Posted in Pakistan

پی ٹی آئی کی نرالی سیاست

پی ٹی آئی کی نرالی سیاست !!

  Posted On Monday, January 26, 2015   …..جویریہ صدیق…..
پی ٹی آئی کے انقلاب کے نعرے سے سب سے زیادہ پاکستان کی نی نسل متاثر ہوئی۔ 2013ء کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے انقلاب اور تبدیلی کا نعرہ لگایا اور عوام نے قومی اسمبلی میں انہیں تیسری بڑی جماعت بنا ڈالا۔صوبہ خیبر پختون خواہ میں حکومت بھی مل گی ۔پاکستان میں جب بھی عوام اپنے حلقے سے صوبائی یا قومی اسمبلی کا نمائندہ چنتے ہیں تو ان کو امید ہوتی ہے کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان کا منتخب کردہ نمائندہ علاقہ مکینوں کے ہر دکھ درد میں شریک ہوگا۔ان کے مسائل سنے گا ،اس کے گھر دفتر کے دروازے ہر وقت شہریوں کے لیے کھلے ہوں گے۔
امید یہ ہی تھی کہ منتخب ارکان اپنے قائد عمران خان کی قیادت میں عوام کی خدمت میں مشغول ہوجائیں گے لیکن ایسا نہ ہوا،اس جماعت نے جو دھاندلی اور چار حلقوں کا شور ڈالا اس کی گونج اب تک فضائوں میں ہے۔ چلیں ایک پل کو مان لیتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی تو کیا ان نشستوں پر بھی ہوئی جن پرپی ٹی آئی جیت کر آئی اگر نہیں تو کم ازکم انہیں ان ،شفاف ترین سیٹوں ، پر تو کام کرنا چاہیے تھا۔پرایسا نا ہوا ۔۔14 اگست 2014ء سے جو دھرنا شروع ہوا اس میں عوام کو ایک بار پھر نی امید دی گی کہ ہم انقلاب لائیں گے ،سب کچھ تبدیل ہوجائے گا، دھرنے سے کبھی یہ صدا لگتی کے کل انقلاب آرہا تو پرسوں کبھی یوٹیلٹی بل جلا دیے جاتے تو کبھی سول نافرمانی کی مہم شروع ہوجاتی یوں پی ٹی آئی کی ساری قیادت عملی طور پر اسلام آباد میں مصروف رہی اور ان کے حلقے پیچھے یتیم ہوگئے۔پھر تحریک انصاف نے سوائے خیبر پختون خواہ کے تمام اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیا ۔ان استعفوں سے عوام کی وہ امید بھی چلی گی جو انہوں نے نئے چہروں کو منتخب کرکے فرسود نظام کو شکست دینے کے لیے دیکھ رکھی تھی۔
سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کی 4 نشستیں تھیں، لیکن مستعفی ہوکر ان لوگوں کو مایوس کیا جنہوں نے تبدیلی کو ووٹ دیا اور اب ان چاروں ارکان کے استعفے جنوری2015ء میں منظور ہوگئے، جس کے بعد سے تحریک انصاف کی نمائندگی سندھ اسمبلی سے ختم ہوگئی۔ثمر علی خان،حفیظ الرحمان،خرم شاہ زمان اور ڈاکٹر سیما چاروں ہی کراچی سے منتخب ہوئے تھے، یوں کراچی کے جن عوام نے تبدیلی کو ووٹ دیا تھا پی ٹی آئی کی بچگانہ پالیسیوںنے انہیں مایوس کیا۔ ان خالی ہونے والی نشستوں پر ایم کیو ایم اور پی پی نے ضمنی انتخابات کے لیے تیاریاں بھی شروع کردی ہے۔اب کیا پی ٹی آئی بھی ضمنی انتخابات میں حصہ لے گی ؟ اگر فرض کرلیں کہ پارٹی حصہ لیتی ہے یا کسی آزاد امیدوار کی حمایت کرتی ہے تو اب بھی انتخابات کا نظام الیکشن کمیشن تو وہ ہی ہے اب کیسے انہیں یقین ہوگا کہ دھاندلی نہیں ہوگی کیا اس جماعت نے جوکہ تبدیلی کا نعرہ لگاتی ہے شفاف الیکشن اور مضبوط الیکشن کمیشن کے لیے کوئی قانون سازی کی ؟ نہیں انہوں نے تو منتخب ہونے کے بعد سے زیادہ تر وقت سڑکوں پر تبدیلی کو تلاش کرتے ہوئے گزرا ہے۔تبدیلی سڑکوں پر دھرنوں یا نعروں سے نہیں بلکہ کام کرنے سے آتی ہے۔اب جب خالی کی جانے والی نشستوں پر دوبارہ انتخابات ہوں گے اور پی ٹی آئی دوبارہ حصہ لینے کا فیصلہ کرلیتی ہے تو کیا ان حلقوں کے عوام دوبارہ انہیں ووٹ دینے آئیں گے۔جنہوں نے پہلی بار انہیں ووٹ دیا اوریہ ہی ایم این ایز پارٹی کے فیصلے پر اپنی نشستوں سے استعفیٰ دے گئے اور ووٹر پیچھے اکیلے رہ گئے۔
اب اگر پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی سے بھی پی ٹی آئی کے استعفے منظور ہوگئے تو یہ قومی پارٹی سمٹ کر صرف ایک صوبے کی حد تک رہ جائے گی۔قومی اسمبلی میں اس وقت پی ٹی آئی کی 33 نشستیں ہیں اور پنجاب اسمبلی میں 30 نشستیں ہیں، اگر یہ تمام افراد بھی گھر واپس چلے گئے تو عوام کو جواب دہ کون ہے؟ اب تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح اب خیبر پختون خواہ ہوگا اور ان کی پارٹی سینیٹ الیکشن میں بھی حصہ لے گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے پارلیمان کے دو حصے ہیں ایک ایوان بالا ایک ایوان زیریں یعنی سینٹ اور قومی اسمبلی جب آپ کی جماعت قومی اسمبلی میں نہیں بیٹھنا چاہیتی تو وہ پھر سینیٹ میں ایسی کیا کشش ہے جو آپ کی پارٹی کو کھینچے چلی جارہی ہے۔
سینٹ کے52 ارکان گیارہ مارچ کو ریٹائر ہورہے ہیں اور خیبر پختون خواہ سمیت چاروں صوبوں سے گیارہ گیارہ ارکان منتخب ہوں گے اس کے ساتھ ساتھ دو اسلام آباد سے دو ،فاٹا کے چار اور دو اقلیتی ارکان شامل ہوں گے۔ عمران خان کی جماعت صوبہ سندھ صوبہ پنجاب اور قومی اسمبلی سے تو مستعفی ہیں اس لیے ان کی توجہ اب صرف خیبر پختون خواہ پر ہے۔خیبر پختون خواہ میں پندرہ سے سولہ ارکان کے ووٹ سے ایک نشت ملے گی اور تحریک انصاف آرام سے پانچ نشستیں لے جائے گی ۔
لیکن پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی کا کیا قصور ہے ؟ ان سیاستدانوں کا کیا قصور جن کے دل میں عوام کی خدمت کا جذبہ ہے اور وہ کام کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو اسمبلی سے باہر کیا ہوا ہے۔سب سے بڑھ کر ان لوگوں کا کیا قصور ہے جنہوں نے آپ کی پارٹی کو ووٹ دیا ۔عمران خان خود تو خیبر پختون خواہ پر توجہ مرکوز کردیں گے۔ وہاں سے منتخب پی ٹی آئی کے56 ایم این اے اتحادیوں کے ساتھ 2018ء تک مصروف عمل ہوجائیں گے۔پیچھے رہ جائیں گے وہ عوام جنہوں نے ملک بھر سے نمائندے منتخب کرکے قومی اسمبلی میں بھیجے اور جنہوں نے پنجاب سندھ سے تبدیلی کو ووٹ دیا تھا۔
تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کچھ ارکان نے دبے دبے الفاظ میں کہا کہ اگر سینیٹ میں جانا ہے تو پھر اسمبلی میں بھی واپس جایا جائے۔ارکان نے یہ کہا کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ لیکن عمران خان کے پاس ویٹو پاور ہے اور انہوں نے یہ ہی بات مناسب سمجھی کہ اسمبلی میں نہیں جانا لیکن سینٹ ضرور جانا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی میں کب تک اتحاد قائم رہے گا اور کب تک سب پارٹی ارکان اپنے چیرمین کی بات کا پاس رکھیں گے ۔جہاں تک بات ہے سینیٹ الیکشن کی اس حوالے سے بھی باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ جن افراد سے پہلے وعدے کیے گئے تھے، اب انہیں بھی ٹکٹ ملتا مشکل نظر آرہا ہے اس حوالے سے بھی پارٹی میں تناو اور کھینچا تانی کی کفیت محسوس کی جارہی ہے۔
پی ٹی آئی کو ہوش مندی سے کام لیتے ہوئے اب دھرنے، احتجاج ، طعنوں اور الزامات کی سیاست سے نکل کر عوام کی خدمت کرنی ہوگی مہنگائی ، لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی کے ستائے ہوئے عوام کے لیے فیس بک یا ٹویٹر کے اسٹیٹس یا ٹرینڈ سیٹ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا عوام کے آگے آپ جب سرخرو ہوں گے جب آپ عملی طور پر عوام کی خدمت کریں گے ۔جن افراد نے ووٹ دیے ہیں بہت دن تک وہ صرف نعروں پر اکتفا نہیں کریں گے انہیں اپنے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام بھی چاہئیں۔سینٹ کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی پر فوقیت دینا عوام کے ووٹوں کی توہین کرنا اور63 سیاستدانوں کو واپس گھر بٹھا دینا کہیں تحریک انصاف کی سیاسی خود کشی نا ثابت ہو ۔
Javeria Siddique writes for Jang
Twitter @javerias     – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10624#sthash.x626fiOI.dpuf

