Posted in media, Pakistan

ٹک ٹاک، ہنی ٹریپ اور پاکستان

تحریر جویریہ صدیق 

میں اتنی قدامت پسند تو نہیں کہ تفریح کو بند کرنے کی بات کرو لیکن اتنی روشن خیال بھی نہیں کہ بے حیائی کو تفریح مان کر اس سپورٹ کرو۔ٹک ٹاک ایک نئ وباء جس نےپاکستان میں لپیٹ میں لے لایا ہے۔جس کا دل کرتا ہے کچھ بھی بنا کر پوسٹ کردیتا ہے ۔بچے بڑے بوڑھے خواتین عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں، گانوں پر ناچ، ڈائلاگز پر اداکاری تو کسی بھی اجنبی کے ساتھ ویڈیو جوڑ کر مکالمہ یا ناچ گانا یہ ٹک ٹاک کی پٹاری جس میں بہت کچھ ہے۔بچوں کے لئے تو بلکل مناسب ایپ نہیں لیکن اکثر ماں باپ غافل ہیں کہ بچے کیا کررہے ہیں ۔

ٹک ٹاک کی دنیا میں وہ لوگ بھی کود پڑے جو پہلے بازار حسن کی زینت تھے چونکہ بازار ختم ہوگئے تو یہ عام علاقوں میں چھپ کر اپنا کاروبار کرنے لگے ان کے گاہک بظاہر اس معاشرے کے مہذب افراد کہلاتے ہیں ۔ان افراد نے اپنے بزنس کے پھیلاو کے لئے ٹاک ٹاک کا خوب استعمال کیا یہاں تک کہ کچھ اس ملک کی ان ہستیوں تک پہنچ گئ جو خود کو اس ملک کا کرتا دھرتا کہلاتے ہیں ۔
images (6)
گاہک اور طوائف کے درمیان بھی کچھ راز داری کی شرائط طے ہوتی ہوگی لیکن اگر پیسے لے کر تماشا سرعام لگا دیا جائے تو اس کو بلیک میلنگ کہتے ہیں ۔اب یہ ہنی ٹریپ کسی کے ایماء پر کیا گیا یہ بھنورے عادت سے مجبور پھولوں پر منڈلانے لگے یہ تو سوچنے کی بات ہے لیکن اگر ملک کی اشرافیہ خود کو ٹاک ٹاک کے لیول تک گرا لے گی تو یہ ان کے عہدے کی توہین ہے۔بعض پھول دیکھنے میں تو خوشنما ہوتے ہیں لیکن جب مکھے اور بھنورے ان کے پاس آتے ہیں تو یہ پھول انکو سالم نگل جاتے ہیں ۔
پاکستان میں بہت سے ہنی ٹریپ طاقت کے ایوانوں میں دیکھے گئے ۔کچھ میں معاملہ پیسوں سے ختم ہوگیا تو کچھ میں شادیاں کرنی پڑ گئ جوکہ بعد میں طلاق کی نہج پر پہنچ کر ختم ہوگئی ۔مرد ہے دل تو رکھتا ہے زرا سا چلبلا پن دیکھا، زرا سی خوبصورتی اور شرارت دیکھی دل پھسل گیا بعد میں مذہبی حدود توڑنے کے بعد پریشانی پشیمانی ہی ملی۔ہمارے ہاں مرد سمجھتا ہے اسکو سب کرنے کی اجازت ہے وہ بیوی کے ہوتے ہوئے گرل فرینڈ، دوستیں اور رکھیل رکھ سکتا ہے ۔لیکن ایسا نہیں ہے مرد صرف دوسرا نکاح کرسکتا ہے وہ بھی جب وہ دونوں میں 
برابری کرسکے ۔
 مرد کو صرف اپنی شریک حیات تک محدود رہنا چاہئے جو مرد اخلاقی سماجی اور مذہبی حدود کو توڑ کر ناجائز تعلقات استور کرتے ہیں اس کا خمیازہ نا صرف وہ بلکے انکی اگلی نسل بھی انکے اثرات سے محفوظ نہیں رہتی ۔اس لیے مرد اپنی شریک حیات کا دل نہ توڑے جو پابندی عورت پر ہے وہ ہی مرد پر ہے زنا دونوں کے لئے حرام ہے۔
گندی صحبت انسان کو گندا کردیتی ہے پہلے لوگوں سے فائدہ لینا ،انکے پیسے پر عیش کرنا ،ان سے دوستیاں کرنا بعد میں ان کے پیغامات ریکارڈ کرکے پھیلا دینا، پھر عورت کارڈ کھیلنا اور یہ کہنا کہ پاکستان میں عورت محفوظ نہیں مکاری کی انتہا ہے۔لکھنو کی طوائفوں کے پاس لوگ تہذیب سیکھنے جاتے تھے شاید ڈیجیٹل طوائفوں کے کوئی اصول نہیں ۔
Posted in child-sexual abuse, human-rights

بچوں کو جنسی تشدد سے بچائیں

تحریر جویریہ صدیق 

 

