Posted in Pakistan

تحریک انصاف کی پارلیمنٹ میں واپسی !!

Posted On Tuesday, April 07, 2015   …..جویریہ صدیق…..
پی ٹی آئی نے سات ماہ سے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کررکھا تھا،126دن تک طویل دھرنا دیا ۔ہر روز پارلیمنٹ کے سامنے پارلیمنٹ کو جعلی اور بوگس قرار دیا جاتا رہا،کبھی ایمپائر کی انگلی ، کبھی اوئے اوئےتو کبھی استعفے ، کبھی دھواں دار تقاریر ، تو کبھی سول نافرمانی کی کال تو کبھی الزامات کی بوچھاڑ تو کبھی چار حلقے،تحریک انصاف نے تمام ہی جماعتوں کے قائدین کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔پھر بھی حکومت اور دیگر جماعتیں روٹھے ہوئوں کو منانے میں لگی رہیں اور یہ کفر 6اپریل کو ٹوٹا جب یمن کی صورتحال کے لیے بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پی ٹی آئی نے واپس اسمبلی میں آنے کا فیصلہ کرلیا۔خوش و خرم پی ٹی آئی کے ارکان جس وقت اسمبلی میں داخل ہوئے تو ایم کیو ایم ،جمعیت علمائے اسلام ف ، اے این پی اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے خوب احتجاج کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ تحریک انصاف کے ارکان کس حیثیت میں اسمبلی میں واپس آئے ہیں۔ظاہر سی بات سات ماہ تحریک انصاف نے بھی تو کم نشتر نا برسائے تھے ان سب جماعتوں پر اس ہی لیے اراکین اسمبلی نے موقع اچھا جانا اور اسمبلی ہال’’ گو عمران گو‘‘،پی ٹی آئی یو ٹرن لے کر آئی، معافی مانگو کے نعروں سے گونج اٹھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی بار بار درخواست کے بعد کچھ دیر تو ایوان میں خاموشی تو ہوئی لیکن پہلا سیشن یمن کے بجائے پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفوں پر بحث کی نظر ہوگیا۔ ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے کہا کہ پارلیمنٹ کا آج کا اجلاس غیر قانونی ہے جو رکن چالیس دن تک غیر حاضر رہے وہ مستعفی ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل کی شق 64 ون اور ٹو واضح ہے اس لیے تحریک انصاف کو واپس آنے کی اجازت دینا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ایوان کے باہر ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استعفے تین طلاقوں کی طرح ہے اس لیے نامحرموں کا اسمبلی میں کیا کام۔

اے این پی نے بھی تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لیا اور سینٹر زاہد خان نے کہا عمران خان کو یہ معلوم ہی نہیں کے وہ کیا کررہے ہیں اب ان کے پاس کیاجواز ہے اس اسمبلی میں آنے کا، جس اسمبلی کو وہ جعلی اور بوگس قرار دے چکے ہیں، تاہم اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے معاملے کو رفع دفع کرواتے ہوئے کہا کہ لڑائی کو لڑائی نہیں بلکہ بات چیت سے ختم کیا جائے۔تحریک انصاف کا واپس پارلیمنٹ آنا خوش آئند ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے بھی خوب پی ٹی آئی کی کلاس لی اور کہا کہ آج پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کو ایوان میں اجنبی تصور کیا جائے، آئین کے تحت استعفیٰ دینے والے خود بخود مستعفی ہوجاتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی جب ایوان کا ماحول گرم دیکھا تو وہ بھی یمن کو بھول کر پی ٹی آئی کی کلاس لینے لگے اور کہا اسمبلیوں کو جعلی کہنے والے آج کس منہ کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی والے شرم کریں اور حیا کریں،تاہم بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا حکومت خود پی ٹی آئی کو ایوان میں لائی ہے تو اب احتجاج کیوں ؟ حکومت کا لہجہ تلخ نہیں ہونا چاہیے۔ اس سب صورتحال کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت وزیر دفاع اور ایم کیو ایم کو خوب کھر ی کھری سنائیں اور کہا جوڈیشل کمیشن اصولی موقف تھا اور الیکشن میں دھاندلی ہوئی میں اب بھی اپنے موقف پر قائم ہوں ۔انہوں نے کہا کہ کیا میاں نوازشریف کو پتہ نہیں تھا کہ ان کے وزیر نے کیا بولنا ہے، ان کی موجودگی میں وزیر نے کس طرح کی زبان استعمال کی ایسی زبان تو کوئی تلنگا بھی نہیں استعمال کرتا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کے ہم پارلیمنٹ قومی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں جبکہ وزیر دفاع نے ذاتی معاملات کو ترجیح دی۔