Posted in ArmyPublicSchool, Pakistan

گل رعنا کا دکھ

گل رعنا کا دکھ

  Posted On Thursday, December 25, 2014   …..جویریہ صدیق……
مردان طورو سے تعلق رکھنے والی گل رعنا کے گھر محمد علی کی پیدایش12 اکتوبر1998 کو ہوئی۔گل رعنا اور ان کے شوہر شہاب الدین کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔تین بہنوں کا اکلوتا بھائی اسکا نام بھی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام کی مناسبت سے محمد علی رکھا گیا۔محمد علی کو شروع سے ہی آرمی میں جانے کا شوق تھا اور وہ بچپن میں جب بھی مچل مچل کر گاڑی جہازفوجی ٹینک والے کھلونوں کی ضد کرتا تو شہاب الدین مسکراتے ہوئے جابجا کھلونے اس کو لے دیتے اکلوتا جو تھا ۔گل رعنا کی آنکھوں کی ٹھنڈک اس کے دل کا قرار جب گھر سے تعلیم کے حصول کے لیے نکلا تو اس کے لیے اس کو شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی پبلک سکول ورسک روڈ کا انتخاب کیا گیا۔محمد علی کا تعلیمی سلسلہ شروع ہوا ہر مضمون میں بہترین اور ساتھ میں سکول کی باسکٹ بال ٹیم کا سب سے بہترین کھلاڑی۔سکول میں شوٹنگ میں بھی سب سے آگے اور ہمیشہ نشانے لیے ہوئے کہتا کہ ایک دن وہ دہشت گردوں پر بھی اسی ہی طرح نشانہ رکھ کر انہیں جہنم واصل کرےگا ۔گل رعنا کا شرارتی بیٹا ہر چیز میں آگے تھا گھر میں بہنوں کے ساتھ خوب شرراتیں ماما سے فرمائش، ماما چپس بنا دیں، ماما کیچپ دیں، ماما فرنچ ٹوسٹ کہاں ہے، ماما ریموٹ کہاں ہے میں نے سی آئی ڈی دیکھنا ہے بس جہاں کہیں ایکشن سسپنس سے بھرپور ڈرامہ یا پروگرام آرہا ہو وہاں ریموٹ صرف اس کاہی ہوتا۔محمد علی اپنے والد شہاب الدین کا خاص لاڈلا تھا گل رعنا پھر بھی سختی کرتی تھیں کہ اکلوتا ہے کہیں خود سر نا ہوجائے لیکن شہاب الدین تو کہتے کہ گل میرے بیٹے کو کچھ نا کہو کرنے دو اسکو شرارتیں یہ ہی دن ہیں ان کے کھیلنے کودنے کے پھر بڑا ہوجائے گا تو کہاں وقت ملےگا ۔
نوجوانی کی دہلیز پر دستک دیتا محمد علی کبھی دوستوں کے ساتھ کرکٹ کبھی باسکٹ بال تو کبھی کیرم کی بازی جہاں کہیں بھی محمد علی کھیل رہا ہوتا گل رعنا ایک نظر اس کو چپکے سے دیکھ ہی آتی جب محمد علی ان کو دیکھتا تو گھر آکر خفا ہوتا ماما اب میں بڑا ہوگیا میرے سب دوست دیکھتے ہیں کہ جہاں علی جاتا ہے اس کی ماما اس کو ضرور ایک نظر دیکھ کر جاتی ہیں لیکن گل رعنا مسکرا کر کہتی بیٹا یہ ماں کا دل ہے تم نہیں سمجھو گے۔دس دسمبر کو محمد علی باسکٹ بال میں میڈیل جیت کر آیا تو ماں نے بے ساختہ دعا دی بیٹا تم فخر خاندان ہو خدا تمہیں فخر پاکستان بنائے اور تم دیکھنا ایک دن اخبارات میں تمہاری تصاویر آئیں گی لیکن کسی کو کیا معلوم تھا محمد علی کی گل رعنا کے ساتھ ہی تصاویر آئیں گی لیکن سانحہ پشاور کے بعد۔
سولہ دسمبر کا دن طلوع ہوا محمد علی نے صبح کے وقت قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پڑھا گل رعنا نے آواز دی بیٹا تیار ہوکر ناشتہ کرلو علی سکول کے لیے تیار تو ہوگیا لیکن ناشتہ نا کیا اور دوبارہ قرآن کی تلاوت شروع کردی ماں نے پھر آواز دی تو کہا امی میں چاہتا ہوں وین آنے سے پہلے سپارہ ختم کرلوں۔مامتا سے مجبور ماں نے کہا چائے ہی پی لو بس دو گھونٹ چائے پی اور سکول کے لیے روانہ ہوگیا ۔علی کےتمام دوست سکول کی باسکٹ بال ٹیم کا حصہ تھے۔باسکٹ بال کی پریکٹس کی بعد میں روٹین کی پڑھائی۔ اس دن ہال میں طبی امداد کی ٹرینگ دی جانی تھی اور میڈم افشاں کے ساتھ علی کی کلاس نائن ڈی بھی ہال میں آگئی ۔دوسری طرف گل رعنا اپنی بیٹیوں اور بیٹے کو سکول بھیجنے کے بعد گھر کے کاموں میں مصروف ہوگی ۔
موت طالبان ظالمان کی صورت آرمی پبلک سکول میں داخل ہوئی اور بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی گئی۔ طالبان کی طرف سےحیوانیت کا وہ کھیل کھیلا گیا کہ عرش کانپ اٹھا ۔میڈیم افشاں دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ میں آگئی اور بچوں کو ہال سے بھاگنے کے لیے کہا۔محمد علی ان کچھ چند خوش نصیب بچوں میں تھا جوکہ ہال میں نکلنے سے کامیاب ہوگئے لیکن جب پیچھے دیکھا تو اس کے باسکٹ بال کے پلیئر ساتھی اس کے دوست اس کے کلاس فیلو اذان علی ،علی رحمان اور وقار تو پیچھے ہی رہ گئے تھے وہ پھر پلٹا تو ظالم دہشت گردوں نے گل رعنا کے پھول جیسے بیٹے کی ٹانگوں پر گولیاں ماردی۔وہ گر پڑا لیکن ہمت نا ہاری زمین پر رینگتا ہوا سکول کے گیٹ کی طرف بڑھا لیکن وحشی درندوں نے ایک بار پھر اس معصوم کو نشانہ بنایا اور گولیوں سے چھلنی کردیا یوں محمد علی اس وطن پر قربان ہوگیا۔
گل رعنا اور شہاب الدین کو جب اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو فوری طور پر سکول کی طرف بھاگے لیکن وہاں آرمی آپریشن شروع ہوچکا تھا وہاں سے اسپتال کا رخ کیا تو گل رعنا کو یہ ہی امید تھی اس کا اکلوتا بیٹا اسکا نور نظر زندہ ہوگا ہسپتال میں قیامت صغری برپا تھی ہر طرف آرمی پبلک سکول کے ننھے پھولوں کی مسخ لاشیں تھیں۔اسپتال کے ایک کونے میں آرمی پبلک سکول کی پوری باسکٹ بال کی ٹیم کی لاشیں بھی موجود تھیں اسکول کی پوری باسکٹ بال ٹیم ہی ختم ہوگئی۔وہ بچے جو سنہرے خواب آنکھوں میں سجائے سکول گئے تھے اب ان کی بے نور آنکھیں سوال کر رہی تھیں کہ ہمارا کیا قصور تھا ہمیں کیوں اس نے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا؟گل رعنا کا جیتا جاگتا بیٹا جس کو گھر سے سکول تعلیم کے لیے بھیجا تھا جس کو ابھی پاک فوج میں بھیج کر ملک کا پاسبان بننا تھا جس کے سہرے کے پھول ابھی دیکھنے تھے وہ بچہ دیگر ایک سو پینتیس بچوں کے ساتھ سفید کفن میں ملبوس تھا۔زمین کیوں نا پھٹی آسمان کیوں نا ٹوٹ پڑا آہ گل رعنا کی کل کاینات اس کا بیٹا محمد علی چلا گیا۔
محمد علی کے تابوت سے لپٹ کر روتی رہی اسکو اٹھنے کا کہتی رہی گھنٹوں روتہ رہی پھر بیٹا نا اٹھا کیونکہ محمد علی تو اپنی جان اس وطن کے لیے قربان کرکے شہید کا درجہ حاصل چکا تھا۔گل رعنا جس وقت اپنے بیٹے کے لیے تڑپ تڑپ کر رو رہی تو متعدد کیمروں نے اس کی اپنے شہید بیٹے کے ساتھ تصویر محفوظ کرلی،جس جس پاکستانی نے یہ تصویر دیکھی وہ تڑپ اٹھا گل رعنا کی تکلیف دیکھ کر جس بیٹے کو نو ماہ کوکھ میں رکھ کر پیدا کیا راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس کی دیکھ بھال کی اتنی محنت کرکے پندرہ سال کا کیا آنے والے درندوں نے پندرہ منٹ بھی نا لگائے او گل رعنا کی امیدوں ارمانوں اور خوشیوں کا خون کرکے چلے گئے۔محمد علی کے جنازے میں پشاور اور مردان طورو میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔علاقے کا ہر شخص محمد علی کی تابع داری اور بڑوں کے ساتھ حسن سلوک کا چرچا کرتا رہا۔مردان میں طورو کے علاقے میں ننھے شہید محمد علی کو سپرد خاک کردیاگیا۔
گل رعنا کے وجود کا حصہ اس کی پندرہ سال کی محنت اس کا پیار اس کی آنکھوں کی تارہ اب ایک سرد قبر کا مکین ہے وہ بچہ جسے کو ماں نے کبھی ایک پل آنکھ سے دور نا کیا تھا آج مردان میں ابدی نیند سو رہا ہے۔گل رعنا کے گھر پاک فوج کے افسران اور اے این پی کے لیڈران حاجی غلام احمد بلور،ہارون بشیر بلور،میاں افتخار حسین اور شگفتہ مالک آئے اور انہیں تسلی دی اور دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کا عندیہ دیا۔لیکن گل رعنا انتظار کرتی رہی کہ کب وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف،وزیر اعلی خیبر پختون خواہ پرویز خٹک کب پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان،مریم نواز شریف اورپی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس کے گھر آئیں گے اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھیں گے ،شہاب الدین کو تسلی دیں گے محمد علی کی تین کم سن بہنوں کے آنسو پونچھیں گے لیکن ایسا نا ہوا کوئی بھی نا آیا۔ جب ووٹ لینے کے لیے لیڈران ہمارے علاقوں اور گھروں میں آسکتے ہیں تو ہمارے غم میں شرکت کرنے کیوں نہیں آسکتے جب گل رعنا کو یہ پتہ چلا کہ عمران خان آرمی پبلک سکول آرہے ہیں تو گل رعنا سوگ کی کیفیت میں اسکول چلی گئی اور عمران خان سے سوال کیا کہ یہ ہے وہ تبدیلی جس کا خواب آپ سب کو دیکھا رہے ہیں ؟ ہمارے بچے چلے گئے اور ہمیں پرسہ دینے بھی کوئی نہیں آیا۔آپ کب طالبان کے خلاف ایکشن لیں گے ؟ ہمارے بچوں کو انصاف کون دےگا؟ لیکن تحریک انصاف کے چیئرمین کے پاس کوئی جواب نا تھا۔
گل رعنا کہتی ہیں کہ میرا بیٹا محمد علی تو اس ملک پر اپنی جان نچھاور کرگیا لیکن میں نہیں چاہتی کہ اس قربانی رائیگاں جائے۔میں چاہتی ہوں میرے بیٹے کے لہو کی قربانی سے ملک میں امن آجائے اور کوئی ماں ایسا غم پھر نا دیکھے جو میں نے اور دیگر ایک سو چونتیس بچوں کی مائوں نے دیکھا ہے۔گل رعنا نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ انکے بیٹے باقی شہید ہونے والے بچوں کوسرکاری طور پر شہید کا درجہ دیا جائے اور آرمی پبلک کے شہدا کی یاد میں ایک یادگار تعمیر کی جائے۔انہوں نے آرمی اور حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ ایک ایک دہشت گرد کو اسکو انجام تک پہنچایا جائے تاکہ پھر کسی ماں کی گود نا اجڑے۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at :Twitter @javerias
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10477#sthash.1OdFvxwO.dpuf