پاکستانی بچے جنسی تشدد کا شکار ہورہے اور معاشرتی خاموشی و سکوت اس برائی پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔عام طور پر خاندان بچے کو قصوروار ٹھہرا کر اسے خاموش رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔جبکے یہ بات یاد رکھنی چاہیے ایک معصوم بچہ جوکہ باہر کی دنیا کی گندگی اور خطرات سے واقف نہیں آپ اسکو مورد الزام نہیں ٹہرا سکتے۔حال ہی میں ایک پھر قصور شہر میں تین بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا ۔جو حکومت اور پولیس کی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہیں کہ بچے اغوا ہورہے ہیں قتل ہورہے ہیں لیکن عوام کی کوئی شنوائی نہیں ۔
یہاں پر یہ سوال بھی جنم دیتا ہے کہ ہمارے بچوں کو کس کس سے خطرہ ہے اور ہم انہیں جنسی تشدد سے بچا کیسے سکتے ہیں۔
اس کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنسی تشدد سے مراد کیا ہے اٹھارہ سال سے کم عمر انسان بچہ ہے کوئی بھی بالغ شخص بچے کے پوشیدہ اعضاء کو ہاتھ لگایے،چومے،بچے کےاعضاء دیکھے،بچے کی برہنہ ویڈیو بنایے،جنسی زیادتی کرے یا بد فعلی یا بچوں کو مجبور کرے کہ بالغوں کے اعضا کو ہاتھ لگایے یہ سب جنسی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ عام طور پر ۵ سے ۱۲ سال کی عمر کے درمیان بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔
بچے صرف باہر ہی جنسی تشدد کا نشانہ نہیں بنتے بلکے گھر میں بھی یہ خطرہ ان پر منڈلاتا ہے بہت سے بچے اپنے انکلز،رشتہ داروں، گھروں میں ملازموں ،کزنز اور کچھ کیسز میں خواتین کی ہوس کا نشانہ بنتے ہیں۔کچھ بچےسکولز،ٹیوشنز،دوکاندار،محلے داروں ،اپنےمذہبی اساتذہ،وین بس اور کار ڈرایور کی حیوانیات کا شکار بن جاتے ہیں۔یہ بات لازم نہیں کہ بچے پر حملہ کویی عادی مجرم کرے گا بظاہر بہت شریف نظر آنے والے افراد اس مکروہ فعل کو انجام دیتے ہیں۔یہ مسلہ تمام سماجی طبقات کا مسلہ ہے۔
اس تمام صورتحال سے بچانے کے لیے ہمیں اپنے بچوں کو اس حوالے سے آگاہی دینا ہوگی۔ہمیں بچوں کو انکے جسم کے حوالے سے اور اپنی حفاظت کیسے کی جایے اس بارے میں انہیں مکمل اگاہی دینا ہوگی۔
بچوں کو یہ بتایا جایے کہ انکے جسم کے پوشیدہ حصے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔صرف ان کی ماما انہیں نہلا اور کپڑے تبدیل کرواسکتی ہیں اس کے علاوہ نانی دادی بڑی بہن یا ملازمہ وہ بھی والدین کی اجازت کے بعد یہ کام کرسکتی ہیں۔ ورکنگ خواتین کے بچوں کی زمہ داری اکثر انکے گھرکام کرنے والوں پر ہوتی ہے۔تاہم آپ اپنے ملازمین پر بھی مکمل اعتماد نہیں کرسکتے اپنے گھر کے بڑوں کو کہیں کہ انکی نگرانی میں بچے کے کام کیے جایں،اگر ورکنگ لیڈیز کا بجٹ اجازت دیتا ہے تو وہ بچوں کے کمرے اور لاونچ میں کیمرہ لگا لیں تاکہ دفتر سے بھی وہ اپنےبچے پر نظر رکھ سکیں۔اگر یہ سب ممکن نا ہو تو اپنے آفس والوں کو قائل کریں کہ آفس میں بچوں کی نرسرئ ہونی چاہیے تاکہ کام کے ساتھ ساتھ خاتون اپنے بچے کا بھی مکمل خیال کرسکے۔یہاں پر ایک بات کرنا بہت ضروری ہے کہ بچہ صرف ماں کی زمہ داری نہیں باپ بھی اسکی پرورش اور حفاظت کا مکمل ذمہ دار ہے۔
بچوں کو یہ بتایا جایے اگر انکوکوئی ہاتھ لگایے جس سے انکو برا محسوس ہو یا کویی انکے پوشیدہ حصے ( گھر میں ان اعضا کا آپ جو بھی نام لیتے ہیں اس ہی نام سے انہیں بتایں) کو ہاتھ لگایں تو وہ فوری طور پر آپ کوبتایں، شور مچا دیں اور اس جگہ سے بھاگ جایں اور سیدھا آپ کو شکایت کریں۔اگر آپ گھر پر نہیں ہیں تو آپ کو فون پر اطلا ع کریں یا گھر میں موجود کسی اور بڑے کو اعتماد میں لیں۔
بعض اوقات اگر کویی بچہ جنسی تشدد کا شکار ہو تو وہ خود کو مجرم محسوس کرنے لگتا ہے اور سہم کر رہ جاتا ہے۔جب بچے کا خوف زیادہ بڑھ جایے تو اس میں یہ علاماتیں نظر آنے لگتی ہیں۔بچے کی نیند خراب ہوتی ہے، وہ ڈرتا ہے، بستر گیلا کرتا ہے، گھر سے باہر جانے سے انکار کرتا ہے۔ سکول نا جانے کی ضد کرتا ہے بولنا کھیلنا کم کردیتا ہے۔ جلدی تھک جاتا ہے۔ ڈیپریشن کا شکار ہوجاتا ہے ،بعض اوقات بہت غصہ کرتا ہے اس کا جسم درد کرتا ہےاور جنسی زیادتی کی صورت میں اسکے نازک اعضاء سے خون رستا ہے اور زخم بھی ہوتے ہیں۔بعض اوقات بچہ خودکشی تک پر آجاتا ہے۔یہ علامات مختلف ایج گروپ میں مزید مخلتف ہوسکتی ہیں۔
اس صورتحال میں ماں یا باپ میں سے کویی بھی ایک بچے کو اعتماد میں لے کر ساری صورتحال کا پتہ کرے ۔اس کے لیے ماہر نفیسات کی بھی مدد لی جاسکتی ہے۔والدین خود بھی انٹرنیٹ سے مواد حاصل کرکے بچے کی مدد کرسکتے ہیں۔کرییر دولت سب انسان حاصل کرسکتا ہے لیکن صحت مند اولاد ہر بار نصیب نہیں ہوتی۔ جنسی تشدد کسی بھی بچے کو نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا کردیتا ہے۔اس لیے اپنے بچوں کو مکمل وقت دیں انہیں اپنا دوست بنایں تاکہ وہ اپنے دل کی ہر بات آپ سے کر سکیں۔
اگر بچہ خدانخواستہ جنسی تشدد کا شکار ہوگیا ہے تو اس کے علاج کے ساتھ اس کو روزمرہ زندگی کی طرف واپس لاییں اسکو سکول خود چھوڑ کر آئیں اور واپسی پر بھی خود لیں۔اگر اسکے ساتھ بیٹھنا بھی پڑے تو ساتھ بیٹھیں ،اسکو خود پارک لے کر جاییں اسکے ساتھ کھیلیں۔اسکو مکمل توجہ دیں اور اسکی بات سنیں۔اس ضمن اساتذہ بھی بہت بڑا رول ادا کرسکتے ہیں اور بڑے بہن بھایی بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ بات رکھیں بچہ اور بچی دونوں خطرے کی زد میں ہوتے ہیں تو دونوں کو مکمل تعلیم دی جایے کہ کس طرح سے وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنایں۔بچوں کو اس بات کی تلقین کریں کہ وہ  ملازم رشتہ داروں اور اجنبیوں سے مناسب فاصلہ رکھیں کسی بھی شخص کی گود میں نا بیٹھیں اور آپ کی اجازت کے بنا کسی سے تحفہ نالیں۔اگر والدین گھر پر نہیں باہر گئے ہوئے ہیں تو بچوں کو نانا نانی دادا دادی یا بڑے بہن بھایی کے پاس چھوڑ کر جائیں انہیں ملازموں کے ساتھ اکیلا نا چھوڑیں۔آٹھ سال سے بڑے بچوں کو اپنی حفاظت کے حوالے سے کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔کبھی بھی اپنے بچے کو بازار ٹیوشن اور پارک اکیلا نا بھیجیں۔
رابعہ خان ماہر نفسیات ہیں 12 سال سے وہ اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ فیس بک پر اپنے پیج Healing-Souls-Rabia-Khan
سے شہریوں کو آگاہی فراہم کرتی ہیں ان کے مطابق اکثر بچے اس وجہ سے بھی جنسی تشدد کا شکار ہوجاتے ہیں جب انہیں گھر سے مکمل توجہ نہیں مل رہی ہوتی ۔ان پر جنسی تشدد کرنے والا شخص اس بات سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے کہ بہت عرصہ انکے گھر میں یہ بات کسی کو بھی معلوم نہیں ہوگی نا ہی یہ بچہ خود بول سکے گا ۔بچے کو وہ شروع میں اپنے قریب کرنے کے لئے چاکلیٹ ٹافیوں آئیس کریم اور دیگر تحائف کا استعمال کرتا ہے جب بچے کا اعتماد جیت لیتا ہے اسکے بعد اپنے جال میں پھنس لیتا ہے۔وہ کہتی ہیں ۔
ماں باپ کو چاہیے وہ بلاوجہ بچوں کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ نا کریں انہیں اعتماد دیں ۔اگر بچہ کسی چیز سے انکار کررہا ہے تو اسکے انکار کو زبردستی اقرار میں تبدیل نا کریں اور وجہ جانیں بچہ منع کیوں کررہا ہے۔بچے جھوٹ نہیں بول رہے ہوتے وہ اتنی کم عمر میں کہانیاں نہیں بنا سکتے ۔والدین اپنی سوشل لائف ورکنگ لائف میں سے اپنی اولاد کے لئے بھی وقت نکالیں ۔
رابعہ خان کہتی ہیں بعض اوقات سب تعلیم اور آگاہی کے باوجود بچے جنسی تشدد کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ بچے معصوم ہیں اور انکی تاک میں بیٹھے لوگ شاطر ہیں ۔والدین تب بھی بچے کو الزام نہیں دے سکتے ۔سانحے کی صورت میں بچے کی بحالی پر مکمل توجہ دیں وہ علاج کے بعد دوبارہ نارمل زندگی کی طرف لوٹ جائے گا۔
ہم میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد اور سول سوساسٹی کے ممبرا ن بھی اس ضمن بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کسی بچے کو بھی تکلیف میں دیکھ کر ہم اس کے والدین کو رازداری سے آگاہ کرسکتے ہیں۔کسی بھی بچے کو اکیلا دیکھ کر اسکے گھر تک پہنچا سکتے ہیں اور اسکے والدین سے یہ گزارش کریں کہ بچے کو اکیلا باہر نا بھیجیں۔اسکے ساتھ اپنے اردگرد بہت سے والدین کو اس حوالے سے آگاہی دیں کہ انکا بچہ گھر اور باہر کن خطرات سے دوچار ہوسکتا ہے۔یہ سانحہ کسی بھی عمر کے بچے کے ساتھ پیش آسکتا ہے بچہ کبھی بھی یہ سانحہ بھول نہیں پاتا اس لیے اسکو چپ یا خاموش کرنا مسلے کا حل نہیں ہے۔اسکو قصوروار نہیں ٹہرنا چاہیے اس کے ساتھ نرمی برتے ہویے اسکے علاج اور مکمل بحالی طرف توجہ دینا چاہیے ۔بچوں کو خطرہ صرف باہر نہیں گھر میں بھی موجود کچھ افراد سے ہوتا ہے یہ بہت چالاکی سے بچوں کا پھنس لیتے ہیں اس لیے اپنے بچوں کا مکمل خیال کریں۔ہمارے بچے اور بچیاں دونوں خطرے کی زد میں ہیں ہم سب مل کر ہی ان کی حفاظت کرسکتے ہیں۔جنسی تبدیلیوں اور تولیدی صحت پر بات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔بلوغت کے دور سے گزرنے والوں بچوں کو ماں باپ کی خصوصی ضرورت ہے انہیں جسمانی تبدیلوں کے بارے مکمل اگاہی دیں انکے سرکل پر نظر رکھیں انکی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کو بھی اپنے علم میں لایں کہیں انکو کویی بلیک میل تو نہیں کررہا۔اپنے بچوں کی مالی ضروریات اور جذباتی خواہشات کا خیال کریں تاکہ وہ استحسال کا شکار نا ہوسکیں۔آخر میں ایک بہت ضروری گزارش اگر کوئی بچہ یا بچی جنسی تشدد کا شکار ہوجائے تو اس کے لئے انصاف کی آواز اٹھانے سے پہلے اس بچے اور بچی اسکے خاندان کی پرایویسی کا خیال کریں اس کی
تصاویر اور شناخت نا ظاہر کریں ۔

— جو بچے غربت کے باعث گھروں سے دور ہیں وہ جنسی زیادتی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں یہاں پر لڑکے اور لڑکی دونوں اس کی زد میں آتے ہیں ۔جس کا واحد حل یہ ہے کہ ان بچوں کو حکومت اور مخیر حضرات ملازمتوں سے ہٹائیں اور ان کی تعلیم کھانے پینے اور رہائش کا بندوبست کریں ۔بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے غلیظ لوگوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ دیگر لوگ یہ مکروہ فعل کرنےکی ہمت نہ کریں ۔

IMG-20171001-WA0229IMG-20171001-WA0228IMG-20171001-WA0230

 

 

 Javeria Siddique
 Journalist and Photographer  
 Turkish Radio and Television Corporation 
 Author of Book on Army Public School Attack Peshawar 
Posted in health, Javeria Siddique, Pakistan, rain

