Posted in Uncategorized

پولیو کی روک تھام کیسے؟

July 15, 2014   ……جویریہ صدیق…… پاکستان میں صحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے ۔زبانی کلامی تو اس شعبے کی بحالی کے حوالے سے بہت سی باتیں کی جاتی ہیں لیکن عملی طور پر اقدامات کا فقدان ہے۔بات کی جائے اگر پولیو کی تو پولیو ایک ایسا مرض ہے جو دنیا بھر سےتقریبا ختم ہوچکا ہے لیکن سوائے تین ممالک کے جن میں پاکستان،نائیجیریا اور افغانستان شامل ہے۔ انسداد پولیو کے عالمی مانیٹرنگ بورڈ کی پولیو سے متعلق رپورٹ میں یہ حقیقت عیاں ہے کہ پاکستان پولیو کے پھیلائو میں سب سے آگے ہے۔دو ہزار چودہ میں دنیا میں پولیو کے شکار ہر پانچ میں سے چار کیسز پاکستان میں ہیں۔گذشتہ چھ ماہ میں پاکستان سے پولیو وائرس شام،اسرائیل اور غزہ منتقل ہوا۔اس صورتحال کے بعد عالمی ادارہ صحت نے پاکستانی مسافروں پر انسداد پولیو ویکسین کا سرٹیفکیٹ لازم قرار دے دیا ہے۔اگر کسی بھی مسافر نے پولیو ویکسن کی خوراک نا پی ہو اور انسداد پولیوویکسین سرٹیفیکٹ نا ہو تو اس مسافرکو ملک بدر کردیاجایےگا۔ پاکستان کے لیے صورتحال لمحہ فکریہ ہے کہ صحت کے شعبے میں پاکستان کا نام نائیجیریا اور افغانستان جیسے کم ترقی یافتہ ملکوں میں آتا ہے اور اب اس پر سفری پابندیاں بھی عائد کر دی گی ہیں۔

پاکستان میں اگر پولیو کی صورتحال کا جائزہ لیں تو دو ہزار گیارہ میں ایک سو اٹھانوے پولیو کیسز سامنے آئے،دو ہزار بارہ میں چھپن بچے اس مرض میں مبتلا ہویے۔دو ہزار تیرہ میں پچاسی کیسز مزید سامنے آئے،جائزہ لیں اگر دو ہزار چودہ کا تو پانچ جولائی تک ملک بھر میں نوے پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں فاٹا میں اڑسٹھ کیسز ہیں شمالی وزیرستان میں پچپن، جنوبی وزیرستان میں پانچ،خیبر ایجنسی میں چھ اور ایف آر بنوں میں دو شامل ہیں۔ خبیر پختون خواہ میں پندرہ کیسز سامنے آئے جن میں پانچ پشاور، نو بنوں، ایک مردان میں ہے۔صوبہ سندھ میں سات کیسز جن میں سات کے سات کراچی میں ہیں ایک بلدیہ، ایک اورنگی ،تین گڈاپ، ایک سائٹ اور ایک لانڈھی سے سامنے آیا۔بات ہو بلوچستان کی اور پنچاب کی تو اس سال دونوں صوبوں میں کوئی پولیو کیس اب تک سامنے نہیں آیا۔

خیبر پختون خوا اورفاٹا میں پولیو کیسز سیکورٹی خدشات اور انسداد پولیو ٹیمز پر حملوں کی وجہ سے متاثر ہونے والی مہمات کی وجہ سے زیادہ ہوئےہیں۔ پاکستانی عوام میں انسداد پولیو مہم کو لے کر بہت سے خدشات موجود ہیں یہ بات عام ہے کہ اس ویکسین کی وجہ سے انسان بانجھ پن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یہ صرف مفروضہ ہی ہے علماء اور ماہرین انسداد پولیو ویکسین کو بالکل محفوظ قرار دیتے ہیں۔نیز یہ کہ اس میں کوئی حرام اجزا بھی شامل نہیں۔بات صرف یہاں ہی ختم نہیں ہوتی انسداد پولیو مہم کو سب سے بڑا جھٹکا پاکستان میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کا اسامہ بن لادن کی جاسوسی ایک ہیلتھ ورکر کے روپ میں کیے جانے کی وجہ سے لگا ۔ اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد سے عسکریت پسندوں نے ہیلتھ ورکرز پر حملے شروع کردیئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ان حملوں میں خواتین ،مرد ہیلتھ ورکرز اور سیکورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی جان کی بازی ہاری۔ان تمام واقعات اور قدامت پسندی کی وجہ سے پولیو کیس سب سے زیادہ فاٹا اور کے پی کے میں ہیں اور یہاں سے ہی یہ وایرس دنیا بھر میں منتقل ہورہا ہے۔