Posted in ChildLabor, human-rights, Pakistan

محنت مزدوری کرتے پاکستانی بچے

محنت مزدوری کرتے پاکستانی بچے

  Posted On Tuesday, December 09, 2014   …..جویریہ صدیق……
پاکستان میں بچوں کی ایک بڑی تعداد بد ترین مشقت کا شکار ہے،جس عمر میں عام بچے کھلونوں ،کارٹونز چاکلیٹ اور دیگر چیزوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اس عمر کے بارہ ملین بچے پاکستان میں مشقت کا شکار ہیں۔دنیا بھر کے مشقت کرنے والے بچوں کے لحاظ سے بدترین ممالک میں پاکستان کا نمبر چھٹا ہے۔بچے سے مشقت بہت سی صورتوں میں لی جاتی ہے جن میں صنعتوں میں مزدوری،معدنیات نکالنے کے لیے کان کنی،اینٹوں کے بھٹوں پر اینٹیں بنوانا،گھروں میں ملازم بنا کر کام کرانا،گلی کوچوں میں چیزیں بیچنا،ورکشاپ میں گاڑیوں کی مرمت کرتے بچے،کاشتکاری کرتے بچے اور ہوٹلوں میں گاہکوں کے جھوٹے برتن صاف کرتے تمام ہی بچوں سے مشقت کرنے کی مختلف اقسام ہیں۔
پاکستان میں بچوں سے مشقت کروانے کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں جن میں غربت،وسائل کی کمی اور آبادی میں بے تحاشہ اضافہ شامل ہے۔بہت سے افراد اپنے خاندان کا پیٹ نہیں پال سکتے اس لیے بچوں کو جبری مشقت پر بجھوا دیتے ہیں کچھ بچے گلی کوچوں میں کام کرتے ہیں تو کچھ گھروں اور کارخانوں کی چار دیواری میں۔ان بچوں کا استحصال اس ہی وقت سے شروع ہوجاتا ہے جب ان کو گھر کی دہلیز سے نکالا جاتا ہے۔ماں کی آغوش اور باپ کی شفقت سے محروم یہ بچے جب باہر کام کرتے ہیں تو ان کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اجرت کم دی جاتی ہے،تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے، ان کی غذائی ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتا،انہیں موسم کے لحاظ سے لباس مہیا نہیں کیا جاتا اور بعض اوقات یہ بچے جنسی تشدد کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سپارک کے شعبہ ریسرچ کے ہیڈ حمزہ احسن کے مطابق غربت اور بے روزگاری وہ بڑی اہم وجہ ہے جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو گھر سے باہر ملازمت کے لیے بھیج دیتے ہیں۔جب گھر میں کھانے والے زیادہ ہوں اور کمانے والے کم تب والدین بچوں کی آمدنی کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
عام طور پر بچوں کو مالکان انتہائی کم اجرت پر ملازم رکھتے ہیں ۔اس کے حوالے سے نا ہی کوئی نگرانی کی جاتی ہے نا ہی حکومت دلچسپی لیتی ہے ۔بچوں کے والدین چونکہ غریب ہوتے ہیں اس لیے وہ بھی کم اجرت پر خاموش ہی رہتے ہیں دو ہزار تیرہ میں کیے گئے سروے کے مطابق دس سے پندرہ سال کی عمر کے تقریباً چار عشاریہ چار فیصد بچے ملک کی افرادی قوت کا مستقل حصہ ہیں۔لیکن دس برس کے بچے اس سروے کا حصہ نہیں ایک اندازے کے مطابق دو عشاریہ اٹھاون ملین بچے وہ ہیں جو دس سال سے کم عمر ہیں۔
بین الاقوامی قوانین برائے لیبر کی شق سی ١۳۸ کے مطابق ملازمت کی کم ازکم عمر پندرہ سال ہے۔اگر ملکی قوانین اجازت دے تو بارہ سے پندرہ سال کے بچے کو ملازمت دی جاسکتی ہےلیکن اس کے تحفظ کے ساتھ کہ یہ ملازمت بچے کی جسمانی اورذہنی صحت پر کوئی اثر نہیں ڈالے گی اور نا ہی اس کی تعلیم متاثر ہوگی۔پاکستان بھی اس قانون کو مانتا ہے اور پاکستان کے قانون میں بھی مزدور کی عمر کم سے کم عمر چودہ سال رکھی گی ہے اور آئین کی شق پچیس ﴿اے کے مطابق مفت تعلیم ہر بچے کا حق ہے لیکن اس پر عمل درآمد بالکل نظر نہیں آتا۔
پاکستان میں بچوں کو غلام بنانے سے لے کر گھریلو ملازم تک جبری مشقت سے لے کر منشیات کے کاروبار میں استعمال کرنے سے لے کر انہیں خود کش حملوں اور دہشت گردی میں استعمال کا ظلم جاری ہے۔اس کی بڑی وجہ ہمارے معاشرتی رویے اور قانون پر عمل درآمد نا کرنا ہے۔اس وقت ان بچوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔اگر بچہ اپنی گھریلو مجبوریوں کی باعث گھر سے کام کرنے نکلا ہے تو اس سے ایسے کام لیے جائیں جو اس صحت ذہنی اور جسمانی دونوں کے لیے نقصان دہ نا ہو۔ایسے بچوں کو پانچ سے سولہ سال تک حکومت مفت تعلیم فراہم کرے۔اگر کوئی بھی شخص بچوں سے خطرناک مزدوری کروائے تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے یا قید کی سزا سنائی جائے۔مزدور بچوں کی کم سے کم اجرت کو بڑھایا جائے۔جبری مشقت کا خاتمہ صرف قانون نفاذ کرنے والے ادارے ہی ختم کرواسکتے ہیں جہاں بھی مزدور بچوں کو غلام بنا کر کام کروایا جارہا اسکے خلاف آواز بلند کریں اور قانون نفاذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کریں۔گھریلو ملازم بچے کو مناسب رہائش ،بروقت تنخواہ کی ادائیگی،طبی سہولیات،مناسب لباس مہیا کیا جائے اور ہر طرح کی جسمانی سزا سے حفاظت یقنی بنائی جائے۔
قومی اسمبلی میں بیٹھے قانون سازوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ مزدور بچوں کے حقوق کے لیے موثر قانون سازی کریں۔جو بھی قانون سازی ہو وہ آئی یل او کے کنونشنز کے مطابق ہونی چاہیے۔ سپارک کے حمزہ احسن کے مطابق اگر کوئی بچہ اپنے حالات یا غربت کے باعث مزدوری کرنے پر مجبور ہے تو یہ حکومت کا فرض ہے کہ بیت المال سے اسکے لیے وظیفہ مقرر کرے اور اسکی تعلیم کا ذمہ بھی خود لے۔پاکستان کے بیشترسکول شام میں خالی ہوتے ان تمام بچوں کو شام کو بلایا جاسکتا ہے اور وہ تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔ اگر والدین کو مکمل طور پر خود کفیل کردیا جائے تو بچوں کو کام کرنے کی ضرورت ہی پیش نا آئے اور اگر بچوں سے کام لینا مقصود ہو تو سکول میں بھی انہیں ہنر سکھا کرآمدنی کا ذریعہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔
ہم ان سب مشقت کا شکار بچوں کی ملازمت ایک دم سے تو نہیں چھڑوا تو نہیں سکتے لیکن تعلیم اور شفقت سے ہم انہیں ایک بھرپور اور کامیاب زندگی جینے کا موقعہ دے سکتے ہیں۔کارخانے دوکان یا گھر کہیں بھی ایک چھوٹا بچہ ملازمت کرتا نظر آئے تو اگر آپ میں ایک بھی اسکی تعلیم کا ذمہ خود لے لیے تو وہ بچہ سارا زندگی غربت کی چکی نہیں پسے گا۔مشقت کرنے والوں بچوں سے پیار سے پیش آئیں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ان کو تضحیک کا نشانہ نا بنائیں ان کی مالی امداد بھی کریں اور اخلاقی بھی۔
حکومت،این جی اوز،مخیر حضرات سب مل کر ہی اس مسلے پر قابو پا سکتے ہیں کسی بھی انسان کے لیے سب سے خوبصورت دور اس کا بچپن ہوتا ہے اس لیے ہمیں اپنے اردگرد بہت سے انسانوں کے اس خوبصورت دور کو بد صورت ہونے سے روکنا ہے۔بچوں پر ظلم و زیادتی،بچوں کو غلام بنانا،بچوں سے بد فعلی،جسمانی سزایں،جسم فروشی اور دہشت گردی میں بچوں کا استعمال ان کی آنے والی زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے اور بہت سے بچے اس باعث اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اس لیے ہم سب کو مل کر ان کے لیے کام کرنا ہوگا ۔صرف حکومت کا اقدامات سے ہم ان مسائل کو قابو نہیں کرسکتے ابھی اٹھیں اپنے گھر میں کام کرتے ہویے بچے کا ہاتھ نرمی
سے روکیں اور اس کے ہاتھ میں کتابیں تھما دیں۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10435#sthash.cD1wkR1F.dpuf

