ملا ۔اس کی بیوی نے بھی ہماری خاص عزت نہیں کی مجھے بہت افسوس ہوا ایسا لگا دل میں کچھ چبھ سا گیا ہے ۔

گاؤں آتے ہی فالج نے مجھے آن لیا۔رقیہ نے لاہور بہت فون کیے لیکن نوکروں نے بتایا شان صاحب اپنی بیگ

کے ساتھ دبی گئے ہوئے ہیں ۔میں تڑپ رہا تھا اور میرا راج دلارا میرے پاس نہیں تھا ۔مریم اور زینب ڈرتے ڈرتے میری تیمار داری کرتیں ۔مجھے دوائی دینا میری مالش کرنا میرے منہ میں نرم غذا ڈالنا۔یہ دونوں وہ ہی تھیں جن کو میں نے منحوس چڑیلیں کہا تھا ۔جن کے پیدا ہونے پر میں انہیں مارنا چاہا تھا ۔میری وہ بیوی جس کو میں ڈنڈے سے مارا کرتا تھا خود میرا لباس تبدیل کرواتی مجھے صاف کرتی۔میں ندامت سے گڑ جاتا ۔

ایک مہینے بعد جب شان لوٹا تو مجھے فون کرکے خیریت دریافت کی اور تب بھی ملنے نہیں آیا ۔میرے راج دلارے کے پاس میرے لئے وقت نہیں تھا۔میں جس کو ہمیشہ پیار دیا لاڈ دیا وہ تو نہیں آیا۔پر اللہ کی رحمت میری بیٹوں نےمیرے تمام زخموں کو بھر دیا۔میں نے ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگی وہ رونے لگیں اور میرے گلے لگ گئ

Javeria Siddique is a Journalist , Author and Photographer

Twitter @javerias

https://www.facebook.com/OfficialJaverias/

575d63910d6a9

Posted in mother, Pakistan, Uncategorized, ماں, جویریہ صدیق

بابو کی ماں

575d63910d6a9

جویریہ صدیق 

ماں نے مجھے ہمیشہ بہت پیار دیا اکلوتا جو تھا ۔ہر وقت میرے ناز نخرے اٹھانے میں مصروف رہتی یہاں تک کہ میرے ابا بھی کہہ اٹھتے کہ جب سے یہ آیا ہے صفیہ تم تو مجھے بھول ہی گئ۔ابا کی چھوٹی سی کریانے کی دوکان تھی ۔اچھا گزر بسر تھا ماں کو مجھے بابو بنانے کا بہت شوق تھا ابا کے لئے جب وہ گرم گرم پراٹھے اتراتی تو دوسری طرف میرے لئے بریڈ مکھن کے ساتھ سینک دیتی ۔اسکول کی بریک میں اسٹرابری جیم والی بریڈ  اور  گرم ماگرم چپس بنا کر لاتی اس کا تو دل کرتا مجھے سکول میں بھی نوالے خود بنا کر دیتی لیکن اس کی اجازت نہیں تھی صرف ٹفن دیے جاتی۔جب سردیاں ہوتی تو دودھ میں چاکلیٹ ڈال کر مجھے دیتی ، بہت سارے میوے صرف میرے لئے خرید کر رکھتی ۔ابا مذاق اڑاتے کیا دیسی کو ولایتی بنانے چلی ہے وہ بس مسکراتی رہتیں۔اماں اور ابا خود تو کم پڑھے لکھے تھے اس لئے میرے لئے ٹیوشن بھی ڈھونڈ لی گئی ۔دوپہر کے کھانے کے بعد اماں مجھے خود پانچ گلیاں دور چھوڑ کر آتی پر 2 گھنٹے بعد دوبارہ لینے آتی۔راستے میں مجھے ٹھنڈی بوتل خرید کردیتی کبھی قلفی تو کبھی پاپڑ ۔مجھے مسجد چھوڑ کر گھر چلی جاتیں ۔میں قرآن پاک پڑھتا ایک گھنٹے بعد پھر وہ مجھے لئےکرگھرجاتی ۔میں کھیلنے کی ضد کرتا تو سامنے میدان میں جانے کی اجازت دیتی اور خود بار بار مجھے کھڑکی سے جھانکتی رہتیں ۔میری 24 گھنٹے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ وہ پانچ وقت نماز بھی پڑھیں گھر کے کام بھی خود کرتیں اور روز مزے دار کھانے بھی بناتیں ۔انہیں کپڑے سینے کا بھی شوق تھا پتہ نہیں کہاں سے کپڑے ڈھونڈ کر لاتی میرے لیے پینٹ کوٹ سیتی مجھے پہناتی بہت خوش ہوتیں اور کہتی میرا بیٹا بابو بنے گا۔میں کہتا ہاں ماں میں بابو بنوں گا ۔اس ہی طرح سال گزارتے رہے میں آٹھویں کلاس میں چلا گیا ۔میں نے اماں کو کہا اب ایسے ٹفن کا ڈبہ لئے کر سکول آنے کی ضرورت نہیں ہے لڑکے میرا مذاق اڑاتے ہیں مجھے جیب خرچ چاہے میں سکول کی کینٹن سے کچھ کھاوں گا۔اماں نے بہت منت سماجت کی لیکن میں ڈٹا رہا۔پھر ماں نے مجھے روز بیس روپے جیب خرچ دینا شروع کردیا۔ابا نے آنے جانے کے لئے سائیکل خرید دی۔میں کینٹین سے بھی چیزیں کھاتا اور راستے میں رفیق ہوٹل والے بھی کچھ نا کچھ ضرور کھاتا ۔ تب بھی وہ واپسی پر میرے لئے کھانا تیار رکھتی ٹی وی اور رسالوں کی مدد سے کبھی چائنیز کھانے تو کبھی پیزا بنانے کی کوشش کرتی۔بس اس کی خواہش تھی کہ میں انگریزی بولنے والا ایک بابو بن جاوں جس کو دیکھ کر سب سلام کریں ۔