ڈینگی بخار احتیاط واحد حل تحریر جویریہ صدیق

Screenshot_20190903-233809_Chrome
تحریر  …..جویریہ صدیق…..
ڈینگی بخار نے آج کل پھر عوام کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ہے ،کراچی، راولپنڈی، ملتان اور پشاور کے عوام اس بخار سے سب سے زیادہ متاثر ہوئےہیں ۔
ڈینگی بخار کا علاج اگر بروقت نا کروایا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، ڈینگی بخار مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، یہ مچھر صاف پانی پر افزائش پاتا ہے اور اس کے کاٹنے سے انسان ڈینگی بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
یہ مچھر زیادہ تر گھروں میں افزائش پاتا ہے، اس مچھر کی ایک مخصوص پہچان ہے اس کے جسم پر سیاہ سفید نشان ہوتے ہیں، ڈینگی پھیلانے والا مچھر زیادہ تر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے، اس مچھر کے کاٹنے سے ہر سال کروڑوں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔
ڈینگی چھوت کی بیماری نہیں ہے کسی متاثرہ مریض سے یہ صحت مند شخص کو نہیں ہوتا، یہ ایک مخصوص مچھر aedes aegypiti کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، ہر سال بائیس ہزار سے زائد افراد اس بخار کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
اس بخار کی علامتیں چار سے چھ دن میں ظاہر ہوتی ہیں، اچانک 104 فارن ہائٹ تکتیز بخار ، سر میں درد،جوڑوں میں درد،آنکھوں کے پیچھے درد، قے، جسم پر سرخ دھبے اس بخار کی علامات میں شامل ہیں، اگر اس کے علاج پر توجہ نا دی جائے تو یہ ڈینگی بخار ڈینگی ہیمرجک فیور میں تبدیل ہو جاتا ہے،جس کے باعث خون میں سفید خلیے بہت کم ہوجاتے ہیں، بلڈ پریشر لو ہوجاتا ہے، مسوڑوں، ناک، منہ سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے اور جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، انسان کومہ میں چلا جاتا ہے اور اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
ڈینگی بخار کو ایک بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے تشخیص کیا جاتا ہے، ٹیسٹ اگر مثبت آجائے تو فوری طور پر علاج شروع کیا جاتا ہے، اس مرض کے لئے کوئی مخصوص دوا تو دستیاب نہیں ہے، ڈاکٹر مریض کے جسم میں نمکیات پانی کی مقدار کو زیادہ کرتے ہیں اور ساتھ میں انہیں درد کو کم کرنے کی ادویات دی جاتی ہیں، ڈینگی ہمیرجک فیور میں پلیٹ لیٹس لگائی جاتی ہیں،اس مرض سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے.انسان خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائے۔
ڈینگی بخار سے بچنے کے لئے یہ احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں، سب پہلے تو کسی بھی جگہ پر پانی کھڑا نہ ہونے دیں، اگر پانی ذخیرہ کرنا ہو تو اس کو لازمی طور پر ڈھانپ دیں، گھر میں لگے پودوں اور گملوں میں پانی جمع نا ہونے دیں، کوڑاکرکٹ جمع نہ ہونے دیں، پرانے ٹائر خاص طور پر ان مچھروں کی آماجگاہ ہوتے ہیں انہیں گھر پر نا رکھیں، گھر میں پانی کی ٹینکی کو ڈھانپ کر رکھیں، باتھ روم میں بھی پانی کھڑا نا ہونے دیں اور اس کا دروازہ بند رکھیں، روم کولرز میں سے پانی نکال دیں، اسٹور کی بھی صفائی کریں اور وہاں بھی اسپرے کریں، اگر تب بھی مچھروں سے نجات نا ہو تو مقامی انتظامیہ سے اسپرے کی درخواست کریں۔
اپنی حفاظت کے لئےمچھر مار اسپرے استعمال کریں یا مچھربھگائو لوشن استعمال کریں، پورے بازو کی قمیض پہنیں اور جو حصہ کپڑے سے نا ڈھکا ہو جیسا ہاتھ ، پائوں، گردن وغیرہ وہاں پر لوشن لگائیں، گھر میں جالی لگوائیں اور بلاضرورت کھڑکیاں نا کھو لیں، ڈینگی کا مچھر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ کاٹتا ہے، اس لئے اس وقت خاص طور پر احتیاط کریں، سوتے وقت نیٹ کے اندر سوئیںاورکوائیل کا استعمال کریں۔
ڈینگی کا علاج اگر بروقت شروع کروالیا جائے تو مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے، اس بات کا خاص خیال رکھاجائےکہ مریض کوپانی ،جوس ،دودھ ،فروٹس اور یخنی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کروایا جائے، سیب کے جوس میں لیموں کا عرق بھی مریض میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے، اس کو ہرگز بھی اسپرین نا دی جائے۔
تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ستمبر، اکتوبر اور نومبر جو ڈینگی مچھر کے افزائش کے ماہ ہیں، ان میں متواتر اسپرے کروائیں، جہاں پانی کھڑا ہو وہاں پر خاص طور پر اسپرے بہت ضروری ہے۔
عوام میں اس مرض سے بچنے کے لئے آگاہی پھیلائیں، اسپتالوں میں ڈینگی بخار سے متعلق معلوماتی کائونٹر قائم کئے جائیں، اس مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے اگر ان مچھروں کی افزائش نا ہونے دی جائے، 2011 جیسی صورتحال سے بچنے کے لئے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی حکومتوں کو کام شروع کردینا چاہئے۔
Javeria Siddique 
Twitter @javerias

یہ تحریر 2015 میں شائع ہوئی ۔

Posted in Army, media, Pakistan

میڈیا ، سیلف سنسر شپ اور جبری برطرفیاں

میڈیا ، سیلف سنسر شپ اور جبری برطرفیاں

جویریہ صدیق

20181018_205310

اسلام آباد:

 سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد جب میں نے شہدا پر کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا تو اندر ایک خوف تھا کہ کسی دن کوئی دیو قامت اہلکار گھر کا داخلی دروازہ توڑتے ہوئے آئیں گے اور میری گردن پر بوٹ رکھ کر مسودہ لے جائیں گے ۔انٹرویو کے دوران میں اکثر کہتی رہی کہ یہ مضامین دسمبر 2015 میں شائع ہوں گے لیکن کتاب کا تذکرہ کھل کر کسی سے نہیں کررہی تھی ۔کتاب کا ایک حرف حرف خود ٹائپ کیا۔ انگلیاں آنکھیں درد کرنے لگتیں لیکن بس یہ خوف طاری تھا بات باہر نکلی تو کتاب نہیں چھپ پائے گئ ۔کتاب بہت مشکل سے مکمل ہوئی کیونکہ جتنے لوگ اسلام آباد اور پشاور سے سانحہ کور کررہے تھے انہوں نے ایک نمبر تک شئیر کرنا گوارا نہیں کیا۔میں اپنی مدد آپ کے تحت پہلے خاندان تک پہنچی اور اسکے کے بعد ایک ایک کرکے بیشتر خاندان رابطے میں آگئے۔کتاب میں صرف یاداشتیں ہیں شائع ہوئی میں نے لواحقین کو تحفے میں دی اور کہا اتنی محنت میں نے کسی مقبولیت یا پیسے کمانے کے لئے نہیں کی ۔یہ میری طرف سے شہدا کے خاندانوں کے لئے ایک تحفہ ہے جس میں تمام شہدا کی تفصیل درج ہے اور انکی تصاویر شامل ہیں تاکہ تاریخ انہیں ہمیشہ یاد رکھے ۔

کتاب شائع ہوئے 3 سال ہوگئے لیکن مجھے کسی قسم کی دھمکی یا سنسر شپ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔کیونکہ وقت کے ساتھ حالات بدل بہت حد تک بدل گئے۔ضیاء دور ہماری نسل نے نہیں دیکھا سنا ہے اس دور میں بہت مظالم ہوئے بولنے کی آزادی نہیں تھی۔نواز شریف اور بے نظیر کے دو ادوار ہماری نسل کے بچپن کا دور تھا اس وقت سرکاری میڈیا، این ٹی ایم ، ریڈیو پاکستان، ایف ایم ون او ون ،ون ہنڈرڈ ، کارٹون نیٹ ورک  اور کچھ اخبارات اور رسالے شائع ہوتے تھے۔جس وقت پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو سب لوگ بہت ڈرے ہوئے تھے کہ پرویز مشرف بولنے لکھنے کی آزادی چھین لیں گے۔ان کے دور میں 3 نومبر کی ایمرجنسی اور میڈیا پر بندش رہی لیکن پرائیوٹ میڈیا کو آواز دینے کا سہرا بھی اس ہی آمر پرویز مشرف کو جاتا ہے۔۔

جس وقت میں نے اے ٹی وی پارلیمنٹ ڈائری کی میزبان کے طور پر جوائن کیا تو پی پی پی اقتدار میں آچکی تھی۔اس زمانے میں روز میڈیا کی عدالت لگتی تھی روز پی پی پی کا میڈیا ٹرائل ہوتا تھا اور وہ خندہ پیشانی سے اس سب کا سامنا کرتے رہے ۔کبھی کسی چینل اینکر یا رپورٹر کا بائیکاٹ نہیں کیا۔5 سال میڈیا ٹرائل اور عدالتی میڈیا کے ساتھ وہ مدت پوری گئے اور اگلی باری آئی مسلم لیگ ن کی ۔آمریت کی گود سے جنم لینے والی جماعت میڈیا کو کنٹرول کرنا بخوبی جانتی تھی۔اقتدار میں آتے ہی تنقیدی چینلز کے اشتہارات بند کردیے اور چینلز کا بائیکاٹ کردیا۔اپنے ناپسندیدہ اینکرز کو بین کرنے کے لئے ہزار جتن کئے۔دوسری طرف پی ٹی آئی نے دھرنے کےدوران مخالف میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا ۔پرائیوٹ میڈیا بھی بالغ اور منہ زور ہوگیا اور کسی کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔دو ہزار چودہ کے بعد ہم نے میڈیا کے رنگ ڈھنگ بھی بدلتے دیکھے لیڈران کی نجی زندگی پر حملے ، ان کی شادیوں کی تاریخوں کا اعلان ازخود کیا جانے لگا ، کچھ کالم نگار بلاگرز ٹی وی چینلز  صحافی اینکرز پانامہ سکینڈل کے بعد باقاعدہ طور پر مسلم لیگ کے حصے کی مانند ان کے لئے مہم کرنے لگے کہ شریف خاندان بے قصور ہے ۔یہ دفاع اتنے روز و شور سے کیا جانے لگا کہ اصلی کارکنوں اور صحافیوں میں تفریق مشکل ہو گئ ۔نواز شریف دور میں من پسند چینلز پر اشتہارات کی بارش کردی گئ۔اپنے من پسند صحافیوں میں بھاری تنخواہوں کے ساتھ عہدے بانٹ دئے گئے اور یوں جمہوریت کے نام پر کرپشن کا دفاع شروع ہوگیا۔

ن لیگ کے متوالوں نے پانامہ کا ملبہ بھی آرمی آئی ایس آئی پر ڈالنے کی کوشش کی۔ جب اس میں کامیابی نہیں ہوئی تو توپوں کا رخ عدلیہ کی طرف کردیا اور معزز ججوں کو متنازعہ کرنے کی کوشش کی گئ تاہم پاکستان کی عدلیہ نے تمام تر منفی مہم کے باوجود تاریخ ساز فیصلہ دیا ۔

میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف  کے جیل جانے  کے بعد درباری میڈیا اور سوشل میڈیا ٹیم وقتی طور پر خاموش ہوگے ۔تاہم سوشل میڈیا پر درباری قلم نگار ،قومی سلامتی، فوج ، عدلیہ اور آئی ایس آئی کے خلاف ٹویٹس کرتے رہے ۔انکا صبح سے شام تک صرف ایک کام ہے وہ ہے کہ پاکستان کو عالمی دنیا کے سامنے متنازعہ کرنا ہے۔صبح سے شام تک یہ صرف منفی پہلو اجاگر کرتے ہیں جب کچھ نا ملے تو فوٹو شاپ تصاویر کے ساتھ کہانی گھڑ لیتے ہیں۔جب کہ پاکستان کا کوئی کھلاڑی تمغہ لے آئے کوئی پاکستانی عالمی ریکارڈ بنا لے تو ان دانشوروں کو لقوا مار جاتا ہے۔ 

آج کل مارکیٹ میں ایک اور سستا انقلابی نعرہ سامنے آیا وہ ہے سیلف سنسر شپ ۔یہ سب شروع کہاں سے ہوا جب کچھ آزاد پختونستان کا نعرہ لگانے والو نے نقیب محسود کے قتل کو اپنے عزائم اور مردہ سیاست میں روح پھونکے کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ۔پاکستان مخالف اور آرمی مخالف تقاریر شروع کردی گئ ۔اس پر کچھ صحافیوں نے فوری طور پر اس فتنے کا ساتھ دینا شروع کیا یہاں سے یہ نیا لفظ ایجاد ہوا سیلف سنسر شپ ۔اگر آپ کے ایڈیٹر کا ضمیر زندہ ہے اور وہ آپ پاکستان مخالف آرٹیکل شائع کرنے سے روک دیتا ہے یا آپ کا کرپشن کی حمایت میں لکھا مضمون اسکو صحافت کے اصولوں کے منافی لگتا ہے تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ کا آرٹیکل ردی کی ٹوکری میں چلا جاتا ہے۔