Posted in human-rights

ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا

ملالہ کیلئے نوبل انعام اور سوشل میڈیا

Posted On Monday, October 13, 2014  

……..جویریہ صدیق……..
ملالہ یوسف زئی خواتین اور بچیوں کو علم کے اجالے میں لا کر معاشرے کا فعال رکن بنانے کے نظریے کا نام ہے۔ گل مکئی نے اس وقت تعلیم کا نعرہ بلند کیا جب سوات طالبان کے قبضے میں تھا جو بندوق کے زور پر سب کو غلام بنانے کے خواہاں تھے۔ ان کے نزدیک بچیوں کی تعلیم جرم تھی لیکن ملالہ نے ان حالات میں بھی اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھا، ساتھ ساتھ بی بی سی کے ویب سائٹ پر ڈائری لکھ کر طالبان کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔ سوات میں فوجی آپریشن کے بعد حالات قدرے پر امن ہوگئے اور ملالہ اس کی سہیلیوں نے دوبارہ اطمینان سے سلسلۂ تعلیم شروع کردیالیکن کسی کے یہ گمان میں بھی نہ تھا کہ نوعمر ملالہ جس کا مشن صرف تعلیم ہے طالبان کی آنکھوں میں اس قدر کھٹک رہی تھی کہ 9 اکتوبر 2012ءکو 15سالہ ملالہ کو اسکول وین میں گولی ماردی ۔ ملالہ کو فوری طور پر راولپنڈی منتقل کیا گیا لیکن وہ مسلسل بے ہوش رہی تاہم پاکستانی ڈاکٹرز کی سر توڑ کوششوں اورخوش قسمتی سے اللہ نے ملالہ کو دوسری زندگی عطا کی۔ مزید علاج اور سرجری کی غرض سےملالہ کو برطانیہ بھیج دیا گیا۔ مکمل علاج کے بعد ملالہ نے تعلیمی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا، اب وہ برطانیہ میں ہی زیر تعلیم ہے۔ اس بچی کی بہادری اور تعلیم سے محبت نے دنیا بھر میں یہ بات ثابت کردی کے پاکستانی بچیاں بھی کسی سے کم نہیں۔ ملالہ نے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے جدوجہد کا آغاز کردیا۔ ملالہ کو 2011ءمیں عالمی اطفال امن ایوارڈ دیا گیا۔ پاکستانی حکومت کی طرف سےستارۂ جرأت 2011ء،سو عالمی مفکرین میں نام 2012ء،ٹائم میگزین پرسن آف دی ائیر 2012ء،مدر ٹریسا میموریل ایوارڈ،گلوبل لیڈر شپ ایوارڈ 2013ء،سو اثرانداز ہونے والے افراد میں نام، پورٹریٹ آف یوسف زئی سمیت دیگر 35ایوارڈ شامل ہیں جو ملالہ یوسف زئی کو مل چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور اعزاز جو ملالہ کے نام ہوا وہ ہے جولائی میں اقوام متحدہ دنیا بھر میں ملالہ ڈے مناتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت خوشی کی لہر دوڑ گی جب 17سالہ ملالہ کو نوبل انعام برائے امن ملنے کی خبر آئی۔ملالہ دوسری پاکستانی ہیں جن کو نوبل انعام ملا اس پہلے ڈاکٹر عبدالسلام کو فزکس میں انعام مل چکا ہے تاہم امن میں یہ انعام پہلی بار کسی پاکستانی کو ملا ہے۔ یہ انعام ملالہ اور بھارتی سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر ملا ہے۔ ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام برائے امن ملنے کی خبر نشر ہونے کےبعد سے اب تک سوشل میڈیا سب سے زیر بحث موضوع یہ ہی رہا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹویٹ کیا کہ ملالہ مبارک ہو، شدت پسندوں کے علاوہ تمام لوگ اپنے بچوں کے لیے تعلیم کے خواہاں ہیں، ملالہ وہ دوسری پاکستانی ہیں جنہیں نوبل انعام ملا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ٹویٹ کیا کہ ملالہ خیبر پختون خوا کی آواز ہیں، پاکستان کی بیٹی امن کی سفیر ہمیں تم پر ناز ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر خان نے ٹویٹ میں کہا کہ ایک تعلیم کے حوالے سے جدوجہد کرنے والی نوجوان پاکستانی کو امن کا نوبل انعام ملنا تمام پاکستان کے لیے مسرت کا موقع ہے۔ اے این پی کی رہنما بشریٰ گوہر نے ٹویٹ کیا کہ اس وقت مینگورہ سوات میں جشن کا ماحول ہے اور سب ملالہ کو نوبل انعام برائے امن ملنے کا جشن منا رہے ہیں۔ فاطمہ بھٹو نے ٹویٹ کیا کہ مبارک ہو پاکستان اور انڈیا کو، اچھا لگ رہا کہ ہمیں مشترکہ طور پرامن کا نوبل ایوارڈ ملا ہے۔ پاکستان میں ڈنمارک کے سفیر چیسپر ایم سورنسن نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان کو ملالہ کا نوبل امن انعام بہت مبارک ہو، تعلیم تمام بچوں اور بچیوں کا بنیادی حق ہے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے ٹویٹ کیا کہ ملالہ کو نوبل انعام برائے امن ملنا پاکستانیوں کے فخریہ لمحات ہیں۔ پاکستان میں نیدر لینڈ کے سفیر مرکل ڈی ونک نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ملالہ کو بہت مبارک ہو اور وہ ہم سب کے لے قابل تقلید ہیں۔ پی ٹی آئی کی رہنما عندلیب عباس نے ٹویٹ کیا کہ ملالہ اب عالمی سطح پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے قابل تقلید ہیں۔

عالمی شخصیات نے بھی ملالہ کو نوبل امن انعام ملنے پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے ٹویٹ کیا کہ ملالہ اور کیلاش شکریہ آپ دونوں کی بچوں کے حقوق کے حوالے سے جدوجہد نے پوری دنیا کو مثبت تاثر دیا۔ آپ دونوں کو بہت مبارک ہو۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ٹویٹرپیغام میں ملالہ کو مبارک باد دی۔ بل گیٹس کی اہلیہ ملینڈا گیٹس نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ملالہ ایک باہمت لڑکی ہے، وہ اپنے اور دوسری تمام لڑکیوں کے حقوق کے لیے کھڑی ہے۔ نوبل انعام کے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ سے ملالہ کی جرأت اور بہادری کے حوالے سے کچھ یوں ٹویٹ ہوا کہ ملالہ کی تاریخی جدوجہد کے باعث آج وہ لڑکیوں کی تعلیم کے حق کی سب سے بڑی ترجمان ہیں۔ معروف گلوکارہ میڈونا نے ٹویٹ کیا کہ ملالہ تم میری ہیرو ہو اور تمہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ یو این وومن کے آفیشیل اکاؤنٹ سے ٹویٹ ہوا کہ ملالہ ہمیں تم پر فخر ہے اور تمہاری تمام کامیابیاں قابل فخر ہیں۔

سینئر صحافی حامد میر نے ٹویٹ کیا کہ ملالہ اب پاکستان کا نیا چہرہ ہیں اور ملالہ یوسف زئی تعلیم اور امن کا دوسرا نام ہیں۔ سینئر صحافی عمر قریشی نے ٹویٹ کیا ملالہ کی وجہ سے آج ہر پاکستانی کے چہرے پر مسکراہٹ ہے۔ کالم نویس خادم حسین نے ٹویٹ کیا کہ میں ابھی سوات میں ملالہ کے اعزاز میں تقریب میں شرکت کررہا ہوں، سب یہاں ملالہ کو نوبل انعام ملنے کی خوشی منا رہے ہیں۔ جیو کی اینکر عباسہ کومل نے ٹویٹ کیا کہ ملالہ سب سے کم عمرنوبل انعام جیتنے والی شخصیت ہیں۔ شمع جونیجو نے ٹویٹ کیا کہ ملالہ اس وقت کیمسٹری کی کلاس میں تھی جب اسے نوبل انعام ملنے کا اعلان ہوا اور ان کی ٹیچر نے انہیں یہ خوشخبری دی۔ ملالہ کا سب سے پہلے انٹرویو لینے والے صحافی عبدالحئی کاکڑ نے کہا کہ ملالہ کو ملنے والا نوبل ایوارڈ برائے امن نفرت کرنے والے لوگوں، سازشی عناصر اور جمہوریت مخالفین کے منہ پر تھپڑ ہے۔ ظہیر الدین بابر جو کہ اسلام آباد کے مقامی صحافی ہیں انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی فخرِ پاکستان ہیں جو جہالت کے اندھیروں میں علم کے چراغ جلانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ٹویٹر پر کچھ پاکستانی ملالہ کو نوبل انعام برائے امن ملنے کی مخالفت بھی کرتے نظر آئے۔ بینش ملک نے کہا کہ یہ منافقت ہے کہ ملالہ کو تو ایوارڈ مل گیا تاہم عبد الستار ایدھی کو نہیں دیا گیا۔ حسین شاہ نے ٹویٹ کیا کہ ہزاروں لوگ طالبان کی دہشت گردی سے متاثر ہوئے صرف ملالہ کو ہی کیوں پاکستان سے چنا گیا؟ تاہم بہت سے پاکستانی فوری طور پر ملالہ کے دفاع میں ٹویٹ کرنے لگے۔ اسٹیل میٹ نے ٹویٹ کیا کہ کچھ بچے ملالہ کو اس لیے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ ملالہ نے 17سال کی عمر میں نوبل انعام حاصل کرلیا جبکہ تنقید کرنے والے سیلفیز بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ سلمیٰ جعفر نے ٹویٹ کیا کہ لوگوں کو ایک بہادر بچی سے کیا مسئلہ ہے، کیا وہ لڑکی ہے اس لیے؟ یا اس نے طالبان کو تنقید کا نشانہ بنایا؟ آر کے زویے کے نام سے اکاؤنٹ سے ٹویٹ ہو ا کہ ایک بچی جیت گی اور طالبان اور ان کے حامی شکست سے دوچار ہوئے۔ انجینئر ثاقب نے ٹویٹ کیا کہ ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے۔ وقاص حبیب رانا نے ٹویٹ کیا کہ ملالہ پاکستان کے لیے باعث فخر ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے پروفیسراعجاز خان نے ٹویٹ میں کہا کہ ملالہ امن،تعلیم اور ترقی کی علامت ہیں۔ ایڈوکیٹ سنگین خان نے اپنے تصویری ٹویٹ میں کہا کہ لوگ ڈھول کی تھاپ پر ملالہ کی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں۔ سلمان اسکندر نے ٹویٹ کیا ملالہ کو امن کا نوبل انعام ملنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی بچے تعلیم اور امن کے خواہاں ہیں۔ سینئر صحافی اور شاعر فاضل جمیلی نے ملالہ کے نام اپنا کلام ٹویٹ کیا

کہہ دو یہ ظلمتوں سے کہ لڑکی نہیں ڈری

بی بی کی شال آج ملالہ نے اوڑھ لی

تم نے تو لڑکیوں کے مکاتب جلا دیے

دیکھو تو شمع علم کی پھر بھی نہیں بجھی

کس کس کے راستے میں فصیلیں اٹھاؤ گے

خوشبو کسی گلاب کی روکے نہیں رکی

دیکھو تو اِک جہان ملالہ کے ساتھ ہے

اب کوئی بے نظیر نہتی نہیں رہی

جس گھر میں بیٹیوں کی دعائیں ہوں گل فشاں

اس گھر میں آسماں سے اترتی ہے روشنی

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias

– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10280#sthash.ZpNzIGQj.dpuf

Posted in Uncategorized

ہاتھ دھونے کا عالمی دن

ہاتھ دھونے کا عالمی دن

Posted On Wednesday, October 15, 2014   ……..جویریہ صدیق……..
15اکتوبر کو ہاتھ دھونے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔سو سے زائد ممالک اس دن کو مناتے ہیں تاکہ عوام الناس میں ہاتھ دھونا کیوں ضروری ہے کا شعور اجاگر کیا جاسکے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 2008ءسےہوا۔ 15اکتوبرہاتھ دھونے کے عالمی دن پر عوام الناس میں آگاہی پھیلائی جاتی ہے کہ صابن کے استعمال سے ہمارے ہاتھ جراثیم سے محفوظ ہوجاتے ہیں اور ساتھ ساتھ ہم متعدد بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ اس دن اسکولوں میں خاص طور پر تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ چھوٹے بچوں میں صابن اور ہاتھ دھونے کی افادیت اجاگر ہو۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ہر سال چار لاکھ بچے صرف اسہال اور نمونیا کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس کی بڑی وجہ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہ کرنا ہے۔ پاکستان میں شرح پیدائش 3اعشاریہ 5فیصد ہے لیکن ان میں 1اعشاریہ 45فیصد بچے بلوغت سے پہلے ہی وفات پا جاتے ہیں، اس کے پیچھے بہت سے عوامل کارفر ما ہیں جن میں زچہ بچہ کی صحت ،غربت، نکاسیٔ آب کا ناقص نظام، طبی سہولتوں کا فقدان اور حفظان صحت کے اصولوں سے لاپروائی برتنا شامل ہیں۔ ہر ایک ہزار میں سے 55بچے پانچویں سالگرہ نہیں دیکھ پاتے جس کی اہم وجہ پاکستان میں غربت، کم علمی اور صفائی کا خیال نہ کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق صابن ایک ایسی چیز ہے جو کم قیمت بھی ہے اور جراثیم کش بھی ہے۔اس کے استعمال سے انسان بہت سی بیماریوں کو روک سکتا ہے۔