میں کالج میں تھا کہ ابا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے ۔مجھے لگا مشکل ہے کہ اب میں پڑھائی جاری رکھ سکوں مجھے کریانے کی دوکان پر بیٹھنا پڑے گا ۔پر اماں نے کہا نہیں وہ دوکان ملازم کے ساتھ سنبھال لیں گی لیکن میں پڑھائی نہیں چھوڑوں گا۔اماں جو پہلے چادر لیتی تھیں اب شٹل کاک برقعے میں دوکان جانے لگیں خود گودام والی جگہ پر نگرانی کرتیں آگے ملازم چیزیں فروخت کرتا ۔اماں کی روٹین اور بھی سخت ہوگئ ۔دوکان پھر سے اماں کی محنت سے چل پڑی۔

میں نے ان کو کہا بھی گھر پر ملازمہ رکھ لیں لیکن نہیں وہ صبح اٹھتی نماز پڑھتیں، ناشتہ بناتی دوپہر کے لئے کھانا بناتیں میرے کالج جانے کے بعد دوکان کھولتی ۔میری واپسی پر گرم روٹیاں اتراتیں مجھے کھانا کھلاتیں اور وہ واپس دوکان پر چلی جاتیں اور رات 9 بجے واپس آجاتی۔میں اپنے ماں کے احسانوں تلے دبتا جارہا تھا۔میں ہمیشہ سوچتا میری ماں عظیم عورت ہے میں خوش قسمت ہوں جو اسکا بیٹا ہوں ۔

20170110_151852

image via indileak

میں نے ڈگری مکمل کی اور مجھے اچھی سرکاری نوکری مل گئ۔میں نے ماں کو کہا اب وہ دوکان پر نہیں جائیں گی کیونکہ ان کا بیٹا بابو بن گیا ہے۔ماں نے کہا ٹھیک ہے میں نے دوکان اس ہی ملازم کو ٹھیکے پر دے دی۔میں سوٹ بوٹ میں جب بھی دفتر جاتا میرے آگے پچھے لوگ سلام صاحب سلام صاب کہتے جاتے ۔میرے اندر غرور پیدا ہونے گا۔میرے عمر کوئی 26 کے قریب ہوگئی تھی ۔اماں کے خاندان کی تمام لڑکیوں کو میں نے مسترد کردیا کیونکہ ان میں سے کوئی بابو کی بیوی بننے کے لائق نہیں تھی۔

ایک سرکاری تقریب میں میری ملاقات ٹینا سے ہوئی وہ کسی پرائیویٹ آرگنائزیشن سے وابستہ تھی۔اس کی خوبصورتی پہناوا اور بولڈنس سے متاثر ہوکر میں نے چند ہی ملاقاتوں میں اسکو پرپوز کردیا ۔ہماری شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ٹینا کا خاندان بہت ہی ماڈرن تھا ان سب کے بیچ اماں کسی اور سیارے کی مخلوق لگ رہی تھیں ۔

مجھے تو بس کام اور ٹینا کے علاوہ کچھ نہیں نظر آتا تھا۔امی جی کہیں دور پیچھے رہ گئ۔وہ کھانا بنا کر انتظار کرتی رہتیں میں ٹینا باہر سے کھانا کھا آتے ۔شادی کے کچھ عرصے بعد جب ٹینا دوبارہ آفس جانے لگی تو اماں جی نے اعتراض کیا بیٹا اب بہو کو یہ گھر سنبھالنے کی ضرورت ہے ۔میں نے ان کو سختی سے جھٹک دیا کہ اب کیا آپ دقیانوسی ساس کا رول ادا کریں گی ۔وہ خاموش ہوگئیں ۔