سنسر شپ پر میڈیا کے کچھ بڑے اتنا بول رہے ہیں کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دے رہی ۔ سنسر شپ بھی ایک کونے میں کانوں میں انگلیاں ٹھوس کر کہتی ہے دھیمابولو ، پہلے تولو پھر بولو اور کم ازکم سچ تو بولو ۔

اس وقت میڈیا ورکرز کے اوپر جو سب سے بڑی تلوار لٹک رہی ہے وہ میڈیا کے اندر سے ہی ہے باہر سے نہیں۔آپ کو کیا لگا سیلف سنسر شپ ان کے لئے سب سے بڑا خطرہ  ہے نا نا یہ تو باتیں آزادی صحافت کے تمغے لینے وغیرہ کے لئے پھیلائی جاتی ہیں ۔اصل سنسر شپ تو اس بات پر ہے کہ میڈیا میں اپنے ادارے میں جاری میڈیا ورکرز کے استحصال پر کچھ نا بولو۔آپ ٹویٹر کے کسی بھی صحافی دانشور کی ٹائم لائن پر اس سے مختلف میڈیا کے اداروں میں تنخواہ میں تاخیر اور جبری برطرفیوں کے حوالے سے سوال کریں وہ آپ کو جواب نہیں دیے گا لیکن ویسے وہ دانشور سارا دن مگرمچھ کے آنسو بہائے گا۔ 

اکثر یہ ہی میڈیا کے بڑے منٹوں میں مڈ کرئیر جونیئرز کو ادارے سے یہ کہہ کر نکلوا دیتے ہیں کہ یہ نکما ہے جبکہ وہ محنتی کارکن ہوتا ہے بس ان کچھ بڑوں کو انکی شکل پسند نہیں ہوتی ۔پھرمقافات عمل ہوتا ہے جب ان بڑوں

کومالکان کم ریٹنگ اور سفید ہاتھی ہونے پر نکال دیتے ہیں تو یہ مگرمچھ کے آنسو بہائے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم جمہوریت پسند ہیں نا اس لئے ہمیں نوکری سے نکال دیا ۔جبکے ان کچھ بڑوں کو آپ نے اداروں میں دیکھیں تو ان سے بڑا مطلعق العنان کوئی نہیں ۔

عام میڈیا ورکرز کی بات کی جائے تو میڈیا میں کوئی جاب سیکورٹی نہیں جب کسی بڑے کا دل کرے وہ چھوٹے کو لات مار کر باہر کردے گا۔بیورو میں جھاڑو پھیر کر محنتی رپورٹرز کو فالتو سامان کی طرح باہر کردیا جاتا ہےتب جمہوریت یا آزادی صحافت خطرے میں نہیں آتی۔خاتون اینکر شادی کرلے یا حاملہ ہوجائے اس نوکری خطرے کی زد میں آجاتی ایچ آر کے مطابق موٹی لڑکی کا بھلا ٹی وی پر کیا کام ؟۔جو بیچاری نوکری بچا بھی لے اسکا بچہ گھر میں اسکے بنا تڑپتا ہے کیونکہ بہت سے دفاتر میں نرسری نام کی چیز نہیں ۔اکثر سفارشیوں کی چاندی ہوجاتی اور محنتی لوگ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔جاب کے تو کوئی ٹائمنگ نہیں کہا جاتا ہے کہ آپ میڈیا میں ہوکر نو سے پانچ والی جاب چاہتے ہو ایسا تو ممکن نہیں۔پر جب سیلری کی بات آئے وہ فکسڈ رہتی ہے رپورٹر کیمرہ مین میڈیا ورکر اس امید پر بوڑھا ہوجاتا کہ شاید اب اسکی سیلری میں ایک صفر بڑھ جائے ایسا بمشکل ہوتا ہے بلکے ناممکن ہے۔

میڈیا کو حکومت سے بڑی بڑی رقوم اشتہارات کی مد میں ملتی رہیں لیکن تنخواہ کی بات کریں تو حالات بہت خراب ہیں آپ اپنی تنخواہ کیوں مانگ رہے ہیں زیادہ مسئلہ ہے تو دوسری جگہ چلے جائیں ورکرز خاموش ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے یہ نوکری گئ تو دوسری نہیں ملے گئ ۔نئ جاب اوپنگز تو آتی ہی نہیں ہر سال نئے گریجویٹس انٹرن شپ کے نام پر بیگار کی طرح کام کرتے ہیں اور آخر میں ادارے کی طرف سے ملنے والے سرٹیفکیٹ کو لے کر گھر بیٹھ جاتے ہیں ۔میڈیا میں کوئی معاشی بحران نہیں ہے۔

بس میڈیا مارکیٹ میں بہت سے چینلز آگئے اکثر نئے ٹی وی لانچ ہوکر فلاپ ہوجاتے ہیں بڑے ناموں کی وجہ سے چھوٹے بھی ادھر کا رخ کرتے ہیں ۔پر ہوتا کیا ہے بڑے صحافی فوری طور “اصولی” موقف اپناتے ہوئے ڈیل اور یوٹرن مار جاتے اور چھوٹے دربدر ہوجاتے ہیں نا نئے دفتر جوگے رہتے ہیں نا پرانے میں جانے کی جگہ ملتی ہے ۔بہت سے میڈیا ورکرز کو چھٹی نہیں ملتی، میڈیکل نہیں ملتا، فیول نہیں ملتا، تنخواہ نہیں ملتی لیکن پھر بھی میڈیا ورکر اس انڈسٹری کو اپنے پتھر باندھے پیٹ اور کمزور کندھوں پر لے کر چل رہا ہے ۔اس سب پر وہ لوگ کیوں نہیں کچھ بولتے جو اس ملک میں آزادی صحافت کے چمپیئن بنے پھر رہے انہوں نے خود پر کیا سیلف سنسر شپ عائد کرلی ہے کہ صحافی بھائی کے لئے تو نہیں بولنا۔ ویسے تو بہت بولتے ہیں اتنا بولتے ہیں کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی سیاسی لیڈر کی چپل چادر بیگ آنسو چشمے مسکراہٹ لباس ہر چیز پر بولتے ہیں لیکن بس صحافی کے لئے نہیں بولتے۔میڈیا میں، سنسر شپ، تنخواہوں میں تاخیر اور جبری برطرفیوں کی زمہ دار حکومت، آرمی اور آئی ایس آئی نہیں خود میڈیا مالکان ، انتظامیہ ،اور میڈیا کے بڑے ہیں ۔ میڈیا کے درد کا مداوا کون کرے گا جب پی ایف یو جے خود تین حصوں میں تقسیم ہوچکی ہو۔جب صحافی خود جھوٹ بولیں کہ انہیں جمہوریت کا ساتھ دینے پر نکال دیا گیا جبکہ اصل وجہ یہ ہوکہ سیٹھ یا مالکن کو اپنا کاروباری مفاد عزیز ہو۔ وہ ادارے میں ڈوان سایزنگ کرے اور الزام آپ ایجنسی پر لگا دیں یہ تو صحافتی بددیانتی ہے۔میڈیا کے حالات خراب نہیں حالات صحافیوں کے خراب ہیں انہیں چاہیے کہ سچ بولیں اور میڈیا کی سیاست کو عیاں کر دیں ۔
ہر چیز کی زمہ داری فوج پر ڈال معاملات حل نہیں ہوگے مسئلے کا حل اپنی صفوں میں تلاش کریں۔

Posted in ArmyPublicSchool, Pakistan

بینش عمر شہید تمغہ شجاعت

11899792_10153093634323061_6483232467340070293_n

. جویریہ صدیق……آج ماں سے محبت کا عالمی دن ہے۔ ماں ایک ایسا رشتہ جو بے غرض بے لوث محبت کرتا ہے۔ماں جب اپنی آغوش میں اولاد کو لیتی ہے ایک زمانے کے غم مٹا دیتی ہے۔اس کی آغوش کی ٹھنڈک میں ہر درد کی تاثیر ہے۔ماں قربانی احساس اور ایثار کا دوسرا نام ہے۔ماں کی بانہوں کا حصار بچے کو وہ سکون دیتا ہے جو دنیا کی کسی اور نعمت سے حاصل نہیں۔ پشاور کی اٹھایس سالہ بینش عمر شہید تمغہ شجاعت بھی ممتا کے خمیر سے بنی تھی۔کمپیوٹر ساینس میں ایم اے کیا۔ عمرزیب بٹ کے ساتھ رشتہ ازداوج میں منسلک ہویی اور اللہ نے تین بار بینش کے آنگن میں اپنی رحمت کا نزول کیا۔بڑی بیٹی حباء منجھلی بیٹی عنایہ اور سب سے چھوٹی گڑیا عفف ۔ممتا کے عہدے پر فایز ہونے کے بعد بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا،پھر جب جاب کرنے کا فیصلہ کیا تو درس و تدریس کا انتخاب کیا۔بینش ایک نی نسل کو اپنے ہاتھوں سے پروان چڑھانے کی خواہش مند تھیں۔آرمی پبلک سکول پشاور میں تدریس کا آغاز کیا اور آٹھویں جماعت کو کمپیوٹر پڑھانے لگیں۔

بچوں کو ہر دل استاد بینش کوشش کرتی کہ کمپیوٹر کی تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ بچوں کی اخلاقی اور دینی اطوار پر تربیت کریں۔استاد اگر کم عمر ہو تو بہت جلد بچوں کا دوست بن جاتا ہے اور بچے بھی بلا جھجک اپنے مسایل استاد ساتھ زیر بحث لیے آتے ہیں۔بینش بھی اپنے طالب علموں کی بہترین دوست تھی۔ماں استاد اور دوست بینش نے سولہ دسمبر کو بھی اپنے بچوں کو تنہاہ نا چھوڑا۔سکول میں حباء کے جی کلاس میں تھی اور نھنی گڑیا عفف سکول کے ہی ڈے کیر میں تھی۔لیکن بینش نے اپنی اولاد کے بحایے اپنے روحانی بچوں کو فوقیت دی۔نہتی روحانی ماں نے دہشت گردوں کو للکارا معصوم بچوں کو جانے دو۔ان کا کیا قصور ہے۔بینش نے بچوں کو ہال سے نکالنے کی کوشش کی لیکن ظالم دہشت گرد جدید اسلحے کے ساتھ ہر طرف موجود تھے۔کچھ بچے نکلنے میں کامیاب بھی ہوگیے لیکن دہشت گردوں کی ایک گولی بنیش کے بازو میں پیوست ہویی اور وہ اسٹیج کے پاس گر گی اس کے بعد تو جسیے گولیوں کی بوچھاڑ ہوگی اور گردن میں لگنے والی گولی باعث بینش شہادت کے اس رتبے پر فایز ہوگیں ۔