15اکتوبر کو دنیا بھر میں یہ آگاہی دی جاتی ہے کہ ہاتھ دھونا کیوں ضروری ہے اور کس وقت ہاتھ لازمی دھویا جائے اور ہاتھ دھونے کا طریقہ کیا ہے۔ ہاتھ دھونا اس لیے بہت ضروری ہے کہ روزمرہ کام کاج اور سرگرمیوں میں بہت سے جراثیم ہاتھوں پر لگ جاتے ہیں اور اگر ان ہی جراثیم والے ہاتھوں کے ساتھ ہم کھانا کھا لیں تو پیٹ میں جاکر یہ جراثیم معتدد بیماریوں کا باعث بنتے ہیں جن میں اسہال،نمونیا،ٹی بی ،خناق،یرقان،چکن پاکس،خسرہ،ہیضہ،کھانسی،بخار اور فلو شامل ہیں۔اس لیے یہ بہت ضروری ہے کسی بھی وقت کچھ کھاتے ہوئے اور کھانا بننے سے پہلے ہاتھ لازمی دھو لیے جائیں۔ چہرے پر ہاتھ لگاتے ہوئے اور آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے وقت بھی ہاتھ لازمی دھلے ہوئے ہوں۔کسی قسم کی صفائی کے بعد بھی لازمی ہاتھ دھوئیں۔ جانوروں اور پالتو جانوروں کو ہاتھ لگانے یا ان کے ساتھ کھیلنے کے بعد بھی ہاتھ دھویں۔ جھوٹے بچوں کو صاف کرتے وقت ان کا ڈائپر تبدیل کرنے کے بعد مائیں لازمی ہاتھ صابن سے دھوئیں۔ انسانی فضلے میں متعدد جراثیم ہوتے ہیں اس لیے رفع حاجت کے بعد لازمی ہاتھ صابن کے ساتھ دھویں۔

ہاتھ دھونے کے لیے پانی اور صابن کا استعمال کیا جائے،پہلے ہاتھوں کو اچھی طرح گیلا کیا جائے، اس کے بعد صابن کو ہاتھوں پر رگڑیں ،30سے 40سیکنڈ تک،پہلے ہتھیلیوں پر صابن کی جھاگ بنائیں، اس کے بعد انگلیوں کے درمیان اوپر کی طرف سے اور نیچے سے۔پھر انگوٹھے اور تمام انگلیوں کو صابن کی جھاگ سے صاف کریں۔ناخنوں کو دھوئیں، اس کے بعد کلائی تک صابن لگائیں۔ آخر میں پانی سے ہاتھ دھوئیں۔ اس بات کا دھیان رکھیں کہ ہاتھ میں صرف انگلیوں کو ہی نہیں مکمل ہاتھ کو دھویا جائے جس میں ہتھیلی، پشت، ناخنوں اور انگلیوں کے درمیانی خلا کو دھونا لازمی ہے۔ ہاتھ ہمیشہ کھلی ہوا میں سوکھنے دیں اگر ہاتھ خشک کرنا جلدی مقصود ہو تو تولیہ صاف ہو یا ٹشو پیپر کا استعمال کریں۔ اگر آپ کا نل بھی گندا ہوگیا ہے تو اسے بھی دھو لیں۔ آپ سفر میں ہیں یا گھر سے باہر اور صابن موجود نہیں تو لیکویڈ سوپ کا استعمال کریں۔

15اکتوبر کو اس بات کا شعور خاص طور پر اجاگر کیا جاتا ہے کہ بچوں میں ہاتھ صاف رکھنے کی عادت کو عام کیا جائے۔بڑوں کی نسبت بچوں میں قوت مدافت کم ہوتی ہے اور وہ جلد ہی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس لیے ان کی حفاظت کے لیے سب کو مل کر صحت کے اصولوں کو عام کرنا ہوگا۔والدین خود اپنے بچوں کی صحت صفائی کا خیال کریں اور انہیں بھی نرمی سے بار بار سمجھائیں کہ ہاتھ دھونا، نہانا اور صاف رہنا ان کی صحت کے لیے کتنا ضروری ہے۔ صابن سے ہاتھ دھونا مختلف بیماریوں اسہال، نمونیہ، ہیضہ اور فلو وغیرہ کے امکان کو پچاس فیصد کم کردیتا ہے۔ اگر ماں کے ہاتھ صابن سے دھلے ہوئے ہوں تو 44فیصد بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا دین ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے، نماز کی پابندی، پانچ بار وضو اور غسل سے بھی انسان بہت سے جراثیم سے بچ جاتا ہے۔ اگر والدین اپنی صفائی کا خیال رکھیں گے تو بچے ان کی ہی تقلید کریں گے۔

حکومت وقت کا فرض ہےکہ سیلاب زدہ علاقوں، آئی ڈی پیز اور قحط متاثرہ افراد کے لیے دیگر امداد کے ساتھ ساتھ صابن بھی لازمی فراہم کریں تاکہ ان علاقوں میں بڑے اور بچے اسہال، نمونیہ اور آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ بچوں کی ہلاکتوں میں کمی کے لیے حکومت کو آگاہی کے ساتھ ساتھ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ جن میں ویکسنیشن، بچوں کی بہتر خوارک، حفاظتی ٹیکہ جات اور صحت کی بہتر سہولتیں دینا شامل ہے۔ان اقدامات کے بعد ہی ہم پاکستانی بچوں کو محفوظ مستقبل دے سکتے ہیں۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10284#sthash.o49Y22YT.dpuf

Posted in Uncategorized

صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی

صوبائی اسمبلیوں کی پہلے سال کی کارکردگی

Posted On Monday, September 29, 2014   ………جویریہ صدیق………
پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں پنجاب ، سندھ،خیبر پختون خوااور بلوچستان کی ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ پلڈاٹ نے جاری کردی ہے۔ چاروں اسمبلیاں 2013کے عام انتخابات کے بعد وجود میں آئیں۔ پلڈاٹ کی رپورٹ میں میں 2013سے جون 2014تک کی صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی شامل کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ قانون سازی، ارکان کی حاضری، وزرائے اعلیٰ کی حاضری، قائمہ کمیٹیوں کی کارکردگی اور کام کے اوقات کار پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سب سے بہتر کارکردگی سندھ اسمبلی کی رہی،دوسرے نمبر پر خیبر پختون خوا ،تیسرے نمبر پر بلوچستان اور چوتھے نمبر پر پنجاب اسمبلی رہی۔ 12مہینے پر مشتمل پہلے پارلیمانی سال میں بلوچستان اسمبلی نے 54،خیبرپختون خواہ 72 ،پنجاب اسمبلی 70اور سندھ اسمبلی نے 57 دن کام کیا۔

سب سے پہلے بات ہوگی سندھ اسمبلی کی جو کارکردگی کے لحاظ سے اول نمبر پر رہی۔ صوبائی سندھ اسمبلی کے پہلے پارلیمانی سال کا آغاز 29مئی 2013سے شروع ہوکر 28مئی 2014کو مکمل ہوا۔ دس مہینے کی تاخیر کے بعد قائمہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، ہر محکمے کے لیے 37مجالس کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا۔ تاہم 37میں سے صرف 22مجالس فعال ہوئیں اور ان کے چیئرپرسن کا انتخاب ہوا۔ قانون سازی میں 36سرکاری بل قانون کی حیثیت اختیار کرگئے۔ ان میں سندھ کریمنل پراسیکیوشن سروس، ماحولیاتی تحفظ اور لوکل گورنمنٹ سے متعلقہ قوانین شامل ہیں۔صوبا ئی اسمبلی نےپیش کی جانے والی 65قراردادیں متفقہ طور پر منظور کیں۔ اسمبلی قواعد کے تحت 226قردادیں موصول ہوئیں جن میں سے 11کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا جن میں لڑکے اور لڑکی کی شادی کے لیے کم ازکم عمر 18سال، کم عمری کی شادی کا خاتمہ، صوبے میں گھریلو صنعتوں کا قیام، خواتین کو فنی تربیت کے لیے بلا سودی اسکیموں کا معتارف کرایا جانا شامل ہے۔ صوبائی اسمبلی سندھ کے پورے پہلے پارلیمانی سال کے دوران اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے 57نشستوں میں 27میں شرکت کی۔سندھ اسمبلی سے کوئی بھی وفد بیرون ملک نہیں گیا۔ اسمبلی نے اپنے 100ایام کار کے دوران 12اجلاس منعقد کیے جن میں اصل ورکنگ ڈے 57تھے۔ موجودہ اسمبلی نے اپنے پہلے سال میں قانون سازی کے حوالے سے اپنی کارکردگی میں گزشتہ اسمبلی کے اوسط کے حساب سے 58فیصد اضافہ کیا اور 174گھنٹے کام کیا۔

کارکردگی کے لحاظ سے خیبر پختون خوا اسمبلی دوسرے نمبر پر رہی، اگر اس کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل میں 7ماہ کی تاخیر ہوئی۔ بعد ازاں 46قائمہ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا جن میں سے صرف 17کا اجلاس ہوا۔ پہلے پارلیمانی سال میں 9کمیٹیوں کا اجلاس ہوا ہی نہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سب سے زیادہ 16اجلاس بلائے۔ ایوان میں پیش کیے جانے والے 39میں سے 28منظور ہوئے۔ غیرسرکاری 15مسوادت پیش ہوئے جن میں سے دو منظور ہوگئے۔ اسمبلی نے جن اہم قوانین کی منظوری دی ان میں معلومات کی رسائی کا قانون، احتساب کمیشن کا مثالی قانون۔موجودہ اسمبلی نے 100نشستوں کے مقابلے میں 104دن کام کیا۔ کل 243گھنٹے۔ اس اسمبلی میں124ارکان میں سے 75ارکان پہلی بار منتخب ہوکر ایوان میں آئےاورایوان میں اکثریت پاکستان تحریک انصاف کی ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ میں 604قراردادیں موصول ہوئیں، ان میں سے 34منظور ہوئیں۔ خبیر پختون خوا کے اسپیکر نے 3غیر ملکی دورے کیے اور اخراجات صوبائی اسمبلی خیبر پختوانخوا نے برداشت کیے۔ پہلے پارلیمانی سال کے دوران 12اجلاس ہوئے جن میں 8حکومت اور 4اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلائے گئے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے 75نشستوں میں سے 31میں حاضر رہے۔

