Posted in Uncategorized

Street Children in Pakistan.

FB_IMG_1492001312096

اسٹریٹ چلڈرن یا گلی کوچوں میں بچوں کی دو اقسام ہیں ۔
1)گلی کوچوں کے بچے
یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کا گھر ہوتا ہے لیکن یہ گلیوں میں پھر کر پیسے کماتے ہیں ۔
2)‏گلی کوچوں میں بچے
یہ وہ بچے ہیں جن کا گھر بار نہیں ہوتا یا وہ خاندان سے نکالے جاتے ہیں وہ گلیوں کو ہی اپنا گھر سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں 2۔1 سے 5۔1 ملین بچے گلی کوچوں میں رہتے ہیں ۔یہ بچے زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔یہ بچے اکثر جنسی زیادتی کا بھی شکار ہوجاتے ہیں ۔حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لئے دعوے تو بہت کرتی ہے لیکن عملی طور پر اس کا فقدان نظر آتا ہے۔

حکومت،این جی اوز،مخیر حضرات سب مل کر ہی بچوں کوانکا بچپن لوٹا سکتے ہیں کسی بھی انسان کے لیے سب سے خوبصورت دور اس کا بچپن ہوتا ہے اس لیے ہمیں اپنے اردگرد بہت سے انسانوں کے اس خوبصورت دور کو بد صورت ہونے سے روکنا ہے۔بچوں پر ظلم و زیادتی،بچوں کو غلام بنانا،بچوں سے بد فعلی،جسمانی سزایں،جسم فروشی اور دہشت گردی میں بچوں کا استعمال ان کی آنے والی زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے اور بہت سے بچے اس باعث اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اس لیے ہم سب کو مل کر ان کے لیے کام کرنا ہوگا ۔صرف حکومت کا اقدامات سے ہم ان مسایل کو قابو نہیں  کرسکتے ابھی اٹھیں اپنے گھر دفتر یا دوکان میں کام کرتے ہویے بچے کا ہاتھ نرمی سےروک کر اس میں کتاب پکڑا دیں

The number of street children in Pakistan is estimated to be between 1.2 million and 1.5 million.FB_IMG_1492001279973

FB_IMG_1492001342927

Advertisements
Posted in Uncategorized

ننھی پاکستانی کا سفاک قتل

20170409_203149

جویریہ صدیق 

مجھے نہیں معلوم اس ننھی بے نام بچی کا قصور کیا تھا لیکن وہ ہرگز گناہگار نہیں تھی ۔ وہ تو معصوم تھی جینے کا حق رکھتی تھی لیکن یہ حق اس سے چھین لیا گیا ۔وہ جس وقت اپنی ماں کے وجود کا حصہ بنی تو وہ عورت اس خوشخبری سے خوش نہیں تھی کیونکہ وہ اس بچی کے باپ کی بیوی نہیں تھی ۔ دونوں لڑتے رہے ہوں گے اسکو مارنے کے منصوبے بناتے رہے ہوں گے ۔ وہ بچی اندر ہی اندر کتنی خوفزدہ ہوتی ہوگی کہ کس بھی وقت اس کے سفاک ماں باپ اس سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے۔ڈاکٹر کے پاس بھی گئے ہوں گے تو کسی فرشتہ صفت ڈاکٹر نے قتل کرنے سے انکار کردیا ہوگا اور اس بچی کے ماں باپ کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا ہوگیا ۔وقتی طور پر تو وہ دونوں خاموش ہوگئے ہوں گے لیکن پھر ایک بار بچی کو مارنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے گئے ہوں کبھی ادویات ، کبھی دیسی ٹوٹکے کبھی دائیوں کے پاس تو کبھی حکیموں یا چھوٹے کلینکس پرپاس گئے ہوں ۔یہ سب حربے جب آزمائے گئے ہوں گے تو ننھی منی پر کتنا تکلیف دہ اثر پڑتا ہوگا  ۔ماں کے رحم میں وہ اکثر یہ سوچتی ہوگی کہ میں نے ایسا کون سے گناہ کردیا ہے جس کی وجہ سے میری ماں مجھے سے اتنی نفرت کرتی ہے اور مجھے مارنا چاہتی ہے ۔وقت گزرتا گیا تمام تر مارنے کی کوششوں کے باوجود وہ زندہ بچ گئ اور اسکی پیدائش ہوئی ۔وہ بہت صحت مند اور خوبصورت تھی ۔ گہرے کالے بال،  سانولی رنگت اور بڑی بڑی آنکھوں میں بہت سے خواب تھے۔وہ زور زور سے ہاتھ پاوں ہلارہی ہوگی ۔اپنی ماں کو پکار رہی ہوگی مجھے سینے سے لگا لو۔

پر ظالم ماں نے دیکھنا بھی پسند نہیں کیا کیونکہ اس کے سفاک باپ نے جو اسکو اپنایا نہیں ۔پھر اسکو ایک رازدار شخص کے حوالے کردیا گیا یا وہ ماں باپ میں سے خود کوئی ایک تھا جوکہ اس کو گلستان جوہر کراچی میں پھینک گیا۔پھینکنے سے پہلے اس پر تشدد کیا گیا اس کی ہڈیاں تک توڑ دی گئ۔ننھی بہت بلک بلک کر روئی ہوگی دودھ مانگتی رہی ہوگی، ماں کی گرم آغوش مانگ رہی ہوگی، باپ کی شفقت کے لئے تڑپتی ہوگی لیکن اسکو ویرانے میں مرنے کے لیے پھینک دیا گیا ۔
ننھی کا دل ضرور ضرور سے دھڑک رہا ہوگا کہ یہ کیا ہوا ماں کی کوکھ اور یہ زمیں و آسمان دونوں میرے لئے تنگ کیوں کردئے گئے ۔بہت روئی ہوگی مدد کے لئے پکارتی رہی ہوگی لیکن کوئی انسان نہیں آیا ۔وہ تین گھنٹے کی ننھی پاکستانی بے لباس کچرے میں پڑی رہی فرش سے عرش کانپ گیا انسانیت شرما گی لیکن انسانوں کو شرم نہیں آئی ۔
 بہت سارے کتے اس کے گرد جمع ہوگئے ۔اسکو سمجھ نہیں آرہا ہوگا انسان زیادہ خطرناک ہیں یا یہ کتے ۔اسکو کتے  نوچتے گئے۔وہ صرف تین گھنٹے کی تھی کتنی مزاحمت کرتی سانس اکھڑنے لگی کہ اچانک ایک فرشتہ صفت انسان منہاس احمد نے اسکو ان کتوں کی چنگل سے آزاد کروایا ۔یہ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری محبت بھرا لمس تھا جوکہ اس نے محسوس کیا ہوگا۔منہاس احمد ننھی کے لئے فکر مند تھا اس نے ننھی پاکستانی کو وقت ضائع کئے بنا چھیپا ویلفیئر ٹرسٹ کے حوالے کیا اور وہ اسے لےکر ہسپتال پہنچے۔ڈاکٹر ابراہیم بخاری نے اس معصوم کے زخم صاف کئے نرم بستر پر لٹایا اس کی جان بچانے کی پوری کوشش کی ۔ننھی پاکستانی بہت بہادر تھی موت سے بہت دیر لڑتی رہی لیکن ہوس زدہ معاشرے کے انسانوں نے اس کی روح اور کتوں نے اس کے گوشت اور ہڈیوں کو بھنبھوڑ کررکھ دیا تھا ۔اس کی سانس اکھڑنے لگی اور زندگی کے بارہویں گھنٹے میں وہ دم توڑ گئ۔
 یہ ہمارے معاشرے کی حقیقت ہے یہ پاکستان کی حقیقت ہے۔۔ ایک ماں یا باپ بچی کو ویرانے میں کیوں پھینک گئے تھے اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ بچی بغیر نکاح کے پیدا ہوئی ہوگی ۔یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے کیا واقعی ہی اس ریاست میں لوگوں کو مذہب اور قوانین سے کوئی سروکار نہیں ۔کیا لوگ واقعی ہی یہاں یہ نہیں جانتے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔بنا نکاح کے ازدواجی تعلقات رکھنے میں لوگوں کو اخلاقیات اور مذہبی قوانین نہیں یاد آتے ۔لیکن ان ہی ناجائز تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والا معصوم بچہ سب کو ناجائز گناہ گار لگنے لگتا ہے۔
کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کیا معلوم کہ ماں باپ نے غربت کی وجہ سے ایسا کیا ہو یا انہیں بیٹیوں سے نفرت ہو ۔نہیں اگر اس معصوم کے سفاک ماں باپ کے دل میں چور نا ہوتا تو وہ بچہ ایدھی ہوم کے جھولے میں ڈال آتے ۔پاکستان کے تمام ایدھی ہومز میں جھولے موجود ہیں جن پر یہ لکھا ہے بچے قتل نا کریں ہمارے جھولے میں ڈال دیں ۔لیکن ایسا نہیں ہوا اور ننھی پاکستانی کو ویرانے میں موت کے حوالے کردیا گیا ۔
 ننھی پاکستانی کا سفاک قتل پورے معاشرے کے منہ پر طمانچہ جوکہ کبھی تعلیم تو کبھی کرئیر تو کبھی فرسودہ رسومات کی وجہ سے نکاح میں تاخیر ڈالتا ہے۔لوگ شادی کرنے کو مشکل اور افیر چلانے کو آسان سمجھنے لگے ہیں ۔اس کے ذمہ دار والدین معاشرہ اور حکومت سب ہی ہیں ۔
متوسط طبقے کی کہ بیٹیاں جہیز نا ہونے کی وجہ سے بیٹھی رہی جاتی ہیں ۔تو کسی ماں باپ کو نوجوان اولاد کے صرف کیرئیر کی فکر ہے ان کی فطری تقاضوں سے جان بوجھ کی نظر چرائی جاتی ہے ۔یوں ناجائز تعلقات جنم لیتے ہیں اور ماں باپ کو پتہ چلنے تک بات ہاتھ سے نکل گئی ہوتی ہے۔یوں بہت سے معصوم پھول بنا کھلے مرجھا جاتے ہیں تو معاشرے سے سوال کرتے ہیں کہ نکاح کو کیوں نہیں آسان بنا دیتے ۔ہیش ٹیگ ویڈنگز کے دور میں یہ ممکن نظر نہیں آرہا اگر اس ہی طرح شادی کے نام پر پندرہ بیس دن کی تقریبات ہوتی رہیں ۔جہیز پر پابندی نہیں لگی۔اٹھارہ سے بیس سال کی عمر میں نکاح کو عام نہیں کیا گیا تو اور ننھے  بے قصور پاکستانی اس ہی طرح قتل ہوتے رہیں گے۔اس ننھی پاکستانی کا قتل پورے معاشرے پر ہے اور قیامت کے دن ہم سب کو جواب دینا ہوگا ۔جہاں معاشرے میں ننھی پاکستانی کے والدین جیسے  لوگ بھی موجود ہیں وہاں دوسری طرف رمضان چھیپا، منہاس احمد اور ڈاکٹر ابراہیم بخاری جیسے نیک دل اور اعلی اوصاف کے لوگ بھی جن کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں انسانیت زندہ ہے ۔ان تینوں کو سلام ۔
جویریہ صدیق صحافی مصنفہ اور فوٹوگرافر ہیں اور ان کا ٹویٹر اکاونٹ @javerias ہے 
Posted in health, Pakistan, Uncategorized