بینش دنیا سے چلی گیئں لیکن زندہ جاوید ہوکر جب بھی طالب علم استاد کی عظمت کے بارے میں پڑھیں گے تو تاریخ کے اوراق پر روحانی ماں استانی بینش عمر شہید کا نام جلی حروف سے لکھا ہویا پایں گے۔بینش عمر شہید تمغہ شجاعت کے شوہر عمر زیب بٹ کہتے ہیں کہ میں نے اور بینش نے ساتھ تعلیم حاصل کی۔اپنی بہترین دوست کو ہی میں نے اپنا شریک حیات چنا۔بینش کہ آتے ہی میری زندگی میں بہار آگی خوش اخلاق سب سے شفقت اور احترام سے ملتی بینش پل بھر میں سب کو گرویدہ بنا لیتی۔امور خانہ داری میں ماہر مجھے ہر چیز بس تیار ملتی۔میرے والدین کی خدمت اپنے والدین کی خدمت اور ساتھ میں درس و تدریس لیکن کبھی تھکن کا شایبہ نہیں۔پندرہ دسبمر کو مجھے آفس فون کیا اور کہا کہ ایک عزیزہ ہسپتال میں داخل ہیں ان کی عیادت کے لیے جانا ہے۔میرے ساتھ گی ان کی خیریت دریافت کی بعد میں ہم بچوں کو بھی چیک اپ کے لیے گیے دو بیٹوں کی طبعیت ناساز تھی ۔میں نے بینش سے کہا بھی کہ کل سکول مت جاو لیکن بینش نے کہا چھٹی کرنے سے روحانی بچوں کا حرج ہوتا ہے۔

سولہ دسمبر عناییہ تو گھر پر ہی تھی لیکن حباء اور عفف بینش کے ساتھ ہی سکول گیں۔جب میں آفس جانے لگا تو روز کی طرح بینش میری ہر چیز تیار کرکے گی ہویی تھی،عناییہ کے لیے بھی ہر چیز رکھی ہویی تھی ۔میں آفس چلا گیا۔کہ اچانک دوست نے بتایا کہ آرمی پبلک سکول ورسک روڈ پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔میں دوست کے ساتھ ہی وہاں پہنچا بینش کو بہت فون کیے امید یہ ہی تھی کہ بینش خیریت سے ہوگی سب بچے محفوظ ہوں گے۔نا ہی بینش کا پتہ چل رہاتھا نا ہی میری دونوں بیٹوں کا ۔آرمی کا آپریشن چل رہا تھا تو ہم سکول میں داخل نہیں ہوسکتے تھے۔میری بیٹاں تو آرمی نے باحفاظت اپنی تحویل میں لے لیں تھیں اور ان کو قریب ہی محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا میرا بھایی انہیں لے کر گھر چلا گیا مجھے مزید حوصلہ ہوا کہ میری دوست میری محبت میری غم گسار بینش زندہ ہوگی۔لیکن تلاش اس وقت ختم ہویی جب ہسپتال میں شہید ہونے والوں کی فہرست میں بینش کا نام سرفہرست تھا۔میں ہسپتال گیا تو قیامت صغری برپا تھی ہر طرف چیخ و پکار نھنے بچوں کی کفن میں لپٹی ہویی لاشیں۔میں کیا پورا پشاور شہر رو رہا تھا کہ اتںے بے گناہوں کا خون ایک ساتھ پہلے کبھی نا بہا تھا۔میں بینش کو ڈھونڈتا رہا ایک کفن میں لپٹے ہویے جسد خاکی کا ہاتھ کچھ باہر تھا وہ میری بینش کا ہاتھ تھا۔’

بینش چلی گی اپنی جان اس وطن کے لیے قربان کرگی لیکن عمر بٹ کے مطابق حباء عنایہ تو اس عمر میں ہی نہیں ہیں کہ انہیں اپنی ماں کی قربانی کا ادراک ہو۔چار سال کی حباء ہر وقت اپنی ماں کا ڈوپٹہ لیے پھرتی ہے اور عنایہ کو کہتی ہے کہ میں ہو بنیش تمہاری ماما۔کبھی اپنی ماما کے جوتے پہن لیتی ہے تو کبھی ماما کی جیولری پہن کر گھر گھر کا کھیل کھیلتی ہے۔جب رات ہوتی ہے تو یہ دونوں روتی ہیں کہ ماما کہاں ہیں تو میں خود کو بہت بے بس محسوس کرتا ہوں کہ ماں کا لمس ان کے لیے نہیں لا سکتا۔عفف تو صرف چار ماہ کی تھی جب بینش چلی گی وہ تو اس کرب سے ابھی آشنا نہیں جس سے حباء اور عناییہ گزر رہی ہیں۔میں میری والدہ اور ساس ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ تینوں بچیوں کو کسی چیز کی کمی نا ہو لیکن والدہ کی کمی کویی پورا نہیں کرسکتا۔بینش کی شہادت کے بعد میری بیٹی حباء نے چند ہی روز بعد پارک جانے کی ضد کی میری لیے سوگ کی کفیت میں اسے پارک لیجانا مشکل تھا لیکن اس ضد کے آگے ہار مان کر جب میں پارک گیا تو وہ پارک میں بھی بینش کو دھونڈتی رہی کہ کہیں سے ماں سامنے آجایے اور ماں کو یاد کرکے زاروقطار روتی رہی۔اس وقت میرے دل پر جو گزری وہ میرا اللہ ہی جانتا ہے۔میں اپنی بچیوں کو ہر ہفتے انکی شہید ماں کی قبر پر لے جاتا ہوں ہم اس کی قبر پر فاتحہ پڑھتے ہیں اور پھولوں سے اسے سجا دیتے ہیں۔اب چند دن پہلے ابھی ہم عمرے پر گیے تب بھی پاکستان سے سرزمین حجاز تک بینش کا ڈوپٹہ حباء کے ساتھ رہا۔’

انیس سو سنتالیس میں پاکستان کے قیام کے وقت میرے خاندان کے سترہ افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا اور سولہ دسبمر کو بنیش بھی پاکستان پر قربان ہوگی۔مجھے اپنی اہلیہ کی قربانی پر فخرہے۔جب تک میری اہلیہ حیات رہی اس کی زندگی کا مقصد بچوں کی اچھی تربیت تھا۔اس نے اپنے شاگردوں کی جان بچاتے ہویے اپنی جان قربان کی اور استاد شاگرد کے رشتے کو امر گرگی۔ہر بچہ کے لیے وہ ماں کی شفقت رکھتی تھی وہ اکثر کہتی تھی یہ میرے شاگرد نہیں میرے بیٹے ہیں۔گذشتہ برس عالمی یوم ماں پر بینش نے پورے گھر کو سجایا میری اور اپنی والدہ کو تحایف دیے اور ہماری بیٹیوں کو بھی اس دن کی اہمیت سے آگاہ کیا۔اس ماں کے عالمی دن پر میری بچیوں کے ماں ان کے پاس نہیں لیکن میں اپنی بیٹوں کے ساتھ میں یہ دن اپنی شہید اہلیہ کی قبر پر حاضری دیے کر منا رہا ہوں ۔میری بیٹاں اپنی شہید ماں کے لیے کارڈز اور پھول لے کر ان کی قبر کے پاس مدرز ڈے منا رہی ہیں

۔میرے خاندان نے قیام پاکستان کے لیے قربانی دی اور اب بینش نے اس ملک کی بقا کے لیے قربانی دی۔یہ وقت میری معصوم بیٹیوں کے لیے بہت کٹھن ہے لیکن بڑے ہوکر انہیں اپنی ماں پر فخر ہوگا۔میری گزارش ہے کہ حکومت اور آرمی ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ کردیں اور سانحہ پشاور کے مجرمان ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایں ۔لواحقین کے ساتھ تمام معلومات شئیر کی جایں۔اب وقت آگیا ہے تمام پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا اور ہمیں اپنی افواج اور حکومت کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا۔مجھے میری اہلیہ بنیش عمر شہید تمغہ شجاعت پر فخر ہے اس نے ایک عظیم ماں ایک عظیم استاد کی صورت میں اپنے روحانی بچوں کے لیے اس وطن کے لیے اپنی جان قربان کردی –

Posted On Sunday, May 10, 2015  

 

Posted in Pakistan

تحریک انصاف کی پارلیمنٹ میں واپسی !!

Posted On Tuesday, April 07, 2015   …..جویریہ صدیق…..
پی ٹی آئی نے سات ماہ سے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کررکھا تھا،126دن تک طویل دھرنا دیا ۔ہر روز پارلیمنٹ کے سامنے پارلیمنٹ کو جعلی اور بوگس قرار دیا جاتا رہا،کبھی ایمپائر کی انگلی ، کبھی اوئے اوئےتو کبھی استعفے ، کبھی دھواں دار تقاریر ، تو کبھی سول نافرمانی کی کال تو کبھی الزامات کی بوچھاڑ تو کبھی چار حلقے،تحریک انصاف نے تمام ہی جماعتوں کے قائدین کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔پھر بھی حکومت اور دیگر جماعتیں روٹھے ہوئوں کو منانے میں لگی رہیں اور یہ کفر 6اپریل کو ٹوٹا جب یمن کی صورتحال کے لیے بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پی ٹی آئی نے واپس اسمبلی میں آنے کا فیصلہ کرلیا۔خوش و خرم پی ٹی آئی کے ارکان جس وقت اسمبلی میں داخل ہوئے تو ایم کیو ایم ،جمعیت علمائے اسلام ف ، اے این پی اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے خوب احتجاج کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ تحریک انصاف کے ارکان کس حیثیت میں اسمبلی میں واپس آئے ہیں۔ظاہر سی بات سات ماہ تحریک انصاف نے بھی تو کم نشتر نا برسائے تھے ان سب جماعتوں پر اس ہی لیے اراکین اسمبلی نے موقع اچھا جانا اور اسمبلی ہال’’ گو عمران گو‘‘،پی ٹی آئی یو ٹرن لے کر آئی، معافی مانگو کے نعروں سے گونج اٹھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی بار بار درخواست کے بعد کچھ دیر تو ایوان میں خاموشی تو ہوئی لیکن پہلا سیشن یمن کے بجائے پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفوں پر بحث کی نظر ہوگیا۔ ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے کہا کہ پارلیمنٹ کا آج کا اجلاس غیر قانونی ہے جو رکن چالیس دن تک غیر حاضر رہے وہ مستعفی ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل کی شق 64 ون اور ٹو واضح ہے اس لیے تحریک انصاف کو واپس آنے کی اجازت دینا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ایوان کے باہر ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استعفے تین طلاقوں کی طرح ہے اس لیے نامحرموں کا اسمبلی میں کیا کام۔