تاہم اس تمام کشیدہ صورتحال میں اسپیکر نے صورتحال کو بخوبی سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے انہوں نے رولنگ دی کے تحریک انصاف کی پارلیمنٹ واپسی آئین کی خلاف ورزی نہیں آئین کی شق64 کے ساتھ سپریم کورٹ کا آڈر بھی پڑھا جائے۔سپریم کورٹ کے مطابق اسپیکر فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کہ کون مستعفی ہورہا ہے اور کون نہیں ۔ ایاز صادق نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے کوئی بھی اپنے استعفے کی تصدیق کے لیے نہیں آیا اس لیے استعفے منظور نہیں ہوئےلیکن جاوید ہاشمی اپنے استعفے کی تصدیق خود کرواگئے جو منظور ہوگیا تھا۔

استعفوں کا معاملہ اسمبلی کے فلور اور گیٹ نمبر ون تک محدود نہیں رہا بلکہ ن لیگ کے رہنما سید ظفر علی شاہ نے تحریک انصاف کے ارکان کی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ ظفر علی شاہ نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان سات ماہ قبل استعفا دے چکے ہیں اور آئین کی شق چونسٹھ ون اے اور ٹو اے کے مطابق جو رکن رضا کارانہ طور پر استعفیٰ دے اور چالیس دن مستقل غیر حاضر رہے تو اس کے بعد نشت خالی قرار دے دی جاتی ہے ۔ظفر علی شاہ نے کہا مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ سات مہینے تک بھی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ان استعفوں کی تصدیق نا کرسکے حالانکہ استعفے رضاکارانہ طور پر دئیے گئے تھے، یہ بات پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی میں بیٹھنے کا آئینی جواز کھو چکے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر شعیب رازق نے کہا یہ معاملہ اسپیکر اور ارکان کے درمیان تھا ارکان نے استعفیٰ دیا اور اسپیکر نے قبول نہیں کیا اس لیے اب جوڈیشل کے قیام کے بعد تحریک انصاف کا حق ہے کہ وہ اسمبلی واپس جاسکتے ہیں کیونکہ ان کے استعفے قبول نہیں کئے گئے۔

اگر پہلے ہی پی ٹی آئی جمہوری دائرے سے باہر نا جاتی تو آج پارلیمان واپسی پر مشکل اور خفت کا سامنا نا کرنا پڑتا مسائل کا حل اگر سڑکوں کے بجائے ایوان میں مذاکرات اور قانون سازی کرکے نکالا جاتا توآج ایوان میں اجنبیت کا احساس نا ہوتا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حالات کس طرف کروٹ لیتے ہیں اور استعفوں کا معاملہ کہاں تک جائے گا اور تحریک انصاف کتنی سنجیدگی کے ساتھ معاملات کو طے کرتی ہے۔گرجنے برسنے سے کچھ حاصل نہیںہوگا، معاملات کا حل صرف افہام و تفیہم سے ہی نکل سکتا ہے۔اب بہت ہوئے پرانے گلے شکوے کچھ مستقبل کی طرف پر بھی پیش قدمی ہو۔   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10782#sthash.B6wH3OpG.dpuf

Posted in Uncategorized

صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی

صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی

Posted On Monday, September 29, 2014   ………جویریہ صدیق………
پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں پنجاب ، سندھ،خیبر پختون خوااور بلوچستان کی ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ پلڈاٹ نے جاری کردی ہے۔ چاروں اسمبلیاں 2013کے عام انتخابات کے بعد وجود میں آئیں۔ پلڈاٹ کی رپورٹ میں میں 2013سے جون 2014تک کی صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی شامل کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ قانون سازی، ارکان کی حاضری، وزرائے اعلیٰ کی حاضری، قائمہ کمیٹیوں کی کارکردگی اور کام کے اوقات کار پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سب سے بہتر کارکردگی سندھ اسمبلی کی رہی،دوسرے نمبر پر خیبر پختون خوا ،تیسرے نمبر پر بلوچستان اور چوتھے نمبر پر پنجاب اسمبلی رہی۔ 12مہینے پر مشتمل پہلے پارلیمانی سال میں بلوچستان اسمبلی نے 54،خیبرپختون خواہ 72 ،پنجاب اسمبلی 70اور سندھ اسمبلی نے 57 دن کام کیا۔