گھر میں جھگڑے بڑھنے لگے ٹینا کو اماں سے بہت سی شکایتیں تھیں ۔کبھی اماں اسکو پوری آستین کے کپڑے پہنے کو کہتی تو کبھی اسکو وقت بے وقت گھر سے باہر جانے پر روکتی ۔کبھی مجھے کہتیں کہ میں صراط مستقیم پر چلوں ۔اماں میری سرگرمیوں سے واقف ہورہی تھیں ۔نوکری کے چند سالوں میں میرے پاس اپنا بنگلہ کار جائیداد سب موجود تھے ۔اب ٹینا کی فرمائشیں صرف سرکار کی مقرر کردہ تنخواہ میں تو پوری نہیں ہوسکتی تھیں پھر میرا اپنا بھی کچھ لائف اسٹائل تھا۔

ایک دن تو حد ہوگی میرے باس آئے ہوئے تھے اماں اپنے وہ ہی بوسیدہ سے مرینے کے سوٹ میں آگئی میں کیا بولتا ٹینا نے کہا یہ ملازمہ ہے جاو دفع ہوجاو پانی لاو۔میں شاید اس وقت بہرا ہوگیا تھا جو ٹینا کو کچھ نہیں کہا الٹا باس کے جانے کے بعد اماں سے لڑ پڑا کہ آپ کو فقیروں والے حلیے میں مہمانوں کے سامنے نہیں آنا چاہیے تھا۔اماں خاموش رہیں اور آنسو ان کی آنکھوں سے گرتے رہے۔ٹینا نے کہنا شروع کردیا مجھے الگ گھر میں رہنا ہے میں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

میں نے بھی سوچا پرانے گھر میں ان کو چھوڑ آتا ہوں وہاں کریانے کی دوکان سے معقول آمدنی بھی اماں کو ملتی رہے گی۔لیکن ٹینا نے کہا ایسا مت وہ دوکان اور گھر بھی اب لاکھوں مالیت کہ ہیں وہ ہمارے بچوں کے کام آئیں گے ۔آپ ان کو اولڈ ہوم چھوڑ آئیں ۔وہاں میں سال کے پیسے بھی جمع کروادیں گے اور اماں جی کا خیال بھی رکھا جائے گا ۔میں پلاننگ کرنا شروع ہوگیا ۔اماں کے سارے احسانات پیار قربانیاں فراموش کرگیا۔

اس دن تو حد ہوگئی ٹینا کی دوست جوکہ بہت بڑے سیاستدان کی بیٹی ہے اماں اس کے سامنے پھر بوسیدہ لباس میں آگئیں۔ٹینا نے رو کر میرا آفس بیٹھنا محال کردیا۔میں گھر آیا اور اماں سے کہا کہ آخر ان کا مسئلہ کیا وہ کیونکہ سوسائٹی میں ہماری بے عزتی کروارہی ہیں ۔جب سب کچھ گھر میں موجود ہے تو وہ اچھا لباس کیوں نہیں پہنتی ۔

بہت سال میں وہ پہلی بار بولیں بیٹا میں اس گھر میں اپنی روٹی حلال کرکے کھاتی ہو تمہارے گھر میں کا کام کرتی ہوں اس کے عوض تمہاری بیوی مجھے کھانا دے دیتی ہے۔لیکن تمہاری لائی حرام کی اترن نہیں پہن سکتی۔یہ سن کر  میرا سر وہ گھوما میں نے ان گھسیٹتے ہوئے گھر سے نکالا گاڑی میں دھکیلا اور اولڈ ہوم چھوڑ آیا۔

مجھے کبھی اپنے فیصلے پر ندامت نہیں ہوئی۔چھ ماہ گزر گئے میں نے اپنی ماں کا حال بھی نہیں پوچھا۔ٹی وی دیکھتے ہوئے نظر پڑی مارنگ شو پر پڑی ۔ ہوسٹ ماں کا عالمی دن منا رہی تھی ۔پتہ نہیں کیوں میں نے بھی پروگرام دیکھنا شروع کردیا ۔بہت سی مائیں اپنے بچوں سے گلے شکوے کررہی تھیں ۔آخری کونے میں ایک عورت اپنا منہ ڈوپٹے  چھپا رہی تھی۔وہ ہاتھ میں کیسے بھول سکتا وہ بوڑھا نجیف ہاتھ میری ماں کا تھا ایک جلے کا نشان دوسرا اس کے قریب بڑا کالا تل وہ میری ہی ماں تھی بابو کی ماں ۔۔