ہیٹ اسٹروک تشخص علاج اور احتیاطی تدابیر

download (7)

 

 

 

 

جویریہ صدیق : اسلام آباد

Twitter  @javerias
پاکستان میں  گرمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سن اور ہیٹ اسٹروک  کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔2015کراچی میں  گرمی کی لہر کے باعث دو سو سے زائد افراد سن اسٹروک کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔اس لئے گرمی کے موسم میں کچھ احتیاطی تدابیر کرنا بہت ضروری ہے۔ سن اسٹروک سورج کی شعائوں اور گرمی کے باعث ہوتا ہے۔اس کی ابتدائی علامتوں میں سر میں اچانک سخت درد،بخار ہوجانا،آنکھوں کے آگے اندھیرا آنا،قے آنا ،سانس لینے میں دشواری اور پسینہ نا آنا شامل ہے۔اگر کسی بھی شخص میں یہ علامتیں دیکھیں تو اسکو فوری طور پر ٹھنڈی جگہ یا سایہ دار جگہ پر منتقل کریں۔متاثرہ شخص کے کپڑے کم کردیں۔جوتے اتار دیں۔ٹھنڈا پانی دیں مریض کے ماتھے سر گردن ہاتھوں پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں۔اگر طبیعت میں بہتری آئے تو متاثرہ شخص کو نہانے کا کہیں۔لیکن اگر طبیعت میں بہتری نا آئے تو فوری طور پر اسپتال کا رخ کریں۔

اللہ تعالی نے قدرتی طور پر انسان کے جسم میں درجہ حرارت کو کنڑول کرنے کا نظام بنا رکھ ہے۔انسان جلد کے مساموں سے پانی خارج کرتا ہے اور گرمی میں یہ اخراج زیادہ ہوجاتا ہے اگر ہم پانی نا پئیں اور زیادہ وقت گرمی میں رہیں تو اس نظام میں بگاڑ آجاتا ہے اور انسان ہیٹ یا سن اسٹروک کا شکار ہوجاتا ہے۔ہیٹ اور سن اسٹروک میں معمولی سا فرق ہے سورج کی شعاعوں سے براہ راست متاثر ہونے والا شخص سن اسٹروک کا شکار ہوتا ہے اور گرم جگہ پر کام کرنے والا یا بنا بجلی کے گرمی میں کام کرنے والا شخص ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوتا ہے۔اس کا زیادہ شکار وہ ہی لوگ ہوتے ہیں جو گرمی میں سر ڈھانپ کر نا نکلیں جنہوں نے مناسب پانی کی مقدار نا پی رکھی ہو یا وہ گرم جگہ پر کام کرتے ہوں ۔اس کے ساتھ ساتھ شراب نوشی کرنے والے افراد اور وہ لوگ جنہوں نے موسم کے حساب سے کپڑے نا پہنے ہوں وہ بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

سن اسٹروک کسی بھی عمر کے افراد کو ہوسکتا ہے بہت زیادہ گرمی میں کام کرنا سخت ورزش کرنا دھوپ میں کسی کھیل کا حصہ بننا،بجلی کا نا ہونا،پانی کا دستیاب نا ہونا اور ہوا میں نمی کے تناسب میں کمی کے باعث یہ کسی بھی عمر کے بچے عورت یا مرد کو ہوسکتا ہے۔اگر اس کے علاج پر فوری طور پر توجہ نا دی جائے تو بعض اوقات انسان کومہ میں چلا جاتا ہے جو کہ اسکی موت کا باعث بن جاتا ہے۔

پمزاسپتال کے میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر سلمان شفیع کے مطابق زیادہ گرمی میں کام یا سفر ہیٹ اسٹروک کا باعث بنتا ہے اگر کوئی شخص بہت دیر دھوپ میں کام کرنے کے بعد بے ربط گفتگو کرنے لگے یا بہت پانی پینے کے باوجود اس کو پیشاب کی حاجت نا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کے جسم کا درجہ حرارت بگڑ چکا ہے۔اس کے ساتھ اگر کوئی شخص دھوپ میں بے ہوش ہوجائے اس کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔جب ہمارے پاس گرمی سے متاثر کوئی مریض آتا ہے تو ہم اس بہت سے فلوئیڈ لگاتے ہیں خاص طور پر ڈرپ بھی ٹھنڈی ہوتی ہے۔تاہم اگر کوئی مریض بے ہوشی کی حالت میں آئے تو سب سے پہلے ہم اسکے سانس کی بحالی پر توجہ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیمان کے مطابق رمضان المبارک گرمیوں میں آئیں گے تو روزہ دار کوشش کریں کہ وہ پانی کا تناسب سحری میں اور افطاری میں نارمل رکھیں ۔ہلکی پھلکی غذائیں لیں، مرغن کھانوں سے پرہیز کریں۔ہلکے رنگ کے کپڑے استعمال کریں سفید رنگ موزوں ترین ہے۔اپنے کام صبح یا عصر کے بعد انجام دیں۔تاہم دفتری فرائض کی ادائیگی کے لیے اگر دھوپ میں جانا ناگزیر ہو تو ٹوپی کپڑا یا چھتری کا استعمال کریں۔اپنے ساتھ پانی کی بوتل رکھیں گرمی لگے توکپڑے کو گیلا کرکے بھی سر گردن پر رکھ سکتے ہیں۔ان کے مطابق اگر کوئی شخص اچانک ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوجائے تو اسکو گیلا کرکے پنکھے یا اے اسی میں لے جائیں ۔اگر بجلی نا ہو تو ٹب میں پانی تھوڑی برف ڈال کر مریض کو گردن تک لٹا دیا جائے۔اگر لوڈشیڈنگ یا پانی کی کمی کے باعث یہ بھی ممکن نا ہو تو مریض کو ٹھنڈی پٹیاں کی جائیں اور اسکو ٹھنڈا پانی پلایا جائے۔ہیٹ یا سن اسٹروک سے اس ہی طرح بچا جاسکتا ہے کہ عین دوپہر میں دھوپ میں نکلنے سے پرہیز کیا جائے اور اگر نکلنا ناگزیر ہے تو پھر سر گردن چہرے کو ڈھانپ لیا جائے۔