سب سے پہلے بات ہوگی سندھ اسمبلی کی جو کارکردگی کے لحاظ سے اول نمبر پر رہی۔ صوبائی سندھ اسمبلی کے پہلے پارلیمانی سال کا آغاز 29مئی 2013سے شروع ہوکر 28مئی 2014کو مکمل ہوا۔ دس مہینے کی تاخیر کے بعد قائمہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، ہر محکمے کے لیے 37مجالس کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا۔ تاہم 37میں سے صرف 22مجالس فعال ہوئیں اور ان کے چیئرپرسن کا انتخاب ہوا۔ قانون سازی میں 36سرکاری بل قانون کی حیثیت اختیار کرگئے۔ ان میں سندھ کریمنل پراسیکیوشن سروس، ماحولیاتی تحفظ اور لوکل گورنمنٹ سے متعلقہ قوانین شامل ہیں۔صوبا ئی اسمبلی نےپیش کی جانے والی 65قراردادیں متفقہ طور پر منظور کیں۔ اسمبلی قواعد کے تحت 226قردادیں موصول ہوئیں جن میں سے 11کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا جن میں لڑکے اور لڑکی کی شادی کے لیے کم ازکم عمر 18سال، کم عمری کی شادی کا خاتمہ، صوبے میں گھریلو صنعتوں کا قیام، خواتین کو فنی تربیت کے لیے بلا سودی اسکیموں کا معتارف کرایا جانا شامل ہے۔ صوبائی اسمبلی سندھ کے پورے پہلے پارلیمانی سال کے دوران اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے 57نشستوں میں 27میں شرکت کی۔سندھ اسمبلی سے کوئی بھی وفد بیرون ملک نہیں گیا۔ اسمبلی نے اپنے 100ایام کار کے دوران 12اجلاس منعقد کیے جن میں اصل ورکنگ ڈے 57تھے۔ موجودہ اسمبلی نے اپنے پہلے سال میں قانون سازی کے حوالے سے اپنی کارکردگی میں گزشتہ اسمبلی کے اوسط کے حساب سے 58فیصد اضافہ کیا اور 174گھنٹے کام کیا۔

کارکردگی کے لحاظ سے خیبر پختون خوا اسمبلی دوسرے نمبر پر رہی، اگر اس کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل میں 7ماہ کی تاخیر ہوئی۔ بعد ازاں 46قائمہ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا جن میں سے صرف 17کا اجلاس ہوا۔ پہلے پارلیمانی سال میں 9کمیٹیوں کا اجلاس ہوا ہی نہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سب سے زیادہ 16اجلاس بلائے۔ ایوان میں پیش کیے جانے والے 39میں سے 28منظور ہوئے۔ غیرسرکاری 15مسوادت پیش ہوئے جن میں سے دو منظور ہوگئے۔ اسمبلی نے جن اہم قوانین کی منظوری دی ان میں معلومات کی رسائی کا قانون، احتساب کمیشن کا مثالی قانون۔موجودہ اسمبلی نے 100نشستوں کے مقابلے میں 104دن کام کیا۔ کل 243گھنٹے۔ اس اسمبلی میں124ارکان میں سے 75ارکان پہلی بار منتخب ہوکر ایوان میں آئےاورایوان میں اکثریت پاکستان تحریک انصاف کی ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ میں 604قراردادیں موصول ہوئیں، ان میں سے 34منظور ہوئیں۔ خبیر پختون خوا کے اسپیکر نے 3غیر ملکی دورے کیے اور اخراجات صوبائی اسمبلی خیبر پختوانخوا نے برداشت کیے۔ پہلے پارلیمانی سال کے دوران 12اجلاس ہوئے جن میں 8حکومت اور 4اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلائے گئے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے 75نشستوں میں سے 31میں حاضر رہے۔

