Posted in Uncategorized

لیڈی ہیلتھ ورکرز کی حالت زار

March 27, 2014   …جویریہ صدیق

…لیڈی ہیلتھ ورکرز پاکستان کے شبعہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔پاکستان کے قدامت پسند معاشرے میں جہاں خواتین کو مرد ڈاکٹرز یا اسپتالوں تک نہیں جانے کی اجازت نہیں وہاں یہ ایک لاکھ پچس ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز زچہ و بچہ کی طبی ضروریات میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔لیڈی ہیلتھ ورکرز کی بنیادی ذمہ داریوں میں حاملہ اور بیمار خواتین کو طبی مدد دینا، حاملہ خواتین کا ریکارڈ رکھنا، بچوں کی پیدایش کا ریکارڈ، نوزائیدہ بچوں اور کم عمر بچوں کے علاج میں معاونت اور خاندانی منصوبہ بندی کے مشورے اور ادویات فراہم کرنا بھی شامل ہے لیکن اس کے علاوہ دو اہم اضافی ذمہ داریاں بھی ان کے نازک کندھوں پر ہیں جن میں گھر گھر جاکر بچوں کو انسداد پولیو ویکسین پلانا اور ڈینگی بخار کے خلاف بھی مہم میں حصہ لینا ہے۔
ان تمام تر خدمات کے باوجود لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے حالات پاکستان میں سازگار نہیں ان کی ماہانہ تنخواہ صرف سات ہزار روپے ہے اور وہ بھی ان کو کئی ماہ تک نہیں ملتی اور اگر وہ اس کا تقاضہ کریں تو ان پر پولیس کے ذریعے سے ان پر لاٹھی چارچ کروادیا جاتاہے۔ان کی یہ تخواہ پہلے اس سے بھی کم تھی لیکن مہنگائی کے اس دور میں تنخواہ میں کھوکھلے اضافے کے بعد سے چھ ماہ سے لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی تنخواہ سے محروم ہیں۔انسداد پولیو مہم میں ان کی تین دن کی ڈیوٹی کے ان کو صرف ہزار روپے ملتے ہیں اورا سں پر ستم ظریفی تو دیکھیں کہ جب سردی گرمی میں یہ انسداد پولیوویکسین لیے گھر گھر جاتی ہیں تو ان کا استقبال پتھروں،لاٹھیوں اور گولیوں سے ہوتاہے۔ اسامہ بن لادن کی مبینہ ہلاکت میں ہیلتھ ورکرز کے استعمال میں اب لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر انسداد پولیو مہم میں حصہ لیتی ہیں اس کے علاوہ پاکستان کی بڑی آبادی اس ویکسین کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے جس کا خمیازہ یہ بے چاری ہیلتھ ورکرز کو بھگتنا پڑتا ہے۔دوہزار بارہ سے اب تک بائیس ہیلتھ ورکرز اپنی جان سے گئے جن میں چھ لیڈی ہیلتھ ورکرز تھیں اور کل ہی ایک لیڈی ہیلتھ ورکر کو اغوا کے بعد چمکنی خیبر پختون خواہ میں موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ان سب کا جرم یہ تھا کہ یہ قوم کا مستقبل اور نونہال مفلوج نہیں دیکھ سکتی تھیں اور قوم کے دشمن پاکستان کو مفلوج ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز جو قوم کی معمار ہیں زچہ اور بچہ کی صحت میں کلیدی کردار ادا کررہی ہیں اور ہم ان کو اس محنت کا کیا صلہ دے رہے ہیں ؟ وہ ہماری قوم کی ماؤں کی صحت کا خیال رکھتی ہے، حمل میں ان کو مفید مشوروں سے نوازتی ہیں زچگی میں ان کی معاون ہوتی ہیں، بچے کی پیدایش سے لے کر پانچ سال کی عمر تک ان کی صحت کی ضامن رہتی ہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی کے مشوروں سے مضبوط معاشرے کی بیناد رکھتی ہیں۔انسداد پولیو ویکسین سے معاشرے کو مفلوج ہونے سے بچاتی ہیں لیکن ہم ہمارا معاشرہ اور حکومت ان کے احسانات کا بدلہ اس طرح سے اتار رہے ہیں کہ یہ چھ چھ ماہ فقط چند ہزار روپے کی تنخواہ سے محروم ہیں۔ سخت محنت کرکے ایک نسل کو صحت مند زندگی فراہم کرتی ہیں ہم ان کو گولیوں اور حقارت آمیز رویے کا شکار بناتے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت تک چوبیس پولیو کے نئے کیسزز سامنے آچکے ہیں، گذشتہ سال یہ تعداد اٹھاون تھی۔ زچگی میں ہر سال پاکستان میں 25 سے 30ہزار خواتین زچگی میں لقمہ اجل بن جاتی ہیں اور ایک ہزار میں سے 48 بچے پیدائش کے پہلے ماہ میں ہی فوت ہوجاتے ہیں اور 40 اعشاریہ 4 فیصد بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں، اس صورتحال کو بنیادی سطح پر صرف لیڈی ہیلتھ ورکرز ہی ٹھیک کرسکتی ہیں۔ اگر ہم لیڈی ہیلتھ ورکرز کی نوکریوں کو مستقل کریں ان کی تنخواہوں میں معقول اضافہ کریں ان کو دوران انسداد مہم میں مکمل سیکورٹی فراہم کریں اور ان کی استعدادکار میں اضافہ کے لیے ورکشاپس اور ٹرینگ کا انتطام کیا جائے تو اوپر ذکر کی گئی صورتحال میں نمایاں فرق آسکتا ہے۔
پنجاب حکومت نے حال ہی میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ریگولر کرنے کا بل پاس کیا ہے اس طرح سے باون ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کا مستقبل محفوظ ہوگیا لیکن بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی دیگر صوبوں کوبھی ایسے اقدامات کرنے ہوں گے اور مزید تقرریاں کرنی ہوں کیونکہ موجودہ تعداد ایک لاکھ تیس ہزار صرف ساٹھ فیصد آبادی کی دسترس میں ہے، باقی چالیس فیصد آبادی ان کی خدمات سے محروم ہے۔اس لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی استعدکار میں اضافہ اور ان کی تعداد میں اضافے کی فوری ضرورت ہے، اس کے ساتھ ادویات کی مستقل فراہمی، ضروری آلات کی موجودگی، حفاظتی ٹیکوں کا اسٹاک اور عوام الناس کی معلومات کے لیے خاندانی منصوبہ بندی اور دوران حمل ضروری معلومات کے کتابچے ان کے پاس یقینی بنائے جائیں۔اس کیساتھ ساتھ چمکنی میں قتل ہونے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز سلمیٰ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے اور اس کے پانچ بچوں کی مالی کفالت کا بندوبست خیبر پختون خواہ کی حکومت کو فوری طور پر کرنا چاہئے۔ – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9681#sthash.TyYsftbr.dpuf

