Posted in Uncategorized

مک مکا کی سیاست

مک مکا کی سیاست
Posted On Friday, July 31, 2015
……جویریہ صدیق……
آزادی مارچ اور دھرنے میں قومی اسمبلی کے جعلی ہونے پر بہت شور ڈالا گیا،پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی گئ اور عمران خان نے اپنے منہ بولے کزن طاہر القادری کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ ہائوس کا گیٹ توڑ ڈالا،اک عجب تماشہ تھا کہ خود کو سیاسی جماعتوں کے سربراہ کہلانے والے سیاست کے مرکز پارلیمان کی بے حرمتی کررہے تھے،گنتی بھر آزادی اور انقلابی کارکنان کافی دن تک پارلیمنٹ ہائوس کے احاطے میں پڑائو ڈال کر بیٹھے رہے اور اپنے قائدین کے منہ تکتے رہے،قائدین امپائر کے منہ طرف دیکھتے ہی رہ گئے لیکن انقلاب کہاں اس طرح آتے ہیں،انقلاب نہیں آیا تو گنتی بھر لوگ بھی گھر لوٹ گئے، پہلے طاہر القادری گئے پھر عمران خان کنٹینر پر سے رخصت ہوئے۔

اب پی ٹی آئی کے ممبران جوکہ دھرنے کے دنوں میں قومی اسمبلی سے مستعفی ہوچکے تھے بے تاب تھے کہ واپس اسمبلی میں جایا جائے، بہت سے تو استعفیٰ دینے کو بھی تیار نہیں تھے لیکن اپنے لیڈر کی ضد کے آگے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، اب جب دھرنا ہی ختم ہوگیا امپائر کی انگلی بھی نا اٹھی تو بیشتر پی ٹی آئی ارکان اس صورتحال میں سٹپٹا گئے کہ اب کیا گیا جائے، انہیں اپنا سیاسی مستقبل دائو پر دکھائی دینے لگا، یمن کی صورتحال کے پیش نظر جب قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا تو پی ٹی آئی نے بھی موقع اچھا جانا اور پارلیمنٹ تشریف لے ہی آئے۔

6 اپریل کو جب پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں واپس آئی تو ایوان میں خوب مچا کہ جن لوگوں نے استعفے دے دئیے اب ان کا ایوان میں کیا کام؟ ہال ’’گو عمران گو‘‘ اور’’ پی ٹی آئی یو ٹرن لے کر آئی‘‘ سے گونج اٹھا، جہاں دیگر ارکان پی ٹی آئی کے دوران دھرنا الزامات پر نالاں تھے تو دوسری طرف ارکان اس بات پر حیران تھے کہ از خود استعفے کے بعد اب پارلیمان میں پی ٹی آئی کی موجودگی پارلیمانی قوانین پر سوالیہ نشان ہے، آئین کے آرٹیکل 64 ون اے اور ٹو اے کے مطابق جو رکن بھی اسپیکر کے نام اپنا استعفیٰ لکھ دے اس کی نشت فوری طور پر خالی ہوجاتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ جو رکن چالیس دن تک بنا درخواست دیئے غیر حاضر رہے اس کی نشت بھی خالی ہو جاتی ہے۔

تاہم ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے ارکان کا دفاع کیا انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ تحریک انصاف اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے میرے پاس نہیں آئی تھی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مک مکا والی سیاست کو اپناتے ہوئے معاملے کو رفع دفع کروایا، اب جب جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد سے یہ بات دوبارہ سر اٹھا رہی ہے کہ جس پارلیمنٹ کو پی ٹی آئی دھاندلی زدہ اور جعلی قرار دیتی تھی اس میں بیٹھنے کا اخلاقی طور پر کیا جواز ہے، جب جوڈیشل کمیشن میں یہ ثابت ہوگیا کہ الیکشن میں کوئی منظم دھاندلی نہیں ہوئی تھی تو پی ٹی آئی کا دعویٰ تو جھوٹ ثابت ہوا، جس اسمبلی کو کنٹینر پر دن رات دھاندلی زدہ کہا، اس کی حرمت کو پامال کیا، اب پی ٹی آئی ارکان اس میں بیٹھنا بھی چاہتے ہیں، وہ بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ معاہدے کی آڑ لے کر اپنا موقف اور اصول کہاں گئے، جس وقت شاہ محمود قریشی ، اسد عمر، شیریں مزاری، عارف علوی، شفقت محمود سب پارلیمنٹ کا تمسخر اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو پارلیمنٹ سے مستعفی ہوگئے، اس وقت تو بہت اعلیٰ اصولوں کا پرچار کیا تھا اب کہاں گئے وہ اصول کیا نظریہ ضرورت کی بھینٹ چڑھ گئے یا وہ سب دعوے جھوٹ تھے۔