تیسرے نمبر پر بلوچستان کی صوبائی اسمبلی رہی۔ اسمبلی کا پہلا اجلاس یکم جون 2013کو ہوا اور پہلا پارلیمانی سال 22مئی 2014کو مکمل ہوا۔ بلوچستان اسمبلی میں نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، پاکستان مسلم لیگ، مجلس وحدت المسلمین اور پاکستان مسلم لیگ ن نے مل کر حکومت بنائی۔ حزب اختلاف میں عوامی نیشنل پارٹی،جمعیت علمائے اسلام،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل شامل ہیں۔10ویں اسمبلی نے 96دن کام کیا اور 100دن کم ازکم ایام کار کا آئینی تقاضہ پورا نہیں کیا۔ اسمبلی نے صرف 142گھنٹے کام کیا۔ قائمہ کمیٹیوں کی بات ہو تو پارلیمانی سال کے اختتام تک صرف دو مجالس تشکیل ہوسکیں۔ اسمبلی نے 21قوانین متفقہ طور پر منظور کیے جن میں مسودہ قانون مالیات،لازمی تعلیم کا قانون 2014بھی شامل ہیں۔10ویں صوبائی اسمبلی نے 28حکومتی اور 38غیر سرکاری ارکان کی قراردادیں منظور کیں۔ان میں اہم ہینڈری میسح،نجی صنعتی یونٹوں اور دیگر کمپنیوں میں ملازمت کے لیے مقامی نوجوانوں کے لیے 70فیصد کوٹہ مختص، بلوچستان کی ساحلی پٹی کا نیا نام رکھنے اور پولیو مہم کی اہمیت کے حوالے سے قراردادیں شامل ہیں۔ پہلے پارلیمانی سال کے دوران بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے تین غیر ملکی دورے کیے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے 54نشستوں میں سے 26میں شرکت کی۔

پنجاب اسمبلی کی کارکردگی سب سے آخر میں رہی۔ پنجاب اسمبلی نے اپنا پہلا پارلیمانی سال 31مئی 2014میں مکمل کیا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے 70میں سے صرف 3اجلاس میں شرکت کی۔ اسپیکر رانا محمد اقبال کا رویہ نرم رہا اور تمام اجلاس ہی دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئے۔کل 8اجلاس بلائے گئے جن میں 70نشستیں ہوئیں۔ پنجاب اسمبلی کو بھی 7ماہ تاخیر کے بعد قائمہ کمیٹیاں قیام کرنے کا خیال آیا۔ 37حکومتی بل پیش ہوئے جن میں 33پاس ہوئے۔پہلے پارلیمانی سال میں آٹھ پرائیوٹ ممبر بل پیش کیے گئے جن میں سے ایک کلیئر ہوا۔پہلے پارلیمانی سال میں 213گھنٹے کام کیا گیا۔ 478قراردایں پیش ہوئیں۔ 628توجہ دلاؤ نو ٹس پیش کیے گیے جن میں سے صرف 48کا جواب موصول ہوا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی 14میٹنگز ہوئیں۔جو اہم بل پا س ہوکر قانون کا حصہ بنے ان میں پنجاب فنانس بل، پنجاب مینٹل ہیلتھ ترمیمی بل، ماں بچے اور نومولود بچوں کی صحت کا بل، باب پاکستان فاؤنڈیشن بل، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بل اہم ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے 213گھنٹے کام کیا۔

اس ہی رپورٹ میں کیے گئے سروے کے مطابق ملک کی بڑی تعداد نے اسمبلیوں کی پورے سال کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ ان کے مطابق عوام کے بڑے مسائل توانائی،مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی کے حوالے سے کوئی مؤثر قانون سازی ہی نہیں کی گئی۔نہ ہی عوامی نمائندوں نے عوام کے مسائل مؤثر طریقے سے ایوان میں پیش کیے۔ اس رپورٹ میں سفارشات کی گئیں کہ وقفۂ سوالات میں اضافہ ناگزیر ہے اور ہفتے میں ایک بار وزیر اعلیٰ خود جواب دیں۔ بجٹ دورانیے کو 11سے 13یوم بڑھا کر کم از کم 30تا 40دن کردیا جائے۔ہر روز کی کارروائی میں ایک گھنٹہ صرف عوامی اور حلقے کے مسائل کے لیے مختص ہو۔ قائمہ کمیٹیوں میں اہم شعبوں کے ماہر اور پوسٹ گریجوٹ طالب علموں سے بھی معاونت حاصل کریں۔ صوبائی اسمبلیوں میں پارلیمانی کیلنڈربنایا جائے اور اس کی پابندی ہو۔اس کے ساتھ ساتھ اسمبلی میں اسٹاف بھرتی کرتے وقت قواعد وضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10238#sthash.s0VwvDvM.dpuf