تیسرے نمبر پر بلوچستان کی صوبائی اسمبلی رہی۔ اسمبلی کا پہلا اجلاس یکم جون 2013کو ہوا اور پہلا پارلیمانی سال 22مئی 2014کو مکمل ہوا۔ بلوچستان اسمبلی میں نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، پاکستان مسلم لیگ، مجلس وحدت المسلمین اور پاکستان مسلم لیگ ن نے مل کر حکومت بنائی۔ حزب اختلاف میں عوامی نیشنل پارٹی،جمعیت علمائے اسلام،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل شامل ہیں۔10ویں اسمبلی نے 96دن کام کیا اور 100دن کم ازکم ایام کار کا آئینی تقاضہ پورا نہیں کیا۔ اسمبلی نے صرف 142گھنٹے کام کیا۔ قائمہ کمیٹیوں کی بات ہو تو پارلیمانی سال کے اختتام تک صرف دو مجالس تشکیل ہوسکیں۔ اسمبلی نے 21قوانین متفقہ طور پر منظور کیے جن میں مسودہ قانون مالیات،لازمی تعلیم کا قانون 2014بھی شامل ہیں۔10ویں صوبائی اسمبلی نے 28حکومتی اور 38غیر سرکاری ارکان کی قراردادیں منظور کیں۔ان میں اہم ہینڈری میسح،نجی صنعتی یونٹوں اور دیگر کمپنیوں میں ملازمت کے لیے مقامی نوجوانوں کے لیے 70فیصد کوٹہ مختص، بلوچستان کی ساحلی پٹی کا نیا نام رکھنے اور پولیو مہم کی اہمیت کے حوالے سے قراردادیں شامل ہیں۔ پہلے پارلیمانی سال کے دوران بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے تین غیر ملکی دورے کیے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے 54نشستوں میں سے 26میں شرکت کی۔

پنجاب اسمبلی کی کارکردگی سب سے آخر میں رہی۔ پنجاب اسمبلی نے اپنا پہلا پارلیمانی سال 31مئی 2014میں مکمل کیا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے 70میں سے صرف 3اجلاس میں شرکت کی۔ اسپیکر رانا محمد اقبال کا رویہ نرم رہا اور تمام اجلاس ہی دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئے۔کل 8اجلاس بلائے گئے جن میں 70نشستیں ہوئیں۔ پنجاب اسمبلی کو بھی 7ماہ تاخیر کے بعد قائمہ کمیٹیاں قیام کرنے کا خیال آیا۔ 37حکومتی بل پیش ہوئے جن میں 33پاس ہوئے۔پہلے پارلیمانی سال میں آٹھ پرائیوٹ ممبر بل پیش کیے گئے جن میں سے ایک کلیئر ہوا۔پہلے پارلیمانی سال میں 213گھنٹے کام کیا گیا۔ 478قراردایں پیش ہوئیں۔ 628توجہ دلاؤ نو ٹس پیش کیے گیے جن میں سے صرف 48کا جواب موصول ہوا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی 14میٹنگز ہوئیں۔جو اہم بل پا س ہوکر قانون کا حصہ بنے ان میں پنجاب فنانس بل، پنجاب مینٹل ہیلتھ ترمیمی بل، ماں بچے اور نومولود بچوں کی صحت کا بل، باب پاکستان فاؤنڈیشن بل، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بل اہم ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے 213گھنٹے کام کیا۔

اس ہی رپورٹ میں کیے گئے سروے کے مطابق ملک کی بڑی تعداد نے اسمبلیوں کی پورے سال کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ ان کے مطابق عوام کے بڑے مسائل توانائی،مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی کے حوالے سے کوئی مؤثر قانون سازی ہی نہیں کی گئی۔نہ ہی عوامی نمائندوں نے عوام کے مسائل مؤثر طریقے سے ایوان میں پیش کیے۔ اس رپورٹ میں سفارشات کی گئیں کہ وقفۂ سوالات میں اضافہ ناگزیر ہے اور ہفتے میں ایک بار وزیر اعلیٰ خود جواب دیں۔ بجٹ دورانیے کو 11سے 13یوم بڑھا کر کم از کم 30تا 40دن کردیا جائے۔ہر روز کی کارروائی میں ایک گھنٹہ صرف عوامی اور حلقے کے مسائل کے لیے مختص ہو۔ قائمہ کمیٹیوں میں اہم شعبوں کے ماہر اور پوسٹ گریجوٹ طالب علموں سے بھی معاونت حاصل کریں۔ صوبائی اسمبلیوں میں پارلیمانی کیلنڈربنایا جائے اور اس کی پابندی ہو۔اس کے ساتھ ساتھ اسمبلی میں اسٹاف بھرتی کرتے وقت قواعد وضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10238#sthash.s0VwvDvM.dpuf

Posted in Uncategorized

فلائیٹ 202 کے مسافرانصاف کے منتظر

July 28, 2011 

تحریر: جویریہ صدیق

اج اٹھائیس جولائی دوہزار گیارہ ہے اور میں مارگلہ ہلز میں سانحہ ائیربلیوکی یادگار کے سامنے کھڑی اٹھائیس جولائی دوہزار دس کی صبح کو یاد کررہی ہو کہ کسی ذی روح کو اس بات کا اندازہ نیہیں تھا کہ ابھی چند ہی لمحوں بعد ان کے پیارے مارگلہ کے دامن میں ہمیشہ کے لئے سو جائیں گے اٹھائیس جولائی کی صبح تھی اورمیں گہری نیند میں یہ مسلسل محسوس کررہی تھی کہ موبائیل کی بیل مسلسل بج رہی ہئے مجھے بہت کوفت ہوئی کے اج میرا ویکلی اف ہے اور پھر بھی لوگوں کو چین نہیں فون اٹھایا تو اگلی طرف ڈاکٹر تابش تھیں جن کی اواز میں بہت گھبراہٹ تھی جویریہ تم زندہ ہو ٹی وی لگاو تم ٹھیک ہو نا میں نے نیند میں کہا تابش کیا مذاق ہے اس نے کہا نہیں جویریہ ابھی مارگلہ کی پہاڑیوں میں ائیر بلیو کا طیارہ کریش کر گیا ہے اور ابتدائی ناموں میں جویریہ نام شامل تھا تومیں نے تمہاری خیریت دریافت کرنے کے لئے فون کیا میں نے روتی ہوئی تابش کو تسلی دی اور اپنے افس سما ٹی وی کا رخ کیا اسلام اباد میں اس قدر موسلادھار بارش تھی اور میں سوچتی رہی کے طیارہ نے نو فلائی زون کا رخ کیا اورطیارہ مارگلہ کی طرف کیوں ایا۔فلائیٹ دو سودو کے اسو باون افراد حادثے کا شکار ہوچکے تھے

افس گئی تو حاضری کم تھی کیوں کے بارش کی شدت ایک فرلانگ اگے بھی دیکھنے نہیں دے رہی تھی ۔میں نے افس سے ائیرپورٹ کا رخ کیا ا۔ابتدائی لسٹ میں میری ہم نام جویریہ بھی شامل تھیں جو ائیربلیو کی ایک محنتی رکن مانی جاتی تھیںاوراس سانحے میں جہاں فانی سے کوچ کر چکی تھیں ۔ائیر پورٹ پر لواحیقین کی آہ و پکار اج تک کانوں مٰیں گونج رہی ہے لیکن ائیرپورٹ اور ایئر بلیو انتظامیہ کی بحسی اج بھی یاد ہے نا کوئی معلومات دینے کو تیار نا ہی بات سنے کو ایئر پورٹ پر ایک صاحب ٹی وی کا مائیک دیکھ کر میرے پاس اگئے اور کہنے لگے کہ میرے خاندان کے پانچ بزرگ اس طیارے میں ہیں اپ ہی کوئی معلومات لیں ہماری تو کوئی شنوائی نہیں میں نے ایئرپورٹ حکام کو فون کیا تواگے سے جواب ملا کہ مارگلہ کے ایس حصے میں طیارہ گراہے جو جنگل ہے ریسکیو ٹیمز کے پہچنے تک تو اگ مسافروں کو ۔۔۔۔۔ بس اس سے اگے میں اور کچھ سن نہیں سکتی تھی۔اس سے پہلے کے میں ان صاحب کو کچھ جواب دیتی کہ وزیر داخلہ رحمان ملک کہنے لگے ہم نے چھ افراد کو زندہ بچا لیا ہے لوگ ایئرپورٹ سے پمز ہسپتال کی طرف بھاگے تاہم جب ہسپتال انتظامیہ نے اس کی تردید کی تو ان مصیبت کے ماروں کا اگلہ ٹھکانہ مارگلہ کی پہاڑیاں تھیں۔لیکن وہاں توایک اعلی سرکاری شخصیت دورہ کرنے والی تھیں تو میڈیا اور لواحیقین پر لاٹھائیں برسانے کے اڈر اگئے کافی دیربعد جب یہ ہنگامہ ارائی رکی تو کتنے لواھقین اور صحافی حضرات زخمی ہوچکے تھے۔لہو لہان لواحیقین اور زخمی صحافیوں نے اگے جانے کا فیصلہ برقرار رکھا مارگلہ کے دامن میں پہنچے تو پتہ چلا اطلاع غلط تھی

اس وقت ایسا محسوس ہوا کہ قیامت صغری برپا ہوچکی ہے اور میں میدان حشر میں ہوں۔ہر صحافی کے لئے پہلے خبر کی اہمیت ہوتی ہے اور اس کے بعد جذبات لیکن اس دن میرے اندر کا صحافی جیسے کہیں پیچھے رہ گیا اور صرف جذبات مغلوب اگئے ۔مردہ دلی اور نم انکھوں کے ساتھ سارا دن رپورٹس دیتی رہی ۔رات کہ وقت وہ ہی صاحب تھکے ہارے میرے پاس ائے اور کہنے لگے کہ میں ہار گیا میرے سارے بڑے چلے گئے میں نے کہا اپ حوصلہ کریں اس ہی میں اللہ کی رضا تھی ۔ وہ کہنے لگے ناقص طیارے نا اہل عملہ کرپٹ حکومت یہ ہمارا قصور ہیے میں نے پھر تسلی دیتے ہوئے کہا بھا ئی حکومت نے کہا ہے کہ اس طیارہ حادثہ کی مکمل تحقیقات سامنے لائی جائیں گئی اور معاوضہ کی بات میں نے دانستہ طور پر نا کہی وہ صاھب کہنے لگے ایسا پاکستان میں نا اج تک ہوا ہے نا ہوگا