پیر سے شروع ہونے والے قومی اجلاس میں ایم کیوایم اور جمعیت علمائے اسلام ف نے تحریک انصاف کے ارکان کے خلاف 40 روز سے زیادہ غیر حاضر رہنے پر ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک پیش کردیں، تاہم اسپیکر نے اس پر کاروائی ایک ہفتے تک موخر کردی، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے چار رکنی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی تاکہ ایم کیو ایم اور جے یو آئی ف کو منایا جاسکے، تاہم اب تک ایم کیو ایم اور جے یو آئی ف دونوں ہی جماعتیں تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے کے مطالبے سے پیچھے ہٹتی نظر نہیں آرہیں۔

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے مطابق2007 اور 1992 میں تو فوری طور پر استعفے قبول کر لیے گئے تھے، اب تحریک انصاف کو کیوں رعایت دی جارہی ہے، ہمارا اعتراض تحریک انصاف کی واپسی پر نہیں پر انہیں آئین کے حوالے سے مطمئن نہیں کیا جارہا۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف تحریک انصاف کے تمام مستعفی اراکین کو پارلیمنٹ سے نکال باہر کریں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی نے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو بھی چوہے بلی کا کھیل بنا دیا ہے، ایسے ارکان جو مستعفی ہوچکے ہیں ان کا پارلیمان میں بیٹھنا پارلیمنٹ کی توہین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے،پولیس اہلکاروں پر تشدد، لوگوں کی ہلاکت پر عمران خان اور ان کی جماعت پر قتل اقدام قتل اور غداری کے مقدمات قائم کئے جائیں۔

پی ٹی آئی بھی اپنے دفاع میں پیش پیش نظر آتی ہے شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ اسمبلیوں میں ان کی واپسی معاہدے کا حصہ ہے، معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ اگر اسمبلیاں بچ گئیں تو تحریک انصاف اسمبلیوں میں واپس آجائے گی، اگر حکومت رکن نہیں سمجھتی تو ہمیں فارغ کردے، ہمارے ضمیر مطمئن ہے۔ دوسری حکومت یہ چاہتی ہے کہ تمام جماعتیں پی ٹی آئی کی تمام تر غلطیاں الزامات بھلا کر انہیں ساتھ لے کر چلیں، حکومت اس وقت اپنے لیے مزید مشکلات نہیں چاہتی۔

پارلیمنٹ کی راہداریوں میں یہ گفتگو کی جارہی ہے کہ حکومت کہ قانون اور آئین کی بالادستی چاہتی ہے یا مک مکا کی سیاست۔ پی ٹی آئی نے خود استعفے دئیے تھے اب چور راستے سے پارلیمنٹ واپس آنا چاہتے ہیں،جس جماعت نے جمہوریت کی بساط لپٹنے کی کوشش کی انہیں اسمبلی میں بیٹھانا غیر آئینی ہے۔

یا تو پی ٹی آئی کے اراکین یہ خود کہیں کہ یہ استعفے انہوں نے نہیں دیئے یا کوئی ایسی شق بتائیں جس پر ان کے دوبارہ اسمبلی آنے میں کوئی قباحت نا ہو، جس اسمبلی کو جعلی کہتے تھے اس میں واپس آنے کے لیے اتنی بے تابی کیوں۔ حکومت کے رویے سے تو یہ عیاں ہے کہ نظریہ ضرورت کے تحت سیاست کی جارہی ہے اور حکومت پی ٹی آئی کو گھر بھیج کر اپنے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتی، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدے میں لکھا تھا کہ اگر جوڈیشل کمیشن میں انتخابات میں منظم دھاندلی ثابت نہیں ہوئی تو تحریک انصاف واپس اسمبلی میں آجائے گی، یعنی پی ٹی آئی کا یہ موقف غلط تھا جس کے پیچھے 126 دن کا دھرنا دے کر قوم کا وقت ضائع کیا، حکومت کو بھی اپنا کارڈ دھیان سے کھیلنے ہوں گے کہ وہ کس طرح سے معاملے کو حل کریں گے،جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو یہ سوچنا ہوگا کہ کون ہے جس نے پی ٹی آئی کو بند گلی میں پہنچایا ہے،جمہوری سیاسی معاملات اگر پہلے ہی پارلیمان میں حل کرلیے جاتے تو آج یوں نظریہ ضرورت اور مک مکا کی سیاست کا سہارا نا لیا جاتا۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang Twitter @javerias

 

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s