Posted in Uncategorized

صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی

September 29, 2014   ………جویریہ صدیق………
پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں پنجاب ، سندھ،خیبر پختون خوااور بلوچستان کی ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ پلڈاٹ نے جاری کردی ہے۔ چاروں اسمبلیاں 2013کے عام انتخابات کے بعد وجود میں آئیں۔ پلڈاٹ کی رپورٹ میں میں 2013سے جون 2014تک کی صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی شامل کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ قانون سازی، ارکان کی حاضری، وزرائے اعلیٰ کی حاضری، قائمہ کمیٹیوں کی کارکردگی اور کام کے اوقات کار پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سب سے بہتر کارکردگی سندھ اسمبلی کی رہی،دوسرے نمبر پر خیبر پختون خوا ،تیسرے نمبر پر بلوچستان اور چوتھے نمبر پر پنجاب اسمبلی رہی۔ 12مہینے پر مشتمل پہلے پارلیمانی سال میں بلوچستان اسمبلی نے 54،خیبرپختون خواہ 72 ،پنجاب اسمبلی 70اور سندھ اسمبلی نے 57 دن کام کیا۔

سب سے پہلے بات ہوگی سندھ اسمبلی کی جو کارکردگی کے لحاظ سے اول نمبر پر رہی۔ صوبائی سندھ اسمبلی کے پہلے پارلیمانی سال کا آغاز 29مئی 2013سے شروع ہوکر 28مئی 2014کو مکمل ہوا۔ دس مہینے کی تاخیر کے بعد قائمہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، ہر محکمے کے لیے 37مجالس کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا۔ تاہم 37میں سے صرف 22مجالس فعال ہوئیں اور ان کے چیئرپرسن کا انتخاب ہوا۔ قانون سازی میں 36سرکاری بل قانون کی حیثیت اختیار کرگئے۔ ان میں سندھ کریمنل پراسیکیوشن سروس، ماحولیاتی تحفظ اور لوکل گورنمنٹ سے متعلقہ قوانین شامل ہیں۔صوبا ئی اسمبلی نےپیش کی جانے والی 65قراردادیں متفقہ طور پر منظور کیں۔ اسمبلی قواعد کے تحت 226قردادیں موصول ہوئیں جن میں سے 11کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا جن میں لڑکے اور لڑکی کی شادی کے لیے کم ازکم عمر 18سال، کم عمری کی شادی کا خاتمہ، صوبے میں گھریلو صنعتوں کا قیام، خواتین کو فنی تربیت کے لیے بلا سودی اسکیموں کا معتارف کرایا جانا شامل ہے۔ صوبائی اسمبلی سندھ کے پورے پہلے پارلیمانی سال کے دوران اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے 57نشستوں میں 27میں شرکت کی۔سندھ اسمبلی سے کوئی بھی وفد بیرون ملک نہیں گیا۔ اسمبلی نے اپنے 100ایام کار کے دوران 12اجلاس منعقد کیے جن میں اصل ورکنگ ڈے 57تھے۔ موجودہ اسمبلی نے اپنے پہلے سال میں قانون سازی کے حوالے سے اپنی کارکردگی میں گزشتہ اسمبلی کے اوسط کے حساب سے 58فیصد اضافہ کیا اور 174گھنٹے کام کیا۔