جیسے ہی گرمیوں میں یہ محسوس ہو کہ جسم کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جسم گرم ہو جائے لیکن پسینہ نا آرہا ہو طبیعت بوجھل محسوس ہو سر میں سخت درد شروع ہوجائے یا دل کی دھڑکن تبدیل ہوجائے تو سمجھ جائیں کہ آپ سن اسٹروک کا شکار ہوگئے ہیں۔فوری طور پر ٹھنڈا پانی پئیں لیٹ جائیں ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کریں اگر طبیعت میں سدھار نا آئے تو فوری تو پر ڈاکٹر کو دکھائیں کیونکہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔گرمی میں پانی زیادہ سے زیادہ پئیں، ڈبے کے جوس اور فریزی ڈرنکس سے مکمل پرہیز کریں۔ گرمی میں شاپنگ سے پرہیز کریں اگر جانا ہو تو گاڑی کسی سائے دار جگہ پر پارک کریں اور گاڑی میں ہرگز بچوں کو نا چھوڑیں۔کیونکہ گرمی میں گاڑی کا درجہ حررات فوری طور پر بڑھ جاتا ہے۔احتیاط کریں کیونکہ سن اسٹروک کے باعث دماغ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Posted in Uncategorized

…ساشا مگسی بلوچستان کی ہونہار بیٹی

اسلام آباد….جویریہ صدیق….ساشا مگسی بلوچستان کی ہونہار بیٹی، جس نے کبھی بھی مشکلات سے گھبرا کر ترقی کا سفرنہیں روکا ۔ساشا پیدائشی طور پر چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔والدین اور ڈاکٹرز کی تمام تر کوششیں ساشا کو تندرست نہیں کرپائیں۔ساشا نے اس کمی کو اللہ کی رضا جانتے ہوئے کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا۔

انتیس سالہ ساشا مگسی کوئٹہ میں پیدا ہوئیں اور اپنی ابتدائی تعلیم بیکن ہاوس میں حاصل کی۔بہترین طالب علم اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا شوق ساشا کو دیگر طالب علموں میں ممتاز کرگیا۔ہر وقت دوستوں کے جھرمٹ اور استاتذہ کی شفقت میں ساشا نے بہترین وقت اسکول میں گزرا۔

ساشا کہتی ہیں کہ میرے والدین میرے لئے بہت بڑی سپورٹ ہیں، انہوں نے کبھی بھی میرے اعتماد میں کمی نہیں ہونے دی۔بچپن سے ہی وہ مجھے ہر جگہ لے کرجاتے اس لئے مجھے کبھی بھی سوشلائیز کرتے ہوئے پریشانی نہیں ہوئی۔‘‘

’’میں جب اسکول میں داخل ہوئی تو استاتذہ اور طالب علموں کا رویہ مجھ سے بہترین رہا۔میں نے ہمیشہ بہت سہیلیاں بنائیں جس کے باعث میرا تعلیمی دور شاندار طریقے سے گزرا۔ہائی اسکول کے بعد جب کالج کی باری آئی تو میں نے جناح ٹاؤن کالج کا انتخاب کیا اور بی ایس سی کمپیوٹر سائنس میں کیا۔ڈگری مکمل کرنے کے بعد ہی مجھے بینک میں جاب مل گئ اور میں گزشتہ سات برس سےایک بینک میں بطور کسٹمر سروس آفیسر آپریشن جاب کررہی ہوں۔‘

ساشا کہتی ہیں کہ بینک میں مجھے ہمیشہ میرے سینئرز اور کولیگز کا تعاون ملتا رہا ہے۔ بینک آنے والے کسٹمرز بھی ہمیشہ بہت خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔کچھ تو مجھے ویل چیئر پر ہونے کے باوجود کام کرتا دیکھ کر داد و تحسین سے نوازتے ہیں۔

ساشا مزید کہتی ہیں اگر والدین اور فیملی کا بھرپور تعاون ساتھ ہو تو کچھ کرکے دکھانا ناممکن نہیں ۔میں آج جو بھی ہوں اپنے والدین کی محنت اور دعاوں کے نتیجے میں ہوں۔

ساشا کہتی ہیں کہفارغ اوقات میں مجھے کتابیں پڑھنا پسند ہے کبھی ٹائم ہو تو کوکنگ بھی کرتی ہوں،خریداری کا بھی شوق ہے۔چھٹی کے روز اکثر والدین اور بھائی کے ساتھ سیر و تفریح کے لئے جاتی ہوں۔

ساشا کہتی ہیں ہماری معاشرے میں خصوصی افراد کو زیادہ توجہ اور تعاون کی ضرورت ہے۔کسی بھی شخص کا اچھا رویہ اور تعاون خصوصی افراد کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ان کی تعلیم پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔

ساشا مگسی کی والدہ کہتی ہیں کہ ساشا پیدائشی طور پر چلنے سے قاصر ہیں میں نے اور ان کے والد نے بہت علاج کروایا لیکن ڈاکٹرز نے ہمیں بتایا کہ اس کا علاج ممکن نہیں۔اس موقع پر میرے والدین اور شوہر نے میرا بہت ساتھ دیا۔ان کی مدد سے میں نے اپنی بیٹی کی دیکھ بھال شروع کی۔

میں نے کبھی ساشا کو اسپیشل بچوں کے تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھایا۔ میں نے ان کی تعلیم عام اداروں سےمکمل کروائی۔میں نے اور ساشا کے والد نےساشا کو ہر تقریب میں اپنے ساتھ رکھا جس کے باعث اس میں مزید اعتماد آیا۔

کسی بھی خصوصی بچے کو کمرے میں بند کردینا مسئلے کا حل نہیں ایسے بچوں کو مزید توجہ اور پیار سے ہم کارآمد شہری بناسکتےہیں۔میں نے خود ساشا کو پڑھایا بہترین تعلیم دلوائی اور آج ماشاء اللہ سے وہ بینک میں ایک اچھی پوسٹ پر کام کررہی ہے۔Screenshot_20170318-205301