Posted in Uncategorized

تھرکی افسوسناک صورتحال

March 11, 2014  

…جویریہ صدیق…
تھر کے بچوں کو بھوک اور افلاس نگل رہی اور الزامات کی سیاست عروج پر ہے۔ انسانوں کو کھا نا میسر ہے نا ہی مویشوں کو چارہ۔ تھر میں اب تک ایک سو اکیتس سے زائد بچے جان بحق ہوچکے ہیں اور دو لاکھ سے زائد خاندان متاثر ہیں۔ غذائی قلت اور قحط سالی کے حوالے سے جب میڈیا پر خبریں آئیں تو سندھ حکومت جاگی کہ عوام کی مدد کے لیے بھی کچھ کرنا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے وہاں مرنے والے بچے قحط سالی سے نہیں بلکہ دیگر بیماریوں سے جاں بحق ہوئے ہیں اور سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سمیت دیگر پی پی لیڈران بھی اس بات کی تائید کرتے رہے تاہم صورتحال اس کے برعکس ہے۔تھر ایک صحرائی علاقہ ہے اور اس سال بارشیں بھی کم ہوئیں جس کے بارے میں حکومت سندھ کو محکمہ موسمیات پہلے ہی آگاہی دے چکی تھی تاہم حکومت سندھ کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور مربوط پالیسی کے فقدان کے باعث تھر میں قحط کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
اس وقت تھر میں متاثر بچے اسپتالوں میں شدید کرب سے گزر رہے ہیں کم عملہ، ادویات کی قلت اور جدید مشینری کی کمی کے باعث بہت سی اور اموات کا خدشہ ہے۔جیو پر خبر نشر ہونے کے بعد بہت سے عالمی ادارے اور مخیر حضرات حرکت میں آگئے اور متاثرین تک امداد کا سلسلہ شروع ہوا، تاہم سندھ حکومت نے پہلے تو صرف بیان بازی اور بعد میں ایک تھر متاثرین فنڈ قائم کرنے کو ہی کافی سمجھا۔ تاہم میڈیا اور سوشل میڈیا کی تنقید کے بعد تھر کے دوروں کا آغاز ہوا۔ سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ جو کہ سندھ کے وزیر صحت بھی ہیں اور ان کے داماد اقبال درانی سیکریٹری صحت ہیں، انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کہ سرکاری سطح پر گندم کی تقسیم صحیح طور پر نا ہو سکی اور انہوں نے حکومت کی غفلت کا اعتراف کیا۔تاہم اس اعتراف کے ساتھ ساتھ جہاں لوگ تھر میں بھوکے مر رہے ہیں، وہاں وزیر اعلیٰ سندھ کی آمد پر پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا جس میں انواع اقسام کے کھانے پیش کیے گئے۔ یہ صورتحال افسوس ناک ہے کہ ایک طرف علاقے میں لوگ بھوک افلاس سے مر رہے ہوں اور دوسری طرف افسر شاہی صرف حکومتی ارکان کو خوش کرنے میں مصروف اور جہاں لوگ ایک ایک دانے کو ترس رہے ہوں وہاں دوسری طرف ظہرانے میں ملائی تکہ، ریشمی کباب، مٹن بریانی، ذردہ موجود ہوں افسوس کا مقام ہے۔
دس مارچ کو چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف بھی مٹھی تھر پارکر پہنچ گئے ان کے دورے سے پہلے تما م سڑکیں صاف کی گئی، تما م دکانیں، بازار بند کروادیے گئے اور ستم ظریفی تو ملا حظہ ہو واحد سرکاری اسپتال کے دروازے بھی سیکورٹی کے نام پر بند کردیے گئے اور مریض بے یارومدگار در بدر ٹھوکریں کھاتے رہے۔ وزیراعظم نے ایک ارب روپے امداد کا اعلان کیا اور ساتھ ساتھ حکومت سندھ سے اس صورتحال پر انکوائری کرنے کا حکم دیا اب وزیر اعلیٰ جو خود ہی وزیر صحت بھی ہیں، کیا کاروائی کریں گے؟ اور کس کے خلاف؟ یہ محکمہ تو ان کے خاندان کے ہی ماتحت ہے۔
صرف تھر کی کیا بات کریں سندھ کے چوبیس میں سے آٹھ دیگر اضلاع بھی غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اور بات ہو اگر پورے پاکستان کی تو اس وقت پاکستان کی اڑتالیس فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے اور کہنے کو یہ زرعی ملک ہے۔وقت کی ضرورت اس وقت صرف اعلانات یا انکوائریاں کروانے کا نہیں بلکے یہ وقت فوری طور پر تھر کے متاثرین کو امداد پہنچانے کا ہے۔ان کو اس وقت امرا کے دوروں یا اعلانات کی نہیں، اناج کی ضرورت ہے ان کو فوری طور پر پانی، بسکٹ، دودھ، کپڑوں اور خیموں کی ضرورت ہے۔تھر میں لوگ امداد کے منتظر ہیں، گندم کی تقسیم کا کام بہت سست روی سے جاری ہے مانگنے والے بہت ہیں لیکن دینے والے بہت کم۔آٹا، چاول، دودھ سب ہی تھر میں نا پید ہے اس لیے ہم سب کو تھر کے عوام کی مدد کے لیے کھڑا ہونا ہوگا اور حکومت کو ایسی پالیسیاں بنا نا ہوں گی جس سے خشک سالی، قحط سالی اور غذائی قلت پر قابو پایا جاسکے اور اس مجرمانہ غفلت پر محمکہ خوراک کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینی چاہئے۔

– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9637#sthash.G8l5oYd3.dpuf

Posted in Uncategorized

پاکستان اور پولیو

January 15, 2014   …جویریہ صدیق

…پولیو ایک ایسا نا قابل علاج مرض ہے جو عمر بھر کی معذوری دے جاتا ہے۔ نائیجیریا، پاکستان اورافغانستان کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک میں اس کا خاتمہ ہوچکا ہے۔2011ء میں دنیا میں پولیو کے سب سے زیادہ 198کیسز پاکستان میں پائے گئے تھے جبکہ 2012ء میں پاکستان بھر میں پولیو کے 56 کیسز سامنے آئے اور 2013ء میں 58کیسز سامنے آئے جبکہ آج کی تاریخ تک مزید 6کیسز سامنے آچکے ہیں۔یوں 2014ء میں پولیو کیسزز کی تعداد 91ہوچکی ہے۔

پاکستان میں دوبارہ اس مرض کی پھیلنے کی وجہ غربت اور افلاس ہے۔ عوام الناس صاف پانی، نکاسی آب، خالص غذا اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

اس مرض کے پھیلنے کی دوسری بڑی وجہ معاشرتی رویہ اور قدامات پسندی بھی ہے۔ پاکستان کہ بہت سے حلقے انسداد پولیو ویکسین کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اپنے بچوں کو پولیو سے حفاظت کے قطرے پلانے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2012ء میں 60ہزار بچوں کے والدین نے اپنے بچوں کو قطرے پلوانے سے انکار کر دیا اور 2013میں 2لاکھ سے زائد بچے ویکسین سے محروم رہ گئے۔

شدت پسندی کی وجہ سے بھی پاکستان میں اس موذی مرض نے اپنا سر دوبارہ سے اٹھا یا ہے۔ بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے والی ٹیم پر پہلا حملہ 17جولائی 2012ء کو کراچی کے نواحی علاقے سہراب گوٹھ کے قریب ہوا جب قطرے پلانے کی مہم کے دوران پر فائرنگ سے عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ایک غیر ملکی ڈاکٹر زخمی ہوئے۔

اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ 21جولائی کو کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں ہی رونما ہوا جس میں بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے پر مامور عالمی ادارہ صحت کے ایک اہلکار اسحاق نور کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح اکتوبر میں صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کر کے انسداد پولیو ٹیم کے ایک رکن کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ان حملوں سے انسداد پولیو کی مہم براہ راست متاثر ہوئی کیونکہ ہر حملے کے بعد مقامی سطح پر یہ مہم معطل کی گئی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سال جون میں شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے ڈرون حملے جاری رہنے تک پولیو کے خلاف مہم پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد حکومت نے شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور باڑہ میں بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے کی مہم ملتوی کردی تھی لیکن اس مہم کو سب سے زیادہ اور بڑاجھٹکا اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں آپریشن کے بعد سامنے آنے والے حقائق کے نتیجے میں پہنچا جب یہ پتا چلا کہ اس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی بھی شامل ہوئے تھے۔ مبصرین کے مطابق اس کے بعد سے پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے دیکھنے میں آرہے ہیں۔