کارکردگی کے لحاظ سے خیبر پختون خوا اسمبلی دوسرے نمبر پر رہی، اگر اس کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل میں 7ماہ کی تاخیر ہوئی۔ بعد ازاں 46قائمہ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا جن میں سے صرف 17کا اجلاس ہوا۔ پہلے پارلیمانی سال میں 9کمیٹیوں کا اجلاس ہوا ہی نہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سب سے زیادہ 16اجلاس بلائے۔ ایوان میں پیش کیے جانے والے 39میں سے 28منظور ہوئے۔ غیرسرکاری 15مسوادت پیش ہوئے جن میں سے دو منظور ہوگئے۔ اسمبلی نے جن اہم قوانین کی منظوری دی ان میں معلومات کی رسائی کا قانون، احتساب کمیشن کا مثالی قانون۔موجودہ اسمبلی نے 100نشستوں کے مقابلے میں 104دن کام کیا۔ کل 243گھنٹے۔ اس اسمبلی میں124ارکان میں سے 75ارکان پہلی بار منتخب ہوکر ایوان میں آئےاورایوان میں اکثریت پاکستان تحریک انصاف کی ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ میں 604قراردادیں موصول ہوئیں، ان میں سے 34منظور ہوئیں۔ خبیر پختون خوا کے اسپیکر نے 3غیر ملکی دورے کیے اور اخراجات صوبائی اسمبلی خیبر پختوانخوا نے برداشت کیے۔ پہلے پارلیمانی سال کے دوران 12اجلاس ہوئے جن میں 8حکومت اور 4اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلائے گئے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے 75نشستوں میں سے 31میں حاضر رہے۔

تیسرے نمبر پر بلوچستان کی صوبائی اسمبلی رہی۔ اسمبلی کا پہلا اجلاس یکم جون 2013کو ہوا اور پہلا پارلیمانی سال 22مئی 2014کو مکمل ہوا۔ بلوچستان اسمبلی میں نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، پاکستان مسلم لیگ، مجلس وحدت المسلمین اور پاکستان مسلم لیگ ن نے مل کر حکومت بنائی۔ حزب اختلاف میں عوامی نیشنل پارٹی،جمعیت علمائے اسلام،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل شامل ہیں۔10ویں اسمبلی نے 96دن کام کیا اور 100دن کم ازکم ایام کار کا آئینی تقاضہ پورا نہیں کیا۔ اسمبلی نے صرف 142گھنٹے کام کیا۔ قائمہ کمیٹیوں کی بات ہو تو پارلیمانی سال کے اختتام تک صرف دو مجالس تشکیل ہوسکیں۔ اسمبلی نے 21قوانین متفقہ طور پر منظور کیے جن میں مسودہ قانون مالیات،لازمی تعلیم کا قانون 2014بھی شامل ہیں۔10ویں صوبائی اسمبلی نے 28حکومتی اور 38غیر سرکاری ارکان کی قراردادیں منظور کیں۔ان میں اہم ہینڈری میسح،نجی صنعتی یونٹوں اور دیگر کمپنیوں میں ملازمت کے لیے مقامی نوجوانوں کے لیے 70فیصد کوٹہ مختص، بلوچستان کی ساحلی پٹی کا نیا نام رکھنے اور پولیو مہم کی اہمیت کے حوالے سے قراردادیں شامل ہیں۔ پہلے پارلیمانی سال کے دوران بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے تین غیر ملکی دورے کیے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے 54نشستوں میں سے 26میں شرکت کی۔

پنجاب اسمبلی کی کارکردگی سب سے آخر میں رہی۔ پنجاب اسمبلی نے اپنا پہلا پارلیمانی سال 31مئی 2014میں مکمل کیا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے 70میں سے صرف 3اجلاس میں شرکت کی۔ اسپیکر رانا محمد اقبال کا رویہ نرم رہا اور تمام اجلاس ہی دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئے۔کل 8اجلاس بلائے گئے جن میں 70نشستیں ہوئیں۔ پنجاب اسمبلی کو بھی 7ماہ تاخیر کے بعد قائمہ کمیٹیاں قیام کرنے کا خیال آیا۔ 37حکومتی بل پیش ہوئے جن میں 33پاس ہوئے۔پہلے پارلیمانی سال میں آٹھ پرائیوٹ ممبر بل پیش کیے گئے جن میں سے ایک کلیئر ہوا۔پہلے پارلیمانی سال میں 213گھنٹے کام کیا گیا۔ 478قراردایں پیش ہوئیں۔ 628توجہ دلاؤ نو ٹس پیش کیے گیے جن میں سے صرف 48کا جواب موصول ہوا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی 14میٹنگز ہوئیں۔جو اہم بل پا س ہوکر قانون کا حصہ بنے ان میں پنجاب فنانس بل، پنجاب مینٹل ہیلتھ ترمیمی بل، ماں بچے اور نومولود بچوں کی صحت کا بل، باب پاکستان فاؤنڈیشن بل، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بل اہم ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے 213گھنٹے کام کیا۔