مارننگ شو میں بیٹھی تمام ماوں نے اپنے بچوں سے بہت گلے شکوے کئے روتی رہیں کچھ تو اپنے بچوں کو بدعائیں بھی دیں ۔اب مائک میری ماں کے آگے تھا میرا دل دھک دھک کرنے لگا میری ماں کیا بولے گی۔ان کا چہرا چادر میں چھپا تھا وہ بولنے لگیں میرا دماغ سن ہورہا تھا دل پھٹ رہا تھا

 ” میری تربیت میں ہی کھوٹ تھا جو آج میں ایک دارالامان میں موجود ہوں ۔میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں کہ میں اپنی اولاد کی اچھی پرورش نہیں کرسکی قصور وار وہ نہیں ہم ہیں “

میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا سب ماوں نے اپنے بیٹوں کو کوسا بدعائیں دیں صرف میری ماں نے خود کو قصور وار قرار دیا ۔جبکہ قصور ان کی تربیت کا نہیں تھا۔ میرے اندر کے کمپلیکس لالچ اور ہوس نے گھر کرلیا تھا ۔میں نے روتے روتے گاڑی نکالی سارے ملازم مجھے مجھے دیکھتے رہ گئے ۔سگنل پر بھی لوگ مجھے دیکھتے رہے میں روتا روتا اولڈ ہوم پہنچا تو معلوم پڑا ماں نے میرے بھیجے پیسوں کو کبھی ہاتھ میں لگایا وہ یہاں سے بھی کپڑے سیی کر حق حلال کا کھا رہی تھی۔

میں نے ماں کے پاوں پکڑ لئے اپنا سر ان کے پیروں میں رکھ دیا ۔اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگی ۔میری ماں نے کہا رب سے معافی مانگو اسکو راضی کرو۔اس کے بعد میں اپنی ماں کو ساتھ لئے آیا تمام برائیوں سے توبہ کرکے صرف رزق حلال کمانے لگا۔میری بیوی نے شروع میں بہت شور ڈالا لیکن میں نے اس کو صاف کہہ دیا بیوی تو مجھے اور مل جائے گی لیکن ماں نہیں ۔پھر وہ خاموش ہوگئ اور میرے گھر کا سکون لوٹ آیا ۔اب جب بھی میں گھر سے نکلتا ہوں تو ماں کو سلام کرکے اور واپس آتا ہوں تو پہلے ان کا چہرہ دیکھتا ہوں زندگی میں صرف سکون ہی سکون ہے۔اگر آپ بھی کسی ماں کے بابو ہیں اور آپ کی ماں اولڈ ہوم میں ہے تو اس کو واپس لئے آئیں کہیں ایسا نا ہو دنیا میں ملی جنت آپ سے چھین جائے۔

Javeria Siddique is Journalist, Author and Photographer.

Twitter @javerias fb : Official Javerias

Posted in Army, ArmyPublicSchool, Pakistan, ZarbeAzb, جویریہ صدیق

سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی یاد میں دعائیہ تقریب جاری

پشاور: سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی یاد میں دعائیہ تقریب جاری۔

جویریہ صدیقimg-20161215-wa0062 ۔سانحہ اے پی ایس کی دوسری برسی کے موقع پر حسن زیب شہید کے گھر پر دعائیہ تقریب میں لواحقین کی بڑی تعداد میں شرکت ۔لواحقین نے شہدا کے لئے شمعیں روشن کی اور فاتحہ خوانی کی ۔اس موقعے پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ورثا دھاڑیں مار مار کر روتے رہے اور اپنے پیاروں کو یاد کرتے رہے۔حسن زیب شہید کے گھر میں تمام شہدا اے پی ایس کی تصاویر آویزاں ہیں لواحقین ان تصاویر کے آگے شمعیں جلا کر ان لمحات کو یاد کرتے رہے جو انہوں نے زندگی میں ساتھ گزرے تھے ۔والدین خاص طور پر سولہ دسمبر کی ہولناکی کو یاد کرکے روتے رہے ۔اپنے بچوں اور ان کے اساتذہ کے لئے فاتحہ خوانی کرنے کے ساتھ ساتھ خود کے لئے بھی صبر کی دعاء کرتے رہے ۔حسن زیب شہید نے سولہ دسمبر  اپنے اساتذہ اور ساتھیوں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا تھا ۔دو سال سے ہر ماہ ان کے گھر میں اے پی ایس فیملیز دعائیہ تقریبات میں اکٹھی ہوتی ہیں ۔

img-20161215-wa0061

img-20161215-wa0069aps-3aps-5

جویریہ صدیق صحافی اور فوٹوگرافر ہیں ۔ سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشیں کتاب کی مصنفہ ہیں۔آپ انہیں ٹویٹر پر فالو کرسکتے ہیں @javerias

Posted in Pakistan, Uncategorized

اسلام آباد کے نواح میـں24ہزار سال پرانےغار

 

اسلام آباد کے نواح میـں24ہزار سال پرانےغارShahAllahDittaCavesinIslamabad_2-22-2016_216150_l

اسلام آباد … جویریہ صدیق ….