Posted in Javeria Siddique, Pakistan, Uncategorized

راج دلارا

راج دلارا

جویریہ صدیق

o-father-son24-facebook

بس میری شروع سے خواہش تھی کہ پہلا تو بیٹا ہی ہونا چاہیے ۔بات یہ نہیں تھی کہ مجھے بیٹوں سے نفرت تھی ۔لیکن نسل چلانے کے لئے بھی کوئی ہونا چاہیے ۔رقیہ جب امید سے تھی تو میں نے صاف کہہ دیا مجھے تو پہلا بیٹا چاہیے وہ چپ کرکے میری بات سنتی رہی ۔ویسے بھی ہمارے معاشرے میں مرد صرف بولنے اور عورت صرف سننے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔میں تو خوشی سے نہال تھا جیسے جیسے دن قریب آرہے تھے۔اتوار بازار سے کتنے ہی کھلونے لئے آیا نیلے کالے سفید رنگ کے کپڑے بھی ۔گھر جاتے وقت کبھی دودھ ربڑی لئے جاتا تو کبھی چکن کڑاہی نان۔رقیہ بھی اپنے نصیب پر نازاں تھی کہ مجھ جیسا اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا ۔آخر وہ گھڑی آن پہنچی میں دائی نسرین کو لئے آیا اور خود بے صبری سے باہر انتظار کرنے لگا۔رقیہ کا چیخیں مجھے بے چین کررہی تھیں ۔میں بھاگ کر گلی کی نکڑ والی مسجد میں چلا گیا اور رونے لگا مولوی صاحب مجھے آکر تسلی دینے لگے ۔دل کا بوجھ ہلکا کرکے میں گھر لوٹا تو رقیہ درد سے اب بھی چلا رہی تھی۔میں نے دائی سے پوچھا خطرے کی کوئی بات نہیں انہوں نے کہا کچھ نہیں ہوتا تم فکر نا کروشوکت ۔

کچھ دیر میں رقیہ کی آواز خاموش ہوئی اور بچے کی رونے کی آواز آنے لگی۔میں تو خوشی سے نہال ہوگیا ۔میرا راج دلارا جو آگیا تھا ۔دائی میرے سامنے کپڑے میں لپیٹ کر لائی اور مجھے مبارک دی مبارک ہو راج دلاری آئی ہے مبارک ہو شوکت تیرے گھر اللہ کی رحمت آئی ہے۔

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے مجھے بیٹا چاہئے تھا یہ منحوس بیٹی کہاں سے پیدا ہوگئ۔مجھے بیٹا چاہیے تھا ۔دائی کو دل پر پتھر رکھ کر پیسے اور تحائف کے ساتھ رخصت کیا۔اندر گیا تو رقیہ میری منتظر تھی میں نے کپڑے دھونے والا ڈنڈا اٹھایا اسکو کو مارنا شروع کردیا ۔وہ تو شاید میری طرف شفقت محبت کی طالب گار تھی۔وہ حیران ہی رہ گئ ۔میرا دل کررہا تھا اس منحوس اور اسکی پیدا کی ہوئی لڑکی کا گلا دبا دوں ۔میرے ماں بیچ میں آگیی اس نے میری بیوی کو مار سے بچایا۔

میرا غصہ پھر بھی کم نہیں ہوا میں نے صحن میں لگے تندور میں کپڑے اور کھلونے جلا دیے ۔میری اماں بہت منع کرتی رہی بس نفرت غصے کی آگ میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا

مسجد میں مولوی صاحب نے مجھے بہت سمجھایا بیٹی اللہ کی رحمت ہے ۔بیٹوں کی احسن طریقے سے پرورش کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے ۔اس کے بعد میں خاموش ہوگیا اور سمجھوتہ کرلیا۔گھر کا ماحول بلکل بدل گیا ۔رقیہ جہاں ہنسا بولا کرتی تھی اب کسی مشین کی ماند کام کرتی رہتی تھی۔بیٹی کو مجھ سے دور رکھتی اور رات کو اس کو اماں کی کمرے سلاتی ۔

رقیہ اور میری اماں نے اس کا نام مریم رکھا ۔مریم دو سال کی ہوئی ۔تو ہمارے گھر میں پھر ننھے مہمان کی آمد

کی نوید ہوئی ۔میں نے ہر وقت دعا شروع کردی ۔اس بار بیٹا ہو۔میں رقیہ کے بہت ناز اٹھاتا وہ بہت سہمی ہوئی رہتی تھی۔شاید ایسے یقین نہیں تھا کہ اس بار بیٹا ہو۔

اس بار بھی وہ ہوا ایک اور بیٹی پیدا ہوئی۔میں نے رقیہ مریم دونوں کو بہت مارا ۔ڈھائی سال کی مریم روتی رہی ۔ہمیں نا مارو۔ہمیں نا مارو ۔پر میرے اندر کا شیطان کا روکنے کو نہیں آرہا تھا۔میری ماں نے مجھے بہت مشکل سے روکا ۔میں پورے ایک ہفتے گھر سے غائب رہا ۔مجھے رقیہ اور اسکی پیدا کی ہوئی بیٹوں سے نفرت ہورہی تھی۔

میرے رشتہ دار مجھے سمجھا کر واپس گھر لئے آئے۔اماں نے بیٹی کا نام زینب رکھا ۔گھر میں شیرینی بنا کر محلے میں بانٹ دی۔

مجھے سب چیزوں سے نفرت ہوتی جارہی تھی۔جب دایی نسرین نے بتایا رقیہ ایک پھر پیٹ سے ہے ۔میں نے سوچا میں گاوں سے لاہور چلا جاو۔وہاں سے کما کر بھیجتا رہوں کم از مجھے ان عورتوں کا منہ نہیں دیکھنا پڑے گا۔

ٹھیک سات ماہ بعد ماں نے مجھے خط بھیجا کہ میرے گھر بیٹا ہوا۔مجھے لگا کسی نے مذاق کیا۔رفیق کی دوکان فون کیا اور پوچھا کیا واقعی ہی ایسا ہے گھر سے پتہ کرے۔تھوڑی میں رفیق کا ٹیلی فون آیا دوسری طرف ماں کی ہانپتی ہوئی آواز آئی مبارک  ہوتیرا بیٹا ہوا ہےچل واپس آ اسکا نام رکھ عقیقہ کر۔میں نے لاہور میں کام ختم کیا۔بچے کے لئے بہت سارے کھلونے کپڑے سونے کی ایک انگوٹھی خریدی ۔

گھر آیا تو اماں رقیہ اور بیٹیاں مجھے دیکھ کر بہت خوشی ہوئیں ۔بیٹیاں میری طرف دیوانہ وار لپکی میں نے جھٹکے سے پیچھا کیا دفع ہو جاو اپنی منحوس شکلیں مجھے نا دیکھاو۔وہ ڈر کر چھپ گئ۔

میں نے اپنے بیٹا کو گود میں لیا اور وہ ناچا کہ وہ پیسے وارے ۔اس کے عقیقے میں 4 بکرے کٹوائے وہ دعوت چلی کہ پورے گاوں نے نہیں دیکھی تھی ۔

بیٹے کا نام شان شوکت رکھا وقت گزرتا گیا میں نے ہر موقع پر بیٹوں کو ہر موقعے پر دھتکارا اور بیٹے کو آگے آگے رکھا۔گھر میں گوشت صرف میرے اور شان کے لئے پکتا رقیہ زینب مریم دال کھاتی۔شان خود سر ہوتا رہا میں اس کی جوانی کو دیکھ کر اتراتا ۔بیٹوں کو تو مڈل کے بعد میں نے سکول نہیں جانے دیا ۔گھر میں سلائی کڑھائی میں لگا دیا۔شان کو پڑھنے لاہور بھیج دیا ۔

اس کی کمپیوٹر میں ڈگری مکمل ہوئی جاب بھی لگ گی مجھے لگا دن پھیرنے کو ہیں اب میں بھی گھر پر آرام کروں گا ۔پر شان ڈگری کے ساتھ بہو بھی لئے آیا مجھے بہت غصہ آیا اس نے میرے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ۔میں نے سوچا کوئی بات نہیں جوان خون ہے بہک گیا ۔شادی ہی کی ہے کوئی گناہ تو نہیں ۔میں نے دھوم دھام سے ولیمہ کیا لوگوں نے بہت باتیں کی لیکن میں پرواہ نہیں کہ بیٹیاں ابھی بیٹھی ہیں اور میں نے بیٹے کی شادی پہلے کردی۔

شان نے جب کہا کہ وہ اب گاؤں نہیں رہے گا اور لاہور میں رہے گا ۔تو میرا دل ٹوٹ سے سا گیا ۔چند دن میں وہ واپس چلا گیا ۔

میں رقیہ کو لے کر لاہور بھی گیا پر وہ اتنی گرمجوشی سے نہیں ملا ۔اس کی بیوی نے بھی ہماری خاص عزت نہیں کی مجھے بہت افسوس ہوا ایسا لگا دل میں کچھ چبھ سا گیا ہے ۔