خان بھائی تو اپنے علاقے میں واپس چلے گے لیکن میں اج بھی مارگلہ کی پہاڑیوں میں شہدائے سانحہ ایئربلیو کی یادگار کے سامنے کھڑے ہوکر سوچ رہی ہوں کے خان بھائی اپ ٹھیک کہ گئے تھے تین سو پینسٹھ دن گزرنے کے باوجود فلائیٹ دوسو دو کے مسافر اج بھی انصاف کے
منتظر ہیں

______

Posted in Uncategorized

قیامت سے قیامت تک، جویریہ صدیق کا بلاگ

April 22, 2012

کالی گھٹاوں نے اسلام اباد کو اپنے گھیرے میں لئے رکھا تھا اور بادل برسنے کو تیار تھے شہریوں کی خوشی دیدنی تھی کہ باران رحمت بس لمحوں میں برسنے کوہے۔ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ موسلا دھار بارش شروع ہوگی اور ایک لمحے کے لئے جیسے زندگی رک سی گئی شہریوں نے معمولات کو روک کر بارش سے لطف اٹھانا شروع کردیا۔لیکن کسی ذی روح کو یہ علم نہیں تھا کہ بیس اپریل دو ہزار بارہ کو اٹھائیس جولائی دوہزاردس کی گھڑیاں پھر سے واپس اجائیں گئ اور اس بارایک سو ستائیس افراد بھوجا ائیر لائین کے حادثے میں اپنے پیاروں کو روتا چھوڑ جائیں گے جیسے ایک سو باون افراد فلائیٹ دو سو دو ائیربلیوحادثے کے باعث مارگلہ کے دامن جا سوئے تھے ۔

ایک دھماکے کی اواز سنائی دی اورایک سو ستائیس زندگیاں اپنے خوابوں ارمانوں خوشیوں کے ساتھ مٹی میں مل گئیں۔پہلے تو یہ گمان ہو کہ کوئی بادل ہے جو اسمان پر پھٹ گیا یا پھر یہ دھمک شائد کسی اسمانی بجلی کی ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہی تھی منزل کے پاس اکے سفینہ اجڑ گیا بھوجا ائیرلائین کا بوئینگ سیون تھری سیون حادثے کا شکار ہوکے ائیرپورٹ سے صرف تین منٹ کی دوری پہ حسین اباد کورال راولپنڈی میں گرچکا تھا۔

یہ طیارہ موسمی خرابی کا شکار ہوا یا فنی خرابی کا،پائلیٹ کی غلطی تھی یا تخریب کاری لیکن ا یک سو ستائیس خاندان تباہ ہوکرگیا اور اسلام اباد سمیت ملک بھر کی فضا کو سوگوار کرگیا۔جہاں لواحقین صدمے کا شکار حواس باختہ ائیر پورٹ کی طرف لپکے تو دوسری جانب ٹی وی کے ناظرین اس بات پر ششدر تھے کہ ابھی تو سانحہ ائیر بلیو کے زخم بھرے نہیں تھے کہ ایک اور تشتر قلب میں پیوست ہوگیا۔

وہہی قیامت صغری کا منظر سامنے اگیا جو دو ہزار دس میں میں دیکھ چکی تھی ہر طرف افراتفری ایئرپورٹ پر لواحیقین کی اہوبکا ایئرپورٹ انتظامیہ کی روایتی بے حسی حکومت کا دیر سے نوٹس لینا اورلوگوں کا واحد سہارا پاکستانی میڈیا ۔۔

جائے وقوع پہ بھی وہ ہی روایتی سستی امدادی ادارے کی تاخیر ہلکی سی امید کو بھی ختم کرگئی۔جانے والے تو چلے لیکن پیچھے رہ جانے والے بھی ساکت ہوکے رہ گئے ۔اسلام ابا د کی سحرش اور سونیا نے بھی اس حادثے میں اپنے والدین محمد عبداللہ اور شمیم عبداللہ کو ہمیشہ کے لئے کھوڈالا ماں اور باپ کی یہ لاڈلیاں اب دنیا میں تنہا رہ گئی ہیں یہ دونوں یتیم ہونے والی بچیاں ماں اور باپ کی میت سے لپیٹ کر صرف یہ سوال کر رہی تھیں کہ ان کو اب کون شفقت کی چھاوں میں رکھے گا یہ نا گہانی موت کیا اللہ کی رضی ہے یا پھر ان کے ماں اور باپ کو قتل کیا گیا ہے؟

وہ دنوں اپنے ماں باپ کی بچی ہوئی باقیات کوچھوڑنے پر تیار نیہں تھیں وہ دونوں میڈیا کے لوگوں رشتہ داروں اور محلہ داروں سے صرف یہ سوال کررہی تھیں کہ کس کے ہاتھ پر وہ اپنے ماں اور باپ کے خون کا لہو تلاش کریں سول ایویشین اتھارٹی ،بھوجا ائیرلائین ، کنٹرول ٹاورکا عملہ یا پائلیٹ لیکن وہاں پر مجھ سمیت کسی بھی فرد کے پاس کوئی جواب نا تھا۔ان کے والدین کی باقیات کو جب دفنانے کے لئے گھر سے اٹھایا گیا تو سب نے ان کو یہ کہا جو اللہ کی رضا اور جنازہ گاہ کی طرف چل دئے۔۔۔

ان بچیوں کی اہو بکا ان کی چیخوں سے سب ہی کے دل پھٹ رہے تھے،میں نے واپس گھر اتے ہوئے یہ سوچا کہ ہاں یہاں پاکستان میں ہونے والے حادثے اللہ کی ہی رضا ہوتے ہیں۔ چاہے وہ جنرل ضیا کے طیارے کا حادثہ ہو یا مصحف علی میرکا پلین کریش ہو،ائیر بلیو کی پرواز مارگلہ کے دامن سے ٹکراجائے یا کورال میں بھوجا ائیرلائین کی پرواز مٹی میں جائے نا اج تک کسی بھی حآدثے کی رپورٹ سامنے ائی ہے نا ائے گئ اور ایک ہفتے تک کی بات ہے سب بھول جائیں گے کہ کوئی حادثہ ہوا بھی تھا یا نہیں یاد صرف ان کو رہ جائے گا جن کے پیارے سگے ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے۔

Posted in Uncategorized

بچوں کو جنسی تشدد سے بچائیں

September 19, 2014   …..جویریہ صدیق……
ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے جنسی تشدد کا شکار ہو جاتا ہے ۔اس کی بڑی وجہ جنس، تولیدی صحت جیسے موضوعات پر چھایا ہوا سکوت ہے ،والدین اپنے بچوں کو آگاہی سے محروم رکھتے ہیں یہی خاموشی اس جرم کو مزید پھیلا رہی ہے۔جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے جس میں کسی کم سن بچے یا بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو ایک بحث چھڑ جاتی ہے کہ پاکستانی معاشرہ حکومت،پولیس سب ناکام ہیں جو بچوں کی حفاظت یقینی نہیں بنا پارہے لیکن یہاں پر والدین کے کردار کو زیر بحث کیوں نہیں لایا جاتا ؟ کیا ماں باپ اور خاندان کے دیگر لوگوں کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت یقینی بنایں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے بازاروں اور گلیوں کا رخ اکیلے نا کریں۔زیادہ تر واقعات تب رونما ہوتے ہیں جب بچے اکیلے گھر سے با ہر جایں یا پھر گھر میں اکیلے ملازمین یا کسی رشتہ دار کے ساتھ ہوں اور ماں با پ یا بڑے بہن بھائی ان کے قریب نا ہو۔

اٹھارہ سال سے کم عمر انسان بچہ کہلاتا ہے اور اگر کسی بچے کو جسمانی تشدد یا زیادتی کا نشانہ بنانا جائے ،اس کو جسمانی سزا دی جائے ،اس کو فحاشی پر مبنی مواد دکھایا جائے،اس کے جسم کو ہاتھ لگایا جائے یہ سب استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔اس استحصال سے بچے کو بچانے کے لیے والدین،بڑے بہن بھایوں اور اساتذہ کا کردار قابل ذکر ہے۔اگر یہ سب مل کر بچوں کو اپنی جسمانی حفاظت کے حوالے سے مکمل آگاہی دیں تو بہت سے واقعات رونما ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں۔بچے جنسی زیادتی کا شکار صرف گھر سے باہر نہیں گھر میں بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کو آگاہی دینا ضروری ہے کہ وہ کسی بھی ملازم یا رشتہ دار کے کمرے میں جانے اور اکیلا ساتھ جانے سے گریز کریں۔ والدین دیگر لوگوں کو منع کریں کہ وہ ان کےبچوں کو بلاوجہ گود میں نا لیں اور پیار نا کریں،بچوں کو یہ بتا یا جائے اگر انہیں کوئی ہاتھ لگائے،ڈرائے دھمکائے تو خوف زدہ نا ہوں بلکہ فوراً والدین کو اس بات سے آگاہ کریں۔

والدین اور استاتذہ کوسب سے پہلے تین سے آٹھ سال کے بچوں کو بہت پیار سے اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے ۔ ان کو یہ بات بہت پیار سے باور کروائی جائے کہ کسی سے کوئی چیز لے کر نہیں کھانی ہے کیونکہ بہت سے واقعات کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے جب کوئی ملازمین،رشتہ داروں یا خوانچہ فروشوں میں بچے کو مفت میں کوئی چیز دے کر بچے کا اعتماد حاصل کرتا ہے اور بعد میں انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بناتا ہیں۔اس لیے بچے کو یہ بات بتائی جائے کہ گھر کے افراد اور استاتذہ کے علاوہ کسی سے کوئی چیز نا لیں۔کم سن بچوں کو اس بات کی آگاہی دیں کے کہ ان کے جسم کو کوئی بھی ہاتھ لگائے جس سے ان کو بر ا محسوس ہو تو وہ فوراً ماں باپ کو آگاہ کریں اگرا سکول میں ایسا کوئی کرتا ہے تو فوراً اپنے ٹیچرز کو مطلع کریں ۔اس عمر کے بچوں کو گھریلو ملازمین سے بھی دور رکھیں اور اپنی نگرانی میں ہی اسکول سے لیں،ٹیوشن یا قرآن پڑھاتے وقت بھی اپنے بچوں کو ایسے کمرے میں استاتذہ کے ساتھ بٹھائیں جہاں سے آپ ان پر نظر رکھ سکیں ،اس عمر کے بچوں کو ہرگز بھی کمرے میں اکیلا نا چھوڑیں۔ اگر والدین خود مصروف ہیں تو دادا دادی یا نانا نانی اس سلسلے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔اگر اس عمر میں بچہ کسی جسمانی تشدد یا جنسی زیادتی کا شکار ہوجائے تو اس کے اثرات بچے کی اعصابی اور نفسیاتی صحت پر زندگی بھر کے لیے برا اثر چھوڑ جاتے ہیں ۔