شاہ اللہ دتہ اسلام آباد کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں ہےجو تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔مقامی لوگ کہتے ہیں کہ سات سو سال پہلے شاہ اللہ دتہ نام کے بزرگ نے اس گاؤں کو بسایا۔ ان کا مزار بھی اسی گاؤں میں واقع ہے۔

مارگلہ کے دامن میں بسے اس گاؤں میں بہت سی تاریخِ جگہیں ہیں ۔اس گاؤں سے سکندر اعظم اور مغل حکمران بھی گزر کر گئے۔ یہاں شیر شاہ سوری کا قائم کردہ کنواں اور دیوار بھی واقع ہیں۔اسلام آباد میں رہنے والے لوگوں میں سے بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ شاہ اللہ دتہ گاؤں میں واقع غاربدھ مت دور کے ہیں۔

تاریخ دانوں کے مطابق یہ غار چوبیس ہزار سال پرانے ہیں اور ان پر بدھوں کے مذہبی پیشوا ’مہاتما بدھ‘ کے نقوش تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ نقوش تو مٹ گئے ہیں لیکن غار کے خدوخال ویسے ہی ہیں۔

ان غاروں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غاروں میںکسی زمانے میں سرائے قائم تھے اور مسافر یہاںٹھہرتے تھے۔غاروں میں دروازے کھڑکیاں موجود ہیں۔غار کے نزدیک قدرتی پانی کا چشمہ ہے جو صدیوں سے رواں ہے۔غار کے قریب بہت سے پرانے برگد کے درخت بھی لگے ہیں ۔محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق یہ درخت بھی تقریباًسات سو سال پرانے ہیں۔

یہ جگہ سی ڈی اے کی عدم توجہی کا شکار ہے۔ یہاں آنے کا راستہ بہت دشوار ہے اور سڑک خستہ حالی کا شکار ہے۔ان غاروں کے اردگرد پہاڑوں پر کرشنگ جاری ہے اور درخت کاٹے جارہے ہیںجس کی وجہ سے علاقے میں ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے اور اس جگہ کا حسن ماند پڑ رہا ہے۔

یہاں پر ایک سو سال پرانا باغ بھی تھا جس کی نشانی اب صرف ایک درخت کے روپ میں ہی رہ گئی ہے ۔باقی تمام درخت’ ٹمبر مافیا‘ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

دوہزار گیارہ میں اس وقت کے سی ڈی اے چیئرمین نے سادھو کا باغ دوبارہ آباد کرنے کے لئے سنگ بنیاد بھی رکھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔اس کے ساتھ ساتھ ان غاروں میں چند افراد نے اپنی رہائش گاہیں بھی بنا رکھی ہیں۔سی ڈی اے نے ان تمام معاملات پر چشم پوشی کررکھی ہے۔

یہ یونیسکو کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔سی ڈی اے فوری طور پر یہاں پہاڑوں پر کرشینگ کو روکوائے، پہاڑوں پر غیر قانونی تعمیرات پر پابندی عائد کرے اور شاہ اللہ دتہ میں واقع تاریخی مقامات کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات کرے۔

اس جگہ پر نا ہی کوئی قیام وطعام کی جگہ ہے نا ہی سی ڈی اے کی طرف سے کوئی معلوماتی بورڈ نصب ہیں جس سے سیاحوں کو اس جگہ کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے۔یہاں سب سے پہلے سڑک تعمیر ہونی چاہئے جبکہ جگہ جگہ سائن بورڈز بھی نصب کئے جانے چاہئیں۔سی ڈی اے کی طرف سے گائیڈ بھی ہونے چاہیں جو سیاحوں کو اس جگہ کی تاریخ بیان کرسکیں۔

تاریخی غاروں کی حفاظت کے لئے محکمہ آثار قدیمہ کی مدد لینی چاہیے۔یہاں مزید پودے لگانے بھی ضرورت ہے ۔پہاڑ کی کٹائی کا کام فوری طور پر روکا جائے۔

سی ڈی اے کی زرا سی توجہ سے یہ جگہ ناصرف سیاحوں کے لئے نہایت دلچسپی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی اسے شامل ہونے کا موقع مل سکے گا۔

Posted in health, human-rights, Pakistan, Uncategorized, ،خصوصی_افراد

 