اس ہی رپورٹ میں کیے گئے سروے کے مطابق ملک کی بڑی تعداد نے اسمبلیوں کی پورے سال کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ ان کے مطابق عوام کے بڑے مسائل توانائی،مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی کے حوالے سے کوئی مؤثر قانون سازی ہی نہیں کی گئی۔نہ ہی عوامی نمائندوں نے عوام کے مسائل مؤثر طریقے سے ایوان میں پیش کیے۔ اس رپورٹ میں سفارشات کی گئیں کہ وقفۂ سوالات میں اضافہ ناگزیر ہے اور ہفتے میں ایک بار وزیر اعلیٰ خود جواب دیں۔ بجٹ دورانیے کو 11سے 13یوم بڑھا کر کم از کم 30تا 40دن کردیا جائے۔ہر روز کی کارروائی میں ایک گھنٹہ صرف عوامی اور حلقے کے مسائل کے لیے مختص ہو۔ قائمہ کمیٹیوں میں اہم شعبوں کے ماہر اور پوسٹ گریجوٹ طالب علموں سے بھی معاونت حاصل کریں۔ صوبائی اسمبلیوں میں پارلیمانی کیلنڈربنایا جائے اور اس کی پابندی ہو۔اس کے ساتھ ساتھ اسمبلی میں اسٹاف بھرتی کرتے وقت قواعد وضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias

javeria.siddique@janggroup.com.pk   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10238#sthash.LIwJ1vpR.dpuf

Posted in Uncategorized

پہلا پارلیمانی سال اور ارکان کی کارکردگی

May 30, 2014   …جویریہ صدیق…

پاکستان کی چودہویں منتخب اسمبلی نے اپنا پہلا پارلیمانی سال مکمل کرلیا۔ یہ ایوان 2013 میں ہونے والے الیکشن کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ پہلے پارلیمانی سال کی مدت یکم جون 2013 سے 30 مئی 2014 پر مشتمل ہے۔اس بار ایوان میں اکثریت مسلم لیگ نواز کی ہے اوران کی نشستوں کی تعداد 190 ہے جن میں ایک 149 جنرل نشستیں، 35 مخصوص نشستیں اور 6 اقلیتی ارکان شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے بعد اسمبلی میں بڑی تعداد پیپلز پارٹی کی ہے جن کی نشستوں کی تعداد 46 ہے جس میں 37جنرل نشستیں، 8 مخصوص نشستیں اور ایک اقلیتی رکن کی نشست ہے۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کا نمبر ہے جو34 نشستوں کے ساتھ پارلیمان میں تیسرے نمبر پر ہے جن میں 27 جنرل،6 مخصوص اور ایک نشست اقلیتی رکن کی ہے۔ چوتھی بڑی جماعت ایم کیوایم ہے اور اس کے ارکان کی تعداد 24 ہے، جس میں 19 جنرل، 4 مخصوص، ایک اقلیتی نشست ہے۔ پانچویں نمبر پر جمعیت علمائے اسلام ہے، جس کی کل 13 نشستیں ہیں، 9 جنرل، 3 مخصوص اور ایک اقلیتی نشست۔ مسلم لیگ (ف) 5 ، جماعت اسلامی 4، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی 4، نیشنل عوامی پارٹی 2، پاکستان مسلم لیگ 2،اے این پی 2، بی این پی ایک، قومی وطن پارٹی شیر پاؤ گروپ ایک، مسلم لیگ ضیا ایک، نیشنل پارٹی ایک،عوامی مسلم لیگ ایک،اے جے ائی پی ایک، اے پی ایم ایل ایک اور آٹھ نشستوں کے ساتھ آزاد امیدوار نشستوں کے ساتھ نمایاں ہیں۔ قومی اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد 342 ہے۔