اے این پی نے بھی تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لیا اور سینٹر زاہد خان نے کہا عمران خان کو یہ معلوم ہی نہیں کے وہ کیا کررہے ہیں اب ان کے پاس کیاجواز ہے اس اسمبلی میں آنے کا، جس اسمبلی کو وہ جعلی اور بوگس قرار دے چکے ہیں، تاہم اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے معاملے کو رفع دفع کرواتے ہوئے کہا کہ لڑائی کو لڑائی نہیں بلکہ بات چیت سے ختم کیا جائے۔تحریک انصاف کا واپس پارلیمنٹ آنا خوش آئند ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے بھی خوب پی ٹی آئی کی کلاس لی اور کہا کہ آج پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کو ایوان میں اجنبی تصور کیا جائے، آئین کے تحت استعفیٰ دینے والے خود بخود مستعفی ہوجاتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی جب ایوان کا ماحول گرم دیکھا تو وہ بھی یمن کو بھول کر پی ٹی آئی کی کلاس لینے لگے اور کہا اسمبلیوں کو جعلی کہنے والے آج کس منہ کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی والے شرم کریں اور حیا کریں،تاہم بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا حکومت خود پی ٹی آئی کو ایوان میں لائی ہے تو اب احتجاج کیوں ؟ حکومت کا لہجہ تلخ نہیں ہونا چاہیے۔ اس سب صورتحال کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت وزیر دفاع اور ایم کیو ایم کو خوب کھر ی کھری سنائیں اور کہا جوڈیشل کمیشن اصولی موقف تھا اور الیکشن میں دھاندلی ہوئی میں اب بھی اپنے موقف پر قائم ہوں ۔انہوں نے کہا کہ کیا میاں نوازشریف کو پتہ نہیں تھا کہ ان کے وزیر نے کیا بولنا ہے، ان کی موجودگی میں وزیر نے کس طرح کی زبان استعمال کی ایسی زبان تو کوئی تلنگا بھی نہیں استعمال کرتا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کے ہم پارلیمنٹ قومی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں جبکہ وزیر دفاع نے ذاتی معاملات کو ترجیح دی۔

تاہم اس تمام کشیدہ صورتحال میں اسپیکر نے صورتحال کو بخوبی سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے انہوں نے رولنگ دی کے تحریک انصاف کی پارلیمنٹ واپسی آئین کی خلاف ورزی نہیں آئین کی شق64 کے ساتھ سپریم کورٹ کا آڈر بھی پڑھا جائے۔سپریم کورٹ کے مطابق اسپیکر فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کہ کون مستعفی ہورہا ہے اور کون نہیں ۔ ایاز صادق نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے کوئی بھی اپنے استعفے کی تصدیق کے لیے نہیں آیا اس لیے استعفے منظور نہیں ہوئےلیکن جاوید ہاشمی اپنے استعفے کی تصدیق خود کرواگئے جو منظور ہوگیا تھا۔

استعفوں کا معاملہ اسمبلی کے فلور اور گیٹ نمبر ون تک محدود نہیں رہا بلکہ ن لیگ کے رہنما سید ظفر علی شاہ نے تحریک انصاف کے ارکان کی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ ظفر علی شاہ نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان سات ماہ قبل استعفا دے چکے ہیں اور آئین کی شق چونسٹھ ون اے اور ٹو اے کے مطابق جو رکن رضا کارانہ طور پر استعفیٰ دے اور چالیس دن مستقل غیر حاضر رہے تو اس کے بعد نشت خالی قرار دے دی جاتی ہے ۔ظفر علی شاہ نے کہا مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ سات مہینے تک بھی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ان استعفوں کی تصدیق نا کرسکے حالانکہ استعفے رضاکارانہ طور پر دئیے گئے تھے، یہ بات پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی میں بیٹھنے کا آئینی جواز کھو چکے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر شعیب رازق نے کہا یہ معاملہ اسپیکر اور ارکان کے درمیان تھا ارکان نے استعفیٰ دیا اور اسپیکر نے قبول نہیں کیا اس لیے اب جوڈیشل کے قیام کے بعد تحریک انصاف کا حق ہے کہ وہ اسمبلی واپس جاسکتے ہیں کیونکہ ان کے استعفے قبول نہیں کئے گئے۔

اگر پہلے ہی پی ٹی آئی جمہوری دائرے سے باہر نا جاتی تو آج پارلیمان واپسی پر مشکل اور خفت کا سامنا نا کرنا پڑتا مسائل کا حل اگر سڑکوں کے بجائے ایوان میں مذاکرات اور قانون سازی کرکے نکالا جاتا توآج ایوان میں اجنبیت کا احساس نا ہوتا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حالات کس طرف کروٹ لیتے ہیں اور استعفوں کا معاملہ کہاں تک جائے گا اور تحریک انصاف کتنی سنجیدگی کے ساتھ معاملات کو طے کرتی ہے۔گرجنے برسنے سے کچھ حاصل نہیںہوگا، معاملات کا حل صرف افہام و تفیہم سے ہی نکل سکتا ہے۔اب بہت ہوئے پرانے گلے شکوے کچھ مستقبل کی طرف پر بھی پیش قدمی ہو۔   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10782#sthash.B6wH3OpG.dpuf

Posted in Pakistan

سیو دی شفقت‘اورسائبرکرائم

’سیو دی شفقت‘اورسائبرکرائم

Posted On Wednesday, April 22, 2015   …..جویریہ صدیق…..
سوشل میڈیا پر اکثر بے تکے ٹرینڈز دیکھنے کو ملتے ہیں ان کو بنانے والوں میں سے اکثر سیاسی جماعتوں کہ پے رول پر ہیں جن کا کام ہی صبح سے شام تک مدمقابل افراد پر کیچڑ اچھالنا ہے۔اس ہر طرح سوشل میڈیا پر ایک اور طبقہ بھی ہے جو ان سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے جن کا کام ہر وقت وطن عزیر کو بدنام کرنا ہے۔

اس بار بھی کچھ ایسا ہوا کہ نام نہاد لبرلز کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک ٹرینڈ چلا’’ سیو دی شفقت‘‘ ۔شفقت کشمیر سے تعلق رکھنے والا جوان کراچی میں محنت مزدوری کی غرض سے آیا۔اس نے کچھ عرصے بعد ایک معصوم بچے کو اغوا برائے تاوان کے لیے اٹھا لیا اور بعد ازاں قتل کردیا۔اب لبرلز نے یہ شور مچا دیا کہ شفقت تو صرف 14 برس کا تھا، اس پر پولیس نے تشدد کرکے بیان لیا اور ایک 14 سال کے بچے کو سزا کسیے ہوسکتی ہے۔ان کو شروع کرنے والوں نے پاکستان کی عدلیہ پر بھی انگلیاں اٹھائیں ، اکیسویں آئینی ترمیم پر اعتراض کیا اور یہ منظم پروپیگنڈہ شروع ہوگیا کہ پاکستان میں تو سفاک لوگ بستے ہیں جو 14 سال کے بچوں کو بھی پھانسیاں دے رہے ہیں۔شفقت کے بچپن کی ایک تصویر بھی کچھ این جی اوز کے ملازمین اپ لوڈ کرتے رہے اور پاکستان کے خلاف دہایاں دیتے رہے۔عالمی میڈیا اور ممالک بھی پاکستان سے سوال کرنے لگے۔یہاں تک کہ معاملہ اقوام متحدہ بھی تک پہنچ گیا۔سماجی تنظیمیں این جی اوز نے حکومت پر دبائو جاری رکھا اور سوشل میڈیا نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا۔

پھانسی سے ٹھیک ایک دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک برتھ سرٹیفکیٹ پھیلا دیا گیا جو کہ ٹائون کمیٹی کیل کشمیرکی طرف سے جاری ہوا جس کے مطابق شفقت حسین کی تاریخ پیدایش یکم اکتوبر1991 ہے۔یہ سرٹیفکیٹ 22 دسمبر 2014 کو جاری ہوا، جب یہ سوال اٹھا یا گیا کہ1991 میں پیدا ہونے والے بچے کا سرٹیفکیٹ 2014 میں کیوں جاری ہوا تو شفقت کے ساتھ کھڑی این جی اوز کے مطابق علاقہ ہی اتنا پسماندہ ہے تو یہاں روایت ہی نہیں کاغذ بنائے جائیں ۔ چلیں مان لیتے ہیں لیکن اگر سرٹیفکیٹ غور سے دیکھا جائے تو جس بھی جلد بازی میں یہ بنایا اس نے گورنمنٹ کے مخف میں جی کے بجائے ڈی لکھ دیا۔ٹائون کی اسپیلنگ بھی غلط ہے ۔پھر بھی پروپیگنڈا اتنا زیادہ تھا کہ صدر ممنون حسین نے شفقت حسین کی پھانسی موخر کرکے اس کی عمر کے تعین کی جانچ کے لیے کہا۔وزیر داخلہ چوہدی نثار نے بھی کہا یہ انسانی جان کا معاملہ ہے اس پر سیاست اور بیان بازی سے گریز کیا جائے۔انہوں نے کہا نہ ہی شفقت کے والد کا کارڈ ملا ناہی والدہ کا، صرف ایک بھائی کا کارڈ ملا جس کی عمر44 سال ہے۔ تاہم ایف آئی اے کی ٹیم نے اس معاملے کی تحقیقات کی اور اس کے نتیجے میں یہ بات عیاں ہوگی کہ شفقت کو جس وقت پولیس نے حراست میں لیا تھا وہ نا بالغ نہیں تھا۔ اس کی عمر23 سال تھی اب کہاں 14 سال اور کہاں 23سال۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے 2014 میں جاری ہونے سرٹیفکیٹ بھی آزاد کشمیر میں متعلقہ حکام نے کینسل کردیا ہے۔کیونکہ اس میں فراہم کردہ معلومات درست نہیں تھیں۔اس کے ساتھ ساتھ دس سال اس مقدمے میں مجرم کے وکیل منصور الحق نے کبھی عمر کا معاملہ عدالت میں نہیں اٹھایا۔ تو اچانک سے این جی اوز نے کس کے ایما پر یہ معاملہ اٹھایا اور پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کیا۔اس کے پیچھے کیا مقصد تھا کیا کچھ این جی اوزملک میں پھانسی کر سزا دوبارہ سے بحال ہونے پر خوش نہیں تھیں یا اس بات پر فنڈ مہیا ہویے تھے کی شفقت کو بنیاد بنا کر اکیسویں ترمیم کو متنازع بنایا جائے۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر جرم کے وقت شفقت کی عمر ساڑھے بارہ سال تھی تو جس جگہ وہ ملازمت کررہا تھا کیا اسے تین سال پہلے نو سال کی عمر میں چوکیدار کی نوکری دے دی گی تھی کیا ایسا ممکن ہے کوئی نو سال کے بچے کو چوکیدار کی نوکری پر رکھے گا۔شفقت کو جس وقت نوکری پر رکھا گیا تو وہ بالغ تھا ۔اس کے ساتھ1994 میں اسکول کے ریکارڈ کے مطابق شفقت حسین کلاس فور میں تھا اب کیسے ممکن ہے کوئی1991 میں پیدا ہو اور1994 میں وہ درجہ چہارم میں پہنچ جائے۔رپورٹ کے مطابق شفقت حسین کیس کو بنیاد بنا کر ایسا تاثر دیا کہ پاکستان میں کم عمروں کے لیے انصاف کی کوئی جگہ ہی نہیں لیکن یہ غلط ہے صرف کراچی میں2004 سے لے کر2015 تک867 10 اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے مقدمات کی جیوینائل جسٹس کے تحت کاروائی کی گئی۔