 

پاکستان ڈائری-11

پاکستان ڈائری-

11

عمارہ انور پاکستان کی ایک باہمت بیٹی ہے۔عمارہ پیدائشی طور پر نابینا ہیں لیکن عمارہ نے اپنی تعلیم اور ترقی کی راہ میں اسکو کبھی حائل نہیں ہونے دیا۔انیس سو ستاسی میں پیدا ہونے والی عمارہ نے تمام تعلیم عام اداروں میں حاصل کی

17.03.2016 ~ 25.10.2016

پاکستان ڈائری-11

 
 
00:00/05:23

عمارہ انور پاکستان کی ایک باہمت بیٹی ہے۔عمارہ پیدائشی طور پر نابینا ہیں لیکن عمارہ نے اپنی تعلیم اور ترقی کی راہ میں اسکو کبھی حائل نہیں ہونے دیا۔انیس سو ستاسی میں پیدا ہونے والی عمارہ نے تمام تعلیم عام اداروں میں حاصل کی ۔ایف اے ایف سیون ٹو کالج اور بی بی اے اورایم بی اے کی ڈگری نمل یونیورسٹی سے حاصل کیااوراب جاب کررہی ہیں۔

میں نے خود زمانہ طالب علمی میں عمارہ کو بہت قریب سے دیکھا ہماری ملاقات اکثر تقریری مقابلوں میں ہوا کرتی تھی۔عمارہ زمانہ طالب علمی سے ہی بہت کانفیڈینٹ اور انڈیپنڈنٹ رہی ہے۔عمارہ نے کبھی اپنے لئے ہمدردی کو پسند نہیں کیا وہ بھی باقی طالب علموں کی طرح ہر چیز میں حصہ لیتی۔اکثر کالج اور یونیورسٹی کے لئے تقریری مقابلوں میں انعامات جیت کر آتیں۔ عمارہ اس وقت پاکستان فاونڈیشن فائٹنگ بلائنڈنس کے ساتھ منسلک ہیں۔

عمارہ کہتی ہیں کہ جب سے میرا جنم ہوا میں نے اپنی فیملی کو بہت سپورٹو پایا۔ ریٹینا ڈی ٹیچمنٹ کی وجہ سے میں دیکھ نہیں سکتی اورمیرا بھائی بھی نہیں دیکھ سکتا۔میرے والدہ اور والد نے جس قدر ہم پر محنت کی ہماری تعلیم اور صحت کا خیال رکھا وہ الفاظ میں بیان کرنے سے میں قاصر ہوں۔میرے والدین نے مجھے خود مختار بنایا مجھے ہمدردی سیمٹنے کا کوئی شوق نہیں میں پڑھی لکھی پاکستانی ہوں اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہوں

زمانہ طالب علمی کی تصاویر

عمارہ اپنے دور طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں نے ابتدائی تعلیم فیصل آباد میں حاصل کی اس کے بعد تمام تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی۔مجھے ہمیشہ استاتذہ اور کلاس فیلوز نے مثبت رسپانس دیا۔میں نے تعلیم کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا اور سکول کالج میں تقریری مقابلوں میں انعامات جیتے۔میری والدہ ہمیں خود پڑھاتی ہماری صلاحیتوں پر کام کرتیں۔وہ خود استاد رہیں ہیں تو انہوں نے جدید تکینک کےساتھ مجھے اور میرے بھائی کو پڑھایا۔

مسٹر اینڈ مسز انور

ایف اے تک تو میرے ساتھ پیر لکھنے کے لئے کوئی ہیپلر ہوتا تھا لیکن بی بی اے ایم بی اے میں کمپیوٹر کی مدد سے میں نے خود ٹائیپنگ کرکے پیپر دیے۔ماڈرن ٹیکنالوجی نے زندگی کو بہت آسان بنا دیا۔مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں تو اتنی ٹیکنالوجی عام نہیں تھی تو میرے والدین مجھے اور میرے بھائی کو بریل اور آڈیو کی مدد سے پڑھاتے تھے۔پر اب ہم فون ٹیبز اور لیپ ٹاپ کی مدد سے بہت آسانی کے ساتھ بہت سا کام کرجاتے ہیں۔

عمارہ کہتی ہیں کہ میرے والدین نے ہمشہ ہمیں عام تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی کیونکہ وہ ہمیں معاشرے سے کاٹ کر نہیں رکھنا چاہتے تھے۔میں نے صرف تین سال سپیشل تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کی اس کے بعد صرف عام اداروں میں زیر تعلیم رہی۔اس کا مجھے بہت فائدہ ہوا۔وہ والدین غلط کرتے ہیں جو اپنے فزیکل چیلنجڈ بچوں کو ایک کمرے کی حد تک محدود کردیتے ہیں یا انہیں لوگوں سے چھپاتے ہیں۔دنیا کے ہر شخص میں کچھ نا کچھ کمی ہے کوئی بھی اس دنیا میں پرفیکٹ نہیں۔