گاؤں آتے ہی فالج نے مجھے آن لیا۔رقیہ نے لاہور بہت فون کیے لیکن نوکروں نے بتایا شان صاحب اپنی بیگ

کے ساتھ دبی گئے ہوئے ہیں ۔میں تڑپ رہا تھا اور میرا راج دلارا میرے پاس نہیں تھا ۔مریم اور زینب ڈرتے ڈرتے میری تیمار داری کرتیں ۔مجھے دوائی دینا میری مالش کرنا میرے منہ میں نرم غذا ڈالنا۔یہ دونوں وہ ہی تھیں جن کو میں نے منحوس چڑیلیں کہا تھا ۔جن کے پیدا ہونے پر میں انہیں مارنا چاہا تھا ۔میری وہ بیوی جس کو میں ڈنڈے سے مارا کرتا تھا خود میرا لباس تبدیل کرواتی مجھے صاف کرتی۔میں ندامت سے گڑ جاتا ۔

ایک مہینے بعد جب شان لوٹا تو مجھے فون کرکے خیریت دریافت کی اور تب بھی ملنے نہیں آیا ۔میرے راج دلارے کے پاس میرے لئے وقت نہیں تھا۔میں جس کو ہمیشہ پیار دیا لاڈ دیا وہ تو نہیں آیا۔پر اللہ کی رحمت میری بیٹوں نےمیرے تمام زخموں کو بھر دیا۔میں نے ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگی وہ رونے لگیں اور میرے گلے لگ گئ

Javeria Siddique is a Journalist , Author and Photographer

Twitter @javerias

https://www.facebook.com/OfficialJaverias/

575d63910d6a9

Posted in Uncategorized

بابو کی ماں

javeriasiddique

575d63910d6a9

جویریہ صدیق 

ماں نے مجھے ہمیشہ بہت پیار دیا اکلوتا جو تھا ۔ہر وقت میرے ناز نخرے اٹھانے میں مصروف رہتی یہاں تک کہ میرے ابا بھی کہہ اٹھتے کہ جب سے یہ آیا ہے صفیہ تم تو مجھے بھول ہی گئ۔ابا کی چھوٹی سی کریانے کی دوکان تھی ۔اچھا گزر بسر تھا ماں کو مجھے بابو بنانے کا بہت شوق تھا ابا کے لئے جب وہ گرم گرم پراٹھے اتراتی تو دوسری طرف میرے لئے بریڈ مکھن کے ساتھ سینک دیتی ۔اسکول کی بریک میں اسٹرابری جیم والی بریڈ  اور  گرم ماگرم چپس بنا کر لاتی اس کا تو دل کرتا مجھے سکول میں بھی نوالے خود بنا کر دیتی لیکن اس کی اجازت نہیں تھی صرف ٹفن دیے جاتی۔جب سردیاں ہوتی تو دودھ میں چاکلیٹ ڈال کر مجھے دیتی ، بہت سارے میوے صرف میرے لئے خرید کر رکھتی ۔ابا مذاق اڑاتے کیا دیسی کو ولایتی بنانے چلی…

View original post 1,580 more words

Posted in mother, Pakistan, Uncategorized, ماں, جویریہ صدیق

بابو کی ماں

575d63910d6a9

جویریہ صدیق 

ماں نے مجھے ہمیشہ بہت پیار دیا اکلوتا جو تھا ۔ہر وقت میرے ناز نخرے اٹھانے میں مصروف رہتی یہاں تک کہ میرے ابا بھی کہہ اٹھتے کہ جب سے یہ آیا ہے صفیہ تم تو مجھے بھول ہی گئ۔ابا کی چھوٹی سی کریانے کی دوکان تھی ۔اچھا گزر بسر تھا ماں کو مجھے بابو بنانے کا بہت شوق تھا ابا کے لئے جب وہ گرم گرم پراٹھے اتراتی تو دوسری طرف میرے لئے بریڈ مکھن کے ساتھ سینک دیتی ۔اسکول کی بریک میں اسٹرابری جیم والی بریڈ  اور  گرم ماگرم چپس بنا کر لاتی اس کا تو دل کرتا مجھے سکول میں بھی نوالے خود بنا کر دیتی لیکن اس کی اجازت نہیں تھی صرف ٹفن دیے جاتی۔جب سردیاں ہوتی تو دودھ میں چاکلیٹ ڈال کر مجھے دیتی ، بہت سارے میوے صرف میرے لئے خرید کر رکھتی ۔ابا مذاق اڑاتے کیا دیسی کو ولایتی بنانے چلی ہے وہ بس مسکراتی رہتیں۔اماں اور ابا خود تو کم پڑھے لکھے تھے اس لئے میرے لئے ٹیوشن بھی ڈھونڈ لی گئی ۔دوپہر کے کھانے کے بعد اماں مجھے خود پانچ گلیاں دور چھوڑ کر آتی پر 2 گھنٹے بعد دوبارہ لینے آتی۔راستے میں مجھے ٹھنڈی بوتل خرید کردیتی کبھی قلفی تو کبھی پاپڑ ۔مجھے مسجد چھوڑ کر گھر چلی جاتیں ۔میں قرآن پاک پڑھتا ایک گھنٹے بعد پھر وہ مجھے لئےکرگھرجاتی ۔میں کھیلنے کی ضد کرتا تو سامنے میدان میں جانے کی اجازت دیتی اور خود بار بار مجھے کھڑکی سے جھانکتی رہتیں ۔میری 24 گھنٹے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ وہ پانچ وقت نماز بھی پڑھیں گھر کے کام بھی خود کرتیں اور روز مزے دار کھانے بھی بناتیں ۔انہیں کپڑے سینے کا بھی شوق تھا پتہ نہیں کہاں سے کپڑے ڈھونڈ کر لاتی میرے لیے پینٹ کوٹ سیتی مجھے پہناتی بہت خوش ہوتیں اور کہتی میرا بیٹا بابو بنے گا۔میں کہتا ہاں ماں میں بابو بنوں گا ۔اس ہی طرح سال گزارتے رہے میں آٹھویں کلاس میں چلا گیا ۔میں نے اماں کو کہا اب ایسے ٹفن کا ڈبہ لئے کر سکول آنے کی ضرورت نہیں ہے لڑکے میرا مذاق اڑاتے ہیں مجھے جیب خرچ چاہے میں سکول کی کینٹن سے کچھ کھاوں گا۔اماں نے بہت منت سماجت کی لیکن میں ڈٹا رہا۔پھر ماں نے مجھے روز بیس روپے جیب خرچ دینا شروع کردیا۔ابا نے آنے جانے کے لئے سائیکل خرید دی۔میں کینٹین سے بھی چیزیں کھاتا اور راستے میں رفیق ہوٹل والے بھی کچھ نا کچھ ضرور کھاتا ۔ تب بھی وہ واپسی پر میرے لئے کھانا تیار رکھتی ٹی وی اور رسالوں کی مدد سے کبھی چائنیز کھانے تو کبھی پیزا بنانے کی کوشش کرتی۔بس اس کی خواہش تھی کہ میں انگریزی بولنے والا ایک بابو بن جاوں جس کو دیکھ کر سب سلام کریں ۔

میں کالج میں تھا کہ ابا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے ۔مجھے لگا مشکل ہے کہ اب میں پڑھائی جاری رکھ سکوں مجھے کریانے کی دوکان پر بیٹھنا پڑے گا ۔پر اماں نے کہا نہیں وہ دوکان ملازم کے ساتھ سنبھال لیں گی لیکن میں پڑھائی نہیں چھوڑوں گا۔اماں جو پہلے چادر لیتی تھیں اب شٹل کاک برقعے میں دوکان جانے لگیں خود گودام والی جگہ پر نگرانی کرتیں آگے ملازم چیزیں فروخت کرتا ۔اماں کی روٹین اور بھی سخت ہوگئ ۔دوکان پھر سے اماں کی محنت سے چل پڑی۔

میں نے ان کو کہا بھی گھر پر ملازمہ رکھ لیں لیکن نہیں وہ صبح اٹھتی نماز پڑھتیں، ناشتہ بناتی دوپہر کے لئے کھانا بناتیں میرے کالج جانے کے بعد دوکان کھولتی ۔میری واپسی پر گرم روٹیاں اتراتیں مجھے کھانا کھلاتیں اور وہ واپس دوکان پر چلی جاتیں اور رات 9 بجے واپس آجاتی۔میں اپنے ماں کے احسانوں تلے دبتا جارہا تھا۔میں ہمیشہ سوچتا میری ماں عظیم عورت ہے میں خوش قسمت ہوں جو اسکا بیٹا ہوں ۔