اب جس سال شفقت کو زیرحراست لیا گیا اس ہی سال1455 بچوں کو نو عمر کیلئے نظام انصاف کے تحت کاروائی کا سامنا کرنا پڑا تو شفقت کے ساتھ کسی کی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی جو اسکو سزائے موت سنا دی گئی۔پاکستان کی عدلیہ پر سوال اٹھانے والے اس پانچ سال کے بچے کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے جس کو شفقت نے لالچ کی وجہ سے مار ڈالا تھا ۔میرا سوال صرف ان این جی اوز اور خود ساختہ مغرب نواز لبرلز سے ہے کیا وہ اب معافی مانگیں گے جس طرح انہوں نے غیر ملکی اخبارات ویب سائٹس پر آرٹیکل لکھ کر ٹوئٹر پر ٹوئٹس کرکے ملک کا نام دنیا بھر میں بدنام کیا۔سوشل میڈیا پر لوگوں کو گمراہ کیا اور انہیں بھی اپنی مذموم مہم کا حصہ بنایا۔ کیا شفقت کی بچپن کی تصاویر اور جھوٹے برتھ سرٹیفکیٹ بنا کر ملک کو بدنام کیا وہ سب معافی مانگیں گے ؟

ہم سب کو بھی چاہیے بنا تحقیق کیے ہم کسی بھی سوشل میڈیا مہم کا حصہ نا بنیں۔کب کون ڈالرز کی خاطرسوشل میڈیا پر عام عوام کو صرف اپنی جیب بھرنے کی خاطر استعمال کرلے اور بعد میں باضمیر افراد کو اس بات پر پشیمانی ہو کہ ملک کو بدنام کرے والوں نے دھوکہ دے کر استعمال کر ڈالا۔شفقت کا کیسں تو عدالت میں ہے اس کو اور مقتول بچے کا انصاف تو ہم عدالت پر چھوڑتے ہیں۔لیکن کیا حکومت شفقت کو بچانے کے لیے منظم دھوکے پر مشتمل مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی کرے گی۔ان افراد کے خلاف نئے سائبر قانون کے تحت کاروائی ہونی چاہیے جنہوں نے عام پاکستانیوں کو سوشل میڈیا پر بے وقوف بنایا اور پاکستان کو بدنام کیا۔ ایک قاتل کے لیے تو مہم چلائی، اس بچے کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے جس کو شفقت نے بے دردی سے قتل کرڈالا۔مظلوم کا ساتھ دیں ظالم کا نہیں اور اگلی بار سوشل میڈیا پر کسی بھی مہم کا حصہ سوچ سمجھ کر بنائے گا۔ – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10810#sthash.ow9VRMbh.dpuf

Posted in Uncategorized

پاکستان کی 50بااثر خواتین

Posted On Monday, March 09, 2015   …..جویریہ صدیق……
خواتین اب مردوں کے شانہ بشانہ ہر شعبے میں کام کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں حصہ ڈال رہی ہیں۔طب سے لے کر مسلح افواج،سیاست،صحافت،فلم سازی،ادب،تعلیم،بزنس،سیاحت کھیل،اداکاری،سماجی خدمت ہر شعبے میں ہی خواتین وطن کا نام روشن کررہی ہیں۔پاکستان کی تعمیر و ترقی میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ یہ صرف ریاست کو ہی نہیں بلکہ معاشرے کو بھی مضبوط اطوار پر استوار کرتی ہیں۔جہاں ایک طرف اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہو کر یہ ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں حصہ ڈالتی ہیں ،وہاں دوسری طرف خاندان کی دیکھ بھال بھی خود کرتی ہیں۔یوں ماں ،بہن ،بیوی اور بیٹی کی صورت میں ایک نئی نسل کو معاشرے کا کامیاب فرد بنانے میں ان کا کلیدی کردار ہے۔پاکستانی معاشرے میں فرسودہ روایتوں سے لڑ کر آگے آنے والی خواتین باعث فخر ہیں۔

8 مارچ عالمی یوم خواتین پر جنگ میڈیا گروپ نے کچھ مختلف انداز میں خواتین کو خراج تحسین پیش کیا۔ایک خصوصی ایڈیشن صرف خواتین کے لیے شائع کیا گیا جس میں پاکستان کی 50 بااثر خواتین کی فہرست شائع کی گی۔ اس ضمن دلچسپ بات یہ تھی کہ جنگ اخبار دی نیوز اور ویب سائٹ پر پاکستان بھر کی خواتین سے اس ایوارڈ کے لیے نامزدگی مانگی گئی اور ووٹنگ کے ذریعے سے با اثر خواتین کا انتخاب کیا گیا ۔ووٹنگ اور نامزدگی 5 مارچ تک جاری رہی۔دی نیوز ویمن پاور ففٹی نے سوشل میڈیا پر بھی خوب پذیرائی پائی۔ لوگ اپنے حسب منشاء مختلف طبقہ ہایے فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو نامزد کرتے رہے اور ووٹنگ کی اپیل کرتے رہے۔5 مارچ کو جس وقت ووٹنگ بند ہوئی اس وقت تک11 لاکھ7 ہزار633 ووٹ کاسٹ ہوچکے تھے۔دی نیوز ویمن پاور ففٹی میں آٹھ شعبہ جات میں خواتین کو نامزد کیا گیا، ان میں سیاست ،کھیل،پبلک سروس،میڈیا،انٹرٹینمنٹ،بزنس،تعلیم،آرٹس اور ادب شامل تھے۔8مارچ کو 50با اثر خواتین کے نام دی نیوز اخبار کی اشاعت خصوصی میں شائع ہوئے۔

میڈیا کے شعبے میں سابق سفیر، صحافی، اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملحیہ لودھی، جیو ٹی وی کی نیوز کاسٹر رابعہ انعم ، صحافی اور اینکر ریحام خان، معروف انگریزی جریدے کی مدیر سینئرصحافی ریحانہ حکیم اور سی این این سے وابستہ صحافی صائمہ محسن با اثر ترین میڈیا شخصیت قرار پائیں۔سیاست میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف، ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت، جماعت اسلامی کی رہنما ڈاکٹر سمعیہ راحیل ، پی پی پی سے تعلق رکھنے والی سیاستدان شرمیلا فاروقی ، پی ٹی آئی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات رکن قومی اسمبلی شریں مزاری بااثر ترین خواتین سیاستدان۔کھیل کے شعبے میں طاقت ور خواتین میں تیراک کرن خان، ایتھلیٹ نسیم حمید، کرکٹرثناء میر،ا سکواش پلیئرسعدیہ گل اورکوہ پیما ثمینہ بیگ شامل۔انٹرٹینمنٹ کے شعبے میں معروف ایونٹ منیجر سابقہ ماڈل اور ڈیزائنر فریحہ الطاف، فلم سازمہرین جبار، معروف اداکارہ ثانیہ سعید،آسکر انعام یافتہ فلم سازشرمین عبید چنائے اور ہدایت کار اداکارہ زیبا بختیار شامل۔پبلک سروس میں سب با اثر خواتین میں معروف سماجی کارکن اور وکیل عاصمہ جہانگیر،پاکستان ایئر فورس کی پائلٹ عائشہ فاروق، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی اٹارنی جلیلہ حیدر، آرٹسٹ اور سماجی کارکن منیبہ مزاری اور ثانیہ نشتر کے نام شامل ہیں۔سماجی خدمت میں سماجی کارکن بلقیس ایدھی، میک اپ آرٹسٹ اور تیزاب سے جھلسی ہوئی خواتین کے لیے کام کرنے والی مسرت مصباح،عورت فائونڈیشن کی نگار احمد، جذام کے مریضوں کے لیے بلا معاوضہ کام کرنے والی ڈاکٹر روتھ اورتنزیلا خان با اثر خواتین کی فہرست میں شامل کی گئیں۔ادب اور آرٹس میں انگریزی زبان کی ناول نگار ببسی سدھوا،سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کی پوتی رائٹر فاطمہ بھٹو، ایوارڈ یافتہ ناول نگارکمیلا شمسی، معروف شاعرہ کشور ناہید اور رائٹر مصور سلیمہ ہاشمی با اثر ترین خواتین۔تعلیم کے شعبے میں سب سے بااثر خواتین میں دینی امور کی ماہر ڈاکٹر فرحت ہاشمی ، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی، ماہر تعلیم خدیجہ مشتاق، بیکن ہائوس کی بانی ماہر تعلیم نسرین محمودقصوری اور روٹس اسکول سسٹم کی بانی ماہر تعلیم رفعت مشتاق شامل۔بزنس میں بااثر ترین خواتین میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی ایم ڈی آمنہ سید، معروف ڈریس ڈیزائنرماہین خان،مشرف حی، معروف لان ڈیزائنرثناء سفینہ اور معروف اسٹائیلسٹ نبیلا ۔ موسیقی میں لوک گلوگارہ عابدہ پروین، کلاسیکل گلوکارہ فریحہ پرویز، پاپ گلوکارہ حدیقہ کیانی ،صوفی گائیکا صنم ماروی اور کتھک رقاصہ شیما کرمانی سب سے با اثر۔

دی نیوز پاور ویمن میں ان با اثر خواتین کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا جو کہ اب ہم میں نہیں ان میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح،ملکہ ترنم نور جہاں، گلوکارہ اقبال بانو،سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو، لوک گلوکارہ ریشماں،ارفع کریم رندھاوا کم عمر ترین مائیکروسافٹ پروفیشنل، پاپ گلوکارہ نازیہ حسن،ناول نگار رضیہ بٹ، ماہر تعلیم انیتا غلام علی،طاہرہ قاضی شہید پرنسپل آرمی پبلک اسکول پشاور،بیگم رعنا لیاقت علی،آرٹسٹ لیلیٰ شہزادہ،شیف فرح عالم، شاعرہ پروین شاکر،آرٹسٹ اینا مولیکا احمد،روشن آرا بیگم،زبیدہ آغا اور پوپی افضل خان شامل ہیں۔ پاکستان کی تعمیر اور ترقی میں ان خواتین کی خدمات کو آنے والی تمام نسلیں یاد رکھیں۔پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کا کام کرنا اور اپنے کام سے معاشرے پر اثر انداز ہونا ہر اس عورت کی کامیابی ہے جو خواب دیکھتی ہے۔اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت کرتی ہے ہر محنتی اور جرات مند پاکستانی خاتون کو سلام۔

