Posted in ArmyPublicSchool, Pakistan

پشاور کے بچوں کے لہو پر سیاست

  Posted On Thursday, January 15, 2015   …..جویریہ صدیق…….
کسی بھی انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کے بچے ہوتے ہیں۔ماں اپنی کوکھ میں نو ماہ رکھ کر بچے کو پیدا کرتی ہے تو ورثا بچے کی آمد پر پھولے نہیں سماتے ۔ بچے کے ناز نخرے اس کی کلکاریاں اس کی شرارتیں بس خاندان بھر کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔اگر بچہ کو ہلکی سی بھی چوٹ لگ جایے یا معمولی سی بیماری آجایے تو ماں کے دل پر جو قیامت بیتی ہے اس کا حال صرف ماں ہی بیان کرسکتی ہے۔باپ بھی اتنی ہی شفقت بچے کو دیتا ہے جتنی ماں بچے کو محبت دیتی ہے۔دونوں کی کوشش ہوتی ہے بچے کو ایک ہلکی سی خراش بھی نا پہنچے۔
آرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والے بچے بھی اپنے والدین کی آنکھوں کا تارہ تھے ان کے دل کا قرار اور زندگی کا کل اثاثہ ۔موت طالبان کی صورت میں آئی اور بچوں کے ساتھ وہ حیوانیت برتی گی کہ ظلم و بربریت کی ایسی مثال پہلے ملتی ہی نہیں۔مائوں نے اپنے جیتےجاگتے شہزادے سکول بھیجے تھے جب واپس ملے تو کسی کے چہرے پر گولیاں تھیں کسی کا گلا کاٹ دیا گیا تھا کسی پھول کا جسم گولیوں سے چھلنی ملا تو کسی تو جلا دیا گیا تھا۔پشاور کی مائیں روتی رہیں چیختی رہیں لیکن ان کے ہنستے کھیلتے بچے تابوتوں میں بے جان پڑے تھے۔مائیں ان کا نام لیتی رہی ان کو اٹھنے کا کہتی رہیں لیکن جنت کے پھول تو واپس جنت جا چکے تھے۔
اس سانحے کے بعد امید تھی کی سیاسی قیادت ایک ہوجائے لیکن ایسا نا ہوا کچھ دن سوگ کا لبادہ اوڑھے رکھنے کی بیکار کوشش کے بعد وہ ہی آپس کے الزامات،طعنے،لڑائی کی سیاست کا آغاز کردیاگیا۔اس دوران لواحقین کو یکسر فراموش کردیا۔پہلے ایک دو دن تو فوٹو شوٹ کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتی ارکان کے وزٹ ہوتے رہے اس کے بعد وہ ہی دھاندلی دھاندلی کا واویلا شروع ہوگیا۔پھر انقلابی لیڈر کی شادی آگئی۔لواحقین اگر یاد رہے تو صرف آرمی کو لواحقین کے مطابق ٰصرف آرمی کے نمائندے ہماری دلجوئی کرنے آئے۔انہیں گلہ ہے اس بات کا جب سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیے وہ کیوں نا آئے۔
12 تاریخ سے آرمی پبلک سکو ل اور ملک کے تمام سکولوں میں تدریس کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ۔تمام پاکستان کو اس وقت خوش گوار حیرت ہوئی جب بچوں کو پاکستان کے آرمی چیف راحیل شریف نے خود جا کر ریسو کیا۔اپنی اہلیہ کے ساتھ بچوں کی اسمبلی میں شرکت کی۔ سب بچوں سے ملے ان کا حوصلہ بڑھایا۔لواحقین منتظر رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کب آئیں گے، تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کب آئیں گے، پی پی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کب آئیں گے لیکن کوئی نا آیا۔جب میڈیا پر بہت شور مچ گیا۔تو عمران خان جن کی پارٹی کی خیبر پختون خواہ میں حکومت ہے یہ کہا کہ ہمیں منع کیا گیا تھا کہ پہلے دن آرمی کا فنکشن ہے آپ مت آئیں۔مسلم لیگ ن نے تو وضاحت دینا بھی ضروری نا سمجھا یہ ہی حال پی پی پی کا ہے۔
14 جنوری کو تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان اکیس گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ آرمی پبلک سکول پہنچے۔ان کی آمد پر سیکورٹی پر مامور پولیس نے شہدائے سانحہ پشاور کے لواحقین سے بدتمیزی کی ، انہیں دھکے دئیے اور برا بھلا کہا۔شہدائے پشاور کے نیم زندہ والدین اس بات پر احتجاج کرنے لگے اور گو عمران گو کے نعرے لگائے۔اسفند یار شہید کی والدہ دہائی دیتی رہیں کہ یہ سیاستدان کیسے ہمارے ساتھ ہیں ؟ ہم تڑپ رہے ہیں یہ شادی کررہے تھے یہ صرف باتیں کرتے ہیں ہمارے لیے تبدیلی کی لیکن اصل میں ان کے یہاں آنے کامقصد صرف فوٹو شوٹ تھا۔احسان شہید کی والدہ بھی روتی رہیں اور کہتی رہیں عمران خان ، نواز شریف، آصف علی زرداری ہمارے دو دو بیٹے چلے گئے اور آپ سب کو احساس ہی نہیں۔