حکومت اور محکمہ صحت پولیو سے نمٹنے کے لیے ہنگامی طور پر اقدامات کررہے ہیں لیکن فاٹا میں امن امان کی صورتحال اور فوجی آپریشن کے باعث اہداف مکمل کرنا ناممکن ہے ۔اس وقت آپریشن ضرب عضب کے باعث نقل مکانی کرنے والے نو لاکھ افراد کو بھی پولیو ویکسن دی جارہی ہے تاکہ اس مرض کو پھیلنے سے روکا جائے۔

پاکستان اس وقت مختلف انسداد پولیو مہمات کے ذریعے سے پولیو پر قابو کرنے کی کوشش کررہا،گھر گھر جا کر ہیلتھ ورکرز بچوں کو ویکسن پلارہے ہیں۔اسپتالوں میں بھی خصوصی کاونٹرز قائم ہیں اور بیرون ملک جانے والے مسافروں کے لیے ہوائی اڈوں پر پولیو ویکسن کی خوراک دی جارہی ہے۔ سعودیہ عرب نے بھی اس ضمن پاکستان کو ایک کروڑ پولیو ویکسن کی خوراکیں فراہم کی ہیں۔ یہ خوراک ہوائی اڈوں پر استعمال ہوگی۔

تاہم ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے صرف حکومت پر نہیں ہمیں توہم پرستی کی پٹی آنکھوں سے اتار کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم آنے والی نسلوں کو مفلوج مستقبل دینا چاہتے ہیں یا پھر روشن مستقبل ؟علماء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ انسداد پولیو ویکسن میں کوئی حرام اجزا نہیں نا ہی اس میں کوئی بانجھ پن پیدا کرنے کی اجزاء ہیں۔ علماء کا یہ بھی مزید کہنا ہے کہ ہیلتھ ورکرز پر حملے اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں ان کو روکنا ہوگا ۔اس کے ساتھ عالمی دنیا کو بھی اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ صحت کے اہلکاروں کا جاسوسی کی کاروایوں میں استعمال نا کیا جائے،صحت کے اہلکار صرف صحت سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ ہیلتھ ورکرز کی تنخواہ اور مراعات میں بھی اضافے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ شعبہ صحت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اگر ان کو مناسب مراعات فراہم کر دی جائیں تو یہ مزید مستعد ہوکر پولیو کے خلاف جنگ حصہ ڈال سکیں گے – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9974#sthash.ecjZ3rxi.dpuf

Posted in Uncategorized

پاکستان اور پولیو

January 15, 2014   …جویریہ صدیق

…پولیو ایک ایسا نا قابل علاج مرض ہے جو عمر بھر کی معذوری دے جاتا ہے۔ نائیجیریا، پاکستان اورافغانستان کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک میں اس کا خاتمہ ہوچکا ہے۔2011ء میں دنیا میں پولیو کے سب سے زیادہ 198کیسز پاکستان میں پائے گئے تھے جبکہ 2012ء میں پاکستان بھر میں پولیو کے 56 کیسز سامنے آئے اور 2013ء میں 58کیسز سامنے آئے جبکہ آج کی تاریخ تک مزید 6کیسز سامنے آچکے ہیں۔یوں 2014ء میں پولیو کیسزز کی تعداد 91ہوچکی ہے۔

پاکستان میں دوبارہ اس مرض کی پھیلنے کی وجہ غربت اور افلاس ہے۔ عوام الناس صاف پانی، نکاسی آب، خالص غذا اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

اس مرض کے پھیلنے کی دوسری بڑی وجہ معاشرتی رویہ اور قدامات پسندی بھی ہے۔ پاکستان کہ بہت سے حلقے انسداد پولیو ویکسین کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اپنے بچوں کو پولیو سے حفاظت کے قطرے پلانے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2012ء میں 60ہزار بچوں کے والدین نے اپنے بچوں کو قطرے پلوانے سے انکار کر دیا اور 2013میں 2لاکھ سے زائد بچے ویکسین سے محروم رہ گئے۔