عمارہ کہتی ہیں کہ خود کو ہمدردی کا مرکز بنانے سے بہتر ہے کہ انسان محنت کرے اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالے۔میں دیگر لوگوں کی طرح تمام مسائل کا مقابلہ کرکے محنت کررہی ہوں ۔مشکلات کس کی زندگی میں نہیں آتی سب کی زندگی میں آتی ہیں بس ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔میں اس وقت پاکستان فاونڈیشن فائٹنگ بلائنڈنس کے ساتھ پروگرام اسپیشلیسٹ کے طور پر کام کررہی ہوں اور ہمارا کام بنیائی سے محروم لوگوں کے لئے مختلف پراجیکٹس پر کام کرنا ہے۔جس میں آن لائن لائبری آڈیو ورلڈ اور آئی ٹی ریسرچ شامل ہے۔

عمارہ کہتی ہیں والدین کا رول بہت اہم ہے سب سے پہلے اپنے خصوصی بچوں کو پیار دیں ۔ان پر بھی انویسٹ کریں جیسے اپنے دیگر بچوں پر بھی کام کرتے ہیں۔خصوصی بچوں پر محنت کریں وہ کسی گناہ کا نتیجہ نہیں ہیں۔وہ فزیکلی چلینجڈ لیکن بلکل نارمل ہیں اللہ تعالی کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں۔سب ایسے بچوں کو تھوڑا زیادہ ٹائم اور زیادہ پیار کریں۔ان کے استاتذہ سے ملیں ان کے ساتھ مل بچوں کی زندگی آسان بنائیں۔ان کے مشاغل میں دلچسپی لیں اور ان کے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لئے والدین اور استاتذہ ان کا بھرپور ساتھ دیں۔اس طرح یہ بچے معاشرے کے کارآمد شہری بن جائیں گے۔

http://www.trt.net.tr/urdu/slslh-wr-prwgrm/2016/03/17/pkhstn-ddy-ry-11-452891

 

 

 

 

 

 

 

 

Posted in lifestyle, Pakistan, Uncategorized

ماں کا دودھ بچے کیلئےمکمل غذا

 

ماں کا دودھ بچے کیلئےمکمل غذا
Posted On Wednesday, August 19, 2015
….. جویریہ صدیق…..
پیدائش کے بعد سے چھ ماہ تک بچے کے لیے ماں کا دودھ مکمل غذا ہے،اس میں قدرتی طور وہ تمام اجزا شامل ہوتے ہیں جو بچے کی پرورش اور نگہداشت کے لیے ضروری ہیں۔جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں وہ مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں،ان میں قوت مدافعت بھی زیادہ ہوتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق ماں کا دودھ پینے والے بچے دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں،ان بچوں کا آئی کیو اور کارکردگی ’فارمولا ملک‘ پینے والے بچوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ماں کا دودھ بچے کو نمونیا، کھانسی نزلے، دست،قبض،پیٹ کہ بیماریوں اور بدہضمی کے خلاف قوت مدافعت دیتا ہے۔

بچے کی پیدائش کے بعد آدھے گھنٹے کے اندر بچے کو پہلی دودھ کی خوراک دیے دینی چاہئے،ابتدائی طور پرر زردی مائل دودھ نکلتا ہے اس کو کولسٹرم کہتے ہیں،جسے بالکل ضائع نہیں کرنا چاہیے،یہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اور بچے کے لئے بہت مفید ہے،شروع میں بچے کو دودھ پلانے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا،بچہ رو کر اپنی بھوک کا اظہار کرتا ہے اور ماں کو اس ہی وقت بچے کو دودھ پلانا چاہیے.لیکن چھ ماہ کے بعد یہ روٹین بدل جاتی ہے اور دودھ کے ساتھ بچے کو ہلکی غذا شروع کروادی جاتی ہے تو بچہ چوبیس گھنٹے میں صرف آٹھ سے دس بار دودھ پیتا ہے۔

ماں کے دودھ میں چکنائی وٹامن معدنیات اور کاربوہائیڈریٹس موجود ہیں،ماں اس بات کا خیال کرے کہ وہ اپنے آپ کو صاف رکھے اور غسل کا باقاعدگی سے اہتمام کرے،بچہ بار بار دودھ مانگتا ہے اس لیے ماں کو اپنی خوراک کا بھی خاص خیال رکھے.ماں کو چاہیے وہ پھل سبزیوں دودھ اور پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرے، کیونکہ بچہ اپنی تمام غذائیت ماں سے لیتا ہے۔