آرمی پبلک سکول کے شہید بچوں کی مائیں دہائیاں دیتی رہیں، روتی رہیں اور پشاور پولیس پروٹوکول کے نام پر ان کو دھکے دیتی رہی، خیبر پختون خواہ حکومت کے نمائندے انہیں برا بھلا کہتے رہے۔مائیں یہ پوچھتی رہیں کہ ہمارے بچوں کا چالیسواں بھی نہیں ہوا اور یہ سیاستدان خوشی کے شادیانے بجاتے رہے۔16 دسمبر کے بعد سے ہمیں تنہا چھوڑا ہوا ہے ۔اب ہمارے بچوں کی لاشوں پر سیاست کر رہے ہیں اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے آئے ہیں اور کچھ نہیں ان کا مقصد۔
عمران خان کے خلاف احتجاج پر صوبائی وزیر خیبر پختون خواہ مشتاق غنی نے یہ الزام عائد کردیا کہ احتجاج کرنے والے پلانٹڈ تھے اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہا کہ والدین نے احتجاج کیوں کیا ؟ اسکول آرمی کا ہے،صوبہ کے چیف پرویز خٹک ہیں تو میری آمد پر احتجاج کیوں ؟انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ مجھے بھی والدین نہیں لگے اس کے بعد انہوں نے پھر چار حلقے اور دھاندلی کی گردان شروع کردی۔
عابد رضا بنگش جن کے اپنے بیٹے رفیق بنگش نے آرمی بپلک سکول میں شہادت پائی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ خیبر پختون خواہ کی حکومت نے انہیں یکسر فراموش کردیا ہے اور اب اوپر سے یہ بھی الزام عائد کیا جارہا ہے کہ احتجاج کرنے والے والدین نقلی تھے،ان کے مطابق اگر یہ بات ثابت ہوگی تو وہ شہدا فورم کو ختم کردیں گے۔
آج جو بھی ہوا بہت افسوس ناک ہے شہید ہونے والے پھولوں کی لاشوں پر سیاست کی کوشش،بچوں کے لواحقین کو نقلی کہنا ان کو پولیس کے ہاتھوں سے ذلیل کروانا ہمارے سیاست دان کہاں جا رہے ہیں ۔نیم مردہ والدین جن کی زندگی تو قبر میں دفن ہوگی، ان والدین پر تشدد کرنے کا کیا جوازہے جن کے بچے چلے گئے ،کیا وہ خیبر پختون خوانئےپاکستان میں احتجاج بھی نہیں کرسکتےِ ؟کیا ہمارے سیاستدانوں اور انتظامیہ میں سے انسانیت ختم ہوگی ہے ؟ آج کے واقعے کے بعد آرمی پبلک سکول کے شہید بچوں کے والدین نے مطالبہ کیا کہ ان پر تشدد کرنے والے ایس ایس پی آپریشن اور ڈپٹی کمشنر کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور صوبائی حکومت میں ذمہ دار افراد مستعفی ہوں۔
سیاست دانوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ کہ سیاست برائے سیاست سے کہیں وہ عوام میں اپنی مقبولیت کھو نا دیں۔ کھوکھلے وعدے اور نعرے انقلاب بہت عرصہ تک عوام کو دلاسا نہیں دے سکتے۔اگر عوام کے لیے کچھ کرنا ہی ہےتو تمام سیاست دان سیاست برائے خدمت کریں۔عوام کے مفاد میں سیاست کی جائے اپنی ذاتی چپقلش اور عناد کو ایک طرف رکھ تمام سیاستدانوں کو دہشت گردی کے ستائے عوام کی داد رسی کے لیے فوری اقدام کرنا ہوں گے،ورنہ پاکستان کی آئندہ نسلوں کے سامنے یہ سر اٹھا کر نہیں چل سکیں گے۔
Javeria Siddique writes for Daily Jang
Contact at https://twitter.com/#!/javerias
– See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=10579#sthash.POoZxwGG.dpuf

Advertisements

Author:

Journalist writes for Turkish Radio & Television Corporation . Photographer specialized in street and landscape photography Twitter @javerias fb: : https://www.facebook.com/OfficialJaverias

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s