شدت پسندی کی وجہ سے بھی پاکستان میں اس موذی مرض نے اپنا سر دوبارہ سے اٹھا یا ہے۔ بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے والی ٹیم پر پہلا حملہ 17جولائی 2012ء کو کراچی کے نواحی علاقے سہراب گوٹھ کے قریب ہوا جب قطرے پلانے کی مہم کے دوران پر فائرنگ سے عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ایک غیر ملکی ڈاکٹر زخمی ہوئے۔

اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ 21جولائی کو کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں ہی رونما ہوا جس میں بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے پر مامور عالمی ادارہ صحت کے ایک اہلکار اسحاق نور کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح اکتوبر میں صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کر کے انسداد پولیو ٹیم کے ایک رکن کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ان حملوں سے انسداد پولیو کی مہم براہ راست متاثر ہوئی کیونکہ ہر حملے کے بعد مقامی سطح پر یہ مہم معطل کی گئی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سال جون میں شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے ڈرون حملے جاری رہنے تک پولیو کے خلاف مہم پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد حکومت نے شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور باڑہ میں بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے کی مہم ملتوی کردی تھی لیکن اس مہم کو سب سے زیادہ اور بڑاجھٹکا اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں آپریشن کے بعد سامنے آنے والے حقائق کے نتیجے میں پہنچا جب یہ پتا چلا کہ اس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی بھی شامل ہوئے تھے۔ مبصرین کے مطابق اس کے بعد سے پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے دیکھنے میں آرہے ہیں۔

اس کے بعد پانچ خواتین رضاکاروں کو 9دسمبر کو کراچی اور پشاور میں نشانہ بنایا گیا اور یوں انسداد پولیو کی ویکسین لے کر جانے والی رضا کار فرزانہ، مدیحہ، فہمیدہ، نسیم اور کینز زندہ اپنے گھروں کو نہ لوٹ سکیں۔

بات ہو اگر 2013ء کی تو 18کے قریب ہیلتھ ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکار انسداد پولیو مہم کے دوران اپنی جان سے گئے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں انسدادِ پولیو کے سلسلے میں مذہبی علماء کانفرنس نے ایک مذمتی قراراد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے اہلکاروں کا جاسوسی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جانا غلط ہے۔ علما کانفرنس نے عالمی ادارہٴ صحت اور یونیسف سے کہا ہے کہ وہ اقوام عالم تک پیغام پہنچائیں کہ کوئی بھی ملک صحت ِ عامہ کی کارروائی کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہ کرے۔علما نے مزید کہا کہ صحت کے اہلکاروں پر حملے اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں جن کی انتہائی شدت سے مذمت ہونی چاہیے۔

حکومت پاکستان پولیو سے نمٹنے کے لیے ہنگامی طور پر اقدامات کررہی ہے لیکن قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن، عسکریت پسندوں اور ملک کے دوسرے حصوں میں انتہا پسندوں کی وجہ سے اہداف مکمل نہیں کر پارہی اور بچوں کی بڑی تعداد انسداد پولیو کے قطروں سے محروم ہیں۔ ماہرین صحت اور سماجیات کے مطابق حکومت علما،میڈیا اور عوام الناس کو ساتھ ملا کر اس مہم کا دوبارہ موٴثر طریقے سے آغاز کرے اور اس تاثر کو زائل کیا جائے کہ پولیو ویکسین مسلم آبادی کو کم کرنے کے لیے ایک مغربی سازش ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ انسداد پولیو ٹیمز کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کرنا بے حد ضروری ہیں۔ بڑے اور چھوٹے اسپتالوں میں انسداد پولیو ویکسین کی فراہمی اور ہوائی اڈوں پر بیرون ملک جانے والے بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے کے فوری انتظامات سے اس مرض کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔
Javeria Siddique is a Journalist and Award winning photographer.

Contact at https://twitter.com/javerias

See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9490#sthash.NuF3nHD5.dpuf