اس کے بعد پانچ خواتین رضاکاروں کو 9دسمبر کو کراچی اور پشاور میں نشانہ بنایا گیا اور یوں انسداد پولیو کی ویکسین لے کر جانے والی رضا کار فرزانہ، مدیحہ، فہمیدہ، نسیم اور کینز زندہ اپنے گھروں کو نہ لوٹ سکیں۔

بات ہو اگر 2013ء کی تو 18کے قریب ہیلتھ ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکار انسداد پولیو مہم کے دوران اپنی جان سے گئے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں انسدادِ پولیو کے سلسلے میں مذہبی علماء کانفرنس نے ایک مذمتی قراراد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے اہلکاروں کا جاسوسی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جانا غلط ہے۔ علما کانفرنس نے عالمی ادارہٴ صحت اور یونیسف سے کہا ہے کہ وہ اقوام عالم تک پیغام پہنچائیں کہ کوئی بھی ملک صحت ِ عامہ کی کارروائی کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہ کرے۔علما نے مزید کہا کہ صحت کے اہلکاروں پر حملے اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں جن کی انتہائی شدت سے مذمت ہونی چاہیے۔

حکومت پاکستان پولیو سے نمٹنے کے لیے ہنگامی طور پر اقدامات کررہی ہے لیکن قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن، عسکریت پسندوں اور ملک کے دوسرے حصوں میں انتہا پسندوں کی وجہ سے اہداف مکمل نہیں کر پارہی اور بچوں کی بڑی تعداد انسداد پولیو کے قطروں سے محروم ہیں۔ ماہرین صحت اور سماجیات کے مطابق حکومت علما،میڈیا اور عوام الناس کو ساتھ ملا کر اس مہم کا دوبارہ موٴثر طریقے سے آغاز کرے اور اس تاثر کو زائل کیا جائے کہ پولیو ویکسین مسلم آبادی کو کم کرنے کے لیے ایک مغربی سازش ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ انسداد پولیو ٹیمز کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کرنا بے حد ضروری ہیں۔ بڑے اور چھوٹے اسپتالوں میں انسداد پولیو ویکسین کی فراہمی اور ہوائی اڈوں پر بیرون ملک جانے والے بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے کے فوری انتظامات سے اس مرض کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔
Javeria Siddique is a Journalist and Award winning photographer.

Contact at https://twitter.com/javerias

See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9490#sthash.NuF3nHD5.dpuf

Posted in Uncategorized

ذیابیطس سے آگاہی

November 14, 2013   …جویریہ صدیق…

14 نومبر کو دنیا بھر میں ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ذیابیطس جس کو عرف عام میں شوگر بھی کہا جاتا ہے اس بیماری میں خون میں گلوکوز کا تناسب ایک حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ذیابیطیس کی دو اقسام ہیں۔

ذیابیطس ٹائپ ون

ذیابیطس ٹائپ ٹو

ٹائپ ون عمر کے کسی بھی حصے میں ہوسکتی ہے ،اس میں انسانی جسم میں انسولین بنانے کی صلاحیت یا تو ختم ہو جاتی ہے یا پھر کم ہوجاتی ہے۔دوسری قسم کی ذیابیطس کا شکار زیادہ ترعمر رسیدہ لوگ ہوتے ہیں اور اس میں خون میں گلوکوز کی تعداد ایک حد سے بڑھ جاتی ہے۔دوران حمل بھی دو سے پانچ فیصد خواتین ذیابیطس کا شکار ہوجاتی ہیں یہ اس کی تیسری قسم ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں17 کروڑ افراد ذیابیطس کی قسم دو کا شکار ہیں اور پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 65 لاکھ کے قریب افراد ذیابیطس’ٹائپ ٹو‘ کا شکار ہیں۔90 کی دہائی سے اس مرض میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ اس کی اہم وجوہات میں جنیاتی اور ماحولیاتی عوامل کارفرما ہیں وزن کی زیادتی ،جسمانی ورزش میں کمی،خاندان میں پہلے سے اس بیماری کا موجود ہونااور متوازن خوراک کا نا استعمال نا کرنا شامل ہیں۔