20170110_151852

image via indileak

میں نے ڈگری مکمل کی اور مجھے اچھی سرکاری نوکری مل گئ۔میں نے ماں کو کہا اب وہ دوکان پر نہیں جائیں گی کیونکہ ان کا بیٹا بابو بن گیا ہے۔ماں نے کہا ٹھیک ہے میں نے دوکان اس ہی ملازم کو ٹھیکے پر دے دی۔میں سوٹ بوٹ میں جب بھی دفتر جاتا میرے آگے پچھے لوگ سلام صاحب سلام صاب کہتے جاتے ۔میرے اندر غرور پیدا ہونے گا۔میرے عمر کوئی 26 کے قریب ہوگئی تھی ۔اماں کے خاندان کی تمام لڑکیوں کو میں نے مسترد کردیا کیونکہ ان میں سے کوئی بابو کی بیوی بننے کے لائق نہیں تھی۔

ایک سرکاری تقریب میں میری ملاقات ٹینا سے ہوئی وہ کسی پرائیویٹ آرگنائزیشن سے وابستہ تھی۔اس کی خوبصورتی پہناوا اور بولڈنس سے متاثر ہوکر میں نے چند ہی ملاقاتوں میں اسکو پرپوز کردیا ۔ہماری شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ٹینا کا خاندان بہت ہی ماڈرن تھا ان سب کے بیچ اماں کسی اور سیارے کی مخلوق لگ رہی تھیں ۔

مجھے تو بس کام اور ٹینا کے علاوہ کچھ نہیں نظر آتا تھا۔امی جی کہیں دور پیچھے رہ گئ۔وہ کھانا بنا کر انتظار کرتی رہتیں میں ٹینا باہر سے کھانا کھا آتے ۔شادی کے کچھ عرصے بعد جب ٹینا دوبارہ آفس جانے لگی تو اماں جی نے اعتراض کیا بیٹا اب بہو کو یہ گھر سنبھالنے کی ضرورت ہے ۔میں نے ان کو سختی سے جھٹک دیا کہ اب کیا آپ دقیانوسی ساس کا رول ادا کریں گی ۔وہ خاموش ہوگئیں ۔

گھر میں جھگڑے بڑھنے لگے ٹینا کو اماں سے بہت سی شکایتیں تھیں ۔کبھی اماں اسکو پوری آستین کے کپڑے پہنے کو کہتی تو کبھی اسکو وقت بے وقت گھر سے باہر جانے پر روکتی ۔کبھی مجھے کہتیں کہ میں صراط مستقیم پر چلوں ۔اماں میری سرگرمیوں سے واقف ہورہی تھیں ۔نوکری کے چند سالوں میں میرے پاس اپنا بنگلہ کار جائیداد سب موجود تھے ۔اب ٹینا کی فرمائشیں صرف سرکار کی مقرر کردہ تنخواہ میں تو پوری نہیں ہوسکتی تھیں پھر میرا اپنا بھی کچھ لائف اسٹائل تھا۔

ایک دن تو حد ہوگی میرے باس آئے ہوئے تھے اماں اپنے وہ ہی بوسیدہ سے مرینے کے سوٹ میں آگئی میں کیا بولتا ٹینا نے کہا یہ ملازمہ ہے جاو دفع ہوجاو پانی لاو۔میں شاید اس وقت بہرا ہوگیا تھا جو ٹینا کو کچھ نہیں کہا الٹا باس کے جانے کے بعد اماں سے لڑ پڑا کہ آپ کو فقیروں والے حلیے میں مہمانوں کے سامنے نہیں آنا چاہیے تھا۔اماں خاموش رہیں اور آنسو ان کی آنکھوں سے گرتے رہے۔ٹینا نے کہنا شروع کردیا مجھے الگ گھر میں رہنا ہے میں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

میں نے بھی سوچا پرانے گھر میں ان کو چھوڑ آتا ہوں وہاں کریانے کی دوکان سے معقول آمدنی بھی اماں کو ملتی رہے گی۔لیکن ٹینا نے کہا ایسا مت وہ دوکان اور گھر بھی اب لاکھوں مالیت کہ ہیں وہ ہمارے بچوں کے کام آئیں گے ۔آپ ان کو اولڈ ہوم چھوڑ آئیں ۔وہاں میں سال کے پیسے بھی جمع کروادیں گے اور اماں جی کا خیال بھی رکھا جائے گا ۔میں پلاننگ کرنا شروع ہوگیا ۔اماں کے سارے احسانات پیار قربانیاں فراموش کرگیا۔

اس دن تو حد ہوگئی ٹینا کی دوست جوکہ بہت بڑے سیاستدان کی بیٹی ہے اماں اس کے سامنے پھر بوسیدہ لباس میں آگئیں۔ٹینا نے رو کر میرا آفس بیٹھنا محال کردیا۔میں گھر آیا اور اماں سے کہا کہ آخر ان کا مسئلہ کیا وہ کیونکہ سوسائٹی میں ہماری بے عزتی کروارہی ہیں ۔جب سب کچھ گھر میں موجود ہے تو وہ اچھا لباس کیوں نہیں پہنتی ۔

بہت سال میں وہ پہلی بار بولیں بیٹا میں اس گھر میں اپنی روٹی حلال کرکے کھاتی ہو تمہارے گھر میں کا کام کرتی ہوں اس کے عوض تمہاری بیوی مجھے کھانا دے دیتی ہے۔لیکن تمہاری لائی حرام کی اترن نہیں پہن سکتی۔یہ سن کر  میرا سر وہ گھوما میں نے ان گھسیٹتے ہوئے گھر سے نکالا گاڑی میں دھکیلا اور اولڈ ہوم چھوڑ آیا۔

مجھے کبھی اپنے فیصلے پر ندامت نہیں ہوئی۔چھ ماہ گزر گئے میں نے اپنی ماں کا حال بھی نہیں پوچھا۔ٹی وی دیکھتے ہوئے نظر پڑی مارنگ شو پر پڑی ۔ ہوسٹ ماں کا عالمی دن منا رہی تھی ۔پتہ نہیں کیوں میں نے بھی پروگرام دیکھنا شروع کردیا ۔بہت سی مائیں اپنے بچوں سے گلے شکوے کررہی تھیں ۔آخری کونے میں ایک عورت اپنا منہ ڈوپٹے  چھپا رہی تھی۔وہ ہاتھ میں کیسے بھول سکتا وہ بوڑھا نجیف ہاتھ میری ماں کا تھا ایک جلے کا نشان دوسرا اس کے قریب بڑا کالا تل وہ میری ہی ماں تھی بابو کی ماں ۔۔

مارننگ شو میں بیٹھی تمام ماوں نے اپنے بچوں سے بہت گلے شکوے کئے روتی رہیں کچھ تو اپنے بچوں کو بدعائیں بھی دیں ۔اب مائک میری ماں کے آگے تھا میرا دل دھک دھک کرنے لگا میری ماں کیا بولے گی۔ان کا چہرا چادر میں چھپا تھا وہ بولنے لگیں میرا دماغ سن ہورہا تھا دل پھٹ رہا تھا

 ” میری تربیت میں ہی کھوٹ تھا جو آج میں ایک دارالامان میں موجود ہوں ۔میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں کہ میں اپنی اولاد کی اچھی پرورش نہیں کرسکی قصور وار وہ نہیں ہم ہیں “

میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا سب ماوں نے اپنے بیٹوں کو کوسا بدعائیں دیں صرف میری ماں نے خود کو قصور وار قرار دیا ۔جبکہ قصور ان کی تربیت کا نہیں تھا۔ میرے اندر کے کمپلیکس لالچ اور ہوس نے گھر کرلیا تھا ۔میں نے روتے روتے گاڑی نکالی سارے ملازم مجھے مجھے دیکھتے رہ گئے ۔سگنل پر بھی لوگ مجھے دیکھتے رہے میں روتا روتا اولڈ ہوم پہنچا تو معلوم پڑا ماں نے میرے بھیجے پیسوں کو کبھی ہاتھ میں لگایا وہ یہاں سے بھی کپڑے سیی کر حق حلال کا کھا رہی تھی۔