اس پارلیمانی سال کا آغازیکم جون دو ہزار تیرہ سے ہوا اورپارلیمانی سال کا آخری اجلاس پانچ مئی دوہزار چودہ سے شروع ہوا اور سولہ مئی دو ہزار چودہ تک جاری رہا۔ اس پارلیمانی سال میں گیارہ اجلاس ہوئے اور ایک اجلاس مشترکہ بھی تھا جس میں صدر پاکستان نے خطاب کیا۔ اگر کارکردگی کی بات کریں تو یوں پارلیمانی کارروائی میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں رہا جس میں ایوان سے تمام تین سو بیالیس ارکان موجود ہوں۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ایوان میں صرف سات بار آئے اور وزرا کا حال بھی کچھ ایسا ہی رہا، ایوان میں اکیس بار کورم نا پورا ہونے کی نشاندھی کی گئی۔

اپوزیشن بھی اس دوڑ میں پیچھے نا رہی، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پورے پارلیمانی سال میں صرف گیارہ بار ہی ایوان میںآ ئے۔ مولانا فضل الرحمان بھی کیوں پیچھے رہتے وہ بھی صرف پندرہ دن ایوان کو اپنا دیدار کرا گئے، یہی حال پرویز الہٰی کا بھی رہا۔ایوان کی کاروائی ایک سو اکتالیس دن چلی لیکن نیشنل پارٹی کے کامل خان اور آذاد امیدوار عثمان ترکئی صرف دو دن ہی ایوان میں آنے کا وقت نکال سکے۔ شاید ان سب معزز ممبران کو پارلیمان سے بھی کچھ زیادہ اہم کام نمٹانے ہوں گے۔ گیارہ بار اسمبلی کا اجلاس صرف اس ہی وجہ سے ملتوی ہوا کہ ارکان کی تعداد بہت کم تھی۔

پرائیویٹ ممبران کی طرف سے 43 بل ایوان میں پیش کیے گیے، جن میں سے ایک بھی منظور نا ہوسکا۔ گذشتہ پارلیمانی سال میں حکومت نے تیرہ بل اور بارہ آرڈیننس پیش کیے جن میں سے گیارہ بل منظور ہوئے جن میں فنانس بل دو ہزار تیرہ، فیڈرل کورٹ بل دوہزار چودہ، انسداد دہشت گردی ترمیمی بل دو ہزار چودہ، انسداد دہشت گردی دوسرا ترمیمی بل دو ہزار چودہ، لیگل پریکٹشنر و بار کونسل ترمیمی ایکٹ دو ہزار چودہ، نیشنل جوڈیشل کمیٹی ایکٹ دو ہزار چودہ،لاء اور جسٹس کمیشن آف پاکستان ترمیمی ایکٹ دوہزار چودہ، فیڈرل پبلک سروس کمیشن ترمیمی ایکٹ دو ہزار چودہ، سروے اور میپنگ ایکٹ دو ہزار چودہ، سروس ٹریبونل ترمیمی ایکٹ دو ہزار چودہ اور پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ شامل ہے۔

اگر ارکان کی کارکردگی اور حاضری کا جائزہ لیں تو فافن کے مطابق گیارہ اجلاس بلائے گئے، جن میں ننانوے نشستوں میں اسپیکر ایاز صادق تراسی بار ، ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی چھیاسٹھ بار ایوان میں آٰئے۔ لیڈر آف اپوزیشن خورشید شاہ ننانوے میں سے پیچھتر بار آئے اور نواز شریف وزیر اعظم پاکستان نے صرف سات بار ہی دیدار کرایا۔

پہلے پارلیمانی سال میں تو ایوان میں اراکین کی کارکردگی مایوس کن رہی اور صرف گیارہ بل ہی پاس ہوئے جن میں سے کوئی بھی قانون کی صورت اختیار نا کرسکا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ ایوان بالا میں اکثریت پی پی کی ہے اور ایوان زیریں میں مسلم لیگ کی۔ حکومتی ارکان کی بھی عدم توجہی عروج پر رہی اور وہ ایوان سے زیادہ تر غیر حاضر رہے۔ امید پر دنیا قائم ہے دو جون سے دوسرے پارلیمانی سال کا آغاز ہو رہا ہے اور عوام کی یہ خواہش ہے ان کے منتخب نمائندے دوسرے پارلیمانی سال میں دل جمعی کے ساتھ کام کریں اور حاضری کو بھی یقینی بنایں اور موثر قانون سازی کریں تاکہ عوام کو اسکے ثمرات مل سکیں۔ – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=9876#sthash.7irsL1hi.dpuf