ذیابیطس کسی بھی شخص کو ہو سکتی ہے اس کی علامتوں میں شدید پیاس،پیشاب کا بار بار آنا،وزن میں کمی،کمزوربصارت،پیروں کا جلنا اور جلد تھک جانا شامل ہے۔اگر یہ علامتیں بہت شدت کے ساتھ ظاہر ہوں تو فورا ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور شوگر ٹیسٹ کروانی چاہیے۔اگر اس بیماری کا جلد علاج شروع نہ کیا جائے تو ابتدائی طور پر بے ہوشی،جلد کے امراض اور تیزابیت ہوسکتی ہے اور بعد میں گردوں کی خرابی ،آنکھوں کی بینایی کا متاثر ہونا ، دل کا عارضہ،فالج اور زخم کی خرابی کے باعث پاؤں یا ٹانگ کا نچلا حصہ کاٹنا پڑ جاتا ہے۔

ذیابیطس کا علاج صرف دوئی اور پرہیز سے ہی ممکن ہے،جو لوگ ڈاکٹر کی دی ہو ادویات اور مشورے پر عمل کرتے ہیں وہ بہت آرام سے ایک مستعد زندگی گزار رہے ہیں۔ذیابیطس ٹائپ ون میں انسولین کے انجکشن لگائے جاتے ہیں جبکہ ٹائپ ٹو میں دوا اور غذا کے ذریعے سے شوگر کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔دوا کے ساتھ ساتھ اس مرض میں مبتلا افراد کے لے روزانہ تیس منٹ چہل قدمی بہت ضروری ہے۔ میٹھے سے ہر ممکن طور پر پرہیز کریں اور میٹھا کھانا مقصود ہو تو مصنوعی شکر کا استعمال کریں۔اجناس کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں اور چکنائی سے پرہیز کریں۔گھی سے پرہیز کریں اور اگر استعمال ناگزیر ہے تو تیل استعمال کیا جائے۔بیکری کی اشیاء سے بلکل دور رہاجائے اور تازہ سبزیوں اور سلاد کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے۔اس کے ساتھ پانی کا استعمال بہت زیادہ کریں دن میں کم از کم دس گلاس ضرور پیے جائیں۔

ذیابیطس کو ختم تو نہیں کیا جاسکتا لیکن احتیاط سے معمولات زندگی میں خلل نہیں پڑتا، متوازن خوراک، باقاعدہ ورزش، تمباکو نوشی سے پرہیز،کھانے میں لمبا وقفہ نا کرنے، نمک کا کم سے کم استعمال ان چیزوں کا دھیان رکھا جائے تو شوگر سے کبھی بھی معمولات زندگی متاثر نہیں ہوں گے۔ پاکستان میں زیادہ تر افراد اس بیماری کے حوالے سے لا علمی کا شکار ہیں اس کی وجوہات،علاج کے بارے میں آگاہی بہت ضروری ہے بتائی گئی علامات میں سے کوئی بھی علامت آپ میں شدید طور پر سامنے آئے تو اپنا علاج خود نا کریں بلکہ فی الفور ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ اگر علاج نا کرایا جائے اور احتیاط نا برتی جائے تو یہ مرض قبل از وقت انسان کو موت کے منہ میں دھکیل سکتا ہے۔تاہم دوا ورزش اور غذا میں توازن سے اس موذی مرض کو مکمل کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے۔

– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9278#sthash.hTz9Wk5N.dpuf

Twitter @javerias