Javeria Siddique writes for Jang

twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10720#sthash.EJZkydMX.dpuf

Posted in Pakistan

سانحات اور قیادت کی بے حسی‎

  Posted On Monday, February 16, 2015   ……جویریہ صدیق……
پاکستان میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تحفظ میں بالکل ناکام نظر آرہے ہیں ۔ سال کی شروعات میں پندرہ دن کے وقفے سے دو امام بارگاہوں کونشانہ بنایا گیا۔شکار پور شہر میں مسجد میں73 نمازی دہشت گردی کا شکار ہوئے اور پشاور میں21 افراد نماز کے دوران دہشت گردوں کی بربریت کا نشانہ بنے۔
دھماکے میں جاں بحق ہونے والے صرف عدد نہیں ہوتے جیتےجاگتے انسان ہوتے ہیں ۔ا ن سے وابستہ کئی لوگوں کی زندگی کا محور صرف وہ ہی ہوتے ہیں۔کتنے ہی جان سے جانے والے گھر کا واحد کفیل ہوتے ہیں۔دھماکے خودکش حملے میں جب لوگوں اچانک اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو اس غم کا اندازہ صرف وہ ہی لگا سکتے ہیں جس کا پیارا اس دنیا سے جاتا ہے۔ہر روز پاکستان میں یہ موت کا کھیل جاری ہے، کبھی دھماکا کبھی ٹارگٹ کلنگ،کبھی خود کش حملہ ہر روز پاکستانیوں کا خون بہتا ہے۔خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں صوبہ خیبر پختون خواہ کی قربانیاں بہت زیادہ اس صوبے میں ہر چوک سڑک کسی نا کسی شہید یا سانحے سے منسوب ہے اس صوبہ کا ہر گوشہ اس صوبے پر ہونے والے مظالم کی داستان سناتا ہے۔16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول میں 145 افراد نے جام شہادت نوش کیا جن میں 135 بچے تھے۔اس کے بعد توقع یہ ہی تھی کہ اب شاید عوام کے لیے کچھ سیکورٹی کا خاطر خواہ بندوبست کیا جائے گا لیکن شکار پور کا سانحہ اور پشاور میں امامیہ امام بارگاہ میں حملہ حکومتی دعووں کا پول کھولنے کے لیے کافی ہے۔
عوام اپنے اپنے علاقوں سے سیاسی اراکین کو اس لیے منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کی خدمت کریں لیکن یہاں سیاستدان صرف سیاست پر ہی یقین رکھتے ہیں عوام کی خدمت تو ان کے ایجنڈے میں ہی شامل نہیں۔اس وقت پھی سینیٹ الیکشن تمام سیاستدانوں کی پہلی ترجیح ہے، باقی دیگر ملکی مسائل کی کوئی وقعت ہی نہیں۔کس کو ٹکٹ دینا ہے کون زیادہ موزوں ہوگا کس کس کو سینٹ میں نواز کر ان کے احسانات کا بدلہ چکانا اس وقت زیادہ ضروری ہے۔باقی رہے عوام تو جب بھی کوئی دھماکہ ہوتا ہے تو بڑے لیڈران تو یہ کہہ کر خود کو علیحدہ کر لیتے ہیں کہ ہم تو جائے وقوعہ کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن سیکورٹی کلیرنس نہیں ملی ۔سیاستدان ٹویٹ اور ٹی وی پر آکر عوام سے ہمدردی کرلیتے ہیں اور اس موقع پر بھی مخالف پارٹی کو نیچا دیکھانے سے باز نہیں آتے۔جو کوئی مقامی قیادت لواحقین سے ہمدردی کے لیے پہنچ بھی جائے تو اپنی پارٹی کے جھنڈے اور پوسٹر لیجانا نہیں بھولتے۔آخر کو جان ہیتھلی پر رکھ کر عوام کے درمیان آئے تو اس موقع کو کیش ناکروائیں وہ ؟ لواحقین کے ساتھ تصاویر لے کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کروانے کے بعد نو دو گیارہ۔
کیا کبھی کس نے یہ سوچا ہے کہ دہشت گردی میں مرنے والا کتنا زندہ دل تھا ؟ اس کے دل میں کتنے خواب تھے ؟ اس کو زندگی سے کتنا پیار تھا ؟ وہ زندگی میں کیا کرنا چاہتا تھا اور اس کے قبر میں اتر جانے کے بعد پیچھے کتنی زندہ لاشیں اس کے گھر میں رہ گئی ہیں۔ایسا بہت ہی کم لوگ سوچتے ہیں یہاں دھماکا ہوا نہیں اور سیاسی جماعتیں میدان میں اتر جاتی ہیں ایک دوسرے پر گندگی اچھالنے کے لیے ہر مسئلے پر سیاست حالانکہ جس وقت کوئی بھی سانحہ ہوتا ہے تو عوام کو ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے پر افسوس ہمارے ہاں فوری طور پر اس پر سیاست شروع ہوجاتی ہے مرکزی حکومت صوبائی حکومت پر الزام دیتی ہے اور صوبائی مرکزی پر، اور یوں ایسا لگتا ہے سانحہ کا سبب عوام خود ہی ہیں جنہوں نے بے حس حکمرانوں کو خود پر مسلط کیا۔
شکار پور جیسےچھوٹے شہر میں نمازیوں پر حملہ ہوتا ہے ایک نسل کو ہی مٹا دیا جاتا ہے لیکن ملک کے بڑے بڑے لیڈران کو وقت ہی نہیں ملتا کہ وہ اس شہر کے باسیوں کے زخموں پر مرہم رکھ سکیں۔کسی نے سوچا ہے کہ73 افراد کے لواحقین کے ان کے بنا کیسے گزر بسر کریں گے؟ ان کی مائوں، بہنوں اور بچوں کی کفالت کون کرنے گا ؟نہیں کوئی اس طرف دیکھنے کو بھی تیار نہیں۔اسی طرح 13فروری کو جمعے کی نماز میں پشاور میں اہل تشیع نشانہ بنتے ہیں تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اب بھی خیبر پختونخوا دہشت گردوں کے نرغے میں ہے ان کا جہاں دل کرتا ہے کاروائی کرتے ہیں اور کئی پاکستانیوں کی زندگی کے چراغ گل کرجاتے ہیں۔
اکثر ان سانحات کے بعد وزیر داخلہ گھنٹوں پر محیط تقریر کرنے آجاتے ہیں جس میں وہ بتاتے ہیں کہ ہمیں تو پہلے ہی اطلاع تھی اگر جناب پہلے ہی اطلاع تھی تو آپ نے دہشت گردی کو روک کیوں نہیں پاتے ؟ پھر کہتے ہیں ہمیں خود کش حملہ آور کا سر مل گیا کبھی انگلی وغیرہ وغیرہ، وہ تو جیسے بایو میٹرک شاختی کارڈ یا سم لیے گھوم رہے ہیں نا جو آپ اس کی انگلی سے اسکا پورا حدود اربع نکال لیں گے۔اب بہت ہوگیا حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی ذاتی جنگ لڑنا بند کرے۔عوام کی خدمت کا آغاز کریں اگر اپنے ہی ووٹرز کے گلی محلوں میں نہیں آسکتے ان کی داد رسی نہیں کرسکتے تو بہتر یہ ہی کہ آپ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا حکمران جب اپنی جان کی حفاظت کو ترجیح دینے لگیں تو وہ ملک اور قوم کی آبرو کی حفاظت کے قابل نہیں رہتا۔
ملک میں فرقہ وارنہ دہشت گردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی اور جمہوری حکومت اس کو روکنے میں مکمل ناکام نظر آرہی ہے۔امامیہ مسجد اور شکارپور میں جان سے جانے والے بھی اتنے ہی مسلمان اور پاکستانی ہیں جتنے آپ ہم سب ہیں۔پاکستانیوں کو اب فرقوں اور نسل کے رنگ و فرق سے نکلنا ہوگا۔جن تک ہم متحد نہیں ہوں گے ہم دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ پولیس کو جدید طرز پر تربیت دے اور ماڈرن ٹیکنالوجی سے لیس کرے تاکہ وہ عوام کا صحیح معنوں میں دفاع کرسکیں۔پاکستان کے اندر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مکمل کریک ڈائون کیا جائے،مدارس کی اسکروٹنی کی جائے ،دہشت گردوں سے ہمدردی کو ناقابل معافی جرم بنایاجائے۔اب ہمیں اپنا دوغلا رویہ ختم کرنا ہوگا ۔ اچھے طالبان اور برے طالبان کی رٹ گردانا بند کرنا ہوگی۔ سارے ہی دہشت گرد برے ہیں اور ہمیں قوم کو اس عذاب سے نجات دلانا ہوگا،انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔کب تک ہم دوسروں کے مفادات کی جنگ اپنے ملک میں لڑیں گے ہم سب کو اب صرف پاکستان کا مفاد سامنے رکھ کر سوچنا ہوگا۔
اب تک 70ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں گنواچکے ہیں، جن میں 135 بچوں کے جنازے ایک ہی دن میں اٹھائے گئے۔اب ہم سب کو اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔فوج سرحدوں پر ہمارا دفاع کررہی ہے دہشت گردوں کے خلاف بھی بر سرپیکار ہے ، اب پولیس کو جدید زمانے کے لحاظ سے تربیت دینا ناگزیر ہوگیا ہے، پولیس 25،30سالہ پرانے اسلحے سے جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔اس کے ساتھ ساتھ گلی محلوں میں امن کمیٹیاں بنائی جائیں جومشکوک افراد پر نظر رکھیں، یہ کمیٹی پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔پولیس بھی ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔عوام کو ایک بار پھر سے این سی سی کی ٹریننگ شروع کروائی جائے جس میں انہیں ہنگامی حالت کا مقابلہ کرنا سکھایا جائے، اس کے ساتھ ابتدائی طبی امداد بھی سکھائی جائے کہ کسی حادثے یا سانحے کی صورت میں کس طرح اپنے دیگر ہم وطنوں کی مدد کرنی ہے۔اگر اب بھی سجدے میں شہید ہونے والے افراد اور کمسنی میں مرجھانے والے پھولوں کی قربانی ہمارے مردہ ضمیر کو زندہ کرنے کے لیے نا کافی ہے تو ہمیں دہشت گردی کے عذاب سے کبھی نجات نہیں مل سکے گی۔
Javeria Siddique writes for Jang
Twitter @javerias   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10665#sthash.M2F0pLOK.dpuf