میں نے ماں کے پاوں پکڑ لئے اپنا سر ان کے پیروں میں رکھ دیا ۔اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگی ۔میری ماں نے کہا رب سے معافی مانگو اسکو راضی کرو۔اس کے بعد میں اپنی ماں کو ساتھ لئے آیا تمام برائیوں سے توبہ کرکے صرف رزق حلال کمانے لگا۔میری بیوی نے شروع میں بہت شور ڈالا لیکن میں نے اس کو صاف کہہ دیا بیوی تو مجھے اور مل جائے گی لیکن ماں نہیں ۔پھر وہ خاموش ہوگئ اور میرے گھر کا سکون لوٹ آیا ۔اب جب بھی میں گھر سے نکلتا ہوں تو ماں کو سلام کرکے اور واپس آتا ہوں تو پہلے ان کا چہرہ دیکھتا ہوں زندگی میں صرف سکون ہی سکون ہے۔اگر آپ بھی کسی ماں کے بابو ہیں اور آپ کی ماں اولڈ ہوم میں ہے تو اس کو واپس لئے آئیں کہیں ایسا نا ہو دنیا میں ملی جنت آپ سے چھین جائے۔

Javeria Siddique is Journalist, Author and Photographer.

Twitter @javerias fb : Official Javerias

Posted in Army, ArmyPublicSchool, Pakistan, ZarbeAzb, جویریہ صدیق

سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی یاد میں دعائیہ تقریب جاری

پشاور: سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی یاد میں دعائیہ تقریب جاری۔

جویریہ صدیقimg-20161215-wa0062 ۔سانحہ اے پی ایس کی دوسری برسی کے موقع پر حسن زیب شہید کے گھر پر دعائیہ تقریب میں لواحقین کی بڑی تعداد میں شرکت ۔لواحقین نے شہدا کے لئے شمعیں روشن کی اور فاتحہ خوانی کی ۔اس موقعے پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ورثا دھاڑیں مار مار کر روتے رہے اور اپنے پیاروں کو یاد کرتے رہے۔حسن زیب شہید کے گھر میں تمام شہدا اے پی ایس کی تصاویر آویزاں ہیں لواحقین ان تصاویر کے آگے شمعیں جلا کر ان لمحات کو یاد کرتے رہے جو انہوں نے زندگی میں ساتھ گزرے تھے ۔والدین خاص طور پر سولہ دسمبر کی ہولناکی کو یاد کرکے روتے رہے ۔اپنے بچوں اور ان کے اساتذہ کے لئے فاتحہ خوانی کرنے کے ساتھ ساتھ خود کے لئے بھی صبر کی دعاء کرتے رہے ۔حسن زیب شہید نے سولہ دسمبر  اپنے اساتذہ اور ساتھیوں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا تھا ۔دو سال سے ہر ماہ ان کے گھر میں اے پی ایس فیملیز دعائیہ تقریبات میں اکٹھی ہوتی ہیں ۔

img-20161215-wa0061

img-20161215-wa0069aps-3aps-5

جویریہ صدیق صحافی اور فوٹوگرافر ہیں ۔ سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشیں کتاب کی مصنفہ ہیں۔آپ انہیں ٹویٹر پر فالو کرسکتے ہیں @javerias

Posted in Javeria Siddique, TRT Urdu, Uncategorized, جویریہ صدیق

. آگاہی ایوارڈ پاکستان سے ٹی آر ٹی اُردو سروس کو جویریہ صدیق کے پروگرام “پاکستان ڈائری” پر ایوارڈملکی اورغیر ملکی کوریج

 

آگاہی ایوارڈ پاکستان سے ٹی آر ٹی اُردو سروس کو جویریہ صدیق کے پروگرام “پاکستان ڈائری” پر ایوارڈ

آگہی ایوارڈ نے پاکستان ڈائری میں لکھے گئے گھریلو باغبانی کے آرٹیکل اور ریڈیو پروگرام کو ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا ۔اس آرٹیکل میں گھر میں کیمیکل سے پاک سبزیوں اور پھلوں کو اگانے کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی گئی تھی

12.12.2016 ~ 15.12.2016

آگاہی ایوارڈ پاکستان سے  ٹی آر ٹی اُردو سروس کو  جویریہ صدیق کے پروگرام

سلام آباد : مختلف شعبہ جات میں اعلی کارکردگی

کا مظاہرہ کرنے والے صحافیوں کو آگہی میڈیا ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ٹی آر ٹی اردو سروس سے وابستہ صحافی جویریہ صدیق کو شعبہ زراعت میں 2016 کے بہترین صحافی ہونے کا ایوارڈ دیا گیا۔جویریہ صدیق کے سلسلہ وار پروگرام پاکستان ڈائری نے عوام میں بہت کم وقت میں مقبولیت پائی ۔ٹی آر ٹی اردو سروس کی اس مثبت کاوش کو پاکستان بھر میں سراہا گیا۔

آگہی ایوارڈ نے پاکستان ڈائری میں لکھے گئے گھریلو باغبانی کے آرٹیکل اور ریڈیو پروگرام کو ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا ۔اس آرٹیکل میں گھر میں کیمیکل سے پاک سبزیوں اور پھلوں کو اگانے کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی گئی تھی۔

اگہی ایوارڈ 2016 میں مارچ 2015 سے اگست 2016 تک نشر اور شائع ہونے والی رپورٹس شامل تھیں ۔آگہی ایوارڈ کے منتظمین عامر جہانگیر اور پریوش چوہدری کے مطابق اس سال 3500 سے زائد نامزدگیاں سامنے آئی جس میں سے 48 صحافیوں کو ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔آگہی ایوارڈ پاکستان میں کام کرنے والوں صحافیوں کے لئے واحد ایوارڈ ہیں۔جس میں پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا ریڈیو اور ان لائن میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو ان کی اعلی کارکردگی پر ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔2012 میں پہلی بار اس ایوارڈ کا اجرا ہوا تھا۔

2016 کے بہترین نیوز اینکر کے ایوارڈ وسیم بادامی اور عائشہ بخش کے نام ہوئے ۔مستند ترین اینکر نسیم زہرہ قرار پائیں ۔جب کے انویسٹیگٹیو جرنلسٹ آف دی دئیر کا مشترکہ ایوارڈ  اے ار وائی کے پروگرام پاور پلے پروگرام کے اینکر ارشد شریف اور پروڈیوسر عدیل راجہ کے نام ہوا۔مقبول ترین چینل اے آر وائی قرار پایا۔


http://www.trt.net.tr/urdu/pkhstn/2016/12/12/aghy-ywrdd-pkhstn-sy-tty-ar-tty-urdw-srws-khw-jwyryh-sdyq-khy-prwgrm-pkhstn-ddy-ry-pr-ywrdd-628962

پاکیستانین اوسکاری صاحب‌لرینه وئریلدی

آگاه اؤدول‌لری اوچون بو ایل اؤلکه سویه‌سینده اوچ مین 500دن چوخ شخص یازی‌لی مطبوعات، تلویزیون، رادیو و اینترنت مئدیاسی داخیل 35 کاتگوریده نامیزد گؤستریلدی

13.12.2016 ~ 15.12.2016

پاکیستانین اوسکاری صاحب‌لرینه وئریلدی

پاکیستانین اوسکاری اولا‌راق بیلینن آگاه اؤدولو صاحب‌لرینه وئریلدی.

ایسلام آباددا گئچیریلن اؤدول مراسیمینده ت‌رت تورکیه‌نین سسی رادیوسو اوردوجا سرویسی اوچون پروگرام حاضرلایان جوریه صدیقی 2016 تاریم کاتگوریسینده اؤدول قازاندی.

صدیقی پروگرامی پاکیستان جمعیتی و تورکیه‌نین سسی رادیوسونون اوردوجا پروگرامی پاکیستاندا قیسا بیر مدتده شؤهرت قازاندی.