نو سے بارہ سال کے عمر کے بچے تھوڑا بہت اپنا خیال رکھ سکتے ہیں ان کو ایسا آسان زبان میں لکھا مواد پڑھنے کے لیے دیں کہ وہ اپنی حفاظت یقینی بنائیں والدین بچوں سے دوستانہ روابط رکھیں اور ان کو کہیں کہ اگر کوئی بھی فرد ان کو برے ارادے سے ہاتھ لگائے، چھپ کر ہاتھ لگائےیا ڈرانے کی کوشش کرے تو فوراً یہ بات والدین کو بتائیں

استاتذہ بچوں کے بہت اچھے دوست ہوتے ہیں انہیں بھی یہ خیال رکھنا چاہیے کہ بچوں کے کیا مسائل ہیں کہیں کوئی وین والا،مالی،چوکیدار،پی ٹی ماسڑ تو بچوں کو تنگ تو نہیں کر رہا ،فارغ اوقات میں گپ شپ کرتے ہوئے استاتذہ بچوں سے ان کے مسائل اور اس کےحل پر ضرور بات کریں۔اس عمر کے بچوں کو بھی اکیلا گھر سے نا نکلنے دیں کھیل کا میدان ہو یا ٹیوشن سینٹر خود ہی لے کر آئیں اور چھوڑنے بھی خود جائیں ،جہاں تک کوشش ہو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھیں اور گلیوں میں بے جا پھرنے پر پابندی لگائیں۔بہت سے ماں باپ لاپرواہی برتتے ہیں، خود ٹی وی لگا کر اپنی جان چھڑانے کے لیے بچوں کو گلی میں نکال دیتے ہیں۔ایسا بالکل مت کریں بہت سے خوانچہ فروش،چرسی اور جرائم پیشہ صرف اسی تاک میں ہوتے ہیں کہ بچہ تھوڑا آگے سناٹے کی طرف جائےاور پھر یہ اس کو بہلا پھسلا کر اپنے ٹھکانے پر لے جائیں۔

بات کی جائے تیرہ سے اٹھارہ سال کے بچوں کی تو یہ بلوغت اور جسمانی تبدیلیوں کے دور سے گزرتے ہیں اور ان کا اثر دل دماغ اور نفسیات پر زیادہ ہوتا ہے ۔والدین کو اس وقت اپنے بچوں کو ان کی ظاہری و مخفی جسمانی ،تولیدی تبدیلیوں کے حوالے ان کو مکمل آگاہی دینی چاہیے۔اس کے ساتھ بہت سارا پیار اور اعتماد بھی تاکہ بچے ان تبدیلیوں سے ڈر نا جائیں بلکہ بہادری سے مقابلہ کریں۔

جنسی تشدد صرف غریبوں کا مسئلہ نہیں ہے بچہ چاہے امیروں کا ہو یا متوسط طبقے کا بھی ہو والدین کی غفلت سے وہ بھی تشدد کا شکار ہوسکتا ہے ۔جنسی تشدد کا شکار صرف لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی ہوتے ہیں اس لیے والدین دونوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔یہ کام صرف ماں کا نہیں ہے بلکہ والدین اور خاندان کے لوگ مل کر ہی ایسے انجام دے سکتے ہیں اور بچوں کو حفاظت ممکن بنا سکتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں بلوغت، جنسی تبدیلیوں اور سیکس کو ایک ایسا شجرہ ممنوعہ بنا دیا گیا کہ جس کے بارے میں بات ہی کرنا گناہ ہے اور اسی سکوت کے باعث پاکستانی بچے استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔بچوں کو اعتماد دیں ان کو جنسی اعضاء کے بارے میں معلومات دیں ان کی حفاظت کا طریقہ کار بتائیں،ان کو جنسی تشدد کے حوالے سے آگاہ کریں۔آگاہی ہی ایک ایسی طاقت ہے جو آج کل کے دور میں بچوں کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias

javeria.siddique@janggroup.com.pk   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10213#sthash.Xcz2r0tc.dpuf

Posted in Uncategorized

اکتوبر چھاتی کے کینسر سے بچاؤ کا مہینہ

October 04, 2014   ……..جویریہ صدیق……..
پاکستانی خواتین میں چھاتی کا سرطان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس موذی مرض سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیےعالمی دنیا اور پاکستان بھر میں ماہ اکتوبر بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے طور پر منایا جاتاہے۔ ایشائی ممالک میں پاکستان میں چھاتی کے کینسر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ہر سال 40ہزار سے زائد خواتین اس مرض کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہر دس میں سے ایک پاکستانی عورت کو چھاتی کے سرطان کا خطرہ لاحق ہے۔پاکستان میں چھاتی کے سرطان سے ہلاکت کی بڑی وجہ خواتین کا اس مرض کی تشخیص،علاج میں اور اس پر بات ہی کرنے سے کترانا ہے۔خواتین اس وقت ڈاکٹر کا رخ کرتی ہیں جس وقت بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق اگر اس مرض کی جلد تشخیص ہوجایے تو اس کا مکمل علاج ممکن ہے۔

چھاتی کے کینسر کی شناخت اور تشخیص خود خواتین سب سے پہلے کر سکتی ہیں۔خواتین اپنا معائنہ خود کریں اگر کوئی تبدیلی ان کو محسوس ہو تو فوری علاج پر توجہ دیں۔ مغربی ممالک میں بڑی عمر کی خواتین اس کا شکار ہوتی ہیں جن کی عمر 50اور 60کے درمیان ہو لیکن پاکستان میں کم عمر خواتین میں اس کی شرح زیادہ ہے اور 30سے 40کی عمر کی خواتین اس کا زیادہ شکار بنتی ہیں۔ اس کے ساتھ دیگر بہت سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے خواتین اس مرض میں مبتلا ہوتی ہیں۔ اگر یہ بیماری موروثی ہو اور خاندان کی دیگر خواتین اس کا شکار ہوچکی ہوں، اگر خاتون کا وزن زیادہ ہو اور وہ سہل پسندی کا شکار ہو، جن خواتین کو ماہواری بہت کم عمر میں شروع ہوئی ہوجیسے 8یا 9سال اور جن کا ماہانہ ایام کا دور 50سال کی عمر کے بعد بھی جاری رہے،جن خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش 30سال کے بعد ہو، ان سب میں چھاتی کے سرطان کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خواتین اپنی تشخیص خود کریں، اگر چھاتی یا بغل کی طرف گلٹی نمودار ہو، جلد پرزخم اور خراشیں جو ٹھیک نہیں ہو رہی ہوں، کھال کی ساخت یا رنگ میں تبدیلی آجائے تو طبی ماہرین سے فوری رابطہ کریں۔ ضروری نہیں کہ تمام زخم یا گلٹیاں سرطان کی ہی علامات ہوں لیکن احتیاط بہترہے۔ اگر اس مرض کی تشخیص بروقت ہوجائے تو علاج کے ذریعے مکمل صحت یاب ہونے کی شرح 80فیصد ہے۔

ازخود معائنے کے بعد خواتین کو فوری طور پر معالج سے رجوع کرکے میمو گرافی اور کلینکل بریسٹ ایگزامینشن کروانا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ صحت مند خواتین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ 30سال عمر کے بعد کم ازکم 5سال میں ایک مرتبہ میمو گرافی ضرور کروائیں۔ 40سال کی عمر کے بعد ہر 2سال بعد اور 50سال عمر ہوجانے کے بعد ہر سال میمو گرافی کروانی چاہیے۔ میمو گرافی ایک خاص قسم کا ایکسرے ہوتا ہے جس سے چھاتی میں موجود ہر طرح کے سرطان کی تشخیص ہوجاتی ہے۔

دنیا بھر میں 16فیصد خواتین بریسٹ کینسر کے شکار ہو جاتی ہیں اور اس کے باعث 5لاکھ موت کے منہ چلی جاتی ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 40ہزار خواتین اس موذی مرض میں مبتلا جان سے جاتی ہیں۔یہ تعداد صرف ان خواتین کی ہے جو علاج کےلیے اسپتالوں کا رخ کرتی ہیں، ان کے کا تو شمار ہی نہیں جو اسپتالوں میں شرم اور غربت کے باعث آنے سے قاصر ہیں۔ اس مرض سے بچنے کے لیے آگاہی بہت ضروری ہے، خواتین جیسے ہی کوئی بھی گلٹی محسوس کریں تو فوری طور پر اپنے شوہر یا دیگر اہل خانہ کو اعتماد میں لیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ کینسر پہلے مرحلے میں تو مخصوص خلیوں میں ہی رہتا ہے لیکن دوسرے مرحلے کے آغاز سے یہ جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنا شروع ہوجاتا ہے جو بہت خطر ناک ثابت ہوتا ہے۔ چھاتی کے کینسر کے ابتدائی دنوں میں درد محسوس نہیں ہوتا اس کی وجہ سے علاج میں تاخیر ہوجاتی ہے۔ اس لیے کسی بھی قسم کے زخم رطوبت یا گلٹی کی صورت میں دیر نہ کریں، ڈاکٹر کے پاس جائیں اور ٹیسٹ کروائیں۔ پاکستان میں چھاتی کے سرطان کے لیے مختلف طریقے موجود ہیں جن میں سرجری، ریڈی ایشن، آپریشن، کیموتھراپی شامل ہیں۔

پاکستانی خواتین کی بڑی تعداد اس بیماری سے محفوظ رہ سکتی ہیں اگر وہ اپنے طرز رہن سہن میں تبدیلی لے آئیں۔ گھر کے کام سے فارغ ہوکر مناسب ورزش کا اہتمام کریں۔ روزانہ 30منٹ چہل قدمی کریں، وزن بالکل نہ بڑھنے دیں۔ کالے رنگ کے زیر جامے دھوپ میں نکلتے وقت ہرگز بھی نہ پہنیں۔ متوازن غذا کا استعمال کریں۔ چکنائی، گوشت سے پرہیز کریں، تازہ پھل، دالیں، گندم، باجرہ، مکئی کا آٹا اور سبزیاں کھا ئیں۔گوشت میں صرف مرغی اور مچھلی استعمال کریں وہ بھی بھاپ میں پکائیں۔ تیل اور گھی کا استعمال کم سے کم کریں۔ زیادہ تر پاکستانی خواتین تمباکو نوشی کی عادی نہیں لیکن آج کل فیشن میں شیشے کا استعمال بڑھ رہا ہے، اس سے پرہیز کیا جائے کیونکہ کہ تمباکو کے دھوئیں سے کینسر کا امکان بڑھ جاتاہے۔ پیٹرول، ڈیزل کا دھواں بھی خواتین کے لیے خطرناک ہے، باہر جاتے وقت منہ کو ماسک سے ڈھانپ لیں۔ دورانِ گفتگو چھاتی کے سرطان کو زیرموضوع لائیں تاکہ جن خواتین کو اس مرض کے حوالے سے آگاہی نہیں وہ بھی اس سے آگاہ ہوجائیں۔ آگاہی، تشخیص اور علاج کے ذریعے بہت سی قمیتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

Javeria Siddique writes for Daily Jang

Contact at https://twitter.com/#!/javerias

javeria.siddique@janggroup.com.pk   – See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10253#sthash.o1QKZgS5.dpuf