تمام مائوں کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ بچوں کو اپنا دودھ پلائیں ڈبے کا دودھ پینے والے بچے بار بار بدہضمی اور ڈائریا کا شکار ہوجاتے ہیں،کیونکہ تمام تر احتیاط کے باوجود پانی اور فیڈر کی وجہ سے جراثیم بچے کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں جو ان کو بیمار کرتے ہیں،اس کی نسبت ماں کا دودھ پینے والے بچے کم ہی انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں،دودھ پلانے والی ماں کا وزن بھی دوبارہ کم ہوجاتا ہے،اس کے ساتھ دوسرے بچے کی پیدائش میں قدرتی وقفہ بھی آجاتا ہے،دودھ پلانے والی خاتون میں چھاتی کے کینسر کا امکان بھی کم رہ جاتا ہے۔

ماں بچے کو دس سے پندرہ منٹ تک چھاتی کے ساتھ لگائے رکھے صحت مند بچے جلدی اور کمزور بچے آہستہ دودھ پیتے ہیں،ماں بچے کو لیٹ کر بھی اور بیٹھ کر بھی دودھ پلا سکتی ہے،بچے کو مکمل طور پر ماں کے قریب ہونا چاہیے۔ دودھ پلانے کے بعد بچے کو ڈکار دلائی جائے تاکہ پیٹ میں جانے والی ہوا باہر آجائے اور بچہ بے آرام نا ہو۔

بچے کو دو سال تک دودھ پلانا بہترین ہے لیکن چھٹے ماہ میں اسے ہلکی ٹھوس غذا بھی شروع کروادینی چاہیے،جس میں سوجی، ساگودانہ، کھچڑی، کھیر ،پھل پیس کر اور تازہ جوس وغیرہ شامل ہیں،لیکن شروع میں ٹھوس اجزاء بہت کم مقدار دیئے جائیں کیونکہ زیادہ دینے سے بچہ بیمار ہوسکتا ہے،آہستہ آہستہ ٹھوس غذا کو بڑھایا جائے بچہ خود ہی ماں کا دودھ پینا کم کردیتا ہے۔

اس دوران اگر دودھ پلانے والی ماں اپنی چھاتیوں میں تکلیف محسوس کرے تو فوری طور پر ڈاکٹر یا لیڈی ہیلتھ ورکرز کو معائنہ کروائے،دودھ پلانے والی ماں اپنے آپ کو صاف رکھے .آرام کرے اور اپنی غذائیت کا خیال رکھے،ہر سال آٹھ لاکھ سے زائد بچے اپنے پانچویں سالگرہ نہیں دیکھ پاتے،ان میں زیادہ تر بچے پیٹ کی بیماروں نمونیا ڈائریا کے باعث اپنی جان سے جاتے ہیں،ان بیماریوں کی بڑی وجہ گندا پانی اور فیڈر کے ذریعے سے جانے والے جراثیم ہیں،ماں کے دودھ سے آٹھ لاکھ میں سے ایک چوتھائی بچوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بچے کو چھ ماہ تو ماں کا دودھ لازمی طور پر پلایا جائے،تاہم پاکستان میں بوتل سے دودھ پلانے کا رواج زیادہ ہے اور بریسٹ فیڈنگ کم ہے،اس کو فیشن کہیں رواج یا گھر والوں کا عدم تعاون کہ بہت سی خواتین بچوں کو فیڈر لگا دیتی ہیں۔

2002 میں بریسٹ فیڈنگ اور چائلڈ نیوٹریشن آرڈیننس پاس کیا گیا ہے لیکن اس پر عملدرآمد نظر نہیں آتا،نا ہی خواتین کو اس کی افادیت کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے نا ہی انہیں ایسا ماحول دیا جاتا ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلاسکیں،ملازمت پیشہ خواتین کوایسی کوئی سہولت نہیں دی جاتی کہ وہ اپنا شیر خوار بچہ دوران ملازمت ساتھ رکھ سکیں،اس وجہ سے مائیں اپنے بچوں کو فارمولا ملک اور فوڈ شروع کروادیتی ہیں۔

اگر ہم صحت مند ماں اور صحت بچے کی بنیاد پر معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس قدرتی نظام کو عام کرنے کے لیے بات کرنا ہوگی،بچے اگر اپنی ماں کا دودھ پئیں گے تو وہ صحت مند ہوں گے اور خود ماں بھی متعدد بیماروں سے محفوظ رہے گی،اس لیے خواتین کو دوران ملازمت ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ وہ اپنے شیرخوار بچوں کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
twitter @javerias