آگاه اؤدولو اونون باغچی‌لیق ایله علاقه‌لی یازی‌لاری و رادیو پروگرامین‌دان اؤترو وئریلمیش‌دیر.

اونون یازی‌لاری اینسان‌لاری میوه و یاشیللیقلاری نئجه یئتیش‌دیره بیله‌جگی قونوسوندا حساسلاشدیرمیشدیر.

آگاه اؤدول‌لری اوچون بو ایل اؤلکه سویه‌سینده اوچ مین 500دن چوخ شخص یازی‌لی مطبوعات، تلویزیون، رادیو و اینترنت مئدیاسی داخیل 35 کاتگوریده نامیزد گؤستریلدی.

آگاه اؤدول‌لرینه ژورنالیستلر ماراق گؤستردی و آگاه اؤدول‌لری پاکیستاندا سوسیال مئدیا یولو ایله 6 میلیون‌دان چوخ انسانا چاتدی و خالق‌لارین سئچه‌نگی اؤدول‌لری کاتگوریلری اوچون اس‌ام‌اس یولو ایله هارداسا 1.5 میلیون نفره اولاشیلدی.

بؤلگه‌ده ایلک دفعه آگاه اؤدول‌لری خالق‌لارین سئچه‌نگی کاتگوریلرینی اؤلچه‌بیلمک اوچون بؤیوک بیر بیلگی و دویارلی‌لیق تحلیلی ائتدیرمیش‌دیر

http://www.trt.net.tr/turki/khwltwr-w-sn-t/2016/12/13/pkhystnyn-wskhry-shblrynh-wy-ryldy-629798

В Исламабаде состоялась церемония награждения AGAHI

Жаверия Сиддик (Javeria Siddique), занимающаяся подготовкой программ для радио Голос Турции на языке урду, была удостоена награды в категории Сельское хозяйство – 2016

13.12.2016 ~ 15.12.2016

В Исламабаде состоялась церемония награждения AGAHI

В Исламабаде состоялась церемония награжденияAGAHI – награды, которую называют пакистанским Оскаром.

Жаверия Сиддик (Javeria Siddique), занимающаяся подготовкой программ для радио “Голос Турции” на языке урду, была удостоена награды в категории “Сельское хозяйство – 2016”.

Программа “Общество Пакистана”, автором которой является Жаверия Сиддик,  стала очень популярной. В этой программе она рассказывает о том, как нужно правильно выращивать фрукты и овощи.

На получение премий AGAHI в 35 категориях были номинированы более трех с половиной тысячи представителей всех видов СМИ – прессы, телевидения, радио и интернета.


Pakistan: Großes Interesse für AGAHI-Preise

Auszeichnung für Programmgestalterin der Urdu-Redakiton der TRT-Stimme der Türkei

13.12.2016 ~ 15.12.2016

Pakistan: Großes Interesse für AGAHI-Preise

Die als Oscar Pakistans bekannten AGAHI-Preise sind verliehen worden. Bei der Preisverleihung in Islamabad wurde Javeria Siddique, die Programme für die Urdu-Redaktion von TRT – Stimme der Türkei vorbereitet, in der Agrar Kategorie 2016 ausgezeichnet. Das Programm von Siddique erlangte in der pakistanischen Gesellschaft und im Urdu-Programm der Stimme der Türkei in kürzester Zeit großen Ruhm. Der AGAHİ-Preis wurde ihr für ihre Artikel und Radioprogramme zu Gartengestaltung verliehen. Mit ihren Artikeln wurden Menschen zum Obst- und Gemüseanbau sensibiliert. Dieses Jahr wurden in ganz Pakistan mehr als 3500 Menschen aus Printmedien, Fernsehen, Radio und Internet für die AGAHİ-Preise nominiert. Die AGAHI-Preise erreichten in Pakistan über die sozialen Netzwerke mehr als 6 Millionen Menschen, für die Kategorie Preise des Volkes wurden über SMS 1,5 Millionen Menschen errreicht.


..

La Voz de Turquía recibe el premio de AGAHI, el Óscar de Pakistán

Javeria Siddique, quien prepara un programa para el departamento de Urdú de la Voz de Turquía de la TRT, ganó el premio en la categoría de Agricultura 2016

13.12.2016 ~ 15.12.2016

La Voz de Turquía recibe el premio de AGAHI, el Óscar de Pakistán

Se entregaron los premios de AGAHI conocidos como el Óscar de Pakistán.

Javeria Siddique, quien prepara un programa para el departamento de Urdú de la Voz de Turquía de la TRT, ganó el premio en la categoría de Agricultura 2016.

Siddique ganó el premio por sus artículos y su programa sobre jardinería.

Los artículos de Siddique narran cómo se cultivan frutas y verduras.

A los premios de AGAHI se presentaron candidatos más de tres mil 500 artículos en 35 categorías, entre ellas prensa escrita, televisión, radio e internet.

Los premios de AGAHI alcanzaron más de 6 millones de personas a través de la red social, y obtuvieron el voto de casi 1,5 millones de personas para la categoría de “Premios de la Elección del Pueblo”.

Los premios de AGAHI por primera vez analizaron la información y la sensibilidad del pueblo gracias a la categoría de la “Elección del Pueblo”.


فارسی

جوایز AGAHI به صاحبانشان اعطا شد

Javeria Siddique تهیه کننده برنامه برای سرویس زبان اردو در رادیو صدای ترکیه تی آر تی، در رشته کشاورزی 2016 جایزه دریافت کرد

13.12.2016 ~ 15.12.2016

جوایز AGAHI  به صاحبانشان اعطا شد

جوایز AGAHI که بعنوان اسکار پاکستانی شناخته می شود به صاحبانشان اعطا شد.

در مراسم اعطای جوایز که در اسلام آباد ترتیب یافت، Javeria Siddique تهیه کننده برنامه برای سرویس زبان اردو در رادیو صدای ترکیه تی آر تی، در رشته کشاورزی 2016 جایزه دریافت کرد.

برنامه Javeria Siddique با عنوان جامعه پاکستان و برنامه رادیو صدای ترکیه به زبان اردو در کوتاه مدت در پاکستان به شهرت دست یافت.

جایزه AGAHI بخاطر مقالات مربوط به باغچه داری و برنامه هایی رادیوی به وی اعطا شده است.

نوشتجات وی انسانها را در رابطه با نحوه پرورش میوه و سبزیجات حساستر کرده است.

برای جوایز AGAHI در سطح این کشور بیش از هزار و 500 نفر در 35 رشته منجمله مطبوعات، تلویزیون، رادیو و اینترنت بعنوان نامزد نشان داده شدند.

جامعه روزنامه نگاران به جوایز مذکور توجه خاصی نشان دادند. بطوریکه جوایز AGAHI از طریق رسانه های اجتماعی پاکستان به بیش از 6 میلیون نفر و جوایز گزینه ملتها نیز از طریق اس ام اس به حدود 1 و نیم میلیون نفر رسیده است.


Agahi’  mükafatı sahiblərinə təqdim  edilib

Pakistanın  Oscarı   olaraq  qəbul  edilən    ‘Agahi’  mükafatı sahiblərini  tapdı.

14.12.2016 ~ 15.12.2016

‘Agahi’  mükafatı sahiblərinə təqdim  edilib

İslamabadda təşkil edilən mükafat mərasimində TRT Türkiyənin Səsi Radiosunun Urduca  departamentinin yayım  proqramında   efirə   buraxılmaq  üzrə   hazırlanan  Pakistan Cəmiyyəti veriliş 2016 Kənd Təsərrüfatı nominasiyasında mükafata   layiq  görüldü.   Verilişin  müəllifi  Javeria Siddique olub.

Javeria Siddiquein,  Türkiyənin   səsi    radiosunun   Urduca   rəhbərliyinin  yayım  proqramı   üçün  hazırladığı  ‘Pakistan Cəmiyyəti’  adlı  veriliş  Pakistanda reytinq   rekordu qırdı.

Qeyd  edək  ki, 2016  Agahi Mükafatlarına  üç min 500-dən çox  məqalə,  məktub  və şərh, televiziya, radio və internet mediası daxil  olmaqla   35   kateqoriyada namizəd göstərildi.

Agahi Mükafatlarına jurnalistlərin də  böyük  marağı olub